Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 150

سورة الأنعام

قُلۡ ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ یَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَلَا تَشۡہَدۡ مَعَہُمۡ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾٪  5

Say, [O Muhammad], "Bring forward your witnesses who will testify that Allah has prohibited this." And if they testify, do not testify with them. And do not follow the desires of those who deny Our verses and those who do not believe in the Hereafter, while they equate [others] with their Lord.

آپ کہیئے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کر دیا ہے پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو آپ اس کی شہادت نہ دیجئے اور ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا اتباع مت کیجئے! جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءكُمُ ... Say: "Bring forward your witnesses, produce your witnesses, ... الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللّهَ حَرَّمَ هَـذَا ... who can testify that Allah has forbidden this." which you have forbidden and lied and invented about Allah in this regard, ... فَإِن شَهِدُواْ فَلَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ ... Then if they testify, do not testify with them. because in this case, their testimony is false and untrue, ... وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِأيَاتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِالاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ And do not follow the vain desires of those who belie Our Ayat, and such as believe not in the Hereafter, and they hold others as equal with their Lord. by associating others with Allah in worship and treating them as equals to Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

150۔ 1 یعنی وہ جانور، جن کو مشرکین حرام قرار دیے ہوئے تھے۔ 150۔ 2 کیونکہ ان کے پاس سوائے کذب و افترا کے کچھ نہیں۔ 150۔ 3 یعنی اس کا عدیل (برابر کا) ٹھہرا کر شرک کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٤] یہود سے شہادت طلب کرنے کی وجہ :۔ یہاں شہادت سے مراد یقین کی بنا پر شہادت ہے اور وہ یہ شہادت دیں کہ واقعی فلاں فلاں چیزیں اللہ نے فلاں فلاں کے لیے حرام یا حلال قرار دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی شہادت وہ دے نہیں سکتے تھے۔ تاہم اگر کچھ لوگ ڈھیٹ بن کر جھوٹی شہادت دینے پر آمادہ ہو ہی جائیں تو آپ ان کے ہمنوا نہ بن جائیں۔ ان سے یہ شہادت اس لیے نہیں طلب کی جارہی کہ اگر وہ شہادت دیں تو آپ ان کی بات مان لیں بلکہ اس لیے طلب کی جا رہی ہے کہ جب وہ ایسی شہادت پیش نہ کرسکیں گے تو ممکن ہے کہ بعض صحیح عقل رکھنے والے لوگ ایسی مشرکانہ رسوم سے باز آجائیں جو سراسر توہمات اور ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ اور اس قسم کی جھوٹی شہادت دینے پر ایسے لوگ ہی آمادہ ہوسکتے ہیں جنہیں آخرت کے دن پر اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی پر ایمان ہی نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے اور حلت و حرمت کے احکام اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کے ہمسر بنتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ: کیونکہ جو بھی یہ گواہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ : یعنی وہ مخلوق کو رب کے برابر ٹھہرا کر شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں، خواہ کسی طرح برابر ٹھہرائیں، حالانکہ رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کی برابری ہو ہی نہیں سکتی، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ علم میں، نہ حقوق و اختیار میں اور نہ کسی اور چیز میں، تو پھر ایسے جاہلوں کی خواہشات کی پیروی آپ کیوں اختیار کریں ؟ دیکھیے سورة رعد ( ١٦) اور سورة شعراء (٩١ تا ٩٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ يَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللہَ حَرَّمَ ھٰذَا۝ ٠ ۚ فَاِنْ شَہِدُوْا فَلَا تَشْہَدْ مَعَہُمْ۝ ٠ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ يَعْدِلُوْنَ۝ ١٥٠ ۧ هلم هَلُمَّ دعاء إلى الشیء، وفيه قولان : أحدهما : أنّ أصله هَا لُمَّ «1» . من : قولهم : لممت الشیء . أي : أصلحته، فحذف ألفها فقیل : هلمّ. وقیل أصله هل أمّ «2» ، كأنه قيل : هل لک في كذا أمّه . أي : قصده، فركّبا . قال عزّ وجلّ : وَالْقائِلِينَ لِإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا [ الأحزاب/ 18] ، فمنهم من تركه علی حالته في التّثنية والجمع، وبه ورد القرآن، ومنهم من قال : هَلُمَّا، وهَلُمُّوا، وهَلُمِّي، وهَلْمُمْنَ «3» . ( ھ ل م ) ھلم ( اسم فعل ) کے معنی کسی چیز کی طرف بلانے کے ہیں بعض کے نزدیک اس کی اصل ھا لم ہے ۔ اور یہ لممت الشئیء سے مشتق ہے جس کے معنی اصلاح کرنے کے ہیں ھا کا الفحزف ہونے کے بعد ھلم بن گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کی اصل ھل الم ہے گویا یہ اصل میں ھل لک فی کذا امہ بمعنی قصد کا مخفف ہے قرآن پاک میں ہے : وَالْقائِلِينَ لِإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا [ الأحزاب/ 18] اور بھائیو سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ ۔ بعض اسے فعل غیرمتصرف مانتے ہیں اور تثنیہ جمع ( نیز تذکیر وتانیث میں اسے ایک ہی حالت پر رہنے دیتے ہیں اور قرآن پاک بھی اسی کے مطابق نازل ہوا ہے اور بعض فعل متصرف مانتے ہیں اور آخر میں ضما ئر کا الحاق کرتے ہیں جیسے علما ھلمو ا ھلمی ھلمن شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع، وکذلک قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] ، والمُحرَّم بالشرع : کتحریم بيع الطعام بالطعام متفاضلا، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] ، فهذا کان محرّما عليهم بحکم شرعهم، ونحو قوله تعالی: قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] ، وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] ، وسوط مُحَرَّم : لم يدبغ جلده، كأنه لم يحلّ بالدباغ الذي اقتضاه قول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أيّما إهاب دبغ فقد طهر» . وقیل : بل المحرّم الذي لم يليّن، والحَرَمُ : سمّي بذلک لتحریم اللہ تعالیٰ فيه كثيرا مما ليس بمحرّم في غيره من المواضع وکذلک الشهر الحرام، وقیل : رجل حَرَام و حلال، ومحلّ ومُحْرِم، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] ، أي : لم تحکم بتحریم ذلک ؟ وكلّ تحریم ليس من قبل اللہ تعالیٰ فلیس بشیء، نحو : وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] ، وقوله تعالی: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] ، أي : ممنوعون من جهة الجدّ ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] ، أي : الذي لم يوسّع عليه الرزق کما وسّع علی غيره . ومن قال : أراد به الکلب فلم يعن أنّ ذلک اسم الکلب کما ظنّه بعض من ردّ عليه، وإنما ذلک منه ضرب مثال بشیء، لأنّ الکلب کثيرا ما يحرمه الناس، أي : يمنعونه . والمَحْرَمَة والمَحْرُمَة والحُرْمَة، واستحرمت الماعز کناية عن إرادتها الفحل . ( ح ر م ) الحرام ( ح ر م ) الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو خواہ یہ ممانعت تسخیری یا جبری ، یا عقل کی رو س ہو اور یا پھر شرع کی جانب سے ہو اور یا اس شخص کی جانب سے ہو جو حکم شرع کو بجالاتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر ( دوائیوں کے ) دودھ حرام کردیتے تھے ۔ میں حرمت تسخیری مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] اور جس بستی ( والوں ) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ ( وہ دنیا کی طرف رجوع کریں ۔ کو بھی اسی معنی پر حمل کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک آیت کریمہ ؛فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ۔ میں بھی تحریم تسخیری مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ منع جبری پر محمول ہے اور آیت کریمہ :۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] جو شخص خدا کے ساتھ شرگ کریگا ۔ خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا ۔ میں بھی حرمت جبری مراد ہے اسی طرح آیت :۔ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کا فروں پر حرام کردیا ہے ۔ میں تحریم بواسطہ منع جبری ہے اور حرمت شرعی جیسے (77) آنحضرت نے طعام کی طعام کے ساتھ بیع میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہوکر آئیں تو بدلادے کر ان کو چھڑی ابھی لیتے ہو حالانکہ ان کے نکال دینا ہی تم پر حرام تھا ۔ میں بھی تحریم شرعی مراد ہے کیونکہ ان کی شریعت میں یہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی ۔ تھیں ۔ نیز تحریم شرعی کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] الآیۃ کہو کہ ج و احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز جسے کھانے والا حرام نہیں پاتا ۔ وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے ۔ سوط محرم بےدباغت چمڑے کا گوڑا ۔ گویا دباغت سے وہ حلال نہیں ہوا جو کہ حدیث کل اھاب دبغ فقد طھر کا مقتضی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ محرم اس کوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو نرم نہ کیا گیا ہو ۔ الحرم کو حرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے اندر بہت سی چیزیں حرام کردی ہیں جو دوسری جگہ حرام نہیں ہیں اور یہی معنی الشہر الحرام کے ہیں یعنی وہ شخص جو حالت احرام میں ہو اس کے بالمقابل رجل حلال ومحل ہے اور آیت کریمہ : يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ تم اس چیز کی تحریم کا حکم کیون لگاتے ہو جو اللہ نے حرام نہیں کی کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام نہ کی ہو وہ کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوجاتی جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] اور ( بعض ) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کردیا گیا ہے ۔ میں مذکور ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] بلکہ ہم ( برکشتہ نصیب ) بےنصیب ہیں ان کے محروم ہونے سے بد نصیبی مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے ( دونوں ) میں محروم سے مراد وہ شخص ہے جو خوشحالی اور وسعت رزق سے محروم ہو اور بعض نے کہا ہے المحروم سے کتا مراد ہے تو اس کے معنی نہیں ہیں کہ محروم کتے کو کہتے ہیں جیسا ان کی تردید کرنے والوں نے سمجھا ہے بلکہ انہوں نے کتے کو بطور مثال ذکر کیا ہے کیونکہ عام طور پر کتے کو لوگ دور ہٹاتے ہیں اور اسے کچھ نہیں دیتے ۔ المحرمۃ والمحرمۃ کے معنی حرمت کے ہیں ۔ استحرمت الما ر عذ بکری نے نر کی خواہش کی دیہ حرمۃ سے ہے جس کے معنی بکری کی جنس خواہش کے ہیں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ عدل العَدَالَةُ والمُعَادَلَةُ : لفظٌ يقتضي معنی المساواة، ويستعمل باعتبار المضایفة، والعَدْلُ والعِدْلُ يتقاربان، لکن العَدْلُ يستعمل فيما يدرک بالبصیرة كالأحكام، وعلی ذلک قوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، والعِدُل والعَدِيلُ فيما يدرک بالحاسّة، کالموزونات والمعدودات والمکيلات، فالعَدْلُ هو التّقسیط علی سواء، وعلی هذا روي : «بالعَدْلِ قامت السّموات والأرض» «5» تنبيها أنه لو کان رکن من الأركان الأربعة في العالم زائدا علی الآخر، أو ناقصا عنه علی مقتضی الحکمة لم يكن العالم منتظما . والعَدْلُ ضربان : مطلق : يقتضي العقل حسنه، ولا يكون في شيء من الأزمنة منسوخا، ولا يوصف بالاعتداء بوجه، نحو : الإحسان إلى من أحسن إليك، وكفّ الأذيّة عمّن كفّ أذاه عنك . وعَدْلٌ يُعرَف كونه عَدْلًا بالشّرع، ويمكن أن يكون منسوخا في بعض الأزمنة، کالقصاص وأروش الجنایات، وأصل مال المرتدّ. ولذلک قال : فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] ، وقال : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] ، فسمّي اعتداء وسيئة، وهذا النحو هو المعنيّ بقوله : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] ، فإنّ العَدْلَ هو المساواة في المکافأة إن خيرا فخیر، وإن شرّا فشرّ ، والإحسان أن يقابل الخیر بأكثر منه، والشرّ بأقلّ منه، ورجلٌ عَدْلٌ: عَادِلٌ ، ورجالٌ عَدْلٌ ، يقال في الواحد والجمع، قال الشاعر : 311- فهم رضا وهم عَدْلٌ«1» وأصله مصدر کقوله : وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] ، أي : عَدَالَةٍ. قال تعالی: وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، وقوله : وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] ، فإشارة إلى ما عليه جبلّة النّاس من المیل، فالإنسان لا يقدر علی أن يسوّي بينهنّ في المحبّة، وقوله : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] ، فإشارة إلى العَدْلِ الذي هو القسم والنّفقة، وقال : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] ، وقوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، أي : ما يُعَادِلُ من الصّيام الطّعام، فيقال للغذاء : عَدْلٌ إذا اعتبر فيه معنی المساواة . وقولهم :«لا يقبل منه صرف ولا عَدْلٌ» «2» فالعَدْلُ قيل : هو كناية عن الفریضة، وحقیقته ما تقدّم، والصّرف : النّافلة، وهو الزّيادة علی ذلک فهما کالعَدْلِ والإحسان . ومعنی أنه لا يقبل منه أنه لا يكون له خير يقبل منه، وقوله : بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] ، أي : يجعلون له عَدِيلًا فصار کقوله : هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] ، وقیل : يَعْدِلُونَ بأفعاله عنه وينسبونها إلى غيره، وقیل : يَعْدِلُونَ بعبادتهم عنه تعالی، وقوله : بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] ، يصحّ أن يكون من قولهم : عَدَلَ عن الحقّ : إذا جار عُدُولًا، وأيّام مُعْتَدِلَاتٌ: طيّبات لِاعْتِدَالِهَا، وعَادَلَ بين الأمرین : إذا نظر أيّهما أرجح، وعَادَلَ الأمرَ : ارتبک فيه، فلا يميل برأيه إلى أحد طرفيه، وقولهم : ( وضع علی يدي عَدْلٍ ) فمثل مشهور «1» . ( ع د ل ) العدالۃ والمعادلۃ کے لفظ میں مساوات کے معنی پائے جاتے ہیں اور معنی اضافی کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے یعنی ایک دوسرے کے ہم وزن اور برابر ہوتا اور عدل عدل کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن عدل کا لفظ معنوی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے احکام شرعیہ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] او عدل ذلک صیاما یا اس کے برابر روزے رکھنا اور عدل وعدیل کے الفاظ ان چیزوں کے لئے بولے جاتے ہیں جن کا اور اک حواس ظاہرہ سے ہوتا ہے جیسے وہ چیزیں جن کا تعلق ماپ تول یا وزن سے ہوتا ہے پس عدل کے معنی دو چیزوں کا برابر ہونا کے ہیں چناچہ اسی معنی میں مروی ہے بالعدل قامت السموت والاارض کہ عدل ہی سے آسمان و زمین قائم ہیں یعنی اگر عناصر اربعہ جن کائنات نے ترکیب پائی ہے میں سے ایک عنصر میں بھی اس کی معینہ مقدار سے کمی یا بیشی ہوجائے تو نظام کائنات قائم نہیں رہ سکتا ، العدل دو قسم پر ہے عدل مطلق جو عقلا مستحن ہوتا ہے یہ نہ تو کسی زمانہ میں منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی کسی اعتبار سے تعدی کے ساتھ متصف ہوسکتا ہے مثلا کیسی کے احسان کے بدلہ میں اس پر احسان کرنا اور جو تمہیں تکلف نہ دے اسے ایزا رسانی باز رہنا قغیرہ ۔ دوم عدل شرعی جسے شریعت نے عدل کہا ہے اور یہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے جیسے قصاص جنایات کی دیت اور مال مرتد کی اصل وغیرہ چناچہ آیات : ۔ فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ۔ واپس ہی تم اس پر کرو ۔ وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے ۔ میں زیادتی اور برائی کی سزا کا کام بھی زیادتی اور برائی ہی قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ میں عدل کے یہی معنی مراد کیونکہ کسی چیز کے برابر اس کا بدلہ دینے کا نام عدل یعنی نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کے مقابلہ میں زیادہ نیکی اور شر کے مقابلہ میں مسامحت سے کام لینے کا نام احسان ہے اور لفظ عدل واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے رجل عدل عادل ورجال عدل شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 303 ) فھم رضا وھم عدل وہ راضی رہنے والے اور عدال ہیں ۔ دراصل عدل کا لفظ مصدر ہے چناچہ آیت : ۔ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] اور اپنے میں سے دو منصب مردوں کو گواہ بنالو میں عدل کے معنی عدالہ ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور مجھے حکم ہوا کہ تم میں انصاف کروں لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر امادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہر گز برابری نہیں کرسکو گے ۔ میں انسان کے طبعی میلان کی طرف اشارہ ہے کہ تمام بیویوں سے برابر وجہ کی محبت اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت کانی ہے ۔ میں عدل سے نان ونفقہ اور ازواجی تعلقات میں برابر ی مرادی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] اس کے برابر روزے رکھنا ۔ میں عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ روزے طعام سے فدیہ کے برابر ہوں کیونکہ فدیہ میں مساوت کے معنی ملحوظ ہوں تو اسے بھی عدل کہہ دیا جاتا ہے اور ( 33 ) لایقبل منہ صرف ولا عدل میں بعض نے کہا ہے کہ عدل کا لفظ فریضہ سے کنایہ ہے مگر اس کے اصل معنی وہی ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں اور صرف کا لفظ نافلۃ سے اور یہ اصل فرض سے بڑھ کر کام کرنے کا نام ہے لہذا یہ باہم تقابل کے اعتبار سے عدل اور احسان کے ہم مثل ہیں اور لایقبل منہ کے معنی یہ ہیں کہ اسکے پاس کسی قسم کی نیکی ہوگی جو قبول کی جائے اور یہ آیت : ۔ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسروں کو خدا کی مثل اور نظیر قرار دیتے ہیں ۔ لہذا یہ آیت : ۔ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] کے ہم معنی ہوگی بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ وہ افعال الہیہ کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں بعض نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے عدول کرنا مراد لیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہورہے ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہوسکتی ہے یعنی اس کے معنی یعدلون بہ کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عدل عن الحق سے مشتق ہو جس کے معنی حق سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ ایام معتد لات معتدل زمانہ یعنی جب رات دن برابر ہوتے ہیں ۔ عادل بین الامرین اس نے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کیا عادل الامر کسی معاملہ میں پھنس گیا اور کسی ایک جانب فیصلہ نہ کرسکا اور جب کسی شخص کی زندگی سے مایوسی ہوجائے تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اب وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ( قل ھلم شھدآء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا ان سے کہو کہ ” لائو اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے) تا آخر آیت۔ یعنی چونکہ وہ اپنے اس دعوے پر کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے کوئی شہادت پیش کرنے اور دلالت قائم کرنے سے عاجز رہے اس لیے ان کا یہ دعویٰ باطل قرار پایا۔ اس لیے کہ اپنے دعوے کے اثبات کے لیے ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود تھی اور نہی سمعی یا تقلی دلیل۔ جو دعویٰ ان دو طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ثابت نہ ہو سکے اور نہ ہی وہ محسوس و مشاہد ہو۔ اس کے متعلق علم کی راہیں مسدود ہوتی ہیں اور اس پر باطل ہونے کا حکم لگانا واجب ہوجاتا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب ان کی شہادت قبال قبول ہی نہں تو انہیں گواہی پیش کرنے کی کیوں دعوت دی گئی ! اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ گواہی پیش کرنے کا انہیں اس لیے چیلنج دیا گیا کہ وہ ایسی گواہی پیش ہی نہیں کرسکتے تھے جس کے نتیجے میں ان کے دعوے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس بات سامنے آسکتی۔ ای قول یہ بھی ہے کہ انہیں خود اپنی گواہی پیش کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا بلکہ ایسے افراد کو بطور گواہ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا جن کی گواہی کی بنا پر کسی حجت اور دلیل کا ثبوت ہوسکتا ۔ آیت میں گمراہ کن خواہشات کی پیروی سے روکا گیا ہے۔ خواہشات کی بنیاد پر کسی مذہب کا معتقد بن جانے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی غلط انسان کا معتقد بن کر اس کا پیروکار ہوجائے، کبھی کسی کے دل میں کسی شرعی امر میں شبہ پیدا ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ غلط راہ پر لگ جاتا ہے۔ حالانکہ عقلی طور پر ایسے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اسے اس سے روکتے رہتے ہیں۔ کبیھ یہ ہوتا ہے کہ ایک مسئلے میں پوری چھان بین ایک مشقت طلب کام ہوتا ہے۔ چناچہ اس مشقت سے پہلو تہی کر کے غلط بات کو اپنا لیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ رسم و رواج سے واستگی اور عقلی طور پر انہیں بہتر سمجھنے کی بنا پر غلط بات قبول کرلی جاتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٠) آپ فرمائیے کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے گواہ لاؤ، سو اگر وہ ان چیزوں کی حرمت پر جھوٹی گواہی دیں تو آپ اس کی سماعت نہ فرمائیے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اگر اللہ کے پیش نظر سب کو نیک بنانا ہی مقصود ہوتا تو آن واحد میں تم سب کو ابوبکر صدیق (رض) جیسا نیک بنا دیتا ‘ لیکن اس نے دنیا کا یہ معاملہ عمل اور اختیار کے تحت رکھا ہے ‘ اور اس کا مقصد سورة الملک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : (خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط) (آیت ٢) اس نے موت وحیات کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تمہیں آزمائے اور جانچے کہ تم میں سے کون ہے جو نیک عمل اختیار کرتا ہے۔ آیت ١٥٠ (قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ج) ۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب یا علمی سند موجود ہے جسے تم اپنے موقف کے حق میں بطور گواہی پیش کرسکو ؟ اگر اس طرح کی کوئی ٹھوس شہادت ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ (فَاِنْ شَہِدُوْا فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ ج) (وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ ) اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت بھی (ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ ) کے الفاظ پر ختم ہوئی تھی اور اب یہ آیت بھی (وَھُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ ) کے الفاظ پر ختم ہورہی ہے۔ یعنی آخرت کے یہ منکراتنا کچھ سننے کے باوجود بھی کس قدر دیدہ دلیری کے ساتھ شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہیں اللہ کے حضور حاضری کا کچھ بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا اور جس کو چاہتے ہیں اللہ کے برابر کردیتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

126. A person who is conscious that he should testify only to that which he knows, can never testify that the taboos regarding food and other customs prevalent in their society had been enjoined by God. But if some people are brazen enough to feel no compunction in bearing false witness, then at least the believers should not become their partners in lying. The real purpose in asking them to testify honestly whether their customs and practices had in fact been sanctioned by God, is to stimulate those with some sense of honesty to reflect on the character of their customs and practices. Perhaps when they realize that there is no evidence of those prohibitions having been prescribed by God, some of them may decide to get rid of them.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :126 یعنی اگر وہ شہادت کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ شہادت اسی بات کی دینی چاہیے جس کا آدمی کو علم ہو ، تو وہ کبھی یہ شہادت دینے کی جرأت نہ کریں گے کہ کھانے پینے پر یہ قیود ، جو ان کے ہاں رسم کے طور پر رائج ہیں ، اور یہ پابندیاں کہ فلاں چیز کو فلاں نہ کھائے اور فلاں چیز کو فلاں کا ہاتھ نہ لگے ، یہ سب خدا کی مقرر کردہ ہیں ۔ لیکن اگر یہ لوگ شہادت کی ذمہ داری کو محسوس کیے بغیر اتنی ڈھٹائی پر اتر آئیں کہ خدا کا نام لے کر جھوٹی شہادت دینے میں بھی تامل نہ کریں ، تو ان کے اس جھوٹ میں تم ان کے ساتھی نہ بنو ۔ کیونکہ ان سے یہ شہادت اس لیے طلب نہیں کی جارہی ہے کہ اگر یہ شہادت دے دیں تو تم ان کی بات مان لوگے ، بلکہ اس کی غرض صرف یہ ہے کہ ان میں سے جن لوگوں کے اندر کچھ بھی راست بازی موجود ہے ان سے جب کہا جائے گا کہ کیا واقعی تم سچائی کے ساتھ اس بات کی شہادت دے سکتے ہو کہ یہ ضوابط خدا ہی کے مقرر کیے ہوئے ہیں تو وہ اپنی رسموں کی حقیقت پر غور کریں گے ، اور جب ان کے من جانب اللہ ہونے کا کوئی ثبوت نہ پائیں گے تو ان فضول رسموں کی پابندی سے باز آجائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:150) ہلم۔ اسم فعل بمعنی امر۔ واحد۔ تنبیہ ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے تذکیر و تانیث ہر حالت میں ہلم ہی آتا ہے۔ لازم بھی ہے۔ متعدی بھی ہے۔ لاؤ۔ حاضر کرو۔ آؤ۔ آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ 33:18 میں ہلم الینا لازم استعمال ہوا ہے۔ یعدلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے عدیل (ہمسر) اوروں کو بھی بناتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی ذات الہی حکمت کاملہ کی مالک ہے اس نے انسان کے فطرتا مجبوت محض نہیں بنایا بلکہ اسے ارادہ اور اختیار دیا ہے تاکہ انسان ہدایت یا گمراہی کو اپنے ارادہ سے اختیار کرے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کے لیے پیغمبر بھیجے ان پر کتابیں نازل فرمائیں تاکہ جو شخص ایمان لاتا ہے دلیل سے ایمان لائے اور جو گمراہ ہوتا ہے اتمام حجت کے بعد گمراہ ہو۔ رونہ اگر اللہ تعالیٰ کو اکرام و جبر سے ہی ہدایت پر لانا ہوتا تو کوئی شخص بھی گمراہ نہیں ہوسکتا تھا۔3 کیونکہ جو بھی اس قسم کی گو اہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ١٥٠۔ یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ اللہ جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اعلان بھی کرد یا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دل میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ ایمان آخرت اس لئے کہ یہ لوگ اگر منکر آخرت نہ ہوتے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے کی جرات ہی نہ کرتے ۔ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ۔ ایسی ہی تعبیر اس سورة کے آغاز میں بھی آئی تھی ۔ آیت ” الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِم یَعْدِلُونَ (1) ” تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے زمین و آسمان بنائے ‘ روشنیاں اور تاریکیاں پیدا ہیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہرا رہے ہیں ۔ “ یہ ہے حکم ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ سے اس کا حق حاکمیت چھینتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے سپرد کرتے ہیں جو خود ان ہی کی طرح انسان ہیں یہاں ان لوگوں کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی اسلامی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اب اللہ کے اس حکم کے بعد کسی اور انسانی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔ اگر ہم یہ بات سمجھنا چاہیں کہ اللہ نے اس مسئلے کا فیصلہ اس انداز میں کیوں کیا ؟ اور ایسے لوگوں کو آیات الہیہ کو جھٹلانے والا کیوں کہا ۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں دے دیا کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ مشرک ہیں اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے والے ہیں ‘ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھنے کی سعی ضرور کریں کیونکہ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور فیصلوں پر تدبر کرنا اور ان کی حکمت معلوم کرنا ایک مطلوبہ امر ہے ۔ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اپنی جانب سے عوام کے لئے قانون بنائیں یہاں یہ حکم لگایا ہے کہ وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے اللہ کی شریعت کا عنوان دیں ‘ کیونکہ آیات الہیہ سے یہاں دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان سے مراد آیات کونیہ ہیں ‘ تو یہ آیات بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ خالق اور رازق اللہ وحدہ ہے ‘ اور جو خالق اور رازق ہوگا وہی مالک ہوگا لہذا وہی متصرف اور حاکم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص صرف اللہ کو حاکم نہ سمجھے تو وہ گویا آیات الہیہ کونیہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر ان آیات سے مراد قرآنی آیات ہوں تو قرآن کی بیشمار آیات واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ قرار دیتی ہیں کہ حاکمیت اور قانون سازی کے معاملے میں اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ کی شریعت ہی کو قانونی درجہ حاصل ہے ۔ اور لوگوں کو صرف اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی اور کرانی چاہیے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے کہ جو شخص آخرت پر یقین و ایمان رکھتا ہے کہ وہ ایک دن قیامت کے روز اپنے رب کو ملنے والا ہے تو ایسا شخص ہر گز اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنے لئے کسی ایسے حق کا مطالبہ کرے گا ۔ اللہ انسانوں کا حاکم مطلق ہے اس کا نظام قضا وقدر بھی انسان پر جاری ہے اور اس طرح اس کی شریعت بھی ان پر جاری ہونا چاہیے ۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ کی تیسری قرار داد یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ یعنی وہ اسی طرح شرک ہیں جس طرح بت پرست مشرک ہیں ۔ اگر یہ اہل توحید میں سے ہوتے تو وہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر نہ بناتے نہ اس کے حق حاکمیت میں اور نہ اس کے حق الوہیت میں کیونکہ وہ ان میں منفرد ہے ۔ اور اگر کوئی دوسرا ان حقوق کو استعمال کررہا ہو تو اس کی مخالفت کرتے اور ہر گز اس پر راضی نہ ہوتے ۔ جیسا کہ معلوم ہوتا ہے ‘ یہ بات ان تمام احکام کی علت ہے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے بالمقابل قانون سازی کرتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے اللہ نے ان پر یہ احکام صادر کئے کہ وہ مشرک ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہیں اور یہ کہ دراصل وہ آخرت کی جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دین انہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ یہ ہے علت اور اس کے نتیجے میں یہ ہے حکم ۔ رہا یہ کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کا یہ حکم کیوں ہے تو یہ تو نص قطعی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کے مطابق تو ایسے لوگ مشرک ہی سمجھے جائیں گے ۔ تو اب یہ ہر مسلمان کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔ اس شہادت اور گواہی کے بعد اور ان کی جانب سے قرار دادہ محرمات کو رد کردینے کے بعد اب وہ فہرست دی جاتی ہے کہ فی الواقعہ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہاں محرمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ بعض مثبت احکام کی یاد دہانی بھی کی گئی ہے جس کے مخالف طرز عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان محرمات کا آغاز ارتکاب شرک سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اسلام کا اصول اولین ہے اور سب سے پہلے اس کو ذہن نشین کرانا ضروری ہے ۔ شرک سے مراد عام ہے ۔ شرک فی الاعتقاد اور شرک فی الحکم ۔ یہاں شرک سے دونوں قسم کے شرک مراد ہیں ۔ اس بنیادی اصول کے بعد تمام اوامر اور نواہی اسی پر مرتب ہوتے ہیں یعنی اسلام قبول کرلے اور پھر سرتسلیم ختم کر دے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ھٰذَا) (آپ فرما دیجیے کہ اپنے گواہوں کو لے آؤ جن کا تم اتباع کرتے ہو اور جن کی باتوں پر چلتے ہو اور ان سے کہو کہ اس بات کی گواہی دیں کہ یہ چیزیں جو تم نے حرام قرار دے رکھی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے لیکن وہ گواہی نہیں دے سکتے) ۔ (فَاِنْ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ ) سو بالفرض اگر یہ لوگ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیجیے۔ یعنی ان کی تصدیق نہ کیجیے کیونکہ ان کی گواہی محض جھوٹ ہوگی۔ (وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ وَھُمْ بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ) (آپ ان لوگوں کی خواہش کا اتباع نہ کریں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں) اس میں اپنی خواہشوں کا اتباع کرنے والوں کا یعنی کافروں اور مشرکوں کے اتباع سے منع فرمایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

168 ھَلُمَّ اسم فعل بمعنی امر ہے ای احضروھم اور شُھَدَآءَ سے مشرکین کے اکابر اور رؤساء اور ان کے مقتداء و پیشوا مراد ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کر رکھا تھا۔ فرمایا مشرکین سے کہو کہ وہ اپنے پیشواؤں کو بلائیں تاکہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ نے ان اشیاء کو حرام کیا ہے اور اس پر دلائل بھی پیش کریں۔ اس سے مقصود علی رؤس الاشہاد ان کی تذلیل و تفضیح ہے۔ کیونکہ ان تابعین کی طرھ ان کے متبوعین بھی دلائل سے تہی دست ہیں۔ و ھم کبراءھم الذین اسسوا ضلالھم والمقصود من احضارھم تفضیحھم والزامھم ون لا متمسک لھم کمقلدیھم (روح ج 8 ص 52) ۔ 169 اگر مشرکین کے پیشوا، آپ کے سامنے یہ جھوٹی بات کہہ دیں کہ واقعی اللہ نے ان اشیاء کو حرام کیا ہے تو فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ آپ ان کی بات کی ہرگز تصدیق نہ کریں کیونکہ یہ صریح جھوٹ اور سراسر باطل ہے یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اسبات کی شہادت دیدیں تو اس میں ان کی موافقت نہ کریں۔ ای فلا تصدقھم فانہ کذب بحث (روح) ای لا توافقھم لانھم کذبۃ فی شھادتہم کما ان الشھود کذبۃ فی دعواھم (بحر ج 4 ص 248) ۔ 170 ۔ ان کے پاس دلائل تو ہیں نہیں وہ جو کچھ کہیں گے خواہشات نفسانیہ کے تحت کہیں گے۔ اس لیے آپ ان کی پیروی نہ کریں وہ تو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کی تکذیب کر رہے ہیں، آخرت پر ان کا ایمان نہیں ہے اور وہ اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

150 اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو مذکورہ حیوانات کی حرمت پر ہے نہیں ! اب آپ ان سے فرمائیے اچھا تم کوئی نقلی دلیل پیش کرو اور اپنے ان گواہوں کو لائو اور پیش کرو جو یہ گواہی دیں کہ جن چیزوں کو تم حرام کہتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو حرام کیا ہے پھر اگر ان کے گواہ اس قسم کی فرضی شہادت دے بھی دیں تو آپ ان کی گواہی تسلیم نہ کیجیے اور ان گواہوں کی تصدیق نہ کیجیے اور آپ ان لوگوں کی خواہشات باطلہ کی پیروی نہ کیجیے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر کا درجہ دیتے ہیں۔ یعنی ظاہر ہے کہ عینی گواہ تو ہوں گے نہیں جو گواہ آئیں گے وہ محض سخن پروری کی غرض سے آئیں گے تو آپ ایسے جھوٹے گواہوں کی گواہی تسلیم نہ کیجیے اور نہ جھوٹوں کی تصدیق کیجیے اور آپ ان کی خواہشات باطلہ اور اقوال کا ذبہ پر نہ چلئے کیوں کہ ان کا شیوہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے آخرت پر ان کا ایمان نہیں اور خدا کے ساتھ دوسروں کو برابری کا درجہ دیتے ہیں۔