Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 40

سورة ق

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ ﴿۴۰﴾

And [in part] of the night exalt Him and after prostration.

اور رات کے کسی وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ... And during a part of the night glorify His praises, meaning pray to Him. Allah said in another Ayah, وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا And in some parts of the night offer the Salah with it, as an additional prayer for you. It may be that your Lord will raise you to Maqam Mahmud. (17:79) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said that Ibn Abbas said that, ... وَأَدْبَارَ السُّجُودِ and after the prostrations. refers to Tasbih, i.e. glorifying Allah's praises, after the prayers. There is a Hadith collected in the Two Sahihs that supports this meaning. Abu Hurayrah said, "Some poor migrants came and said, `O Allah's Messenger! The wealthy people will get higher grades and will have permanent enjoyment.' The Prophet said, وَمَا ذَاكَ Why is that? They said, `They pray as we do, fast as we do, yet they give charity, but we can not. They free slaves, but we can not.' The Prophet said, أَفَلَ أُعَلِّمُكُمْ شَيْيًا إِذَا فَعَلْتُمُوهُ سَبَقْتُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلاَ يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلاَّ مَنْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَةٍ ثَلَثًا وَثَلَثِين Shall I tell you about something that, if you did it, you would catch up with those who have surpassed you and nobody would be better than you except those who would do the same Say, `Subhan Allah, Alhamdulillah and Allahu Akbar,' thirty-three times each after every prayer. Later, they came back and said, `O Allah's Messenger! Our brethren, the wealthy Muslims, heard of what we did and they also did the same.' The Prophet said, ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُوْتِيهِ مَنْ يَشَاء This is a favor and grace of Allah, and He grants it to whom He wills." There is another way of explaining the Ayah. It is that Allah's statement, وَأَدْبَارَ السُّجُودِ (and after the prostrations), refers to the two Rak`ahs after the Maghrib prayer. This was reported from Umar bin Al-Khattab, Ali bin Abi Talib and his son Al-Hasan, Abdullah bin Abbas, Abu Hurayrah and Abu Umamah, may Allah be pleased with them. This is also the saying of Mujahid, Ikrimah, Ash-Sha`bi, An-Nakha`i, Al-Hasan Al-Basri, Qatadah, and others.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ' رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں جو آپ کے لئے مزید ثواب کا باعث ہے۔ 40۔ 2 یعنی اللہ کی تسبیح کریں بعض نے اس سے تسبیحات مراد لی ہے، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے مثلاً 33 مرتبہ سُبْحَان اللہ 33 مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰلہ اور 34 مرتبہ اللّٰہ اَکْبَرْ وغیرہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] پانچ نمازوں کے اوقات :۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پروردگار کی حمد سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : خ جنت میں دیدار الہٰی :۔ && سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ ایک رات ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چاند کو دیکھا جو چودھویں رات کا تھا۔ عنقریب تم (جنت میں) اپنے پروردگار کو یوں بےتکلف دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ پھر اگر تم ایسا کرسکو کہ تم سے طلوع آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر) قضانہ ہونے پائے تو ایسا ضرور کرو۔ اس کے بعد آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ 98؀ۙ ) 15 ۔ الحجر :98) (بخاری۔ کتاب التفسیر) && اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تین ہی نمازیں تھیں۔ فجر کی نماز، عصر کی نماز اور تہجد کی نماز اور بعض علماء اس آیت سے پانچوں نمازیں ثابت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں اور رات کی نمازوں سے مراد مغرب اور عشا کی نمازیں ہیں &&۔ [٤٧] نمازوں کے بعد نوافل اور ذکر واذکار :۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہر نماز کے بعد کچھ سنت اور نوافل ادا کئے جائیں۔ واضح رہے کہ رسول اللہ نے جو نماز بطور نفل ادا کی وہی ہمارے لئے سنت ہے اور ہمارے ہاں جو رکعات بطور نوافل ادا کی جاتی ہیں وہ ان نوافل سے زائد ہیں جو آپ نے ادا کئے اور جسے ہم سنت نماز کہتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد کچھ ذکر اذکار اور تسبیح و تہلیل بھی کیا کیجئے۔ جیسا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے مجھے حکم دیا کہ ہر (فرض) نماز کے بعد تسبیح پڑھا کروں۔ آپ نے کہا (وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ 40؀) 50 ۔ ق :40) کا یہی مطلب ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) ایسے بہت سے اذکار صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف ایک اہم ذکر درج کیا جاتا ہے جس کی بہت فضیلت آئی ہے : && سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے : && مالدار لوگ بلند درجات لے گئے اور ہمارا چین لوٹ لیا۔ ہماری طرح وہ بھی نمازیں ادا کرتے اور روزے رکھ لیتے ہیں۔ پھر ان کے پاس پیسہ ہم سے زائد چیز ہے جس سے وہ حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کرلیتے ہیں جو ہم محتاج ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتے && آپ نے فرمایا :&& میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو اور تم کو کوئی نہ پاسکے جو تمہارے پیچھے ہے اور تم اپنے زمانہ والوں میں سے سب اچھے بن جاؤ الا یہ کہ وہ بھی یہ کام کرنے لگیں۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو && اور بعض روایات کے مطابق سبحان اللہ ٣٣ بار، الحمدللہ ٣٣ بار اور اللہ اکبر ٣٤ بار کہنا چاہئے (تاکہ سو (١٠٠) پورا ہوجائے && ) (بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب الذکر بعد الصلٰوۃ) اور بعض روایات میں ہے کہ جب مالدار لوگ بھی یہ ذکر پڑھنے لگے تو محتاج لوگ پھر آپ کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ ذکر تو مالدار لوگ بھی کرنے لگے، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کا فضل ہے، جتنا جسے چاہے دے دے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ایسے ذکر کا کچھ فائدہ نہ ہوگا کہ زبان تو چل رہی ہو اور دل اور باتوں میں مشغول ہو۔ &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَدْبَارَ‌ السُّجُودِ (...and at the ends of prostration.... 50:40) Mujahid (رح) interprets sujud in this verse to refer to the five obligatory prayers, and the phrase |"at the ends of the prostrations|", according to him, refers to all those tasbihat which authentic ahadith encourage us to recite after every prayer. Sayyidna Abu Hurairah (رض) reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Whosoever recites after every obligatory prayer 33 times subhanallah (سُبحَانَ اللہ), 33 times al-hamdulillah (اَلحَمدُ للہ) and 33 times allahu &akbar (اللہُ اَکبَر), and once: لَا اِلٰہَ ِالّا اللہُ وَحدَہُ ، لَا شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ المُلکُ وَ لَہُ الحَمدُ وھُوَ علیٰ کُلِّ شیٔ قَدِیر la ilaha illatlahu wahdahu la-sharika lahu lah-ul-mulku wa-lah-ul- hamdu wa huwa &ala kulli shai&in qadeer. - all his sins will be forgiven, even though they may be equal to the waves of the sea (Bukhari and Muslim). The phrase |"at the ends of the prostrations|" could also refer to the supererogatory prayers to be performed after the obligatory prayers as authentic Traditions testify (Mazhari).

(آیت) وَاَدْبَار السُّجُوْدِ ، حضرت مجاہد نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ سجود سے مراد فرض نمازیں ہیں اور ادبار السجود، سے مراد وہ تسبیحات پڑھنا ہے جس کی فضیلت ہر نماز کے بعد حدیث مرفوع میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد للہ، 33 مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہٰ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علیٰ کل شی قدیر، پڑھ لیا کرے تو اس کی خطائیں معاف کردی جائیں گی، اگرچہ وہ دریا کی موجوں کے برابر ہوں (رواہ البخاری و مسلم) اور ادبار السجود سے مراد وہ سنتیں بھی ہو سکتی ہیں جو فرض نمازوں کے بعد احادیث صحیحہ میں آئی ہیں (مظہری )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ۝ ٤٠ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے دبر ( پيٹھ) دُبُرُ الشّيء : خلاف القُبُل وكنّي بهما عن، العضوین المخصوصین، ويقال : دُبْرٌ ودُبُرٌ ، وجمعه أَدْبَار، قال تعالی: وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] ، وقال : يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] أي : قدّامهم وخلفهم، وقال : فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] ، وذلک نهي عن الانهزام، وقوله : وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] : أواخر الصلوات، وقرئ : وَإِدْبارَ النُّجُومِ ( وأَدْبَار النّجوم) فإدبار مصدر مجعول ظرفا، ( د ب ر ) دبر ۔ بشت ، مقعد یہ قبل کی ضد ہے اور یہ دونوں لفظ بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں دبر ا اور دبر دولغات ہیں اس کی جمع ادبار آتی ہے قرآن میں ہے :َ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] اور جو شخص جنگ کے روز ان سے پیٹھ پھیرے گا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر ( کوڑے و ہیتھوڑے وغیرہ ) مارتے ہیں ۔ فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا ۔ یعنی ہزیمت خوردہ ہوکر مت بھاگو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] اور نماز کے بعد ( بھی ) میں ادبار کے معنی نمازوں کے آخری حصے ( یا نمازوں کے بعد ) کے ہیں . وَإِدْبارَ النُّجُومِ«1»میں ایک قرات ادبارالنجوم بھی ہے ۔ اس صورت میں یہ مصدر بمعنی ظرف ہوگا یعنی ستاروں کے ڈوبنے کا وقت جیسا کہ مقدم الجام اور خفوق النجم میں ہے ۔ اور ادبار ( بفتح الحمزہ ) ہونے کی صورت میں جمع ہوگی ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نماز مغرب وعشاء کی تاکید نیز تہجد سے کیا مراد ہے قول باری ہے (ومن اللیل فسبحہ۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے) مجاہد کا قول ہے اس سے صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد کی نماز مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سے مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لینا بھی جائز ہے۔ نمازوں کے بعد تسبیحات قول باری ہے (وادبار السجود۔ اور نمازوں کے بعد بھی) حضرت عمر (رض) ، حضرت علی (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت حسن بن علی (رض) ، حسن بصری، مجاہد، نخعی اور شعبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں اور (وادبار النجوم اور ستاروں سے پیچھے بھی) سے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے ۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قول باری (وادبار السجود) کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم اپنی پیشانی زمین پر رکھو تو تین دفعہ تسبیح کرو۔ ابوبکرحبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے شروع میں جن حضرات کے اقوال نقل کیے ہیں وہ سب اس پر متفق ہیں کہ قول باری (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) سے نماز مراد ہے، اسی طرح (ومن اللیل فسبحہ) صلوٰۃ اللیل یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اس سے یہ واجب ہوگیا کہ (وادبار السجود) سے نماز ہی مراد لی جائے کیونکہ اس میں لفظ ” فسبحہ “ پوشیدہ ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر نماز کے بعد تسبیح مروی ہے لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ آیت کی تفسیر ہے۔ محمد بن سیرین نے کثیر بن افلح سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کی ہے کہ ہمیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔ پھر ایک انصاری کو خواب میں یہ کہا گیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کو کہا ہے، اگر تم انہیں پچیس پچیس مرتبہ پڑھو اور ان کے ساتھ لا الہ الا اللہ پچیس مرتبہ پڑھو تو ایسا کرلو۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب اس بات کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” ایسا ہی کرلو۔ “ سمی نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تمام درجات اور ہمیشہ باق رہنے والی نعمتیں سمیٹ کرلے گئے۔ “ آپ ؐ نے پوچھا : ” وہ کیسے ؟ “ انہوں نے عرض کیا۔ وہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے اور جہاد کرتے ہیں، نیز وہ اپنے زائد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کوئی مال نہیں ہے۔ “ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں تمہیں ایسا عمل نہ بتائوں جسے کرکے تم ان لوگوں کے مرتبے پر پہنچ جائو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور بعد میں آنے والوں سے آگے نکل جائو گے، کوئی شخص تم جیسا عمل نہیں کرسکے گا البتہ صرف وہی شخص تمہارے درجے تک پہنچ سکے گا جو یہ عمل (جو ابھی میں تمہیں بتانے والا ہوں) کرے گا۔ وہ عمل یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ “ حضرت ابوذر (رض) نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے البتہ انہوں نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی روایت کی ہے جس میں چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کا ذکر ہے۔ ابوہارون العبدی نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے آخر میں واپس ہوتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العلمین۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر آیت کے معنی کو وجوب پر محمول کیا جائے تو قول باری (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس) کو فجر کی نماز اور (وقبل الغروب) کو ظہر اور عصر کی نمازوں پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح حسن سے مروی ہے کہ قول باری (ومن اللیل فسبحہ) مغرب اور عشاء کی نمازوں پر محمول ہے۔ اس طرح یہ آیت پانچوں فرض نمازوں ک ومتضمن ہوجائے گی۔ لفظ تسبیح سے نماز کی تعبیر کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک قرار دیا جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور نماز بھی قرات قرآن بھی اذکار پر مستعمل ہوتی ہے جو بعینہ تنزیہہ باری تعالیٰ ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور رات کو بھی نماز پڑھتے رہا کیجیے یعنی مغرب و عشا یا یہ کہ تہجد اور فرض نمازوں کے بعد جیسا کہ مغرب کے بعد کی دو سنتیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠{ وَمِنَ الَّـیْلِ فَسَبِّحْہُ } ” اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔ “ { وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ ۔ } ” اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی۔ “ یہ گویا نماز سے فارغ ہونے کے بعد کی تسبیح وتحمید کا حکم ہے۔ نمازوں کے بعد کے اذکار کی تفصیلات احادیث میں ملتی ہیں ‘ جیسے تسبیح فاطمہ (رض) (٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٣ یا ٣٤ بار اللہ اکبر پڑھنا) کی مداومت سے متعلق احادیث میں ترغیب آئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51 This is the means by which man gets the power and energy to continue his struggle to raise the Word of the Truth and to call the people towards righteousness throughout life with full determination even though he may have to pass through heart-breaking and soul-destroying conditions and his efforts may seem to be bearing no fruit. Praising and glorifying the Lord implies the Prayer here, and wherever in the Qur'an the praise and glorification has been associated with specific times, it implies the Prayer. The Prayer "before sunrise" is the Fajr Prayer, and the Prayers "before sunset" are the 'Asr and the Zuhr Prayers. The Prayers in the night are the Maghrib and the `Isha`Prayers, and the third, the Tahajjud Prayer, is also included in the glorification of the night. (For explanation, see E.N. 111 of Ta Ha; E.N.'s 23, 24 of Ar-Rum). As for the glorification that has been commanded after "being free from prostrations", it may imply the after-Prayer devotions as well as the offering of the voluntary prayers at the end of the prescribed obligatory Prayers. Hadrat Umar, Hadrat 'Ali, Hadrat Hasan bin 'Ali, hadrat Abu Hurairah, Ibn `Abbas, Sha`bi, Mujahid, 'Ikrimah, Hasan Basri, Qatadah, Ibrahim Nakha`i and Auza'i say that it implies the two rak ats after the Maghrib Prayer. Hadrat `Abdullah bin `Amr bin 'As, and according to a tradition, Hadrat `Abdullah bin 'Abbas also, held the opinion that it implies the after-Prayer devotions, and Ibn Zaid says -that the object of this Command is that voluntary Prayers also should be offered after the prescribed obligatory Prayers. According to a tradition reported in Bukhari and Muslim, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, once the poor emigrants from Makkah came before the Ho]y Prophet, and said "O Messenger of Allah, the rich people have attained high ranks for themselves The Holy Prophet asked: What has happened ? They said: They offer the Prayers as we offer, and they observe the Fasts as we observe; but they practise charity, which we cannot, and they set the slaves free which we cannot. The Holy Prophet said: Should I tell you a thing which if you practised, you would surpass all others, except those who practised the same that you practised? It is this that you should pronounce Subhan-Allah, al-Hamdu-lillah and Allah-u-Akbar, 33 times each after every Prayer. " After some time, the same people came and said: `Our rich brothers also have heard this and they too have started practising, it." Thereupon the Holy Prophet said: "This is Allah's bounty and He bestows it on whomever He wills." According to a tradition these devotional words have to be repeated ten times each instead of 33 times each. Hadrat Zaid bin Thabit has reported that the Holy Prophet instructed his Companions that they should pronounce Subhan-Allah and al Hamdu-lillah 33 times each and Allah-u-Akbar 34 times after every Prayer. Afterwards an Ansar Companion submitted: "I have seen in a vision that somebody was telling me that it would be better if I pronounced these three devotional words 25 times each and then La ilaha ill-Allah 25 times. The Holy Prophet replied: Well, you may do likewise." (Ahmad, Nasa'i, Darimi). Hadrat Abu Said Khudri says: °I have heard the Holy Prophet pronounce the following words when he would return after the Praye rs were over: Subhana Rabbika Rabbil- `izzat-i `anima yasifun ' wa salam-un 'alal-mursalin, wal-hamdu