Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 27

سورة الرحمن

وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾

And there will remain the Face of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the Face of your Lord Dhul-Jalal wal-Ikram will remain forever." This Ayah is similar to Allah's statement, كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ Everything will perish save His Face. (28:88) In this Ayah, Allah describes His Noble Face as being Dhul-Jalal wal-Ikram, indicating that He is Worthy of being revered, and thus, never defied; and obeyed, and thus, never disobeyed, وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon, seeking His Face. (18:28), And as He said about those giving charity: إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ We feed you seeking Allah's Face only. (76:9) Ibn Abbas commented on the meaning of Dhul-Jalal wal-Ikram, by saying, "Owner of greatness and pride." After Allah stated that all of the inhabitants of the earth will die and end up in the Hereafter when He, Dhul-Jalal wal-Ikram, will judge them by His fair judgement, He said, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] ہر چیز فنا ہونے والی ہے استثناء صرف اللہ کے لئے ہے :۔ یعنی جو چیز بھی مخلوق ہے وہ حادث ہے اور قدیم صرف اللہ کی ذات ہے جو چیز بنی ہے خواہ وہ بےجان ہو ایک نہ ایک دن ضرور اپنا کام چھوڑ دے گی۔ خراب ہوجائے گی، برباد اور فنا ہوگی اور جو جاندار ہے وہ بھی ضرور موت سے دو چار ہوگی۔ صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم اور ازلی ابدی ہیں۔ لہذا ان کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اللہ کی صفات سے مراد مثلاً کلام اللہ یا قرآن یا لوح محفوظ اور اعمالنامے وغیرہ ہیں۔ رہے فرشتے بالخصوص حاملان عرش تو ان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ قرآن میں کئی مقامات پر فرشتے اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ جیسے جبریل نے سیدہ مریم کے سامنے آکر کہا تھا (لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا 19 ۔ ) 19 ۔ مریم :19) حالانکہ لڑکا یا اولاد عطا کرنا اللہ کی صفت اور اس کا کام ہے فرشتوں کا نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :” الجلیل “ کا معنی عظمت و کبیریائی ہے اور ” الاکرام “” اکرم یکرم “ ( افعال) کا مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ” ذوالاکرام “ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ عزت دینے والا وہی ہے ، کوئی اور نہیں ، جیسے فرمایا (وَمَنْ یُّہِنِ اللہ ُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط ) (الحج : ١٨)” اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں “۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے ، اس کے بندے اس کی توحید و تسبیح و عبادت کے ساتھ اس کا اکرام کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَجْهُ رَ‌بِّكَ (...your Lord&s Countenance ....55:27). The word wajh [ Face ], according to majority of the exegetes, stands for the &Being of Allah&. The attached second person pronoun in rabb-i-ka [=your Lord ] refers to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It is a great honour for him that he should be remembered by Allah in special ways when praising him, as for instance, ` abduhu (His servant). Here, Allah, the Lord of lords, declares His direct special relationship with the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and addresses him thus: rabb-i-ka [ your Lord ]. According to the well-known exegetes, the verse purports to convey that since