Surat ut Taghabunn

Surah: 64

Verse: 5

سورة التغابن

اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۫ فَذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾

Has there not come to you the news of those who disbelieved before? So they tasted the bad consequence of their affair, and they will have a painful punishment.

کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور جن کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Warning delivered through mentioning the End of the Disbelieving Nations Informing about the past nations and the torment and disciplinary lessons that they suffered because of opposing the Messengers and denying the truth. Allah says; أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ... Has not the news reached you of those who disbelieved aforetime? meaning, information about them and what happened to them, ... فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ ... And so they tasted the evil result of their disbelief. They tasted the evil consequences of their denial and sinful actions. And it refers to the punishment and humiliation they received in the life of the world, ... وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ and theirs will be a painful torment. in the Hereafter, added to the torment they received in this life. Allah explained why;

سابقہ واقعات سے سبق لو یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے یہاں بھی اپنے بد افعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے ۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو ، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا ، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔ 5۔ 2 یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] && ان لوگوں && سے مراد وہ سابقہ اقوام ہیں جن پر اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب آیا تھا۔ اور یہ سزا نہ تو ان کی اصل سزا تھی اور نہ پوری سزا تھی۔ یہ عذاب تو انہیں محض اس لئے چکھایا گیا تھا کہ آئندہ جرائم سے باز آجائیں اور مظلوم ان کے مظالم سے نجات پاجائیں۔ اس لحاظ سے دنیا کا یہ عذاب محض ایک مجرم کی گرفتاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ رہی اصل اور پوری سزا تو وہ انہیں آخرت میں ملے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی اگر تم اپنے اس خالق پر ایمان نہ لائے اور اس کے ساتھ کفر پر ڈٹے رہے جو ان صفات کا مالک ہے اور جس کی طرف تمہیں واپس جانا ہے، تو کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جنہوں نے اس سے پہلے اپنے خالق ومالک کے علاوہ اس کے رسولوں اور آخرت کا بھی انکار کیا ، مثلاً قوم نوح ، عاد وثمود اور آل فرعون وغیرہ جو مال و دولت اور قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ ( دیکھئے روم : ٩) قریش مکہ کا گزر اکثر شام اور یمین کی طرف سفر میں ان کی برباد شدہ بستیوں پر ہوتا تھا اور عرب میں ان کے واقعات مشہور تھے۔ ٢۔ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : یعنی انہوں نے دنیا ہی میں اپنے کفر اور سرکشی کا وبال چکھ لیا ، مگر یہ ان کی پوری اور اصل سزا نہ تھی بلکہ یہ صرف دنیا میں ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا جو دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے دکھایا گیا تھا ، جس سے تمہیں بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اصل سزا کے طور پر ان کے لیے نہایت درد ناک عذاب تیار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ۝ ٠ ۡفَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٥ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] . ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ بال البَال : الحال التي يکترث بها، ولذلک يقال : قال : كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بالَهُمْ [ محمد/ 2] [ طه/ 51] ، أي : فما حالهم وخبرهم . ويعبّر بالبال عن الحال الذي ينطوي عليه الإنسان، فيقال : خطر کذا ببالي . ( ب ی ل ) البال اصل میں اس حالت کو کہتے ہیں جس کی فکر یا پرواہ کی جائے ۔ قرآن میں ہے ۔ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بالَهُمْ [ محمد/ 2] ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنواردی ۔ فَما بالُ الْقُرُونِ الْأُولی[ طه/ 51] تو پہلی جماعتوں کا کیا حال اور انسان کے دل میں گذرنے والے خیال کو بھی بال کہا جاتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ میرے دل میں یہ بات کھٹکی أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے مکہ والو کیا تمہیں بذریعہ کتاب گزشتہ قوموں کی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا، انہوں نے عذاب و ہلاکت کے ذریعے دنیا میں اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ اَلَـمْ یَاْتِکُمْ نَـبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ } ” کیا تمہارے پاس خبریں آ نہیں چکی ہیں ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا تھا پہلے “ قومِ نوح (علیہ السلام) ‘ قومِ ہود (علیہ السلام) ‘ قومِ صالح (علیہ السلام) اور دوسری اقوام کے واقعات مکی قرآن میں بار بار دہرائے گئے ہیں۔ { فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ” تو انہوں نے اپنے کیے کی سزا چکھ لی “ انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کفر کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا گیا۔ { وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۔ } ” اور ان کے لیے دردناک عذاب بھی ہے۔ “ دنیا کی سزا بھگتنے کے بعد ان اقوام کے افراد ابھی تو عالم برزخ میں ہیں ‘ لیکن ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے وہ بھی ان کا منتظر ہے۔ اس بڑے عذاب کا سامنا انہیں آخرت میں کرنا پڑے گا۔ اب اگلی آیت میں ان کے کفر کے سبب کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 That is, "The evil that they tasted in the world in consequence of their misdeeds was neither the real punishment of their crimes nor the full punishment. The real and full punishment they have yet to suffer in the Hereafter. However, the people can learn a lesson from the torment that visited them. They can see how the nations which adopted an attitude of unbelief against their Lord, went an degenerating and consequently met with an evil and disgraceful end." (For further explanation, see E.N.'s 5, 6 of Al-A'raf, E.N. 105 of Hud) .

سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :10 یعنی دنیا میں انہوں نے شامت اعمال کا جو مزا چکھا وہ ان کے جرائم کی نہ اصل سزا تھی نہ پوری سزا ۔ اصلی اور پوری سزا تو ابھی آخرت میں ان کو بھگتنی ہے ۔ لیکن دنیا میں جو عذاب ان پر آیا اس سے لوگ یہ سبق لے سکتے ہیں کہ جن قوموں نے بھی اپنے رب کے مقابلے میں کفر کا رویہ اختیار کیا وہ کس طرح بگڑتی چلی گئیں اور آخر کس انجام سے دوچار ہوئیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 5 ۔ 6 ۔ ہود ، حاشیہ 105 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥۔ ٦۔ اوپر حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کے منکروں کو ایک اور طرح قائل کرنے کو فرمایا کہ یہ مکہ کے مشرک لوگ حشر کو اور حشر کے سامان کے لئے نیک کام کرنے کو ان سے کہا جاتا ہے اس کو ہر وقت جھٹلاتے ہیں تو کیا شام کے ملک کی طرف تجارت کے سفر میں ان کو پچھلی قوموں کی کچھ اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں اور ان کو کیا ان لوگوں کو یہ حال معلوم نہیں ہوا کہ جس طرح ان حال کے لوگوں کو حشر کے قائم ہونے اور اس کے لئے سامان کرنے کی نصیحت کرنے کو اللہ کے رسول آئے اسی طرح ان لوگوں کی نصیحت کے لئے بھی اللہ کے رسول ہر ایک زمانے میں آئے تھے اور طرح طرح سے ان کو نصیحت بھی کی لیکن ان لوگوں نے ان عقلی باتوں سے کام لیا کہ بشر ہونے میں سب انسان برابر ہیں۔ اللہ کا رسول کوئی بشر نہیں ہوسکتا اور انہی عقلی باتوں سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ انجام یہ ہوا کہ دنیا میں تو وہ سب طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے اور آخرت کا عذاب جدا ان کو بھگتنا پڑے گا اس سے ان اہل مکہ کو اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانا کتنے بڑے وبال کی بات ہے رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کے جھٹلانے والوں کو رسول کی صداقت پر مجبور کیوں نہیں کیا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام کے موافق دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس لئے کسی کے مجبوری کے ایمان و اسلام کی اللہ کو کچھ پروا نہیں اس کی مخلوقات میں بغیر مجبوری کے اس کی حمد و ثنا کرنے والے تو پیدا ہیں اور اس کی ذات صفات قدیمی جب یہ حمد و ثنا کرنے والے موجود نہ تھے اس وقھ بھی اس کی یہی شان تھی اور جب یہ حمد و ثنا کرنے والے فنا ہوجائیں گے اس وقت بھی اس کی یہی شان رہے گی۔ اس واسطے اس کو کسی کی حمد وثنا اور عبادت کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ صحیح مسلم ١ ؎ وغیرہ کی ابوذر کی حدیث قدسی اوپر گزرچکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام روئے زمین کے انسان و جنات نیک ہوجائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور اگر یہ سب بد ہوجائیں گے تو اس سے اس کی بادشاہت میں کچھ گھٹ نہ جائے گا یہ حدیث قدسی آیت کے آخری ٹکڑے واللہ غنی حمید کی پوری تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(64:5) الم یاتکم : ا ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ لم یاتی مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی آنا۔ آجانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ خطاب کفار مکہ یا تمام اہل مکہ سے ہے۔ کیا تمہارے پاس نہیں آئی۔ (اے اہل مکہ یا اے کفار مکہ) ۔ نبو اسم مرفوع۔ خبر۔ اطلاع۔ مضاف۔ الذین کفروا اسم موصول و صلہ جنہوں نے کفر کیا۔ من قبل : ای من قبلکم تم سے پہلے ۔ متعلق صلہ۔ اسم موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ نبؤ کا۔ کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جنہوں نے تم سے قبل کفر اختیار کیا (مثل قوم نوح وقوم ہود (علیہ السلام) ، قوم صالح (علیہ السلام) وغیرہ) فذاقوا : ف ترتیب کا ہے یعنی وہ خبر یہ ہے کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والا انجام بھی انہوں نے چکھ لیا۔ ذاقوا ماضی جمع مذکر غائب ذوق (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے چکھا۔ انہوں نے چکھ لیا۔ وبال امرھم : امرھم مضاف ، مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ وبال مضاف کا مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل ذاقوا کا۔ وبال کسی کام کا انجام بد۔ وہ بوجھ اور سختی جو کسی کام کے انجام کے طور پر مرتب ہو۔ الوبیل۔ وہ طعام جو معدہ پر گراں گزرے۔ الوابل وہ بارش جو موٹی موٹی بوندوں والی ہو۔ پس چکھ لیا انہوں نے اپنے فعل کے انجام کا ضرر (اس دنیا میں ) ولہم عذاب الیہم : اور (آخرت میں) ان کے لئے ہے دردناک عذاب عذاب الیم موصوف و صفت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ وہ خبر پہنچنا بھی مقتضی وجوب اطاعت کو ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق اور بہترین مصّور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ وہ جانتا ہے جو لوگ ظاہر اور خفیہ طور پر کرتے ہیں اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ جو ذات دلوں کی راز اور سب کچھ جانتی ہے اس کی بغاوت کر کے انسان کہاں جاسکتا ہے۔ اس لیے اس نے پہلے نافرمانوں کا انجام بتلا کر دوسروں کو انتباہ کیا ہے کہ اے نافرمان لوگوں کیا تمہیں پہلے لوگوں کے انجام کا علم نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کئی انداز اختیار فرمائے ہیں۔ ان میں ایک انداز یہ اختیار فرمایا کہ لوگوں کو بار بار دعوت دی کہ وہ اپنے سے پہلی قوموں کے کردار اور انجام پر غور کریں تاکہ وہ برے اعمال کے برے انجام سے بچ جائیں، کبھی ارشاد فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے مجرموں کا کیا انجام ہوا۔ (آل عمران : ١٣٧) پھر ارشاد ہوا کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جن لوگوں نے اللہ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کیا۔ جب وہ ایک حد سے آگے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب نازل کیا۔ (طٰہٰ : ١٢٨) غضب کا مزید اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اپنے کیے کا مزہ چکھو اور قیامت کے دن تمہارے لیے اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ تباہ ہونے والی اقوام کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب ان کے پاس اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر ان کی بات کا انکار کیا۔ کیا ہمارے جیسا انسان ہماری راہنمائی کرے گا اور ہم اس کی تابعداری کریں ؟ اس وجہ سے انہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا اور حق بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوئے، ان کے انکار کے پیچھے تکبر اور ان کی لاپرواہی شامل تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے لاپرواہی کا اظہار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور لائقِ تعریف ہے یہاں جن قوموں کے انجام کا اشارہ کیا گیا ہے ان سے مراد وہی اقوام ہیں جن کے انجام کا قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان میں سرفہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین، قوم لوط اور آل فرعون ہیں ان میں ہر قوم نے اپنے نبی کی ذات اور بات کا یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ لہٰذا ہم تیری پیروی نہیں کریں گے۔ یہاں تک ان کے اس بہانے کا تعلق ہے کہ نبی کو بشر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے کئی جواب دیئے ہیں۔ ان میں سے تین جواب یہ ہیں : ” ان کے رسولوں نے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذ ن کے بغیر لے آئیں۔ پس لازم ہے کہ ایمان والے اللہ پر بھروسہ کریں۔ “ (ابراہیم : ١١) مسائل ١۔ لوگوں کو مجرم اقوام کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ٢۔ مجرم لوگ دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا ہوئے اور آخرت میں بھی ان کو اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ ٣۔ حقائق کا انکار کرنے والے لوگ انبیاء کے بشر ہونے پر اعتراض کرتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے کفرو شرک کوئی پرواہ نہیں وہ ہر لحاظ سے بےپرواہ اور لائقِ تعریف ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء ( علیہ السلام) بشر تھے : ١۔ انبیاء ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم تمہاری طرح بشر ہیں لیکن اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : ١١) ٢۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤) ٣۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : ١٥٤) ٤۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جس طرح تم کھاتے ہو، ویسے وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : ٣٣) ٥۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : ٤٣) ٦۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء : ٣٤) ٧۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (الکہف : ١١٠، حم السجدۃ : ٦) ٨۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : ٤٣) (الشعراء : ١٨٦) ٩۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : ١١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الم بالکم ............................ حمید (٤٦ : ٦) (٤٦ : ٥۔ ٦) ” کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لئے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے ، مگر انہوں نے کہا ” کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ “ اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا ، تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔ “ یہ خطاب تمام مشرکین کو ہے کہ اس سے قبل جن لوگوں نے تکذیب کی ان کا جو انجام ہوا ، اس پر ذرا غور کرلو۔ استفہام تو کبھی اس لئے ہوتا ہے کو اقوام سابقہ کے حالات ان مشرکین کو بتا دیئے جانے کے بعد بھی یہ کفر کرتے ہیں تو ان کا یہ رویہ قابل مذمت ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ دیکھو اور اس طرح توجہ کرو کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس کا انجام یوں بھی ہوتا ہے (یعنی مذمت اور توجہ مبذول کرانے کے لئے) یہ لوگ تو امم سابقہ کے احوال سے واقف تھے ، قصے ان کے ہاں مشہور تھے۔ مثلاً عاد ، ثمود اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں تو عرب واقف تھے۔ ان کھنڈرات پر سے وہ گزرتے تھے جب وہ شمال اور جنوب کے سفروں پر جاتے تھے۔ دنیا میں ان کا جو انجام ہوا تو ہو اور تو زبان زد عام ہے ، قرآن اس پر یہ اضافہ کرتا ہے۔ ولھم عذاب الیم (٤٦ : ٥) ” اور آگے ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے “۔ یہ آخرت کا عذاب ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