lillah-i Rabb-il alamin. " (Jassas Ahkam al-Qur 'an). Besides these, several other forms of the after-Prayer devotional pronouncements also have been reported from the Holy Prophet. Those who wish to act on this instruction of the Qur'an may select the one they find suitable from Mishkat.' Bab adh-dhikr 6a `d as-Salat, commit it to memory and practise it. Nothing can be better than what the Holy Prophet himself has taught in this regard. But what one should bear in mind is that the real object of the devotional pronouncements is not to utter these words only as a matter of course but to refresh and fix their meaning in the mind. Therefore, the meaning of whatever devotions one pronounces should be understood well and then practiced with full consciousness of the meaning.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :51 یہ ہے وہ ذریعہ جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے ، اور اس کی کوششوں کا خواہ کوئی ثمرہ بھی حاصل ہوتا نظر نہ آئے ، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمۂ حق بلند کرنے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی سعی جاری رکھے ۔ رب کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے اور جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے ۔ طلوع آفتاب سے پہلے ۔ فجر کی نماز ہے غروب آفتاب سے پہلے ‘’ دو نمازیں ہیں ، ایک ظہر ، دوسری عصر ۔ رات کے وقت ۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور تیسری تہجد بھی رات کی تسبیح میں شامل ہے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم ، بنی اسرائیل ، حواشی 91 تا 97 ۔ جلد سوم ، طہٰ ، حاشیہ 111 ۔ الروم ، حواشی 23 ۔ 24 ) ۔ رہی وہ تسبیح جو سجدے سے فارغ ہونے کے بعد کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ، تو اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ بھی ہو سکتا ہے اور فرض کے بعد نفل ادا کرنا بھی ۔ حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت حسن بن علی ، حضرات ابوہریرہ ، ابن عباس ، شُیبی ، مجاہد ، عکرمہ ، حسن بصری ، قتادہ ، ابراہیم نخَعی اور اَوزاعی اس سے مراد نماز مغرب کے بعد کی دو رکعتیں لیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عَمرو بن العاص اور ایک روایت کے بموجب حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی یہ خیال ہے کہ اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ ہے ۔ اور ابن زید کہتے ہیں کہ اس ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ فرائض کے بعد بھی نوافل ادا کے جائیں ۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا ؟ ۔ انہوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں ، مگر وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے ، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز بتاؤں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جاؤ گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد 33 ۔ 33 مرتبہ سبحان اللہ ، الحمد لِلہ ، اللہ اکبر کہا کرو ۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی ہے اور وہ بھی یہی عمل کرنے لگے ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء ۔ ایک روایت میں ان کلمات کی تعداد 33 ۔ 33 کے بجائے دس دس بھی منقول ہوئی ہے ۔ حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد 33 ۔ 33 مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد لِلہ کہا کریں اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہیں ۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہتا ہے اگر تم 25 ۔ 25 مرتبہ یہ تین کلمے کہو اور پھر 25 مرتبہ لا اِلٰہ الا اللہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اسی طرح کیا کرو ۔ ( احمد ۔ نسائی ۔ دارمی ) ۔ حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر جب پلٹتے تھے تو میں نے آپ کو یہ الفاظ کہتے سنا ہے :سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزِّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o ( احکام القرآن للجصاص ) ۔ اس کے علاوہ بھی ذکر بعد الصلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوئی ہیں ۔ جو حضرات قرآن مجید کی اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوٰۃ ، باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں سے کوئی ذکر جو ان کے دل کو سب سے زیادہ لگے ، چھانٹ کر یاد کرلیں اور اس کا التزام کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر اور کونسا ذکر ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے اصل مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزار دینا نہیں ہے بلکہ ان معانی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں ۔ اس لیے جو ذکر بھی کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح سمجھ لینے چاہییں اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: تسبیح سے یہاں مراد نماز ہے۔ چنانچہ طلوع آفتاب سے پہلے کے الفاظ میں نماز فجر، غروب سے پہلے کے الفاظ میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں، اور رات کے حصوں میں تسبیح کرنے کے الفاظ میں مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں۔ 17: سجدوں سے مراد فرض نمازیں ہیں، اور ان کے بعد تسبیح کرنے سے مراد نفلی نمازیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے (روح المعانی)

