Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 43

سورة الذاريات

وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾

And in Thamud, when it was said to them, "Enjoy yourselves for a time."

اور ثمود ( کے قصے ) میں بھی ( عبرت ) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائدہ اٹھالو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And in Thamud, when they were told: "Enjoy yourselves for a while!" is just as He said in another Ayah, وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَـعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ And as for Thamud, We guided them to the path of truth, but they preferred blindness to guidance; so the Sa`iqah of disgracing torment seized them. (41:17) Allah said here, وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّى حِينٍ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

43۔ 1 یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اونٹنی کو قتل کردیا، تو ان سے کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے بعض نے اسے حضرت صالح (علیہ السلام) کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] ذکر قوم ثمود :۔ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن وہ مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ اس وقت صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم اس دعوت کو قبول نہ کرو گے تو تم پر عذاب الٰہی آکے رہے گا۔ اس عذاب سے پیشتر ہی تم دنیا کے مال و متاع سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یا ممکن ہے یہاں حین سے مراد عذاب کے وقت کے بجائے ان کی موت کا وقت ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وفی ثمود اذ قیل لھم تمتعواحتی حین…: اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انہوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہوسکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح (علیہ السلام) کی تکذیب پر اڑے رہے تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود : ٦٧) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انہیں بھسم کردیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا :(کان لم یغنوا فیھا) (ھود : ٦٨) ” جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ “ دوسرا قول یہ ہے کہ اس ” تمتعوا حتی حین “ (ایک وقت تک خوب فائدہ اٹھا لو) کہنے سے مراد صالح (علیہ السلام) کا ان کی طرف مبعوث ہونے کے وقت کا خطاب ہے کہ دنیا میں تمہیں موت تک مہلت ہے، اس میں خوب فائدہ اٹھا لو، مگر اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب آجائے گا، مگر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کو کاٹ دیا تو انہیں ساعقہ نے پکڑ لیا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَفِيْ ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ۝ ٤٣ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے ۔ نیز مثمود اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جسے سوال کرنے والوں نے مفلس کردیا ہو ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣۔ ٤٤) اور صالح کی قوم کے واقعہ بھی عبرت ہے جبکہ ناقہ کی کونچیں کاٹنے کے بعد پھر صالح نے اپنی قوم سے فرمایا کہ عذاب آنے تک عیش کرلو تو انہوں نے پھر بھی اپنے پروردگار کے حکم کو قبول کرنے سے انکار کیا سو ان کو صاعقہ (کڑک) کے عذاب نے آلیا اور وہ اس عذاب کو اپنے اوپر نازل ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣{ وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ ۔ } ” اور اسی طرح ثمود کے معاملے میں بھی (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک خاص وقت تک کے لیے تم فائدہ اٹھا لو (دنیا کی نعمتوں سے) ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 The commentators have disputed as to which respite it implies. Hadrat Qatadah says that it alludes to that verse of Surah Hud in which it has been stated that when the Thamud killed the she camel of the Prophet Salih, they were warned by Allah that they had three more days to enjoy lift after which they would be overtaken by the torment. Contrary to this, Hadrat Hasan Basri has expressed the opinion that this thing had been said by the Prophet Salih to his people in the beginning of his mission and by this he meant that if they would not adopt the way of repentance and faith, they would be granted a respite to enjoy lift in the world only till an appointed tint, and then they would be overtaken by the tormnt. The second of these two commentaries seems to be more correct, for the following verse ("But in spite of this they defied the command of their Lord") indicates that the respite being mentioned here had been given before the defiance and they committed it after the warning. On the contrary, the three days' respite mentioned in Surah Hud had been given after the wicked people had committed the final defiance which became decisive in their cast and sealed their doom for ever afterwards

