Surat ul Mujadala

Surah: 58

Verse: 18

سورة المجادلة

یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیَحۡلِفُوۡنَ لَہٗ کَمَا یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۸﴾

On the Day Allah will resurrect them all, and they will swear to Him as they swear to you and think that they are [standing] on something. Unquestionably, it is they who are the liars.

جس دن اللہ تعالٰی ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں ( اللہ تعالیٰ ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے اور سمجھیں گے کہ وہ بھی کسی ( دلیل ) پر ہیں یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ... On the Day when Allah will resurrect them all together; referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out, ... فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ ... then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something. meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said, وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ (And they think that they have something), meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs; ... أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ Verily, they are liars! stressing that they are lying, Allah then said;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یعنی ان کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے 18۔ 2 یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١] منافقوں کی قسمیں کھانے کی پختہ عادت :۔ قسمیں اٹھانے کی عادت صرف اس شخص کی ہوتی ہے جو ہر وقت جھوٹ بولتا ہو اور لوگوں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہو۔ سچے اور راست باز انسان کو کبھی قسم اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ لوگ اس کی بات پر ویسے ہی اعتماد کرلیتے ہیں اور ان منافقوں کی یہ حالت اور قسمیں کھانے کی عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہو کر بھی قسمیں کھانا شروع کردیں گے اور یہ بھی نہ سوچیں گے کہ جب مسلمانوں کو بھی ان کی قسموں پر اعتماد نہ تھا تو اللہ کیسے اعتماد کرلے گا جو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ ۔۔۔۔۔ یعنی منافقین کی جھوٹ بولنے اور اس پر قسم کھانے کی عادت اتنی پکی ہے کہ موت اور حشر و نشر کے بعد کمی بھی نہیں جائے گی ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ قسم کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنیاد موجود ہے، جس پر وہ قائم ہیں ۔ فرمایا سن لو ، وہی اصل اور کامل جھوٹے ہیں کہ غلام الغیوب کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ دیکھئے سورة ٔ انعام (٢٢ تا ٢٤)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ يَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَہٗ كَـمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ عَلٰي شَيْءٍ۝ ٠ ۭ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ۝ ١٨ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر، وقوله عزّ وجلّ : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] ، أي : قيّضه، وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] ، نحو : أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] ، وقوله تعالی: ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ، وذلک إثارة بلا توجيه إلى مکان، وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] ، قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] ، وقال عزّ وجلّ : فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] ، والنوم من جنس الموت فجعل التوفي فيهما، والبعث منهما سواء، وقوله عزّ وجلّ : وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] ، أي : توجههم ومضيّهم . ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا ۔ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] جو لوگ کافر ہوئے ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ( دوبارہ ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ کہدو کہ ہاں ہاں میرے پروردیگا کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤگے ۔ ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھا نا ایک شخص د کے پیدا کرنے اور جلانے اٹھانے ) کی طرح ہے پس بعث دو قسم پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کو کرید نے لگا ۔ میں بعث بمعنی قیض ہے ۔ یعنی مقرر کردیا اور رسولوں کے متعلق کہا جائے ۔ تو اس کے معنی مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا [ النحل/ 36] اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں أَرْسَلْنا رُسُلَنا [ المؤمنون/ 44] فرمایا ہے اور آیت : ۔ ثُمَّ بَعَثْناهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] پھر ان کا جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ ( غار میں ) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کو مقدار کس کو خوب یاد ہے ۔ میں بعثنا کے معنی صرف ۃ نیند سے ) اٹھانے کے ہیں اور اس میں بھیجنے کا مفہوم شامل نہیں ہے ۔ وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ النحل/ 84] اور اس دن کو یا د کرو جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑا کریں گے ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہہ و کہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے عذاب بھیجے ۔ فَأَماتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ [ البقرة/ 259] تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی ( اور ) سو برس تک ( اس کو مردہ رکھا ) پھر اس کو جلا اٹھایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ ما جَرَحْتُمْ بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کبھی تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھادیتا ہے ۔ میں نیند کے متعلق تونی اور دن کو اٹھنے کے متعلق بعث کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت سے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعاثَهُمْ [ التوبة/ 46] لیکن خدا نے ان کا اٹھنا ( اور نکلنا ) پسند نہ کیا ۔ میں انبعاث کے معنی جانے کے ہیں ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے حلف الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير : تدارکتما الأحلاف قد ثلّ عرشها أي : كاد يزول استقامة أمورها، وعرش الرجل : قوام أمره . والحَلِفُ أصله الیمین الذي يأخذ بعضهم من بعض بها العهد، ثمّ عبّر به عن کلّ يمين، قال اللہ تعالی: وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] ، أي : مکثار للحلف، وقال تعالی: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] ، يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَما هُمْ مِنْكُمْ [ التوبة/ 56] ، يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ [ التوبة/ 62] ، وشیء مُحْلِف : يحمل الإنسان علی الحلف، وكميت محلف :إذا کان يشكّ في كميتته وشقرته، فيحلف واحد أنه كميت، وآخر أنه أشقر . والمُحَالَفَة : أن يحلف کلّ للآخر، ثم جعلت عبارة عن الملازمة مجرّدا، فقیل : حِلْفُ فلان وحَلِيفُه، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «لا حِلْفَ في الإسلام» . وفلان حَلِيف اللسان، أي : حدیده، كأنه يحالف الکلام فلا يتباطأ عنه، وحلیف الفصاحة . ( ح ل ف ) الحلف عہدو پیمانہ جو لوگوں کے درمیان ہو المحالفۃ ( مفاعلہ ) معاہدہ یعنی باہم عہدو پیمان کرنے کو کہتے ہیں پھر محالفت سے لزوم کے معنی لے کر کہا جاتا ہے یعنی وہ کرم سے جدا نہین ہوتا ۔ حلیف جس کے ساتھ عہد و پیمان کیا گیا ہو اس کی جمع احلاف ( حلفاء آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) تم نے ان حلیفوں کردیا جن کے پائے ثبات مترلزل ہوچکے تھے ۔ الحلف اصل میں اس قسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ ایک دوسرے سے عہد و پیمان کای جائے اس کے بعد عام قسم کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے قرآن میں ہے ۔ وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] اور کسی ایسے شخس کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے ۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ( تو کچھ ) انہیں کہا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَما هُمْ مِنْكُمْ [ التوبة/ 56] اور خدا کی قسمیں کھاتے میں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ [ التوبة/ 62] یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں ۔ ( مشکوک چیز ) جس کے ثابت کرنے کے لئے قسم کی ضرورت ہو ۔ کمیت محلف گھوڑا جس کے کمیت اور اشقر ہونے میں شک ہو ایک قسم کھائے کہ یہ کمیت ہے اور دوسرا حلف اٹھائے کہ یہ اشقر یعنی سرخ ہے المحالفۃ کے اصل معنی تو ایک دوسرے سامنے قسم کھانا کے ہیں اس سے یہ لفظ محض لزوم کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اور جو کسی سے الگ نہ ہوتا ہو اسے اس کا حلف یا حلیف کہا جاتا ہے حدیث میں ہے اسلام میں زمانہ جاہلیت ایسے معاہدے نہیں ہیں ۔ فلان حلیف اللسان فلاں چرب زبان ہے کو یا اس نے بولنے سے عہد کر رکھا ہے اور اس سے ایک لمحہ نہیں رکتا حلیف الفصا حۃ وہ صحیح ہے ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ ان منافقین اور یہودیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھوٹٰ قسمیں کھائیں گے کہ ہم کافر اور منافق نہیں تھے جس طرح دنیا میں تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں اور یوں خیال کریں گے کہ ہم دین پر قائم ہیں خوب سن لو یہ اللہ کے نزدیک بڑے ہی جھوٹے ہیں۔ شان نزول : يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا (الخ) امام احمد اور اسی طرح امام حاکم کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم اپنے حجرہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے اور سایہ ختم ہوتا جارہا تھا اتنے میں آپ نے فرمایا تمہارے پاس عنقریب ایک شخص آنے والا ہے اور میں اپنی آنکھوں سے اسے شیطان دیکھتا ہوں جب وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے بات مت کرنا۔ کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ اتنے میں ایک کانا نیکی آنکھوں والا شخص آیا رسول اکرم نے اسے اپنے پاس بلایا جب اسے دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی کس وجہ سے مجھے برا کہتے ہیں وہ کہنے لگا آپ مجھے چھوڑیے میں اپنے ساتھیوں کو لے کر آتا ہوں۔ چناچہ وہ گیا اور ان کو بلا لایا ان لوگوں نے آکر آپ کے سامنے جو کچھ انہوں نے کہا تھا یا کیا تھا اس کے بارے میں قسمیں کھا لیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨{ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَـیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ } ” جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسے (آج) تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں “ یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھانے کے اس حد تک عادی ہوچکے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھانا شروع ہوجائیں گے کہ ہم ایسے نہیں کہتے تھے اور ہم ویسے نہیں کرتے تھے۔ { وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ عَلٰی شَیْئٍ } ” اور وہ سمجھیں گے کہ وہ کسی بات پر ہیں۔ “ اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر بھی وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہمارے اعمال کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو ہے۔ آخر ہم مسلمان ہوئے تھے ‘ ہم نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں نمازیں پڑھی تھیں ‘ روزے رکھے تھے ‘ سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر مہمات میں حصہ لیتے رہے تھے۔ اس طرح ہم دنیا سے کچھ نہ کچھ نیک اعمال تو لے کر آئے ہی ہیں۔ { اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ ۔ } ” آگاہ ہو جائو کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35 That is, "Not being content with swearing oaths before the people in this world, they will swear false oaths also.before AIIah Himself in the Hereafter, for falsehood and fraud has become second nature with them, which they wilt not give up even after death."

