Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 21

سورة الطور

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾

And those who believed and whose descendants followed them in faith - We will join with them their descendants, and We will not deprive them of anything of their deeds. Every person, for what he earned, is retained.

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Offspring of Righteous Believers will be elevated to Their Grades in Paradise Allah the Exalted says, وَالَّذِينَ امَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ... And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything. In this Ayah, Allah the Exalted affirms His favor, generosity, graciousness, compassion and beneficence towards His creation. When the offspring of the righteous believers imitate their parents regarding faith, Allah will elevate the latter to the ranks of the former, even though the latter did not perform deeds as goodly as their parents. Allah will comfort the eyes of the parents by seeing their offspring elevated to their grades. Surely, Allah will gather them together in the best manner, and He will not decrease the reward or the grades of those higher in rank for joining them together, hence His statement, ... أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ .... to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything. Ath-Thawri reported that Ibn Abbas said, "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' offspring to rank of their parents, even though the latter have not performed as well as the former, so that the eyes of the parents are comforted." Ibn Abbas then recited this Ayah, وَالَّذِينَ امَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ... And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything. Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded this statement from Sufyan Ath-Thawri from Ibn Abbas. Ibn Abi Hatim also recorded that Ibn Abbas commented on Allah's statement, وَالَّذِينَ امَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring), saying, "They are the offspring of the believers who died on the faith. If the ranks of their parents are higher than their ranks, they will be joined with their parents. No part of the reward their parents received for their good deeds will be reduced for them." Abdullah, son of Imam Ahmad, recorded that Ali said, "Khadijah asked the Prophet about two of her children who died during the time of Jahiliyyah, and the Messenger of Allah said; هُمَا فِي النَّار (They are both in the Fire). When he saw sadness on her face, he said, لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لاََبْغَضْتِهِمَا If you saw their dwelling place, you would hate them. She said, `O Allah's Messenger! What about my children with you.' He said, فِي الْجَنَّة (They are in Paradise). The Messenger of Allah said, إِنَّ الْمُوْمِنِينَ وَأَوْلاَدَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلاَدَهُمْ فِي النَّار Verily, the believers and their offspring will dwell in Paradise, while the idolators and their offspring will dwell in the Hellfire. The Prophet then recited the Ayah, وَالَّذِينَ امَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ (And those who believe and whose offspring follow them in faith...)" Certainly, it is Allah's grace and favor that He grants the children this blessing because of the good deeds of their parents. He also grants His favor to parents on account of their offspring invoking Allah for them. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah said, إِنَّ اللهَ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَنْى لِي هذِهِ فَيَقُولُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَك Verily, Allah shall elevate the grade of a righteous servant in Paradise, who will ask, "O Lord! How did I earn this?" Allah will reply, "Through your son's invoking Me to forgive you." This Hadith has an authentic chain of narration, but it was not recorded in the Sahih this way. However, there is a witnessing narration for it in Sahih Muslim, from the Hadith of Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah said, إِذَا مَاتَ ابْنُ ادَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلاَّ مِنْ ثَلَثٍ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَه When the Son of Adam dies, his record of deeds will cease except in three cases: an ongoing charity, knowledge that people are benefiting from and a righteous son who invokes Allah for him. Allah is Just with the Sinners Allah the Exalted said, ... كُلُّ امْرِيٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ Every person is a pledge for that which he has earned. After Allah mentioned His favor of elevating the offspring to the ranks of their parents, even though the deeds of the former did not qualify them, He affirmed His fairness in that, He does not punish anyone for the mistakes of others, كُلُّ امْرِيٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ (Every person is a pledge for that which he has earned). Therefore, every person will be responsible for his actions. No sin committed by others shall ever be added to one's load, even if committed by his or her parents or offspring. Allah the Exalted said, كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلاَّ أَصْحَـبَ الْيَمِينِ فِى جَنَّـتٍ يَتَسَأءَلُونَ عَنِ الْمُجْرِمِينَ Every person is a pledge for what he has earned, except those on the Right. In Gardens, they will ask one another about the criminals. (74:38-41) Description of the Khamr of Paradise and the Delight of its Dwellers Allah said, وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ

صالح اولاد انمول اثاثہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں ۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لئے اور انکے لئے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا ۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے چھٹ پن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے ۔ حضرت ابن عباس ، شعبی ، سعید بن جبیر ابراہیم قتادہ ابو صالح ربیع بن انس ضحاک بن زید بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت خدیجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ نے فرمایا وہ دونوں جہنم میں ہیں ، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا مائی صاحبہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ وہ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لئے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں ۔ صدقہ جاریہ علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعائے خیر کرتی رہے چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا جیسے اور جگہ ہے آیت ( كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38؀ۙ ) 74- المدثر:38 ) ، ہر شخص اپنے کئے ہوئے کاموں میں گرفتار ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں جس چیز کو جی چاہے جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بد زبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی ہذیان نہیں بکتے بیہوش نہیں ہوتے سچا سرور اور پوری خوشی حاصل بک جھک سے دور گناہ سے غافل باطل وکذب سے دور غیبت وگناہ سے نفور دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر پیٹ میں درد عقل زائل بکواس بہت بو بری چہرے بےرونق اسی طرح شراب کے بد ذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے یہ رنگ میں سفید پینے میں خوش ذائقہ نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں نہ بک جھک ہو نہ بہکیں نہ بھٹکیں نہ مستی ہو نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں ان کی آبداری صفائی چمک دمک روپ رنگ کا کیا پوچھنا ؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے آیت ( يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 17۝ۙ ) 56- الواقعة:17 ) یعنی ہمیشہ نو عمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس بار بار لانے کے لئے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے دنیا کے احوال یاد آئیں گے کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے الحمد اللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقینا وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ اس حدیث کی سند کمزور ہے حضرت مائی عائشہ نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی ( اللھم من علینا وقنا عذاب السموم انک انت البر الرحیم ) حضرت اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المومنین نے نماز میں مانگی تھی ؟ جواب دیا ہاں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقوٰی اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلٰی درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل واحسان سے فروتر ہوگی اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کا اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر آبا کے عملوں کی برکت سے ہوگا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا واستغفار سے آبا کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد) اس کی تأیید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ (صحیح مسلم) 21۔ 2 رھین بمعنی مرھون (گروی شدہ چیز) ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہوگا۔ یہ عام ہے۔ مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور مطلب ہے کہ جو جیسا اچھا یا برا عمل کرے گا۔ اس کے مطابق اچھی یا بری جزاء پائے گا۔ یا اس سے مراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ" 74 ۔ المدثر :38) ہر شخص اپنے اعمال میں گرفتار ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] کم درجہ والی اولاد کو والدین سے ملادینا :۔ یعنی والدین نیک اور پرہیزگار تھے۔ اولاد نے اپنے والدین کی پیروی کی کوشش تو کی مگر نیکی اور پرہیزگاری میں اس درجہ تک نہ پہنچے جو والدین کا درجہ تھا تو اللہ تعالیٰ اولاد پر یہ مہربانی فرمائیں گے کہ ان کو بھی ان کے والدین کے درجہ تک پہنچا کر جنت میں ان کے والدین کے ساتھ ملا دیں گے تاکہ والدین اور اولاد جیسے دنیا میں اکٹھے رہے تھے جنت میں بھی اکٹھے رہ سکیں اور والدین اور اولاد دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اس سلسلہ میں یہ نہ ہوگا کہ کچھ والدین کا کچھ درجہ کم کردیا اور کچھ اولاد کا کچھ بڑھا دیا اور دونوں کو ایک درمیانی درجہ کے مقام میں جنت میں ملا دیا بلکہ اولاد کا درجہ ہی بڑھایا جائے گا والدین کا کم نہیں کیا جائے گا۔ [١٦] ہر شخص کے اللہ کے ہاں گروی ہونے کا مفہوم :۔ یعنی ہر شخص پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتیں قرض ہیں اور اس کے بدلے انسان کا نفس اللہ تعالیٰ کے پاس بطور رہن یا مرہونہ چیز ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ اس کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرے۔ جس شخص نے یہ قرض ادا کردیا اس کا نفس عذاب جہنم سے آزاد ہوگیا۔ وہ کامیاب ہوگیا & اور بچ نکلا اور جس نے یہ قرض ادا نہ کیا اس کا نفس پہلے ہی اللہ کے پاس رہن رکھا ہوا ہے۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک کہ جنت محض اللہ کے فضل سے ملے گی۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کی نیکی دوسرے کے نفس کو نہ رہا کرا سکے گی اور نہ عذاب جہنم سے بچا سکے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) والذین امنوا واثبعتھم ذریتھم بایمان :” بایمان “ پر تنوین تنکیر و تقلیل کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ” اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی “ کیا گیا ہے۔ (٢) الحقنا بھم ذریتم : طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے اس کی تفسیر نقل فرمائی ہے :(ان اللہ تبارک و تعالیٰ یرفع للمومن ذریتہ ، وان کانوا دونہ فی العمل ، لیقر اللہ بھم عینہ) (طبری : ٣٢٦٢٢)” اللہ تعالیٰ مومن کی خاطر اس کی اولاد کو اونچا لے جائے گا، خواہ وہ عمل میں اس سے کم ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے۔ “ اس سے پہلے سورة رعد (٢٣) میں بیان فرمایا کہ اہل جنت کے آباء اور بیوی بچوں میں سے جو بھی صالح ہوں گے وہ ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور سورة مومن (٨) میں فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اور ان کے آباء ، بیویوں اور اولادوں کو جنت میں داخل کر دے۔ زیر تفسیر آیت میں جنت کے داخلے کے ساتھ ایک اور بڑی خوش خبری دی ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجے کا ایمان لا کر اپنے صالح آباء کے نقش قدم پر چلتی رہی ہو تو خواہ وہ ایمان یا عمل کے لحاظ سے اس بلند درجے کے مستحق نہ بھی ہوئے جو ان کے آباء کو حاصل ہوگا، پھر بھی اللہ تعالیٰ انہیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دے گا۔ (٣) وما التھم من عملھم من شیء :” التیالت التا “ (ض ) ” الشیئ “ کسی چیز کا کم ہوا۔” الت الرجل حقہ “ ” کسی آدمی کے حق میں کمی کرنا، پورا نہ دینا۔ “ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ ہم آباء کو ان کے اعلیٰ درجے سے نیچے لا کر ان کی اولاد کے ساتھ ملا دیں، کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے عمل کا اجر کم کردیا جائے۔ اس لئے ہم ان کے عمل میں کسی طرح کمی نہیں کریں گے ، بلکہ محض اپنے فضل سے اولاد کا درجہ بڑھا کر آباء کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیں گے۔ (٤) جس طرح آباء کے عمل کی برکت سے اولاد کے درجات میں اضافہ ہوگا اسی طرح اولاد کی دعا کی بدولت اللہ تعالیٰ آباء پر بھی فضل فرمائے گا۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ان اللہ عزو جل لیرفع الدرجۃ للعبد الصالح فی الجنہ فیقول یا رب ! انی لی ھذہ ؟ فیقول باستغفار ولدلک لک) (مسند احمد : ٢/٥٠٩ ح : ١٠٦١٠، مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے صحیح قرار دیا ہے۔” اللہ عزو جل جنت میں صالح بندے کا درجہ بنلد فرمائے گا تو وہ کہے گا :” اے میرے رب ! مجھے یہ درجہ کیسے مل گیا ؟ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” تیری اولاد کے تیرے لئے استغفار کی وجہ سے۔ “ اس کی تائید اس مشہور حدیث سے ہوتی ہے جو ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(اذا مات الانسان انفطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعولہ) (مسلم، الوصیۃ باب ما بلحق الانسان من التواب بعد وفاتہ : ١٦٣١)” جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل اس سے کٹ جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے ، صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا رہے یا صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (٥) کل امری بما کسب رھین :” رھن برھن رہنا “ (ف) گروی رکھنا۔” رھین “ گروی رکھا ہوا۔ اگر کوئی شخص کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی وصولی کے لئے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن (گروی) رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کرے اس کی گروی رکھی ہوئی چیز چھوڑی نہیں جاتی اور اگر ادا کری ہی نہ سکے تو ضبط کرلی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا فضل بیان فرمایا کہ صالح اولاد کے اعمال ان کے آباء کے درجے کے لائق نہ بھی ہوئے تو انہیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اب اپنے عدل کا بیان فرمایا کہ کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، بلکہ ہر آدمی اپنے کمائے ہوئے عمل کے بدلے ہی گرفتار ہوگا، خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا۔ پھر یا تو آدمی وہ عمل پیش کر کے چھوٹ جائے گا جس کی ادائیگی اس کے ذمے تھی یا پیش نہ کرسکنے کی وجہ سے گرفتار رہے گا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (١٦٤) ، فاطر (١٨) اور سورة مدثر (٣٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn &Abbas (رض) reports from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who said: |"Verily, Allah elevates the ranks of the believers& children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents are comforted.|" (Hakim, al-Baihaqi in his Sunan, al-Bazzar, Abu Nu&aim in al-Hilyah, ibn-Jarir and ibn-Abi Haim as quoted by Mazhari [ Tr.]) It is recorded in Tabarani that Said Ibn Jubair (رح) reports |"Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) said, [ and I think he reports this from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : |"When a person enters Paradise, he will inquire about his parents, and wife and children [ as to where they are ]. He will be told that they have not attained your grade. [ Therefore, their place is elsewhere in Paradise ]. The person will say: &0 Lord! I had worked not only for myself, but for all of them.& Allah will command that they all be kept together with him in the same rank of Paradise.|" (Ibn Kathir) Hafiz Ibn-Kathir, having quoted all these Traditions, says that it is certainly Allah&s grace and favour that He grants the children this blessing because of the righteous deeds of their parents. He also grants His favour to parents on account of their children&s praying Allah for them. Imam Ahmad (رح) has recorded that Sayyidna Abu Hurairah (رض) has reported the following statement of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . |"Verily, Allah shall elevate the grade of a righteous servant in Paradise, who will ask: &0 Lord! How did I earn this?& Allah will reply: &Through your son&s invoking Me to forgive you.|" (ibn-Kathir says that this Tradition has an authentic chain of transmitters, but was not recorded in Sahihain this way. However there is a corroborating narration (shahid) for it in Muslim on the authority of Abu Hurairah (رض) . [ Tr.]) وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ (...and will not curtail (the reward of) any of their deeds at all...52:21) The past perfect verb alatna is the first person plural of alata which literally means to decrease, to reduce or to diminish (Qurtubi). The verse means that for upgrading the children of the believers who died in the state of true faith, no part of the reward of their parents will be diminished for them to make up for the children&s deeds. In fact, this equalization will take place as a result of Allah&s grace. Allah&s Fairness to Sinners كُلُّ امْرِ‌ئٍ بِمَا كَسَبَ رَ‌هِينٌ (Every person will be pledged for what he earned.) After Allah mentioned His favour of elevating the children to the ranks of their parents, even though the deeds of the former did not qualify them, He affirmed His fairness in that, He does not punish anyone for the sins of others. Therefore, every person will be responsible for his actions. No sins committed by others shall ever be added to one&s load, even if committed by his parents or children. (Ibn Kathir)

بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان : وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ( یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی الحلیتہ و ابن المنذر و ابن جریر وابن ابی حاتم، از مظہری ) اور طبرانی نے حضرت سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا اور میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو اپنے ماں باپ اور بیوی اور اولاد کے متعلق پوچھے گا (وہ کہاں ہی) اس سے کہا جائے گا کہ وہ تمہارے درجہ کو نہیں پہنچے ( اس لئے ان کا جنت میں الگ مقام ہے) یہ شخص عرض کرے گا اے میرے پروردگار ! میں نے جو کچھ عمل کیا وہ اپنے لئے اور ان سب کے لئے کیا تھا تو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو بھی اسی درجہ جنت میں ان کے ساتھ رکھا جائے (ابن کثیر) حافظ ابن کثیر نے روایات مذکورہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ آخرت میں ان روایات سے تو یہ ثابت ہوا کہ آباء صالحین کی برکت سے ان کی اولاد کو فائدہ پہنچے گا اور عمل میں ان کا درجہ کم ہونے کے باوجود اپنے آباء صالحین کے درجے میں پہنچا دیئے جائیں گے، اس کا دوسرا رخ کہ اولاد صالحین کی وجہ سے والدین کو نفع پہنچے یہ بھی حدیث سے ثابت ہے، مسند احمد حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کا درجہ جنت میں اس کے عمل کی مناسبت سے بہت اونچا کردیں گے، تو یہ دریافت کرے گا کہ میرے پروردگار مجھے یہ مقام اور درجہ کہاں سے مل گیا (میرا عمل تو اس قابل نہ تھا) تو جواب یہ دیا جائے گا کہ تمہاری اولاد نے تمہارے لئے استغفار و دعا کی اس کا یہ اثر ہے (رواہ الامام احمد وقال ابن کثیر اسنادہ صحیح و لم یخرجوہ ولکن لہ شاہد فی صحیح مسلم عن ابی ہریرہ) وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ، الت اور ایلات کے لفظی معنی کم کرنے کے ہیں (قرطبی) معنی آیت کے یہ ہیں کہ صالحین کی اولاد کو ان کے درجہ عمل سے بڑھا کر صالحین کے ساتھ ملحق کرنے کے لئے ایسا نہیں کیا گیا کہ صالحین کے عمل میں سے کچھ کم کر کے ان کی اولاد کا عمل پورا کیا جاتا بلکہ اپنے فضل سے ان کے برابر کردیا گیا۔ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ، یعنی ہر انسان اپنے عمل میں محبوس ہوگا ایسا نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے کا گناہ اس کے سر ڈال دیا جائے یعنی جس طرح آیت سابقہ میں اولاد صالحین کو صالحین کی خاطر سے درجہ بڑھا دیا گیا یہ عمل حسنات میں تو ہوگا سیئات میں ایک کے گناہ کا کوئی اثر دوسرے پر نہ پڑے گا (ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّيَّــتُہُمْ بِـاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِہِمْ ذُرِّيَّتَہُمْ وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ۝ ٠ ۭ كُلُّ امْرِئٍؚ بِمَا كَسَبَ رَہِيْنٌ۝ ٢١ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی لحق لَحِقْتُهُ ولَحِقْتُ به : أدركته . قال تعالی: بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] ( ل ح ق ) لحقتہ ولحقت بہ کے معنی کیس کو پالینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ۔ ( اور شہید ہو کر ) ان میں شامل نہ ہو سکے ۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] اور ان میں سے دوسرے لوگوں کی طرف بھی ( ان کو بھیجا ہے جو ابھی ان مسلمان سے نہیں ملے ۔ الت ۔ ایلاۃ والاتۃ ( باب ضرب) مصدر۔ حقہ حق کو کم کرکے دینا۔ ہم ان کا حق ان کو کم کرکے نہیں دیں گے۔ ہم ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ اگر ما موصولہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا : بیشک جو پرہیزگار ہیں باغوں میں چین کرتے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کو ان کے رب نے عطا کیں اور ان کا رب ان کو عذاب دوزخ سے بچادے گا عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ رَهِينٌ الرَّهْنُ : ما يوضع وثیقة للدّين، والرِّهَانُ مثله، لکن يختصّ بما يوضع في الخطاروأصلهما مصدر، يقال : رَهَنْتُ الرَّهْنَ ورَاهَنْتُهُ رِهَاناً ، فهو رَهِينٌ ومَرْهُونٌ. ويقال في جمع الرَّهْنِ : رِهَانٌ ورُهُنٌ ورُهُونٌ ، وقرئ : فَرُهُنٌ مقبوضة وفَرِهانٌ وقیل في قوله : كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ، إنه فعیل بمعنی فاعل، أي : ثابتة مقیمة . وقیل : بمعنی مفعول، أي : كلّ نفس مقامة في جزاء ما قدّم من عمله . ولمّا کان الرّهن يتصوّر منه حبسه استعیر ذلک للمحتبس أيّ شيء کان، قال : بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ، ورَهَنْتُ فلانا، ورَهَنْتُ عنده، وارْتَهَنْتُ : أخذت الرّهن، وأَرْهَنْتُ في السِّلْعة، قيل : غالیت بها، وحقیقة ذلك : أن يدفع سلعة تقدمة في ثمنه، فتجعلها رهينة لإتمام ثمنها . ( ر ھ ن ) الرھن ( گروی رکھی ہوئی چیز ) اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جو قرض میں بطور ضمانت رکھ لی جائے اور یہی معنی رھان کے ہیں لیکن رھان خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی مقابلہ میں شرط کے طور پر رکھ لی جائے اصل میں یہ دونوں لفظ مصدر ہیں جیسے رھنت الرھن وراھنتہ رھانا اور رھین اور مرھون : صیغہ صفت ہیں اور رھن کی جمع رھان رھن اور رھون آتی ہے اور آیت : ۔ فرھن مقبوضۃ : تو کچھ رہن قبضہ میں رکھ لو ۔ میں ایک قراءت فَرُهُنٌ مقبوضة بھی ہے اور آیت كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رھینۃ فعیل بمعنی فاعل سے ہے اور اس کے معنی ثابت اور قائم رہنے والی کے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فعیل بمعنی مفعول سے ہے اور اس کے معنی ہیں کہ ہر شخص اپنے گزشتہ اعمال کی پاداش میں رکا رہے گا ۔ پھر رھن میں چونکہ حبس ( روکنے ) کے معنی پائے جاتے ہیں اس لئے کبھی مجازا رھن یعنی مطلق کسی چیز کو روکنے کے آجاتا ہے ۔ جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے ۔ رھنت فلانا رھنت عنده کے معنی کسی کے پاس گروی رکھنے کے ہیں اور ارتھنت ( افتعال ) کے معنی گروی لینے کے ۔ اور ارھنت ( افعال ) فی السلعۃ کے معنی بعض نے سامان تجارت کو گراں فروخت کرنا کئے ہیں اصل میں اس کے معنی بیعانہ کے طور پر کچھ سامان دے دینے کے ہیں ۔ جو قیمت ادا کرنے تک بطور ضمانت بائع کے پاس رہتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ } ” اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو “ قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورة المومن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آچکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مومنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : { رَبَّـنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” اے ہمارے پروردگار ! انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے “۔ اب زیرمطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اس کریمانہ فیصلے کا خود اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم اہل جنت کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی نچلے درجے کی جنت کے مستحق افراد کو بھی ان کے والدین کے برابر لے آئیں گے جو اعلیٰ درجات کی جنتوں میں متمکن ہوں گے۔ { وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط } ” اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔ “ یعنی اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنت میں ہے اور اس کے اہل و عیال نسبتاً نچلے درجے میں ہیں تو یہ نہیں ہوگا کہ اس شخص کو اس کے اہل و عیال کے پاس نچلے درجے میں بھیج دیا جائے بلکہ اس کے اہل و عیال کے درجات بلند کر کے اس کے برابر کردیا جائے گا۔ گویا اہل جنت کے اکرام کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہوگا کہ ان کے رشتے داروں میں سے جو کوئی کم سے کم درجے کی جنت کا بھی مستحق ہوجائے گا اسے ترقی دے کر ان کے اعلیٰ جنتوں والے رشتے داروں سے ملا دیا جائے گا تاکہ انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ { کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ ۔ } ” ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 This theme has already been mentioned in Surah Ar-Ra`d: 23 and AIMu'min: 8 above, but here a greater good news has been given. In the verse of Surah Ar-Ra'd only this much was said: "They will enter into them (Gardens) along with the righteous from among their forefathers, wives and descendants," and in Surah AI-Mu'min: "The angels ask forgiveness for the believers; they say Our Lord...(admit therein also) of their parents and wives and children who are righteous." Here, what has been said in addition is: If the children had been following in the footsteps of their forefathers in faith, they will be joined with them in Paradise even though they might not deserve, on the basis of their deeds, the same high rank which the elders would attain on the basis of their superior faith and deeds, and this joining will not be of the nature of occasional visits and meetings but they will be lodged permanently with them in Paradise as is borne out by the words: alhaqna bi-him. For the sake of further satisfaction it has been stated: "In order to be joined with their offspring the parents will not be lowered and reduced in rank, but in order to be joined with their elders the rank of the children will be enhanced and exalted". Here, it should be borne in mind that this news has been given in respect of the children who on reaching maturity voluntarily decided to affirm faith and of their own free will followed in the footsteps of their righteous forefathers. As for those of the children of a believer, who might have died even before reaching maturity, there cannot be any question of belief or disbelief, obedience or disobedience, for they will be admitted to Paradise automatically and will be lodged along with their parents to be a comfort of the eyes for them. 16 Here, the metaphor of rahn (pledge) is very meaningful. If a person takes a loan from somebody, and the creditor keeps some article belonging to the debtor as a pledge with himself as a guarantee for the payment of his right, the debtor cannot redeem his pledge unless he pays off the debts; and if he does not redeem his pledge within the fixed time limit, the pledged article stands forfeited. The nature of the affair between man and God has been compared here to this very situation. The provisions, powers, capabilities and authority that God has granted man in the world are a debt that the Master has given to His servant, and as a guarantee for this debt the self of man is a pledge with AIIah. If man by employing the provisions and the powers and authority in the right way earns the good by which the debt can be paid off, he will redeem the pledged thing, i.e. his own self, otherwise it will be forfeited. This thing has been said immediately after the preceding verse because even though the righteous believers may themselves be the people of a very high rank, their children cannot redeem their pledge unless they redeem their self by their own labor and effort. The earning of the forefathers cannot redeem the children. However, if the children are able to redeem themselves by virtue of their faith in some degree by following their righteous forefathers in their footsteps, it would then be Allah's grace and bounty that in Paradise He may exalt them from lower ranks to be joined with their parents in the higher ranks. The good done by the forefathers can benefit the children only so far, but if by their own deeds they deserve Hell, it is not possible that they may be admitted to Paradise for the sake of the forefathers. Another thing that can be deduced from this verse is that the less righteous children's being joined with their more righteous forefathers is not in reality the result of the lifework of the children but of their forefathers'. They by virtue of their deeds will deserve the grace that their children be joined with them in order to be a comfort of the eyes for them. That is why Allah will not lower their ranks to join them with their children but will exalt the children's ranks to be joined with them, so that the perfection of Allah's blessings on them is not marred by the distress that they may suffer on account of the remoteness of their children far away.

