Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 75

سورة الواقعة

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾

Then I swear by the setting of the stars,

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah swears to the Greatness of the Qur'an Allaw swears, فَلَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ Fala! I swear by the Mawaqi` of the stars. The usage of La (in Fala) is not an extra character without meaning, as some of the scholars of Tafsir say. Rather it is used at the beginning of an oath when the oath is a negation. This is like when A'ishah, may Allah be pleased with her said, "La by Allah! Allah's Messenger did not touch any woman's hand at all. So in this way, the meaning is, "No! I swear by the Mawaqi` of the stars. The matter is not as you people claim - about the Qur'an - that it is a result of magic or sorcery, rather it is an Honorable Qur'an." Ibn Jarir said, "Some of the scholars of the Arabic language said that the meaning of, فَلَ أُقْسِمُ (Fala! I swear) is, `The matter is not as you people have claimed.' Then He renews the oath again by saying, `I swear."' Mujahid said, فَلَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (Fala! I swear by the Mawaqi` of the stars), "The setting positions of the stars in the sky," and he said that it refers to the rising and setting positions. This was said by Al-Hasan, Qatadah and preferred by Ibn Jarir. Qatadah also said that it means their positions. Allah said, وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ

قرآن کا مقام حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں ۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے ۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے ، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور آیت ( انہ لقراٰن ) الخ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے ، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو ، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے ( لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط ) یعنی اللہ کی قسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا ۔ اسی طرح یہاں بھی لا قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد ۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں ۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے ۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ لا سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے آیت ( فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75۝ۙ ) 56- الواقعة:75 ) سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے ، لوح محفوظ سے تو لیلہ القدر میں ایک ساتھ آسمان اول پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کوئی بروسوں میں پورا اتر آیا ۔ مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں ۔ مواقع سے مراد منازل ہیں ۔ حسن فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے ۔ ضحاک فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی ۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لئے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے ۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں ۔ ابن مسعود کی قرأت میں ( مایمسہ ) ہے ابو العالیہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد صاف فرمایا آیت ( وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ ٢١٠؁ ) 26- الشعراء:210 ) یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترا ہیں نہ ان کے یہ لائق نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے ۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں ۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے ۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے ( مسلم ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان حضرت عمرو بن حرم کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک ۔ ( موطا مالک ) مراسیل ابو داؤد میں ہے زہری فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے کو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے واللہ اعلم ۔ پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعرو سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے ، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے ۔ پھر تم ایسی پاک بات کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق و شکر کے معنی میں آتا ہے ۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے ۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز ۔ ابن عباس فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے ۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی ، صبح کی نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ۔ آپ نے فرمایا سنو یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے ۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا ۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا ۔ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے ۔ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے حضرت عباس سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا ۔ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں ۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے ، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت ( مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ Ą۝ ) 35- فاطر:2 ) کی تفسیر میں گزر چکی ہیں ۔ ایک شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے ، یہ رزق الٰہی ہے ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا ۔ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

751یعنی یہ قرآن کی کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] مَوَاقِعُ النُّجُوْمِ کا معنی ستاروں کے گرنے کی جگہ بھی ہوسکتا ہے۔ فضائے بسیط میں بیشمار سیارے ایسے ہیں جو ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں اور اس کا دوسرا معنی ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ یعنی افق مغرب جہاں ہمیں ستارے ڈوبتے نظر آتے ہیں یا صبح کی روشنی کے نمودار ہونے کا وقت، جب ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو معنی بھی لیے جائیں اس سے مراد ستاروں کی گردش اور اپنے اپنے مدارات میں سفر کرنے کا وہ پیچیدہ اور حیران کن مربوط اور منظم نظام ہے جس میں غور و فکر کرنے سے انسان اس قادر مطلق ہستی کی حکمت اور وسعت علم تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو اس کائنات پر کنٹرول کر رہی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ۔۔۔۔۔۔:” فلا اقسم “ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر ۔ ” مواقع “ موقع “ کی جمع ہے جو ” وقع یقع “ سے ظرف ہے یا مصدر میمی ، گرنے کی جگہیں ۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں ، یا شہاب ِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequencing of Arguments Preceding verses put forward rational arguments, in support of life after death, by inviting attention to Allah&s infinite power. The current verses are meant to prove this fact by giving an authoritative reference, that is, the Qur&an. Allah swears to the Greatness of the Qur’ an فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (So, I swear by the setting places of the stars...56:75) The words لَا أُقْسِمُ &I swear& are prefixed in the text by the particle لَا la [ no ] which is not translated in the text, because it is idiomatically prefixed to &oath&, as for example لَا وَاللہ la wallah [ No, by Allah ]. In pre-Islamic Arabic, we come across the idiomatic oath لَا وَ اَبَیکَ la wa-abik [ No, by your father ]. Some lexicologists say that the particle la is added only as an idiomatic expression [ zaidah ] which carries no sense, and others say that when the refutation of an addressee&s hypothesis is intended, y la is used to signify that the assumption of the addressee is not correct, but the right thing is that which follows. The word مَوَاقِعِ mawaqi` is the plural of مَوقع mawq& and refers to the points where or times when the stars set. Here, like in Surah -Najm وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ |"By the star when it goes down to set, [ 1] |", the oath of stars is qualified by their setting-time. The wisdom underlying this is that when the stars set, their function seems to have been cut off from the horizon, and we witness effects of their vanishing. This is the proof of their perishability and dependence on Divine power.

