Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 41
سورة الطور
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
|
اَمۡ
یا
|
عِنۡدَہُمُ
ان کے پاس
|
الۡغَیۡبُ
غیب ہے
|
فَہُمۡ
تو وہ
|
یَکۡتُبُوۡنَ
وہ لکھ رہے ہیں
|
|
اَمۡ
یا
|
عِنۡدَہُمُ
ان کے پاس
|
الۡغَیۡبُ
کوئی غیب ہے
|
فَہُمۡ
پس وہ
|
یَکۡتُبُوۡنَ
لکھتے ہیں
|
Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
Or have they the knowledge of the Unseen, and they are recording it?
کیا ان کو خبر ہے بھید کی سو وہ لکھ رکھتے ہیں
Or is it that they have access to (the Truths in) the realm beyond sense-perception which they are writing down?
کیا ان کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں ؟ 32 ۔
یا ان کو غیب کی باتیں معلوم ہیں وہ ان کو لکھتے رہتے ہیں 3
Is with them the Unseen, and they write it down!
کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیا کرتے ہیں ؟
کیا ان کے پاس غیب (کے حقائق) کا علم ہے جس کی بناء پر یہ لکھ لیتے ہیں ؟
Do they have knowledge of the unseen, thus, are able to predict (the future)?
या उन के पास परोक्ष (स्पष्ट) है जिस के आधार पर वे लिख रहे हों?
کیا ان کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اس کی بنا پر لکھ رہے ہوں ؟