Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 35

سورة الطور

اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَیۡرِ شَیۡءٍ اَمۡ ہُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾

Or were they created by nothing, or were they the creators [of themselves]?

کیا یہ بغیر کسی ( پیدا کرنے والے ) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Affirming Tawhid and annulling the Plots of the Idolators. This is the position where Tawhid of Allah's Lordship and Divinity are affirmed. Allah the Exalted said, أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ Or were they created by nothing? Or were they themselves the creators? Allah asks them, were they created without a maker or did they create themselves? Neither is true. Allah is the One Who created them and brought them into existence after they were nothing. Al-Bukhari recorded that Jubayr bin Mut`im said, "I heard the Prophet recite Surah At-Tur in Al-Maghrib prayer and when he reached this Ayah, أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ بَل لاَّ يُوقِنُونَ أَمْ عِندَهُمْ خَزَايِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُون Or were they created by nothing? Or were they themselves the creators? Or did they create the heavens and the earth? Nay, but they have no firm belief. Or are with them the treasures of your Lord? Or are they the tyrants with the authority to do as they like? I felt my heart would fly away." This Hadith is collected in the Two Sahihs using various chains of narration. Jubayr bin Mut`im went to the Messenger of Allah after the battle of Badr to ransom the captured idolators. At that time, he was still an idolator. Hearing the Prophet recite this Ayah was one of the reasons that he later embraced Islam. Allah the Exalted said, أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ بَل لاَّ يُوقِنُونَ

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا ۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورہ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت ( اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ ) 52- الطور:37 ) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ( بخاری ) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لئے اسلام کا ذریعہ بن گیا پھر فرمایا ہے کہ کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں ؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنے بےیقینی سے باز نہیں آتے پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے ؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں ؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گذرے پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے ؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال وافعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لئے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت کریں انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں ، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں ؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے ؟ یعنی نبی اللہ دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے ؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں ؟ نہیں بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں ؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں ؟ اللہ تو شرکت سے مبرا شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں کسی بات کا حکم دے یا کسی بات سے منع کرے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے تو ظاہر ہے اس کا انہیں پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، وہ انہیں پیدا کر کے یوں کس طرح چھوڑ دے گا۔ 35۔ 2 یعنی یہ خود بھی اپنے خالق نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے خالق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] دہریت ونیچریت کا رد : یعنی اتفاقات کے نتیجہ میں پیدا ہوگئے ہیں جیسا کہ دہری اور نیچری حضرات کا خیال ہے اور ان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ؟ یہ خیال اس لیے باطل ہے کہ یہ ایک ایسے بدیہی امر کے خلاف ہے جس کی دلیل یا ثبوت کی ضرورت کوئی بھی نہیں سمجھتا اور وہ بدیہی امر یہ ہے کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے از خود نہیں بن جاتی۔ [٢٩] یعنی وہ خود ہی اپنے خالق ہیں۔ سابقہ آیت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ان کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں تھا۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اپنے ہی عمل دخل اور ارادہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور یہ خیال بھی ایک بدیہی امر کے خلاف ہے جو یہ ہے کہ کوئی چیز بیک وقت خالق اور مخلوق نہیں ہوسکتی && یعنی خود ہی بننے والی ہوا اور خود ہی بنانے والی ہو، پھر جب یہ دونوں باتیں نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کو بنانے والا یا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ اور بنانے والے کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ جیسے وہ چاہے بنائے اور جس مقصد کے لیے چاہے بنائے۔ بنی ہوئی چیز اپنے بنانے والے کے ہاتھوں بےبس ہوتی ہے وہ اس کے سامنے اکڑ نہیں سکتی، پھر لوگ کیسے اپنے خالق کے حکم سے سرتابی کے مجاز ہوگئے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ام خلفوا من غیر شیء …: اس سے پہلے تین سوال یہ ثابت کرنے کے لئے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے، اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کو ثابتک رنے کی بات کا آغاز فرمایا۔ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خلاق ہے، اس لئے تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ آخر اس پر ان کے بگڑنے کی کیا کوئی معقول وجہ ہے ؟ اگر یہ رب تعالیٰ کو خلاق نہیں مانتے تو بتائیں کہ کیا وہ کسی بنانے والے کے بغیر ہی بن گئے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے۔ یا پھر انہوں نے اپنے آپ کو خود بن الیا ہے ؟ یہ پہلی بات سے بھی زیادہ ناممکن بات ہے، کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی چیز خلاق بھی ہو اور مخلوق بھی۔ یا پھر یہ بتائیں کہ یہ آسمان و زمین انہوں نے بنائے ہیں ؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں، کیونکہ یہ کائنات اس وقت کی بنی ہوئی ہے جب ان لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین سوال کئے ہیں جن کا جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ بالکل ظاہر ہے کہ نہ یہ لوگ کسی بنانے والے کے بغیر بنے ہیں، نہ یہ اپنے آپ کو خود بنانے والے ہیں اور نہ کائنات ان کی بنائی ہوئی ہے، بلکہ انہیں اور ساری کائنات کو بنانے والا کوئی اور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حقیقت کو وہ بھی مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا :(ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یوفکون) (الزخرف : ٨٨)” اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔ “ اور فرمایا :(ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ) (لقمان : ٢٥)” اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ “ (٢) بل لایوقنون : یعنی بات یہ نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا خلاق نہیں مانتے اور اس کا اقرار نہیں کرتے، بلکہ اصل یہ ہے کہ اقرار کے باوجود انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے، کیونکہ اگر انہی واقعی یقین ہوتا کہ ہمارا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو اسی کی عبادت کرتے ، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے اور نہ اس کی طرف دعوت دینے والے کی اس طرح مخالفت کرتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ۝ ٣٥ ۭ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥۔ ٣٦) کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق یا باپ کے خود بخود پیدا ہوگئے یا یہ خود ہی اپنے خالق ہیں یا یہ کہ انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ایسا بھی نہیں بلکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے مگر یہ لوگ پھر بھی رسول اکرم اور قرآن حکیم کی تصدیق نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥{ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ } ” کیا یہ بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بن گئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟ “ یہ فلسفے کا بہت گہرا مسئلہ ہے ۔ ظاہر ہے کوئی شے بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بخود تو بنتی نہیں ہے۔ چناچہ کسی بھی چیز کی تخلیق کے حوالے سے دو ہی صورتیں ممکن ہیں ‘ یعنی یا تو اس چیز کو کسی نے تخلیق کیا ہے یا اس چیز نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا ہے۔ چناچہ یہ منطقی سوال ان کے سامنے رکھا گیا کہ اگر تم اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ تم نے خود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا تو پھر خود بخود ثابت ہوجاتا ہے کہ کسی دوسری ہستی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ہستی اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٥۔ ٤٣۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو خود پیدا کرلیا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں۔ ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ خودبخود کیونکر پیدا ہوگئے۔ اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں اور اللہ کے خالق رازق ہونے کے یہ لوگ قائل ہیں تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ پھر فرمایا اللہ کے خالق و رازق ہونے کی شہادت میں تو آسمان و زمیان ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں انہوں نے یا ان کے جھوٹے معبودوں نے کوئی آسمان و زمین پیدا کیا ہو تو لائیں دکھلائی۔ اصل یہ ہے کہ ان کے جی میں عقبیٰ کا یقین نہیں ہے ورنہ اپنی عاقبت یہ ایسی خراب نہ کرتے۔ پھر فرمایا اللہ کے رسول کی بددعا سے ان پر رزق کی تنگی ہوئی اور سخت قحط پڑا وہ تو ان کو معلوم ہے ان کے یا ان کے جھوٹے معبودوں کے اختیار میں اللہ تعالیٰ کے خزانے تھے یا اللہ تعالیٰ کے انتظام کی داروغائی ان کو یا ان کے جھوٹے معبودوں کو تھی تو پھر انہوں نے اس قحط کو کیوں نہیں رفع کیا۔ جب ان کے جھوٹے معبودوں سے اتنا بھی نہ ہوسکا تو پھر ان کو اللہ کے شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے۔ صحیحین ١ ؎ میں عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے اس قحط کے قصہ کا ذکر آیا ہے پھر فرمایا جس شرک کو انہوں نے حق اور ملت ابراہیمی ٹھہرا رکھا ہے اللہ نے جو اپنے رسول سے وحی بھیجی ہے اس میں تو اس کی جابجا مذمت ہے پھر ان کے پاس کوئی آسمان تک سیڑھی ہے جس سے آسمان پر چڑھ کر انہوں نے یہ جان لیا کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ حق ہے اگر ایسا ہے تو اس کو ثابت کیا جائے ورنہ اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان کر شرک کو چھوڑا جائے۔ پھر فرمایا ان لوگوں کو اپنی عقل پر یہاں تک بھروسہ ہے کہ اپنی عقلی باتوں سے آسمانی وحی کے مقابلہ کو مستعد ہیں۔ کیا عقل مند ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اپنی اولاد میں جب بیٹی ہو تو اس کو برا سمجھتے ہیں اور اللہ کے فرشتوں کو یہ لوگ اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں پھر فرمایا کہ کیا اللہ کے رسول اللہ کا حکم سنانے پر ان لوگوں سے کچھ اجرت مانگتے ہیں کہ اس چٹی کے بوجھ سے یہ لوگ اللہ کا حکم سننے سے بھاگتے ہیں۔ پھر فرمایا کیا ان کے پاس لوح محفوظ ہے کہ اس میں سے اللہ کی مرضی کی باتیں یہ لکھ لیتے ہیں اور ان کو اپنا دین ٹھہراتے ہیں اور وحی آسمانی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول پر جو دین کی باتیں اترتی ہیں ان کو نہیں مانتے پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو اللہ کے رسول کی وفات کے منتظر ہیں تو کیا اللہ کے رسول کے ساتھ کوئی ایسا فریب کرنے والے ہیں جس سے اللہ کے رسول کو کچھ ضرر پہنچے گا۔ اگر ایسا کریں گے تو یہ بات ان لوگوں کو یاد رہے کہ ان کا وہ فریب ان پر ہی الٹ پڑے گا اللہ کے رسول کو کچھ ضرر اس سے نہ پہنچے گا یہ آیت قرآن شریف کے کلام الٰہی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ قریش نے دارالندوہ میں جمع ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تلواروں سے وار کرنے کا فریب جو سوچا تھا وہ عین ہجرت کی رات کا مشورہ تھا۔ اور یہ آیت ہجرت سے پہلے کی مکی ہے۔ ہجرت کی رات کے بعد جو حصہ قرآن شریف کا نازل ہوا وہ مکی نہیں کہلاتا غرض ہجرت کی رات جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی خبر اس مکی آیت میں پہلے سے ہی دی ہے جو ایک معجزہ ہے۔ سورة انفال میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قریش کے جتنے آدمی اس دارالندوہ کے مشورہ میں شریک تھے بدر کی لڑائی میں وہ سب مارے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو فرمایا تھا کہ اللہ کے رسول کے مخالفوں کا فریب ان پر ہی الٹ پڑے گا۔ آخر کو ویسا ہی ہوا کہ بجائے اس کے کہ وہ مخالف لوگ اللہ کے رسول پر تلواروں کا حملہ کرتے خود ان ہی مخالفوں پر تلواروں کا حملہ ہو کر وہ سیدھے جہنم کو چلے گئے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی جھوٹا معبود ایسا ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ان لوگوں کو چھڑائے پھر اخیر کو فرمایا اللہ کی شان ان سب شرک کی باتوں سے بالاتر ہے اور مشرک لوگ اپنی ان شرک کی باتوں کا خمیازہ ایک دن بھگتنے والے ہیں۔ صحیح ١ ؎ بخاری مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپرگزر چکی ہے جس حاصل یہ ہے کہ جس دوزخی پر کم سے کم دوزخ کا عذاب ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے شخص تیرے پاس ساری دنیا ہو تو اس کے بدلے میں دے کر اس عذاب سے نجات چاہے گا وہ کہے گا کہ ہاں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے بدنصیب تجھ سے تو دنیا میں یہ ایک چھوٹی سی بات چاہی گئی تھی کہ تو شرک نہ کیجئومگر تو نے نہ مانا اب اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی نجات نہیں ہوسکتی یہ حدیث اور اس قسم کی اور حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہیں کہ مشرک کو اللہ کے عذاب سے کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:35) ام خلقوا من غیر شیئ۔ ام استفہام انکاری کے لئے آیا ہے ۔ خلقوا ماضٰ مجہول جمع ذکر غائب خلق (باب نصر) مصدر کیا وہ پیدا کئے گئے ۔ کیا وہ بنائے گئے۔ من غیر شیئ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) بغیر کسی خالق کے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ :۔ مراد اس سے یہ ہے کہ کیا بغیر رب خالق کے یہ پیدا ہوگئے۔ ایسا ناممکن ہے کیونکہ حادث جو پہلے معدوم تھا بغیر محدث (یعنی پیدا کرنے والے کے) پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ (2) وہ بغیر کسی وجہ کے پیدا کئے گئے ہیں یعنی عبادت پر مامور کئے جانے کے بغیر اور بلا سزا و جزاء کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کیا گیا ہے۔ کہ ان پر احکام شرعی نافذ نہ ہوں نہ ان کو اعمال کا اچھا یا برا بدلہ حشر میں نہ دیا جائے گا۔ (3) اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ بغیر مادے کے پیدا ہوگئے ہیں حالانکہ اس کا ان کو اقرار تھا اور ہونا بھی چاہیے اور سب کو اقرار ہے کہ انسان منی کے قطرہ سے بنایا گیا ہے۔ پس جیسا وہ جانتے ہیں تو سمجھ لیں کہ ایک قطرہ میں سے بعض کو قلب اور بعض کو دماغ اور بعض کو جگر اور بعض کو ہڈی اور بعض کو پٹھا بنادیا۔ اور پھر کسی نے یہ کاریگری اس میں کی ہے اسی خدائے قادر مطلق نے کہ جس کا کوئی شریک و مددگار نہیں۔ پس وہ قادر مطلق باردگر بھی اس کو پیدا کرسکتا ہے۔ (تفسیر حقانی) ام ہم الخالقون : یا وہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں۔ ام بطور استفہام انکاری ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 اس لئے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں مانتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معامیل میں خود مختار ہیں جو چاہیں کرتے پھریں ؟ ‘

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ام خلقوا ........ الخلقون (٢٥ : ٥٣) ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں “ ان کا وجود کسی چیز کے بغیر اسی طرح ہونا فطرت کی منطق کے خلاف ہے اور اس نکتے پر کسی قلیل یا کثیر جدل وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں تو اس کا کوئی قائل نہ تھا نہ وہ لوگ اس کے قائل تھے اگر یہ دونوں باتیں فطری استدلال کے خلاف ہیں تو پھر تیسری صورت وہی رہ جاتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور اس تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا ربوبیت ، عبادت اور اطاعت میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ نہایت سادہ اور فطری حقیقت ہے۔ ان کے تصور کو ذرا آسمانوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کیا اس وسیع کائنات کی انہوں نے تخلیق کی ہے۔ یہ کائنات خود بھی اپنی خالق نہیں ہے جس طرح یہ اپنے نفوس کے خود خالق نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ٠٠٣٥﴾ (کیا یہ لوگ یوں ہی بغیر خالق کے پیدا کردیئے گئے ہیں) ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے انہیں خود اقرار ہے کہ ہمارا خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں اگر یوں کہیں کہ ہمارا کوئی خالق نہیں تو پھر بتائیں یہ کیسے پیدا ہوئے کیا انہوں نے اپنی جانوں کو خود پیدا کرلیا، ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ جو شخص موجود نہ ہو نہ اپنی ذات کو پیدا کرسکتا ہے نہ اور کسی کو، جب مخلوق ہیں تو اپنے خالق پر ایمان بھی لائیں اس کی توحید کا بھی اقرار کریں اور اس پر ایمان بھی لائیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” ام خلقوا۔ تا۔ مرکوم “ زجرات ہیں، مشرکین کو ان کے ضد وعناد پر متنبہ کیا گیا ہے۔ ” من غیر شیء “ ای من اجل لاشیء من العبادۃ والمجازاۃ (مظہری ج 9 ص 99) ۔ کیا انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ انہیں عبادت اور جزاء وسزا کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بالکل ہی بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور اسی وجہ سے نیک کاموں میں انہیں کوئی رغبت نہیں یا وہ خود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں ؟ اور اس لیے اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتے۔ ” ام خلقوا السموات الخ “ کیا زمین و آسمان کو خود انہوں نے پیدا کیا ہے اور اس لیے خالق حقیقی کا شکر اور اس کی عبادت نہیں ؟ بل، بلکہ وہ یقین لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے دلائل قدرت میں غور و فکر ہی نہیں کرتے تاکہ بات ان کی سمجھ میں آجائے (مدارک) یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں مانتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(35) کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یعنی بغیر خالق کے پیدا نہیں ہوئے اور خود یہ اپنے خالق نہیں ورنہ تحصیل حاصل ہوگا پھر کیوں خالق کی یعنی واحدنیت پر ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت میں کئی شکلیں بن سکتی ہیں مگر ہم نے محض استفہام انکار کی تقری کردی ہے۔