everything [ including jinn and mankind ] dwelling on earth will be reduced to nothing, and the heavenly bodies all brought to naught, and the whole material universe made non-existent, still human reason demands that there should be a Being who should remain and who should never die. Such a Being is Allah Who created the whole universe and Who is the First and the Final Cause of all things. He alone will abide because He is Self-Subsisting, All-Sustaining, Independent and Besought of all. The word fana& has two possible meanings: [ 1] everything is potentially subject to decay and death and is eventually destined to perish, having no capacity for permanence and immortality; and [ 2] all things will actually pass away on Doomsday. Other exegetes have interpreted the phrases وَجْهُ رَ‌بِّكَ &your Lord&s Countenance& to mean &your side&, that is, out of all existent beings only those things will attain permanence that are on the side of Allah. This includes the Being of Allah and His Attributes. It also includes the actions and conditions of Allah&s creation that remain firmly attached to Allah and is never separated from Him in any situation. In sum, the verse means: &Everything that man, jinn and angels do for Allah&s pleasure will remain under His care and protection and as such will attain permanence, never to perish.& This interpretation is supported by another verse: مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّـهِ بَاقٍ (What is with you shall end and what is with Allah shall last....16:96). The phrase &what is with you& refers to &wealth and power, comfort and discomfort, love and hatred&. All these states and matters are transitory and must perish. The phrase &what is with Allah& refers to &man&s actions and states which remain firmly attached to Allah and is never separated from Him in any situation are destined to last, never to perish. Allah, the Pure and Most Exalted, knows best! ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَ‌امِ (...full of majesty, full of honour...55:27). In other words, the Lord is the Master of Greatness, Grandeur and Tremendousness. This is Allah&s Majesty that overwhelms His creation and fills them with awe. The Lord is also the Master of Honour, signifying that those who benefit by the great favours Allah has bestowed upon them and walk in the path of truth and righteousness will be granted more favours by the Lord of Honour. Despite being the Lord of Greatness and Majesty, Allah is not like the worldly kings and rulers who would not pay attention to others or the indigent people. He grants their petition and invocation. The next verse [ to be analysed in the forthcoming paragraph ] bears testimony to this interpretation. The current phrase under discussion constitutes one of those special Attributes of Allah which if a suppliant were to invoke before calling upon Allah for help, protection, inspiration and a host of other things, the supplication will be readily granted as recorded in Tirmidhi, Nasa&i and Musnad of Ahmad. Ibn ` Amir, has transmitted that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: اَلِظُّوا بِیَا ذَا الجَلَال وَالاِکرَام (Persist [ in invoking Allah ] with &0 Lord of Majesty and Honour&.|" The imperative alizzu is derived from the infinitive ilzaz which means &to continue firmly in some course of action&. [ Mazhari ]

