Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 27

سورة النجم

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾

Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Refuting the Claim of the Idolators that the Angels are Allah's Daughters Allah the Exalted admonishes the idolators, إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِالاْخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَيِكَةَ تَسْمِيَةَ الاُْنثَى Verily, those who believe not in the Hereafter, name the angels with female names. Allah the Exalted admonishes the idolators for calling the angels female names and claiming that they are Allah's daughters. Allah is far removed from what they ascribe to Him. Allah the Exalted said in another Ayah, وَجَعَلُواْ الْمَلَـيِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـنِ إِنَـثاً أَشَهِدُواْ خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَـدَتُهُمْ وَيُسْـَلُونَ And they make females the angels, who themselves are servants of the Most Gracious. Did they witness their creation? Their testimony will be recorded, and they will be questioned! (43:19) Allah's statement here,

آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں ۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀ ) 43- الزخرف:19 ) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں ۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا ( آخرت میں ) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال ( آخرت میں ) کنگال نہ ہو ، ایک منقول دعا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں ( اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا ) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر ۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] اپنی دیویوں سے متعلق مشرکین مکہ کے عقائد :۔ فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ ان کی اطاعت اضطراری اور اجباری ہے اختیاری نہیں۔ پھر وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن ان مشرکوں نے ان فرشتوں کو خدائی اختیارات سونپ کر ان کی پوجا شروع کردی۔ دوسرا ستم یہ ڈھایا کہ انہیں اللہ کی اولاد قرار دے دیا اور تیسرا یہ کہ فرشتوں کو مونث سمجھ لیا اور ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتی ہیں اور اگر قیامت فی الواقع ہوئی تھی ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گی۔ پھر انہوں نے ان کے خیالی پتھر کے مجسمے تراش کر انہی کی پوجا شروع کردی۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کا آخرت پر یقین نہیں۔ اور اس دنیا کی زندگی میں ایک کافر و مشرک اور ایک موحد میں کوئی مابہ الامتیاز فرق نہیں ہوتا۔ بیمار مشرک بھی ہوتے ہیں اور موحد بھی۔ خوشحال مشرک بھی ہوتے ہیں اور موحد بھی۔ مصائب و مشکلات مشرکوں پر بھی پڑتی ہیں اور موحدین پر بھی۔ بلکہ موحدین کی دنیا کی زندگی کافر اور مشرکوں کی زندگی سے زیادہ کٹھن ہوتی ہے کیونکہ انہیں حلال و حرام کی اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام کی بھی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے مشرکوں کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ مسئلہ نہیں کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے یا جتنے اور جس قسم کے چاہے معبود بنا لے۔ اس کے نزدیک حق و باطل کا فیصلہ بس اسی دنیا میں ہوتا ہے اور اس دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج قطعاً یہ فیصلہ نہیں دیتے کہ موحد حق پر ہیں اور مشرک باطل پر۔ لہذا یہ بات مشرکوں کی خواہش اور مرضی پر ہی منحصر ہوتی ہے کہ جس چیز کو چاہے معبود بنالیں اور جتنے چاہیں بنا ڈالیں اور جب چاہیں ایک کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اپنا معبود بنا ڈالیں۔ اور جو کچھ یہ کرتے ہیں محض اپنے وہم اور قیاس سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شرک و کفر اور توحید کے نتائج کے لیے عالم آخرت بنایا ہے، عالم دنیا نہیں۔ اور یہی عالم آخرت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اللہ اس دنیا میں ہی موحد اور مشرک کے درمیان واضح اور قطعی نتائج دکھا دیتا تو اس طرح دنیا میں کسی کا امتحان ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ البتہ جو لوگ آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں وہ شرک کر ہی نہیں سکتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ان الذین لایومنون بالاخرۃ …: اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة زخرف (١٩) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃَ تَسْمِيَۃَ الْاُنْثٰى۝ ٢٧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ فرشته الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك . ( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور مالک وما لکۃ والوک کے معنی رسالت یعنی پیغام کے ہیں اسی سے لکنی کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں اسے میرا پیغام پہنچادو ، ، ۔ الملائکۃ کا لفظ ( اسم جنس ہے اور ) واحد و جمع دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا } ( سورة الحج 75) خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے ۔ خلیل نے کہا ہے کہ مالکۃ کے معنی ہیں پیغام اور اسے ) مالکۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی منہ میں چبایا جاتا ہے اور یہ فرس یالک اللجام کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گھوڑے کا منہ میں لگام کو چبانا ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ، ولمّا کان الأنثی في جمیع الحیوان تضعف عن الذکر اعتبر فيها الضعف، فقیل لما يضعف عمله : أنثی، ومنه قيل : حدید أنيث قال الشاعر : عندي ... جراز لا أفلّ ولا أنيث وقیل : أرض أنيث : سهل، اعتبارا بالسهولة التي في الأنثی، أو يقال ذلک اعتبارا بجودة إنباتها تشبيها بالأنثی، ولذا قال : أرض حرّة وولودة . ولمّا شبّه في حکم اللفظ بعض الأشياء بالذّكر فذكّر أحكامه، وبعضها بالأنثی فأنّث أحكامها، نحو : الید والأذن، والخصية، سمیت الخصية لتأنيث لفظ الأنثيين، وکذلک الأذن . قال الشاعر : ضربناه تحت الأنثيين علی الکرد وقال آخر : وما ذکر وإن يسمن فأنثی يعني : القراد، فإنّه يقال له إذا کبر : حلمة، فيؤنّث . وقوله تعالی: إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِناثاً [ النساء/ 117] فمن المفسرین من اعتبر حکم اللفظ فقال : لمّا کانت أسماء معبوداتهم مؤنثة نحو : اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَناةَ الثَّالِثَةَ [ النجم/ 19- 20] قال ذلک : ومنهم۔ وهو أصحّ- من اعتبر حکم المعنی، وقال : المنفعل يقال له : أنيث، ومنه قيل للحدید الليّن : أنيث، فقال : ولمّا کانت الموجودات بإضافة بعضها إلى بعض ثلاثة أضرب : - فاعلا غير منفعل، وذلک هو الباري عزّ وجلّ فقط . - ومنفعلا غير فاعل، وذلک هو الجمادات . - ومنفعلا من وجه کالملائكة والإنس والجن، وهم بالإضافة إلى اللہ تعالیٰ منفعلة، وبالإضافة إلى مصنوعاتهم فاعلة، ولمّا کانت معبوداتهم من جملة الجمادات التي هي منفعلة غير فاعلة سمّاها اللہ تعالیٰ أنثی وبكّتهم بها، ونبّههم علی جهلهم في اعتقاداتهم فيها أنها آلهة، مع أنها لا تعقل ولا تسمع ولا تبصر، بل لا تفعل فعلا بوجه، وعلی هذا قول إبراهيم عليه الصلاة والسلام : يا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئاً [ مریم/ 42] . وأمّا قوله عزّ وجل : وَجَعَلُوا الْمَلائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبادُ الرَّحْمنِ إِناثاً [ الزخرف/ 19] فلزعم الذین قالوا : إنّ الملائكة بنات اللہ . ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) اور چونکہ تمام حیوانات میں مادہ منسلک نر کے کمزور ہوتی ہے لہذا اس میں معنی ضعف کا اعتبار کرکے ہر ضعیف الاثر چیز کو انثیٰ کہہ دیا جاتا ہے چناچہ کمزور لوہے کو حدید انیث کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ع (28) ۔۔۔۔۔ عندی ۔۔ جراز لا افل ولا انیث میرے پاس شمشیر براں ہے جو کند اور کمزور نہیں ہی ۔ اور انثی ٰ ( مادہ) کے ساتھ تشبیہ دیکر نرم اور زرخیز زمین کو بھی ارض انیث کہہ دیا جاتا ہے یہ تشبہ یا تو محض نری کے اعتبار سے ہے ۔ اور یا عمدہ اور پیداوار دینے کے اعتبار سے ہے سے اسے انیث کہا گیا ہے جیسا کہ زمین کو عمدہ اور پیداوار کے اعتبار سے حرۃ اور ولو د کہا جات ہے ۔ پھر بعض اشیاء کو لفظوں میں مذکر کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کے لئے صیغہ مذکر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور بعض کو مؤنث کے ساتھ تشبیہ دے کر صیغہ تانیث استعمال کرتے ہیں جیسے ۔ ید ۔ اذن اور خصیۃ چناچہ خصیتیں پر تانیث لفظی کی وجہ سے انثیین کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( ع وافر) (29) وماذکر وان یسمن مانثی ٰاور کونسا مذکر ہے کہ اگر وہ موٹا ہوجائے تو مؤنث ہوجاتا ہے ۔ اس سے مراد قرا دیعنی چیچر ہے کہ جب وہ بڑھ کر خوب موٹا ہوجاتا ہے تو اسے حلمۃ بلفظ مونث کہا جاتا ہے اسی طرح آیت کریمہ ؛۔ { إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا } ( سورة النساء 117) وہ خد ا کے سو ا جن کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ مادہ ہیں ۔ میں اناث ، انثی ٰ کی جمع ہے ) بعض مفسرین نے احکام لفظیہ کا اعتبار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرکین اپنے بتوں کو جن اسماء سے پکارتے تھے جیسے لات ، عزی ، منات الثالثہ یہ سب مؤنث ہیں اس لئے قرآن نے اناث کہہ کر پکارا ہے ۔ اور بعض نے معنٰی کا اعتبار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر منفعل اور ضعیف چیز کو انیث کہا جاتا ہے جیسے کمزور لوہے پر انیث کا لفظ بولتے ہیں اسکی تفصیل یہ ہے کہ موجودات کی باہمی نسبت کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں فاعل غیر منفعل ، یہ صفت صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔ منفعل غیر فاعل یہ خاصہ جمادات کا ہے ۔ 3 ۔ ایک اعتبار سے فاعل اور دوسرے اعتبار سے منفعل جیس جن دانس اور ملائکہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے منفعل اور اپنی مصنوعات کے لحاظ سے فاعل ہے اور چونکہ ان کے معبود جمادات کی قسم سے تھے جو منفعل محض ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں اثاث کہہ کر پکارا ہے اور اس سے ان کی اعتقادی جہالت پر تنبیہ کی ہے کہ جنکو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں نہ عقل ہے نہ سمجھ ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ کسی حیثیت سے بھی کوئی کام سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے و تو حید کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ) اپنے باپ سے کہا ۔ { يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا } ( سورة مریم 42) کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں لیکن آیت کریمہ ؛۔ { وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا } ( سورة الزخرف 19) اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندہ ہیں ( مادہ خدا کی بیٹیاں ) بنادیا میں ملائکہ کو اناث قرار دینے کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧۔ ٢٨) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی کفار مکہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں حالانکہ ان کے اس قول پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں صرف یہ لوگ گمان سے گھڑ کر ایسی باتیں بک رہے ہیں اور گمان سے کسی کی عبادت کرنا اور گمانی باتیں کرنا عذاب خداوندی کے سامنے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی ۔ } ” یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مونث نام رکھ دیے ہیں ۔ “ اور پھر اپنے خیال کے مطابق ان ہی ناموں پر انہوں نے اپنے لیے دیویاں گھڑ لی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 That is, "Their first folly is that they have taken these powerless angels who cannot even intercede for anyone before AIIah as their deities; their second folly is that they regard them as female and daughters of Allah. The basic reason for these errors is that they do not believe in the Hereafter. For had they been believers in the Hereafter, they would never have behaved so irrationally and irresponsibly. Their denial of the Hereafter has made them heedless of their end, and they think that believing or disbelieving in God, or believing in a thousand gods, dces not make any difference, for none of these creeds seems to entail any good or bad result in the present life of the world. Whether the people are deniers of God, or believers in many gods, or in One God, their crops ripen as well as fail, they fall iII as well as recover from illness, and they pass through all kinds of circumstances, good as well as bad. Therefore it is not at aII an important and serious matter for them that man should or should not take some one as a deity, or should take as many deities or of any kind as he likes of his choice. When according to them the decision as to what is truth and what is falsehood is to take place in this very world, depending on the results thereof appearing here, obviously the results here do not decide absolutely that one creed is true and another false. Therefore, the adoption of one creed and rejection of another is a matter of men whim with these people."

