Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 29

سورة الطور

فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾

So remind [O Muhammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman.

تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Absolving the Prophet of the False Accusations the Idolators made against Him Allah the Exalted commands His Messenger to convey His Message to His servants and remind them of His revelation that has been sent down to him. Next, Allah refutes the false accusations that the liars and sinners accused the Prophet of, فَذَكِّرْ فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلاَ مَجْنُونٍ Therefore, remind. By the grace of Allah, you are neither a Kahin nor a madman. Allah says, `by the grace of Allah, you, O Muhammad, are not a Kahin, as the ignorant Quraysh idolators claim.' A Kahin is the soothsayer who receives information from the Jinns that the Jinns are able to eavesdrop on news from heaven, وَلاَ مَجْنُونٍ (nor a madman) whom Shaytan has possessed with insanity. Allah the Exalted said, while chastising the pagans for uttering false statements about the Prophet, أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ

کاہن کی پہچان اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے ۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے ۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی منتظر ہوں دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے ؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا ۔ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں دشمنی میں آکر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خود آپ بنا لیا ہے ؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں یہ کفار قریش تو کیا ؟ اگر ان کیساتھ روئے زمین کے جنات وانسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ اور نصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جو کچھ کہتے رہتے ہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لئے کہ آپ اللہ کے فضل سے کاہن ہیں نہ دیوانہ (جیسا کہ یہ کہتے ہیں) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے جو کہ کاہن پر نہیں آتی آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیوں کر ممکن ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔ یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ کے یہ دشمن بغض وعناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون :” کاہن “ وہ شخص جو شیاطین سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے سن کر غیب کی خبریں یدتا ہے، جن میں ایک آدھ وہ سچی خبر بھی ہوتی ہے جو انہوں نے آسمان کے نیچے فرشتوں کی باہمی گفتگو سے چرائی ہوتی ہے، پھر اس کے ساتھ سو باتیں جھوٹی ملا کر اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں۔ (٢) سورت کے شروع سے قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کی تفصیل اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا :” فذکر “ (پس نصیحت کر) یعنی جب ہم نے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعے سے بتادیا تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ تمام لوگوں کو صنیحت کریں اور کفار و مشرکین کی بےہودہ باتوں اور تہمتوں کی پروا نہ کریں۔ وہ آپ کو کاہن کہیں یا مجنون، آپ اللہ کے فضل سے کسی طرح بھی نہ کاہن ہیں نہ مجنون۔ کہانت یا دیوانگی کی کوئی بھی بات آپ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ ” فما انت بنعمت ربک بکاھن “ میں ” ما “ نافیہ کے بعد ” بائ “ نفی کی تاکید کے لئے ہے اور ” بکاھن “ پر تنوین تنکیر کے لئے ہے ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ” تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔ “ (٢) اللہ تعالیٰ نے اور مقامات پر بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہانت اور جنون کی نفی فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة حاقہ (٤١، ٤٢) ، قلم (٢) اور سورة تکویر (٢٢) ۔ سورة شعراء میں یہ بات کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاہن نہیں اور یہ کہ کاہن کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ تفصیل سے گزر چکی ہے، دیکھیے سورة شعراء کی آیات (٢١٠ تا ٢٢٣) اور ان کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ ( ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں ( جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں) ہاں کیا یہ لوگ (علاوہ کاہن اور مجنون کہنے کے آپ کی نسبت) یوں (بھی) کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں (اور) ہم ان کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں (جیسا در منثور میں ہے کہ قریش دار الندوہ میں مجتمع ہوئے اور آپ کے بارے میں یہ مشورہ قرار پایا کہ جیسے اور شعراء مر کر ختم ہوگئے آپ بھی ان ہی میں کے ایک ہیں، اسی طرح آپ بھی ہلاک ہوجائیں گے تو اسلام کا قصہ ختم ہوجائے گا) آپ فرما دیجئے (بہتر) تم منتظر رہو سو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں (یعنی تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں، اس میں اشارۃً پیشین گوئی ہے کہ میرا نجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام خسارہ اور ناکامی ہے اور یہ مقصود نہیں کہ تم مرو گے میں نہ مروں گا، بلکہ ان لوگوں کا جو اس سے مقصود تھا کہ ان کا دین چلے گا نہیں، یہ مر جاویں گے تو دین مٹ جاوے گا، جواب میں اس کا رد مقصود ہے، چناچہ یوں ہی ہوا اور یہ لوگ جو ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں تو) کیا ان کی عقلیں (جس کے یہ بڑے مدعی ہیں) ان کو ان باتوں کی تعلیم کرتی ہیں یا یہ ہے کہ یہ شریر لوگ ہیں ( ان کا مدعی عقل و دانش ہونا ان کے اس قول سے ثابت ہے، لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ، احقاف۔ اور معالم کی نقل سے اس کی اور تائید ہوتی ہے کہ عظماء قریش لوگوں میں بڑے عقلمند مشہور تھے، پس اس آیت میں ان کی عقل کی حالت دکھلائی گئی ہے کہ کیوں صاحب بس یہی عقل ہے جو ایسی تعلیم دے رہی ہے اور اگر یہ عقل کی تعلیم نہیں ہے تو نری شرارت اور ضد ہے) ہاں کیا وہ یہ (بھی) کہتے ہیں کہ انہوں نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے (سو تحقیقی جواب تو اس کا یہ ہے کہ یہ بات نہیں ہے) بلکہ (یہ بات صرف اس وجہ سے کہتے ہیں کہ) یہ لوگ (بوجہ عناد کے اس کی) تصدیق نہیں کرتے (اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کی آدمی تصدیق نہیں کرتا ہزار وہ حق ہو مگر اس کی ہمیشہ نفی ہی کیا کرتا ہے اور دوسرا الزامی جواب یہ ہے کہ اچھا اگر یہ ان کا بنایا ہوا ہے) تو یہ لوگ (بھی عربی اور بڑے فصیح وبلیغ اور قادر الکلام ہیں) اس طرح کا کوئی کلام (بنا کر) لے آئیں اگر یہ ( اس دعوے میں) سچے ہیں (یہ سب مضامین رسالت کے متعلق ہیں آگے توحید کے متعلق گفتگو ہے کہ یہ لوگ جو توحید کے منکر ہیں تو) کیا یہ لوگ بدون کسی خالق کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں یا (یہ کہ نہ اپنے خالق ہیں اور نہ بلا خالق مخلوق ہوئے ہیں لیکن) انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ( اور اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت میں شریک ہیں، حاصل یہ کہ جو شخص صفت خالقیت صرف حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونے اور خود اپنے آپ کا بھی محتاج خالق ہونے کا اعتقاد رکھے تو عقلاً اس پر لازم ہے کہ توحید کا بھی قائل ہو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دے اور توحید کا انکار وہ شخص کرسکتا ہے جو صفت خالقیت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہ جانے یا اپنی مخلوقیت کا منکر ہو اور چونکہ یہ لوگ اپنے عدم غور و فکر کی وجہ سے یہ نہیں جانتے تھے کہ خالق جب ایک ہے تو معبود بھی ایک ہی ہونا لازم ہے، اس لئے آگے ان کے اس جہل کی طرف اشارہ ہے کہ واقع میں ایسا نہیں) بلکہ یہ لوگ (بوجہ جہل کے توحید کا) یقین نہیں لاتے (وہ جہل یہی ہے کہ اس میں غور نہیں کرتے کہ خالقیت اور معبودیت میں تلازم ہے، یہ گفتگو توحید کے متعلق ہوئی، آگے رسالت کے متعلق ان کے دوسرے مزعومات کا رد ہے، چناچہ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر نبوت ہی ملنی تھی تو فلاں فلاں رؤسا مکہ و طائف کو ملتی حق تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہیں کہ) کیا ان لوگوں کے پاس تمہارے رب (کی نعمتوں اور رحمتوں) کے ( جن میں نبوت بھی داخل ہے) خزانے ہیں (کہ جس کو چاہو نبوت دیدو، کقولہ تعالیٰ اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ) یا یہ لوگ ( اس محکمہ نبوت کے) حاکم ہیں ، ( کہ جسے چاہیں نبوت دلوا دیں، یعنی دینے دلانے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ مثلاً خزانہ اپنے قبضہ میں ہو، دوسری یہ کہ قبضہ میں نہ ہو مگر قابضان خزانہ اس کے محکوم ہوں کہ اس کے دستخط دیکھ کردیتے ہوں، یہاں دونوں کی نفی فرما دی، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو رسالت محمدیہ کے منکر ہیں اور مکہ و طائف کے رؤسا کو رسالت کا مستحق قرار دیتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل عقلی تو ہے نہیں بلکہ خود اس کے عکس پر دلائل عقلیہ قائم ہیں اور اسی لئے محض استفہام انکاری پر اکتفاء فرمایا، اب آگے دلیل نقلی کی نفی فرماتے ہیں یعنی) کیا ان لوگوں کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر (چڑھ کر آسمان کی) باتیں سن لیا کرتے ہیں (یعنی دلیل نقلی وحی آسمانی ہے اور اس کے علم کے دو طریقے ہیں یا تو وحی کسی شخص پر آسمان سے نازل ہو، یا صاحب وحی آسمان پر چڑھے اور دونوں کا منتفی ہونا ان لوگوں سے ظاہر ہے، آگے اس کے متعلق ایک احتمال عقلی کا ابطال فرماتے ہیں کہ اگر فرضًا یہ لوگ یہ دعویٰ کرنے لگیں کہ ہم آسمان پر چڑھ جاتے اور وہاں کی باتیں سنتے ہیں) تو ان میں جو (وہاں کی) باتیں سن آتا ہو وہ (اس دعویٰ پر) کوئی صاف دلیل پیش کرے (جس سے ثابت ہو کہ یہ شخص مشرف بہ وحی ہوا ہے، جیسا ہمارے نبی اپنی وحی پر دلائل خارقہ یقینیہ رکھتے ہیں، آگے پھر توحید کے بارے میں ایک خاص مضمون کے متعلق کلام ہے، یعنی منکرین توحید جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر شرک کرتے ہیں تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ) کیا خدا کے لئے بیٹیاں (تجویز کی جاویں) اور تمہارے لئے بیٹے (تجویز ہوں یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلیٰ درجہ کا سمجھتے ہو اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنیٰ درجہ کی سمجھتے ہو، جس کا بیان سورة صافات کے اخیر میں مفصل مدلل گزرا ہے، آگے پھر رسالت کے متعلق کلام ہے کہ ان کو جو باوجود آپ کی حقانیت ثابت ہوجانے کے آپ کا اتباع اس قدر ناگوار ہے تو) کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تبلیغ احکام کا) مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو گراں معلوم ہوتا ہے (وہذا کقولہ تعالیٰ ام تسئلہم خرجا الخ آگے قیامت اور جزاء کے متعلق کلام ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اول تو قیامت ہوگی نہیں اور اگر بالفرض ہوگی تو ہم وہاں بھی اچھے رہیں گے، کما فی قولہ (آیت) تعالیٰ وما اظن الساعة قائمتہ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی، تو ہم اس کے متعلق ان سے پوچھتے ہیں کہ) کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ یہ ( اس کو محفوظ رکھنے کے واسطے) لکھ لیا کرتے ہیں ( یہ احقر کے نزدیک کنایہ ہے یحفظون سے کیونکہ کتابت طریقہ ہے حفظ کا، پس حاصل یہ ہوا کہ جس امر پر اثباتاً یا نفیاً کوئی دلیل عقلی قائم نہ ہو وہ غیب محض ہے، اس کا دعویٰ اثباتاً یا نفیاً وہ کرے جس کو کسی واسطہ سے اس غیب پر مطلع کیا جاوے اور پھر مطلع ہونے کے بعد وہ اس کو محفوظ بھی رکھے، اس لئے کہ اگر معلوم ہونے کے بعد محفوظ نہ ہو تب بھی حکم اور دعویٰ بلا علم ہوگا، پس تم جو قیامت کی نفی اور اپنے لئے حسنیٰ کے قائل ہو تو کیا تم کو غیب پر کسی واسطہ سے اطلاع دی گئی ہے جیسا کہ ہمارے نبی کو اثبات قیامت اور تم سے اچھی حالت کی نفی کی خبر غیبی وحی دی گئی ہے اور وہ اس کو محفوظ رکھ کر اوروں کو پہنچا رہے ہیں، آگے رسالت کے متعلق ایک اور کلام ہے وہ یہ کہ وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ) سو یہ کافر خود ہی ( اس) برائی (کے وبال) میں گرفتار ہوں گے (چنانچہ اس قصد میں ناکام ہوئے اور بدر میں مقتول ہوئے، آگے پھر توحید کے متعلق کلام ہے کہ) کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے اور (آگے پھر رسالت کے متعلق ایک کلام ہے وہ یہ کہ یہ لوگ نفی رسالت کے لئے ایک بات یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ ہم تو آپ کو اس وقت رسول جانیں جب ہم پر ایک آسمان کا ٹکڑا گرا دو ، کما قال تعالیٰ (آیت) وقالوا لن نومن الی قولہ او تسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا، سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو دعویٰ پر خواہ وہ دعویٰ رسالت ہو یا اور کچھ ہو مطلق دلیل کا بشرطیکہ صحیح ہو قائم کردینا کافی ہے جو کہ دعویٰ رسالت ہی کے وقت سے بلا کسی قدح و جرح کے قائم اور کسی خاص دلیل کا قائم ہونا ضروری نہیں اور نہ اس سے دعویٰ نبوت میں قدح لازم آتا ہے، تبرعاً کوئی فرمائشی دلیل قائم کی جاوے تو یہ اس وقت ہے جب اس میں کوئی مصلحت ہو، مثلاً درخواست کنندہ طالب حق ہو، تو یہی سمجھا جاوے کہ خیر اسی ذریعہ سے اس کو ہدایت ہوجاوے گی اور کوئی معتدبہ حکمت ہو اور یہاں یہ مصلحت بھی نہیں، کیونکہ ان کی یہ فرمائش حق کے لئے نہیں بلکہ محض تعنت وعناد کی راہ سے ہے اور وہ ایسے ضدی ہیں کہ) اگر ( ان کا یہ فرمائشی معجزہ واقع بھی ہوجاوے اور) وہ آسمان کے ٹکڑے کو دیکھ ( بھی لیں) کہ گرتا ہوا آ رہا ہے تو ( اس کو بھی) یوں کہہ دیں کہ یہ تو تہ بتہ جما ہوا بادل ہے (کقولہ تعالیٰ (آیت) ولو انا فتحنا علیہم بابا من السمآء فظلوا فیہ یعرجون، پس جب مصلحت بھی نہیں ہے اور دوسری مصلتحوں کی نفی کا بھی ہم کو علم ہے بلکہ ان فرمائشی معجزات کا وقوع خلاف حکمت ہے پس جب ضرورت نہیں مصلحت نہیں بلکہ خلاف مصلحت ہے پھر کیوں واقع کیا جاوے اور نہ اس کے عدم وقوع سے نبوت کی نفی ہوتی ہے، آگے ان کے غلو فی الکفر پر جو اوپر کی آیتوں سے اور شدت عناد پر جو کہ آخر کی آیت سے معلوم ہوتا ہے بطور تفریع کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے، فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ ایسے طاغی اور باغی اور غالی ہیں) تو ( ان سے توقع ایمان کر کے رنج میں نہ پڑیئے بلکہ) ان کو (انہی کی حالت پر) رہنے دیجئے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ (واقع) ہو جس میں ان کے ہوش اڑ جاویں گے (مراد قیامت کا دن ہے، اور اس صعق کی تفصیل سورة زمر کی آخری آیت ونفخ الخ کی تفسیر میں گزری ہے اور معنیٰ حتیٰ کی تحقیق سورة زخرف کے آخر میں جہاں حتی یلاقو آیا ہے گزری ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی) جس دن ان کی تدبیریں ( جو دنیا میں اسلام کی مخالفت اور اپنی کامیابی کے بارے میں کا کرتے تھے) ان کے کچھ بھی کام نہ آویں گی اور نہ ( کہیں سے) ان کو مدد ملے گی ( نہ تو مخلوق کی طرف سے کہ اس کا امکان ہی نہیں اور نہ خالق کی طرف سے کہ اس کا وقوع نہیں، یعنی اس روز ان کو حقیقت معلوم ہوجاوے گی، باقی اس سے ادھر ایمان لانے والے نہیں) اور (آخرت میں تو یہ مصیبت ان پر آوے ہی گی لیکن) ان ظالموں کے لئے قبل اس (عذاب) کے بھی عذاب ہونے والا ہے (یعنی دنیا میں جیسے قحط اور غزوہ بدر میں قتل ہونا) لیکن ان میں اکثر کو معلوم نہیں (اکثر شاید اس لئے فرمایا ہو کہ بعضوں کے لئے ایمان مقدر تھا اور ان کا عدم علم بوجہ اس کے کہ علم سے مبدل ہونے والا تھا اس لئے وہ عدم علم نہیں قرار دیا گیا) اور ( جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ ہم ان کی سزا کے لئے ایک وقت معین کرچکے ہیں تو) آپ اپنے رب کی ( اس) تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے ( اور ان لوگوں کیلئے انتقام الٰہی کی جلدی نہ کیجئے جس کو آپ مسلمانوں کی خواہش اور ان کی امداد کی حیثیت سے چاہتے تھے اور نہ اس خیال سے انتقام میں جلدی کیجئے کہ یہ لوگ مدت مہلت میں آپ کو کوئی ضرر پہنچا سکیں گے سو اس کا بھی اندیشہ نہ کیجئے کیوں) کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں ( پھر کا ہے کا ڈر، چناچہ یونہی واقع ہوا) اور ( اگر ان کے کفر کا غم دل پر آوے تو اس کا علاج یہ ہے کہ توجہ الی اللہ رکھا کیجئے، مثلاً یہ کہ) اٹھتے وقت (یعنی مجلس سے یا سونے سے اٹھتے وقت، مثلا تہجد میں) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیا کیجئے اور رات (کے کسی حصہ) میں بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے (مثلاً عشاء کے وقت) اور ستاروں ( کے غروب ہونے) سے پیچھے بھی (مثلاً نماز صبح اور مطلق ذکر بھی اس میں آ گیا اور تخصیص ان اوقات کی بوجہ خاصہ اہتمام کے لئے ہے، حاصل یہ کہ اپنے دل کو ادھر مشغول رکھئے پھر فکر و غم کا غلبہ نہ ہوگا) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَذَكِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ۝ ٢٩ ۭ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ كهن الْكَاهِنُ : هو الذین يخبر بالأخبار الماضية الخفيّة بضرب من الظّنّ ، والعرّاف الذي يخبر بالأخبار المستقبلة علی نحو ذلك، ولکون هاتین الصّناعتین مبنيّتين علی الظّنّ الذي يخطئ ويصيب قال عليه الصلاة والسلام : «من أتى عرّافا أو كَاهِناً فصدّقه بما قال فقد کفر بما أنزل علی أبي القاسم». ويقال : كَهُنَ فلان كهَانَةً :إذا تعاطی ذلك، وكَهَنَ : إذا تخصّص بذلک، وتَكَهَّنَ : تكلّف ذلك . قال تعالی: وَلا بِقَوْلِ كاهِنٍ قَلِيلًا ما تَذَكَّرُونَ [ الحاقة/ 42] . ( ک ہ ن ) الکاھن اس شخص کو کہتے ہیں جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہواو ر عراف اسے جو آئندہ کے متعلق خبر دیتا ہو ان دونوں پیشوں کی بناچون کہ ظن پر ہے جس میں صواب وخطا کا احتمال پایا جاتا ہے ۔ اس لئے آنحضرت نے فرمایا (104) من اتی اعرا قا او کاھنا فصدتہؤ کہ جو شخص عراف یا کاہن کے پاس جاکر ان کے قول کی تصدیق کرے تو اس نے جو کچھ ابوالقاسم ض ( یعنی مجھ پر ) اتارا گیا ہے اس کے ساتھ کفر کیا کھن فلان کھناۃ کہانت کرنا۔ اور جب کوئی شخص اس پیشہ کے ساتھ مختص ہو تو اس کے متعلق کھن کہتے ہیں ۔ تکھن ۔ بتکلف کہانت کرنا قرآن میں ہے : وَلا بِقَوْلِ كاهِنٍ قَلِيلًا ما تَذَكَّرُونَ [ الحاقة/ 42] اور نہ کسی کاہن کے مذخرفات ہیں لیکن تم لوگ بہت ہی کم دھیان دیتے ہو ۔ جُنون : حائل بين النفس والعقل، وجُنَّ فلان قيل : أصابه الجن، وبني فعله کبناء الأدواء نحو : زکم ولقي «1» وحمّ ، وقیل : أصيب جنانه، وقیل : حيل بين نفسه وعقله، فجن عقله بذلک وقوله تعالی: مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] ، أي : ضامّة من يعلمه من الجن، وکذلک قوله تعالی: أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] جنون ( ایضا ) جنوں ۔ دیوانگی ۔ قرآن میں سے : ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] کہ ان کے رفیق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی طرح کا بھی ) جنون ۔۔ نہیں ہے ۔ اور دیوانگی کو جنون اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے دل اور عقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ جن فلان ۔ اسے جن لگ گیا ۔ امراض کے معانی میں دوسرے افعال کی طرح یہ بھی فعل مجہول ہی استعمال ہوتا ہے جیسے زکم ( اسے زکام ہوگیا ) لقی ( اے لقوہ ہوگیا ) حم ( اے بخار ہوگیا ) وغیرہ ۔ بعض نے کہا ہے جن فلان کے معنی ہیں ۔ اس کے قلب کو عارضہ ہوگیا اور بعض نے کہا کہ دیوانگی نے اس کی عقل کو چھپالیا اور آیت کریمہ :۔ مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] کے معنی ہیں کہ اسے وہ جن چمٹا ہوا ہے جو اسے تعلیم دیتا ہے اور یہی معنی آیت :۔ أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] کو بھلاک ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ۔ میں شاعر مجنون کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩۔ ٣٠) تو آپ لوگوں کو سمجھاتے رہیے کیوں کہ آپ نبوت اور اسلام کی دولت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے نہ تو کاہن ہیں کہ کل کی خبریں دیں اور نہ مجنوں ہیں۔ بلکہ کفار مکہ یعنی ابو جہل، ولید بن مغیرہ وغیرہ آپ کے بارے میں یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩{ فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ ۔ } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ “ یہ خطاب اگرچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے لیکن اصل میں سنانا ان لوگوں کو مقصود ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایسے نام رکھتے تھے۔ ان لوگوں کو نظر انداز کر کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی فضول باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں اور لوگوں کو مسلسل تذکیر اور یاد دہانی کرتے رہیں۔ اس سے ملتا جلتا مضمون قبل ازیں گزشتہ سورت (الذاریات ) میں بھی آچکا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا : { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ - وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ } ” پس (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ ان سے رخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تذکیر و تبلیغ کا عمل مسلسل جاری رکھیے۔ کیا خبر کسی دل میں ایمان کی کوئی کلی کھلنے والی ہو ‘ کیا خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی دشمن کا دل بھی موم ہونے والا ہو۔ حضرت عمر فاروق (رض) کے ایمان لانے کا واقعہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ تذکیر آہستہ آہستہ دلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے اور پھر کسی وقت اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جب دل میں ایمان کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ حضرت عمر (رض) اگرچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں ہر وقت پیش پیش رہتے تھے لیکن چونکہ سخن شناس تھے اس لیے کلام الٰہی سننے کے لیے متجسس ّبھی رہتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو صحن ِکعبہ میں قیام اللیل کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تو کبھی کبھی حضرت عمر (رض) چھپ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے تلاوت سنتے اور کلام الٰہی کی تاثیر کو اپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتے تھے۔ گویا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تذکیر اور قرآن کی تاثیر تدریجاً ان کے دل میں گھر کر رہی تھی۔ اسی تدریجی عمل کے باعث آپ (رض) کے خیالات و جذبات میں اندر ہی اندر ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد مشیت الٰہی سے وہ واقعہ رونما ہوا جس کے باعث اس خاموش تبدیلی کو اظہار کا موقع ملا اور آپ (رض) کو ایمان کی دولت نصیب ہوگئی۔ اس دن تو آپ (رض) گھر سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تھے۔ راستے میں اپنی بہن فاطمہ (رض) بنت خطاب اور اپنے بہنوئی حضرت سعید (رض) بن زید سے الجھ پڑے۔ آپ (رض) کے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے بہن نے جب ڈٹ کر کہا کہ عمر تم جو چاہے کرلو ‘ اب ہم اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں ! تو آپ (رض) اپنی بہن کے اس غیر معمولی عزم اور حوصلے کے سامنے ڈھیر ہوگئے ۔ پھر کیا تھا ‘ آپ (رض) کے دل کا ” بند “ یکدم کھل گیا اور آپ (رض) نے حق کو اعلانیہ قبول کرلیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 After depicting a scene of the Hereafter the address now turns to the obduracies of the disbelieves of Makkah with which they were resisting the message of the Ho]y Prophet (upon whom be peace): This verse though apparently addressed to the Holy Prophet is actually meant for the disbelievers through him. Whenever he spoke of Resurrection and the gathering together of mankind, and accountability, and meting out of rewards and punishments, and Heaven and Hell and recited the verses of the Qur'anin support thereof, with the claim that he received that information from Allah and that it was Allah's Word that had been revealed to him, their leaders and religious guides and depraved people neither listened to him seriously themselves nor wanted that the other people should pay " any attention to him. Therefore, they would sometimes taunt him saying that he was a sorcerer, or that he was a poet, or that he was a madman, or that he fabricated those strange things himself and presented them as Revelations from Allah only in order to impress the people. They thought that by passing such remarks against him they would be able to create suspicions among the people about him and would thus render his preaching ineffective and vain. About this it is being said: "O Prophet, the truth in fact is the same that has been presented from the beginning of the Surah to this point. If these people call you a sorcerer and a madman on account of these things, you should not take it to heart but should go on arousing the people from their heedlessness and warning them of the reality, for by the grace of God you are neither." The word kahin (sorcerer) in Arabic is used for an astrologer, fortune teller and a wise man. In the pre-Islamic days of ignorance it was a full-fledged profession. The sorcerers claimed, and the credulous people thought and believed, that they knew the destinies of the people, or they had a special link with the spirits, devils and jinn through whom they came to know of the unseen realities. If a thing was lost, they could tell where it lay; if a theft occurred somewhere, they could tell who the thief was; and they could foretell destinies. People came to there, and they would tell them unseen things in exchange for gifts and offerings. They would sometimes visit the towns and villages and would cry about their profession so that the people might approach them. They had a way and manner and appearance of their own by which they became easily recognizable. The language they used also differed from the common speech of the people. They would utter rhymed and rhythmical sentences with a peculiar accent and modulation and generally used vague and ambiguous sentences from which every person could draw his own meaning. The Quraish chiefs in order to deceive the common people accused the Holy Prophet (upon whom be peace) of sorcery only for the reason that he was giving the news of the realities that arc hidden and his claim was that an angel from God came to reveal that news to him, and the Word of God that he was presenting was also rhymed. But no one in Arabia could be deceived by this accusation because no one was unaware of the sorcerers' profession and their general way and appearance and their language and business. Everyone knew what they did, why the people visited them, what they told them, what sort of modulated sentences they uttered and what subject-matter they contained. Then, above all, it could not be that a sorcerer would rise with a creed that went against the prevalent beliefs of the nation and would exert himself preaching it continuously at his own risk. Therefore, this accusation of sorcery did not apply to the Holy Prophet (on whom be peace) at all and no one in Arabia who had any common sense could be deceived by it. Likewise, the disbelievers of Makkah also accused him of madness only for their own satisfaction, just as some shameless Western scholars of the present day in order to satisfy their malice and enmity against Islam, claim that, God forbid, the Holy Prophet (upon whom be peace) had epileptic fits and whatever he uttered during those fits was taken as Divine Revelation by the people. No sensible person in those days regarded such absurd accusations as worthy of any attention, nor can anyone today who reads the Qur'an and studies the wonderful feats of the Holy Prophet's leadership and guidance believe that these were the product of epileptic fits.