وَجْهُ رَبِّكَ ، وجہ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور ربک میں ضمیر خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے، یہ حضرت سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاص اعزازو اکرام ہے کہ آپ کو خاص مقام مدح میں کہیں تو عبدہ کا خطاب ہوا ہے اور کہیں رب الارباب نے اپنی ذات کی نسبت حضور کی طرف کر کے ربک سے خطاب فرمایا ہے۔ مشہور تفسیر کے مطابق معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے جن میں جن و انس بھی داخل ہیں سب کے سب فانی ہیں، باقی رہنے والی ایک ہی ذات حق جل و علا شانہ کی ہے۔ فانی ہونے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس وقت بھی اپنی ذات میں فانی ہیں، ان میں دوام وبقاء کی صلاحیت نہیں اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قیامت کے روز یہ سب چیزیں فنا ہوجائیں گی۔ اور بعض حضرات مفسرین نے وَجْهُ رَبِّكَ کی تفسیر جہت اور سمت سے کی ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوجائیں گے کہ کل موجودات میں بقا صرف اس چیز کو ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب میں ہے اس میں اس کی ذات وصفات بھی داخل ہیں اور مخلوقات کے اعمال و احوال میں جس چیز کا تعلق حق تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ بھی شامل ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ انسان اور جن اور فرشتے جو کام اللہ کے لئے کرتے ہیں وہ کام بھی باقی ہے وہ فنا نہیں ہوگا (کذا فی المظہری والقرطبی والروح) اور اس مفہوم کی تائید قرآن مجید کی ایک آیت سے بھی ہوتی ہے مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ |" یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے مال و دولت ہو یا قوت و طاقت یا راحت و کلفت یا کسی کی محبت و عداوت یہ سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے |" اللہ کے پاس انسان کے اعمال و احوال میں سے وہ چیز ہے جس کا تعلق حق تعالیٰ سے ہے کہ اس کو فنا نہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، یعنی وہ رب صاحب عظمت و جلال بھی ہے اور صاحب اکرام بھی، صاحب اکرام ہونے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ در حقیقت ہر اکرام و اعزاز کا مستحق تنہا وہی ہے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ خود صاحب عظمت و جلال ہونے کے باوجود عام دنیا کے بادشاہوں اور عظمت والوں کی طرح نہیں کہ ان کو دوسروں کی اور غریبوں کی طرف التفات و توجہ نہ ہو، بلکہ وہ عظمت و جلال کے ساتھ اپنی مخلوقات کا بھی اکرام کرتا ہے، کہ ان کو عطاء وجود کے بعد طرح طرح کی بیشمار نعمتوں سے نوازتا ہے اور ان کی درخواستیں اور دعائیں سنتا ہے، اگلی آیت اسی دوسرے معنی کی شہادت دیتی ہے اور یہ لفظ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ حق تعالیٰ کی ان خاص صفات میں سے ہے کہ ان کو ذکر کر کے انسان جو دعا مانگتا ہے قبول ہوتی ہے، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ربیعہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الظوا بیا ذا الجلال والاکرام، الظوا، الظاظ سے مشتق ہے، جس کے معنی لازم پکڑنے کے ہیں، مراد حدیث کی یہ ہے کہ اپنی دعاؤں میں یا ذا الجلال والا کرام کو یاد رکھو اور اس کے ساتھ دعا کیا کرو (کیونکہ وہ اقرب الی القبول ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّيَبْقٰى وَجْہُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۝ ٢٧ ۚ بقي البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وقد بَقِيَ بَقَاءً ، وقیل : بَقَي في الماضي موضع بقي، وفي الحدیث : «بقینا رسول الله» أي : انتظرناه وترصّدنا له مدة كثيرة، والباقي ضربان : باق بنفسه لا إلى مدّة وهو الباري تعالی، ولا يصحّ عليه الفناء، وباق بغیره وهو ما عداه ويصح عليه الفناء . والباقي بالله ضربان : - باق بشخصه إلى أن يشاء اللہ أن يفنيه، کبقاء