Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 17

سورة الواقعة

یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾

There will circulate among them young boys made eternal

ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ ( لڑکے ہی ) رہیں گے آمد و رفت کریں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Immortal boys will go around them, who will never grow up, get old or change in shape, بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

171یعنی وہ بڑے نہیں ہونگے کہ بوڑھے ہوجائیں نہ ان کے خدو خال اور قدو قامت میں کوئی تغیر ہوگا بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نو عمر لڑکے ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ دہر کی آیت (١٩) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَطُوْفُ عَلَيْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۝ ١٧ ۙ طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال تعالی: فَطافَ عَلَيْها طائِفٌ [ القلم/ 19] ، تعریضا بما نالهم من النّائبة، وقوله : أَنْ طَهِّرا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ [ البقرة/ 125] ، أي : لقصّاده الذین يَطُوفُونَ به، والطَّوَّافُونَ في قوله : طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلى بَعْضٍ [ النور/ 58] عبارة عن الخدم، وعلی هذا الوجه قال عليه السلام في الهرّة : (إنّها من الطَّوَّافِينَ عليكم والطَّوَّافَاتِ ) «5» . وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا «1» ، وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . والطُّوفَانُ : كلُّ حادثة تحیط بالإنسان، وعلی ذلک قوله : فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الطُّوفانَ [ الأعراف/ 133] ، وصار متعارفا في الماء المتناهي في الکثرة لأجل أنّ الحادثة التي نالت قوم نوح کانت ماء . قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ [ العنکبوت/ 14] ، وطَائِفُ القوسِ : ما يلي أبهرها «2» ، والطَّوْفُ كُنِيَ به عن العَذْرَةِ. ( ط و ف ) الطوف ( ن ) کے معنی کسی چیز کے گرد چکر لگانے اور گھومنے کے ہیں ۔ الطائف چوکیدار جو رات کو حفاظت کے لئے چکر لگائے اور پہرہ دے طاف بہ یطوف کسی چیز کے گرد چکر لگانا گھومنا ۔ قرآن میں ہے : يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے ان کے آس پاس پھیریں گے ۔ فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے ۔ اور اسی سے بطور استعارہ جن خیال ، حادثہ وغیرہ کو بھی طائف کہاجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] جب ان کو شیطان کیطرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے ۔ میں طائف سے وہ شیطان مراد ہے جو انسان کا شکار کرنے کے لئے اس کے گرد چکر کاٹتا رہتا ہے ایک قرآت میں طیف ہے ، جس کے معنی کسی چیز کا خیال اور اس صورت کے ہے جو خواب یابیداری میں نظر آتی ہے اسی سے خیال کو طیف کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ : فَطافَ عَلَيْها طائِفٌ [ القلم/ 19] کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ( راتوں رات ) اس پر ایک آفت پھر گئی ۔ میں طائف سے وہ آفت یا حادثہ مراد ہے جو انہیں پہنچا تھا ۔ اور آیت کریمہ : أَنْ طَهِّرا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ [ البقرة/ 125] طواف کرنے والوں ۔۔۔ کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو۔ میں طائفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو حج یا عمرہ کرنے کے لئے ) بیت اللہ کا قصد کرتے اور اس کا طواف کرتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلى بَعْضٍ [ النور/ 58] اور نہ ان پر جو کام کے لئے تمہارے اردگرد پھرتے پھراتے رہتے ہیں ۔ میں طوافون سے نوکر چاکر مراد ہیں ( جنہیں خدمت گزاری کے لئے اندروں خانہ آنا جا نا پڑتا ہے ) اسی بنا پر بلی کے متعلق حدیث میں آیا ہے (33) انما من الطوافین علیکم والطوافات ۔ کہ یہ بھی ان میں داخل ہے جو تمہارے گرد پھرتے پھراتے رہتے ہیں ۔ الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) الطوفان وہ مصیبت یا حادثہ جو انسان کو چاروں طرف سے گھیرے اس بنا پر آیت کریمہ ؛فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الطُّوفانَ [ الأعراف/ 133] تو ہم ان پر طوفان ( وغیرہ کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں ۔ میں طوفان بمعنی سیلاب بھی ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کی قوم پر جو عذاب آیا تھا ۔ وہ پانی کی صورت میں ہی تھا اور دوسری جگہ فرمایا : فَأَخَذَهُمُ الطُّوفانُ [ العنکبوت/ 14] پھر ان کو طوفان کے عذاب ) نے آپکڑا ۔ طائف القوس خانہ کمان جو گوشہ اور ابہر کے درمیان ہوتا ہے ۔ الطوف ( کنایہ ) پلیدی ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی اور نہ وہ نکالے جائیں گے یا یہ کہ کفار کی اولاد یہ چیزیں لے کر جنت میں ان کے پاس آمد و رفت کیا کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧{ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۔ } ” ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔ “ عام طور پر گھروں میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھا جاتا ہے اور وہ آپ کے مزاج اور ذوق سے واقف ہوجاتے ہیں ‘ لیکن بڑے ہونے پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکالنا پڑتا ہے ۔ جبکہ جنت میں چھوٹے لڑکے (غلمان) جو اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے وہ ” بڑے “ نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 This implies boys who will ever remain boys and stay young. Hadrat 'AIi and Hadrat Hasan Basri say that these will be those children of the people, who died before reaching their maturity; therefore, they will neither have any good works to their credit for which they may be rewarded, nor any evil deeds for which they may be punished, But obviously, this could imply those people who would not deserve Paradise. For, as for the true believers, about them Allah has guaranteed in the Qur'an that their children will be joined with them in Paradise (At-Tur: 21). This is also supported by the Hadith, which Abu Da'ud Tayalisi, Tabarani and Bazzar have related on the authority of Hadrat Anas and Hadrat Samurah bin Jundub, according to which the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) said that the children of the polytheists will be attendants of the people of Paradise. (For further explanation, see E.N. 26 of As-Saaffat, E.N. 19 of At-tur).