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :15 یہ مضمون اس سے پہلے سورہ رعد آیت 23 ، اور سورہ مومن آیت 8 میں بھی گزر چکا ہے ، مگر یہاں ان دونوں مقامات سے بھی زیادہ ایک بڑی خوش خبری سنائی گئی ہے ۔ سورہ رعد والی آیت میں صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ اہل جنت کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں میں سے جو جو افراد بھی صالح ہوں گے وہ سب ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے ۔ اور سورہ مومن میں ارشاد ہوا تھا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد اور ازواج اور آباء میں سے جو صالح ہوں انہیں بھی جنت میں ان سے ملا دے ۔ یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو ، تو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کا ان کے بہتر ایمان و عمل کی بنا پر حاصل ہو گا ، پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے گی ۔ اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہو گا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی سے جا کر ملاقات کر لیا کرے ، بلکہ اس کے لیے اَلْحَقْنَا بِھِمْ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے معنی یہ ہیں کہ وہ جنت میں ان کے ساتھ ہی رکھے جائیں گے ۔ اس پر مزید یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ اولاد سے ملانے کے لیے آباء کا درجہ گھٹا کر انہیں نیچے نہیں اتارا جائے گا ، بلکہ آباء سے ملانے کے لیے اولاد کا درجہ بڑھا کر انہیں اوپر پہنچا دیا جائے گا ۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ارشاد اس بالغ اولاد کے بارے میں ہے جس نے سنِ رُشد کو پہنچ کر اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان لانے کا فیصلہ کیا ہو اور جو اپنی مرضی سے اپنے صالح بزرگوں کے نقش قدم پر چلی ہو ۔ رہی ایک مومن کی وہ اولاد جو سن رشد کو پہنچنے سے پہلے ہی مر گئی ہو تو اس کے معاملہ میں کفر و ایمان اور طاعت و معصیت کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسے تو ویسے ہی جنت میں جانا ہے اور اس کے آباء کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان ہی کے ساتھ رکھا جانا ہے ۔ سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :16 یہاں رہن کا استعارہ بہت معنی خیز ہے ۔ ایک شخص اگر کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی ادائیگی کے لیے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کر دے اس وقت تک فکِّ رہن نہیں ہو سکتا ، اور اگر مدت مقررہ گزر جانے پر بھی وہ فکِّ رہن نہ کرائے تو شئے مرہونہ ضبط ہو جاتی ہے ۔ انسان اور خدا کے درمیان معاملہ کی نوعیت کو یہاں اسی صورت معاملہ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ خدا نے انسان کو جو سرو سامان ، جو طاقتیں اور صلاحیتیں اور جو اختیارات دنیا میں عطا کیے ہیں وہ گویا ایک قرض ہے جو مالک نے اپنے بندے کو دیا ہے ، اور اس قرض کی ضمانت کے طور پر بندے کا نفس خدا کے پاس رہن ہے ۔ بندہ اس سرو سامان اور ان قوتوں اور اختیارات کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے اگر وہ نیکیاں کمائے جن سے یہ قرض ادا ہو سکتا ہو تو وہ شئے مرہونہ ، یعنی اپنے نفس کو چھڑا لے گا ، ورنہ اسے ضبط کر لیا جائے گا ۔ پچھلی آیت کے معاً بعد یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مومنین صالحین خواہ بجائے خود کتنے ہی بڑے مرتبے کے لوگ ہوں ، ان کی اولاد کا فکِّ رہن اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ وہ خود اپنے کسب سے اپنے نفس کو چھڑائے ۔ باپ دادا کی کمائی اولاد کو نہیں چھڑا سکتی. البتہ اولاد اگر کسی درجے کے بھی ایمان اور اتباع صالحین سے اپنے آپ کو چھڑا لے جائے تو پھر یہ اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے کہ جنت میں وہ اسکو نیچے کے مرتبوں سے اٹھا کر اونچے مراتب میں باپ دادا کے ساتھ لے جا کر ملا دے ۔ باپ دادا کی نیکیوں کا یہ فائدہ تو اولاد کو مل سکتا ہے ، لیکن اگر وہ اپنے کسب سے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ باپ دادا کی خاطر اسے جنت میں پہنچا دیا جائے ۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اس آیت سے نکلتی ہے کہ کم درجے کی نیک اولاد کا بڑے درجے کے نیک آباء سے لے جا کر ملا دیا جانا دراصل اس اولاد کے کسب کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان آباء کے کسب کا نتیجہ ہے ۔ وہ اپنے عمل سے اس فضل کے مستحق ہوں گے کہ ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان کی اولاد کو ان سے لا ملایا جائے ۔ اسی وجہ سے اللہ ان کے درجے گھٹا کر انہیں اولاد کے پاس نہیں لے جائے گا بلکہ اولاد کے درجے بڑھا کر ان کے پاس لے جائے گا ، تاکہ ان پر خدا کی نعمتوں کے اتمام میں یہ کسر باقی نہ رہ جائے کہ اپنی اولاد سے دوری ان کے لیے باعث اذیت ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی نیک لوگوں کی اولاد اگر مؤمن ہو تو اگرچہ وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے جنت میں اُس اُونچے درجے کی مستحق نہ ہو جو اُس کے والد کو ملا ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ والد کو خوش کرنے کے لئے اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے، اور والد کے درجے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ 4: ’’رہن‘‘ اُس سامان کو کہتے ہیں جو کسی اُدھار دینے والے نے اپنے اُدھار کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر مقروض سے لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہو۔ اﷲ تعالیٰ نے ہر اِنسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ اِنسان کے پاس اُدھار ہیں۔ یہ اُدھار اُسی صورت میں اُترسکتا ہے جب اِنسان اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صلاحیتوں کو استعمال کرے جس کا مظاہرہ دُنیا میں اِیمان لانے اور نیک عمل کرنے سے ہوتا ہے۔ اس اُدھار کے لئے ہر اِنسان کی جان اس طرح رہن رکھی ہوئی ہے کہ اگر وہ ایمان اور نیک عمل کے ذریعے اپنا اُدھار اُتاردے گا تو آخرت میں اُس کی جان کو آزادی حاصل ہوگی، اور وہ جنت میں اطمینان سے خوش حالی کے ساتھ رہے گا، اور اگر اُس نے یہ قرض نہ اُتارا تو پھر اُس کو دوزخ میں قید رہنا ہوگا۔ اس فقرے کو یہاں لانے کا مطلب یہ ہے کہ جن ایمان والوں کے متعلق اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ُانہیں ثواب ملے گا، اور اُن کی مؤمن اولاد بھی اُن کے ساتھ ہوگی، اُنہوں نے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرکے اپنااُدھار اُتاردیا، اور اپنی جان کو آزاد کرالیا ہے، لیکن اگر کسی کی اولاد مؤمن ہی نہ ہو تو اُسے اپنے ماں باپ کا اِیمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اس نے وہ مطالبہ پورا نہیں کیا جس کے لئے اُس کی جان رہن رکھی ہوئی تھی۔ اس لئے اُسے دوزخ میں جاکر قید رہنا ہوگا۔ نیز اس فقرے کا یہاں ایک اور مطلب بھی ہوسکتا ہے، اور وہ یہ کہ باپ کی نیکی کی وجہ سے اُس کی مؤمن اولاد کا درجہ تو بڑھادیا جائے گا، لیکن اولاد کی بدعملی کی کوئی سزا باپ کو نہیں ملے گی، کیونکہ ہر شخص کی جان خود اپنی کمائی کے لئے رہن ہے، دوسرے کی کمائی کے لئے نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢١۔ ٢٣۔ عقبیٰ میں ماں باپ سے اولاد کو اور اولاد سے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فائدہ پہنچائے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور طبرانی ١ ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ قیامت کے دن بعض جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں کے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں وہ داخل ہوتے یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضیفد ہے۔ لیکن یہ روایت مسند ٢ ؎ بزار میں بھی ہے اس میں یہ راوی نہیں ہے۔ اس بزار کی روایت اور ابن ابی حاتم کی روایت سے طبرانی کی سند کا ضعف بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ٣ ؎ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بعض جنتی لوگوں کا درجہ ایک ایک ہی بڑھ جائے گا وہ لوگ کہیں گے یا اللہ ہمارے اعمال تو اس قابل نہ تھے یہ ہمارا درجہ کیونکر بڑھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری اولاد نے تمہارے حق میں دعا کی تھی اس لئے تمہارا درجہ بڑھا ہے۔ جس شخص کے تین یا دو نابالغ بچے مرجائیں اس کا جنتی ہونا اوپر حضرت حضرت ابوہریرہ کی صحیحین اور صحیح ٤ ؎ مسلم کی حدیث میں گزر چکا ہے اور مسند امام ٥ ؎ احمد اور ابو داؤود کی حضرت معاذجہنی کی حدیث بھی اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن کی اولاد قرآن شریف پڑھ کر اس کی موافق عمل کرے گی ان کے ماں باپ کے سروں پر قیامت کے دن ایسا تاج رکھا جائے گا جس کی روشنی آفتاب سے بڑھ کر ہوگی اب آگے ماں باپ کی یہ تسلی بھی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جنتی ماں باپ کی اولاد کو یہ درجہ محض اپنی رحمت سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں میں سے کوئی عمل نہ گھٹایا جائے گا۔ معتبر سند سے تفسیر عبد الرازق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا جو قول ہے اس کے موافق آیت کے یہی معنی ہیں جو بیان کئے گئے ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ ہے اگر نیک عمل ہے تو نجات کا سبب ہے ورنہ ہلاک کا۔ مسند ٧ ؎ امام احمد اور ابو دائود میں معتبر سند سے براء بن عازب کی ایک بڑی حدیث ہے۔ اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کی قبر میں ایک اچھی صورت کا آدمی آتا ہے اور کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ یہ شخص اپنی عمل کی حالت سے خوش ہو کر قیامت کے جلدی قائم ہونے کے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہے اور بد لوگوں کا حال قبر میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ سورة مدثر میں آئے گا کہ جن کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اپنے نیک عمل کے سبب رہائی پائیں گے۔ اور سیدھے ہاتھ کے اعمال نامے والے حساب و کتاب اور وزن اعمال تک ایک حالت منتظرہ میں رہ کر پھر جنت میں چلے جائیں گے غرض یہ ہے کہ ایک آیت مختصر ہے اور دوسری آیت مفصل۔ دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ بیہقی ١ ؎ نے نے معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت بیان کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے میوے جنت کے کھانے جنت کی شراب غرض جنت کی سب چیزیں دنیا کی سب چیزوں سے بالکل مزہ میں الگ ہیں۔ دنیا کی چیزوں سے فقط ان کے نام ملتے ہوئے ہیں اسی لئے جنت کے میوے اور کھانے وغیرہ کو دنیا کے میوے اور کھانے سے تشبیہ دے کر کوئی تفسیر نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب پینے کے بعد جس طرح آدمی کی عقل ٹھکانے نہیں رہتی اور بےہودہ باتیں اس کے منہ سے نکلنے لگتی ہیں جنت کی شراب میں یہ بات نہیں ہے جام شراب کا دور پر دور چلے گا اور کبھی کوئی بےہودہ بات کسی جنتی کے منہ سے نہ نکلے گی۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤٢ ج ٤۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤٢ ج ٤۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤٢ ج ٤۔ ) (٤ ؎ صحیح مسلم باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ ص ٣٣٠ ج ٢۔ ) (٥ ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب فضائل القرآن۔ فصل ثانی ص ١٨٦۔ ) (٦ ؎ تفسیر ابن کثر ص ٣٤١ ج ٤۔ ) (٧ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرۃ الموت فصل ثالث ص ١٤٢۔ ) (١ ؎ الترغیب و الترہیب۔ فضل فی ان اعلیٰ مایخطر علی البال اویجوزہ العقل الخ ص ١٠٣٩ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:21) والذین امنوا۔ الموصول ، مبتدا۔ الحقنا بھم ذریتھم اس کی خبر۔ واتبعتھم ذریتھم جملہ معترضہ، الحقنابھم کی تعلیل کے لئے۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف الذین امنوا پر ہے۔ بایمان متعلق اتباع۔ ما التنھم۔ ماضی منفی جمع متکلم ۔ الہ۔ الت۔ ایلاۃ والاتۃ (باب ضرب) مصدر۔ حقہ حق کو کم کرکے دینا۔ ہم ان کا حق ان کو کم کرکے نہیں دیں گے۔ ہم ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ اگر ما موصولہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا : بیشک جو پرہیزگار ہیں باغوں میں چین کرتے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کو ان کے رب نے عطا کیں اور ان کا رب ان کو عذاب دوزخ سے بچادے گا۔ (آیات 118) تفسیر حقانی۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ جنت میں بھی داخل فرمائے گا اور انہیں عذاب جہنم سے بچا لے گا۔ اس کا علیحدہ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عذاب درزخ سے بچنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر موقوف ہے ورنہ انسان کے اعمال تو اس قابل ہی نہیں کہ دوزخ سے بچنے کی ضمانت بن سکیں : ہم جو نیک اعمال کرتے ہیں ان میں بھی ایسی ایسی خامیاں اور کمزورہاں پائی جاتی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے قبول نہ فرمائے تو ان کی حیثیت ایک کھوٹے سکے سے زیادہ نہ ہوگی۔ یہ تو صرف اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہماری ناقص عبادتوں کو شرف قبولیت سے نواز دے اور ہمیں جہنم سے بچالے۔ (ضیاء القرآن) کلوا واشربوا ھنیا۔ ای قیل لہم : کلوا واشربوا ۔۔ کلوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر اصل میں اء کلوا تھا ۔ تم کھاؤ۔ اکل کے حقیقی معنی کھانے کے ہیں ۔ مجازا مندرجہ ذیل معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) آگ کا لکڑی کو بالکل جلا دینا۔ اکلت النار الحطب۔ آگ نے ایندھن کو کھالیا۔ (2) کسی کی غیبت کرنا۔ ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا (49:12) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھوئے۔ یعنی غیبت کرے۔ (3) ناجائز طور پر کسی کا مال لے لینا ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل (4:29) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر نہ لو واشربوا۔ واؤ عاطفہ۔ اشربوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر شرب (باب سمع) مصدر تم پئو۔ ھنیئا۔ ھناء مصدر (باب فتح، نصر، ضرب) سے صفت مسبہ کا صیغہ ہے پاکیزہ، خوش مزہ۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ کلوا واشربوا اکلا شربا ھنیئا۔ تم مزے لے لے کر خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پئو۔ اس صور میں بطور مفعول مطلق ہوگا۔ کیونکہ مصدر کی صفت میں آیا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب آیت ہذا میں ہر جگہ الذین امنوا کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت ایمان میں ان کے پیرو ہوئی تو ان کے ساتھ ان کی ذریت کو بھی ہم ملا دیں گے۔ ذریعۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں مگر یہ عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے لیکن واحد جمع دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ذریعۃ بعضہا من بعض (3:34) ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے۔ اس کے اشتقاق کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ اور اس کی ہمزہ متروک ہوگئی ہے۔ جیسے رویۃ اور بریۃ میں۔ قرآن مجید میں ہے ولقد ذرانا لجہنم (7:179) اور ہم نے پیدا کئے جہنم کے لئے۔ (2) اس کی اصل ذرء یۃ بروزن فعلیۃ ہے۔ (3) یہ ذر سے مشتق ہے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ ذر (باب نصر) مصدر سے بمعنی (اللہ کا اپنے بندوں کو زمین میں) پھیلا دینا ذریۃ کی جمع ذریت ہے قرآن مجید میں ہے ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین (26:74) اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی (راہ) ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے۔ اور ان کے (یعنی مؤمنین کے) اعمال میں سے کچھ (اجر) کم نہ کریں گے۔ کل امری بما کسب رھین : یہ جملہ ماقبل کی تعلیل ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں اسیر ہے۔ ای کل انسان مرھون ای محبوس اواسیر بکسبہ الباطل۔ ہر شخص اپنے اعمال باطل کے عوض مرہون ہے جب تک ان اعمال باطل سے ان کی سزا پاکر، یا اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات سے ان کی مغفرت پاکر اپنے آپ کو اس رہن سے فک نہیں کرا لیتے وہ اس میں محبوس رہے گا۔ (اور متذکرہ بالا) رعائیتی نعمت حاصل کرنے کا مستحق نہ ہوگا۔ بہرکیف اس میں ایمان کا ہونا شرط ہے : خداوند تعالیٰ کا اس اولاد کو اس رہن سے خلاص ہونے کے بعد رفعت درجات عطا کرکے ان کے آباء کے ساتھ ملا دینا محض اس کا تفضل ہے اور احسان ہے۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کسب صلہ۔ رھین۔ گروی۔ گرفتار۔ رھن سے جس کے معنی گروی ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ۔ مرھون ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی اولاد کے ساتھ آملنے سے یہ نہیں ہوگا کہ ان کے کسی عمل کا ثواب کم ہوجائے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر فضل و کرم ہوگا کہ ان کی اولاد گو درجات میں کم ہوگی لیکن ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لئے انہی کے درجہ میں رکھی جائے گی بشرطیکہ وہ انہی کے راستہ پر چلنے والی ہو حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : آدمی جب جنت میں داخل ہوگا تو اپنے والدین بیوی اور اولاد کے بارے میں دریافت کرے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ وہ تیرے درجہ اور عمل کو نہیں پہنچے وہ عرض کرے گا کہ اے اللہ ! میں نے تو اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کیا تھا اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ انہیں بلند درجہ دے کر ان کے ساتھ ملا دیا جائے۔ “ اس کے بعد حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی۔ (شوکانی) اسی طرح نیک اولاد کی وجہ سے ماں باپ کے درجات میں بھی بلندی ہوگی۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت میں نیک بندے کا درجہ بلند فرمائے گا وہ عرض کرے گا ” یہ بلند درجہ مجھے کیسے مل گیا ؟ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” تیرے لڑکے کے تیرے لئے استغفار کی وجہ سے۔ “ (شوکانی) 11 یعنی جس طرح گروی رکھی ہوئی چیز پیسہ دیئے بغیر نہیں چھوٹ سکتی اسی طرح ہر آدمی اپنے عمل کا ثواب یا عذاب پائے بغیر نہیں رہ سکتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنتی والدین کے ساتھ ان کی نیک اولاد کا ملاپ اور مقام۔ جو لوگ ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے، ان کی اولادنے بھی ایمان لانے اور نیک عمل کرنے میں اپنے والدین کی پیروی کی۔ جب دونوں جنت میں داخل کیے جائیں گے اور اپنے اپنے مقام پر قیام پذیر ہوں گے تو جنت کے نچلے درجے میں رہنے والی اولاد کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کے ماں باپ کے ساتھ ملادے گا اور ان کے ماں باپ کے درجات میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ گویا کہ ان کی اولاد کے درجات میں اضافہ کردیا جائے گا۔ فطری طور پر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ رہیں کسی کے درجات میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے عدل اور رحمت کے خلاف ہے اس لیے وہ ان کی اولاد کے درجات میں اضافہ فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ اکٹھا کردے گا۔ قرآن مجید نے یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ اگر والدین کے درجات کم ہوئے اور ان کی اولاد کا مقام بلند ہوا تو پھر ان کے والدین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ رب کریم کی رحمت سے یہی امید ہے کہ وہ والدین کے ساتھ بھی وہی سلوک فرمائے گا جو کم درجہ رکھنے والی اولاد کے ساتھ کرے گا۔ چند سطور کے بعد درج ہونے والی حدیث سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ دوسرا فرمان یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ اس کا مفہوم یہی سمجھ آتا ہے کہ خالق کا اپنی کائنات پر حق ہے جسے ادا کرنا مخلوق کی ذمہ داری ہے۔ اس قرض کا یوں ذکر کیا گیا ہے۔ ” ہر شخص اپنی کمائی کے بدلے رہن ہے۔ “ (المدثر : ٣٨) جو شخص اس قرض کو ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس قرض کو ادا نہیں کرے گا وہ گروی ہونے کی وجہ سے جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ ” معاذ جہنی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیا اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی اگر وہ تم میں ہو تو اس پر عمل کرنے والے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ “ ( رواہ ابو داؤد : باب فِی ثَوَابِ قِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ ، حکمہ ضعیفٌ) (عَنْ أَبِیْ بُرِیْدَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ فِی الْإِنْسَانِ ثَلٰثُمِاءَۃٍ وَسِتُّوْنَ مَفْصِلًا فَعَلَیْہِ أَنْ یَّتَصَدْقَ عَنْ کُلِّ مَفْصِلٍ مِنْہُ بِصَدَقَۃٍ قَالُوْا وَمَنْ یُّطِیْقُ ذٰلِکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ قَالَ اَلنُّخَاعَۃُ فِی الْمَسْجِدِ تَدْفِنُہَا وَالشَّیْءُ تُنَحِّیْہِ عَنِ الطَّرِیْقِ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَرَکَعَتَا الضُّحٰی تُجْزِءُکَ.) ( رواہ ابو داؤد : باب فی إماطۃ الأذی عن الطریق قال البانی صحیحٌ) ” حضرت ابو بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہوتے ہیں اس پر لازم ہے کہ وہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اتنی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد میں پڑھی ہوئی تھوک کو دفن کر دے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے، اگر اتنی طاقت نہیں رکھتا تو چاشت کی دو رکعتیں تجھے کافی ہوجائیں گی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلاَّ یُؤْتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَدُہُ مَغْلُولَۃٌ إِلَی عُنُقِہِ.) ( رواہ البیہقی : باب کَرَاہِیَۃِ الإِمَارَۃِ ، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی دس آدمیوں کا امیر ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہوگا۔ “ ” حضرت معاذ (رض) فرماتے ہیں میں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے گدھے پر سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان صرف پلان کی آخری لکڑی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے معاذ ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر کیا حق ہے اور بندوں کے اللہ تعالیٰ پر کیا حقوق ہیں ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد ہوا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے جب تک وہ شرک نہیں کرتے وہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ خوشی کی بات میں لوگوں تک نہ پہنچاؤں ؟ فرمایا کہ نہیں اس طرح وہ محنت کرنا چھوڑ دیں گے۔ “ (رواہ البخاری : باب اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ ) مسائل ١۔ جنت میں کم درجہ مقام رکھنے والی اولاد کو ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے ان کے درجات میں اضافہ کیا جائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ماں باپ کے درجات میں کمی کرنے کی بجائے ان کی اولاد کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ ٣۔ ہر شخص اپنے اعمال کے لحاظ سے گروی رکھا گیا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والذین ........ رھین (٢٥ : ١٢) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “ یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کی ذریت اس کے بعد ایک مزید انعام کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اہل ایمان جو جنت میں جائیں گے ان کی ایمان والی ذریت یعنی اہل و اولاد بھی جنت میں ان کے درجات میں پہنچا دی جائے گی اگرچہ وہ لوگ یعنی اہل واولاد اعمال کے اعتبار سے اپنے آباء سے کم ہوں، بڑوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے چھوٹوں کو بھی ان کا درجہ دے دیا جائے گا اور یہ جو کچھ دیا جائے گا محض انعام اور فضل ہوگا۔ بڑوں کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہ کی جائے گی، ان کا پورا پورا اجر اور انعام دیتے ہوئے ان کی ذریت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہوگی۔ روح المعانی میں بحوالہ مستدرک حاکم اور سنن بیہقی حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ مومن بندوں کی ذریت کو اسی کے درجہ میں بلند فرما دے گا اگرچہ اس سے عمل میں کم ہوں تاکہ اہل ایمان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اس کے بعد آیت بالا تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد بحوالہ طبرانی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوجائے گا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی اور اولاد کے بارے میں سوال کرے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جواب میں کہا جائے گا کہ وہ عمل کے اعتبار سے تیرے درجہ کو نہیں پہنچے اس پر وہ دعا کرے گا تو اللہ پاک کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں بھی اسی کا درجہ دے دیا جاے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” والذین امنوا۔ الایۃ “ ما التناھم ای ما نقصناھم (خازن، روح) ۔ یعنی ہم کم نہیں کریں گے۔ جو مؤمنین اپنے ایمان اور عمل کی وجہ سے جنت کے بہت اونچے درجات میں ہوں گے ہم ان کی اولاد جو ایمان وعمل میں ان کا اتباع کرتی رہی، لیکن ان کے رتبے کو نہ پہنچ سکی، ہم ان کو بھی جنت میں ان کے آباء و اجداد کے درجات میں جگہ دے دیں گے۔ اور اس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کے درجہ و رتبہ میں کسی قسم کی کمی نہیں کریں گے اور نہ ان کے کسی عمل کا ثواب ہی کم کریں گے لیکن ہر کافر و مشرک اپنے اعمال مشرکانہ کی وجہ سے جہنم میں گرا ہوگا خواہ اس کے ماں باپ کتنے ہی نیک اور صالح ہوں۔ مشرک اور کافر اولاد کو ماں باپ کی نیکی سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ کل امرئ کافر بما عمل من الشرک مرتھن فی النار (معالم ج 6 ص 251) ۔ قال الجمہور وابن عباس وابن جبیر وغیرھما ان المومنین الذین اتبعتہم ذریتہم فی الایمان یکونون فی مراتب ابائہم وان لم یکوانوا فی التقوی والاعمال مثلہم کر امۃ لابائہم فب ایمان متعلق بقولہ واتبعتہم (بحر ج 8 ص 48) ۔ ” بایمان “ کے ” اتبعتہم “ کے ساتھ متعلق ہونے کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ” ومن صلح من ابائہم وازواجہم وذریاتہم “ (مؤمن رکوع 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان کے پاس پہنچادیں گے اور ان سے ملادیں گے اور ان سابقہ اہل ایمان کے اعمال میں سے کوئی عمل کم نہیں کریں گے ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس اور رہن رکھا ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکوں کی اولادکو یہ فائدہ ہے کہ اگر ایمان رکھیں تو ان کی راہ پر چلیں تو ان کے درجے میں پہنچیں نیکوں کا عمل ان کو نہیں بانٹ دیتے پر ان کی خوشی پر ان پر مہر کی اور ان کی راہ نہ چلیں تو جیسے اور ۔ خلاصہ : یہ کہ نیک اور متقیوں کے لئے بشارت ہے کہ ان کی اولاد بھی اگر مومن ہوگی تو اس مومن اولاد کو اپنے خاندان سے ملادیا جائے گا جیسا کہ ہم سورة مومن میں عرض کرچکے ہیں۔ وہاں ومن صلح من ایاتھم وازواجھم وذریاتھم فرمایا۔ صلاحیت یہی ایمان اور عمل صالح کی ہے اگر اولاد باپ دادا کے نقش قدم پرچلنے والی ہے تو ایسی اولاد کو جنت میں ان کے آبائو اجداد کے ساتھ جمع کردیاجائے گا اور اتنی مہربانی مزید کی جائیے گی کہ اگر اولاد کے اعمال میں کچھ کوتاہی ہوگی تو بھی ان کے درجے بڑھا کر ان کے آباء تک پہنچا دیا جائے گا یہ نہیں کیا جائے گا کہ آباء کے عمل کم کرکے ان کے درجے نیچے کردیئے جائیں ۔ بہرحال نیک لوگوں کے خاندان اگر اپنے بزرگوں کی طرح مومن اور عمل صالح کے پابند ہوں گے اور ان کے عمل اپنے بزرگوں کے عمل سے کم ہوں گے تب بھی بڑوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو ان تک پہنچادے گا تاکہ ان کی آنکھیں اپنی اولاد کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان اللہ یرفع ذریۃ المومن فی درجۃ وان کانوا دونہ فی الحمل لتقربھم۔ عینہ : یعنی اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کے درجے بلند کردے گا اگرچہ وہ عمل میں کم بھی ہو تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ حضرت حق نے آخر میں منکر اور کافر کی طرف اشارہ فرمایا کہ ہر نفس اپنے شرک وکفر کی وجہ سے محبوس اور گرد رکھا ہوا ہے دوزخ میں جب تک رہن کی ادائیگی نہ ہو سے مر ہو نہ کو چھوڑا نہیں جاسکتا مومن اس سے مستثنا ہے جیسا کہ سورة مدثر میں ہے۔ الااصحاب الیمین خازن میں اسی طرح ہے۔ بعض مفسرین نے عام رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر نفس رہن ہے اور مطالبہ ہے اعمال صالح کا جس بندے نے نیک اعمال کئے اس کا نفس چھوڑ دیا جائے گا اور جس نے نیک عمل نہیں کئے اس کا نفس محبوس ہے یہ ایک تمثیل ہے جو راہن مرہون اور مرتہن کی شکل میں سمجھائی گئی ہے مگر صاحب خازن نے صرف کفار کے لئے شکل بیان کی ہے یہ خاص مومنین کا ذکر بیچ میں آگیا تھا اب پھر اہل جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔ بعض حضرات نے اولاد نسبی کے ساتھ اولاد سببی کو بھی شرک کیا ہے یعنی ایک شیخ کے مرید اور ایک عالم کے شاگرد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کچھ بعید نہیں اگر نیک مرید اور نیک شاگرد اپنے شیخ اور اپنے استاد سے قریب کردیئے جائیں ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآئ۔