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :40 مفسرین میں اس امر پر اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون سی مہلت ہے ۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ یہ اشارہ سورہ ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے جب حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کر دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کر دیا گیا کہ تین دن تک مزے کر لو ، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا ۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال ہے کہ یہ بات حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے فرمائی تھی اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ و ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہو سکے گی اور اس کے بعد تمہاری شامت آ جائے گی ۔ ان دونوں تفسیروں میں سے دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ بعد کی آیت فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ ( پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی ) یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہ کے بعد کی ۔ اس کے برعکس سورہ ہود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہو جانے کے بعد دی گئی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:43) وفی ثمود : وفی عاد کی طرح اس کا عطف بھی وترکنا فیہا پر ہے۔ (آیت 37) ای وترکنا فی ثمود ایۃ : یعنی قوم ثمود کے قصہ میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) نشانی چھوڑ دی۔ اذ قیل لہم۔ جب ان میں سے (یعنی قوم ثمود سے) کہا گیا تھا۔ تمتعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر تمتع (تفعیل) مصدر۔ تم فائدہ اٹھالو، تم برت لو، تم مزے اڑالو۔ حتی حین : حتی حرف انتہاء غایت (فی الزمان) کے لئے ہے۔ حین وقت ، زمانہ، مدت۔ ترجمہ : جب ان سے کہا گیا تھا کہ تم ایک خاص وقت تک مزے کرلو۔ فائدہ : مفسرین میں اس امر پر اختلاف ہے کہ اس سے مراد کونسی مدت ہے حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے اشارہ سورة ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کردیا گیا تھا کہ تین دن تک تم مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا (ھود 11:61) ۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال ہے کہ یہ باب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے آغاز میں کہی تھی اپنی قوم سے اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ اور ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہوگی۔ اور اس کے بعد تمہاری شامت آجائے گی۔ ان دونوں تفسیروں میں دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ بعد کی آیت فعتوا عن امر ربھم (پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی) یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہہ کے بعد کی۔ اس کے برعکس سورة ھود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہوجانے کے بعد کی گئی تھی۔ (تفہیم القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی فکر سے باز نہیں آوگے تو بعد چندے ہلاک ہوگے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا دور اور ان کا انجام۔ قرآن مجید نے قوم ثمود کو اصحاب الحجر بھی کہا ہے۔ (الحجر : ٨٠) اس کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور کالونیاں تعمیر کرلی تھیں تاکہ زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ آئے۔ بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ تم ہمارے لیے نحوست کا سبب ہومزید کہتے کہ صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ (الشعراء : ١٤٢ تا ١٥٣) انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے گابھن اونٹنی نمودار نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس طرح معجزہ طلب نہ کرو۔ اگر تمہارا منہ مانگا معجزہ دے دیا گیا اور پھر تم نے اس کا انکار کیا تو تمہارا بچنا مشکل ہوگا۔ لیکن قوم اپنے مطالبہ پر مصر رہی۔ چناچہ انہیں اونٹنی کا معجزہ دیا گیا مگر انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ جس کے سبب عذاب نا زل ہوا۔ جس کا یہاں اشارہ کیا گیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن، جلد ٢: سورة الاعراف، آیت ٧٣ تا ٨٤ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز وہاں سے کیا جہاں سے حضرت نوح اور حضرت ھود ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ دین کی مقرر کردہ عبادات کی ادائیگی کے ساتھ آدمی اپنے فکر و عمل کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کردے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی عبادت کا حکم دیا جا رہا ہے، جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس میں آباد فرمایا۔ لیکن تم ” اللہ “ کا شکر اور اس کی عبادت کرنے کی بجائے بغاوت پر اتر آئے ہو۔ تمہیں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لیے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ یقین کرو کہ میرا رب ہر انسان کے قریب ہے اور توبہ کرنے والے کی جلد توبہ قبول کرلیتا ہے۔ (البقرۃ : ١٨٦) قوم کا جواب : ١۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : ٦٢) ٢۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود : ٦٢) ٣۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : ٧٤) ٤۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : ٢٤) ٥۔ اگر تم ہمارے دین پر نہ آئے تو ہم تمہیں اپنے علاقے سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : ١٣) ٦۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : ٢٥) ٧۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : ١٥٣) تفسیر بالقرآن قوم ثمود کا انجام : ١۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٨) ٢۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : ٥) ٣۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٩٥) ٤۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٥۔ شیطان نے قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٦۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) ٧۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور تیسری نشانی قوم ثمود کی : وفی ثمود ........ منتصرین (٥٤) (١٥ : ١٤ تا ٥٤) ” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔ “ اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین (١٥ : ٣٤) ” ایک خاص وقت تک مزے کرلو “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی یعنی ناقہ کے بعدذ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ قال تمتعوا ........ ایام ” پھر صالح نے ان کو خبردار کردیا کہ بس اب تین دن دن اپنے گھروں میں اور رہ لو “ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہوسکتا ہے یعنی رسالت کرنے سے قتل ناقہ تک کا وقت جبکہ انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے ناقہ کو قتل کردیا اور ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی ان کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے وہی بات اس ہوا کے بارے میں بھی ہے جو قوم عاد پر بھیجی گئی اور وہی بات اس چیخ کے بارے میں بھی ہے جو قوم ثمود پر آئی۔ یہ تمام کائناتی قوتیں ہیں جو اللہ کی تدبیر سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت اور اس کے قوانین کے مطابق چلتی ہیں اور اپنے قوانین کے دائرے کے اندر اللہ جس قوم پر چاہتا ہے ان کو بطور عذاب مسلط کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ قوتیں وہی کام کرتی ہیں جو اللہ ان کے حوالے کرتا ہے اور اللہ کے لشکر لاتعداد اور بےمثال ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” وفی ثمود “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ قوم ثمود کی تباہی بھی عبرتناک تھی جب ان سے کہا گیا اللہ کی نعمتوں سے زندگی بھر فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کے پیغمبر کا اتباع کرو، لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کی تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک گرج اور کڑک نے انہیں آلیا اور وہ اس کے سامنے ایک لمحہ بھی نہ ٹھہر سکے اور اس سے اپنے کو نہ بچا سکے، نہ اس عذاب کا مقابلہ ہی کرسکے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(43) اور ثمود کے واقعہ میں عبرت کی نشانی ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم لوگ اور چند دن تک فائدہ اٹھالو اور کچھ عرصہ اور بہرہ مندرہو۔