Surat ut Tehreem

Surah: 66

Verse: 2

سورة التحريم

قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾

Allah has already ordained for you [Muslims] the dissolution of your oaths. And Allah is your protector, and He is the Knowing, the Wise.

تحقیق کہ اللہ تعالٰی نے تمہارے لئے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے وہی ( پورے ) علم والا ، حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی کفارہ ادا کرکے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورة مائد ۃ۔ 89 میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس کا یہ حکم ہے ؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہوگی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہوجائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] قسم کے کفارہ کا تفصیلی ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر ٨٩ کے تحت گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ قسم کا کفارہ ادا کرکے اس عہد اور قسم کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کرلینے سے متعلق کیا ہے۔ [٣] یعنی اللہ تمہارے تمام معاملات کا نگران اور محافظ ہے اس نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ بھی اپنے علم و حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ اور جو حرام کی ہیں وہ بھی علم و حکمت کی بنا پر ہی حرام کی ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں کسی حکم کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس کے احکام کی اطاعت کرتے جاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ قَدْ فَرَضَ اللہ ُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ :” تحلۃ “ ” حلل “ ( تفعیل) کا مصدر ” تحلیل “ اور ” تحلۃ “ دونوں آتے ہیں ، جیسے ” کرم “ کا مصدر ” تکریم “ اور ” تکرمۃ “ دونوں آتے ہیں ۔ معنی ہے حلال کرنا ، مراد قسم کا کفار ہ ہے۔ جس کے ادا کرنے کے بعد وہ چیز حلال ہوجاتی ہے جو قسم کھا کر حرام کی تھی ، یعنی آپ نے قسم کھا کر جو شہد اور ماریہ کو حرام کیا ہے ، اس قسم کا کفارہ دے دیں ۔ قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ مائدہ (٨٩) میں بیان فرمادیا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( وانی واللہ ! ان شاء اللہ لا اخلف علی یمین فازی غیرھا خیرا منھا الا کفرت عن یمینی ، واتیت الذی ھو خیر) (بخاری ، الایمان ، والنذور ، باب قول اللہ تعالیٰ : ( لا یواخذ کم اللہ ۔۔۔ ) ٦٦٢٣)” اور اللہ کی قسم ! میں ، اگر اللہ نے چاہا تو کسی بھی بات پر قسم کھاؤں گا ، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے “۔ ناجائز کام کی قسم کھالے تو اسے توڑنا اور اس کا کفارہ دینا ضروری ہے۔ ٢۔ وَ اللہ ُ مَوْلٰـکُمْ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ :” مولیٰ “ کا معنی ہے مالک، دوست ، مدد گار ۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا مالک تمہارا مدد گار اور تم پر بےحد مہربان ہے ، اسی لیے اس نے تمہیں ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہے جو تمہیں مشکل میں مبتلا کردیں اور اگر قسم کھا کر ایسی کسی مشکل میں پڑجاؤ تو اس سے نکلنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے ، کیونکہ :(یُرِیْدُ اللہ ُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُبِکُمُ الْعُسْرَ ) ( البقرہ : ١٨٥)” اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا “۔ اور وہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے ، اس لیے اس کے کسی حکم میں کوئی خطا نہیں ، کیونکہ اس کے تمام احکام کامل علم و حکمت پر مبنی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قَدْ فَرَ‌ضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ (Allah has prescribed [ the way on absolution from your oaths....66:2). This verse reminds that where it is necessary or better to break the oath, Allah has prescribed a way to absolve oneself from the liability of the oath by expiation, the details of which are given in other verses.

(آیت) قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسی صورتوں میں جہاں قسم کا توڑنا ضروری یا مستحسن ہو تمہاری قسموں سے حلال ہونے یعنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینے کا راستہ نکال دیا ہے جسکا ذکر دوسری آیات میں مفصل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَدْ فَرَضَ اللہُ لَكُمْ تَحِلَّۃَ اَيْمَانِكُمْ۝ ٠ ۚ وَاللہُ مَوْلٰىكُمْ۝ ٠ ۚ وَہُوَالْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۝ ٢ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ فرض الفَرْضُ : قطع الشیء الصّلب والتأثير فيه، کفرض الحدید، وفرض الزّند والقوس، والمِفْرَاضُ والمِفْرَضُ : ما يقطع به الحدید، وفُرْضَةُ الماء : مقسمه . قال تعالی: لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِكَ نَصِيباً مَفْرُوضاً [ النساء/ 118] ، أي : معلوما، وقیل : مقطوعا عنهم، والفَرْضُ كالإيجاب لکن الإيجاب يقال اعتبارا بوقوعه وثباته، والفرض بقطع الحکم فيه «3» . قال تعالی: سُورَةٌ أَنْزَلْناها وَفَرَضْناها[ النور/ 1] ، أي : أوجبنا العمل بها عليك، وقال : إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ [ القصص/ 85] ، أي : أوجب عليك العمل به، ومنه يقال لما ألزم الحاکم من النّفقة : فَرْضٌ. وكلّ موضع ورد ( فرض اللہ عليه) ففي الإيجاب الذي أدخله اللہ فيه، وما ورد من : ( فرض اللہ له) فهو في أن لا يحظره علی نفسه . نحو . ما کان عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ [ الأحزاب/ 38] ، وقوله : قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمانِكُمْ [ التحریم/ 2] ، وقوله : وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً [ البقرة/ 237] ، أي : سمّيتم لهنّ مهرا، وأوجبتم علی أنفسکم بذلک، وعلی هذا يقال : فَرَضَ له في العطاء، وبهذا النّظر ومن هذا الغرض قيل للعطية : فَرْضٌ ، وللدّين : فَرْضٌ ، وفَرَائِضُ اللہ تعالی: ما فرض لأربابها، ورجل فَارِضٌ وفَرْضِيٌّ: بصیر بحکم الفرائض . قال تعالی: فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَ إلى قوله : فِي الْحَجِّ «4» أي : من عيّن علی نفسه إقامة الحجّ «5» ، وإضافة فرض الحجّ إلى الإنسان دلالة أنه هو معيّن الوقت، ويقال لما أخذ في الصّدقة فرِيضَةٌ. قال : إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ إلى قوله : فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ «1» وعلی هذا ما روي (أنّ أبا بکر الصّدّيق رضي اللہ عنه كتب إلى بعض عمّاله کتابا وکتب فيه : هذه فریضة الصّدقة التي فرضها رسول اللہ صلّى اللہ عليه وسلم علی المسلمین) . والفَارِضُ : المسنّ من البقر «3» . قال تعالی: لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] ، وقیل : إنما سمّي فَارِضاً لکونه فارضا للأرض، أي : قاطعا، أو فارضا لما يحمّل من الأعمال الشاقّة، وقیل : بل لأنّ فَرِيضَةُ البقر اثنان : تبیع ومسنّة، فالتّبيع يجوز في حال دون حال، والمسنّة يصحّ بذلها في كلّ حال، فسمّيت المسنّة فَارِضَةً لذلک، فعلی هذا يكون الفَارِضُ اسما إسلاميّا . ( ف ر ض ) الفرض ( ض ) کے معنی سخت چیز کو کاٹنے اور اس میں نشان ڈالنے کے ہیں مثلا فرض الحدید لوہے کو کاٹنا فرض القوس کمان کا چلہ فرض الزند چقماق کا ٹکڑا اور فر ضۃ الماء کے معنی در یا کا دہانہ کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِكَ نَصِيباً مَفْرُوضاً [ النساء/ 118] میں تیرے بندوں سے ( غیر خدا کی نذر ( لو ا کر مال کا یاک مقرر حصہ لے لیا کروں گا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں مفروض کے معنی معین کے ہیں اور بعض نے کاٹ کر الگ کیا ہوا مراد لیا ہے ۔ اور فرض بمعنی ایجاب ( واجب کرنا ) آتا ہے مگر واجب کے معنی کسی چیز کے لحاظ وقوع اور ثبات کے قطعی ہونے کے ہیں اور فرض کے معنی بلحاظ حکم کے قطعی ہونے کے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سُورَةٌ أَنْزَلْناها وَفَرَضْناها[ النور/ 1] یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس ( کے احکام ) کو فرض کردیا ۔ یعنی اس پر عمل کرنا فرض کردیا ۔ نیز فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ [ القصص/ 85] ( اے پیغمبر ) جس نے تم پر قرآن ( کے احکام ) کو فرض کیا ہے ۔۔۔۔ یعنی اس پر عمل کرنا تجھ پر واجب کیا ہے اور اسی سے جو نفقہ وغیرہ حاکم کسی کے لئے مقرر کردیتا ہے اسے بھی فرض کہا جاتا ہے اور ہر وہ مقام جہاں قرآن میں فرض علٰی ( علی ) کے ساتھ ) آیا ہے ۔ اس کے معنی کسی چیز کے واجب اور ضروری قرا ردینے کے ہیں اور جہاں ۔ فرض اللہ لہ لام کے ساتھ ) آیا ہے تو اس کے معنی کسی چیز سے بندش کود ور کرنے اور اسے مباح کردینے کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما کان عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ [ الأحزاب/ 38] پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا ۔ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمانِكُمْ [ التحریم/ 2] خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ۔ اور آیت کریمہ : وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً [ البقرة/ 237] لیکن مہر مقررکر چکے ہو ۔ کے معنی یہ ہیں چونکہ تم ان کے لئے مہر مقرر اور اپنے اوپر لازم کرچکے ہو اور یہی معنی فرض لہ فی العطاء کے ہیں ( یعنی کسی کے لئے عطا سے حصہ مقرر کردینا ) اسی بنا پر عطیہ اور قرض کو بھی فرض کہا جاتا ہے اور فرئض اللہ سے مراد وہ احکام ہیں جن کے متعلق قطعی حکم دیا گیا ہے اور جو شخص علم فرائض کا ماہر ہوا سے فارض و فرضی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَإلى قوله : فِي الْحَجِّ تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے تو حج ( کے کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہو اور اس کی پختہ نیت کرلی ہو یہاں پر فرض کی نسبت انسان کی طرف کرنے میں اس بات پر دلیل ہے کہ اس کا وقت مقرر کرنا انسان کا کام ہے ( کہ میں امسال حج کرونگا یا آئندہ سال اور زکوۃ میں جو چیز وصول کی جاتی ہے اس پر بھی فریضہ کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ إلى قوله : فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ صدقات ( یعنی زکوۃ نہ خیرات ) تو مفلسوں ۔۔۔۔ کا حق ہے ( یہ ) خدا کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں ۔ اسی بنا پر مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے ایک عامل کیطرف خط لکھا اور اس میں ارقام فرمایا کہ یہ یعنی جو مقادیرلکھی جاری ہی میں فریضہ زکوۃ ہے ۔ جو رسول اللہ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے ۔ الفارض عمر رسیدہ گائے یا بیل ۔ قرآن میں ہے : ۔ لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] نہ بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا ۔ بعض نے کہا کہ بیل کو فارض اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ تا یعنی جو تنا ہے اور یا اس لئے کہ اس پر سختکاموں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور یا اس لئے کہ گائے کی زکوۃ میں تبیع اور مسنۃ لیا جاتا ہے اور تبیع کا لینا تو بعض حالتوں میں جائز ہوتا ہے اور بعض احوال میں ناجائز لیکن مسنۃ کی ادائیگی ہر حال میں ضروری ہوتی ہے اس لئے مسنۃ کو فارضۃ کہا گیا ہے اس توجیہ کی بناپر فارض کا لفظ مصطلحات اسلامیہ سے ہوگا ۔ حلَ أصل الحَلّ : حلّ العقدة، ومنه قوله عزّ وجلّ : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] ، وحَللْتُ : نزلت، أصله من حلّ الأحمال عند النزول، ثم جرّد استعماله للنزول، فقیل : حَلَّ حُلُولًا، وأَحَلَّهُ غيره، قال عزّ وجلّ : أَوْ تَحُلُّ قَرِيباً مِنْ دارِهِمْ [ الرعد/ 31] ، ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ کھول دے ۔ میں یہی معنی مراد ہیں اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنا اور فردکش ہونا بھی آتے ہیں ۔ اصل میں یہ سے ہے جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان کی رسیوں کی گر ہیں کھول دینا کے ہیں پھر محض اترنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ لہذا کے معنی کسی جگہ پر اترنا ہیں اور احلۃ کے معنی اتارنے کے قرآن میں ہے : ۔ أَوْ تَحُلُّ قَرِيباً مِنْ دارِهِمْ [ الرعد/ 31] یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی يَمِينُ ) قسم) في الحلف مستعار من الید اعتبارا بما يفعله المعاهد والمحالف وغیره . قال تعالی: أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] ، وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] ، وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] ، إِنَّهُمْ لا أَيْمانَ لَهُمْ [ التوبة/ 12] وقولهم : يَمِينُ اللهِ ، فإضافته إليه عزّ وجلّ هو إذا کان الحلف به . ومولی اليَمِينِ : هو من بينک وبینه معاهدة، وقولهم : ملك يَمِينِي أنفذ وأبلغ من قولهم : في يدي، ولهذا قال تعالی: مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] وقوله صلّى اللہ عليه وسلم آله : «الحجر الأسود يَمِينُ اللهِ» «1» أي : به يتوصّل إلى السّعادة المقرّبة إليه . ومن اليَمِينِ : تُنُووِلَ اليُمْنُ ، يقال : هو مَيْمُونُ النّقيبة . أي : مبارک، والمَيْمَنَةُ : ناحيةُ اليَمِينِ. الیمین بمعنی دایاں ہاتھ سے استعارہ کے طور پر لفظ یمین قسم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب قسم کھاتے یا عہد کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کے دائیں ہاتھ پر مارتے تھے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن چلی جائیں گی ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا ۔ وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] اگر عہد کرن کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اور عربی محاورہ ویمین اللہ ( اللہ کی قسم ) میں) یمین کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی جاتی ہے ۔ کہ قسم کھانے والا اللہ کے نام کی قسم کھاتا ہے ۔ اور جب ایک شخص دوسرے سے عہدو پیمان باندھتا ہے تو وہ اس کا موالی الیمین کہلاتا ہے اور کسی چیز پر ملک اور قبضہ ظاہر کرنے کے لئے فی یدی کی نسبت ملک یمینی کا محاورہ زیادہ بلیغ ہے ۔ اسی بنا پر غلام اور لونڈیوں کے بارے میں قرآن نے اس محاورہ کی اختیار کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں ۔ اور حدیث میں حجر اسود کی یمین اللہ کہا گیا ہے (132) کیونکہ اس کے ذریعہ قرب الہی کی سعادت حاصل کی جاتی ہے ۔ یمین سے یمن کا لفظ ماخوذ ہے جو خیروبرکت کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ ھومیمون ۔ النقیبۃ وہ سعادت مند ہے اور میمنۃ کے معنی دائیں جانب بھی آتے ہیں ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی قسموں کا کفارہ بیان کردیا ہے۔ چناچہ حضور اکرم نے اپنی اس قسم کا کفارہ ادا کیا اور ماریہ قبطیہ کے ساتھ تعلق کو باقی رکھا وہ تمہارا محافظ و مددگار ہے اور وہ ان واقعات سے واقف اور حکمت والا ہے کہ کفارہ کا حکم دیا۔ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) اور امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم اپنی باندی حضرت ماریہ کے پاس حضرت حفصہ کے گھر میں تشریف لے گئے، حضرت حفصہ آئیں تو حضور کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا اس پر حضرت حفصہ رنجیدہ ہوئیں اس پر آپ نے فرمایا اے حفصہ اگر میں ان (ماریہ قبطیہ) کو ہاتھ لگاؤں تو یہ مجھ پر حرام ہیں اور اس بات کو تم راز رکھنا، حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس آئی اور ان کو اس سے مطلع کردیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور بزاز نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت آپ کی باندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے راویت کیا ہے کہ رسول اکرم حضرت سودہ کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ چناچہ آپ وہاں سے حضرت عائشہ کے پاس گئے تو حضرت عائشہ بولیں کہ میں آپ کے منہ سے بو پاتی ہوں، پھر آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بھی یہی فرمایا اس پر آپ بولے یہ لو میں اس شہد کی محسوس کرتا ہوں جو میں نے سودہ کے پاس پیا ہے اللہ کی قسم میں اس کو نہیں پیوں گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) اور امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم اپنی باندی حضرت ماریہ کے پاس حضرت حفصہ کے گھر میں تشریف لے گئے، حضرت حفصہ آئیں تو حضور کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا اس پر حضرت حفصہ رنجیدہ ہوئیں اس پر آپ نے فرمایا اے حفصہ اگر میں ان (ماریہ قبطیہ ( کو ہاتھ لگاؤں تو یہ مجھ پر حرام ہیں اور اس بات کو تم راز رکھنا، حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس آئی اور ان کو اس سے مطلع کردیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور بزاز نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت آپ کی باندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم حضرت سودہ کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ چناچہ آپ وہاں سے حضرت عائشہ کے پاس گئے تو حضرت عائشہ بولیں کہ میں آپ کے منہ سے بو پاتی ہوں پھر آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بھی یہی فرمایا اس پر آپ بولے یہ لو میں اس شہد کی محسوس کرتا ہوں جو میں نے سودہ کے پاس پیا ہے اللہ کی قسم میں اس کو نہیں پیوں گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ممکن ہے کہ یہ آیت دونوں واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور ابن سعد نے عبداللہ بن رافع سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے آیت یا ایھا النبی لم تحرم (الخ) کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ایک سفید شہد کی کپی تھی۔ رسول اکرم اس میں سے چاٹ لیا کرتے تھے اور وہ آپ کو اچھا معلوم ہوتا تھا تو آپ سے حضرت عائشہ نے فرامیا مکھی نے گوند پر بیٹھ کر اس کا عرق چوس لیا ہے۔ چناچہ آپ نے اپنے اوپر حرام کردیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حارث بن اسامہ نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے قسم کھائی کہ مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) آپ کی اس زوجہ مطہرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے آپ کو ہبہ کردیا تھا باقی یہ روایت بھی غریب اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَــکُمْ تَحِلَّۃَ اَیـْمَانِکُمْ } ” اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ “ یعنی کفارہ دے کر قسموں کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ سورة المائدۃ کی اس آیت میں بتایا گیا ہے : { لاَ یُـؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّـغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّـؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّـمُ الْاَیْمَانَج فَـکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍط فَمَنْ لَّـمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَاحْفَظُوْٓا اَیْمَانَـکُمْط کَذٰلِکَ یُـبَـیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰتِہٖ لَـعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ } ” اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری ان قسموں میں جو لغو ہوتی ہیں لیکن وہ (ضرور) مواخذہ کرے گا تم سے ان قسموں پر جن کو تم نے پختہ کیا ہے ‘ سو اس کا کفارہ ہے کھانا کھلانا دس مساکین کو ‘ اوسط درجے کا کھانا جیسا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ‘ یا ان کو کپڑے پہنانا ‘ یا کسی غلام کو آزاد کرنا۔ پھر جو کوئی اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب تم قسم کھا (کرتوڑ) بیٹھو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح فرما رہا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ “ گویا آپ اپنی یہ قسم توڑ دیجیے اور اس ضمن میں کفارہ ادا کیجیے۔ بعض مترجمین نے یہاں ” قَدْ فَرَضَ “ کا ترجمہ ” فرض کردیا ہے “ بھی کیا ہے اور اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ خلافِ شرع قسم کا توڑنا فرض ہے۔ { وَاللّٰـہُ مَوْلٰٹکُمْ وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” اور اللہ تمہارا مددگار ہے ‘ اور وہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 It means: "Act according to the method AIIah has prescribed for absolution from oaths by cxpiation in AI-Ma'idah :89 and break your promise that you have trade to forbid yourself a lawful thing. " Here, an important legal question arises and it is this: Is this Command applicable to the case when a person has forbiddcn himsclf a lawful thing on oath, or is forbidding oncsclf a lawful thing by itsclf tantamount to swearing an oath, whether the words of the oath have been used or not'? The jurists in this regard have expressed different opinions: One section of them says that mere forbidding oncsclf a lawful thing is not an oath. If a person without swearing an oath has forbiddcn himself a wife, or some other lawful thing, it is an absurd thing which does not entail any expiation, but he can resume without any expiation the use of the thing that he had forbidden himself. This is the opinion of Masruq, Sha'bi, Rabi'ah and Abu Salamah; and the same view is held by Ibn Jarir and all the Zahiris. According to them forbidding oneself something would be an oath only in case express words of oath are used when forbidding it for oneself. In this regard, their reasoning is that since the Holy Prophet (upon whom be peace) while forbidding himself a lawful thing had also sworn an oath, as has been reported in several traditions, AIIah told him to act according to the method that had been appointed for absolving oneself from oaths. The second group says that to forbid oncsclf something without using the words of oath is not an oath by itself, but the case of the wife is an exception. If a person has . forbiddcn himself a garment, or an article of food, it is meaningless, and one can use it without expiation. But if concerning a wifc or a slave-girl he has said: "I forbid myself an intercourse with her," she would not become unlawfirl and forbiddcn, but one would have to expiate the oath before going in to her. This is the opinion of the Shafe'is. (Mugni al-Muhtaj) . And a similar opinion on this question is held by the Malikis. (Ibn al-'Arabi, Ahkam al-Qur an) . The third group says that to forbid oneself something is by itsclf an oath even if the words of oath have not been used. This is the opinion of Hadrat Abu Bakr. Hadrat 'A'ishah, Hadrat 'Umar, Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, Hadrat Zaid bin Thabit and Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas (may Allah bless them aII) . Although from Ibn 'Abbas another opinion has been reported in Bukhari to the effect: "If a tnan has forbidden himsclf his wifc, it is meaningless," yet it has been interpreted to mean that according to him this is not divorce but an oath which entails an expiation. For in Bukhari, Muslim and Ibn Majah, another saying of Ibn 'Abbas has been reported that to forbid oneself one's wife entails an expiation, and in Nasa'i the tradition is to the effect that when Ibn 'Abbas was asked his opinion on this, he said: "She is not forbidden to you, but you must pay the expiation." and in Ibn Jarir's tradition the words of Ibn 'Abbas are to the effect: "If the people forbid themselves what Allah has made lawful for them, they must expiate their oath." This same is the opinion of Hasan Basri, 'Ata, Ta'us. Suleman bin Yasar. Ibn Jubair and Qatadah, and the same has been adopted by the Hanafis. Imam Abu Bakr al-Jassas says: `The words of the verse lima tuharrimu do not indicate that the Holy Prophet (upon whom be peace) along with forbidding himself the lawful thing had also sworn an oath, therefore, one will have to admit that tahrim (to forbid oneself something) itself is an oath; for after it Allah made obligatory the expiation of the oath in connection with the prohibition." Farther on he writes again: 'Our companions (i.e. the Hanafis) regard tahrim as an oath in case it is not accompanied by the intention of divorce. If a person forbade himself his wife, he in fact said: "By God, I will not come near you," thus, he committed ila' (act of temporary separation! . And if he forbade himself an article of food. etc, he in a wav said: "By God, I will not use that article." For Allah first said: "Why do you forbid that which AIIah has made lawful?" and then said. "AIIah has appointed a way to absolve you from your oaths." Thus, Allah has regarded tahrim as an oath, and the word tahrim in its meaning and legal effect becomes synonymous with an oath." Here, for the benefit of the common man, it would be useful to tell what is the legal command according to the jurists in respect of forbidding oneself one's wife and forbidding oneself other things besides the wife. The Hanafis say that if without the intention of divorce somebody forbade himself his wife, or swore an oath that he would not have conjugal relations with her, this would be ila (temporary separation) , and in this cast he would have to expiate