Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 32

سورة الذاريات

قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾

They said, "Indeed, we have been sent to a people of criminals

انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They said: "We have been sent to a people who are criminals." in reference to the people of Lut, لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن طِينٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 اس سے مراد قوم لوط ہے جن کا سب سے بڑا جرم لواطت تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] ذکر قوم لوط :۔ یہ مجرم قوم، قوم لوط تھی جس کے تعارف کے لیے مجرم قوم ہی کہہ دینا کافی ہے۔ کیونکہ وہ مجسم مجرم تھی۔ اللہ کے ساتھ شرک کرتی تھی۔ لواطت کی بانی اور موجد تھی۔ مسافروں سے لواطت کرکے ان کا مال اسباب چھین کر اپنی بستی سے چلتا کردیتی تھی۔ آخرت کی اور رسولوں کی منکر تھی اور اپنے نبی کو اپنی بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتی تھی۔ غرضیکہ وہ ہر طرح کے کفر و شرک اور فسق و فجور میں مبتلا قوم تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین …: ان آیات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (٨٣) ، حجر (٥٨، ٧٤) اور سورة عنکبوت (٣١ تا ٣٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْـرِمِيْنَ۝ ٣٢ ۙ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢{ قَالُوْٓا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۔ } ” انہوں نے کہا : ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 That is, to the people of the Prophet Lot. The epithet of "a guilty people" was enough to. tell which people were meant in view of the gravity of their crimes. They have already been mentioned in the Qur'an in Al-A'raf: 80-84, Hud:74-83, Al-Hijir : 58-79, AI-Anbiya`: 74-75, Ash-Shu'ara: 160-175, AnNaml: 54-58, As-Saaffat : 133-137.

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :31 مراد ہے قوم لوط ۔ اس کے جرائم اس قدر بڑھ چکے تھے کہ صرف مجرم قوم کا لفظ ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اس سے مراد کون سی قوم ہے ۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے : تفہیم القرآن ، جلد دوم ، ص 51 تا 53 ۔ 355 تا 359 ۔ 510 تا 515 ۔ جلد سوم ، ص ، 170 ۔ 526 تا 530 ۔ 586 ۔ 587 ۔ 594 تا 598 ۔ جلد چہارم ، الصافات ، ص 306 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:32) ارسلنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ارسال (افعال) مصدر۔ ہم بھیجے گئے ہیں ۔ قوم مجرمین۔ موصوف وصفت۔ مجرمین اسم فاعل جمع مذکر، مجرم ، گنہگار، جرائم پیشہ لوگ، مراد حضرت لوط کی قوم ہے، جو ایسے گندے افعال میں مبتلا تھے کہ اس سے پہلے کسی نے بھی ایسے گندے عمل نہیں کئے تھے۔ یہ لوگ لواطت کے بانی تھے۔ راہزن اور لٹیرے تھے اور مجمع عام کے روبرو بےحیائی کے کام کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین (١٥ : ٢٣) ” ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یہ قوم لوط کے لوگ تھے جیسا کہ دوسری سورتوں میں تصریح ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں کہا بلاشبہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