خلاصہ تفسیر (اور دلائل عقلیہ سے بعث یعنی مر کر زندہ ہونے کا امکان ثابت ہونے کے بعد قرآن سے جو اس کا وقوع ثابت ہے اور تم اس قرآن کو نہیں مانتے) سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے (اور قسم اس بات کی کھاتا ہوں) کہ یہ (قرآن جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتا ہے بوجہ منزل من اللہ ہونے کے) ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں (پہلے سے) درج ہے (اور وہ لوح محفوظ ایس ہے) کہ بجز اس کو پاک فرشتوں کے ( کہ گناہوں سے بالکلیہ پاک ہیں) کوئی (شیطان وغیرہ) ہاتھ نہیں لگانے پاتا ( اس کے مضامین پر مطلع ہونا دور کی بات ہے، پس وہاں سے یہاں خاص طور پر آنا فرشتے ہی کے ذریعے سے ہے اور یہی نبوت ہے اور شیاطین اس کو لا ہی نہیں سکتے، کہ احتمال کہانت وغیرہ سے نبوت میں شبہ ہو، کقولہ تعالیٰ نزل بہ الروح الامین، وقولہ تعالیٰ و ما تنزلت بہ الشیطین، اس سے ثابت ہوا کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے (جو کہ اشارة کریم کا مدلول تھا، یہاں ستاروں کے چھپنے کی قسم اپنے مفہوم و مقصد کے اعتبار سے ایسی ہے جیسے شروع سورة النجم میں ہے جس کا وہاں بیان ہوچکا ہے جس میں ستاروں کا باعتبار غروب کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موصوف بالنبوة اور منار الہدیٰ ہونے کا نظیر ہونا بھی بیان ہوا ہے جو کہ مقصود مقام ہے اور قسمیں جتنی قرآن میں ہیں بوجہ دلالت علی المطلوب کے سب ہی عظیم ہیں، لیکن کہیں کہیں مطلوب کے خاص اہتمام اور اس پر زیادہ متنبہ کرنے کے لئے عظیم ہونے کی تصریح بھی فرما دی ہے، جیسا کہ اس جگہ اور سورة الفجر میں حاصل مقام کا اجمالاً وہ ہے جو تفصیلاً اخیر رکوع میں سورة شعراء کے ارشاد ہوا ہے) سو (جب اس کا منزل من اللہ ہونا ثابت ہے تو) کیا تم لوگ اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو (یعنی اس کو واجب التصدیق نہیں جانتے) اور (اس مداہنت سے بڑھ کر یہ کہ) تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو (اور اس لئے توحید و وقوع قیامت کا بھی انکار کرتے ہو) سو ( اگر یہ انکار حق ہے تو) جس وقت (مرنے کے قریب کسی شخص کی) روح حلق تک آپہنچتی ہے اور تم اس وقت (بیٹھے حسرت آلودہ نگاہ سے) تکا کرتے ہو اور ہم (اس وقت) اس (مرنے والے) شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں (یعنی تم سے بھی زیادہ اس شخص کے حال سے واقف ہوتے ہیں، کیونکہ تم صرف ظاہری حالت دیکھتے ہو اور ہم اس کی باطنی حالت پر بھی مطلع ہوتے ہیں) لیکن (ہمارے اس قرب علمی کو بوجہ اپنے جہل و کفر کے) تم سمجھتے نہیں ہو تو (فی الواقع) اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے (جیسا تمہارا خیال ہے) تو تم اس روح کو (بدن کی طرف) پھر کیوں نہیں لوٹا لاتے ہو (جس کی اس وقت تم کو تمنا بھی ہوا کرتی ہے) اگر (اس انکار قیامت و حساب میں) تم سچے ہو (مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے اور وقوع بعث کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا اور مانع کوئی امر ہی نہیں پس وقوع ثابت ہوگیا اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا کہ مقتضے ٰ قرآن کا ہے مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعث نہ ہونے دیں گے، جب ہی تو ایسے زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے، سو اگر تم اپنے بس میں سمجھتے ہو تو ذرا اپنا زور اسی وقت دکھلا دو جبکہ کسی قریب الموت انسان کے بقاء حیات کے متمنی بھی ہوتے ہو اور دیکھ دیکھ کر رحم بھی آتا ہے دل گیر بھی ہوتے ہو اور وہ زور دکھلانا یہ کہ اس روح کو نکلنے نہ دو بدن میں لوٹا دو جب اس پر بس نہیں کہ روح کو بدن سے نکلنے نہ دو تو اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے روکنے پر کیسے تمہارا بس چلے گا، پس ایسے لاطائل دعوے کیوں کرتے ہو اور چونکہ مقام ہے نفی قدرت کا اور نفی علم مستلزم ہے نفی تعلق قدرت کو، اس لئے نحن اقرب جملہ معترضہ میں ان کے علم تام کی نفی فرما دی اور چونکہ یہ دلیل کافی ان کے لئے شافی نہ ہوئی، اس لئے لا تبصرون میں توبیخ بھی فرما دی اور چونکہ اس تقدیر سے اثبات قدرت بھی ہوا اس لئے بعث کے ساتھ یہ توحید کی بھی دلیل ہے، آگے کیفیت مجازاة کی ارشاد ہے، یعنی یہ تو ثابت ہوچکا کہ قیامت اپنے وقت پر ضروری آوے گی) پھر (جب قیامت واقع ہوگی تو) جو شخص مقربین میں سے ہوگا (جن کا ذکر اوپر آیا ہے والسابقون الخ) اس کے لئے تو راحت ہے اور (فراغت کی) غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے اور جو شخص داہنے والوں میں سے ہوگا ( جن کا ذکر اوپر آیا ہے واصحب الیمین الخ) تو اس سے کہا جاوے گا کہ تیرے لئے (ہر آفت اور خطرہ سے) امن وامان ہے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے (اور یہ کہنا خواہ ابتداً ہو اگر فضل یا توبہ کے سبب اول ہی مغفرت ہوجاوے یا انتہاً ہو اگر بعد سزا کے مغفرت ہو اور یہاں روح و ریحان کا ذکر نہ فرمانا نفی کے لئے نہیں بلکہ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ سابقین سے ان امور میں کم ہوگا) اور جو شخص جھٹلانے والوں (اور) گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی اور دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) تحقیقی یقینی بات ہے سو (جس کے یہ تصرفات ہیں) اپنے (اس) عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح (وتحمید) کیجئے (وقد مر آنفاً ) ۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں عقلی دلائل سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس دنیاوی تخلیق کے ذریعہ دیا گیا تھا، آگے نقلی دلیل اسی پر حق تعالیٰ کی طرف سے قسم کے ساتھ دی گئی ہے۔ فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ، لفظ لا قسم کے شروع میں ایک عام محاورہ ہے، جیسے لا واللہ اور جاہلیت کی قسموں میں لا وابیک مشہور ہے، بعض حضرات نے اس حرف لا کو زائد قرار دیا ہے اور بعض نے اس کی توجیہ یہ کی کہ اس موقع پر حرف لا مخاطب کے گمان کی نفی کے لئے ہوتا ہے، یعنی لیس کما تقول، یعنی جیسا تم کہتے اور سمجھتے ہو وہ بات نہیں، بلکہ حقیقت وہ ہے جو آگے قسم کھا کر بتلائی جاتی ہے۔ مواقع، موقع کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ستاروں کے غروب ہونے کی جگہ یا وقت، اس آیت میں ستاروں کی قسم کو غروب کے وقت کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، جیسے سورة نجم میں بھی والنَّجْمِ اِذَا هَوٰى میں بھی وقت غروب کی قید ہے، اس قید کی حکمت یہ ہے کہ غروب کے وقت ہر ستارے کے عمل کا اس افق سے انقطاع نظر آتا ہے اور اس کے آثار کی فنا کا مشاہدہ ہوتا ہے جس سے ان کا حادث اور قدرت الٰہیہ کا محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ۝ ٧٥ ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع ہونے کے متعلق استعمال ہوئے ہیں چناچہ فرمایا ۔ إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں ۔ نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] ، وقال : فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] أي : في علم النُّجُوم، وقوله : وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] ، قيل : أراد به الكوكب، وإنما خصّ الهُوِيَّ دون الطّلوع، فإنّ لفظة النَّجْم تدلّ علی طلوعه، وقیل : أراد بِالنَّجْم الثُّرَيَّا، والعرب إذا أطلقتْ لفظَ النَّجم قصدتْ به الثُّرَيَّا . نحو : طلع النَّجْمُ غُدَيَّه ... وابْتَغَى الرَّاعِي شُكَيَّه «1» وقیل : أراد بذلک القرآن المُنَجَّم المنزَّل قَدْراً فَقَدْراً ، ويعني بقوله : هَوى نزولَهُ ، وعلی هذا قوله : فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] فقد فُسِّرَ علی الوجهين، والتَّنَجُّم : الحکم بالنّجوم، وقوله تعالی: وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] فَالنَّجْمُ : ما لا ساق له من النّبات، وقیل : أراد الکواكبَ. ( ن ج م ) النجم اصل میں طلوع ہونے ولاے ستارے کو کہتے ہیں اس کی جمع نجوم آتی ہے ۔ اور نجم ( ن ) نجوما ونجاما کے معنی طلوع ہونے کے ہیں نجم کا لفظ کبھی اسم ہوتا ہے اور کبھی مصدر اسی طرح نجوم کا لفظ کبھی قلوب وجیوب کی طرح جمع ہوتا ہے اور کبھی طلوع و غروب کی طرح مصدر اور تشبیہ کے طور پر سبزہ کے اگنے اور کسی رائے کے ظاہر ہونے پر بھی نجم النبت والقرن ونجم لی رای نجما کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ نجم فلان علی السلطان بادشاہ سے لغایت کرنا نجمت المال علیہ اس کے اصل منعی تو ستاروں کے طلوع کے لحاظ سے قرض کی قسطیں مقرر کرنے کے ہیں ۔ مثلا فلاں ستارے کے طلوع پر مال کی اتنی قسط ادا کرتا رہوں گا ۔ مگر عرف میں لطلق اقساط مقرر کرنے پر بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں ۔ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی ۔ یعنی علم نجوم سے حساب نکالا ۔ اور آیت کریمہ ؛ ۔ وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نجم سے مراد ستارہ ہے اور طلع کی بجائے ھوی کا لفظ لانے کی وجہ یہ ہے کہ طلوع کے معنی پر تو لفظ نجم ہی دلالت کر رہا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ جنم سے مراد ثریا یعنی پر دین ہے کیونکہ اہل عرب جب مطلق النجم کا لفظ بولتے ہیں تو پر دین ہی مراد ہے جیسا کہ مقولہ ہے طلع النجم غد یہ وابتغی الراعی سکیہ صبح کا ستارہ طلوع ہوا اور چر واہے نے اپنا مشکیزہ سنبھالا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آیت مذکورہ میں النجم سے مراد نجوم القرآن ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی تد ریجا معین مقدار میں نازل ہوتا رہا ہے اور ھوی سے اس کا نزول مراد ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ میں بھی مواقع النجوم کی دو طرح تفسیر بیان کی گئی ہے یعنی بعض نے مواقع النجوم سے مراد ستاروں کے منازل لئے ہیں اور بعض نے نجوم القرآن مراد لئے ہیں ۔ التنجم علم نجوم کے حساب سے کوئی پیش گوئی کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدے کر رہے ہیں ۔ میں نجم سے بےتنہ نباتات یعنی جڑی بوٹیاں مراد ہیں اور بعض نے ستارے مراد لئے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥۔ ٧٧) سو میں اس چیز کی قسم کھاتا ہوں کہ قرآن حکیم رسول اکرم پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک دم پورا نازل نہیں ہوا اگر تم تصدیق کرو تو قرآن ایک بڑی چیز ہے یا یہ کہ میں قسم کھاتا ہوں صبح کے وقت ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو اور تصدیق کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے یہ ایک مکرم معزز قرآن حکیم ہے جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ شان نزول : فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ (الخ) اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم کے زمانہ میں لوگوں پر بارش ہوئی اس پر رسول اکرم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض شاکر ہیں اور بعض ان میں کافر ہیں شاکر کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اس نے نازل فرمائی ہے اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ فلاں ستارہ ٹھیک رہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن ابی حاتم نے ابو حزرہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیات ایک انصاری شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ غزوہ تبوک میں لوگوں کا ایک وادی پر پڑاؤ ہوا رسول اکرم نے ان کو حکم دیا کہ اس وادی کے پانی میں سے کچھ ساتھ نہ لینا پھر آپ نے کوچ کیا اور دوسرے مقام پر پڑاؤ کیا اور وہاں لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا لوگوں نے رسول اکرم سے پانی کی شکایت کی آپ نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے بادل بھیجا اور ان پر بارش ہوئی اور وہ سب سیر ہوگئے تو ایک انصاری شخص نے جسے نفاق کا الزام دیا گیا تھا۔ اپنی قوم کے دوسرے شخص سے کہا ارے رسول اکرم نے کوئی دعا نہیں فرمائی جس سے ہم پر بارش ہوئی بلکہ ہم پر تو فلاں فلاح ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥{ فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ } ” پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ “ بعض مفسرین نے مَوٰقِعِ النُّجُوم کی وضاحت شہاب ثاقب کے حوالے سے کی ہے ‘ حالانکہ شہاب ثاقب بالکل مختلف چیز ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اسے شیاطین کو عالم بالا سے مار بھگانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں سائنس کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے اس آیت کو نسبتاً بہتر طور پر سمجھاجا سکتا ہے ‘ اگرچہ ابھی بھی اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ حلال و حرام ‘ جائز و ناجائز ‘ فرائض اور دین کے عملی پہلو سے متعلق قرآنی احکام کی تفہیم و تعمیل کے حوالے سے ہمیں راہنمائی کے لیے ” دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو ! “ کے مصداق پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہماری نظری و عملی اطاعت کا کمال یہ ہوگا کہ ہم اپنے اسلاف کا دامن تھامے رکھیں اور صحابہ کرام کے اتباع کو لازم جانیں۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے خود کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں میں پہنچا دیں ‘ بقول اقبال : ؎ بمصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بائو نہ رسیدی تمام بولہبی است ! البتہ دوسری طرف کائنات کی تخلیق ‘ کائنات میں زندگی کی ابتدا ‘ تاریخی حوالہ جات اور سائنس کے مختلف شعبوں سے متعلق قرآنی آیات کی تشریح و تعبیر کے لیے ہمیں ہر دور کے اجتماعی انسانی شعور اور دستیاب حقائق و معلومات کو مدنظر رکھنا چاہیے ‘ پھر جہاں مناسب معلوم ہو ان معلومات سے استفادہ بھی کرنا چاہیے اور جب ممکن نظر آئے تکلف سے اجتناب کرتے ہوئے فطری انداز میں قرآنی الفاظ و معانی کا زمینی حقائق کے ساتھ تطابق ڈھونڈنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی ذہن نشین کرلیجیے کہ ایسی آیات کا جو مفہوم آج سے ہزار سال پہلے سمجھا گیا تھا آج ہم اس مفہوم کو ماننے اور درست جاننے کے پابند نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ایسی آیات کا تعلق حکمت سے ہے ‘ کسی حکم سے نہیں ہے۔ چناچہ حکمت اور سائنس کے میدان میں تو نئے نئے افق تلاش کرنے کے لیے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے ‘ لیکن احکام اور دین کے عملی پہلو کو سمجھنے ‘ سمجھانے کے لیے ماضی سے تعلق جوڑنے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ کو مشعل راہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب آیئے آیت زیر مطالعہ کو موجودہ دور کی سائنسی معلومات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ موجودہ دور میں سائنس دانوں نے کائنات کے اندر ایسے بیشمار بڑے بڑے اندھے غاروں کا کھوج لگایا ہے جو اپنے پاس سے گزرنے والی ہرچیز کو نگل جاتے ہیں۔ سائنس دانوں نے ان ” غاروں “ کو Black Holes کا نام دیا ہے۔ ایسے کسی ایک بلیک ہول کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے ستارے پلک جھپکنے میں غائب ہوجاتے ہیں ‘ بلکہ ایسے کروڑوں ستاروں پر مشتمل کہکشائیں بھی ایسے بلیک ہولز کے اندر گم ہو کر معدوم ہوجاتی ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کائنات کے اندر مسلسل نئے نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں ‘ جبکہ ساتھ ہی ساتھ بیشمار کہکشائیں اپنے اَن گنت ستاروں کے ساتھ مسلسل بلیک ہولز کی نذر ہو کر معدوم ہو رہی ہیں۔ اگرچہ کائنات کے اسرار و رموز سے متعلق آج بھی انسان کی معلومات بہت محدود ہیں لیکن پھر بھی بلیک ہولز کے متعلق اب تک حاصل ہونے والی یہ معلومات بہت ہوشربا ہیں۔ اب اگر ہم اپنی زمین کی جسامت اور وسعت کا نقشہ ذہن میں رکھیں ‘ پھر اس کے مقابلے میں سورج کی جسامت کا اندازہ کریں ‘ پھر یہ تصور کریں کہ کائنات میں ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے اربوں کھربوں ستارے بھی موجود ہیں اور ان ستاروں کے درمیان اربوں نوری سالوں کے فاصلے ہیں ‘ پھر یہ تصور کریں کہ ایسے اَن گنت ستاروں پر مشتمل ان گنت کہکشائیں ہیں ‘ اور ان کہکشائوں کے درمیانی فاصلے بھی اسی تناسب سے ہیں ۔ کہکشائوں اور ستاروں سے متعلق یہ تمام معلومات ذہن میں رکھ کر اگر ہم کائنات کے طول و عرض میں موجود لاتعداد بلیک ہولز کا تصور کریں اور پھر یہ نقشہ ذہن میں لائیں کہ ان میں سے ایک ایک بلیک ہول اتنا بڑا ہے کہ وہ اپنے پاس سے گزرنے والی کسی بڑی سے بڑی کہکشاں کو آنِ واحد میں ایسے نگل جاتا ہے کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا اور پھر ان بلیک ہولز کا اطلاق مَوٰقِعِ النُّجُوْم پر کریں تو شاید ہمیں کچھ کچھ اندازہ ہوجائے کہ اس آیت میں جس قسم کا ذکر ہوا ہے وہ کتنی بڑی قسم ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36 That is, "The truth is not what you seem to think it is." Here, the use of the word /a (nay) before swearing an oath by the Qur'an's being Allah's Revelation by itself shows that the oath has been sworn to refute certain objections that the disbelievers wen raising with regard to the Qur'an.

