Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 11

سورة الطور

فَوَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

Then woe, that Day, to the deniers,

اس دن جھٹلانے والوں کی ( پوری ) خرابی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then woe that Day to those who denied, woe to them that Day as a result of Allah's torment, punishment and affliction that He will direct at them, الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] ایسا ہوگا وہ دن جس کے لیے کفار جلدی مچا رہے ہیں جو آتے ہی کافروں کی تباہی لائے گا، ان کافروں کی جو آج دنیا کی دلفریبیوں میں مست ہو کر اس دن کا مذاق اڑاتے اور مذاق اڑا کر خوش ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس دن سے پہلے ایمانداروں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ اور یہ دن صرف کافروں پر ہی واقع ہوگا جیسا کہ صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ && لَا تَقُوْمَ السَّاعَۃُ اِلَّا عَلٰی شَرَار النَّاسِ && یعنی قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فویل یومئذ للمکذبین، الذین ھم فی خوض یلعبون :” خاص یخوض خوضا “ (ي) اصل میں پانی کے اندر داخل ہونے کو کہتے ہیں، پھر یہ لفظ فضول اور بےہودہ اقوال و اعمال میں مشغولیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس طرح پانی میں جانے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا پاؤں کہاں پڑے گا، فضول کام یا بات کرنے والا بھی اس سے بیخبر ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں کہاں پڑ رہا ہے۔ مزید دیکھیے سورة مدثر (٤٥) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۝ ١١ ۙ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ } ” پس ہلاکت و بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:11) فویل ف فصیحت کے لئے ہے ویل بربادی ، ہلاکت، (ملاحظہ ہو 51:6) یومئذ اسم ظرف زمان، منصوب مضاف، اذ مضاف الیہ۔ اس روز ، اس دن ، ای اذا وقع ذلک جب یہ واقعات وقوع پذیر ہوں گے۔ مکذبین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر تکذیب (تفعیل) مصدر، جھٹلانے والے ، تکذیب کرنے والے۔ پس اس روز تکذیب کرنے والوں کے لئے بربادی ہوگی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فویل یومئذ للمکذبین (٢٥ : ١١) الذین ھم فی خوض یلعبون (٢٥ : ٢١) ” تباہی ہے اس روز مکذبین کے لئے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں “ یہ تباہی اس دن آئے گی جس دن آسمان ڈگمگائے گا اور پہاڑ اڑ رہے ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اور یہ خوفناک بربادی۔ یہ ان جھٹلانے والوں کا حصہ ہے جو لگے ہوئے تھے اپنی حجت بازیوں میں۔ سب سے پہلے تو یہ صفت منطبق ہوتی ہے مشرکین مکہ کے افکار پر اور ان کے تصورات اور معتقدات پر جو نہایت سطحی اور بچگانہ تھے اور ان کی پوری اس زندگی پر یہ صفت منطبق ہے جو ان تصورات اور معتقدات کی اساس پر قائم تھی۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ یہ اس کھیل میں اس طرح مصروف ہیں جس طرح حوض میں لوگ نہانے کے لئے اترتے ہیں اور اچھلتے کودتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پانی میں تیر کر کسی ہدف کی طرف بڑھیں یا کنارے پر لگ جائیں۔ ان کا مقصد صرف حوض میں اچھلنا کودنا ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم اس لفظ کا اطلاق قرانی نظریات کے علاوہ تمام نظریات پر کرتا ہے اور قرآنی طریقہ زندگی کے علاوہ تمام دوسرے اسلوب ہائے زندگی پر کرتا ہے کہ یہ کھیل تماشا ہے اور یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے واضح کی ہے اور اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآنی نظریات کے علاوہ تمام نظریات کا گہرا جائزہ لے اور وہ یہ جائزہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظریہ کائنات کی روشنی میں لے۔ کسی بھی گہرے جائزے سے معلوم ہوگا کہ تمام لوگوں کے نظریات اور معتقدات افسانے ہیں بلکہ بڑے بڑے فلسفے انسانی تاریخ کے وہ بڑے فلسفیانہ تصورات جن پر انسان ناز کرتے ہیں ، وہ بھی بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تصور حیات اور عقائد میں جو حقائق نہایت ہی سادگی ، قوت ، صفائی اور سنجیدگی سے بیان کئے گئے اور خصوصاً وہ باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ فطرت کے ساتھ بغیر کسی مشکل سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ قرآن کا مطالعہ فطرت نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے کائنات کے عجوبے کی بھی خوبصورت تفسیر ہوتی ہے اور اس تفسیر کے مطابق اس کے خالق کائنات کے ساتھ تعلق کی بھی تشریح ہوتی ہے اور یہ سب تصورات اور تشریحات حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔ جب میں فلاسفہ کے خیالات پڑھتا ، بڑے بڑے فلاسفہ کے خیالات دیکھتا ہوں کہ اس کائنات کے عجوبے کے حل میں وہ تھک کر چور چور ہوگئے اور وہ اس کی صحیح تفسیر نہ کرسکے نہ ہی کائنات کے مختلف حقائق کو باہم مربوط کرسکے۔ ان کے خیالات اس طرح معلوم ہوتے ہیں جس طرح ایک بچہ ریاضی کا کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کی سعی کرے۔ یہ اس لئے کہ میرے سامنے اس مسئلے کا قرآنی حل موجود تھا جو واضح ، صاف ، سہل فطری اور دلپذیر تھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہ تھی نہ پیچیدگی تھی اور نہ تعقید۔ قرآن نے اس کائنات کی جو تشریح کی ہے وہ اس طرح ہے جس طرح ایک شخص اپنی بنائی ہوئی مشینری کی تشریح کرتا ہے۔ رہے فلاسفہ تو وہ اس کائنات میں سے چند جزوی حقائق لے کر ان کو کل پر منطبق کرتے ہیں اس لئے وہ بری طرح فیل ہوجاتے ہیں اور ان کے تصورات تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب ہم ان فلاسفہ کے تصورات کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہیں تو یہ عبث کھیل ، خلط بحث کا بھونڈا نمونہ پیش کرتے ہیں اس لئے کہ قرآنی نظریات مکمل پختہ اور مطابق فطرت اور مطابق حقیقت ہوتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں ان کے خیالات ناپختہ ، محال اور متناقض ثابت ہوجاتے ہیں۔ جب انسان عظیم فلاسفہ کے نظریات پڑھتا ہے تو انسان کے تصورات میں تمام مسائل میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کمراہانہ تصورات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ تصورات مسئلہ کائنات کے حل کے لئے انسانی کوششیں ہیں اور اس کے بعد جب انسان قرآنی آیات پر غور کرتا ہے جو اس موضوع پر ہوتی ہیں تو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ روشنی داخل ہوتی ہے۔ اس کا قرار وثبات اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی جگہ پر درست رکھی ہوئی ہے۔ ہر بات اپنی جگہ پر ہے۔ ہر حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہوئی ہے اور کسی چیز میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ انسان فی الفور محسوس کرلیتا ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ اسے آرام اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس کا دل آرام اور قرار پکڑتا ہے۔ عقل مطمئن ہوجاتی ہے۔ ہر قسم کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔ تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک واضح حقیقت تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ عقائد کے بعد جب لوگ ان عقائد پر اپنی عملی زندگی استوار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کھیل کود میں مصروف ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ترجیحات اسلامی ترجیحات کے مطابق بچگانہ کھیل نظر آتی ہیں۔ اسلام انسان کو جس قدر بلند ترجیحات دیتا ہے اس کے مقابلے میں یہ دوسرے فلسفے جو ترجیحات متعین کرتے ہیں وہ نہایت حقیر معمولی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسلام جب ان لوگوں کی مشغولیات کو دیکھتا ہے پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو کو سنتا ہے جو ان کی نظروں میں ایسی ہوتی ہے جیسا کہ وہ کسی بڑے کائناتی مسئلہ پر بحث کررہے ہیں ، اسلام اس قسم کے لوگوں پر جب نظر ڈالتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے ہیں جو گڈیوں اور کھلونوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں جن کو وہ حقیقی اشیاء سمجھتے ہیں اور ان کھلونوں کے ساتھ وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ حقیقی اشخاص ہیں۔ اسلام جس طرح اس پوری کائنات کے بارے میں ایک ارفع اور برتر تصور دیتا ہے اس طرح وہ اس کائنات میں انسان کو اعلیٰ اور برتر ترجیحات بھی دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اور اس کائنات کے وجود کی علت اور سبب کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ وہ یہ سوالات اس طرح قدرتی طور پر حل کرتا ہے کہ ان کے جواب کو ہر شخص سمجھ سکے کیونکہ یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں اٹھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ؟ کیوں آیا ہے اور اس نے کہا جانا ہے ؟ اسلام نے ان سوالات کا جو جواب دیا ہے اس جواب سے خود اس کا وجود اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کے وجوذو کا صحیح تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ انسان دوسری مخلوقات سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ ان ہی مخلوقات میں سے وہ ایک مخلوق ہے جہاں سے دوسری مخلوقات آتی ہیں۔ وہاں سے وہ بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں کے وجود کا سبب ایک ہے۔ جہاں وہ دوسری مخلوقات جائے گی یہ بھی جائے گا لہٰذا اسلام کا جواب ایک مکمل جواب ہے اور یہ کائنات اور انسان دونوں باہم مربوط ہیں اور تمام مخلوق پھر خالق سے مربوط ہے۔ اس کائنات کی قرآنی تشریح کا عکس پھر انسانی ترجیحات پر پڑتا ہے اور یہ ترجیحات اس تصور کی سطح تک بلند ہوجاتی ہیں۔ یوں ایک مسلم کے شعور میں دوسرے لوگوں کی ترجیحات بہت ہی حقیر نظر آتی ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق اپنے اعلیٰ فرائض میں مشغول ہوتا ہے اور یہاں اپنے مقصد وجود کے مطابق کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ تصورات اور اعلیٰ ترجیحات کی روشنی میں ایک مسلم کو دوسرے لوگ بچوں کے کھیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایک مسلم کی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس کے مقاصد اونچے ہیں اور یہ مسلم اس عظیم کائنات کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے وجود میں موثر ہے۔ یہ حقیقت اس حقیقت سے زیادہ عزیز ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کو عبث اور بےمقصد کاموں میں ضائع کرے جس طرح دوسرے لوگ ضائع کرتے ہیں۔ مسلم کی ترجیحات کے مقابلے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات ومصروفیات عبث نظر آتی ہیں۔ محض مقاصد زندگی کی بلندی کی وجہ سے اور اس کائنات کے تصور کی بلندی کی وجہ سے جو لوگ اس کائنات کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جس طرح بچے کھیل رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد جھٹلانے والوں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ٠٠١١﴾ (سو اس دن بڑی خرابی ہے یعنی بربادی ہے اور عذاب میں گرفتاری ہے ان لوگو کے لیے جو حق کو جھٹلاتے ہیں) ﴿ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَۘ٠٠١٢﴾ (جو بیہودہ باتوں میں گھسے ہوئے ہیں اور اس شغل کو انہوں نے کھیل کے طور پر اختیار کر رکھا ہے) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں۔ یخوضون فی الباطل یلعبون غافلین لاھین یعنی یہ لوگ باطل چیزوں میں گھستے ہیں حق کے خلاف بولتے ہیں اور مشورے کرتے ہیں، غافل ہیں اپنے شغل کو کھیل بنا رکھا ہے۔ ﴿يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ٠٠١٣﴾ یہاں ان کا یہ حال ہے اور قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ جب دوزخ کے قریب لے جائے جائیں گے تو فرشتے انہیں دھکے دے دے کر اس میں داخل کردیں گے ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوئے ہوں گے اور موڑ توڑ کر سروں کو قدموں سے ملا دیا ہوگا۔ سورة الرحمٰن میں ہے ﴿هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ٠٠١٤﴾ (یہ وہ آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے رہے) جب تمہارے سامنے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق کی دعوت پیش کرتے تھے اور قیامت قائم ہونے کی خبر دیتے تھے اور معجزات پیش کرتے تو تم کہتے تھے کہ انہوں نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ ﴿ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ٠٠١٥﴾ اب یہ دوزخ تمہارے سامنے ہے کیا یہ جادو ہے ؟ اب بھی دیکھ رہے ہو یا نہیں ؟ قال صاحب الروح ای ام انتم عمی عن المخبر بہ کما کنتم فی الدنیا عمیا عن الخبر

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) پھر اس دن تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہے۔