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :9 اس سے مراد ہیں ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ، انکی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھری رہے گی ۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے مر گئے ، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہونگی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہونگی کہ ان کی سزا پائیں ۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو ۔ رہے مومنین صالحین ، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی ( الطور ، آیت 21 ) ۔ اسی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو داؤد طیالسی ، طبرانی اور بزار نے حضرت انس اور حضرت سمرہ بن جندب ( رضی اللہ عنہم ) سے نقل کی ہے ۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، تفسیر سورہ صافات ، حاشیہ 26 ۔ جلد پنجم ، الطور ، حاشیہ 19 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:17) یطوف علیہم ولدان مخلدون۔ جملہ مستانفہ ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب طوف طواف (باب نصر) مصدر۔ چکر لگائیں گے۔ چکر لگاتے رہیں گے۔ یعنی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ علیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان جنتیوں کے لئے ہے جو سابقون میں سے ہوں گے۔ ولدان۔ جنت کے غلمان۔ مخلدون اسم مفعول جمع مذکر۔ اس کا واحد مخلد۔ تخلید (تفعیل) مصدر۔ خلد ایک قسم کی بالیاں ہیں مخلد وہ جس کو بالیاں پہنائی ہوئی ہوں۔ یعنی ایسے غلمان جن کو بالیاں پہنا رکھی ہوں گی۔ یا یہ الخلود سے ہے جس کے معنی فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں اور جب کسی چیز میں عرصہ دراز تک فساد و تغیر پیدا نہ ہو اہل عرب اسے خلود کے ساتھ متصف کرتے ہیں اس لحاظ سے مخلد اسے کہیں گے جس میں عرصہ دراز تک تغیر و فساد نہ ہو۔ اسی بناء پر جس شخص میں باوجود بڑی عمر کے بڑھاپا نہ آئے اسے مخلد کہا جاتا ہے یہاں آیت ہذا میں ایسے لڑکے مراد ہیں جو کہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت میں ٹھہری رہے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی کبھی جوان یا بوڑھے نہ ہوگے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یطوف ................ مخلدون (٦ 5: ٧١) ” ان کی مجلس میں “ ابدی لڑکے “ دوڑتے پھریں گے۔ “ زمانہ ان کی صحت پر اثر انداز نہ ہوگا ، ان کی جوانی اور نہ ان کی تروتازگی پر اثر انداز ہوگا جبکہ زمین پر مرور زمانے کے ساتھ لڑکپن چلا جاتا تھا۔ اور یہ کیا لئے ہوئے پھریں گے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) ان لوگوں کے اردگرد اور ان کے روبرو ایسے غلمان اور لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اشیاء ذیل لئے پھرتے ہوں گے۔ یعنی جو چیزیں آگے مذکور ہیں وہ لئے ہوئے ان کے رو برو پیش کرتے ہوں گے وہ چیزیں یہ ہیں۔