سورة الْمُجَادِلَة حاشیہ نمبر :35 یعنی یہ صرف دنیا ہی میں اور صرف انسانوں ہی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آخرت میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں کھانے سے باز نہ رہیں گے ۔ جھوٹ اور فریب ان کے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ مر کر بھی یہ ان سے نہ چھوٹے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(58:18) یوم : مفعول فیہ۔ جس دن۔ یبعثھم : یبعث فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بعث (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بھیجنا۔ اٹھانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے گا۔ جمیعا سب کو۔ فیحلفون لہ : ف تعقیب کا ہے یحلفون مضارع جمع مذکر غائب، خلف (باب ضرب) مصدر۔ وہ قسمیں کھائیں گے۔ لہ اس کے سامنے ۔ پھر اس (خدا) کے سامنے وہ قسمیں کھائیں گے۔ ای قائلین واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ بخدا ہم مشرک نہیں تھے کام یحلفون لکم : کاف تشبیہ کا ہے۔ لکم تمہارے سامنے۔ یعنی جیسا کہ وہ اب تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم سے ہیں کافر یا غیر مسلم نہیں ہیں۔ ویحسبون انھم علی شیء واؤ عاطفہ۔ یحسبون مضارع جمع مذکر غائب ۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کریں گے۔ وہ خیال کریں گے۔ انھم علی شیء کہ ان کا کچھ کام بن گیا ہے۔ وہ کچھ نفع میں رہے ہیں ۔ کہ جلب منفعت اور دفع مضرت میں ان کو کچھ حاصل ہوا ہے۔ کہ وہ کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ الا : جان لو، سن رکھو، خبردار ہوجاؤ۔ یہ حرف تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) ہے۔ کبھی یہ عرض کے لئے استعمال ہوتا ہے (یعنی کسی چیز کو نرمی سے طلب کرنا) جیسے الا تحبون ان یغفر اللہ لکم : کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے۔ اور کبھی تخصیص یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لئے بھی آتا ہے جیسے کہ فرمایا : الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وہم بدء وکم اول مرۃ۔ کیا تم نہیں لڑو گے ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انہی نے تم سے پہلے چھڑ کی۔ جب یہ تنبیہ اور استفتاح کے لئے آتا ہے تو جملہ اسمیہ و فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے اور جب عرض و تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے خواہ وہ افعال لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔ انھم ہم الکذبون : ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔ بیشک یہی وہ لوگ ہیں جو بہت جھوٹے ہیں (اور ان کے انتہائی جھوٹے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ خدا جو عالم الغیب ہے اس کے سامنے بھی یہ جھوٹ بولیں گے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

