Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 30

سورة ق

یَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امۡتَلَاۡتِ وَ تَقُوۡلُ ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ﴿۳۰﴾

On the Day We will say to Hell, "Have you been filled?" and it will say, "Are there some more,"

جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Jahannam and Paradise and their Dwellers Allah says, يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ On the Day when We will say to Hell: "Are you filled?" It will say: "Are there any more?" Allah states that He will say to Jahannam on the Day of Resurrection, "Have you had your fill?" Allah the Most Honored has promised Hell that it will have its fill from the Jinns and mankind. He, the Exalted and Most Honored, will decide who will be thrown into the Fire and she will keep saying, "Are there any more?" or, `Are there any more whom You will provide me with?' This is the apparent meaning of this Ayah which is supported by several Hadiths. Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah said, لاَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتْى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فِيهَا فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلاَ يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتْى يُنْشِىءَ اللهُ لَهَا خَلْقًا اخَرَ فَيُسْكِنَهُمُ اللهُ تَعَالَى فِي فُضُولِ الْجَنَّة The people will be thrown into Jahannam and it will say, `Are there any more' Until the Mighty Lord puts His Foot over it and its corners will be collected together and it will say, "Enough, enough by Your grace and compassion!' There will be sufficient empty space in Paradise until Allah creates another creation and He, the Exalted, makes them dwell in the empty parts of Paradise." Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah narrated that the Prophet said, يُقَالُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَيَضَعُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَطْ قَط Jahannam will be asked, "Are you full" and it will say, "Are there any more" Until the Lord, the Blessed and Most Honored, puts His Foot over it and it will say: "Enough! Enough!" Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ مَالِي لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْوُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَ تَمْتَلِىءُ حَتْى يَضَعَ رِجْلَهُ فِيهَا فَتَقُولُ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِىءُ وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَلاَ يَظْلِمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِىءُ لَهَا خَلْقًا اخَر Paradise and the Fire quarreled. The Fire said, "I have been favored with the arrogant people and tyrants." Paradise said, "What is wrong with me that only the poor and humble people enter me?" Allah the Exalted and Most Honored said to Paradise, "You are My mercy, with which I grant mercy to those whom I will among My servants." He said to Hell, "You are My punishment which I inflict upon whom I wish from My servants, and I shall fill both of you." As for Hellfire, it will not have its fill until Allah puts His Foot over it and she will say, "Enough! Enough!" She will become full and its sides will come close to each other. Allah the Exalted and Most Honored shall not be unjust to any one of His creatures. As for Paradise, Allah the Exalted and Most Honored will create another creation to fill it. Allah the Exalted said, وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو ۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس ۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا ، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا ۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس ۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا ۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا ۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا ۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی ۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی ۔ واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا ۔ ( اواب ) کے معنی رجوع کرنے والا ، توبہ کرنے والا ، گناہوں سے رک جانے والا ۔ ( حفیظ ) کے معنی وعدوں کا پابند ۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں ( اواب حفیظ ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے ۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے ۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے ۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو ۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے ۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں ۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں ۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی ۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں ، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا اور آیت میں ہے آیت ( للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے ۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے ۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہ السلام رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے ۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے ۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے ۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں مزید کہا گیا تھا ۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لئے کافی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ( لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13؀) 32 ۔ السجدہ :13) ۔ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا اس وعدے کا جب ایفا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں ؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یعنی اگرچہ بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن اب بھی گنجائش ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] قیامت کو جہنم کا کلام کرنا :۔ جہنم اگر زبان حال کی بجائے زبان قال سے بھی اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب دے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہے قوت گویائی عطا کرسکتا ہے۔ جہنم کے اس جواب سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جہنم اس قدر بڑی اور وسیع ہوگی کہ تمام مستحقین جہنم کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ رہے گی خواہ یہ دوزخی انسانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوں اور شیطانوں سے۔ اور یہی بات درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے : && سیدنا انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی، بس بس (میں بھر گئی && ) (بخاری۔ کتاب التفسیر) && اور دوسرے یہ کہ جہنم اس دن اس قدر غیظ و غضب میں بھڑک رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر وہ جواب دے گی کہ جتنے مجھ میں داخل ہونے کے مستحق ہیں سب کو لے آؤ میں آج کسی کو چھوڑوں گی نہیں &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(یوم نقول لجھنم ھل امتلات …: یعنی یہ سب کچھ اس دن واقع ہوگا جب ہم جہنم سے کہیں گے کیا تم بھر گئی۔ اس کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو انس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یلقی فی النار و تقول ھل من مزید حتی یضع قدمہ فتقول قط قط) (بخاری، التفسیر، سورة ق، باب قولہ :(وتقول ھل من مزید): ٣٨٣٨)” جہنم میں لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ یہی کہتی رہے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی، بس بس۔ “ بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق جہنم یہ بات زبان حال سے کہے گی، مگر اس تاویل کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں حقیقت ممکن نہ ہو اور یہاں تو ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے زبان دے رکھی ہے جس کی بولی اگر ہم نہیں سمجھتے تو پیدا کرنے والا خوب سمجھتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم) (بنی اسرائیل : ٣٣)” اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ “ اور فرمایا :(وقالوا لجلودھم لم شھدثم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیئ) (حم السجدجۃ : ٢١)” اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر ( یہاں سے محشر کے بقیہ واقعات کا بیان ہے کہ وہ دن لوگوں کو یاد دلایئے) جس دن کہ ہم دوزخ سے (کفار کو اس میں داخل کرنے کے بعد) کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے (یہ پوچھنا شاید کفار کو اور زیادہ ڈرانے کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کی