Surat ul jumaa

Surah: 62

Verse: 3

سورة الجمعة

وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾

And [to] others of them who have not yet joined them. And He is the Exalted in Might, the Wise.

اور دوسروں کے لئے بھی انہی میں سے جو اب تک ان سے نہیں ملے ۔ اور وہی غالب با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Muhammad is the Messenger to Arabs and Non-Arabs alike Allah said, وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ And others among them who have not yet joined them. And He is the Almighty, the All-Wise. Imam Abu Abdullah Al-Bukhari, may Allah have mercy upon him, recorded that Abu Hurayrah said, "We were sitting with the Prophet, when Surah Al-Jumu`ah was revealed to him; وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (And others among them who have not yet joined them). They said, `Who are they, O Allah's Messenger' The Prophet did not reply until they repeated the question thrice. At that time, Salman Al-Farisi was with us. So Allah's Messenger placed his hand on Salman, saying, لَوْ كَانَ الاِْيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هوُلاَءِ If faith were on Ath-Thurayya (Pleiades), even then some men or a man from these people would attain it." Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa`i, Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir collected this Hadith. This Hadith indicates that Surah Al-Jumu`ah was revealed in Al-Madinah and that the Messenger's Message is universal. The Prophet explained Allah's statement, وَاخَرِينَ مِنْهُمْ (And others among them) by mentioning Persia. This is why the Prophet sent messages to the kings of Persia and Rome, among other kings, calling them to Allah the Exalted and to follow what he was sent with. This is why Mujahid and several others said that Allah's statement, وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (And others among them who have not yet joined them), refers to all non-Arabs who believe in the truth of the Prophet. Allah's statement, وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Almighty, the All-Wise), asserts that He is Almighty and All-Wise in His legislation and the destiny He appoints. Allah's statement, ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُوْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یہ امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَ فِیْ اَ خِرِ یْنَ مِنْھُمْ اَخَرِ یْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والے ہونگے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چناچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چناچہ یہ سب ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع امیین ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] آپ تمام لوگوں کے لئے تاقیام قیامت رسول ہیں :۔ نبی آخرالزمان صرف ان امی اہل عرب ہی کی طرف مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ بعد میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے بھی نبی ہیں گویا آپ کی نبوت اور رسالت صرف اہل عرب کے لیے اور صرف اس دور کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ اس دور کے اور بعد میں تاقیامت آنے والے سب انسانوں کے لیے یکساں ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ : جب سورة جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ ( وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۝) 62 ۔ الجمعة :3) سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ :&& اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان لوگوں (فارس والوں) سے کئی لوگ وہاں تک پہنچ جاتے && (بخاری۔ کتاب التفسیر) اہل فارس کی خدمت اسلام :۔ آپ نے پہلے دو بار اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس سے مراد کوئی خاص لوگ نہیں تھے۔ بلکہ اس سے مراد عامۃ الناس تھے۔ پھر جب سیدنا ابوہریرہ (رض) نے تیسری بار بھی یہی سوال کیا تو آپ نے اہل فارس کا نام لیا کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ چناچہ عملاً ہوا بھی ایسا ہی، صحابہ کرام کے دور کے بعد اسلام کی نشرواشاعت کا جتنا کام اہل فارس نے سرانجام دیا۔ دوسروں کے حصہ میں یہ سعادت نہ آسکی۔ بڑے بڑے محدثین اور فقہاء کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ [٧] اللہ تعالیٰ کے زبردست اور حکمت والا ہونے کی اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اس نے اپنا رسول بھیج کر بائیس تئیس سال کی مختصر مدت میں عرب بھر کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔ شرک کی جڑ کٹ گئی۔ اور خالصتاً اللہ کے پرستار پیدا ہوگئے۔ پہلے سب ایک دوسرے کے دشمن تھے اب بھائی بھائی بن کر شیروشکر ہوگئے۔ پہلے بہت سے گناہوں اور اخلاقی امراض میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اب اخلاق فاضلہ کے بلند مقام پر فائز ہوگئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ۔۔۔