گزشتہ اقوام سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین : پانچویں اور چھٹی آیت میں مخاطبین قرآن کو گزشتہ اقوام کی بدحالی کا انجام بتایا جس میں یہ سمجھایا کہ اگر تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی برا انجام ہوگا، ارشاد فرمایا ﴿ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ﴾ (کیا تمہارے پاس ان کافروں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے) ﴿ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ﴾ (سو انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا) یہ تو دنیا میں ہوا ﴿ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ٠٠٥﴾ اور (آخرت میں) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” الم یاتکم “ یہ تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے۔ کیا تمہیں ان کافر قوموں کا حال معلوم نہیں جو تم سے پہلے گذرے ہیں انہوں نے توحید کا انکار کیا اور خدا سے بغاوت کی، تو ان کو دنیا ہی میں انواع و اقسام عذاب سے تباہ کر کے کفر و شرک اور انکار و جحود کا مزہ چکھا دیا گیا۔ اور آخرت میں بھی ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ذلک بانہ کانت تاتیہم “ دنیا اور آخرت میں وہ اس سزا کے مستحق کیوں ہوئے ؟ اس لیے کہ ان کے پاس پیغمبر دلائل و برا ہیں لے کر آئے اور ہر اسلوب وانداز سے مسئلہ توحید کو ان پر واضح کیا، مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی اور کہنے لگے کیا بشر ہمارے ہادی بن کر آئے ہیں ؟ اس لیے انہوں نے ازراہ عناد ان کا انکار کیا اور ان سے منہ موڑا، تو اللہ نے بھی ان کی کوئی پرواہ نہ کی، کیونکہ وہ تو ہر خوبی کا مالک اور بےنیاز ہے، اسے ان کے ایمان واسلام کی کوئی ضرورت نہیں۔ ” فقالوا ابشر یھدوننا “ ہر قوم کے مشرکین نے اس پر تعجب کیا ہے کہ بشر ہو اور پھر ہادی و رسول بن کر آئے۔ انکروا و تعجبوا من کون البشر رسلا من اللہ ھداۃ الیہ (مظہری ج 9 ص 312) ۔ ان کے نزدیک بشریت اور نبوت میں تضاد ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ پیغمبروں کو بشر کہنے کی وجہ سے کافر ہوگئے جیسا کہ بعض غالی قسم کے اہل بدعت بیان کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو اب سے پہلے یعنی تم سے پہلے کفر کے مرتکب ہوچکے ہیں پھر انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا اور ان کے لئے اور بھی دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے جنہوں نے کفر کیا تھا ان کی خبر تم کو نہیں پہنچی اور کیا ان کی خبر تم تک نہیں آئی کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلا دنیا میں بھی ملا۔ اور انہوں نے اپنے اعمال کے وبال کا مزہ چکھا یہ مزا چکھنا تو دنیا میں ہوا، اور آخرت میں ان کے لئے اور دردناک عذاب موجود ہے اور ان کو ابھی اور دردناک عذاب ہونے والا ہے یعنی یہاں تو جو وبال پڑا وہ تو پڑا بھی آخرت میں اور دردناک عذاب تیار ہے۔