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :22 یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ ان بے اختیار فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ سے سفارش تک کرنے کا یارا نہیں رکھتے انہوں نے معبود بنا لیا ہے ۔ اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورتیں سمجھتے ہیں اور ان کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ۔ ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کو نہیں مانتے ۔ اگر وہ آخرت کے ماننے والے ہوتے تو کبھی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کر سکتے تھے ۔ انکار آخرت نے انہیں انجام سے بے فکر بنا دیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو ماننے یا نہ ماننے ، یا ہزاروں خدا مان بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا ، کیونکہ ان میں سے کسی عقیدے کا بھی کوئی اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نکلتا نظر نہیں آتا ۔ منکرین خدا ہوں یا مشرکین یا موحدین ، سب کی کھیتیاں پکتی بھی ہیں اور جلتی بھی ہیں ۔ سب بیمار بھی ہوتے ہیں اور تندرست بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ ہر طرح کے اچھے اور برے حالات سب پر گزرتے ہیں ۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ معاملہ نہیں ہے کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے ، یا جتنے اور جیسے چاہے معبود بنا لے ۔ حق اور باطل کا فیصلہ جب ان کے نزدیک اسی دنیا میں ہونا ہے ، اور اس کا مدار اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج پر ہے ، تو ظاہر ہے کہ یہاں کے نتائج نہ کسی عقیدے کے حق ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں نہ کسی دوسرے عقیدے کے باطل ہونے کا ۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے لیے ایک عقیدے کو اختیار کرنا اور دوسرے عقیدے کو رد کر دینا محض ایک من کی موج کا معاملہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: یعنی انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:27) ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ۔ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ فاعل۔ لیسمون : لام تاکید کا۔ یسمون مضارع جمع مذکر غائب۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر۔ وہ نامزد کرتے ہیں (فعل) الملئکۃ : فرشتوں کو۔ مفعول اول۔ تسمیۃ الانثی : مضاف مضاف الیہ تسمیۃ نا رکھنا بروزن تفعلۃ باب تفعیل سے مصدر ہے انثی عورت کا سا (نام رکھنا) مفعول ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے سے نام سے نامزد کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر ہوتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان الذین ........ شیئا (٣٥ : ٨٢) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر کوئی دلیل ہی نہ تھی اور سچائی اوہام اور افسانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حق اور سچائی کو وہ چھوڑ چکے ہیں لہٰذا اس متاع کم گشتہ کی جگہ اور کوئی چیز لے ہی نہیں سکتی۔ جب اہل شرک کے عقائد کو یہاں تک لے لیا گیا کہ عقائد شرکیہ اس قدر بےاصل ہیں اور جو لوگ شرک کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں اور فرشتوں کو بیٹیاں کہتے ہیں ان کے عقائد ظن اور وہم پر مبنی ہیں تو اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جاتا کہ آپ ان لوگوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کو اچھا جانتا ہے۔ وہ اہل ہدایت اور اہل ضلالت دونوں کو جزا اور سزا دے گا۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے اختیارات ہیں۔ دنیا آخرت کے امور ہیں۔ وہ سب کے ساتھ حساب عدل سے کرے گا۔ کسی پر ظلم نہ کرے گا اور جو لوگ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے اللہ ان کو چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کرتا ہے۔ وہ نیتوں اور رازوں کو جانتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کو وہ دوسروں کے مقابلے میں اچھا جانتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین نے اپنی طرف سے فرشتوں کا مادہ ہونا تجویز کیا مشرکین جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اس کے بارے میں فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى ٠٠٢٧﴾ (بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو مونث یعنی لڑکی کے نام سے نامزد کرتے ہیں) ان کی یہ سب بری حرکتیں ہیں اور برے عقیدے ہیں اور ان کے یہ جو خیالات ہیں فکر آخرت نہ ہونے کی وجہ سے ہیں اگر آخرت پر ایمان لاتے اور یہ فکر ہوتا کہ موت کے بعد ہمارا کیا بنے گا ایسا تو نہیں کہ ہمارے عقائد اور اعمال ہمیں عذاب میں مبتلا کردیں تو بغیر قطعی دلیل کے فرشتوں کو نہ عورت بتاتے اور نہ ان کو اللہ کی اولاد بتاتے، اپنی عقل کو کام میں نہ لائے ساری باتیں محض گمان سے کرتے رہے نہ دلیل نہ حجت محض اٹکل پچو باتیں بناتے رہے اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے رہے۔ ایمان اور فکر آخرت کی ضرورت اللہ جل شانہٗ نے جو ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ﴾ (الایۃ) فرمایا ہے اس میں ایک اہم مضمون کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ شرکیہ باتیں کرتے ہیں معلوم ہوا کہ آخرت پر یقین نہ ہونا کفر وشرک اختیار کرنے اور اس پر جمے رہنے کا بہت بڑا سبب ہے۔ آخرت پر یقین نہیں اور آخرت کا تصور ہے تو یوں ہی جھوٹا سا دھندلا سا ہے پھر ان کے دینی ذمہ داروں نے یہ سمجھا دیا ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو یہ تمہیں قیامت کے دن سفارش کرکے عذاب سے بچا لیں گے لہٰذا تھوڑا بہت جو آخرت کا ڈر اور فکر تھا وہ ختم ہوا، مشرکین تو کافر ہیں ہی ان کے علاوہ جو کافر ہیں ان کی بہت سی قسمیں اور بہت سی جماعتیں ہیں ان میں بعض تو ایسے ہیں جو نہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے وجود کو مانتے ہیں نہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارا کوئی خالق ہے اور نہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں انکے عقیدہ میں جب کوئی خالق ہی نہیں تو کون حساب لے گا اور کون دوبارہ زندہ کرے گا یہ ملحدین کا اور دہریوں کا عقیدہ ہے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی دین اور دھرم کے قائل ہیں اللہ تعالیٰ کو بھی خالق اور مالک مانتے ہیں لیکن شرک بھی کرتے ہیں اور تناسخ یعنی آواگون کا عقیدہ رکھتے ہیں آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ اور عقاب کا تصور ان کے یہاں نہیں ہے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو انبیائے کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں یعنی یہودونصاریٰ یہ لوگ دوسرے کافروں کی نسبت آخرت کا ذرا زیادہ تصور رکھتے ہیں لیکن دونوں قوموں کو عناد اور ضد نے برباد کردیا سیدنا محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ایمان نہیں لاتے یہودیوں کی آخرت سے بےفکری کا یہ عالم ہے کہ یوں کہتے ہیں ﴿ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ﴾ (ہمیں ہرگز آگ نہ پکڑے گی مگر چند روز) یہ جانتے ہوئے کہ دنیاوی آگ ایک منٹ بھی ہاتھ نہیں لے سکتے اپنے اقرار سے چند دن کے لیے دوزخ میں جانے کو تیار لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ اور نصاریٰ کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ آخرت کے عذاب کا یقین رکھتے ہوئے اپنے دینی پیشواؤں اور پادریوں کی باتوں میں آگئے جنہوں نے یہ سمجھا دیا کہ کچھ بھی کرلو اتوار کے دن چرچ میں آجاؤ بڑے بڑے گناہ جو کیے ہیں وہ پادری کو بتادو وہ انہیں معاف کر دے گا اور دوسرے گناہوں کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ پادری کے اعلان سے سارے معاف ہوجائیں گے ایسی بےوقوفی کی باتوں کو مان کر آخرت کے عذاب سے غافل ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہیں، بےفکری نے ان سب کا ناس کھویا ہے آخرت کے عذاب کا جو دھندلا سا تصور ذہن میں تھا اسے بھی ان کے بڑوں نے کالعدم کردیا، دھڑلے سے کفر پر بھی جمے ہوئے ہیں اور شرک پر بھی اور کبیرہ گناہوں پر بھی، غور کرنے کی بات ہے کہ نافرمانی کی خالق تعالیٰ جل مجدہ کی اور معاف کردیں بندے ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ آخرت کے عذاب سے بچنے کی فکر کرنا لازم ہے : انسانوں کو موت کے بعد کا فکر ہی نہیں اور یہ یقین ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے اپنی طرف سے کوئی دین بھیجا ہے جس کے ماننے اور قبول کرنے پر آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے نہ فکر ہے نہ یقین ہے اس لیے کفر و شرک اور گنہگاری کی زندگی میں مبتلا ہیں، فکر اور یقین بہت بڑی چیز ہے، اگر کسی کو فکر لاحق ہوجائے اور کفروشرک پر مرنے سے عذاب میں مبتلا ہونے کا یقین ہوجائے تو نیند نہ آئے اور نہ کھانے میں مزا آئے جب تک اس دین کو تلاش نہ کرلیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بھیجا ہے اور اس کے انکار پر دوزخ میں داخل کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اس کی تحقیق کرنے سے پہلے نہ جینے میں مزہ آتا نہ خوشیاں مناتے نہ مستیاں کرتے۔ اگر واقعی فکر کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ سب کی سمجھ میں یہی آئے گا کہ صرف دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر ہے اور اسی میں نجات ہے اس کے خلاف کسی کی بات نہ مانیں نہ کسی سردار کی نہ پیشوا کی، نہ پوپ کی نہ پادری کی، اور ہر شخص مذہب کے بڑوں کو جواب دے کہ دین کو اختیار کرنا دوزخ کے عذاب سے بچنے کے لیے ہے دنیا میں گروہ بندی کرنے کے لیے نہیں ہے تم اپنی بڑائی باقی رکھنے اور ایک جماعت کا سردار اور پیشوا بننے کی حرص میں ہمارا ناس کیوں کھوتے ہو اور اپنے ساتھ ہمیں دوزخ میں لے جانے کی فکر میں کیوں مبتلا ہو ؟ درحقیقت آخرت پر پختہ ایمان نہ ہونا خواہشات نفس کا اتباع کرنا، اٹکل پچو اپنے لیے دین تجویز کرلینا ان تین باتوں نے انسانوں کو دوزخ میں ڈالنے کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ بہت سے وہ لوگ جو مسلمان ہیں آخرت کا یقین بھی رکھتے ہیں لیکن خواہشات نفس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، یہ لوگ بھی اپنی جانوں کو آخرت کے عذاب میں مبتلا کرنے کے لیے تیار ہیں، نمازیں چھوڑنے والے زکوٰتیں روکنے والے، حرام کمانے والے، حرام کھانے والے اور دوسرے گناہوں میں جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کے ایمان کو خواہشات نفس نے کمزور کر رکھا ہے فکر آخرت نہیں اس لیے گناہ نہیں چھوڑتے۔ گمان کی حیثیت : آیات بالا میں گمان کے پیچھے پڑنے کی بھی مذمت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ ” گمان حق کا فائدہ نہیں دیتا۔ “ اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے جو قرآن و حدیث کی تصریحات کے مقابلہ میں اپنے خیال اور گمان کے تیر چلاتے ہیں اور دینی مسائل میں دخل دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یوں ہے یا یوں ہونا چاہیے۔ جو لوگ عموماً دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرتے ہیں اور ان کی یہ بدگمانی انہیں غیبت اور تہمت پر آمادہ کردیتی ہے (اپنی آخرت کی فکر نہیں کرتے) یہ لوگ اپنی بہت سی ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے رسوا بھی ہوجاتے ہی اور آخرت میں گناہوں کا نتیجہ سامنے آہی جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث (بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ بدگمانی باتوں میں سب سے جھوٹی بات ہے) ۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ ٤٢٧ عن البخاری و مسلم)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16: ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ ان کا یہ دعوے سراسر بےدلیل اور ان کی جہالت و سفاہت پر مبنی ہے، وہ محض ایک خیال باطل اور وہم فاسد کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ داد سے حاصل کیے ہیں۔ بھلا وہم و خیال سے بھی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے ؟ حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تو یقینی اور قطعی دلیلوں کی ضرورت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) بلا شبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو لڑکیوں کے نام سے نامزد کرتے ہیں اور ……فرشتوں کے زنانے اور عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں۔