:” اخرین “ کا عطف ” فی الامین “ پر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو عرب امیوں میں بھیجا جن کی وہ نسل میں سے ہے اور اسے غیر عرب امیوں میں بھی بھیجا جو ابھی مسلمان ہو کر عربوں کے ساتھ ملے ، مگر آئندہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ تفصیل کے لیے اسی سورت کی آیت (٢) کی تفسیر کا پہلا فائدہ ملاحظہ فرمائیں ۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ” یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے ، وہ فارس کے لوگ ( ہیں) وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے ۔ حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کیے اس دین کو تھامنے والے ، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے “۔ ( موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَآخَرِ‌ينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (...And [ this Messenger is sent also ] to others of them who did not join them so far. And He is the All-mighty, the All-wise...62:3) The word &akharin means &other people& and the phrase لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ means &those people who have not yet joined the unlettered people&. This refers to all those Muslims who will enter the fold of Islam until the Last Hour [ as transmitted by Ibn Zaid, Mujahid and others ]. This indicates that the succeeding generations of Muslims will be appended to the earlier generations of believers, that is, the noble Companions. This is great good news for the succeeding generations of Muslims. [ Ruh ]. Grammatically, there are two views regarding the conjoining of the word &akharin. One view holds that it is conjoined to ummiyyin and it means that &Allah has sent His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) among the unlettered people and also among those who have not yet joined them&. Sending the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) among the present unlettered people is quite obvious, but &sending him among those who have not yet come& needs explanation. Bayan-ul-Qur&an explains that &sending among them& stands for &sending for them& because the preposition fi in Arabic is also used in the sense of &for&. According to some other grammarians, however, the word &akharin is conjoined to the objective pronoun him attached to the verb yu&allimu-hum, in which case the interpretation would be &the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) teaches the unlettered people and also the people who have not joined them so far&. [ Mazhari prefers the latter interpretation ]. Sayyidna Abu Hurairah رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrates, as recorded in Bukhari and Muslim, that they were sitting in the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when Surah Al-Jumu&ah was revealed. He recited it to them, and when he reached the verse وَآخَرِ‌ينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (...and others of them who have not joined them so far...62:3) they asked him who are these &others&. He remained silent. They asked him the second time and he remained silent. They asked him the third time, and he put his blessed hand on the back of Sayyidna Salman Al-Farisi (رض) [ who was at that time in the gathering ] and said: |"If faith were on Pleiades, even then some men or a man from these people would attain it.|" [ Mazhari ]. This narration does not specify people of Persia, but it does prove that they are included in the general sense of &others&. This narration speaks greatly of all non-Arabs who embrace Islam. [ Mazhari ].

(آیت) وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيم، آخرین کے لفظی معنی ” دوسرے لوگ “ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے معنی جو ابھی تک ان لوگوں یعنی امیین کے ساتھ نہیں ملے، مراد ان سے وہ تمام مسلمان ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے (کماروی عن ابن زید و مجاہد و غیر ہما) اس میں اشارہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان سب کے سب مومنین اولین یعنی صحابہ کرام ہی کے ساتھ ملحق سمجھے جائیں گے، یہ بعد کے مسلمانوں کیلئے بڑی بشارت ہے (روح) لفظ آخرین کے عطف میں دو قول ہیں، بعض حضرات نے اس کو امیین پر عطف قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امیین میں اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے نہیں ملے، اس پر جو یہ شبہ ہوتا ہے کہ امیین یعنی موجودین میں رسول بھیجنا تو ظاہر ہے، جو لوگ ابھی آئے ہی نہیں ان میں بھیجنے کا کیا مطلب ہوگا، اس کا جواب بیان القرآن میں یہ دیا ہے کہ ان میں بھیجنے سے مراد ان کیلئے بھیجنا ہے کیونکہ لفظ فی عربی زبان میں اس معنے کے لئے بھی آتا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اخرین