Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 31

سورة الطور

قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾

Say, "Wait, for indeed I am, with you, among the waiters."

کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "Wait! I am with you among those who wait!" `wait and I too will wait with you, and you will come to know to whom the good end and triumph shall be granted in this life and the Hereafter.' Muhammad bin Ishaq reported that Abdullah bin Abi Najih said that Mujahid said that Ibn Abbas said, "When the Quraysh gathered in the Dar An-Nadwah (their meeting place) to discuss the matter of the Prophet, one of them said, `Jail him in chains. Then we will wait and in time, a calamity will strike him; he will die just as the poets before him died, such as Zuhayr and An-Nabighah, for he is a poet just like them.' Allah the Exalted said in response to their statement, أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ (Or do they say: "A poet! We await for him some calamity by time!)"" Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یعنی دیکھو ! موت پہلے کسے آتی ہے ؟ اور ہلاکت کس کا مقدر ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح شاعر لوگ وقتی طور پر اپنے سامعین کو متاثر کرلیتے ہیں لیکن ان کا کوئی قابل ذکر کارنامہ باقی نہیں رہتا۔ ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کی شخصیت بھی دنیا سے ختم ہوجاتی ہے۔ اسی صورت حال کی توقع وہ آپ سے بھی رکھتے ہیں اور آپ کی موت کے منتظر بیٹھے ہیں کہ کب آپ کو موت آلیتی ہے اور ان کی اس مصیبت سے جان چھوٹتی ہے۔ آپ ان سے کہیے کہ تم میرے متعلق گردش ایام کا انتظار کرو اور میں اس انتظار میں ہوں کہ تمہیں تمہاری ان کرتوتوں کی سزا کب اور کس طرح ملتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(قل تربصوا فانی معکم من المتربصین : اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتظار کر کے دیکھ لو، تم ہی مرو گے میں نہیں مروں گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ تمہارا انجام ناکامی اور ہلاکت ہے، میرا انجام کامیابی اور نجات ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ۝ ٣١ ۭ ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ، قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] ، وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ [ التوبة/ 98] . ( ر ب ص ) التربص کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ خواہ وہ انتظار سامان تجارت کی گرانی یا ارزانی کا ہو یا کسی امر وا قع ہونے یا زائل ہونیکا انتظار ہو ۔ کسی چیز کا انتظار کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] عورتوں کو چاہئے کہ انتظار کریں ۔ قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ان سے کہو کہ ( بہت اچھا ) تم ( بھی ) انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ( خواہ نخواہ ) ایک نہ ایک کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے حق میں انتظار کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١۔ ٣٢) آپ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ تم میری موت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے عذاب کا منتظر ہوں، چناچہ بدر کے دن یہ سب مارے گئے کیا ان کی عقلیں ان کو اس تکذیب اور سب و شتم اور نبی اکرم کو تکلیف پہنچانے کی تعلیم کرتی ہیں کیونکہ یہ تو اپنی عقل مندی کے بڑے مدعی ہیں یا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں بڑے ماہر لوگ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١{ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے کہ اچھا تم انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 This can have two meanings: (1) "I would also see whether this desire of yours is fulfilled or not ; " and (2) "I am also waiting to see who goes to his doom, you or I. "

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :24 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ میں بھی دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ آرزو پوری ہوتی ہے یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ میں بھی منتظر ہوں کہ شامت میری آتی ہے یا تمہاری ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:31) قل : ای قل لہم یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ای محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے۔ تربصوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعیل) مصدر۔ تم انتظار کرو۔ المتربصین۔ ام فاعل جمع مذکر۔ بحالت جر۔ متربص واحد۔ انتظار کرنے والے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ اے میرے نبی ! ان بےسروپا امیدیں باندھنے والوں سے کہہ دو ، بڑی اچھی بات ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔ وقت خود ہی فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون گمراہ تھا ۔ کامیابیاں کس کے قدم جو متی ہیں۔ اور عذاب الٰہی کس پر نازل ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی تم میری ہلاکت کا انتظار کرتے رہو میں تمہاری ہلاکت کا انتظار کر رہا ہوں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کا عذاب مجھ پر آتا ہے یا تم پر ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی تم میرا انجام دیکھو، میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں اس میں اشارة پیشنگوئی ہے کہ میرا انجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام خسارہ اور ناکامی، اور یہ مقصود نہیں کہ تم مرو گے میں نہ مروں گا بلکہ ان لوگوں کا اس سے جو مقصود تھا کہ ان کا دین چلے گا نہیں، یہ مرجائیں گے اور دین مٹ جائے گا، جواب میں اس کا رد مقصود ہے، چناچہ یوں ہی ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل تربصوا ........ المتربصین (٢٥ : ١٣) ” ان سے کہو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ اور تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہونے والا ہے اور کس کو فتح و کامرانی ہوتی ہے۔ قریش کے اکابر کو کہا جاتا تھا کہ یہ ذوی الاحلام ہیں اشارہ اس طرف تھا کہ یہ بہت عقلمند ہیں اور معاملات بڑی دانشمندی سے چلاتے ہیں۔ قرآن مجید ان کے ساتھ ان کی اس دانشمندی پر سنجیدہ مزح کرتا ہے کہ ان کا طرز عمل تو عقل و دانش کے سرابر منافی ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے بارے میں ان کی رائے اور وحی و رسالت کا انکار کیا ان کی وہ دانشمندی ہے بلکہ یہ سرکش ہیں اور ان کی عقل جس بات کو تسلیم کرتی ہے یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) آپ فرمادیجئے اچھا تم انتظا کئے جائو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی تمہاری طرح میں بھی منتظر ہوں تمہارے انجام کا۔