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :22 اوپر آخرت کی تصویر پیش کرنے کے بعد اب تقریر کا رخ کفار مکہ کی ان ہٹ دھرمیوں کی طرف پھر رہا ہے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ یہاں خطاب بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر دراصل آپ کے واسطے سے یہ باتیں کفار مکہ کو سنانی مقصود ہیں ۔ ان کے سامنے جب آپ قیامت ، اور حشر و نشر ، اور حساب و کتاب ، اور جزا و سزا اور جنت و جہنم کی باتیں کرتے تھے ، اور ان مضامین پر مشتمل قرآن مجید کی آیات اس دعوے کے ساتھ ان کو سناتے تھے کہ یہ خبریں اللہ کی طرف سے میرے پاس آئی ہیں اور یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر وحی کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے ، تو ان کے سردار اور مذہبی پیشوا اور اوباش لوگ آپ کی ان باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ نہ خود غور کرتے تھے ، نہ یہ چاہتے تھے کہ عوام ان کی طرف توجہ کریں ۔ اس لیے وہ آپ کے اوپر کبھی یہ فقرہ کستے تھے کہ آپ کاہن ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ مجنون ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ شاعر ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ خود اپنے دل سے یہ نرالی باتیں گھڑتے ہیں اور محض اپنا رنگ جمانے کے لیے انہیں خدا کی نازل کردہ وحی کہہ کر پیش کرتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس طرح کے فقرے کس کر وہ لوگوں کو آپ کی طرف سے بدگمان کر دیں گے اور آپ کی ساری باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ، واقعی حقیقت تو وہی کچھ ہے جو سورۃ کے آغاز سے یہاں تک بیان کی گئی ہے ۔ اب اگر یہ لوگ ان باتوں پر تمہیں کاہن اور مجنون کہتے ہیں تو پروا نہ کرو اور بندگان خدا کو غفلت سے چونکانے اور حقیقت سے خبردار کرنے کا کام کرتے چلے جاؤ ، کیونکہ خدا کے فضل سے نہ تم کاہن ہو نہ مجنون ۔ کاہن عربی زبان میں جوتشی ، غیب گو اور سیانے کے معنی میں بولا جاتا تھا ۔ زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا ۔ کاہنوں کا دعویٰ تھا ، اور ان کے بارے میں ضعیف الاعتقاد لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ ستارہ شناس ہیں ، یا ارواح اور شیاطین اور جنوں سے ان کا خاص تعلق ہے جس کی بدولت وہ غیب کی خبریں معلوم کر سکتے ہیں ۔ کوئی چیز کھوئی جائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں پڑی ہوئی ہے ۔ کسی کے ہاں چوری ہو جائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ چور کون ہے ۔ کوئی اپنی قسمت پوچھے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے ۔ انہی اغراض کے لیے لوگ ان کے پاس جاتے تھے ۔ اور وہ کچھ نذر نیاز لے کر انہیں غیب کی باتیں بتایا کرتے تھے ۔ وہ خود بھی بسا اوقات بستیوں میں آواز لگاتے پھرتے تھے تاکہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں ان کی ایک خاص وضع قطع ہوتی تھی جس سے وہ الگ پہچانے جاتے تھے ۔ ان کی زبان بھی عام بول چال سے مختلف ہوتی تھی وہ مقفّیٰ اور مسجّع فقرے خاص لہجے میں ذرا ترنم کے ساتھ بولتے تھے اور بالعموم ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن سے ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے ۔ قریش کے سرداروں نے عوام کو فریب دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کاہن ہونے کا الزام صرف اس بنا پر لگا دیا کہ آپ ان حقائق کی خبر دے رہے تھے جو لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں ، اور آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا کی طرف سے ایک فرشتہ آ کر آپ پر وحی نازل کرتا ہے ، اور خدا کا جو کلام آپ پیش کر رہے تھے وہ بھی مقفّیٰ تھا ۔ لیکن عرب میں کوئی شخص بھی ان کے اس الزام سے دھوکا نہ کھا سکتا تھا ۔ اس لیے کہ کاہنوں کے پیشے اور ان کی وضع قطع اور ان کی زبان اور ان کے کاروبار سے کوئی بھی ناواقف نہ تھا ۔ سب جانتے تھے کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ، اور کن مضامین پر وہ مشتمل ہوتے ہیں ۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی کاہن کا سرے سے یہ کام ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ قوم کے رائج الوقت عقائد کے خلاف ایک عقیدہ لے کر اٹھتا اور شب و روز اس کی تبلیغ میں اپنی جان کھپاتا اور اس کی خاطر ساری قوم کی دشمنی مول لیتا ۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہانت کا یہ الزام برائے نام بھی کوئی مناسبت نہ رکھتا تھا کہ یہ پھبتی آپ پر چسپاں ہو سکتی اور عرب کا کوئی کند ذہن سے کند ذہن آدمی بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ۔ اسی طرح آپ پر جنون کا الزام بھی کفار مکہ محض اپنے دل کی تسلی کے لیے لگاتے تھے جیسے موجودہ زمانے کے بعض بے شرم مغربی مصنفین اسلام کے خلاف اپنے بغض کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے یہ دعوے کرتے ہیں کہ معاذ اللہ حضور پر صرع ( Epilepsy ) کے دورے پڑتے تھے اور انہی دوروں کی حالت میں جو کچھ آپ کی زبان سے نکلتا تھا اسے لوگ وحی سمجھتے تھے ۔ ایسے بیہودہ الزامات کو کسی صاحب عقل آدمی نے نہ اس زمانے میں قابل اعتنا سمجھا تھا ، نہ آج کوئی شخص قرآن کو پڑھ کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت و رہنمائی کے حیرت انگیز کارنامے دیکھ کر یہ باور کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ صرع کے دوروں کا کرشمہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٩۔ ٣٤۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے تھے اور عرب کا یہ بھی ایک دستور تھا کہ ہجو کے ڈر سے شاعروں کے منہ پر ان کی مذمت نہیں کیا کرتے تھے بلکہ جن شاعروں کو مخالف سمجھتے تھے ان شاعروں کی موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔ قریش آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر خیال کرکے اپنی قوم کے دستور کے موافق آپ کی وفات کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس لئے فرمایا کہ اپنے گمان میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑا عقل مند گنتے ہیں ان کی عقل میں اتنی بات نہیں آتی کہ یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو یہ لوگ جو عرب کے فصیح لوگوں میں کہلاتے ہیں اس کے موافق کچھ کلام بنانے سے عاجز کیوں ہوجاتے اور یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ غیب کا یہ حال تو کسی کو معلوم نہیں کہ کس کی موت کب آنے والی ہے لیکن اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ کہہ دو کہ تم لوگ میری موت کا انتظام کرو میں تمہاری موت کا انتظار کرتا ہوں ‘ انجام ہر ایک کا معلوم ہوجائے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اللہ کے رسول کی موت کے انتظار کرنے والے بدر کی لڑائی میں ختم ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کے بعد اپنے رسول کی جو مدد کی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسلام کی جو کچھ ترقی ہوئی وہ ظاہر ہے عرب میں مکہ کے لوگ بڑے عقل مند کہلاتے تھے اس لئے یہ بھی فرمایا کہ ان کی عقلوں نے یہی ان کی رہبری کی ہے کہ یہ دیوانوں کی سی باتیں کرتے ہیں کبھی اللہ کے رسول کو دیوانہ کہتے ہیں اور کبھی شاعر حالانکہ دیوانہ وہ ہے جو معمولی باتیں بھی ڈھنگ سے نہیں کرتا اور شاعر غیر معمولی دور دور کی باتوں کی تک بندی کرتا ہے پھر فرمایا کہ شیطان کے بہکانے سے بہک کر یہ لوگ حد سے زیادہ سرکش ہوگئے اور مر کر پھر جینے کا ان کو یقین نہیں ‘ اس واسطے یہ لوگ ایسی خلاف عقل باتیں کرتے ہیں کاہن جاہلی زمانہ میں وہ لوگ تھے جو جنات کی نذر نیا کرتے تھے اور وہ جنات چوری سے آسمان پر کی کچھ باتیں سن کر ان کاہنوں سے آ کر کہہ دیتے تھے اور وہ آئندہ کی جھوٹ سچ خبریں لوگوں کو بتایا کرتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:29) نذکر۔ اس میں ف سببیہ ہے پہلا کلام تذکیر کی علت ہے اللہ کی طرف سے وعدہ اور وعید کو پورا کرنا وعظ اور نصیحت کے حکم کا سبب ہے۔ ذکر امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر تفعیل مصدر۔ تو یاد دلا۔ تو سمجھا، تو نصیحت کر۔ فما انت ۔۔ الخ۔ اس میں فاء تعلیلیہ ہے یعنی آپ لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ آپ اللہ کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ ما نافیہ ہے۔ بنعمتۃ ربک۔ ب ملابست ۔ مصاحبت کے لئے ہے۔ (کے ساتھ) یا یہ قسم کے لئے ہے لیکن اقرب یہ ہے کہ ب سببیہ ہے (روح المعانی) ۔ نعمۃ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ نعمۃ مضاف کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور حرف جار ب کا۔ آپ کے رب کی نعمت کے سبب سے۔ بکاھن ولا مجنون۔ ب زائدہ ہے تاکید کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل کے سبب سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون ہیں۔ کاہن اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہو۔ اور عراف اسے کہتے ہیں جو آئندہ کے متعلق خبر دیتا ہو۔ ان دونوں پیشوں کی بناء چونکہ ظن پر ہے جس میں صواب وخطاء کا احتمال پایا جاتا ہے اس لئے رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ۔ من اتی عرافا او کاھنا فصدقہ بما قال فقد کفربما انزل علی ابی القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (حدیث شریف) جو شخص عراف یا کاہن کے پاس جاکر ان کے قول کی تصدیق کرے تو اس نے جو ابو القاسم (یعنی مجھ پر) اتار گیا اس کے ساتھ کفر کیا۔ مجنون : اسم مفعول واحد مذکر۔ جمع مجانین۔ دیوانہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اس سے مقصود مشرکین کی تردید ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی کاہن کہتے اور کبھی بائولا۔ کاہن سے مراد پروہت ہے جو وحی کے بغیر غیب دانی کا دعویٰ کرتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٢٩ تا ٤٩۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین پر پھیلا اور ہمیشہ قائم رہے گا اور قیام قیامت تک انہیں تو اپنی دانائی پہ بڑا فخر ہوا کرتا تھا تویہی ان کی دانش ہے یا ایسی شرارت میں پھنسے ہیں کہ خو د اپنی عقل سے حق جانتے ہوئے بھی ماننے کو تیار نہیں کبھی کہتے کہ انہوں نے قرآن کریم خود بنالیا ہے حق یہ ہے کہ انہیں خبر ہے کہ یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں صرف ایمان نہیں لاتے اور اپنے کفر پر رہنے کے لیے باتین بناتے رہتے ہین۔ اگر یہ قرآن انسان کا بنایا ہوا ہے تو یہ لوگ بھی تو بڑے فاضل اور اہل زبان ہیں بھلا اس کی کوئی مثال لکھ کر پیش کردیں جو یہ ہرگز کر نہیں سکتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر انہیں ذات باری میں یقین نہیں تو انہیں کس نے پیدا کیا ہے کیا یہ خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود خالق ہیں اور خود ہی مخلوق بھی یا آسمان و زمین اس کائنات کے اتنے وسیع نظام کے خالق یہ ہیں کہ ایسا کچھ نہیں صرف اللہ کی سب تخلیق ہے اور ہر شے کے وجود اور ذات کا تقاضا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرے ایمان لائے اور اطاعت کرے لیکن یہ بدبخت یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ انہیں آپ کے نبی ہونے پر اعتراض ہے کہ فلاں فلاں رئیس نبی ہوتے تو کیا اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں یا یہ کہ ان پر افسر لگے ہوئے ہیں کہ ان کی منظوری سے تقسیم کیے جائیں ایسا کچھ نہیں بلکہ اللہ کی پسند جسے منتخب فرمالیا فرمالیا انہوں نے کہیں آسمان میں سیڑھی لگارکھی ہے کہ عالم بالا کی خبریں لاتے ہیں اگر کوئی ایسی بات ہے تو اپنی باتوں پر کوئی واضح دلیل پیش کریں مگر کیا پیش کریں گے ان کی باتیں ہی بودی ہیں جیسے اللہ کے لیے اولاد مان لی تو وہ بھی بیٹیاں کہ ان کے لیے توبیٹے پسند یدہ اولاد ہے اللہ کے لیے بیٹیاں مانتے ہیں یا کیا آپ نے تبلیغ کے عوض ان سے کوئی معاوضہ طلب کیا ہے جو انہیں تاوان محسوس ہو یا ان کو غیب کا علم ہے اور اسے انہوں نے لکھ رکھا ہے اور جانتے ہی کہ آئندہ کیا پیش آنے والا ہے ایسا کچھ نہی اور اگر یہ آپ سے کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں تو یہ جان لی کہ کافر تو خود اپنے کفر کے فریب میں پھنس چکا ہے کیا انہیں اللہ کے علاوہ کوئی معبود مل گیا ہے ہرگز نہیں اللہ ان کی تمام مشرکانہ باتوں سے پاک ہے اور اس کی شان ان باتوں سے بہت بلند ہے ان کے مطالبات کہ بھلا آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا وہ بھی ہدایت کی غرض سے نہیں محض اعتراض کرنے کے لیے ہے کہ اگر کوئی ٹکڑا آسمان کا گرتا ہوا دیکھیں گے بھی تو ایمان نہ لائیں گے بلکہ یہ کہیں گے کہ یہ تو گاڑھا سابادل ہے جو نیچے کو آرہا ہے آپ ان کی پرواہ مت کیجئے انہیں رہنے دیجئے ان کی طرف سے طبع عالی پہ بوجھ مت ڈالیے اور انہیں اپنے انجام کو پالینے دیجئے کہ یہ اس روز کو پہنچیں جب ان پر بجلی کی کڑک کی طرح عذاب پڑے گا جس دن ان کی سب تجویزیں دھری رہ جائیں گی اور کوئی ان کی مدد کرنے والانہ ہوگا اور ایسے ظالموں پر تو دنیا میں بھی ذلت و عذاب ہے اور اگلی دنیا میں بھی لیکن ان میں شعور نہیں ہے۔ کفر وشرک کا نتیجہ عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کفر کا حتمی نتیجہ ذلت ہے اور دنیا میں بھی کافرمعاشروں کو جاننے والے جانتے ہیں کہ ہر ہرفرد کس طرح کی ذلتوں میں مبتلا ہے رہی یہ بات کہ کافر ہم پر غالب ہیں تو اس کی وجہ ہماری ایمان میں کمزوری ہے جس کے باعث ہم کافروں کے پیچھے چلتے ہیں اور آگے چلنے والا اپنے پیچھے چلنے والوں پر تو غالب ہوتا ہے رہی آخرت تو اس میں کوئی شبہ ہی نہیں ۔ ہاں اس دنیا کی ذلت اور اخروی عذاب کا پتہ تب چلے کہ کس میں اسے جاننے کا شعور بھی ہو۔ حفاظت الٰہیہ ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پروردگار کے حکم پر قائم رہیے اور اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیے یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں آپ اپنے رب کی تسبیح کیجئے کھڑے ہوں یعنی اوقات کار ہوں یا رات ہو یا صبح طلوع ہورہی ہو کہ ستارے ڈوب رہے ہوں مراد فرائض بھی ہیں اور اذکار بھی زبانی بھی اور حق یہ ہے کہ یہ ذکر دوام بغیر ذکر قلبی کے مکمل نہیں ہوتا یہ ثابت ہے کہ ذکر دوام نصیب ہوتوحفاظت الٰہیہ نصیب ہوتی ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی پھیلنا شروع ہوئی اور قریش مکہ نے یہ محسوس کیا کہ لوگ بہت تیزی سے آپ کی باتوں کو سن کر متاثر ہو رہے ہیں تو انہیں فکر ہوئی اور انہوں نے آپ کی شخصیت اور آپ کی تحریک کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے نہایت غیر سنجدیہ باتیں بنانا شروع رک دیں تاکہ لوگ ان تمام باتوں کو سن کر سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ ایک دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ کبھی کہتے کہ آپ مجنون شاعر ہیں۔ کبھی کہتے کہ غیب کی خبریں دینے والے کاہن ہیں اور اس قرآن کو وہ خود گھڑ کر یا کسی سے سن کر یا سیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ وہ آپ کی بد خواہی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیتے کہ یہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ بہت جلد ان پر ہمارے بتوں کی مار پڑے گی اور یہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ہم اسی گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے فضل و کرم سے نہ تو آپ شاعر ہیں اور نہ مجنون ہیں نہ غیب کی خبریں دنییو الے کاہن ہیں بلکہ اللہ رب العالمین کے رسول ہیں اور قرآن کریم اسی نے نازل کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں اسی لئے اس تحریک اور کلام پر وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر اس کلام کو آپ نے خود گھڑ لیا ہے تو اس وت بڑیب ڑے زبان کے ماہرین اور شاعر ہیں جنہیں اپنی زبان پر اس قدر ناز ہے کہ وہ اپنے سامنے کسی کو زبان داں ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اگر یہ سچے ہیں تو سب مل کر اس قرآن جیسا کوئی دوسرا کلام لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی کفار سے چند سوالات کئے ہیں اور پوچھا ہے کہ بتائو : (1) کیا یہ سب کسی پیدا کرنے والے کے بغیر خود ہی پیدا ہوگئے ہیں ؟ کیا یہ خود اپنے خلاق ہیں ؟ (2) کیا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے خود ہی پیدا کرلیا ہے وہ کیسے بےیقین لوگ ہیں ؟ (3) کیا ان لوگوں کے پاس ان کے پروردگار کے خزانے موجود ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں ؟ (4) کیا یہ لوگ کوئی حاکم یا بادشاہ ہیں کہ ہر طرف ان کی حکومت چل رہی ہے ؟ (5) کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے کہ جس کے ذریعہ وہ آسمانوں میں جا کر غیب کی باتیں سنتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو کوئی مضبوط اور واضح دلیل پیش تو کریں۔ فرمایا کہ یہ دلیل تو کیا پیش کریں گے ان کی جہالت کی انتا یہ ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ خود تو ان کا یہ حال ہے کہ اگر بیٹا ہوجائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر بیٹی پیدا ہوجائے تو شرمندگی کے مارے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیسی عجیب تقسیم کر رکھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے پوچھئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کی باتیں کر رہا ہوں تاکہ تمہاری دنیا اور آخرت سدھر جائے تو کیا میں تم سے اس تبلیغ دین پر کوئی معاوضہ یا اجرت مانگ رہا ہوں کہ اس کے بوجھ سے تم دبے چلے جا رہے ہو فرمایا کہ آپ ذرا کفار سے پوچھئے کہ کیا ان کے پاس کوئی غیب کا علم ہے جو ان کے پاس لکھا ہوا ہے اور اس کے ذریعہ وہ یہ سب باتیں کر رہے ہیں یا یہ لوگ کوئی بےڈھنگی چال چل رہے ہیں ؟ فرمایا کہ اگر ایسا ہے کہ یہ لوگ کوئی چال چل رہے ہیں تو وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ خود ہی اپنے جال میں پھنس جائیں گے اور اس سے نکل نہ سکیں گے۔ فرمایا کہ ان سے پوچھئے کہ ایک اللہ کے سوا کیا تمہارا دوسرا معبود ہے جس کی تم عبادت و بندگی کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کی ذات ہر طرح کے شرک سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمایا کہ ان کا یہ حال ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں نبی مان لیں گے اگر آسمان کا ایک ٹکڑا توڑ کر دکھا دو ۔ فرمایا کہ اول تو یہ ایک احمقانہ مطالبہ ہے لیکن اگر ہم اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہوئے آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دیں تو یہ اس کا یقین نہ کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو کوئی گہرا بادل ہے جو بادل پر بادل جما ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب انہوں نے ہر سچائی کو جھٹلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے تو آپ ان کی غیر سنجیدہ اور جاہلانہ باتوں کی پرواہ نہ کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنے مشن اور مقصد کو پھیلاتے رہیے۔ قیامت کا وہ ہولناک دن آ کر رہے گا جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے اس دن ان کا مکر و فریب ان کے کسی کام نہ آئے نہ ان کو ان کی چالیں فائدہ دیں گی اور نہ کوئی ان کے مدد کے لئے آئے گا۔ یہ تو آخرت کے عذاب کی بات ہے فرمایا کہ ان کو تو اسی دنیا میں سخت سزا ملے گی لیکن ابھی یہ جانتے نہیں بہت جلد جان لیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ کے حکم پر صبر کرتے رہیے یہ یآ پکا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے کیونکہ آپ براہ راست ہماری نظروں میں ہیں ہم خود آپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ جب آپ بیدار ہوں تو اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرتے رہیں۔ اسی طرح رات کے کچھ حصے میں اور ستارے چھپ جانے کے بعد بھی اس کی تسبیح اور ذکر کرتے رہیے اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح کی کامیابی عطا فرمائے گا اور یہ لوگ ذلیل و خوار ہوں گے۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔ مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم رہیے ! یہ شخص عنقریب حوادث زمانہ کا شکار ہو کر ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو ان کی یا وہ گوئی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور دیوانے نہیں ہیں۔ پاگل تو وہ ہیں جو بیک وقت متضاد باتیں کررہے ہیں۔ ان کے پاگل پن کی دلیل یہ ہے کہ ایک طرف آپ کو کاہن کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو مجنون کہتے ہیں۔ حالانکہ مجنون اور کاہن کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مجنون شخص (UBNORMAL) حواس باختہ ہوتا ہے۔ اسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے منہ سے کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لباس کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا۔ مجنون کے مقابلے میں کاہن شخص اپنے فن میں ماہر اور چالاک ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو پھنسانے کے لیے ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتا ہے کہ عقل مند اور جہاندیدہ لوگ بھی اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مجنون کو اپنے تن کی ہوش نہیں ہوتی۔ کاہن باتوں باتوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ جہاں تک شاعر کا معاملہ ہے۔ شاعر کے کلام میں نہ صرف مبالغہ پایا جاتا ہے بلکہ اس کے کلام میں تضاد بیانی بھی ہوا کرتی ہے۔ شاعروں کی غالب ترین اکثریت بےعمل ہوتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے لیے اسوہ حسنہ بنائے گئے ہیں اور نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائزہونے سے پہلے بھی آپ اعلیٰ کردار اور اخلاق کے پیکر تھے۔ اکثر شاعر عاشق مزاج ہوتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زندگی بھر کسی غیرمحرم عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شاعر کا کلام زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتا۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کررہے تھے اس کی رہتی دنیا تک گارنٹی دی گئی ہے۔ شاعراپنا کلام پیش کرکے لوگوں سے مالی یا اخلاقی داد وصول کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان باتوں سے مبرّہ اور ارفع تھے۔ آپ نے زندگی بھر اپنے خطاب میں کبھی شعر نہیں پڑھا اور نہ ہی آپ کی شان اور مقام کے لائق تھا۔ (یٰسٓ: ٦٩) یہاں تک اہل مکہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام اور کام بہت جلد حوادث زمانہ کا شکار ہوجائے گا۔ اس بات کا انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر سے یوں چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ زمانہ گواہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والے مٹ گئے لیکن آپ کا نام اور کام ہر دور میں زندہ رہا اور رہے گا۔ اس لیے فرمایا کہ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا حقیقت میں یہ لوگ باغی اور شرارتی ہیں گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالف بےعقل بھی تھے، باغی اور شرارتی بھی۔ بےعقل اور شرارتی لوگ زیادہ مدت تک اپنے کام میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ (وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ) (الانشراح : ٤) ” ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا ہے۔ “ مسائل ١۔ داعی کو مخالفوں کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھنا چاہیے۔ ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ شاعر تھے اور نہ مجنون تھے۔ ٣۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن اور مجنون کہنے والے خود پاگل تھے۔ ٤۔ بےعقل اور شریر لوگ ہی ناکام ہوا کرتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام اور کام کو ہمیشہ زندرکھا ہے اور زندہ رکھے گا۔ تفسیر بالقرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ شاعر تھے اور نہ آپ نے کبھی شعر گوئی کی تھی : ١۔ ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھلائے اور نہ ہی یہ کام آپ کے لائق ہے۔ (یٰس : ٦٩) ٢۔ شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں وہ ہر وادی میں گھومتے ہیں اور جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ (الشعراء : ٢٢٤ تا ٢٢٦) ٣۔ قرآن مجید کسی شاعر کا کلام نہیں۔ (الحاقہ : ٤١) ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کے فضل وکرم سے شاعر اور مجنون نہیں ہیں۔ ( القلم : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی جاتی ہے آپ یاددہانی کئے جائیں اور ان لوگوں کی بدسو کی سے متاثر نہ ہوں اور ان لوگوں کی جانب سے جو اتہامات لگائے جارہے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ کبھی یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ” کاہن “ ہیں۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ آپ مجنون ہیں اور یوں وہ در پر وہ ایسے الزامات لگاتے تھے جو ان کے درمیان مشہور تھے کہ کاہن اور مجنون دراصل شیاطین سے ہدایات لیتے ہیں اور شیاطین بعض لوگوں کو خبط میں مبتلا کرکے مجنون کردیتے ہیں۔ گویا ان دونوں صفات کی پشت پر ان کے نزدیک شیطان کام کرتا تھا اور یہ لوگ اسی وجہ سے حضور اکرم پر یہ الزامات عائد کرتے تھے۔ پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ساحر اور جادو گر ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ یہ وہ اس لئے لگاتے تھے کہ وہ قرآن کریم کے فصیح وبلیغ انداز کے سامنے ششدر رہ گئے تھے۔ یہ قرآن اس قدر معجزہ تھا کہ اس قسم کا کلام کبھی انہوں نے دیکھا نہ سنا تھا۔ اپنی جگہ یہ اپنے آپ کو قادر الکلام سمجھتے تھے۔ اپنی دینی بیماری کی وجہ سے یہ لوگ چونکہ اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم نہ کریں گے۔ اس لئے وہ اس کلام کے بارے میں کوئی نہ کوئی تاویل کرنے پر مجبور تھے۔ کبھی کہتے ہیں حضور کو یہ کلام جن سکھاتے ہیں۔ حضور کاہن ہیں جو جنوں سے یہ کلام لیتے ہیں۔ یا جادوگر ہیں جو جنوں سے جادو سیکھتے ہیں یا شاعر ہیں اور خیالات جن ان پر القاء کرتے ہیں یا آپ مجنون ہیں اور شیطان نے آپ کو چھو لیا ہے اور یہ باتیں آپ سے کراتا ہے جو عجیب ہیں۔ یہ باتیں نہایت ہی جھوٹی بری اور شرمسار کنندہ اور پریشان کن ہیں لیکن اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ذرا بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ آپ پرتو فضل وکرم ہے۔ آپ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔ فما ........ مجنون (٢٥ : ٩٢) ” اپنے رب کے فضل سے آپ نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون “ اس کے بعد ان کے اس قول پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ حضور اکرم پر شاعر ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں آئے شاعری کی اور دنیا سے گزر گئے ان کا بھی یہی حال بننے والا ہے نہ ان کا کوئی ماننے والا رہے نہ جاننے والا نہ ان کی راہ پر چلنے والا، ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَؕ٠٠٣١﴾ (آپ فرما دیجئے کہ تم لوگ انتظار کرتے رہو میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں) دیکھو تمہارا کیا حال بنتا ہے اور حق قبول کرنے سے پہلوتہی کرنے پر کیسے عذاب میں مبتلا ہوتے ہو، میری محنتوں کا انجام فلاح اور کامیابی ہے اور تمہارا انجام ناکامی، بربادی اور ہلاکت ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اس سے مشرکین کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا مراد ہے۔ پھر فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجئے کیا ان کی عقلیں ان کو یہ بتارہی ہیں کہ شرک میں مبتلا رہیں جو باطل چیز ہے اور دعوت توحید کو قبول نہ کریں جو حق ہے، اپنی عقلوں کو بہت بڑی سمجھتے ہیں حالانکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ باطل کو ترک کریں اور حق کو قبول کریں اگر غور و فکر کرتے تو حق کو نہ ٹھکراتے، وہاں تو بس شر ہے اور شرارت ہے اسی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پھر فرمایا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے اور اپنی طرف سے بنا کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ان کا یہ قول شرارت پر مبنی ہے۔ ایمان نہیں لاتے ایسی باتیں کرکے دور ہوتے چلے جاتے ہیں یہ لوگ عربی جانتے ہیں فصیح وبلیغ ہونے کے دعویدار ہیں اگر اپنی بات میں سچے ہیں تو اس جیسا کلام بنا کرلے آئیں، ان کو چیلنج کیا جا چکا ہے کہ قرآن جیسی ایک سورت بنا کرلے آئیں لیکن نہیں لائے اور نہ لاسکیں گے ﴿لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا ٠٠٨٨﴾ منکرین قرآن پر یہ بہت بڑی مار ہے ڈیڑھ ہزار سال سے چیلنج ہے، کوئی بھی آج تک اس کے مقابلہ میں کچھ نہ کرکے لاسکا اور نہ لاسکے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” فذکر۔ الایۃ “ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے۔ فرمایا آپ وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں اور مشرکین کے آپ کو کاہن اور مجنون کہنے افسردہ خاطر نہ ہوں۔ آپ اللہ کی مہربانی سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون آپ پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس لیے آپ اپنے فرض منصبی کو ادا فرماتے رہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) پس اے پیغمبر آپ نصیحت کرتے رہیے آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ دیوانے اوپر جو اہل جنت اور اہل جہنم کا ذکر تھا وہ سب ترغیب اور ترہیب کو شامل تھا اور یہی مضمون ہے نصیحت کا اسی پر تفریع فرمائی کہ آپ تذکیر اور نصیحت کئے جائیے نہ کاہن ہیں آپ نہ مجنوں ، کاہن وہ جو شیطان کب بتائی ہوئی باتیں جھوٹی سچی غیب کا نام لے کر لوگوں کو بتائے۔ مجنون کے معنی ظاہر ہی ہیں اکثر لوگ مکہ سے باہر جاکر قافلے والوں کو بہکاتے تھے اور آپ کے متعلق کاہن کا دیوانہ کہہ کر ان مسافروں کو بہکاتے تھے اس لئے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