Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 11

سورة الواقعة

اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾

Those are the ones brought near [to Allah ]

وہ بالکل نزدیکی حاصل کئے ہوئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے میں، ان کے ساتھ حق و باطل کے معرکہ میں، مصائب کے برداشت کرنے میں اور ہر خیر اور بھلائی کے کام میں دوسروں سے سبقت کرنے والے اور آگے نکل جانے والوں کا درجہ عام مومنین صالحین سے بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا یہی لوگ اللہ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے آگے یہی لوگ ہوں گے پھر ان کے بعد دائیں جانب صالحین مومنین اور بائیں جانب کافر و مشرک، سرکش اور خود سر یعنی اہل دوزخ ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُولٰٓـئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ : یعنی ایمان لانے میں اور ہر خبر کے کام میں دوسروں سے سبقت لے جانے والوں کا د رجہ بھی عام اہل ایمان سے زیادہ ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب بھی انہی کو حاصل ہوگا اور انہیں ملنے والی جنت اصحاب الیمین کو ملنے والی جنت سے درجے اور نعمتوں میں افضل ہوگی، جیسا کہ اس سے پہلے سورة ٔ میں گزرا ہے اور یہاں بھی ” علی سرر موضونۃ “ سے اس کی تفصیل آرہی ہے ۔” جنت النعیم “ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (٤٣)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۝ ١١ ۚ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] ، وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] . وفي الزّمان نحو : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] ، ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔ وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا ۔ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] اور زنا کے پا س بھی نہ جانا ۔ فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں ۔ اور آیت کریمہ ولا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ان سے مقاربت نہ کرو ۔ میں جماع سے کنایہ ہے ۔ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] اور ( کھانے کے لئے ) ان کے آگے رکھ دیا ۔ اور قرب زمانی کے متعلق فرمایا : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] لوگوں کا حساب ( اعمال کا وقت نزدیک پہنچا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ اُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ ۔ } ” وہی تو بہت مقرب ہوں گے۔ “ یعنی تیسرا گروہ مقربین بارگاہ پر مشتمل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قرب سے نوازنا چاہتا ہے اور اس کے لیے قرآن میں جابجا ترغیبی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ سورة المائدۃ میں تو امر کے صیغے میں فرمایا گیا : { وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ } (آیت ٣٥) کہ تم اس کا قرب تلاش کرو اور اس کے لیے اس کی راہ میں جہاد کرو۔ ظاہر ہے جو کوئی اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور اپنے مقربین میں شامل فرمائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:11) اولئک المقربون ـ اولئک ای السابقون۔ مبتداء المقربون اسم مفعول جمع مذکر۔ تقریب (تفعیل) مصدر ۔ قریب کئے ہوئے۔ زیادہ عزت والے۔ مبتدا کی خبر۔ وہی تو مقرب لوگ ہیں۔ فائدہ : ان مذکورہ بالا تینوں اصناف میں سب سے بلند درجہ السبقون کا ہے۔ لیکن سب سے اخیر ان کا ذکر اس لئے آیا ہے کہ انہیں کے فضائل و درجات سب سے اول بیان کرنا مقصود تھا اس صورت میں اتصال ہوگیا۔ پہلے صرف اختصارا ہر سہ اصناف کا ذکر ہوا۔ اب تفصیلاً ان کے فضائل مذکورہ ہونگے السبقون آیت 11 سے 26 تک اصحب الیمین آیت 27 اے 41 تک ، اور اصحب الشمال آیت 41 سے آیت 56 تک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اس میں تمام اعلی درجہ کے بندے شامل ہیں، انبیاء اور اولیاء و صدیقین و کامل متقی، اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا عالی ہونا بتلادیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان پر جو انعامات الٰہیہ ہوں گی ان میں سے بڑی نعمت کے ذکر سے آغاز ہوتا ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور بلند ہے۔ رب تعالیٰ کے قرب کی نعمت۔ اولئک ............ النعیم (٦ 5: ٢١) ” وہی تو مقرب لوگ ، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ “ اور اللہ کا قرب تو وہ اعزاز ہے جس کے مقابلے میں تمام جنتیں ہیچ ہیں۔ یہ تو بہت ہی قیمتی نصیبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں کون۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سابقین اولین کے لیے سب سے بڑا انعام : حضرات سابقین کے بارے میں ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ٠٠١١﴾ فرمایا، قرب الٰہی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ساتھ ہی ﴿فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ ٠٠١٢﴾ بھی فرمایا کہ یہ حضرات نعمت والے باغیچوں میں ہوں گے، پھر ان حضرات کی اجمالی تعداد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ٠٠١٣ وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ٠٠١٤﴾ یعنی یہ جو سابقین مقربین بندے ہوں گے ان کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے سے لوگ بعدوالوں میں سے ہوں گے، معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں سے بشمول حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سابقین اولین زیادہ ہوں گے جنہیں ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ٠٠١٣﴾ سے تعبیر فرمایا، اور امت محمدیہ میں سے بھی اک جماعت سابقین میں سے ہوگی، لیکن یہ لوگ تعداد میں کم ہوں گے (گویہ کم تعداد بھی بہت ہی بڑی تعداد ہوگی کیونکہ ان کو امم سابقہ کے اعتبار سے قلیل فرمایا ہے) یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ سابقہ امتوں میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ملا کر سابقین اولین کی تعداد اس امت کے سابقین اولین سے زیادہ ہونے سے پوری امت محمدیہ (جس میں عوام و خواص سب ہیں) کا تعداد میں کم ہونا لازم نہیں آتا۔ حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنتیوں کی ١٢٠ صفیں ہوں گی جن میں اسّی (٨٠) اس امت کی ہوں گی اور ٤٠ سب امتوں کو ملا کر ہوں گی۔ (مشکوٰۃ شریف)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) وہی تو مقرب اور نزدیک رہنے والے ہیں۔ یعنی بارگاہ خداوندی میں انہیں قرب اور نزدیکی میسر آنے والی ہے ا س جماعت میں انبیاء صالحین اور شہداء اور کامل تقوے والے اب آگے ان تینوں قسم کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ تفصیل ہے۔