“3 جو اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئیں گے۔ حالانکہ وہ تو دلو تک کا حال جاننے والا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یوم یبعثھم ................ لکم (٨٥ : ٨١) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔ ویحسبون ................ شیئ (٨٥ : ٨١) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔ الا انھم ............ الکذبون (٨٥ : ٨١) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔ ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔ فانسھم ذکر اللہ (٨٥ : ٩١) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔ اولئک حزب الشیطن (٨٥ : ٩١) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔ الا ان ................ الخسرون (٨٥ : ٩١) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔ یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ان لوگوں کی جھوٹی قسم کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو ! اتنی ہی سی بات نہیں ہے کہ دنیا میں تمہارے سامنے یہ جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں ان کی بدحالی کا تو یہ عالم ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انہیں قبروں سے اٹھائے گا اور میدان حشر میں حاضر فرمائے گا اور وہاں ان سے ان کے کفر اور ان کی شرارتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے۔ ﴿ َلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ٠٠١٨﴾ خوب سمجھ لیا جائے کہ یہ لوگ جھوٹے ہی جھوٹے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اسے کمال بھی سمجھتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ دیکھو ہم کیسے اچھے رہے جھوٹ بولا تو کیا ہے اپنا کام تو نکال ہی لیا، دنیا کی مطلب پرستی کی طرف ان کو دھیان ہے آخرت کے عذاب کی طرف کچھ دھیان نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا پھر یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھایا کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے روبرو قسمیں کھائیں گے اور یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں آگاہ رہو بلا شبہ یہ لوگ بہت جھوٹے ہیں اور یہی ہیں اصل جھوٹے۔ یعنی ان کے حقیقی عذاب کا اور سزا بھگتنے کا وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا اور سب کو جمع کرے گا سو یہ لوگ اس وقت خدا کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں یعنی دنیا میں کہ ہم کسی بھلی بات پر ہیں۔ یا قیامت میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم کسی اچھی حالت میں ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر بچ جائیں گے۔ بعض حضراتے ویحسبون انھم علی شی کو دنیا کے ساتھ رکھا ہے اور بعض نے قیامت کے ساتھ ہم نے دونوں باتیں عرض کردی ہیں۔ مطلب یہ کہ قسمیں جھوٹی دونوں جگہ کھائیں گے یہاں بھی یہ سمجھ کر جھوٹی قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے بھلی بات کی ہے اور مسلمانوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہیں وہاں بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ واللہ ربنا ماکنا مشرکین اور یہ سمجھیں گے کہ ہم کچھ نفع کے کام پر ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر عذاب سے نجات حاصل کرلیں گے ان کے جھوٹ پر تاکید ہے کہ سن لو یہی لوگ ہیں جھوٹے ان کا جھوٹ یہاں بھی ان کے لئے نافع نہیں اور وہاں بھی نفع دینے والا نہیں۔