کا عطف یعلمہم کی ضمیر منصوب پر ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تعلیم دیتے ہیں امیین کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ابھی ان کے ساتھ ملے نہیں (اختارہ فی المظہری) صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ آپ پر نازل ہوئی (اور آپ نے ہمیں سنائی) جب آپ نے یہ آیت پڑھی وّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ، تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر آخرین کے لفظ سے کیا گیا ہے، آپ نے اس وقت سکوت فرمایا، مکرر سکرر سوال کیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی پر رکھ دیا (جو اس وقت مجلس میں موجود تھے) اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا ستارہ کی بلندی پر بھی ہوگا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی ایمان کو لے آئیں گے (مظہری) اس روایت میں بھی اہل فارس کی تخصیص کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ اتنا ثابت ہوا کہ یہ بھی آخرین کے مجموعہ میں داخل ہیں، اس حدیث میں اہل عجم کی بڑی فضیلت ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝ ٠ ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٣ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ لحق لَحِقْتُهُ ولَحِقْتُ به : أدركته . قال تعالی: بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] ( ل ح ق ) لحقتہ ولحقت بہ کے معنی کیس کو پالینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ۔ ( اور شہید ہو کر ) ان میں شامل نہ ہو سکے ۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] اور ان میں سے دوسرے لوگوں کی طرف بھی ( ان کو بھیجا ہے جو ابھی ان مسلمان سے نہیں ملے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور دوسروں کے لیے بھی ان ہی میں سے یا یہ کہ آس پاس کے لوگوں کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا ہے جو ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں یا یہ کہ تمام اولین و آخرین کی طرف رسول اکرم کو رسول بنا کر بھیجا ہے خواہ عرب میں سے ہوں یا عجم میں سے ہوں۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے وہ اس کو سزا دینے میں زبردست ہے اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ } ” اور ان ہی میں سے ان دوسرے لوگوں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔ “ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ کا عطف اُمّیّٖنَ پر ہے۔ یعنی دوسرے کچھ اور بھی ہیں جن کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا گیا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تو قیامت تک لیے ہے۔ ظاہر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں ہر نسل ‘ ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ شامل ہوں گے۔ متفق علیہ احادیث کے مطابق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی (رض) کے کندھے پر رکھ کر فرمایا کہ ” یہ اور اس کی قوم کے لوگ “۔ مزید فرمایا کہ دین اگر ثریا پر بھی ہوگا تو اس کی قوم کا ایک شخص اس تک پہنچ جائے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے بارے میں تمام حنفی علماء متفق ہیں کہ اس کے مصداق حضرت امام ابوحنیفہ - ہیں ‘ جو ایرانی النسل ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ایرانی قوم بحیثیت مجموعی بہت ذہین ہے۔ اس قوم نے ایک سے بڑھ کر ایک فلاسفر پیدا کیا ہے ‘ بلکہ ہمارے علمائے کلام تو سب کے سب ایرانی ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی قوم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے فلسفہ اور منطق ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ ماضی میں یونان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ ایران بھی فلسفہ و منطق کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعد میں جرمن قوم نے بھی اس میدان میں نام پیدا کیا۔ یہ سب اقوام حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت حام کی نسل سے ہیں۔ اس ضمن میں میری تحقیق یہ ہے کہ حضرت سام کی نسل کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے چن لیا تھا ‘ جبکہ حضرت حام کی نسل کو حکمت میں برگزیدہ کیا تھا۔ میں نے آیت زیر مطالعہ کو ایٹم (atom) اور اس کے مرکزہ (nucleus) کے گرد مختلف دائروں میں گھومنے والے الیکٹرانز کی مثال سے سمجھا ہے۔ اس مثال کے مطابق امت مسلمہ کا مرکزہ (nucleus) ” اُمیین “ پر مشتمل ہے۔ یعنی بنواسماعیل اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے تمام اہل عرب جو اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے براہ راست مخاطب تھے۔ اس کے بعد نیوکلیس کے گرد پہلا دائرہ ایرانیوں کے الیکٹرانز سے بنا۔ پھر رومی ‘ قبطی ‘ سندھی ‘ ہندی وغیرہ اقوام کے الیکٹرانز کے دائرے بنے اور پھیلتے گئے۔ یہ دائرے ظاہر ہے قیامت تک مزید بھی پھیلیں گے لیکن امیین (نیوکلیس) کے علاوہ باقی تمام اقوام کا شمار ” آخرین “ میں ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے حوالے سے ” اُمیین “ اور ” آخرین “ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ امیین پر وہی قانون لاگو ہوا جو سابقہ رسولوں (علیہ السلام) کی اقوام پر ہوا تھا ۔ یعنی اتمامِ حجت کے بعد بھی جو لوگ ایمان نہ لائیں انہیں نیست و نابود کردیا جائے ۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ” اُمیین “ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی ۔ ٩ ہجری میں ان کو ایک اعلانِ عام (سورۃ التوبہ ‘ رکوع اول) کے ذریعے متنبہ کردیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اندر ایمان لے آئو ورنہ قتل کردیے جائو گے۔ اس کے برعکس ” آخرین “ پر مذکورہ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان میں سے کوئی اسلام کی دعوت کو مانے یا نہ مانے ‘ ایمان لائے یا نہ لائے اسے اختیار ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کے مکمل غلبے کی صورت میں بھی کسی سے اس کے مذہب کے بارے میں تعرض نہیں ہوگا۔ البتہ ملک کا نظام اللہ کے قانون کے مطابق چلایا جائے گا ‘ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 That is, the Apostleship of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is not restricted only to the Arabs but is meant for other nations and races as well, who havc not yet joined the believers, but are going to be born till the Last Day. The word minhum (of them) in the original can have two meanings: (1) "That those other people will be of the ummis i.e. the non-Isaelite nations of the world;" and (2) "that they will be believers in Muhammad (upon whom be Allah s peace and blessings) , though they have not yet joined the believers, but will join them later on. " Thus, this verse is one of those verses which explicitly state that the Message of the Holy Prophet (upon whom be peace) is meant for all mankind for ever. The other places where this theme has o occurred in the Qur'an are: AI-'Imran: 19, Al-A'raf: 158, Al-Anbiya': 107, AI-Furqan: 1, Saba 28. (For further explanation, see EN 47 of Surah Saba) . 6 That is, it is a manifestation of Allah's own power and wisdom that among an un-civilized, , un-lettered people He has raised a great Prophet, whose teachings arc so revolutionary and contain such eternal and universal principles as can provide a sound basis for the whole of mankind to be a single unified community, which can obtain guidance from those principles for ever. An impostor, however hard he may have tried, could not have attained this position and rank. Not to speak of a backward people like the Arabs; even the most intelligent and talented man of the most advanced nation of the world cannot have the power that he may revolutionist a nation so completely, and then give such comprehensive principles to the world that all mankind may follow it as one community and be able to run a universal and all-pervasive system of one way of life and one civilization for ever. This is a miracle which has taken place only by Allah's power, and only AIIah on the basis of His wisdom has chosen the person, the country and the nation for it.

سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :5 یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں ۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ۔ دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں اس میں لفظ منہم ( ان میں سے ) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے ، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے ۔ دوسرے یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہونگے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہو جائیں گے ۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے ۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات جہاں اس مضمون کی صراحت کی گئی ہے ، حسب ذیل ہیں: الانعام ، آیت 19 ۔ الاعراف ، 158 ۔ الانبیاء ، 107 ۔ الفرقان ، 1 ۔ سبا ، 28 ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، تفسیر سورہ سبا ، حاشیہ 47 ) ۔ سورة الْجُمُعَة حاشیہ نمبر :6 یعنی یہ اسی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ ایسی ناتراشیدہ امی قوم میں اس نے ایسا عظیم نبی بیدا کیا جس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے ، اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کی حامل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے ۔ کوئی بناؤٹی انسان خواہ کتنی ہی کوشش کر لیتا ، یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کر سکتا تھا ۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار ، دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین سے ذہین آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے ، اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کو دے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر و ہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہو جائے ۔ یہ ایک معجزہ ہے جو اللہ کی قدرت سے رونما ہوا ہے ، اور اللہ ہی نے اپنی حکمت کی بنا پر جس شخص ، جس ملک ، اور جس قوم کو چاہا ہے اس کے لیے انتخاب کیا ہے ۔ اس پر اگر کسی بے وقوف کا دل دکھتا ہے تو دکھتا رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اس کا مقصد یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم صرف ان عربوں کے لئے رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے جو آپ کے زمانے میں موجود تھے، بلکہ آپ قیامت تک آنے والے تمام اِنسانوں کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں، چاہے وہ کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(62:3) واخرین منھم اس کا عطف یعلمہم کی ضمیر پر ہے اور منھم کی ضمیر جمع مذکر غائب امیون کی طرف راجع ہے۔ یعنی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو امیین میں سے ہیں نہ صرف ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں اور یہ دوسرے لوگ بھی اول لوگوں میں سے ہی ہیں۔ (منھم) یعنی انہی کے ہم مذہب اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔ اخرین سے کون مراد ہیں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) عکرمہ اور مقاتل نے کہا کہ اخرین سے مراد تابعین ہیں۔ (2) ابن زید نے کہا کہ :۔ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو قیامت تک حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے ہیں ۔ ابن بخیع کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا ہے ۔ لیکن (3) عمر و بن سعید بن جبیر اور لیث کی روایت میں مجاہد کا قول یوں آیا ہے اس سے مراد عجمی لوگ ہیں۔ لما یلحقوا بھم : لما حرف جازم ہے اور لم کی طرح فعل مجارع پر داخل ہوتا ہے۔ اس کو جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی میں کردیتا ہے۔ یلحقوا مضارع مجزوم بوجہ عمل لما۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لحقوق (باب سمع) مصدر۔ بھم میں ب الصاق کے لئے ہے (حرف جار ہے) ھم ضمیر جمع مذکر غائب مجرور جو امیون کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو ابھی تک ان سے آکر نہیں ملے۔ یہ اخرین کی صفت ہے۔ لما کا استعمال مندرجہ ذیل آیت میں اسی معنی میں آیا ہے۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ وھو العزیز الحکیم : اور وہ گا لب حکمت والا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 واخرین الخ اس کا عطف فی الامیین پر ہے یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے۔ (موضح) ان سے مراد دنیا بھر کے وہ تمام لوگ ہوسکتے ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضتر سے دریافت کیا کہ ” ان ابھی نہ ملنے والے لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں ؟ “ آپ نے حضرت سلمان فاسری کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو تو وہ اہل فارس میں سے کچھ لوگ اسے ضرور پالیں گے شوکانی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس میں تمام امت قیامت تک عربی و عجمی سب آگئے اور ان کو منھم باعتبار اسلام کے فرمایا کیونکہ مسلمان سب متحد ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واخرین .................... الحکیم (٢٦ : ٣) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ، اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ آخر ون کون ہیں ان کے بارے میں متعدد روایات آئی ہیں۔ امام بخاری نے روایت کی ہے ، عبدالعزیز ابن عبداللہ سے ، انہوں نے سلیمان ابن بلال سے ، انہوں نے ثور سے ، انہوں نے ابو الغیث سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ فرماتے ہیں ” ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة جمعہ نازل ہوئی۔ واخرین ................ بھم (٢٦ : ٣) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں “۔ تو صحابہ کرام (رض) نے پوچھا اللہ کے رسول وہ کون تو حضور نے ان کے سوال کا جواب نہ دیا ، یہاں تک کہ تین بار آپ سے پوچھا گیا۔ ہم میں سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ تو حضور نے اپنا دست مبارک سلمان فارسی پر رکھا اور پھر کہا ، ” اگر ایمان ثریا کے اندر بھی ہو تو ان لوگوں سے بعض لوگ یا ایک شخص اسے پالے گا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اہل ایران شامل ہیں۔ اس لئے مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگوں میں وہ سب ہیں ، جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی۔ ابن ابو حاتم نے روایت کی ہے ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابراہیم ابن علاء زبیری سے ، انہوں نے ولید ابن مسلم سے ، انہوں نے ابو محمد عیسیٰ ابن موسیٰ سے ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے سہل ابن سعد ساعدی سے ، وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میری امت کے بعض لوگوں کی پشتوں کی پشتوں میں اسے مرد اور عورتیں ہوں گی جو جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور اس کے بعد آپ نے پڑھا۔ واخرین ................ بھم (٢٦ : ٣) یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آئندہ آنے والے لوگ۔ دونوں اقوال کی گنجائش ہے یعنی وہ لوگ جو عرب کے علاوہ ہیں اور وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے تھے ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اور ان کی اولاد جو بعد میں پیدا ہوگی۔ ان آیات اور روایات میں اشارہ ہے کہ یہ امت آئندہ زمانوں اور زمین کے تمام حصوں میں مسلسل رہنے والی امت ہے ، اور اس نے اس ذمہ داری کو قیامت تک پورا کرنا ہے۔ اس آخری دین کی حامل یہ امت آخر زمانے تک رہے گی۔ وھوالعزیز الحکیم (٢٦ : ٣) ” اور اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ وہ قوی ہے ، اور کسی امت کو مختار بنانے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ حکیم ہے اور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کس منصب کے لئے چنے گئے۔ اور متقدمین اور متاخرین میں سے لوگوں کو درجے دینا بھی اس کا فضل وکرم ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل عجم کی اسلام کی خدمتیں : جب حدود عرب سے نکل کر آپ کا لایا ہوا پیغام توحید شرقاً غرباً عجم میں پھیل گیا تو عجمیوں نے قرآن کو لیا حفظ کیا قراتیں اور روایتیں محفوظ کیں، طرق ادا سیکھے، معانی سمجھے، قرآن کی تفسیریں لکھیں اور احکام قرآن پر کتابیں تالیف کیں، قرآن کے مواعظ کو امت میں پھیلایا حتی کہ کثیر تعداد میں علماء وصلحاء وجود میں آگئے اہل عرب کے بعد اہل عجم کا خدمات اسلام میں بہت بڑا حصہ ہے اسی کو فرمایا ﴿ وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ (اور ان امیین کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی ان ہی کو رسول بنا کر بھیجا جو ابھی تک امیین سے نہیں ملے) یعنی ان تک اسلام نہیں پہنچایا انہوں نے ابھی قبول نہیں کیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے تھے اس وقت سورة الجمعہ نازل ہوئی جس میں ﴿وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ فرمایا ہے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے ؟ تین بار سوال کرنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اس وقت وہاں سلمان فارسی (رض) موجود تھے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ہاتھ رکھ دیا (اور اس طرح بتادیا کہ وہ لوگ ان میں سے ہوں گے) پھر فرمایا اگر ثریا (ستاروں) کے نزدیک بھی ایمان ہو تو ان میں ایسے لوگ ہوں گے جو وہاں سے لے لیں گے۔ (صحیح بخاری صفحہ ٧٢٧: جلد ٢) حضرت سلمان (رض) فارس کے رہنے والے تھے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل فارس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو یہ لوگ وہاں سے لے لیں گے یہ بطور مثال ہے ان کے علاوہ جو غیر عرب ہیں انہوں نے بھی اسلام کی بہت خدمت کی۔ جب اہل فارس نے ایمان اور قرآن کو چھوڑ دیا اور شیعیت اختیار کرلی اس وقت سے دوسری اقوام نے الحمدللہ تعالیٰ اسلام کو خوب بڑھایا اور طرح طرح سے اس کی خوب خدمات انجام دیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” واخرین منہم “ اس میں ان مومنوں کا ذکر ہے جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست تعلیم وتزکیہ حاصل نہیں کیا۔ ” واخرین، الامییین پر معطوف ہے۔ کیونکہ آپ بعد والوں کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ یا یہ ” یعلمہم “ کی ضمیر منصوب پر معطوف ہے۔ کیونکہ تعلیم کا سلسلہ معلم اول ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لان التعلیم اذا تناسق الی اخر الزمان کان کلہ مسندا لی اولہ الخ (قرطبی ج 18 ص 93) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” اخرین “ فعل مقدر یظہر کا مفعول ہے از قبیل علفتہا تبنا وماء باردا۔ کیونکہ بعد میں آنے والوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تزکیہ نصیب نہیں ہوا۔ ای یظہر کتابہ اخرین۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) اوردوسرے لوگوں کے لئے بھی جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں اور ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا یعنی وہ رسول بھی امی اور ان پڑھ بھیجا اور عرب کی ہدایت کے لئے اس کو مقرر کیا آگے اس پیغمبر کے تعلیمی شعبوں کا ذکر فرمایا کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے جس سے ان کو ہدایت میسر ہوتی ہے اور ان کو عقائد باطلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرتا ہے اور ان کی اخلاقی اصلاح کرتا اور ان کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب یعنی قرآن کی تعلیم دیتا ہے اور ان کو حکمت و دانش اور ان کو صحیح فہم کی تعلیم دیتا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ یہ اہل عرب اس رسول کی بعثت سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے وہ گمراہی کفر وشرک کی گمراہی ہے جس میں تمام عرب کے لوگ مبتلا تھے اور آپ کو دوسرے لوگوں کے لئے بھی مبعوث فرمایا جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں یعنی یا تو موجود ہیں مگر مسلمان نہیں ہوئے اور یا ابھی موجود ہی نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک ان میں شامل نہیں ہیں مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو قیامت تک آپ کے تابع اور پیرو ہوں گے۔ بعض حضرات نے صحابہ کرام کے تابعین مراد لئے ہیں بعض نے فارس کے لوگ بتائے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ آخرین منہم سے تمام امت مراد ہے خواہ وہعربی ہوں یا عجمی ہوں قیامت تک کی تمام امت اس میں شامل ہے اور منھم جو فرمایا یہ اس بنا پر کہ مسلمان بااعتبار اسلام کے سب متحد اور ایک دوسرے کے شامل ہیں وہ زبردست حکمت والا ہے یعنی اس نے اپنی قدرت اور حکمت سے ایسا نبی بھیجا جس نے تمام دنیا کے انسانوں کے لئے رہنمائی کا سامان مہیا فرمایا، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)