Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 41
سورة الطور
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
Or that the Unseen is with them, and they write it down? means, they do not have knowledge of the Unseen, for none in the heavens or earth knows the Unseen except Allah, أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ
41۔ 1 کہ ضرور ان سے پہلے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرجائیں گے اور ان کو موت اس کے بعد آئیگی
[٣٥] جس کی بنا پر انہیں یقین ہوچکا ہے کہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔
(ام عندھم الغیب فہم یکتبون :)” عندھم “ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا ہے، اس لئے ترجمہ ” یا انھی کے پاس غیب ہے “ کیا گیا ہے۔ یعنی یا پھر انہیں آپ کے اتباع کی ضرورت اس لئے نہیں کہ سارا غیب انھی کے پاس ہے اور وہ اپنے معاملتا کے فیصلے خود ہی وہاں سے لکھ لیتے ہیں، اسلئے انہیں اس کتاب کی ضرورت ہی نہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ یہاں بھی سوال ہی پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ اس کا جواب ظاہر ہے کہ سارے غیب کا بلاشرکت کغیرے مالک ہونا تو بہت ہی دور ہے۔ یہ تو غیب کے ایک ذرے سے بھی آگاہ نہیں۔ پھر یہ اللہ کی کتابا ور اس کے رسول سے کس طرح مستغنی ہوسکتے ہیں۔
اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَيْبُ فَہُمْ يَكْتُبُوْنَ ٤١ ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے كتب ( لکھنا) الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، وقوله : قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] . ( ک ت ب ) الکتب ۔ کے اصل معنی کھال کے دو ٹکڑوں کو ملاکر سی دینے کے ہیں چناچہ کہاجاتا ہے کتبت السقاء ، ، میں نے مشکیزہ کو سی دیا کتبت البغلۃ میں نے خچری کی شرمگاہ کے دونوں کنارے بند کرکے ان پر ( لوہے ) کا حلقہ چڑھا دیا ، ، عرف میں اس کے معنی حروف کو تحریر کے ذریعہ باہم ملا دینے کے ہیں مگر کبھی ان حروف کو تلفظ کے ذریعہ باہم ملادینے پر بھی بولاجاتا ہے الغرض کتابۃ کے اصل معنی تو تحریر کے ذریعہ حروف کو باہم ملادینے کے ہیں مگر بطور استعارہ کبھی بمعنی تحریر اور کبھی بمعنی تلفظ استعمال ہوتا ہے اور بناپر کلام الہی کو کتاب کہا گیا ہے گو ( اس وقت ) قید تحریر میں نہیں لائی گئی تھی ۔ قرآن پاک میں ہے : الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب ( قرآن مجید ) اس میں کچھ شک نہیں ۔ قالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ [ مریم/ 30] میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے ۔
کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یا ان کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے کہ اس میں اپنے اعمال و اقوال میں سے جو چاہتے ہیں لوح محفوظ سے لکھ لیتے ہیں۔
آیت ٤١{ اَمْ عِنْدَہُمُ الْـغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُـبُوْنَ ۔ } ” کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟ “
32 That is, "What particular knowledge do you have to refute the truths that the Messenger is presenting before you, which you may present with the claim that you directly know the realities hidden behind the phenomenal world? Do you really have the knowledge that God is not One, but all those whom you have set up as deities also possess godly attributes and powers ? Have you really seen the angels and found that they are girls, and, God forbid, are begotten of God? Do you really know that the Revelation has neither come to Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), nor it can come to any man, from God ? Do you really have the knowledge that no Resurrection will take place, that there is going to be no life after death, that there will be no Hereafter when man will be subjected to accountability and rewarded or punished according to his deeds? If you claim to possess any such knowledge, can you give in writing that you are belying what the Prophet says about the unseen realities on the ground that you have peeped into the hidden realities and seen that the truth is not that which the Prophet presents. " Here, one may express the misgiving that if in response to this, those people had given this in writing, in their stubbornness, will not this reasoning have become meaningless? But this misgiving is misplaced because even if they had given this in writing on account of their stubbornness, the common people of society in which this challenge had been given openly were not blind: everyone of them would have understood that the writing had been given out of sheer stubbornness, and no one, in fact, was refining what the Prophet said on the basis that he had the knowledge that it was false.