اور بھی زیادہ ہول پیدا ہوجاوے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پر پہنچنے ہیں جو سب کو کھا جانا چاہتا ہے اور جہنم کی طرف سے هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ کا جواب میں غالباً اسی غیظ و غضب کا مظاہرہ ہے جو جہنم کو خدا کے دشمن کفار کے ساتھ ہے جس کا ذکر سورة ملک میں ان الفظ سے آیا ہے (آیت) وھی تفور تکاد تمیز من الغیظ، جہنم نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میرا پیٹ نہیں بھرا بلکہ مزید کی فرمائش بوجہ غیظ و غضب کے کی، اس لئے قرآن میں دوسری جگہ جو حق تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے (آیت) لاملئن جھنم من الجنة والناس اجمعین ( یعنی میں بھر دوں گا جہنم کو جنات اور انسانوں سے) یہ اس کے منافی نہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ سابقہ لاملئن کے لئے جنات اور انسانوں کو جہنم میں ڈالتے جاویں گے اور وہ یہی کہتا رہے گا کہ کچھ اور بھی ہے (ابن کثیر) اور (جنت کا بیان یہ ہے کہ وہ) جنت متقیوں کے قریب کردی جاوے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی ( اور متقیول سے کہا جاوے گا کہ) یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے (بایں عنوان) وعدہ کیا جاتا تھا وہ ہر ایسے شخص کے لئے ہے جو (خدا کی طرف دل سے) رجوع ہونے والا (اور رجوع ہو کر اعمال و طاعات کی) پابندی کرنے والا ہو (غرض یہ کہ) جو خدا سے بےدیکھے ڈرتا ہوگا اور (اللہ کے پاس) رجوع ہونے والا دل لے کر آوے گا ( ان کو حکم ہوگا کہ) اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہ دن ہے ہمیشہ رہنے (کے لئے حکم ہونے) کا ان کو بہشت میں سب کچھ ملے گا جو جو چاہیں گے اور ہمارے پاس ( ان کی چاہی ہوئی چیزوں سے) اور بھی زیادہ (نعمت) ہے ( کہ وہاں تک جنتی کا ذہن بھی نہ پہنچے گا جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کی نعمتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ایسی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا، ان نعمتوں میں سے ایک نعمت حق تعالیٰ کا دیدار ہے ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ۝ ٣٠ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ مِلْء) بهرنا) مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة أَمْلَائِهِ. الملأ کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی بر تن بھر جائے محاورہ ہے : ۔ اعطنی ملاءہ وملاء بہ وثلاثۃ املائہ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠۔ ٣١) جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ جیسا کہ تجھ سے بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو بھر گئی ! اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ کہے گی کہ میں بھر گئی ہوں باقی کچھ اور بھی ہے تو اس میں ایک فرد کی بھی جگہ باقی نہ ہوگی۔ اور جنت کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے قریب لائی جائے گی ان سے وہ کچھ دور نہ رہے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠{ یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَئْتِ } ” جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟ “ { وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ ۔ } ” اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟ “ یعنی وہ کہے گی کہ ابھی تو میرے اندر بہت گنجائش ہے ۔ ابھی مزید جنوں اور انسانوں کو میرے اندر ڈالا جائے تاکہ میں بھر جائوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

38 This can have two meanings:(1) "There is no room in me for more men; " and (2) "bring all other culprits who may be there. " According to the first meaning the scene depicted would be that Hell has been so stuffed up with culprits that it cannot hold any more; so much so that when it was asked: "Are you full ?" it cried out, alarmed: "Are there still more culprits to come ?" According to the second meaning, the scene depicted before the mind is that the wrath of Hell is so flared up against the culprits that it is constantly demanding more and more of them to be cast into it so that no culprit escapes un-punished. "Here, the question arises: What is the nature of Allah Almighty's addressing Hell and its reply? Is it only something metaphoric, or is Hell actually a living and intelligent being which may be spoken to and it may respond and give replies? In this regard nothing can, in fact, be said with certainty. Maybe the meaning is metaphoric and only for the purpose of depicting the actual scene of the state of Hell it may have been described in the form of the question and answer, just as one may ask a motor-car: "Why don't you move forward?" and it may say: "There is no petrol in me." But this also is quite possible that this conversation is based on reality. Therefore, it is not correct to assume about the Respective crimes, there is no use quarreling now. Both the one who beguiled and the one who was beguiled have to be punished for the crimes committed by them. "

