Surat ul Mumtahina

Surah: 60

Verse: 6

سورة الممتحنة

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ٪﴿۶﴾  7

There has certainly been for you in them an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day. And whoever turns away - then indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

یقیناً تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالٰی بالکل بے نیاز ہے اور سزاوار حمد و ثنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاْخِرَ ... Certainly, there has been in them an excellent example for you to follow -- for those who look forward to (the meeting with) Allah and the Last Day. asserting what He has said before with the exemption mentioned, i.e., the good example that Allah mentioned before, لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاْخِرَ (for those who look forward to Allah and the Last Day), thus encouraging the believers who believe in Allah and the Return to Him. Allah said, ... وَمَن يَتَوَلَّ ... And whosoever turns away, meaning, from what Allah has ordained, ... فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ verily, Allah is Al-Ghani, Al-Hamid. Allah said in another Ayah, إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ If you disbelieve, you and all on the earth together, then verily! Allah is Ghani, Hamid. (14:8) Ali bin Talhah reported from Ibn `Abbas, " الْغَنِيُّ Ghani, is the One Who is perfectly rich." That is Allah. This is Allah's attribute that He alone is worthy of being described by; surely, He has no equal, none like unto Him. All praise is due to Allah, the One, the Irresistible. الْحَمِيدُ Hamid means, the praiseworthy, in all His statements and actions, there is no (true) God except Him alone.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 6۔ 2 کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 6 ۔ 3 یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣] سیدنا ابراہیم کے ساتھیوں کے تین اوصاف :۔ یعنی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے یہاں اللہ تعالیٰ نے تین اوصاف بیان فرمائے۔ ایک یہ کہ انہوں نے مشرکوں سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا تھا اور یہ قطع تعلق دائمی تھا، تاآنکہ مشرک شرک سے باز آجائے۔ دوسرے وہ صرف اللہ پر توکل رکھتے تھے، تیسرے وہ اپنے حق میں اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے اور بجا بھی لاتے ہیں۔ یہ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے اور اس سے جزائے اعمال کی امید رکھتے ہو تو تمہیں بھی ان جیسے کام کرنے چاہئیں۔ [١٤] تَوَلَّ کا ایک معنی تو وہی ہے تو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اس کا دوسرا معنی دوست بنانا، دوستی گانٹھنا ہے۔ یعنی جو شخص سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے قابل تقلید نمونہ کے باوجود اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور توقع رکھنے کے باوجود مشرکوں سے دوستی گانٹھتا ہے تو اللہ کو اس کے ایسے ایمان کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ تو بےنیاز ہے۔ اور یہ مطلب اصل مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ [١٥] یہ صورت نہیں کہ اگر کوئی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے تو تب ہی وہ محمود ہے۔ وہ کسی کے حمد و ثنا بیان کرنے کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ اس کی حمدو ثنا بیان کرنے سے حمد کرنے والے کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ کا اس سے کچھ نہیں سنورتا اور حمد و ثنا نہ کرنے سے اس کا بگڑتا بھی کچھ نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ۔۔۔۔: اس سے پہلے ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم “ میں یہی بات ذکر ہوئی ہے ، لام قسم کے ساتھ اسے دوبارہ لانے سے ایک تو اس حکم کی تاکید مقصود ہے اور ایک اس کے بعد ” لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر “ لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے لیے نمونہ نہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کے لیے ہے ، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے نمونہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔ ٢۔ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب ( ٢١) کی تفسیر۔ ٣۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ : یعنی جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کی امید سے منہ موڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ، کیونکہ وہ تو غنی وحمید ہے اور غنی وحمید بھی ایسا کہ اس کے سوا کوئی غنی وحمید ہے ہی نہیں ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فاطر (١٥) ، حج (٦٤) اور سورة ٔ حدید (٢٤) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ۝ ٠ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝ ٦ ۧ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ أسَو الأُسْوَة والإِسْوَةُ کالقدوة والقدوة، وهي الحالة التي يكون الإنسان عليها في اتباع غيره إن حسنا وإن قبیحا، وإن سارّا وإن ضارّا، ولهذا قال تعالی: لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ الأحزاب/ 21] ، فوصفها بالحسنة، ويقال : تَأَسَّيْتُ به، والأَسَى: الحزن . وحقیقته : إتباع الفائت بالغم، يقال : أَسَيْتُ عليه وأَسَيْتُ له، قال تعالی: فَلا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكافِرِينَ [ المائدة/ 68] ، وقال الشاعر : أسيت لأخوالي ربیعة وأصله من الواو، لقولهم : رجل أَسْوَان ، أي : حزین، والأَسْوُ : إصلاح الجرح، وأصله :إزالة الأسى، نحو : کر بت النخل : أزلت الکرب عنه، وقد أَسَوْتُهُ آسُوهُ أَسْواً ، والآسِي : طبیب الجرح، جمعه : إِسَاة وأُسَاة، والمجروح مَأْسِيٌّ وأَسِيٌّ معا، ويقال : أَسَيْتُ بين القوم، أي : أصلحت ، وآسَيْتُهُ. قال الشاعر : آسی أخاه بنفسه وقال آخر : فآسی وآداه فکان کمن جنی وآسي هو فاعل من قولهم : يواسي، وقول الشاعر : يکفون أثقال ثأي المستآسي فهو مستفعل من ذلك، فأمّا الإساءة فلیست من هذا الباب، وإنما هي منقولة عن ساء . ( ا س و ) الاسوۃ والاسوۃ قدوۃ اور قدوۃ کی طرح ) انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں وہ دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالت اچھی ہو یا بری ، سرور بخش ہو یا تکلیف وہ اس لئے آیت کریمہ ؛ ۔ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ } ( سورة الأحزاب 21) تمہارے لئے پیغمبر خدا میں اچھا اسوہ ہے ۔ میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لائی گئی ہے ۔ تاسیت بہ میں نے اس کی اقتداء کی ۔ الاسٰی بمعنی حزن آتا ہے اصل میں اس کے معنٰی کسی فوت شدہ چیز پر غم کھانا ہوتے ہیں ۔ اسیت علیہ اسی واسیت لہ ۔ کسی چیز پر غم کھانا قرآن میں ہے ۔ { فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ } ( سورة المائدة 68) تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو ۔ شاعر نے کہا ہے ع (16) اسیت الاخوانی ربعیہ میں نے اپنے اخوال بنی ربعیہ پر افسوس کیا ۔ یہ اصل میں ( ناقص) وادی سے ہے کیونکہ محاورہ میں غمگین آدمی کو اسوان ( بالفتح ) کہا جاتا ہے ۔ الاسو کے معنی زخم کا علاج کرنے کے ہیں ۔ اصل میں اس کے معنی ازالہ غم کے ہیں اور یہ کر بت میں اس کے معنی ازالہ غم کے ہیں اور یہ کر بت النخل کی طرح ہے جس کے معنی کھجور کے درخت کی شاخوں کی جڑوں کو دور کرنے کے ہیں کہا جاتا ہے اسوتہ اسوءہ اشوار از باب نصرا یعنی میں نے اس کا غم دور کیا اس کو تسلی دی ۔ الاٰسی صالح ۔ مر ہم پٹی کرنے والا اس کی جمیع اساعہ واساۃ ہے اور زخمی آدمی کو ماسی وآسی کہا جاتا ہے ۔ اسیت بین القوم باہم صلح کرانا ۔ اٰسیتہ ( مفاعلہ ) کسی کے ساتھ ہمدردی کرنا ۔ ( مال وغیرہ کے ذریعہ ۔ شاعر نے کہا ہے ع (17) ، ، آسیٰ اخاہ بنفسہ ( طویل ) ، ، جس نے خود کو اپنے بھائی پر نثار کردیا ہو ۔ اور دو سرے شاعر نے کہا ہے (18) فآسی و آداہ فکان کمن جنٰی ، ، اس نے ہمدردی کی اور سامان حرب دیا تو گویا اس جنایت کی ۔ یہاں آسیٰ بروزن فاعل یو اسی سے ہے اسی طرح شاعر کے قول ع (19) یکفون اثقال ثای المستاسی ، ، المستای بروزن مستفعل بھی اسی مادہ سے مگر الاساءۃ ( افعال ) جس کے معنی تکلیف پہنچانے کے ہیں اس مادہ سے نہیں ہے بلکہ ساء ( س و ء ) سے منقول ہے ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] اور کچھ اور لوگ ہیں کہ حکم خدا کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے ۔ ارجت الناقۃ اونٹنی کی ولادت کا وقت قریب آگیا ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اونٹنی نے اپنے مالک کو قرب ولادت کی امید دلائی ۔ الارجون ایک قسم کا سرخ رنگ جو رجاء کی طرح فرحت بخش ہوتا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی حمید إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، ( ح م د ) حمید اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے حاطب تمہارے لیے ابراہیم اور ان کی اتباع کرنے والوں کے اقوال میں ایک عمدہ نمونہ ہے جو کہ اللہ اور قیامت پر اعتقاد رکھتا ہو تو تم نے اس طریقہ پر کیوں دعا نہ کی، باقی جو حکم خداوندی سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ تو بالکل بےنیاز ہے اور تعریف کے لائق ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ” تمہارے لیے یقینا ان (کے طرزِعمل) میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے “ لیکن یہ نمونہ اور اسوہ فائدہ مند کس کے لیے ہوسکتا ہے ؟ { لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ } ” اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ (سے ملاقات) اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو۔ “ بالکل یہی الفاظ سورة الاحزاب میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ کے حوالے سے آئے ہیں : { لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا ۔ } یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت اور سیرت یقینا اسوہ کاملہ ہے ‘ لیکن اس سے مستفیض صرف وہی لوگ ہو سکیں گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوں۔ { وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ } ” اور جو کوئی منہ موڑ لے تو یقینا اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 "Who is hopeful Or Allah and the Last Day": who expects that one Day he will have to present himself before AIIah and is hopeful that Allah will treat him benevolently and help him attain to success in the Hereafter. 10 That is, "Allah has be need of such believers, who profess to believe in His Religion as well as maintain friendly relations with His enemies. He is Self Sufficient: His Godhead does not require that they should acknowledge Him as God. He is Self-Praiseworthy, i.e.'His being praiseworthy is not dependent on the people's praising and glorifying Him. , If they affirm the faith, they faith, they do so not for any good of AIlah, but for their own good: and they cannot gain anything from their affirmation of the faith until they break off all connections of love and friendship with the enemies of Allah as the Prophet Abraham and his companions did. "

سورة الْمُمْتَحِنَة حاشیہ نمبر :9 یعنی جو اس بات کی توقع رکھتا ہو کہ ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے ، اور اس چیز کا امیدوار ہو کہ اللہ اسے اپنے فضل سے نوازے اور روز آخر میں اسے سرخروئی نصیب ہو ۔ سورة الْمُمْتَحِنَة حاشیہ نمبر :10 یعنی اللہ کو ایسے ایمان لانے والوں کی کوئی حاجت نہیں ہے جو اس کے دین کو ماننے کا دعویٰ بھی کریں اور پھر اس کے دشمنوں سے دوسری بھی رکھیں ۔ وہ بے نیاز ہے ۔ اس کی خدائی اس کی محتاج نہیں ہے کہ یہ لوگ اسے خدا مانیں ۔ اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، اس کا محمود ہونا اس بات پر موقوف نہیں ہے کہ یہ اس کی حمد کریں ۔ یہ اگر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے کسی فائدے کے لیے نہیں ، اپنے فائدے کے لیے لاتے ہیں ۔ اور انہیں ایمان کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک یہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی طرح اللہ کے دشمنوں سے محبت اور دوستی کے رشتے توڑ نہ لیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(60:6) لکم : ای یا امۃ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے۔ فیہم : فی ابراہیم ومن معہ (حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے دستور زندگی میں اور اعتقاد و عمل میں۔ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ یہ بدل ہے لکم سے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیشی اور اس کے ثواب کا نیز روز قیامت کے آنے کا یقین رکھتے ہیں۔ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ وہ امید رکھتا ہے وہ اندیشہ رکھتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے۔ اللہ بحالت مفعول منصوب ہے۔ اسی طرح الیوم منصوب ہے۔ ومن یتول : واؤ عاطفہ۔ من شرطیہ ، جملہ شرط ہے۔ یتول مضارع مجزوم بالشرط۔ اصل میں یتولی تھا۔ تولی (تفعل) مصدر سے اور جو منہ موڑے گا۔ اعراض کرے گا۔ روگردانی کریگا۔ یعنی جو پیغمبروں کی پیروی سے روگردانی کریگا۔ فان اللہ ھو الغنی الحمید۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یعنی جو پیغمبروں کی پیروی سے روگردانی کرے گا (تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا) کیونکہ اللہ بالکل بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود ہے۔ الغنی : صفت مشبہ کا صیغہ ہے الف لام تعریف کا ہے۔ بےنیاز۔ غیر محتاج۔ الحمید : حمد سے بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول یعنی محمود صفت کیا گیا ۔ ستودہ۔ تعریف کیا ہوا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی آخرت کی بازپرس کا ڈر ہو۔6 یعنی اقنا نقصان آپ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات سے تمام خوبیوں اور تمام کمالات کا مالک ہے تم دشمنی کر کے اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور استقامت ہراس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ انبیائے کرام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واحد پیغمبر ہیں جن کی سیرت طیبہ کو نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد امجد اور ملت حنیف کے داعی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا راستہ مشکل ترین راستہ ہے۔ اسے وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کی ملاقات پر ایمان اور قیامت کے قائم ہونے کا یقین رکھتا ہے۔ جو اس راستے سے پھر گیا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور تعریف کے لائق ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کو وہی شخص اپنائے گا جو اللہ کی ملاقات اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ایسے مؤمن کو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہونی ہے اور مجھے اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے نیک اعمال کا اجر پانا ہے۔ جو شخص اس راستے کو اختیار نہ کرے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غنی اور تعریف کے لائق ہے۔ دوسرے مقام پر ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کو چھوڑنا حماقت قرار دیا ہے۔ ” دین ابرہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو حماقت میں ڈال لیا ہے، بلا شک ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوگا۔ (البقرۃ : ١٣٠) الْغَنِیُّ : غنی کا معنی ہے ہر لحاظ سے بےنیاز اور مستغنی وہ صرف ” اللہ “ کی ذات ہے۔ کسی کے عبادت کرنے سے اس کی بادشاہی اور عظمت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے اور کسی کے کفر و شرک سے اس کی بادشاہی اور عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ( عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے، جن و انس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین انسان کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں کوئی نقص واقع نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر ایک کی اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں ہوسکتی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے واقع ہوتی ہے۔ “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ہر ایماندار کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ٢۔ جو شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ اور آخرت کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پر وہ نہیں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور تعریف کے لائق ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتحانات اور ان کا مقام و مرتبہ : ١۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہیں۔ (الممتحنہ : ٤) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ سے انحراف کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ : ١٣) ٣۔ ابراہیم (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیشویٰہیں۔ (النحل : ١٢٣) ٤۔ ابراہیم (علیہ السلام) بردبار اور نرم خو تھے۔ ( التوبہ : ١١٤) ٥۔ ابراہیم (علیہ السلام) تمام امتوں کے پیشوا ہیں۔ (البقرۃ : ١٢٤) ٦۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا۔ (النساء : ١٢٥) ٧۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر آنا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم : ٣٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لقد کان .................... الحمید (٠٦ : ٦) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے اہل ایمان کو۔ لیکن جو اسلامی نظام کی پرواہ نہیں کرتے اور جو قافلہ ابراہیمی کے راستے سے ادھر ادھر جانا چاہتے ہیں۔ جو شخص اس شجرہ نسب سے دور جانا چاہتا ہے ، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فان اللہ ............ الحمید (٠ : ٦) ” اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ اس سفر سے اب ہم واپس ہورہے ہیں ، اہل ایمان نے اپنی تاریخ کا مطالعہ کرلیا۔ اب وہ زمین پر اپنی یادیں لے کر واپس ہوگئے۔ امم سابقہ میں ان کے لئے جو سبق آموز تجربات تھے وہ انہوں نے جمع کرلیے اور امم سابقہ میں سے جو لوگ ایسے ہی حالات سے گزرے تھے انہوں نے کیا فیصلے کیے تھے اور انہوں نے پالی کہ جس راہ پر وہ چل رہے تھے یہ تو ایسی راہ ہے جس پر پہلے بھی لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ پہلے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے یہ کام کیا۔ قرآن کریم اس تصور کو قافلہ اہل اسلام کے دلوں میں خوب بٹھارہا ہے تاکہ یہ قافلہ چلتا رہے۔ اور وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ اکیلا ہے یا انوکھا ہے۔ اگرچہ موجودہ نسل میں وہ اکیلا ہے۔ یوں اسے سہارا ملتا ہے اور اس راہ پر چلنے میں مشقت کم ہوجاتی ہے۔ یواں کہ راہ اگرچہ دسوار گزار ہے۔ لیکن کئی لوگ پہلے بھی چلتے رہے ہیں اور انہی گھاٹیوں سے ہوکر گزرے ہیں۔ مکہ و مدینہ کے درمیان جو جنگی صورت حالات جاری تھی اور جس کے اندر بھائی بھائی سے کٹ گیا تھا اور لوگ اس صورت حال کو بہت ہی بھاری سمجھتے تھے۔ اب ان کی امید کی ایک کرن دکھائی جاتی ہے کہ یہ صورت حالات اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ بالآخر یہ لوگ بھی اس قافلہ میں شریک ہوجائیں گے۔ اسی جھنڈے کو اٹھالیں۔ یوں ممکن ہوگا کہ بھائی بھائی کا باہم تعلق بھی بحال ہوجائے گا اور اب مزید تخفیف کی جاتی ہے اور ایک بین الاقوامی قانون کا مستقبل قاعدہ بیان کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقاطعت اور عداوت اور دشمنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسلام کے دشمن ہیں۔ اور اگر کوئی اسلام کی دشمنی ترک کردے تو پھر ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ جس کے ساتھ نیکی کرنا چاہے اور وہ مستحق ہے اس کے ساتھ نیکی کرے۔ اور باہم منصفانہ اور عادلانہ روابط قائم کیے جائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ (الآیہ) یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کے طرز عمل میں اس شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا اور قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتا ہو۔ ﴿ وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ (رح) ٠٠٦﴾ اور جو شخص رو گردانی کرے گا، سو اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا مستحق ہے جو کوئی شخص کافروں سے موالات کرے گا ان کی طرف جھکے گا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ غنی ہے بےنیاز ہے اور حمید بھی ہے ہمیشہ تعریف کا مستحق ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” لقد کان لکم “ یرجو، یخاف (جلالین) ۔ جس مؤمن کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جسے مجازات آخرت کا ڈر ہو اس سے تو یہی توقع ہے کہ وہ مشرک رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے نقش قدم پر چلے گا۔ ” ومن یتولھم الخ “ مومن کامل کی شان تو یہی ہے کہ کافروں سے بالکلیہ قطع تعلق کرے لیکن اس واضح بیان کے بعد بھی جو اس سے باز نہ آئے تو اس پر تف ہے اور اس سے وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بلکہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اگر وہ کافروں کی دوستی سے باز آگیا تو اس سے اللہ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ وہ اپنی عاقبت ہی سنوارے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ ” ومن یتولہم “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ ای فاف لہ اور فان اللہ الخ، ماقبل یعنی جزاء مقدر کی علت ہے۔ قالہ الشیخ رحمہ الہ تعالیٰ ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) البتہ تم کو بھلی چال چلنی ہے ان کی جو کوئی ایمد رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کی اور پچھلے دن کی اور جو کوئی منہ پھیرے تو اللہ تعالیٰ وہی ہے بےپروا سب خوبیوں سراہا۔ ترجمہ اور تیسیر میں حاصل ترجمہ اور لفظی ترجمہ کی وجہ سے فرق ہوگیا۔ لمن کان یرجو اللہ ہے بدل ہے لقد کان لکم سے ترجمہ کا خلاصہ اس طرح ہے بیشک ابراہیم اور ان کے متبعین میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ اور قابل اتباع نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے اور قیامت کے آنے کا اعتقاد رکھتا ہو اور جو شخص اس حکم سے یا ان کا اتباع سے روگردانی کرے گا تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز اور سزاوار حمد ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جو بات اوپر ارشاد فرمائی تھی یہ اسی کی تاکید ہے یا یہ کہ پہلے ان کی شان مقتدی بہ کے لئے فرمایا اور دوسری مرتبہ اس اعتقاد کے تقاضے کے اعتبار سے فرمایا یعنی تم لوگ جو اللہ کے روبرو حاضر ہونے کے امیدوار ہو اور قیامت کے آنے معتقد ہو اس اعتقاد کا تقاضا یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی پیروی کی جائے۔ یرجو اللہ کا مطلب یہ کہ اس کی ملاقات اور اس کے روبرو حاضر ہنے کا یا اس کی رحمت کا امیدوار ہے ایسا ہی روز آخرت کی ملاقات اور حساب وکتاب کا معتقد ہے تو اس کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک قابل تقلید اور قابل اتباع نمونہ ہے اور اس کو چاہیے کہ ان پیشوائوں کی پیروی کری اور اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم اتباع سے روگردانی کرے اور منہ پھیرے تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ یعنی اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ ان آیتوں کے نزول کے بعد مسلمانوں نے اپنے کافر متعلقین سے بالکل ترک تعلق کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے آگے ان کو امید دلائی کہ عنقریب ان حالات میں تبدیلی کی امید ہے۔ یہ منافرت اور ترک تعلق اختلاف دین کی وجہ سے ہے شایدآگے چل کر کافر مسلمان ہوجائیں اور منافرت باقی نہ رہے۔