Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 16

سورة الواقعة

مُّتَّکِئِیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۱۶﴾

Reclining on them, facing each other.

ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Reclining thereon, face to face. indicating that they will face each other, and none of them will be in the back lines, يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (٤٤) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْہَا مُتَقٰبِلِيْنَ۝ ١٦ تكأ المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله، ( ت ک ء ) التکاء ( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔ ( قبل) مُقَابَلَةُ والتَّقَابُلُ : أن يُقْبِلَ بعضهم علی بعض، إمّا بالذّات، وإمّا بالعناية والتّوفّر والمودّة . قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلَيْها مُتَقابِلِينَ [ الواقعة/ 16] ، إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ [ الحجر/ 47] ، ولي قِبَلَ فلانٍ كذا، کقولک : عنده . قال تعالی: وَجاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ [ الحاقة/ 9] ، فَمالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ [ المعارج/ 36] ، ويستعار ذلک للقوّة والقدرة علی الْمُقَابَلَةِ ، المقابلۃ والتقابل کے معنی ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں خواہ وہ توجہ بذریعہ ذات کے ہو یا بذریعہ عنایت اور سورت کے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ مُتَّكِئِينَ عَلَيْها مُتَقابِلِينَ [ الواقعة/ 16] آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے ۔ إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ [ الحجر/ 47] بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ لی قبل فلان کذا کے معنی ہیں میرے فلاں کی جانب اتنے ہیں اور یہ عندہ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ«7» [ الحاقة/ 9] اور فرعون اوع جو لوگ اس سے پہلے تھے سب ۔۔۔۔ کرتے تھے ۔ فَمالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ [ المعارج/ 36] تو ان کا فروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑتے چلے آتے ہیں ۔ اور استعارہ کے طور پر قوت اور قدرت علی المقابل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:16) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ تکیہ لگانے والے۔ علیہا ای علی سرر (پلنگوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ متقبلین : اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ تقابل (تفاعل) مصدر آمنے سامنے (بیٹھے ہوں گے) ۔ متکئین ، متقبلین دونوں حال ہیں ضمیر فی الجز علی سرر سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

متکئین .................... متقبلین (٦ 5: ٦١) ” تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ “ نہایت آرام سے اور بےفکری سے۔ کوئی غم نہیں ، کوئی مشکل نہیں ، نعمتوں میں ڈوبے ہوئے نہایت اطمینان سے۔ ان نعمتوں کے چلے جانے اور ختم ہوجانے کا تو کوئی خوف نہیں اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے محو گفتگو ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(16) تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یعنی ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہونگے۔ موضونتہ سونے کے تاروں سے بنا ہوا تخت جس میں موتی اور یاقوت کی مرصع کاری ہو اور جواہرات جڑے ہوئے ہوں۔