Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 2
سورة الواقعة
لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾
There is, at its occurrence, no denial.
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ۔
لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾
There is, at its occurrence, no denial.
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ۔
There is not, for its occurrence, Kadhibah. means, when He commands the Day of Resurrection to begin, none can stop it from happening or prevent it from beginning, اسْتَجِيبُواْ لِرَبِّكُمْ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ Answer the call of your Lord before there comes from Allah a Day which can not be averted. (42:47), سَأَلَ سَأيِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَـفِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ A questioner asked concerning a torment about to occur -- upon the disbelievers, which none can avert. (70:1-2), وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ عَـلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ And on the Day He will say: "Be!" -- and it is! His Word is the Truth. His will be the dominion on the Day when the Trumpet will be blown. All-Knower of the unseen and the seen. He is the All-Wise, Well Aware. (6:73) As for the meaning of كَاذِبَةٌ (Kadhibah) Muhammad bin Ka`b said: "It will certainly occur," while Qatadah said, "It shall not be discontinued, taken back or aborted." Allah's statement, خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ
[١] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ کوئی قیامت کے واقع ہونے کو روک نہیں سکتا۔ اور اس کے واقع ہونے کو غیر واقع نہیں بنا سکتا۔
لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ” گا ذبۃ “ مصدر ہے بمعنی ” کذب “ جیسے ” العافیۃ “ بمعنی ” معافدۃ “ اور ” الغافیۃ “ بمعنی ” عقبیٰ “ مصادر ہیں ، یعنی اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ۔
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ (...there will be no one to deny its occurrence...56:2). The word kadhibah in this context is the verbal noun, like ` afiyah and ` aqibah. The sense of the verse is that &the news of the occurrence of this event cannot be a false news&. Some authorities have taken the word kadhibah in the sense of takdhib [ to deny ] and the meaning, in that case, is clear that &no one can deny the fact that it will come to pass&.
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ، کاذبہ مصدر ہے جیسے عافیۃ اور عاقبۃ اور معنی یہ ہیں کہ اس کے وقوع میں کوئی کذب نہیں ہوسکتا، بعض حضرات نے کاذبہ کو بمعنی تکذیب قرار دیا ہے، معنی ظاہر ہیں کہ اس کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔
لَيْسَ لِوَقْعَتِہَا كَاذِبَۃٌ ٢ ۘ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
آیت ٢ { لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۔ } ” (اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ۔ “ یعنی وہ ہر صورت وقوع پذیر ہو کر رہے گی ۔
1 Opening the discourse with this sentece by itself signifies that this is an answer to the objections that were than being raised in the disbelievers conferences against Resurrection. This was the time when the people of Makkah had just begun to hear the invitation to Islam from the Holy Prophet Muhammad (upon be Allah's peace and blessing). In it what seemed most astonishing and remote from reason to them was that the entire system of the earth and heavens would one day be overturned and then another world would be set up in which aII the dead, of the former and the latter generations, would be resurrected. Bewildered they would ask: `This is just impossible ! Where will this earth, these oceans, these mountains, this moon and sun go? How will the centuries-old dead bodies rise up to life ? How can one in his senses believe that there will be another life after death and there will be gardens of Paradise and the fire of Hell ?" Such were the misgivings that were being expressed at that time everywhere in Makkah. It vas against this background that it was said: "When the inevitable event happens, there shall be no one to belie it. " In this verse the word "wagi ah " (event) has been used for Resurrection, which nearly means the same thing as the English word 'inevitable', signifying thereby that it is something that must come to pass. Then, its happening has been described by the word "waqi ah, " which is used for the sudden occurrence of a disaster. Laisa li-waq'at-i-ha kadhibat-un can have two meanings: (I) That it will not be possible that its occurrence be averted, or stopped, or turned back; or, in other words, there will be no power to make it appear as an unreal event; and (2) that there will be no living being to tell the lie that the event has not taken place.
سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :1 اس فقرے سے کلام کا آغاز خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان باتوں کا جواب ہے جو اس وقت کفار کی مجلسوں میں قیامت کے خلاف بنائی جا رہی تھیں ۔ زمانہ وہ تھا جب مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نئی نئی اسلام کی دعوت سن رہے تھے ۔ اس میں جو چیز انہیں سب سے زیادہ عجیب اور بعید از عقل و امکان نظر آتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک روز زمین و آسمان کا یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پھر ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں سب اگلے پچھلے مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ۔ یہ بات سن کر حیرت سے ان کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جاتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ ایسا ہونا بالکل ناممکن ہے ۔ آخر یہ زمین ، یہ پہاڑ ، یہ سمندر ، یہ چاند ، یہ سورج کہاں چلے جائیں گے؟ صدیوں کے گڑے مردے کیسے جی اٹھیں گے؟ مرنے کے بعد دوسری زندگی ، اور پھر اس میں بہشت کے باغ اور جہنم کی آگ ، آخر یہ خواب و خیال کی باتیں عقل و ہوش رکھتے ہوئے ہم کیسے مان لیں؟ یہی چہ میگوئیاں اس وقت مکہ میں ہر جگہ ہو رہی تھیں ۔ اس پس منظر میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا اس وقت کوئی اسے جھٹلانے والا نہ ہو گا ۔ اس ارشاد میں قیامت کے لیے واقعہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی قریب قریب وہی ہیں جس کے لیے اردو زبان میں ہونی شدنی کے الفاظ بولے جاتے ہیں ، یعنی وہ ایسی چیز ہے جسے لازماً پیش آ کر ہی رہنا ہے ۔ پھر اس کے پیش آنے کو وَقْعَۃ کہا گیا ہے جو عربی زبان میں کسی بڑے حادثہ کے اچانک برپا ہو جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَۃٌ کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کے وقوع کا ٹل جانا اور اس کا آتے آتے رک جانا اور اس کی آمد کا پھیر دیا جانا ممکن نہ ہو گا ، یا بالفاظ دیگر کوئی طاقت پھر اس کو واقعہ سے غیر واقعہ بنا دینے والی نہ ہو گی ۔ دوسرے یہ کہ کوئی متنفس اس وقت یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہو گا کہ وہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔
(56:2) لیس فعل ناقص، نہیں ہے۔ لوقعتھا لام حرف جار وقعۃ مصدر مجرور۔ مضاف، ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (کا مرجع القاعۃ ہے) مضاف الیہ ۔ اس کے واقع ہونے میں۔ کاذبۃ : اسم فاعل واحد مؤنث نکرہ بمعنی حاصل مصدر۔ جھوٹ۔ اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وان الساعۃ لاتیۃ لاریب فیہا (40:59) بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب وہ نازل ہوگی تو اسے ہرگز جھٹلایا نہ جاسکے۔
(2) اس کے وقوع اور واقع ہوجانے کے وقت کوئی شخص جھوٹ کہنے والا نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت آجائے گی اس وقت کوئی شخص بھی قیامت کو جھوٹ کہنے والا نہ ہوگا کیونکہ جب وہ چیز نظروں کے سامنے آجائیگی پھر کون اس کو جھٹلا سکتے گا یا یہ مطلب ہے کہ جب قیامت واقع ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے۔