سورة قٓ حاشیہ نمبر :38 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ میرے اندر اب مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ اور جتنے مجرم بھی ہیں انہیں لے آیئے پہلا مطلب لیا جائے تو اس ارشاد سے تصور یہ سامنے آتا ہے کہ مجرموں کو جہنم میں اس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے اس میں ایک سوئی کی بھی گنجائش نہیں رہی ، حتیٰ کہ جب اس سے پوچھا گیا کی کیا تو بھر گئی تو وہ گھبرا کر چیخ اٹھی کہ کیا ابھی اور آدمی بھی آنے باقی ہیں؟ دوسرا مطلب لیا جائے تو یہ تصور ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جہنم کا غیظ اس وقت مجرموں پر کچھ اس بری طرح بھڑکا ہوا ہے کہ وہ ہل من مزید کا مطالبہ کیے جاتی ہے اور چاہتی ہے کہ آج کوئی مجرم اس سے چھوٹنے نہ پائے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کے اس خطاب اور اس کے جواب کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ محض مجازی کلام ہے؟ یا فی الواقع جہنم کوئی ذی روح اور ناطق چیز ہے جسے مخاطب کیا جا سکتا ہو اور وہ بات کا جواب دے سکتی ہو؟ اس معاملہ میں درحقیقت کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مجازی کلام ہو اور محض صورت حال کا نقشہ کھینچنے کے لیے جہنم کی کیفیت کو سوال و جواب کی شکل میں بیان کیا گیا ہو ، جیسے کوئی شخص یوں کہے کہ میں نے موٹر سے پوچھا تو چلتی کیوں نہیں ، اس نے جواب دیا ، میرے اندر پٹرول نہیں ہے ۔ لیکن یہ بات بھی بالکل ممکن ہے کہ یہ کلام مبنی بر حقیقت ہو ۔ اس لیے کہ دنیا کی جو چیزیں ہمارے لیے جامد و صامت ہیں ان کے متعلق ہمارا یہ گمان کرنا درست نہیں ہو سکتا کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کے لیے بھی ویسی ہی جامد و صامت ہوں گی ۔ خالق اپنی ہر مخلوق سے کلام کر سکتا ہے اور اس کی ہر مخلوق اس کے کلام کو جواب دے سکتی ہے خواہ ہمارے لیے اس کی زبان کتنی ہی ناقابل فہم ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یعنی جہنم یہ کہے گی کہ میں اور لوگوں کو بھی لینے کے لیے تیار ہوں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٠۔ ٣٥۔ مسند امام احمد اور صحیحین ٢ ؎ میں حضرت انس (رض) بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ (رض) سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے یہ فرمایا تھا میں تجھ کو جن و انس سے بھر دوں گا۔ اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے پوچھے گا کہ تو بھر چکی جب وہ ھل من مزید کہے گی تو اللہ تعالیٰ ان پر قدم مبارک اس میں رکھ دے گا۔ بعض مفسروں نے اور طرح سے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ لیکن وہ اس متفق علیہ حدیث کے مخالف ہے۔ نزدیک لائی گئی بہشت ڈر والوں کے۔ اس کا مطلب سلف نے دو طرح بیان کیا ہے ایک تو یہ کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لئے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اسی طرح عرش معلیٰ کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ بہ نسبت گناہ گاروں کے متقی لوگ پل صراط سے جلدی سے گزر جائیں گے اس لئے ان کو جنت کا راستہ قریب ہوجائے گا۔ طبرانی مستدرک ١ ؎ حاکم میں عبد اللہ بن مسعود کی قیامت کے احوال میں ایک بڑی حدیث ہے اس میں ان دونوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس واسطے یہ دونوں معنی صحیح ہیں۔ طبرانی کی سندوں میں ایک سند اس حدیث کی صحیح ہے۔ حاکم نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے اواب کے معنی اللہ کی فرمانبرداری کی طرف جھکنے والا ‘ حفیظ کے معنی اللہ کی نافرمانی سے بچنے والا۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف جھکنے والا اور رجوع ہونے والا دل رکھتا ہے۔ وہی اللہ سے ڈرے گا اور اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت سنے گا۔ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون کے موافق علمائے پابند شریعت کا صحیح مذہب بھی یہی قرار پایا ہے کہ عقل کی جگہ اور عقل کا ظرف دل ہے دماغ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے قدم مبارک کا ذکر آیات متشابہات میں سے ہے۔ صحابہ اور تابعین کا طریقہ اس میں یہی ہے کہ اس طرح کی آیتوں پر ایمان لانا اور ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپنا چاہئے۔ دوزخ کے بولنے کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے۔ اس میں صحیح مذہب یہی ہے کہ جس اللہ نے گوشت کے ایک ٹکڑے آدمی کی زبان میں گویائی کی قدرت دی ہے وہ جس چیز میں چاہے قوت گویائی پیدا کرسکتا ہے۔ صحیح ١ ؎ حدیثوں میں جنت اور دوزخ کا مناظرہ آیا ہے اسی طرح کی آیتوں اور حدیثوں میں تاویل کا کرنا عقلی شریعت کا اپنے دل سے بنانا ہے جو بڑے مواخذہ کی بات ہے ہر مسلمان کو مواخذہ عقبیٰ سے ڈرنا اور اس طرح کی مواخذہ کی بات سے پرہیز کرنا لازم اور ضروری ہے ہمارے پاس زیادہ ہے سے جنت کی وہ نعمتیں مقصود ہیں جو کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں۔ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ اس میں دیدار الٰہی کی نعمت بھی داخل ہے۔ (٢ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة ق ص ٧١٨ ج ٢ و صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص ٣٨٢ ج ٢۔ ) (١ ؎ الترغیب والترہیب ‘ باب فی الحشر وغیرہ ص ٧٤٨ ج ٤۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص ٣٨٢ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:30) ہل امتلئت : ہل حرف استفہام ہے امتلئت ماضی واحد مؤنث حاضر، امتلاء (افتعال) مصدر بمعنی بھر جانا۔ پر ہوجانا۔ کیا تو پر ہوگئی ہے کیا تو پھر گئی ہے۔ وتقول : تقول مضارع واحد مؤنث غائب قول (باب نصر) مصدر اور وہ کہے گی۔ ہل من مزید۔ اس کے متعلق علماء کے دو قول ہیں اول یہ کہ ہل استفہام انکاری ہے ہل امتلئت کے جواب میں جہنم کہے گی کیا ابھی اور بھی ہیں میں تو یا رب العزت بھر گئی ہوں میرے اندر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو بھری ہوئی نہ ہو۔ اب میرے میں اور گنجائش نہیں ہے۔ دوم یہ کہ یہ استفہام زیادتی کی طلب کو ظاہر کر رہا ہے ، یعنی جہنم کہے گی یا رب کچھ اور بھی ہے لایا جائے میں حاضر ہوں فائدہ : بعض مفسرین اور علماء نے لکھا ہے کہ اللہ اور دوزخ کے درمیان سوال و جواب حقیقی نہیں ہیں بلکہ بطور تخیل و تصویر بیان کیا ہے لیکن اس بیکار تاویل کی ضرورت نہیں ہے حقیقی سوال و جواب مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ جل شانہ انسانی اجزاء کو جس طرح ناطق بنا دے گا اسی طرح دوزخ کو ناطق بنا دیگا۔ یہ بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ قرآن مجید میں ہے وقلوا یجلودہم لم شھد ثم علینا قالوا انطقنا اللّٰہ الذی انطق کل شیء (41:21) اور وہ اپنے چمڑوں یعنی اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی وہ کہیں گے جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی قوت گویائی بخشی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی میں نہیں بھری کچھ اور لائو صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ میں لوگ ڈالے جاتے رہیں گے اور وہ برابر کہتی رہے گی ’ ’ ھل من مزید ؟ “ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا اس سے وہ سکڑ جائے گی اور کہے گی ” بس بس ! “ مجھے تیرے غلبہ اور کر مکی قسم اور جنت میں خالی جگہ بچ رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق پیدا کرے گا اور اسے جنت کی خالی بچی ہوئی جگہوں میں ٹھہرائے گا۔ یہ مضمون متعدد و احادیث میں بیان ہوا ہے۔ (ابن کثیر) دوزخ کے اس کلام کو بعض مفسرین نے تمثیلی قرار دیا ہے لیکن اگر اسے حقیقت پر معمول کرلیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٣٠ تا ٤٥۔ دوزخ اس قدر وسیع ہے کہ کفار انسان اور شیاطین جب اس میں پھینکے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ کیا توبھرگئی تو کہے گی کہ اگر اور ہیں تو ضرور ان کو بھی جھونکا جائے یعنی کفار یہ نہ جانیں کہ پہلے کافر بہت گزر چکے شاید وہ جہنم بھردیں گے اور ان کی جگہ ہی نہ ہوگی ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کے لیے جنت کو بھی پاس ہی آراستہ کردیاجائے گا کہ انہیں خوشی ہو اور کفار کو حسرت بڑھے۔ اللہ کے نیک بندوں سے کہاجائے گا کہ یہ وہ جنت ہے اور اللہ کی رضا کا مقام ہے جس کا وعدہ ہراواب اور حفیظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اواب اور حفیظ ۔ اواب کا معنی رجوع ہونے کا ہے جس شخص کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوجائے اور اپنی خطاؤں سے توبہ کرلے پھر اس توبہ کی حفاظت کرے اس پر قائم رہنے کی بھرپور کوشش کرے اور اللہ کریم سے استقامت طلب کرتا رہے اپنے گناہوں اور کمزوریوں کو یاد کرکے اللہ کریم سے مادد مانگتا رہے۔ ایسابندہ جو غائبانہ ایمان ویقین کے ساتھ اور رحیم ورحمن کی نافرمانی کرنے سے ڈرے اور ایسا دل لے کر آئے جس میں ہر آن اللہ کی یاد موجود رہی ہو۔ قلب منیب۔ وہ دل جس میں اللہ کی عظمت ہر آن مستحضر رہے اور اس کے نتیجے میں خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے اللہ کی نافرمانی سے رک جائے انہیں ارشاد ہوگا کہ آج سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ جہاں سے تمہیں کبھی نکالانہ جائے گا اور جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخلے کا وقت آپہنچا ہے جہاں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی اہل جنت خواہش کریں گے اور اس سے بڑھ کر ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کا انسان کو وہم گمان بھی نہ ہوگا کہ وہ ان کی خواہش کرسکے۔ ان سے پہلے کتنی ایسی قومیں جو ان سے کہیں طاقتور اور شان و شوکت والی تھیں اور دور دراز شہروں تک ان کی تجارت پھیلی ہوئی تھی اپنے جرم کی پاداش میں تباہ ہوچکیں۔ جب ان پر اللہ کی گرفت آئی تو انہیں پاس فہم و شعور رکھنے والا دل ہو یا کم ازکم جب بات سنیں تو اس پر خود غور توکریں۔ حصول علم کے ذرائع۔ یہاں قلب سے مراد مفسرین کرام کے نزدیک وہ دل ہے جس میں شعور ہو۔ ذکر الٰہی کانوں اور معرفت الٰہی کی کیفیات ہوں اور اگر اس سے کمتر ہو تو وہ درجہ تو ضرور حاصل ہو کہ کسی پر اعتماد کرکے اس کی بات پوری توجہ سے سنے توسہی۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں کہ پہلی قسم کے لوگ کاملین ہیں اور دوسری قسم کے مردین۔ اگر انہیں یہ خیال ہو کہ اتنا کچھ بنانے کے بعد شاید قدرت باری کو سب کو دوبارہ زندہ کرنا مشکل ہوتویہ ان کا خیال فاسد ہے کہ ہم نے زمین آسمان اور ان کی ساری مخلوق کو چھ روز کی مقدار کے برابر عرصے میں پیدا کردیا مگر کسی طرح کی تھکان نے ہمیں چھوا تک نہیں کہ یہ نقص ہے اور اللہ کی ذات نقائص سے بہت بلند ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ اپنے انکار پر ہی بضد ہوں تو آپ رنج نہ کیجئے بلکہ صبر کیجئے اور اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے سورج طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے کے بعد یعنی شام وسحر اور دن کی ابتدا وانتہا اللہ کے ذکر پر کیجے اور رات کو کیجئے اور سجدوں کے بعد بھی فرض نمازوں کے بعد بھی ذکر وتسبیحات جاری رکھیے مفسرین کرام کے مطابق یہاں فرض نمازیں بھی مراد ہیں۔ ذکر الٰہی کی تلقین۔ اور ان کے علاوہ تسبیحات اور زبانی اذکار بھی جو احادیث مبارکہ میں ارشاد ہوئے نیز ذکر دوام مراد ہے نیز مسنون اذکار صحابہ کرام کو ارشاد فرمائے گئے جن کے قلوب ذاکر تھے اور جنہیں ذکر دوام حاصل تھا یہاں بھی صبح وشام اور رات دن سے ذکر دوام ہی مراد لیاجاسکتا ہے اور اس کے ساتھ تسبیحات مسنونہ پڑھی جائیں توبرکات کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ اے مخاطب ! ذراغور سے سن کہ جس دن منادی کرنے والا بڑے قریب سے پکارے گا یعنی اسرافیل (علیہ السلام) جب دوسری دفعہ صور پھونکیں گے اور روایت ہے کہ خطاب کرکے کہیں گے اے گلی سڑی ہڈیوں اور ریزہ ریزہ ہوجانے والی کھالو۔ اور بکھر جانے والے بالو سن لو تم کو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لیے جمع ہوجاؤ تو ان کی آواز ہر دورنزدیک والا ایسے سنے گا جیسے اس کے کان میں کہی جارہی ہو اور اس روز صور کی چنگھار کو جب سن لیں گے یہی دن دوبارہ زندہ ہو کر زمین سے نکل پڑنے کا دن ہوگا۔ اس کی مثال تو موجود ہے کہ اب بھی ہم ہی زندگی عطا کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور اس روز بھی ہم ہی زندہ کریں گے اور سب کو ہماری ہی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا اس روز زمین پھٹ پڑے گی اور تمام لوگ زندہ ہو کر بھاگتے ہوئے نکل کھڑے ہوں گے اور دوڑ دوڑ کر حاضر ہو رہے ہوں گے اس طرح سب کو جمع کرنا قدرت باری کے لیے آسان ساکام ہے اور اس کی عقلی ونقلی دلیلیں دے کر بھی ثابت کیا جاچکا اگر اس کے بعد بھی ہی انکار کیے جا رہے ہیں تو ہمیں ان کی باتوں کا علم ہے آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان سے زبردستی قبول کرائیں بلکہ آپ قرآن حکیم کے ذریعے نصیحت جاری رکھیے اگرچہ فائدہ اسی کو نصیب ہوگاجو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوگا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 35 : ھل امتلات (کیا تو بھر گئی) ازلفت (قریب لائی گئی) ‘ اواب (جھکنے والا) ‘ الخلود (ہمیشہ رہنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 35 : جب میدان حشر میں ہر شخص کے اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو جہنم میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم پکار اٹھے گی کہ کیا ابھی اور اللہ کے نافرمان ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ؟ مفسرین نے اس کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی جہنم سے سوال فرمائیں گے کہ کیا اب بھی جہنم میں اور جگہ موجود ہے ؟ کیا اس کے علاوہ اور بھی جہنم والے ہیں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے کہ دوزخیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا پھر اس جہنم کو بند کر کے اوپر سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ اسکے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ و رسول کی اطاعت میں گذاری ہوگی ان کو ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جہاں ہر طرف راحتیں ہی راحتیں ہوں گی اور کسی طرح کا کوئی رنج و غم نہ ہوگا۔ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارنیوالوں کے لئے جنت کو سنوار اجائے گا اور رفشتے اس میں ان کا پر جوش استقبال کریں گے۔ وہ جنت میں جیسی بھی خواہش کریں گے وہ ان کو اسی وقت بغیر کسی رکاوٹ کے عطا کردی جائے گی۔ اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت ” دیدار الہی “ نصیب ہوگا۔ اور دیدار بھی اس شان کے ساتھ کہ درمیان سے ہر پردے کو ہٹا کر بےحجابانہ زیارت نصیب ہوگی۔ بعض روایات کے مطابق ہر جمعہ کو اللہ تعالیٰ کی ایسی زیارت نصیب ہوگی کہ دیدار الٰہی کے انوارات میں ہر شخص گم ہو کر رہے جائے گا۔ کفار و مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کو جہنم تک پہنچنے میں ایسا لگے گا جیسے کسی پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں لیکن اہل جنت کے لئے جنت کو اتنا قریب کردیا جائے گا کہ جنت میں پہنچنے کی مسافت اور فاصلہ کا احساس تک نہ ہوگا اور وہ پورے احترام کے ساتھ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ یوں تو اہل جنت کی بہت سی خصوصیات ہوں گی اس جگہ خاص طور پر چار صفات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اواب ‘ حفیظ ‘ خشی الرحمن اور قلب منیب۔ 1۔ اواب : ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو شیطانی وسوسوں کے باوجود محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنی ہر خواہش کو چھوڑ کر ہر اس بات کو اختیار کرتا ہے جس میں اللہ و رسول کی اطاعت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ دن رات اپنے گناہوں پر شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے اور اس کو جنت کا مستحق بنادیتا ہے۔ 2۔ حفیظ : جو کسی حال میں اپنے صغیرہ کبیرہ گناہوں کی تلافی کے لئے مخلصانہ کوششوں سے غافل نہ رہتا ہو۔ 3۔ خشی الرحمن : جو ہر وقت اس احساس کو زندہ رکھتا ہو کہ اللہ بڑا رحیم وکریم ہے وہی اپنے بندوں پر بےانتہا رحمتیں نازل کرتا ہے لیکن اس تصور سے کا نپتا اور ڈرتا رہتا ہو کہ کہیں وہ اللہ کے قہر کا شکار نہ ہوجائے۔ 4۔ قلب منیب : ایس دل جس میں اپنے نفسانی جذبوں کو چھوڑ نے اور نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ و رسول کے ادب و احترام کا بےپایاں خیال غالب رہے۔ صحیح عقیدہ اور اللہ کی طرف رجوع رہنے والا دل ہو۔ ایسا دل جس میں نیکیوں کی محبت اور گناہوں سے نفرت اور توبہ و استغفار جس کا شعار ہو۔ ایسا دل جو ہر طرف سے کٹ کر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو۔ اہل جنت کی یہ چار صفات ہیں جو ان کو جنت کا مستحق ثابت کردیں گی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں نازل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی ان صفات کو پیداکر کے ہمیں جہنم سے نجات اور جنت کا مستحق بنادے ۔ آمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ پوچھنا شاید تہویل کفار کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کا خوف اور ڈر پیدا ہوجائے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پہنچے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ پورا منظر ہی سوال و جواب کا منظر ہے ، یہاں مکالمے کے لئے جہنم کو پیش کیا جاتا ، یوں یہ عجیب و غریب اور خوفناک منظر ہے۔ تمام کفار معاند ، بھلائی سے روکنے والے ، حد سے گزر نے والے اور قیامت میں شک کرنے والے موجود ہیں۔ یہ سب جہنم میں کثرت سے پھینکے جا رہے ہیں اور جہنم میں ان کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جہنم سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم بھر گئی ہو اور کیا یہ لوگ تمہارے لیے کافی ہے لیکن وہ بڑی سختی سے جوش میں آکر اور جلتے ہوئے کہے گی۔ ھل من مزید (٥٠ : ٣٠) (کیا اور کچھ ہے ؟ ) اس طرح جس طرح بھوکا خونخوار منہ کھولے ہوئے کوئی درندہ ہوتا ہے۔ کیا ہی خوفناک منظر ہے یہ !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دوزخ سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ! کیا تو بھر گئی ؟ اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ان آیات میں جنت اور دوزخ کا حال بتایا ہے دوزخ کی وسعت اور لمبائی، چوڑائی اور گہرائی مجموعی حیثیت سے اتنی زیادہ ہوگی کہ کروڑوں افراد جنات میں سے اور انسانوں میں سے داخل کیے جانے کے بعد بھی خالی ہی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا ﴿ھَلِ امْتَلاَْتِ﴾ (کیا تو بھر گئی) اس کا جواب ہوگا کیا کچھ اور بھی ہے ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنت اور دوزخ میں آپس میں مباحثہ ہوا دوزخ نے (فخر کے طور پر) کہا کہ تکبر والے اور تجبر والے میرے اندر داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا کیا بات ہے کہ میرے اندر صرف کمزور لوگ اور گرے پڑے اور بھولے بھالے لوگ داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں تیرے ذریعہ رحم کروں گا اور دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں سے بھر دینے کا وعدہ ہے۔ (رواہما البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ صفحہ ٥٠٥) اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جہنم میں برابر دوزخیوں کو ڈالا جاتا رہے گا اور وہ ہل من مزید کہتی رہے گی یعنی یوں کہتی رہے گی کیا کچھ اور بھی ہے کیا کچھ اور بھی ہے۔ یہاں تک کہ رب العزت شانہٗ اس میں اپنا قدم رکھ دیں گے اور وہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس میں آپ کی عزت و کرم کا واسطہ دیتی ہوں اور جنت میں بھی برابر جگہ خالی بچتی رہے گی اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نئی مخلوق کو پیدا فرمائے گا اور اس خالی جگہ میں ان کو آباد فرما دے گا۔ یہ جو اللہ تعالیٰ شانہٗ کے قدم کا ذکر آیا ہے یہ متشابہات میں سے ہے اس کا معنی سمجھنے کی فکر میں نہ پڑیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اعضاء وجوارح سے پاک ہے۔ وقد استشکل بعض العلماء بان اللہ تعالیٰ قال لابلیس ” لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین “ فاذا امتلات بھٰولاء فکیف تبقی خالیا ؟ وقد الھمنی اللہ تعالیٰ جواب ھذا الاشکال انہ لیس فی الآیة انھا تملاء کلھا بالانس والجن فان الملاء لا یستلزم ان یکون کاملا لجمیع اجزاء الاناء۔ یہ جو جنت میں خالی جگہ بچنے کی وجہ سے نئی مخلوق پیدا کر کے بسائی جائے گی اس کے بارے میں بعض اکابر سے کہا گیا کہ وہی مزے میں رہے کہ پیدا ہوتے ہی جنت میں چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا انہیں جنت کا کیا مزہ آئے گا انہوں نے دنیا نہیں بھگتی، تکلیف نہیں جھیلی، مصیبتیں نہیں کاٹیں، انہیں وہاں کے راحت و آرام کی کیا قدر ہوگی ؟ مزہ تو ہمیں آئے گا، آرام کی قدر ہم کریں گے جو دنیا کی تکلیفوں سے دوچار ہوئے اور مشقت و دکھ تکلیف کو دیکھا اور سہا، جھیلا اور بھگتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ” یوم نقول۔ الایۃ “ یوم فعل مقدرا انذر کا مفعول ہے یا ظلام سے متعلق ہے یعنی اس دن سے لوگوں کو ڈرا دیا جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا کفار و مشرکین سے تیرا پیٹ بھر گیا ہے اور تو سیر ہوگئی ہے اور وہ عرض کرے گی میرا پیٹ تو ابھی نہیں بھرا کیا ابھی مزید کفار و مشرکین ہیں ؟ اس دن ہم بندوں سے بےانصافی نہیں کریں گے اور کسی کو بلا قصور سزا نہیں دیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ تو پر ہوگئی اور بھر بھی گئی اور وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ یعنی کچھ اور زیادہ اس سے ہے۔ بعض حضرات نے پہلے ہل کے معنی قد کے گئے ہیں اور دوسرے ہل کے معنی لا کے لیا ہے اس تقدیر پر ترجمہ اس طرح ہوگا تحقیق بھر گبی تو وہ جواب میں کہے گی اور زیادہ نہیں چاہتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوزخ کا پھیلائو اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا۔ خلاصہ : یہ کہ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس سے سوال کیا جائے گا اور وہ زیادہ طلب کرے گی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتقول ھل من مزید کے جواب میں اپنا قدم جہنم میں رکھ دے گا جس پر وہ کہے گی بس بس۔ بہرحال یہ پائوں رکھنا کنایہ ہے کہ اس کو دبا دیا جائے گا۔ اور پھیلی ہوئی چیز کو سمیٹ دیا جائے گا۔ جس سے وہ بھر جائے گی۔ حضرت حق تعالیٰ نے لاملئن جھنم فرمایا تھا اور وہ بات پوری ہوگئی۔ اگر کسی مکان میں یادالان میں دس پانچ آدمیوں کی دبا کر اور گنجائش نکال جائے تو اس کو بھرا ہوا ہی کہتے ہیں۔ وتقول ھل من مزید کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بھر تو چکی ہوں اگر اور حکم ہو تو دب دبا کر اور جگہ بھی نکالی جاسکتی ہے اور زیادہ بھیج دیئے دوزخ کو بھرنے کے لئے کوئی اور مخلوق پیدا نہیں کی جائے گی جیسے جنت کو پر کرنے کے لئے نئی مخلوق پیدا کی جائے گی جب وہ دوزخ پر ہوجائے گی تو اس کو بند کردیا جائے گا اور ڈھانک دیا جائے گا آگے جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