Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 12
سورة الطور
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿ۘ۱۲﴾
Who are in [empty] discourse amusing themselves.
جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں ۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿ۘ۱۲﴾
Who are in [empty] discourse amusing themselves.
جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں ۔
Those who were in their falsehood, playing. meaning, they live in this life in falsehood and make the religion the subject of their mockery and jest,
12۔ 1 یعنی اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب استہزاء میں لگے ہوئے ہیں۔
الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَ ١٢ ۘ خوض الخَوْضُ : هو الشّروع في الماء والمرور فيه، ويستعار في الأمور، وأكثر ما ورد في القرآن ورد فيما يذمّ الشروع فيه، نحو قوله تعالی: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ : إِنَّما كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ [ التوبة/ 65] ، وقوله : وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خاضُوا[ التوبة/ 69] ، ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ [ الأنعام/ 91] ، وَإِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ [ الأنعام/ 68] ، وتقول : أَخَضْتُ دابّتي في الماء، وتخاوضوا في الحدیث : تفاوضوا . ( خ و ض ) الخوض ( ن ) کے معنی پانی میں اترنے اور اس کے اندر چلے جانے کے ہیں بطور استعارہ کسی کام میں مشغول رہنے پر بولا جاتا ہے قرآن میں اس کا زیادہ تر استعمال فضول کاموں میں لگے رہنا ہر ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ : إِنَّما كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ [ التوبة/ 65] اور اگر تم ان سے ( اس بارے میں ) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم عورتوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے ۔ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خاضُوا[ التوبة/ 69] اور جس طرح وہ باطل میں ٖڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے ۔ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ [ الأنعام/ 91] پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں ۔ وَإِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ [ الأنعام/ 68] اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ ۔ یہاں تک کہ اور باتوں میں مشغول ہوجائیں ۔ کہا جاتا ہے : ۔ میں نے اپنی سواری کو پانی میں ڈال دیا ۔ باہم باتوں میں مشغول ہوگئے ۔ لعب أصل الکلمة اللُّعَابُ ، وهو البزاق السائل، وقد لَعَبَ يَلْعَبُ لَعْباً «1» : سال لُعَابُهُ ، ولَعِبَ فلان : إذا کان فعله غير قاصد به مقصدا صحیحا، يَلْعَبُ لَعِباً. قال : وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ( ل ع ب ) اللعب ۔ اس مادہ کی اصل لعاب ہے جس کے معنی منہ سے بہنے والی رال کے ہیں اور ننعب ( ف) یلعب لعبا کے معنی لعاب بہنے کے ہیں لیکن لعب ( س ) فلان یلعب لعبا کے معنی بغیر صحیح مقصد کے کوئی کام کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64]
آیت ١٢{ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَ ۔ } ” وہ لوگ جو خوش گپیوں میں مصروف کھیل رہے ہیں۔ “
9 It means that they are mocking and ridiculing the news of Resurrection, Hereafter, Heaven and Hell when they hear it from the Prophet, and instead of – considering it seriously they are disputing it only for fun and amusement. Their discussions of the Hereafter are not meant to understand the reality, but only to amuse themselves, and they do not at all realize the fate for which they arc destined.
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :9 مطلب یہ ہے کہ نبی سے قیامت اور آخرت اور جنت و دوزخ کی خبریں سن کر انہیں مذاق کا موضوع بنا رہے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرنے کے بجائے محض تفریحاً ان پر باتیں چھانٹ رہے ہیں ۔ آخرت پر ان کی بحثوں کا مقصود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں ہے ، بلکہ ایک کھیل ہے جس سے یہ دل بہلاتے ہیں اور انہیں کچھ ہوش نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔
(51:12) الذین ھم فی خوص یلعبون : الذین اسم موصول جمع مذکر۔ یلعبون صلہ فی خوص جار مجرور مل کر متعلق یلعبون ۔ جو تفریح طبع کے لئے فضول باتوں میں لگے رہتے ہیں ۔ خوض (باب نصر) اصل میں اترنے اور اس کے اندر چلے جانے کو کہتے ہیں۔ بطور استعارہ کسی کام میں مشغول رہنے پر بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال فضول کا موں میں لگے رہنے پر ہوا ہے : واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنہم (6:68) اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ۔ یلعبون مضارع جمع مذکر غائب لعب (باب سمع) مصدر۔ وہ کھیلتے ہیں ، استہزاء کرتے ہیں ۔
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے کہیں گے کہ یہی وہ آگ اور جہنم ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ آنکھیں کھول کر دیکھ لو جسے تم جادو کہا کرتے تھے کیا یہ جادو ہے یا حقیقت ؟ جسے تم جھٹلاتے اور شغل کا نشانہ بنایا کرتے تھے اب اس میں داخل ہوجاؤ۔ یہاں صبر کرو یا واویلا کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے اس میں تم نے ہمیشہ ہمیش رہنا ہے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (وَسِیقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَاءُوہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (الزمر : ٧١، ٧٢) ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے جب وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس کے چوکیدار ملائکہ جہنمی سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تمہارے رب کی تمہیں آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ تمہیں یہ دن دیکھنا ہوگا۔ جہنمی جواب دیں گے ہاں آئے تھے مگر عذاب کا فیصلہ ہم پر سچ ثابت ہوا۔ کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ یہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ متکبروں کے لیے بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے ہیں ان کے لیے ہلاکت اور جہنم ہوگی۔ ٢۔ قیامت کے دن انہیں جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا۔ ٣۔ جب انہیں جہنم میں دھکیلا جائے گا تو ملائکہ انہیں کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنم کی آگ کی حالت : ١۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : ٢٤) ٢۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ : ٨١) ٣۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : ١٢) ٤۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : ٣٠) ٥۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : ٦) ٦۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی چٹخارسنیں گے۔ (الملک : ٧) ٧۔ جہنم کی آگ کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کے برابر ہوں گے۔ ( المرسلات : ٣٢) ٨۔ مجرموں کو جہنم میں آگ کے بڑے بڑے ستونوں سے باندھا جائے گا۔ ( ہمزہ : ٩٠) ٩۔ جہنمی کو آگ کا لباس پہناکر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (الحج : ١٩) ١٠۔ اس دن مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ جکڑا ہوا دیکھیں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوگی۔ (ابراہیم : ٤٩۔ ٥٠) ١١۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧)