Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 39
سورة الواقعة
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
A company of the former peoples
جم غفیر ہے اگلوں میں سے ۔
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
A company of the former peoples
جم غفیر ہے اگلوں میں سے ۔
3 9 1یعنی آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کے لوگوں میں سے یا خود امت محمدیہ کے اگلوں میں سے۔
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ : یعنی اصحاب الیمین پہلی امتوں میں سے بہت بڑی جماعت ہوں گے اور آخری امت سے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے۔ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ دونوں میں سے کون سی جماعت تعداد میں دوسری سے زیادہ ہوگی ، یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واضح فرمائی ہے ، عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں :(کا مع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی قبۃ نحوا من اربعین رجلا فقال اترضون ان تکونوا ربع اھل الجنۃ قال قلنا نعم ، قلنا اترضون ان تکونوا ثلث اھل الجنۃ ؟ فقلنا نعم ، فقال والذی نفسی بیدہ ! انی لارجو ان تکونو نصف اھل الجنۃ واذلک ان الجنۃ لا یدخلھا الا نفس مسلمۃ وما انتم فی اھل الشرک الا کا لشعرۃ البیضاء فی جلد الثور الاسود او کا لشعرۃ السوداء فی جلد الثور الاحمر) ( مسلم ، الایمان ، باب کون ھذہ الامۃ نصف اھل الجنۃ : ٣٧٧، ٣٢١)” ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک خیمہ میں تقریباً چالیس آدمی تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ “ ہم نے کہا : ” ہاں ! “ پھر فرمایا :” کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو ؟ “ ہم نے کہا :” ہاں ! “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل ِ جنت کا نصف ہوگے اور یہ اس لیے کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی نہیں جائے گا ۔ اور مشرکوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد اتنی ہی ہے جتنی سیاہ بیل کی جلد میں ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد میں ایک سیاہ بال “۔
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of &the earlier& and the &later& generations. If &the earlier& refers to the generations from &Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and &the later generations& refers to the &Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: &the People of the Right& will constitute a &large party& of believers and the righteous from all the previous communities combined together, while there will be a &large party& from the Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) alone. In this case, it is a great honor for the Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that, despite the short period they lived in this world, they could be compared to all the previous communities who were headed by hundreds of thousands of Prophets (علیہم السلام) . Besides, the words &many from the later generations& has the scope of being larger in number than the &many from the earlier generations&. If we go by the second view of the commentators, who say that both &earlier& and &later& generations are from the ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، then even the later generations of this ummah will not be totally deprived of &the Foremost&, though their number in later generations will be less. As for the People of the Right, their number will be large in both &earlier& and &later& generations. This fact is proved by a Hadith reported by Bukhari and Muslim from Sayyidna Mu` awiyah (رض) in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said, &A group of my &Ummah will always remain on the truth and dominant, unharmed by those who fail to support them and those who defy them, until the Last Hour begins.&.
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت ہوجائے جس کا زمانہ بہت مختصر ہے، اس کے علاوہ لفظہ ثلہ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ یہ ثلہ آخرین تعداد اولین سے بڑھ جائے گا۔ اور اگر دوسری تفسیر مراد لی جائے کہ اولین و آخرین دونوں اسی امت کے مراد ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے بغوی نے اور حضرت ابوبکرہ سے مسدد، طبرانی اور ابن مردویہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہما من امتی یعنی یہ اولین و آخرین میری امت ہی کے دو طبقے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ سابقین اولین صحابہ وتابعین وغیرہ جیسے حضرات سے بھی یہ امت آخر تک بالکل محروم نہ ہوگی اگرچہ آخری دور میں ایسے لوگ کم ہوں گے اور مومنین و متقین و اولیاء اللہ تو اس پوری امت کے اول و آخر میں بھاری تعداد میں رہیں گے اور امت محمدیہ کا کوئی دور کوئی طبقہ اصحاب الیمین سے خالی نہ رہے گا اس کی شہادت اس حدیث سے بھی ملتی ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں حضرت معاویہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور ہزاروں مخالفتوں کے نرغے میں بھی وہ اپنا رشد و ہدایت کا کام کرتی رہے گی، اس کو کسی کی مخالفت نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہونے تک یہ جماعت اپنے کام میں لگی رہے گی۔
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ٣٩ ۙ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ٤٠ ۭ ثل الثَّلَّة : قطعة مجتمعة من الصوف، ولذلک قيل للمقیم ثلّة، ولاعتبار الاجتماع قيل : ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ [ الواقعة/ 39- 40] ، أي : جماعة ، وثللت کذا : تناولت ثلّة منه، وثلّ عرشه : أسقط ثلة منه، والثلل . قصر الأسنان لسقوط ثلة منه، وأثلّ فمه : سقطت أسنانه، وتثللت الرکية، أي : تهدّمت . ( ث ل ل ) الثلۃ ( بفتح الثاء ) کے اصل معنی اون کے ڈھیر کے ہیں اس لئے بھیڑبکریوں کے ریوڑ کو بھی ثلۃ کہا جاتا ہے اور معنی اجتماع کے اعتبار سے آدمیوں کی جماعت کو ثلۃ ۔ قرآن میں ہے :۔ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ [ الواقعة/ 39- 40]( یہ ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں اور بہت سے پچھلوں میں سے ۔ ثللث کذا میں نے اس سے کافی مقدار لی ۔ ثل عرشہ اس کی حکومت برباد کردی ۔ اس کی عزت ضائع کردی ۔ الثلل دانتوں کا گرنا ۔ اسی سے اثل فنہ کا محاورہ ہے جس کے معنی دانت گرنے کے ہیں ۔ تثللت الرکیۃ کنوان منہدم ہوکر پٹ گیا ۔
آیت ٣٩{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ } ” جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “
٣٩۔ ٤٠۔ ترمذی ٥ ؎ میں حضرت بریدہ (رض) کی حدیث ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی اور چالیس صفیں اور امتوں کی ہوں گی۔ اس حدیث سے یہ حساب تو صحیح معلوم ہوگیا کہ بہ نسبت اور امتوں کے اس امت کے جنتی لوگ دوگنے ہوں گے۔ اب جنتی لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اور سورة فاطر میں دو قسمیں فرمائی ہیں ایک تو اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جن کو نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور مقرب فرمایا ہے دوسرے بیچ کی راس کے لوگ جن کو سیدھے ہاتھ والے فرمایا ہے ان دونوں قسموں کے ذکر میں یہ جو فرمایا ہے مقرب لوگ پہلے لوگوں میں بہت ہوں گے اور پچھلوں میں تھوڑے اس کی تفسیر میں تابعیوں کے زمانہ سے اب تک یہ اختلاف چلا آتا ہے کہ پہلے اور پچھلے لوگوں سے اس امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں یا پہلے لوگوں سے پہلی امتیں مراد ہیں اور پچھلے لوگوں سے یہ امت مراد ہے اوپر آیت ثلۃ من الاولین و قلیل من الاخرین کی جو تفسیر گزر چکی اس میں اس اختلاف کو تو رفع کردیا گیا ہے۔ رہی اس آیت کی تفسیر اس تفسیر کی بابت طبرانی میں ٦ ؎ ابی بکر سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس آیت میں اولین اور آخرین سے مقصود اسی امت کے لوگ ہیں۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہیں اگرچہ بعض علماء نے اس میں کلام کیا ہے لیکن صاحب مجمع الزوائد نے اس کو ثقہ لکھا ہے۔ بعض مفسروں نے اس آیت سے آیت ثلۃ من الاولین وقلیل من الاخرین کو منسوخ جو کہا ہے وہ قول صحیح نہیں ہے۔ (٥ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی کم صف اھل الجنۃ ص ٩١ ج ٢۔ ) (٦ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٥٩ جلد ٦۔ )
(56:39) ثلۃ من الاولین : ثلۃ کے لئے ملاحظہ ہو آیت نمبر 13 متذکرہ الصدر۔
آیات ٣٩ تا ٧٤۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب ہوگا کہ یہ لوگ دنیا میں تو اللہ کی نعمتیں صحت وزندگی اور مال واولاد میں مزے لوٹنے تھے لیکن ایسے بگڑ گئے تھے کہ بہت بڑا جرم یعنی کفر وشرک اختیار کررکھا تھا ورڈینگیں مارتے تھے کہ بھلاجب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو ہمیں کیسے زندہ کیا جائے گا یا ہمارے آباؤ وواجداد جن کی ہڈیاں خاک ہوچکیں انہیں کون زندہ کرسکے گا اور انہیں فرمادیجئے کہ سب اگلے پچھلے وقت مقررہ پر ایک ہی روز جمع کردیے جائیں گے اور تمہارے ان خرافات بکنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے منہ میں دوزخ کا تھوہڑ ٹھونسا جائے جو تمہیں کھانا بھی پڑے گا چھوڑ بھی نہ سکو گے اور کھانا بھی انتہائی کربناک ہوگا اور اس پر تمہیں کھولتا ہواپانی پلایاجائے گا جو منہ کی کھال ادھیڑ دے گا اور ہونٹوں سے لے کر انتڑیوں تک کاٹتا چلاجائے گا اور تم ایسے پیو گے جیسے کوئی پیاسا اونٹ پیتا ہے روز حشر ایسے لوگوں کی یہی مہمانی ہوگی آخر ہم نے ہی تم کو بار اول بھی تو پیدا کیا ہے اگر اے انسانو تم اپنی خلقت پر غورکرو تو کیوں نہ دوبارہ پیدا ہونے پر بھی ایمان لے آؤ آخرمانتے کیوں نہیں ہوکیاتم نے غور کیا کہ ایک نطفہ جو مرد وعورت کے باہمی اختلاط سے قرار پکڑتا ہے بھلاخود تمہارے وجود میں کیسے بنتا ہے کہ غذا تم کھاتے ہو اور بیج کسی اور وجود کا بن رہا ہوتا ہے یعنی اس کے حصے کے ذرات تمہارے خون سے نتھر کرجاتے ہیں پھر شکم مادر ہیں تم تو اسے بنا نہیں سکتے ہم ہی بناتے ہیں کہ نرومادہ حسین یابدصورت گورایا یا کالا پھر ذہنی اعتبار سے اور عمر اور نصیب کے اعتبار سے کیسی کیسی تعمیر تخلیق ہوتی ہے اور ہماری قدرت کاملہ سے انسان بنتا ہے پھر ہم نے اس کے لیے موت کا راستہ مقرر کردیا کہ ہر ایک کو اس دروازے سے دارآخرت کو آنا ہے تو کوئی بھلاہم سے بھاگ سکے گا سب اسی راستے آرہے ہیں جب یہاں تک سب کچھ تمہارے سامنے ہے تو جس قادر مطلق نے یہ سب کردیا ہے وہی فرماتا ہے کہ دارآخرت میں تم پھر زندہ کیے جاؤ گے تو کیسے انکار کرسکتے ہو اور موت سے پہلے بھی تم بےخطرہ نہ ہوجاؤ کہ ہم قادر ہیں کہ گناہوں پر پکڑ کر تمہیں تباہ کردیں یا شکلیں مسخ کردیں اور تمہاری جگہ دوسرے انسان اور دیگر اقوام لے لیں۔ جب تخلیق باری کا اتنا بڑا کارخانہ تمہارے سامنے ہے اور یہ دیکھ رہے ہو کہ وہ قادر کس طرح بےجان ذروں کو خوبصورت وجودوں میں ڈالتا ہے اور پھر روح پھونک کر انسان بنادیتا ہے بھلادوبارہ اس کے پیدا کرنے کو کیوں نہیں مانتے زراعت ہی کو دیکھ لو کہ زمین تیار کرکے بیج ڈال دیتے ہو بھلا ایک دانے سے پودا بنانا ذرات خاکی کو اس میں ڈھالنا اس پر خوشے لگانا اور ایک جگہ سینکڑوں دانوں سے انہیں بھردینا یہ کیا تم کرتے ہو یاسارانظام قدرت کاملہ کا ہے اور جب کبھی ہم اسے تباہ کرڈالیں گے اور بھرے کھیتوں کو ویران کردیں تو تم روک نہیں سکتے بلکہ روتے پھرتے ہو کہ مارے گئے تباہ ہوگئے قرض لے کر گذارہ ہوگاہم تو بہت ہی بدنصیب نکلے یا اسی پانی کو دیکھ لو جو زندگی کا بہت بڑا سبب ہے جسے پی کر جیتے ہو کیا اسے بادلوں سے تم برساتے ہو سورج کی گرمی بھاپ بادل بارش اس سارے نظام میں تمہارا حصہ کتنا ہے کچھ بھی تو نہیں اگر ہم اسے کڑوا کردیں سمندر کی تلخی بھاپ میں شامل ہو کر بادل کی راہ برسے اور سارا پانی تلخ ہوجائے کہ نہ کوئی حیوان زندہ رہ سکے اور نہ روئیدگی باقی تو تم کیا کرلو گے لہذا شکر کیوں نہیں کرتے ہو اور ہمارے احسانات کیوں نہیں مانتے ہوذرا آگ میں غورکروجوہرشے کو جلاتی ہے جس سے تم بیشمار خدمت لیتے ہو ہم ایسے قادر ہیں کہ اس کا بھی سرسبز و شاداب درخت بنادیا جس سے آگ جھڑتی ہے اور یوں انسان کو آگ کانشان ملا وہ درخت اے انسانوتم نے پیدا نہ کیا تھ اہم نے پیدا فرمایا ہم نے اس کو باعث نصیحت بنادی اور بادیہ نشینوں کے استعمال کی شے بھی لہذا حق یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی عظمت کے گیت گایا کرو۔
ثلة ................ الاخرین (٦ 5: ٠ 4) ” وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔ “ ان کی تعداد السابقین الاولین سے زیادہ ہوگی جو مقربین ہوں گے اور یہ اس اعتبار سے جو ہم نے اولین اور آخرین کا بیان کیا ہے۔ اب یہاں بات اصحاب الشمال تک آجاتی ہے۔ اس سے پہلے سورة کے آغاز میں ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے۔