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:40) ومن الیل فسبحہ واؤ عاطفہ ہے من تبعیضیہ من الیل مفعول فیہ ہے فعل مذحوف کا۔ ای وسبحہ من الیل فسبحہ اور رات کے کچھ وقت میں بھی اس کی پاکی بیان کر۔ پس اس کی پاکی بیان کر ۔ وادبار السجود : ای وسبحہ ادبار السجود : ادبار فعل محذوف سبحہ کا مفعول فیہ ہے دبر کی جمع بمعنی پیٹھیں۔ پیچھے کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی اس کی تسبیح کر۔ فائدہ : آیات 39:40 میں تسبیح سے مراد نامز پڑھنا ہے تسبیح قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے تسبیح قبل الغروب سے مراد نماز ظہر و عصر ہے من الیل سے مراد نماز مغرب و عشاء ہے اور ادبار السجود سے مراد نوافل ہیں جو فرائض کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اس سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ سورجن نکلنے سے پہلے فجر کی نماز ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز ہے اور رات کے وقت تہجد کی نماز ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا آنحضرت اور مسلمانوں پر فرض تھا پھر معراج کے موقع پر جب پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور ان کے اوقات بھی متعین کردیئے گئے تو فجر اور عصر کی نمازیں تو بدستور فرض رہیں لیکن تہجد کی نماز نفلی قرار دے دی گئی۔ فجر اور عصر کی نماز کی قرآن و حدیث میں خاص طور پر ترغیب آئی ہے اور جو لوگ یہ دو نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں ان کو آخرت میں دیدار الٰہی نصیب ہوگا۔ (ابن کثیر) نماز بعد تسبیح سے مراد سبحان اللہ والحمد اللہ اللہ اکبر کلمات بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نماز فرض کے بعد سبحان اللہ الحمد اللہ 33 بار اور اللہ اکبر 34 بار پڑھا جائے۔ بعض نے اس تسبیح سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں لی ہیں۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ حاصل یہ ہوا کہ ذکر اللہ میں اور اس کی فکر میں لگے رہیے، تاکہ ان کے اقوال کفریہ کی طرف توجہ نہ ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ﴾ (اور رات کو اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) علماء نے فرمایا ہے کہ اس سے قیام اللیل یعنی رات کو نماز پڑھنا مراد ہے ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ ٠٠٤٠﴾ (اور سجدوں کے بعد اللہ کی تسبیح بیان کیجئے) اس سے فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا مراد ہے اور بعض حضرات نے نماز کے بعد تسبیحات پڑھنا مراد لیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ قبل الطلوع سے نماز فجر اور قبل الغروب سے ظہر اور عصر اور من اللیل سے مغرب اور عشاء اور ﴿وَ اَدْبَار السُّجُوْدِ﴾ سے فرضوں کے بعد کے نوافل مراد ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) اور کچھ رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی یعنی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور اس کی تحمید علاج ہے دل کے مضبوط اور قلب کے مطمئن ہونے کا۔ اہل علم نے فرمایا اس میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے اور نماز کے بعد سنن ونوافل کی طرف اشارہ ہے مثلاً سورج کے طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز اور غروب سے قبل ظہر اور عصر کی نماز رات میں مغرب اور عشاء کی نماز ادبار السجود یعنی نماز کے بعد نوافل وغیرہ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ومن الیل میں تہجد بھی داخل ہو، بہرحال جب یہ لوگ اتنے دلائل واضحہ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کو دوبارا پیدا کرنے سے عاجز کہتے ہیں تو آپ صبر سے کام لیجئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس اور تحمید می مشغول رہئے اس میں نماز بھی آگئی ۔ سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر ، ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھے یا ننانوے کلمے ہوئے آخر میں ایک مرتبہ کہے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد ۔ وھو علیٰ کل شیء قدیر۔ اس کلے سو کی تعداد پوری کردے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دو وقت یاد کے ہیں اس وقت دعا اور عبادت بہت قبول ہوتی ہے۔ اور فرماتے ہیں یعنی نماز کے۔ خلاصہ : یہ کہ طلوع و غروب سے قبل کا وقت قبولیت کا ہے اور ہر نماز کے بعد پاکی بیان کیا کرو۔