الأجرام السماوية . - وباق بنوعه وجنسه دون شخصه وجزئه، كالإنسان والحیوان . وكذا في الآخرة باق بشخصه كأهل الجنة، فإنهم يبقون علی التأبيد لا إلى مدّة، كما قال عزّ وجل : خالِدِينَ فِيها [ البقرة/ 162] . والآخر بنوعه وجنسه، كما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «أنّ ثمار أهل الجنة يقطفها أهلها ويأکلونها ثم تخلف مکانها مثلها» «1» ، ولکون ما في الآخرة دائما، قال اللہ عز وجل : وَما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقى [ القصص/ 60] ، وقوله تعالی: وَالْباقِياتُ الصَّالِحاتُ [ الكهف/ 46] ، أي : ما يبقی ثوابه للإنسان من الأعمال، وقد فسّر بأنها الصلوات الخمس، وقیل : سبحان اللہ والحمد لله والصحیح أنها كلّ عبادة يقصد بها وجه اللہ تعالیٰ وعلی هذا قوله : بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ [هود/ 86] ، وأضافها إلى اللہ تعالی، وقوله تعالی: فَهَلْ تَرى لَهُمْ مِنْ باقِيَةٍ [ الحاقة/ 8] . أي : جماعة باقية، أو : فعلة لهم باقية . وقیل : معناه : بقية . قال : وقد جاء من المصادر ما هو علی فاعل وما هو علی بناء مفعول والأوّل أصح . ( ب ق ی ) البقاء کے معنی کسی چیز کے اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں یہ فناء کی ضد ہے ۔ یہ باب بقی ( س) یبقی بقاء ہے ۔ اور بعض کے نزدیک اس کا باب بقی ( ض ) بقیا بھی آتا ہے چناچہ حدیث میں ہے یعنی ہم آنحضرت کے منتظر رہے اور کافی عرصہ تک آپ کی نگہبانی میں بیٹھے رہے ۔ الباقی ( صفت ) دو قسم پر ہے ایک الباقی بنفسہ جو ہمیشہ ایک حالت پر قائم رہے اور اس پر گھبی فنا طاری نہ ہو اس معنی میں یہ حق تعالیٰ کی صفت ہے ۔ دوم الباقی بغیرہ اس میں سب ماسوی اللہ داخل ہیں کہ ان پر فناء اور تغیر کا طاری ہونا صحیح ہے ۔ الباقی باللہ بھی دو قسم پر ہے ۔ ایک وہ جو بذاتہ جب تک اللہ کی مشیت ہو باقی جیسے اجرام سماویہ ۔ دوم وہ جس کے افراد و اجزاء تو تغیر پذیر ہوں مگر اس کی نوع یا جنس میں کسی قسم کا تغیر نہ ہو ۔ جیسے انسان وحیوان ۔ اسی طرح آخرت میں بھی بعض اشیاء بشخصہ باقی رہیں گی ۔ جیسے اہل جنت کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رہیں گے ۔ جیسے فرمایا : ۔ خالِدِينَ فِيها [ البقرة/ 162] خالدین ( 4 ) جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اور بعض چیزیں صرف جنس ونوع کے اعتبار سے باقی رہیں گی ۔ جیسا کہ آنحضرت سے مروی ہے ان اثمار اھل الجنۃ یقطفھا اھلھا ویاء کلونھا ثم تخلف مکانھا مثلھا : کہ ثمار ( جنت کو اہل جنت چن کر کھاتے رہنیگے اور ان کی جگہ نئے پھل پیدا ہوتے رہیں گے چونکہ آخرت کی تمام اشیاء دائمی ہیں اس لئے فرمایا : ۔ وَما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقى [ القصص/ 60] اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْباقِياتُ الصَّالِحاتُ [ الكهف/ 46] میں وہ تمام اذکار و اعمال صالحہ داخل ہیں جن کا ثواب انسان کے لئے باقی رہے ا ۔ بعض نے ان سے پانچ نمازیں مراد لی ہیں ۔ اور بعض نے اس سے یعنی تسبیح وتحمید مراد لی ہے ۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ ان میں ہر وہ عبادت داخل ہے جس سے رضائے الہی مقصود ہو یہی معنی آیت کریمہ : بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ [هود/ 86] ، میں بقیۃ اللہ کے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَهَلْ تَرى لَهُمْ مِنْ باقِيَةٍ [ الحاقة/ 8] بھلا تو ان میں سے کسی بھی باقی دیکھتا ہے میں باقیۃ کا موصوف جماعۃ یا فعلۃ محزوف ہے یعنی باقی رہنے والی جماعت یا ان کا کوئی فعل جو باقی رہا ہو ۔ اور بعض کے نزدیک باقیۃ بمعنی بقیۃ ہے ان کا قول ہے کہ بعض مصادر فاعل کے وزن پر آتے ہیں اور بعض مفعول کے وزن پر لیکن پہلا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ وجه ( ذات باري) عبّر عن الذّات بالوجه في قول اللہ : وَيَبْقى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] قيل : ذاته . وقیل : أراد بالوجه هاهنا التّوجّه إلى اللہ تعالیٰ بالأعمال الصالحة، وقال : فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [ البقرة/ 115] ، كُلُّ شَيْءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ [ القصص/ 88] ، يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 38] ، إِنَّما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ [ الإنسان/ 9] قيل : إنّ الوجه في كلّ هذا زائد، ويعنی بذلک : كلّ شيء هالك إلّا هو، وکذا في أخواته . وروي أنه قيل ذلک لأبي عبد اللہ بن الرّضا «1» ، فقال : سبحان اللہ ! لقد قالوا قولا عظیما، إنما عني الوجه الذي يؤتی منه «2» ، ومعناه : كلّ شيء من أعمال العباد هالک و باطل إلا ما أريد به الله، وعلی هذا الآیات الأخر، وعلی هذا قوله : يُرِيدُونَ وَجْهَهُ [ الكهف/ 28] ، تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 39] نیز ہر چیز کے اشرف حصہ اور مبدا پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے وھہ کذا اس کا اول حصہ ۔ وجھہ النھار دن کا اول حصہ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَبْقى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات ( بابرکت ) جو صاحب جلال و عظمت ہے ۔ باقی رہ جائے گی ۔ میں بعض نے وجہ سے ذات باری تعالیٰ مراد لی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وجھ ربک سے اعمال صالحہ مراد ہیں ۔ جن سے ذات باری تعالیٰ کی رجا جوئی مقصود ہوتی ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [ البقرة/ 115] تو جدھر تم رخ کروا ادھر اللہ کی ذات ہے ۔ كُلُّ شَيْءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ [ القصص/ 88] اس کی ذات پاک کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 38] جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں ۔ إِنَّما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ [ الإنسان/ 9] اور کہتے ہیں کہ ہم تو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں ۔ ان تمام آیات میں بعض نے کہا ہے کہ وجہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے لہذا آیت کل شئی ھالک کے معنی یہ ہیں کہ باستثنا ذات باری تعالیٰ ہر چیز نابود ہونے والی ہے ۔ اور اسی قسم کی دوسری آیات میں بھی یہی معنی ہیں ۔ مروی ہے کہ ابی عبد اللہ بن الر ضائے نے کہا ہے سبحان اللہ لوگ بہت بڑا کلمہ کہتے ہیں ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ جلَ الجَلَالَة : عظم القدر، والجلال بغیر الهاء : التناهي في ذلك، وخصّ بوصف اللہ تعالی، فقیل : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] ، ولم يستعمل في غيره، والجلیل : العظیم القدر . ووصفه تعالیٰ بذلک إمّا لخلقه الأشياء العظیمة المستدلّ بها عليه، أو لأنه يجلّ عن الإحاطة به، أو لأنه يجلّ أن يدرک بالحواس . وموضوعه للجسم العظیم الغلیظ، ولمراعاة معنی الغلظ فيه قوبل بالدقیق، وقوبل العظیم بالصغیر، فقیل : جَلِيل ودقیق، وعظیم وصغیر، وقیل للبعیر : جلیل، وللشاة : دقیق، اعتبارا لأحدهما بالآخر، فقیل : ما له جلیل ولا دقیق وما أجلّني ولا أدقّني . أي : ما أعطاني بعیرا ولا شاة، ثم صار مثلا في كل كبير وصغیر . وخص الجُلَالةَ بالناقة الجسیمة، والجِلَّة بالمسانّ منها، والجَلَل : كل شيء عظیم، وجَلَلْتُ كذا : تناولت، وتَجَلَّلْتُ البقر : تناولت جُلَالَه، والجَلَل : المتناول من البقر، وعبّر به عن الشیء الحقیر، وعلی ذلک قوله : كلّ مصیبة بعده جلل . والجَلَل : ما معظم الشیء، فقیل : جَلَّ الفرس، وجل الثمن، والمِجَلَّة : ما يغطی به الصحف، ثمّ سمیت الصحف مَجَلَّة . وأمّا الجَلْجَلَة فحكاية الصوت، ولیس من ذلک الأصل في شيء، ومنه : سحاب مُجَلْجِل أي : مصوّت . فأمّا سحاب مُجَلِّل فمن الأول، كأنه يُجَلِّل الأرض بالماء والنبات . ( ج ل ل ) الجلالتہ کے معنی ہیں عظیم القدر یعنی قدرو منزلہ میں بڑا یعنی بلند مرتبہ ہونا کے ہیں اور ( ۃ ) کے بغیر الجلال کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں عظمت کی آخری حد جس کے بعد اور مرتبہ نہ ہو ۔ اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کی وصف کے ساتھ مختص ہے ۔ اور دوسروں کے حق میں استعمال نہیں ہوتا چناچہ قرآن میں ہے ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] صاحب جلال و عظمت ۔ الجلیل اور یہ باری تعالیٰ کے ساتھ مختص نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو الجلیل یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے بڑ ی بڑی عظیم الشان چیزوں کو پیدا کیا ہے جن سے اس کی ذات با برکت پر استدلال ہوسکتا ہے اور یا اللہ تعالیٰ کی ذلت الجلیل اس لئ ہے کہ وہ احاطہ سے بلند ہے اور یا اس لئے کہ جو اس کے ذریعہ اس کا ادراک نہیں ہوسکتا ۔ اصل وضع کے اعتبار سے جلیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو جسامت کے اعتبار سے بڑی بھی ہو اور غلیظ یعنی موٹی اور سخت بھی پھر معنی غلظت کے اعتبار سے یہ دقین کے مقابلہ میں استعمال ہونے لگا ہے اور عظیم کا لفظ صغیر کے مقابلہ میں چناچہ کہا جاتا ہے جلیل ودقیق وعظیم وصغیر اور باہم مقابلہ کے اعتبار سے اونٹ کو جلیل اور بھڑ بکری کو حقیر کہا جاتا چناچہ محارورہ ہے مالہ جلیل ولادقیق جی اس کے پاس نہ اونٹ ہے اور نہ بھڑ بکری مااجلنی ولاادقنی اس نے مجھے نہ اونٹ دیئے اور نہ بھیڑ بکری ) یہ اس کے اصل معنی ہیں پھر یہ لفظ ہر بڑی اور چھوٹی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ اجلۃ کلاں سال کو ۔ الجلل ہر بڑی چیز کار بزرگ جللت کذا میں نے اس کا بڑا حصہ لے لیا ۔ تجلت البیعر میں نے کلاں جسم اونٹ یا ان کی بڑی مقدار لی ۔ الجلل ( ایضا) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر چیز کو جلل ( ایضا ) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر کو جلل کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ۔ کہ ہر مصیبت اس کے بعد حقیر ہے ۔ الجل کے معنی مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کو مجلۃ کہا جانے لگا ہے ۔ الجلجلۃ جس کے معنی حکایت صوت کے ہیں وہ اس مادہ سے نہیں ہے اور اسی سے سحاب مجلجل کا محاورہ ہے جس کے معنی گرجنے والے یا دل گے ہیں ۔ سحاب مجلل کا محاورہ اس مادہ سے ہے ۔ جس کے معنی عام بارش برسانے والے بادل کے ہیں ۔ گویا وہ اپنی اور نباتات سے زمین کو چھپا دیتا ہے إِكْرَامُ والتَّكْرِيمُ : أن يوصل إلى الإنسان إکرام، أي : نفع لا يلحقه فيه غضاضة، أو أن يجعل ما يوصل إليه شيئا كَرِيماً ، أي : شریفا، قال : هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] . وقوله : بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] أي : جعلهم کراما، قال : كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] ، وقال : بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] ، وقوله : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] منطو علی المعنيين . الا کرام والتکریم کے معنی ہیں کسی کو اس طرح نفع پہچانا کہ اس میں اس کی کسی طرح کی سبکی اور خفت نہ ہو یا جو نفع پہچا یا جائے وہ نہایت باشرف اور اعلٰی ہو اور المکرم کے معنی معزز اور با شرف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؛ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] اور مجھے عزت والوں میں کیا ۔ كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے ۔ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ( ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سر دار اور نیکوکار ہیں ۔ اور آیت : ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور جو صاحب جلال اور عظمت ہے ۔ میں اکرام کا لفظ ہر دو معنی پر مشتمل ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عزت و تکریم بھی عطا کرتا ہے اور باشرف چیزیں بھی بخشتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ } ” اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے۔ “ اللہ کے چہرے کا تصور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اس لحاظ سے اگرچہ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے لیکن اس کا عمومی مفہوم بالکل واضح ہے کہ باقی رہنے والی صرف ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہے ‘ جس کے علاوہ ہرچیز فنا ہونے والی ہے۔ اس کائنات کی ہرچیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ان میں کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو اپنے بل پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہو۔ ہرچیز اور ہر مخلوق کا وجود اللہ تعالیٰ کی منشاء ومرضی کا مرہونِ منت ہے۔ جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کا وجود برقرار رہتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے اسے فنا کردیتا ہے۔ جیسا کہ سورة القصص کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے : { کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗط لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ } ” ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے۔ فرمان روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:27) یبقی : مضارع واحد مذکر غائب بقاء (باب سمع) مصدر۔ باقی رہیگا۔ فناء نہ ہونا۔ وجہ ربک : وجہ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر وجہ کا مضاف الیہ اس کے اصل معنی چہرہ کے ہیں جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاغسکوا وجوہکم وایدیکم (5:6) اپنے منہ اور ہاتھ دھولیا کرو۔ اور چونکہ استقبال کے وقت سب سے پہلے انسان کا چہرہ سامنے نظر آتا ہے۔ اس لئے کسی چیز کا وہ حصہ جو سب سے پہلے نظر آئے اسے وجہ کہہ لیتے ہیں وجہ النھار۔ ان کا اول حصہ۔ وجہ بمعنی ذات ہے جیسا کہ آیت ہذا میں : اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکت) جو صاحب جلال و عظمت ہے۔ باقی رہ جائے گی یا جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ کل شیء ہالک الا وجھہ (27:88) اس کی ذات پاک کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ ذوالجلال مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے وجہ کی۔ (اللہ کی ذات جو صاحب جلال ہے) ۔ جلال بندگی، عظمت، بلند مرتبہ ہونا۔ جل یجل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ جلالۃ کے معنی عظمت قدر، یعنی بلند مرتبہ ہونے اور جلال کے معنی عظمت قدر کی انتہاء کے ہیں۔ اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے چناچہ یہ ذوالجلال والاکرام صرف اسی کو کہا جاتا ہے دوسروں کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ والاکرام اس کا عطف الجلال پر ہے۔ اللہ کی ذات صاحب جلال و صاحب اکرام ہے۔ اکرام باعظمت ہونا دوسرے کو عزت دینا۔ اور اس پر کرم کرنا۔ بروزن افعال مصدر ہے۔ اکرام کے دو معنی آتے ہیں :۔ (1) یہ کہ دوسرے پر کرم کیا جائے ۔ یعنی اس کو ایسا نفع پہنچایا جائے جس میں کسی طرح کا کھوٹ نہ ہو۔ (2) یہ کہ جو چیز عطا کی جائے وہ عمدہ چیز ہو۔ آیت ذوالجلال والاکرام میں لفظ اکرام میں دونوں معنی پائے جاتے ہیں کرم کا لفظ قرآن مجید میں جہاں بھی آیا ہے وہاں احسان و انعام الٰہی مراد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا الظوبیا ذالجلال والاکرام یعنی ان اسماء حسنیٰ کے ذریعہ سے دعا کیا کرو اور بعض آثار میں ہے کہ ” یا ذالجلال والاکرام کے ساتھ دعا قبول ہوتی ہے۔ (قرطبی وغیرہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اور صرف آپ کے پروردگار کی ذات جو عظمت و احسان والی ہے باقی رہ جائیگی۔ یعنی جس قدر جن وانس موجود ہیں وہ سب فنا ہوجائیں گے صرف حضرت حق تعالیٰ کی ذات صاحب ذوالجلال والاکرام باقی رہ جائے گی۔ چونکہ ثقلین یعنی جن وانس مخاطب ہیں ہیں اس لئے زمین کا ذکر فرمایا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ آسمان والے فنا نہیں ہوں گے۔ سورة قصص میں گزر چکا ہے کل شئی ھالک الا وجھہ