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :32 یعنی رسول تمہارے سامنے جو حقائق پیش کر رہا ہے ان کو جھٹلانے کے لیے آخر تمہارے پاس وہ کون سا علم ہے جسے تم اس دعوے کے ساتھ پیش کر سکو کہ پردۂ ظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقتوں کو تم براہ راست جانتے ہو؟ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ خدا ایک نہیں ہے بلکہ وہ سب بھی خدائی صفات و اختیارات رکھتے ہیں جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے؟ کیا واقعی تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں اور نعوذ باللہ ، خدا کے ہاں پیدا ہوئی ہیں ؟ کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ کوئی وحی نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ہے نہ خدا کی طرف سے کسی بندے کے پاس آسکتی ہے؟ کیا واقعی تمہیں اس بات کا علم ہے کہ کوئی قیامت برپا نہیں ہونی ہے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہو گی اور کوئی عالم آخرت قائم نہ ہو گا جس میں انسان کا محاسبہ ہو اور اسے جزا و سزا دی جائے؟ اگر اس طرح کے کسی علم کا تمہیں دعویٰ غیب کے پیچھے جھانک کر تم نے یہ دیکھ لیا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو رسول بیان کر رہا ہے؟ اس مقام پر ایک شخص یہ شبہ ظاہر کر سکتا ہے کہ اس کے جواب میں اگر وہ لوگ ہٹ دھرمی کی بنا پر وہ لکھ بھی دیتے تو جس معاشرے میں یہ چیلنج برسر عام پیش کیا گیا تھا اس کے عام لوگ اندھے تو نہ تھے ۔ ہر شخص جان لیتا کہ یہ لکھا سراسر ہٹ دھرمی کے ساتھ دیا گیا ہے اور در حقیقت رسول کے بیانات کو جھٹلانے کی بنیاد یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی کو ان کے خلاف واقعہ ہونے کا علم حاصل ہے ۔
11: مشرکین کے جن عقائد کا ذکر پچھلے حاشیہ میں کیا گیا ہے، وہ سب عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کی باتیں انہوں نے لکھ کر محفوظ کر رکھی ہوں؟
(52:41) ام : استفہامیہ انکاری کے لئے ہے۔ الغیب سے مراد کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس کے نزدیک الغیب سے مراد لوح محفوظ ہے کہ جس میں تمام غائنات کا اندراج ہوتا ہے فھو یکتبون کہ جہاں سے وہ لکھ لیتے ہیں۔ بیضاوی کا بھی یہی قول ہے۔ (2) قتادہ نے کہا ہے کہ یہ جواب ہے کافروں کے قول کا ۔ کافروں نے کہا تھا کہ نتربص بہ ریب المنون۔ اللہ نے اس کا جواب دیا۔ کیا ان کو علم غیب ہے کہ (حضرت) اس صورت میں فھو یکتبون کا ترجمہ ہوگا۔ جس کی بنا پر وہ فیصلہ دے رہے ہیں۔ یکتبون بمعنی یحکمون ہے۔
ف 3 یعنی ان کے مطابق اپنے معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس قانون سے بےنیاز سمجھتے ہیں جسے خدا کی طرف سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کر آئے ہیں۔
ام عندھم ........ یکتبون (٢٥ : ١٤) ” کیا ان کے پاس غیب کے حقائق ہیں کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہیں “ ان کو معلوم ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے اور نہ وہ غیب کے علم سے لکھ رہے ہیں نہ ان کو اس پر قدرت ہے کہ غیب میں وہ کوئی فیصلے لکھیں۔ یہ اللہ ہی ہے جو غیب کی کتابوں میں بندوں کی تقدیر لکھتا ہے۔ جو ذات غیب جانتی ہے وہی تدبیر امور کرسکتی ہے۔ تقدیروں کے فیصلے کرسکتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیب نہیں جانتے اور غیب کے ذخائر میں وہ کچھ بھی ثبت نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ یہ لوگ آپ کے مستقبل میں تصرف کرسکتے ہیں نہ کوئی سازش کرسکتے ہیں۔
﴿اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَؕ٠٠٤١﴾ یعنی یہ جو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موت کے حادثہ میں دنیا سے رخصت ہوجائیں گے جسے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ان کی اس بات کی بنیاد کیا ہے کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے اور انہیں پتہ ہے کہ داعی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت ہمارے سامنے ہوگی اور یہ خود اس کے بعد زندہ رہیں گے اور آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ نہ یہ رہے گا اور نہ ان کا دین رہے گا۔ (ذكرہ القرطبی)
20:۔ ” ام عندھم۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتے ہیں اور انہوں نے آئندہ واقع ہونے والی غیب کی باتیں لوح مھفوظ سے نوٹ کرلی ہیں کہ دعوے کرتے پھر رہے ہیں کہ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آ بھی گئی تو ہم عذاب سے مھفوظ رہیں گے۔ ” ام یریدون کیدا۔ الایۃ “ کیا وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے خلاف کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں ؟ یاد رکھیں کافروں کے منصوبے انہی پر الٹ دئیے جاتے ہیں اور پیغبروں کو ان سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کا ان کا منصوبہ ناکام کردیا گیا اور خود ان کو جنگ بدر میں قتل اور قید و بند کی سزا دی گئی۔
(41) کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں۔ یعنی یہ جو آپ کے مقابلے میں بےسروپا بکواس بکتے رہتے ہیں کہ ہم کو قیامت میں بھی مزے ہوں گے اور مسلمان یہاں بھی تکلیف میں ہیں وہاں بھی دکھ بھریں گے تو کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ اس کو محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جو انہوں نے لوح محفوظ سے لکھ لیا ہے یعنی جب کوئی بات بھی نہیں تو پھر عالم آخرت کے متعلق کیوں بےکار یا وہ گوئی کرتے ہیں۔