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :36 یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو ۔ یہاں قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر قسم کھانے سے پہلے لفظ لا کا استعمال خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لوگ اس کتاب پاک کے متعلق کچھ باتیں بنا رہے تھے جن کی تردید کرنے کے لیے یہ قسم کھائی جا رہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21 یہاں قرآن کریم کی حقانیت اور اس کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کا بیان فرمانا مقصود ہے، مکہ مکرمہ کے کافر لوگ بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (معاذاللہ) دراصل کاہن ہیں، اور یہ قرآن کاہنوں کا کلام ہے، کاہنوں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اپنی پیشین گوئیوں میں جنات اور شیطانوں سے مدد لیتے تھے، اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ شیطانوں کو آسمان کے قریب جاکر وہاں کی باتیں سننے سے روک دیا گیا ہے، اور اگر کوئی شیطان سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو شہاب ثاقب سے مار بھگایاجاتا ہے (دیکھئے سورۂ حجر ١٥: ١٨ اور سورۂ صافات ٣٧: ١٠) شہاب ثاقب کو چونکہ عام بول چال میں تارے ٹوٹنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس لئے قرآن کریم نے ستاروں کا ذکر فرماتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو شیاطین سے حفاظت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے (دیکھئے سورۂ صافات ٣٧: ٧ اور سورۃ ملک ٦٧: ٥) لہذا جب جنات اور شیاطین کی آسمان تک رسائی نہیں ہے تو وہ کبھی ایسا مستحکم اور سچا کلام پیش نہیں کرسکتے جیسا قرآن کریم ہے، اس مناسبت سے یہاں ستاروں کے گرنے کے مقامات کی قسم کھائی گئی ہے کہ اگر ان کی حقیقت پر غور کرو تو صاف پتہ چل جائے گا کہ قرآن کریم ایسا باوقار کلام ہے جو کوئی کاہن بناکر نہیں لاسکتا ؛ کیونکہ یہ ستارے اسے عالم بالا تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٥۔ ٨٢۔ صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک دفعہ مینہ برسا اس مینہ کے برسنے کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے مینہ کا برسنا اپنے دل میں سمجھتے ہیں وہ اللہ کی نعمت کے شکر گزار ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاروں کی گردش کے اثر سے یہ مینہ برسا ہے انہوں نے اللہ کی نعمت کی کچھ قدر نہ جانی اس پر اللہ تعالیٰ نے فلا اقسم سے ولا تجعلون رزقکم انکم تکذبون تک یک یہ آیتیں نازل فرمائیں بغیر ذکر شان نزول کے یہ حدیث ابو سعید خدری وغیرہ کی روایت سے صحیحین میں بھی ہے۔ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ قسم کے پہلے ایک لا آیا کرتا ہے جس طرح لا واللہ میں ہے معنی اس لا کے یہ ہوتے ہیں کہ جس بات پر قسم کھائی گئی ہے وہی بات صحیح ہے اس قسم کی بات کے مقابیل میں جو کوئی اور بات کہتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کی طرح جن تاروں کے اثر سے یہ اللہ کی قدرت کے منکر لوگ مینہ کے برسنے کے قابل تھے انہیں تاروں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس طرح جگہ جگہ اس کلام الٰہی میں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی قدرت اور اللہ کے حکم سے ہوتا ہے بے اس کی قدرت اور حکم کے نہ تاروں کے اثر سے کچھ ہوتا ہے نہ چاند کے اثر سے اس کے سوا جن لوگوں کا جو کچھ اعتقاد ہے اس سے کلام الٰہی کا جھٹلانا اس کی قسمت میں ہے ورنہ ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ جس کی قدرت میں تاروں کا طلوع و غروب ہے اس کے حکم سے مینہ برستا ہے تاروں میں کوئی مستقل تاثیرہوتی تو وہ خود ایسی متغیر حالت پر کیوں ہوتے غرض جو خود اپنی ذات سے متغیر ہو اس میں ہمیشہ کے لئے کوئی مستقل تاثیر کہاں سے آسکتی ہے۔ کتب مکنون سے مقصود لوح محفوظ ہے۔ قرآن کو عزت والا اس لئے فرمایا کہ اس کی عزت اور آسمانی کتابوں سے بلند ہے جس کے سبب سے اس سے اور پچھلی سب آسمانی کتابیں منسوخ ہیں۔ تاروں کے طلوع غروب کی قسم کو بڑی قسم اس لئے فرمایا کہ تاروں کے روز کے طلوع غروب سے اللہ کی بڑی قدرت ظاہر ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس قدرت نے توحید کا راستہ بتا دیا جس کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ اس قصہ سے جو لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے ہیں اگر وہ سمجھیں تو ان کے لئے یہ بڑی قسم ہے ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ قرآن شریف کو وہی چھوتے ہیں جو پاک ہیں۔ امام شافعی علیہ الرحمۃ اور علماء نے اس سے یہ بات نکالی ہے کہ بےوضو آدمی قرآن کو ہاتھ نہ لگائے ‘ اور اس مذہب کی تائید میں چند روایتیں بھی ان علماء نے ذکر کی ہیں لیکن کوئی روایت ضعف سے خالی نہیں ہے اسی واسطے امام المفسرین ١ ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور بعض تابعیوں کا مذہب یہ ہے کہ بلا وضو قرآن شریف کو ہاتھ لگانا جائز ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جن علماء نے لایمسہ کی ضمیر کو قرآن کی طرف پھیرا ہے اور مطھرون کے معنی قرآن کے چھونے والے آدمیوں کے کئے ہیں انہوں نے بےوضو آدمی کے قرآن کو ہاتھ نہ لگانے کا مسئلہ اس آیت سے نکالا ہے اور جن علماء نے اس ضمیر کو لوح محفوظ کی طرف پھیرا ہے اور مطھرون کے معنی فرشتوں کے کئے ہیں ان کے نزدیک آیت کو اس مسئلہ سے کچھ تعلق نہیں۔ اب آگے فرمایا جب بڑی قسم کے بعد تم لوگوں کو یہ جتلا دیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور تم کو یوں بھی اس کے کلام الٰہی ہونے کی تصدیق ہوگئی کہ تم ایسا کچھ کلام بنا کر پیش نہیں کرسکتے تو پھر تم کو اس کلام کے جھٹلانے پر کمر باندھ کر اس کے جھٹلانے کو اپنے نصیبوں کا نوشتہ ٹھہرانا ‘ اس کے مان لینے میں سستی کرنا ہرگز جائز نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:75) فلا اقسم : ف تعقیب کا ہے۔ سو، پس، لا اقسم اس میں متعدد اقوال ہیں :۔ (1) لا مزیدہ تاکید کے لئے ہے۔ کلام کو پرزور بنانے کے لئے اس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ لئلا یعلم اہل الکتاب الا یقدرون علی شئی من فضل اللہ (57:29) تاکہ اچھی جان لیں اہل کتاب کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ (2) بعض عالموں کا کہنا ہے کہ : لا اقسم سے علیحدہ ہے۔ اس سے کافروں کی نفی مراد ہے۔ کافر قرآن کو جادو۔ شعر، کہانت کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں ۔۔ (3) بعض کے نزدیک لا نفی کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب حقیقت الامر واضح ہے قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں فلا اقسم پس میں قسم نہیں کھاتا۔ مجھے قسم کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ بمواقع النجوم : ب حرف جر۔ مواقع النجوم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ مواقع اترنے کی جگہیں، ڈوبنے کی جگہیں اسم ظرف جمع (موقع واحد) وقوع (باب فتح) مصدر سے۔ قسم ہمیشہ کسی اہم چیز کی کھایء جاتی ہے۔ اہمیت و عظمت جلال کی ہو یا قدر و قیمت کی ہو یہاں آیت ہذا میں یا تو ان اوقات کی قسم کھائی گئی ہے جب پچھلی رات ستارے گوشہ مغرب میں اترتے ہیں۔ کہ یہ وقت عبادت گزاروں کے لئے ایک خاص لذت و کیفیت کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت و برکت کا خصوصی نزول ہوتا ہے۔ یا ستاروں کی منزلوں کی قسم کھائی ہے (یہاں مصطلحہ منزلیں مراد یعنی ضروری ہیں کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کامل اور قدرت عظیمہ کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اگر نجوم سے مراد آیات اللہ لی جائیں تو بمواقع النجوم سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کے قلوب صافیہ ہوں گے۔ یا ان کے قلوب پر آیات کلام الٰہی کا اترنا مراد ہوگا۔ (قاموس القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” میں ستاروں کے ٹوٹنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اور تیسرے معنی یہ بھی کہ ” میں قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اترنے کی قسم کھاتا ہوں۔ “ اس میں اقسم سے پہلے ” لا “ زائدہ ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٧٥ تا ٩٦ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس آیت سے بھی استدلال کیا ہے اور احادیث مبارکہ سے بھی کوئی بھی بغیر وضو قرآن کو ہاتھ نہ لگائے یہ جائز نہیں کسی پر غسل واجب ہو تو پہلے غسل کرے یاخواتین ناپاکی کی حالت میں نہ لگائیں اور نہ اس کے کپڑے کو چھواجائے جو بطور غلاف چرھا ہوا ہوتا ہے ہاں اس کے اوپر ایک اور کپڑا جس میں بند کیا جاتا ہے اسے چھوسکتے ہیں یا پھر الگ رومال وغیرہ یا کپڑا ہاتھ میں لے کر خاتون دوپٹے کے آنچل سے یا مرد پہنے ہوئے کپڑے سے نہ پکڑے نیزالفاظ قرآن کا ادب بھی ہے ہاں بےوضو بغیر چھوئے تلاوت کرسکتا ہے مگر جنابت یا عورت ناپاکی کے دنوں میں تلاوت بھی نہ کرے۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے قران رب جلیل کی طرف سے نازل کردہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے یہ بھی اس کی ربوبیت کا تقاضا تھا کہ روحانی غذا اور ایمانی ہدایت کا سامان بھی فرماتا اور تم اے کفار اسی بات کو بہت ہلکا اور بےوقت جانتے ہو اور تمہارے حصے میں اس کا انکار ہی آتا ہے یعنی بدبختو جب تمہیں ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے وہ قبول نہیں کرتے اور اپنے لیے کفر پسند کرلیا ہے پھر اگر تمہیں عظمت باری سے انکار ہے تو جب تمہارے اعزہ و اقارب میں سے کوئی مرنے لگتا ہے اور اس کی جان حلق میں آپہنچتی ہے اور تم سب کے سب بیٹھے ٹک ٹک دیکھ رہے ہوتے ہو چاہتے ہو کہ یہ نہ مرے مگر کچھ کر نہیں سکتے بلکہ تمہاری نسبت اس کے حال سے اصل واقف تو ہم ہوتے ہیں تمہارا بس نہیں چلتا جب کہ وہ ہمارے دست قدرت میں ہوتا ہے مگر یہ حال تمہیں نظر نہیں آتا تو اگر تم جانتے ہو کہ تم کسی کے قبضہ قدرت میں نہیں تو پھر اپنے اسباب ووسائل استعمال کرکے اسے روک کیوں نہیں لیتے ۔ کیوں زندگی بچانے والی ادویات اپنااثر کھودیتی ہیں بلکہ اس وقت تمہارا کوئی زور نہیں بلکہ اس کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ اگر تو وہ مرنے والامقربین میں سے ہو تو موت بھی باعث فرحت اور راحت بن جاتی ہے اور مہکتی خوشبوئیں اور سنواری ہوئی جنت اس کا استقبال کرتی ہے اور اگر دائیں طرف والوں میں سے ہو تو بھی ہر طرح کی سلامتی اور رحمت باری نصیب ہوتی ہے لیکن اگر جھٹلانے والا اور گمراہ ہوتوپھردوزخ کے کھولتے پانی نصیب ہوتے ہیں اور سیدھا جہنم میں گرتا ہے یہ سب وہ عذاب ہیں جو برزخ میں موت کے فورا بعد شروع ہوجاتے ہیں کہ قبر یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور دوزخ کے گڑھوں میں سے گڑھا بن جاتی ہے یہ بات قطعا یقینی ہے لہذا اے مخاطب اپنے رب کی پاکی بیان کرتا رہ جو بہت عظیم ہے اس سے تمام اذکار عملی لسانی قلبی اور دوام ذکر مراد ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے باوجود کبھی آپ کو شاعر، کاہن اور مجنون کہتے اور کبھی یہ الزام لگاتے کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر اس کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ (نعوذ باللہ) اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ کوئی جن یا کوئی شیطان آ کر آپ کو سکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کی ان بےہودہ، بےبنیاد، جھوٹی، اور من گھڑت باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نظام کائنات میں ستاروں اور سیاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی قسم کہ یہ قرآن حکیم وہ باعظمت کلام ہے جس کو جن یا شیطان تو ایک طرف لوح محفوظ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر جو فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں وہ اللہ کے پاک فرشتے ہیں۔ ان پاک فرشتوں کے سوا کوئی اس کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتا اور اسی لئے قرآن کریم کا یہ ادب ہے کہ جو بھی اسکو ہاتھ لگائے اس کو ہر طرح کی ظاہری نجاست اور گندگی سے پاک ہونا چاہئے۔ ستاروں اور سیاروں کے چھپنے، ڈوبنے اور روشن ہونے کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کا ایک نظام ہے جس کو ہر انسان ہر رات میں کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ ستارے کبھی سامنے ہوتے ہیں اور کبھی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اسی طر اللہ کا کلام بھی ہے کہ اللہ نے اس کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے۔ کبھی وحی آتی ہے اور کبھی رک جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح آسمان پر چمکنے والے ستارے بکھرے ہئے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک نظام میں بندے ہوئے مرتب اور منظم ہیں اسی طرح قرآن کریم کی آیات ظاہری طور پر بکھری ہوئی نظر اتٓی ہیں لیکن وہ ایسی مرتب اور منظم ہیں کہ ایک آیت کا دوسری آیت سے انتہائی ربط اور تعلق واضح ہے۔ اسی لئے قرآن کریم پر بہت سے اعتراضات کئے گئے مگر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ تو ایک بےترتیب آیات اور بےربط مضامین ہیں بلکہ عرب جو اہل زبان تھے وہ جانتے تھے کہ ایک آیت کا دوسری آیت سے اور ایک مضمون کا دوسرے مضمون سے کیا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس ذات کے ہاتھ میں پورا نظام کائنات ہے اسی نے اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ راستہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ ہدایت دکھائی جاسکے۔ لیکن دنیا پرستوں اور ہر چیز کو مال و دولت اور پیٹ کے دھندوں کی ترازو پر تولنے والوں نے اس قرآن کریم کو جھٹلانے اور تردید کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایسے لوگوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم کی سچائیوں سے بےتوجہی اور انکار ایک بری عادت ہے۔ شاید ان کو اس دنیا میں اس کے نقصان کا اندازہ نہ ہو لیکن موت کے بعد جب وہ قیامت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ان کو پچھتانے اور شرمندگی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئیگا۔ فرمایا کہ تم دن رات دیکھیت ہو کہ تمہارے وہ رشتہ دار جن پر موت طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے ان کی جان گلے میں اٹک جاتی ہے تم ان کی محبت میں ہر طرح ان کو مرنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہو دواؤں اور علاج میں کمی نہیں کرتے ہو لیکن جب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرح کی کوششوں کے باوجود تمہارا کوئی عزیز اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے اور اس کو ساری دنیا مل کر بھی موت کے منہ سے واپس نہیں لاسکتی تو تمہارے اوپر کیسی نا امیدی اور بےبسی چھا جاتی ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر بھی تمہیں ہوش نہیں آتا اور تمہیں اپنی موت یاد نہیں آتی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس مایوسی اور بےبسی کے وقت ہم اور ہمارے فرشتے اس شخص سے اتنے فریب ہوتے ہیں کہ تم بھی نہیں ہوتے۔ تم مرنے والے کو دیکھتے ہو لیکن ہمیں اور ہمارے فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ تم زندگی بھر اپنے آپ کو مضبوط اور بہادر سمجھتے رہے ہو، جس نے تمہیں غرور وتکبر کا پیکر بنا دیا ہے آج تم موت کے سامنے اتنے بےبس کو یں ہو ؟ کوشش کر کے دیکھ لو کہ دنیا سے جانے والا شخص بچ جائے۔ فرمایا کہ جب تم دوسروں کو موت کے پنجے سے نہیں بچا سکتے تو پھر تم اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے باہر کیوں سمجھتے ہو۔ اگر ان حقائق کی موجودگی میں تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں کھتے تو یہ صرف تمہاری نادانی، جہالت اور بےعقلی کے سوا اور کیا ہے ؟ فرمایا کہ اصل بات جس پر انسان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہونا ہے وہ بہتر یا بدترین انجام پر ہے۔ (1) اگر ایک شخص تقویٰ ، پرہیز گاری اور نیکیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان لوگوں میں شامل تھا جو اللہ کے مقربین میں تھا تو اس کو آخرت میں ہر طرح کا سکون و اطمینان اور راحت و آرام نصیب ہوگا اور جنت کی وہ راحتیں نصیب ہوں گی جن کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا اللہ کے ہاں بہترین اور اعلیٰ ترین مقام ہوگا۔ (2) اور اگر وہ اپنی نیکیوں اور زندگی بھر بھلائیوں اور اللہ و رسول کی اطاعت میں رہنے کی وجہ سے اصحاب الیمین (جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے) تھے تو وہ بھی جنت کی تمام راحتیں اور نعمتیں حاصل کریں گے اور ان پر سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ (3) لیکن اگر وہ ان لوگوں میں سے تھے جو زنگدی بھر اللہ کے دین اور رسول کی رسالت کو جھٹلاتے جھٹلاتے خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا ہوگا تو ان کی آئو بھگت جہنم کی آگ اور کھولتے پانی سے کی جائیگی جو ان کی انتہائی بد نصیبی ہوگی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے وہ سراسر حق اور سچ ہے آپ اس سچائی کو پھیلاتے رہیے کسی کی پرواہ نہ کیجیے اور اپنے عظیم رب کی حمد و ثنا کیجیے۔ ہر کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” لایمسہ الا المطھرون “ یعنی اس کو صرف وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ اگرچہ یہاں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ کلام جنتا یا شیاطین کے ناپاک ہاتھوں سے نہیں بلکہ اللہ کے پاک فرشتوں کے ہاتھوں سے آپ تک پہنچا ہے لیکن مفسرین نے اس آیت کے ضمن میں چند احادیث کو نقل فرمایا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پاکیزہ فرشتوں کے ذریعہ اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے لیکن اب وہ لوگ جو حامل قرآن ہیں ان کو بھی اس قرآن کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہر طرح کی ظاہری نجاستوں سے پاک ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کر کے ان سے مسائل پیش فرمائے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن حزام کو ایک خط لکھوایا جس میں یہ حکم بھی دیا تھا کہ ” لایمس القرآن الا طاھر “ (ابن کثیر روح المعانی) یعنی قرآن کو وہ شخص ہاتھ نہ لگائے جو پاک نہ ہو۔ پاکی کیا ہے اس کی وضاحت بھی مفسرین نے ہی فرمائی ہے کہ قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کی شرط یہ ہے کہ وہ جنابت ، حیض اور نفاس سے پاک ہو اور با وضو ہو۔ قرآن کریم کو ہاتھ لگایا جائے تو یہ ایک ناجائز حرکت ہوگی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر چاروں اماموں کا مکمل اتفاق ہے۔ اگر ایک شخص پر غسل واجب ہے یا کوئی خاتون اپنے ایام میں ہے تو وہ پہلے غسل کرے اور پھر قرآن شریف کو ہاتھ لگائے۔ اگر وہ شرعی طور پر پاک ہے اور اس کا وضو نہیں ہے تو اس کو زبانی قرآن کریم پڑھنے کی اجازت ہے۔ ہاتھ لگانے کے لئے وضو ہونا شرط ہے۔ وہ بچے جو قرآن کریم حفظ کرتے ہیں یا قرآن کریم پڑھتے ہیں اسی طرح سے وہ لوگ جو کسی ایسے چھاپے خانے میں کام کرتے ہیں جہاں قرآن کریم چھپتا ہے ان کو چاہئے کہ جب وہ قرآن کریم پڑھنے آئیں یا کوئی اپنے پریس یا دوکان میں جہاں قرآن کریم ہی ہوتے ہیں آئیں تو وہ وضو کرلیں ہر وقت وضو کرنا ایسے لوگوں کے لئے شرط نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ وضو کا اہتمام کریں تو ان کو بہت زیادہ اجر وثواب ملے گا۔ واخر دعوانا الحمد للہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کے تذکرے کے بعد عظیم خالق کی تسبیح کرنے کا حکم اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آسمان سے قرآن مجید جیسی عطیم کتاب نازل کی ہے۔ اہل مکہ اپنے باطل عقیدہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے قرآن کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ اس بات کے ان کے سامنے درجنوں دلائل دیئے گئے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جارہا لیکن وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ کسی صورت قرآن مجید کو مِن جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ قرآن کسی غیر کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا اسے تو اس رب نے نازل کیا ہے جو ستارے بنانے اور انہیں فضا میں ٹھہرانے والا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہمیں گرتے ہوئے ستاروں کی قسم ہے اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو تو یہ بہت بڑی قسم ہے، بڑی قسم سے مراد ایک تو قسم اٹھانے والی ذات سب سے اعلیٰ اور بڑی ہے پھر جن ستاروں کی قسم اٹھائی جارہی ہے وہ کس قدر بڑے ہیں۔ ان کے نظام پر غور کرو کہ اس ذات نے کس طرح کھرب ہا ستارے پیدا کیے ہیں۔ ان میں چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی جو اس کے حکم سے جھڑتے اور پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں تاروں کی منازل کی قسم کھائی ہے۔ منازل سے مراد تاروں کے مدار یا فضاکاوہ حصہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں تارے گرتے ہیں اور زمین پر آنے کی بجائے فضا میں ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ اس قسم میں ایک طرف ستاروں کے وسیع ترین نظام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف قرآن مجید کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ اس بنا پر ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن مجید عظمت کا حامل ہے اور یہ لوح محفوظ میں درج ہے، اسے وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک باز ہیں۔ یعنی وہ فرشتے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت اور تنزیل پر مقرر کیا ہے اس سے کفار کے الزام کی تردید کی گئی ہے جو کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن خود بنا لیتے ہیں یا اس پر شیطان نازل کرتا ہے۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی کی کسی اعتبار سے دخل اندازی نہیں ہے۔ کیا تم اس عظیم کتاب کا انکار کرتے ہو جسے رب العالمین نے نازل فرمایا ہے لیکن تم دنیا کی خاطر اسے جھٹلائے جارہے ہو۔ ” تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ “ کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ ١۔ کفار کا خیال تھا کہ اگر ہم نے قرآن کی دعوت کو مان لیا تو لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے جس سے ہمیں کاروباری طور پر نقصان پہنچے گا۔ ٢۔ جس طرح زندگی کے لیے کھانا پینا لازم ہے اس طرح انہوں نے قرآن کی مخالفت کو اپنے لیے لازم سمجھ رکھا ہے۔ ٣۔ جس طرح دوسری نعمتوں کا شکرادا نہ کرکے اللہ تعالیٰ کو جھٹلاتے ہو اسی طرح قرآن مجید جیسی عظیم نعمت کو جھٹلاتے ہو۔ (عَنْ عَلِیٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ) قَالَ شُکْرُکُمْ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ کَذَا وَکَذَا وَبِنَجْمِ کَذَا وَکَذَا) (رواہ الترمذی : باب ومن سورة الواقعۃ قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ صَحِیحٌ لاَ نَعْرِفُہُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ إِسْرَاءِیلَ ) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ) کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری ناشکری تو یہاں تک ہے کہ تم کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ “ مسا ئل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ یہ قرآن عظیم مرتبہ کتاب ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی قسم کو معمولی قسم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ٣۔ قرآن مجیدبڑی بلند پایا کتاب ہے۔ ٤۔ قرآن مجید لوح محفوظ میں درج ہے۔ ٥۔ قرآن مجید کو جو پاک باز فرشتے ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔ ٦۔ قرآن مجید کو رب العالمین نے نازل فرمایا ہے۔ ٧۔ قرآن مجید کے کسی مسئلے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی عظمت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو کچھ نازل کیا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٢) ٢۔ قرآن مجید کو اللہ نے ہی نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر : ٩) ٣۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ٤۔ یہ کتاب مبین ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٥۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : ١) ٦۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : ٥٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلا ............ النجوم (٦ 5:5 ٧) ” پس میں قسم نہیں کھاتا تاروں کے مواقع کی۔ “ یہ بات تو بہت واضح ہے اور روشن ہے اور قسم کی محتاج نہیں ہے۔ اس دور میں مخاطین ستاروں کے مواقع اور محل وقوع کے بارے میں زیادہ نہ جانتے تھے۔ صرف اس قدر جو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس پر قسم اٹھائی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بلاشبہ قرآن، کریم ہے رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ مواقع النجوم کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ قرآن، کریم ہے یعنی عزت والا ہے عمدہ چیز ہے بندوں کو نفع دینے والا ہے (اور) محفوظ کتاب میں ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے لوح محفوظ مراد ہے جیسا کہ سورة البروج کے ختم پر فرمایا ہے : ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ٠٠٢١ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) ٠٠٢٢﴾ (بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں ہے) وہ لوح محفوظ میں محفوظ ہے اس میں تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ ﴿بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ٠٠٧٥﴾ سے کیا مراد ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے آسمان کے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ مطالع النجوم مراد ہیں اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نجوم سے نجوم القرآن مراد ہیں نجوم، نجم کی جمع ہے، جو ستارہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور قسط وار جو کوئی چیز دی جائے اس کی تھوڑی تھوڑی ادائیگی کو بھی نجم کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا قرآن مجید جو نازل ہو رہا ہے جسے فرشتے لوح محفوظ سے لے کر آتے ہیں ان نجوم اوراقساط کی قسم کھاکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو بالاقساط نازل ہو رہا ہے کتاب محفوظ میں محفوظ ہے اس کتاب محفوظ تک انسان اور جنات کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ان کو اس میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ” فلا اقسم “ یہاں سے عظمت قرآن کا بیان شروع ہوتا ہے نیز اس میں تصدیق بالقران کی ترغیب دی گئی ہے۔ ” فلا اقسم “ میں لا زائدہ ہے محاورات میں قسم پر اکثر لا زائدہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ لا واللہ وغیرہ۔ امام آلوسی نے فرمایا ہے کہ یہ لا زائدہ ہے برائے تاکید (روح) ۔ اور مواقع النجوم سے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں مراد ہیں۔ ستاروں کا غروب ان کے فنا اور زوال کی دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بالا تر طاقت کے زیر تصرف ہیں جس طرح آسمان کے جگمگاتے ستارے چھپ جاتے اور ان کی روشنی زائل ہوجاتی ہے اسی طرح یہ سارا جہان ایک وقت فنا ہواجائے گا۔ لا مزیدۃ مؤکدۃ (مدارک) بمواقع النجوم ای بمساقط کواکب السماء و مغاربھا۔ تخصیصھا بالقسم لما فی غروبہا من زوال اثرھا والدلالۃ علی وجود مؤثر دائم لایغیر۔ ولذا استدل الخلیل علیہ بالافول علی وجود الصاطع جل وعلا (روح ج 27 ص 152) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(75) پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے غروب ہونے اور چھپنے کی۔