his oath before having the sexual relation . But if wit h the intention Of divorce he said: "You are unlawful to me," it will have to be ascertained what was his actual intention. If his intention was of three divorces, the three divorces will take place, and if the intention was of a lesser number, of one or two divorces, only one divorce will take place in either case. And if some body says: "I have forbidden myself whatever was lawful for me, this would not apply to the wife unless he said these words with the intention of forbidding himself the wife. Apart from the wife, one cannot use the thing O11e has forbidden oneself until one has expiated the oath. Badai as-Sana'i: Hedayah; Fath Al-Qadir,' al-Jassas, Ahkam al-Qur an. The Shafe'is say that if one forbids oneself the wife with the intention of divorce or zihar, the intended thing would become effective, whether it is a revocable divorce or an irrevocable divorce, or zihar. And if a person used the words of tahrim with the intention of both divorce and zihar, he would be asked to choose one, or the other, for both divorce and zihar cannot be established at one and the same time. Divorce dissolves marriage but in case of zihar it continues and if without any intention the wife is forbidden, she would not become forbidden, but expiation of the oath would become necessary. And if another thing, apart from the wife, is forbidden, it would be meaningless; there is no expiation for it. (Mughni al-Muhtaj) . The Malikis say that if a person forbids himself anything other than the wife, it neither becomes forbidden nor entails an expiation. But if he says to the wife, "You are unlawful, or unlawfirl for me, or I am unlawful for you," this would amount to a triple divorce in any case whether this was said to a wife with whom marriage has been consummated, or to one with whom it has not yet been consummated, unless his intention was of less than three divorces. Asbagh says: 'If a person says: whatever was lawful for me, is unlawful, the wife also becomes forbidden unless he makes an exception of the wife." In al-Mudawwanah, distinction has been made between the wife with whom marriage has been consummated and the wife with whom it has not been consummated. If one forbids oneself the former, a threefold divorce will take place irrespective of the intention, but in case of the latter the same number of divorces would take effect as was intended, and if there was no intention of any particular number, it would be considered a triple divorce (Hashiyah ad-Dusuqi) . Qadi Ibn al-'Arabi in his Ahkam al-Qur'an has cited three statements of Imam Malik: (1) That forbidding oneself the wife amounts to an irrevocable divorce; (2) that it amounts to three divorces; and (3) that in case of the wife with whom marriage has been consummated it amounts to three divorces, bat in case of the one with whom it has not been consummated, to only one divorce if one was intended Then he says: 'The correct thing is that forbidding oneself the wife amounts to one divorce only. for if the man uses the word divorce instead of calling her unlawfirl without specifying the number, only one divorce will take place." Three different views in this regard have been reported from Imam Ahmad bin Hanbal: (1) That to forbid oneself the wife, or to make a lawful thing absolutely unlawful for oneself, is zihar, whether zihar was intended or not; (2) that this is an express allusion to divorce, and it amounts to pronouncing a triple divorce whether only one divorce was intended; and (3) that it is an oath, unless The man had the intention of divorce or zihar and in this case the same would take effect as was intended. Of these only the first one is the best known view among the Hanbalis. (Al-Insaf) 5 That is, "Allah is your Master and Guardian of your affairs. He knows best in what lies your own good, and whatever Commands He has given, they are aII based on wisdom. "The first thing means: "You are not independent in this world, but you are servant of Allah and He is your Master; therefore, none of you possesses any power to alter or change the ways and methods prescribed by Him; the best thing for you is to entrust your affairs to Him and continue to obey Him. " The second thing means that all the methods and laws that AIIah has enjoined, are based on knowledge and wisdom, Whatever He has made lawful, has been made lawful on the basis of knowledge and wisdom and whatever He has made unlawful also has been made unlawful on the basis of knowledge and wisdom. Nothing has been made lawful or unlawful at random. Therefore, those who believe in AIIah should understand that it is Allah Who is AII-Knowing and All-Wist and not they. and their well-being lies only in carrying out duly the Commands given by Him.

سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :4 مطلب یہ ہے کہ کفارہ دے کر قسموں کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ اللہ تعالی نے سورۃ مائدہ ، آیت 89 میں مقرر دیا ہے اس کے مطابق عمل کر کے آپ اس عہد کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لیے کیا ہے ۔ یہاں ایک اہم فقہی سوال پیدا ہوتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ حکم اس صورت کے لیے ہے جبکہ آدمی نے قسم کھا کر حلال کو حرام کر لیا ہو ، یا بجائے خود تحریم ہی قسم کی ہم معنی ہے خواہ قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں؟ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ محض تحریم قسم نہیں ہے ۔ اگر آدمی نے کسی چیز کو ، خواہ وہ بیوی ہو یا کوئی دوسری حلال چیز ، قسم کھائے بغیر اپنے اوپر حرام کیا ہو تو یہ ایک لغو بات ہے جس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا ، بلکہ آدمی کفارے کے بغیر ہی وہ چیز استعمال کر سکتا ہے جسے اس نے حرام کیا ہے ۔ یہ رائے مسروق ، شعبی ، ربیعہ اور ابو سلمہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر اور تمام ظاہریوں نے اختیار کیا ہے ۔ ان کے نزدیک تحریم صرف اس صورت میں قسم ہے جبکہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے ہوئے قسم کے الفاظ استعمال کیے جائیں ۔ اس سلسلے میں ان کا استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ حلال چیز کو اپنے لیے حرام کرنے کے ساتھ قسم بھی کھائی تھی ، جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے ، اس لیے اللہ تعالی نے حضور سے فرمایا کہ ہم نے قسموں کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ مقرر کر دیا ہے اس پر آپ عمل کریں ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ قسم کے الفاظ استعمال کیے بغیر کسی چیز کو حرام کر لینا بجائے خود قسم تو نہیں ہے ، مگر بیوی کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے ۔ دوسری اشیاء مثلا کسی کپڑے یا کھانے کو آدمی نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہو تو یہ لغو ہے ، کوئی کفارہ دیے بغیر آدمی اس کو استعمال کر سکتا ہے ۔ لیکن اگر بیوی یا لونڈی کے لیے اس نے کہا ہوکہ اس سے مباشرت میرے اوپر حرام ہے ، تو وہ حرام نہ ہو گی ، مگر اس کے پاس جانے سے پہلے کفارہ یمین لازم آئے گا ۔ یہ رائے شافعیہ کی ہے ( معنی المحتاج ) ۔ اور اسی سے ملتی جلتی رائے مالکیہ کی بھی ہے ( احکام القرآن لابن العربی ) تیسرا گروہ کہتا ہے کہ تحریم بجائے خود قسم ہے خواہ قسم کے الفاظ استعمال نہ کیے گئے ہوں ۔ یہ رائے حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عائشہ ، حضرت عمر ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضر زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی ہے ۔ اگرچہ ابن عباس سے ایک دوسری رائے بخاری میں یہ نقل ہوئی ہے کہ اذا حرم امراتہ فلیس بشیء ( اگر آدمی نے اپنی بیوی کو حرام کیا ہو تو یہ کچھ نہیں ہے ) ، مگر اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ ان کے نزدیک یہ طلاق نہیں بلکہ کفارہ ہے ، کیونکہ بخاری ، مسلم ، اور ابن ماجہ میں ابن عباس کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ حرام قرار دینے کی صورت میں کفارہ ہے اور نسائی میں روایت ہے کہ ابن عباس سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا وہ تیرے اوپر حرام تو نہیں ہے مگر تجھ پر کفارہ لازم ہے اور ابن جریر کی روایت میں ابن عباس کے الفاظ یہ ہیں: اگر لوگوں نے اپنے اوپر کسی چیز کو حرام کیا ہو جسےاللہ نے حلال کیا تو ان پر لازم ہے کہ اپنی قسموں کا کفارہ اداکریں ۔ یہی رائے حسن بصری ، عطاء ، طاؤس ، سلیمان بن یسار ، ابن جبیر اور قتادہ کی ہے ، اور اسی رائے کو حنفیہ نے اختیار کیا ہے ۔ امام ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت لم تحرم ما احل اللہ لک کے ظاہر الفاظ اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریم کے ساتھ ساتھ قسم بھی کھائی تھی ، اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ تحریم ہی قسم ، کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالی نے اسی تحریم کے معاملہ میں قسم کا کفارہ واجب فرمایا ۔ آگے چل کر پھر کہتے ہیں ہمارے اصحاب ( یعنی حنفیہ ) نے تحریم کو اس صورت میں قسم قرار دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ طلاق کی نیت نہ ہو ۔ اگر کسی شخص نے بیوی کو حرام کہا تو گویا اس نے یہ کہا کہ خدا کی قسم میں تیرے قریب نہیں آؤں گا ، اس لیے وہ ایلاء کا مرتکب ہوا ۔ اور اگر اس نے کسی کھانے پینے کی چیز وغیرہ کو اپنے لیے حرام قرار دیا تو گویا اس نے یہ کہا کہ خدا کی قسم میں وہ چیز استعمال نہ کروں گا ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے پہلے یہ فرمایا کہ آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے ، اور پھر فرمایا کہ اللہ نے تم لوگوں کے لیے قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالی نے تحریم کو قسم قرار دیا اور تحریم کا لفظ اپنے مفہوم اور حکم شرعی میں قسم کا ہم معنی ہو گیا ۔ اس مقام پر فائدہ عام کے لیے یہ بتا دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے ، اور بیوی کے سوا دوسری چیزوں کو حرام کر لینے کے معاملہ میں فقہاء کے نزدیک شرعی حکم کیا ہے ۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر طلاق کی نیت کے بغیر کسی شخص نے بیوی کو اپنے لیے حرام کیا ہو ، یا قسم کھائی ہو کہ اس سے مقاربت نہ کرے گا ، تو یہ ایلاء ہے اور اس صورت میں مقاربت سے پہلے اسے قسم کا کفارہ دیناہوگا لیکن اگر اس نے طلاق کی نیت سے کہا ہو تو میرے اوپر حرام ہے تو معلوم کیا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی ۔ اگر تین طلاق کی نیت تھی تو تین واقع ہوں گی اور اگر اس سے کم کی نیت تھی ، خواہ ایک کی نیت ہو یا دو کی ، تو دونوں صورتوں میں ایک ہی طلاق وارد ہو گی ۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ جو کچھ میرے لیے حلال تھا وہ حرام ہو گیا ، تو اس کا اطلاق بیوی پر اس وقت تک ہو گا جب تک اس نے بیوی کو حرام کرنے کی نیت سے یہ الفاظ نہ کہے ہوں ۔ بیوی کے سوا دوسری کسی چیز کو حرام کرنے کی صورت میں آدمی اس وقت تک وہ چیز استعمال نہیں کر سکتا جب تک قسم کا کفارہ ادا نہ کر دے ( بدائع الصنائع ، ہدایہ ، فتح القدیر ، احکام القرآن للجصاص ) ۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ بیوی کو اگر طلاق یا ظہار کی نیت سے حرام کیا جائے تو جس چیز کی نیت ہو گی وہ واقع ہوجائے گی ۔ رجعی طلاق کی نیت ہو تو رجعی ، بائن کی نیت ہو تو بائن ، اور ظہار کی نیت ہو تو ظہار ۔ اور اگر کسی نے طلاق و ظہار دونوں کی نیت سے تحریم کے الفاظ استعمال کیے ہوں تو اس سے کہا جائے گا کہ دونوں میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کر لے ۔ کیونکہ طلاق و ظہار ، دونوں بیک وقت ثابت نہیں ہو سکتے ۔ طلاق سے نکاح زائل ہوتا ہے ، اور ظہار کی صورت میں وہ باقی رہتا ہے ۔ اور اگر کسی نیت کے بغیر مطلقاً بیوی کو حرام قرار دیا گیا ہو تو وہ حرام نہ ہو گی مگر قسم کا کفارہ لازم آئے گا اور اگر بیوی کے سوا کسی اور چیز کو حرام قرار دیا ہو تو یہ لغو ہے ، اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ( مغنی المحتاج ) ۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ بیوی کے سوا دوسری کسی چیز کو آدمی اپنے اوپر حرام کرے تو نہ وہ حرام ہوتی ہے اور نہ ا سے استعمال کرنے سے پہلے کوئی کفارہ لازم آتا ہے ۔ لیکن اگر بیوی کو کہہ دے کہ تو حرام ہے ، یا میرے لیے حرام ہے ، یا میں تیرے لیے حرام ہوں ، تو خواہ مدخولہ سے یہ بات کہے یا غیر مدخولہ سے ، ہر صورت میں یہ طلاق ہیں ، الایہ کہ اس نے تین سے کم کی نیت کی ہو ۔ اصبغ کا قول ہے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ جو کچھ مجھ پر حلال تھا وہ حرام ہے توجب تک وہ بیوی کو مستثنیٰ نہ کرے ، اس سے بیوی کی تحریم بھی لازم آ جائے گی ۔ المدونہ میں مدخولہ اور غیر مدخولہ کے درمیان فرق کیا گیا ہے ۔ مدخولہ کو حرام کہہ دینے سےتین ہی طلاقیں پڑیں گی ، اور کسی خاص تعداد کی نیت نہ ہو تو پھر یہ تین طلاقیں ہوں گی ( حاشیۃ الدسوقی ) ۔ قاضی ابن العربی نے احکام القرآن میں اس مسئلے کے متعلق امام مالک کے تین قول نقل کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ بیوی کی تحریم ایک طلاق بائن ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ تین طلاق ہیں ۔ تیسرا یہ کہ مدخولہ کے معاملہ میں تو یہ بہرحال تین طلاقیں ہیں البتہ غیر مدخولہ کے معاملہ میں ایک کی نیت ہو تو ایک ہی طلاق پڑے گی ۔ پھر کہتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ بیوی کی تحریم ایک ہی طلاق ہے کیونکہ اگر آدمی حرام کہنے کے بجائے طلاق کا لفظ استعمال کرے اور کسی تعداد کا تعین نہ کرے تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی ۔ امام احمد بن حنبل سے اس مسئلے میں تین مختلف اقوال منقول ہوئے ہیں ۔ ایک یہ کہ بیوی کی تحریم ، یا حلال کو مطلقاً اپنے لیے حرام قرار دینا ظہار ہے خواہ ظہار کی نیت ہو یا نہ ہو ۔ دوسرا یہ کہ صریح کنایہ ہے اور اس سےتین طلاق واقع ہو جاتی ہیں خواہ نیت ایک ہی کی ہو ۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ قسم ہے ، الا یہ کہ آدمی نے طلاق یا ظہار میں سے کسی کی نیت کی ہو ، اور اس صورت میں جو نیت بھی کی گئی ہو وہی واقع ہو گی ۔ ان میں سے پہلا قول ہی مذہب حنبلی میں مشہور ترین ہے ( الانصاف ) ۔ سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :5 یعنی اللہ تمہارا آقا اور تمہارے معاملات کامتولی ہے ۔ وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ تمہاری بھلائی کس چیز میں ہے اور جو احکام بھی اس نے دیے ہیں سراسر حکمت کی بنا پر دیے ہیں ۔ پہلی بات ارشاد فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ تم خود مختار نہیں ہو بلکہ اللہ کے بندے ہو اور وہ تمہارا آقا ہے ، اس لیے اس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں میں رد و بدل کرنے کا اختیار تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے ۔ تمہارے لیے حق یہی ہے کہ اپنے معاملات اس کے حوالے کر کے بس اس کی اطاعت کرتے رہو ۔ دوسری بات ارشاد فرمانے سے یہ حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ نے جو طریقے اور قوانین مقرر کیے ہیں وہ سب علم و حکمت پر مبنی ہیں ۔ جس چیز کو حلال کیا ہے علم حکمت کی بنا پرحلال کیا ہے اور جسے حرام قرار دیا ہے اسے بھی علم و حکمت کی بنا پر حرام قرار دیا ہے ۔ یہ کوئی الل ٹپ کام نہیں ہے کہ جسے چاہا حلال کر دیا اور جسے چاہا حرام ٹھرا دیا ۔ لہذاجو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ علیم و حکیم ہم نہیں ہیں بلکہ اللہ ہے اور ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اس کے دیے ہوئے احکام کی پیروی کریں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے شہد نہ پینے کی جو قسم کھالی تھی، اس پر اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ آپ وہ قسم توڑدیں، اور کفارہ ادا کردیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی نامناسب قسم کھالے تو اُسے قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینا چاہئیے۔ کفارہ وہی ہے جو سور مائدہ (۵:۸۹) میں بیان فرمایا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(66:2) قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے قسموں کا کھول دینا بھی فرض کردیا ہے۔ (ترجمہ حقانی) قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کی طرف قریب کردیتا ہے۔ فرض لکم تم پر فرض کردیا ہے۔ فرض کرنا عموما علی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے نہ کہ لام کے ساتھ ۔ اس کی تشریح علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ یوں کرتے ہیں :۔ لام انتقاع کے لئے آتا ہے (اور علی ضرر کے لئے) اور اس جگہ نفع کا مفہوم مقصود ہے کیونکہ کفارہ واجب کرنے سے یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ خود ساختہ تحریم حلت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور قسم شکنی کا گناہ دور ہوجاتا ہے۔ کفارہ وہی ہے جس کا ذکر سورة مائدہ میں کردیا گیا ہے۔ سورة مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ما تطعمو اہلیکم او کسوتھم او تحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم واحفظوا ایمانکم (5:89) ۔ ” خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کروگے) مؤاخذہ کرے گا۔ تو اس کا کافرہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا۔ یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑدو) اور تم کو چاہیے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو “۔ تحلۃ مصدر ہے حلل کا۔ یہاں فرض لکم کے بطور مفعول مستعمل ہے لہٰذا منصوب ہے۔ تحلۃ کا وزن تفعلۃ ہے جو باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے جیسے کرم سے تکریم وتکرمۃ اور کمل سے تکمیل و تکملۃ دونوں وزن آتے ہیں۔ یہ بھی حلل تحلیل کا دوسرا مصدر ہے بمعنی گرہ کھولنا۔ کھول ڈالنا۔ حلال کرنا۔ جملہ قد فرض اللہ ۔۔ ایمانکم کا مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ نے تم لوگوں کی قسموں کی گرہ کشائی کا کفارہ بیان کردیا ہے جس کو ادا کرکے گرہ کشائی فرض کردی گئی ہے ۔ پس قسم کھا کر جو گرہ تم نے ڈال لی تھی اس کو کھولنے کا طریقہ یہ ہے کہ کفارہ ادا کرو اور پابندی سے آزادی حاصل کرو۔ ایمانکم : مضاف مضاف الیہ مل کر تحلۃ (مضاف) کا مضاف الیہ۔ اپنی قسموں کی گرہ کشائی ۔ واللہ مولکم اللہ تمہارا رفیق و کارساز ہے۔ ولی یلی ولی (باب حسب یحسب) سے اسم فاعل کا صیغہ وال، ولی ہے۔ الولی والولاء والتوالی کے اصل معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو کہ ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے خواہ وہ قرب بلحاظ مکان یا نسب یا بلحاظ دین ۔ دوستی یا نصرت کے ہو یا بلحاظ اعتقاد کے۔ الولی والمولی دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں۔ ولی (جمع اولیائ) کے معنی محبت کرنے والا دوست۔ مددگار۔ کارساز، حلیف، تابع، کام کا منتظر وغیرہ ہیں۔ اسم فاعل کے معنی کے استعمال کی صورت میں کہیں گے اللہ ولیک اللہ تیرا حافظ و نگران ہے اور اسم مفعول کی صورت میں کہیں گے المؤمن ولی اللہ مومن اللہ کا فرمانبردار ہے۔ یا جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ واللہ ولی المؤمنین (3:68) اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے۔ اور اسم مفعول کی صورت میں فان اللہ ھو مولہ (66:4) اور اگر پیغمبر (کی ایذائ) پر باہم اعانت کروگے تو خدا ان کا حامی اور دوست دار ہے۔ وھو العلیم الحکیم : اور وہ دانا اور حکیم ہے۔ العلیم : علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اسماء الٰہی میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال اکثر اللہ تعالیٰ کی صفت ہی میں ہوا ہے۔ الحکیم : حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے حکمۃ مصدر۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر فرماتے ہیں :۔ اللہ تعالیٰ تمہارا رفیق و کارساز ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں تمہیں دقت اور تنگی پیش آئیگی اور ہمیشہ کے لئے ایک مباح چیز امت میں حرام سمجھی جائے گی۔ اور یہ اصول شریعت محمدیہ کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ حکیم وعلیم ہے کسی چیز کو ممنوع اور حرام قرار دینا اس کے عواقب امور پر نظر کرکے اسی کا کام ہے پھر جس کو وہ حرام نہ بنائے تم بھی حرام نہ بناؤ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

“7 یعنی اگر نامناسب چیز ہر قسم کھالو، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا کافرہ مقرر کردیا۔ ( سورة مائدہ :89) تم اسے ادا کر کے اپنی قسم توڑ سکتے ہو۔ چناچہ حضرت عمر (یا حضرت ابن عباس) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفارہ ادا کیا اور ماریہ سے تعلق قائم رکھا۔ (ابن کثیر بحوالہ نسائی) بعض لوگ (جیسے احناف) کہتے ہیں کہ محض کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینا قسم ہے۔ لیکن آیت سے اس کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب کیا اور پھر فرمایا :” قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ اور اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں جو واقعات روایات میں مذکور ہیں ان میں واضحطور پر یہ مذکور ہے کہ آنحضرت نے پہلے ایک خبر کو اپنے اوپر حرام کیا اور پھر اس کی قسم کھائی معلوم ہوا کہ قسم سے کفارہ واجب ہوتا ہے نہ کہ محض حرام کرلینے سے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قسم کھانے کے بعد کیا طریقہ اختیار کیا جائے : ﴿ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ١ۚ﴾ (اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کا کھول دینا مشروع فرمایا ہے) اس میں لفظ لکم بڑھا کر یہ بتادیا کہ ساری امت کے لیے یہی حکم ہے کہ جب کسی چیز کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ نے اس سے عہد برآ ہونے کا جو طریقہ مشروع فرمایا ہے اس کے مطابق عمل کرلیں۔ یہ قسم کا کھولنا یعنی قسم کھا کر جو بات اپنے ذمہ کرلی ہے اس سے نکلنا دو طریقہ سے ہے ایک تو یہ ہے کہ قسم کو پورا کر دے (بشرطیکہ معصیت نہ ہو) اور دوسرا یہ کہ اگر قسم ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ دے دیا جائے ان دونوں صورتوں سے قسم ختم ہوجاتی ہے یعنی اس کا حکم باقی نہیں رہتا، پھر معلوم ہونا چاہیے کہ ایک تو یہ قسم ہے کہ اللہ کی قسم ایسا کروں گا یا ایسا نہیں کروں گا (پھر اس میں معلق اور غیر معلق کی تفصیلات ہیں) اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی حلال کو اپنے اوپر حرام کرلے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رض) کے نزدیک یہ بھی یمین ہے اس کا بھی کفارہ واجب ہے جیسا کہ قسم کی خلاف ورزی کرنے پر کفارہ لازم آتا ہے۔ تفسیر قرطبی میں بلاسند نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دے دیا تھا پھر زید بن اسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے کفارہ میں ایک غلام آزاد فرمایا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے اپنی قسموں کا کھول دینا مقرر کردیا ہے اور اپنی قسموں کے کھول دینے کا طریقہ مقرر فرمادیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نے ایک حرم اپنی موقوف کردی یا ایک بی بی کے ہاں سے شہد پینا موقوف کیا یا اور بیویوں کی خاطر سے اسی پر اللہ نے یہ فرمایا اور قسم اتار ڈالنا کفارہ دینا اب جو کوئی اپنے مال کو کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو قسم ہوگئی کفارہ دے تو پھر اس کو کام میں لادے کھانا یا کپڑا یا لونڈی۔ خلاصہ : یہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تمام ازواج مطہرات کے مکان میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضرت زینب (رض) اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہد کا شربت بنا کر پلایا کرتی تھیں اس لئے حضرت زینب (رض) کے ہاں قدرتی طور پر کچھ دیر لگتی تھی یہ زینب (رض) کے گھر کی تاخیر حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) پر گراں گزرتی تھی اول تو نسوانی رقابت اور باہمی تنافس کا اثر کہ اس کے ہاں اتنی دیر کیوں ٹھہرے۔ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور عقیدت کا تقاضہ ۔ بہرحال ان دونوں عورتوں نے آپس کے مشورے سے ایک بات بنائی کہ جب حضور تشریف لائیں تو ہم میں سے ہر ایک یوں کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر یعنی کندلر کے گوند کی بو آتی ہے چناچہ عورتوں کی یہ ترکیب کارگر ہوئی۔ جب آپ سے حفصہ (رض) نے کہا تو آپ نے انکار کیا کہ میں نے مغافیر نہیں پیا لیککن حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے آپ نے پھر انکار کیا اور فرمایا میں نے شہد پیا ہے حضرت عائشہ (رض) نے کہا مکھی شہد کی مغافیر پر بیٹھی ہوگی اس لئے شہد میں مغافیر کی بو ہوگئی آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا آپ نے حفصہ (رض) اور عائشہ (رض) سے کہا کہ زینب (رض) سے نہ کہنا ورنہ وہ رنجیدہ ہوگی۔ ایک واقعہ اور اسی طرح کا حضرت حفصہ (رض) کو پیش آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے ہاں تھے انہوں نے اپنے باپ عمر (رض) سے ملنے کی اجازت چاہی آپ نے ان کو ان کے باپ کے ہاں بھیج دیا بعد میں آپ کی مشہور کنیز ماریہ قبطیہ جن سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے یہ ماریہ قبیطیہ حاضر ہوگئیں حضرت نے ان سے قربت فرمائی تھوڑی دیر میں حضرت حفصہ (رض) آگئیں انہوں نے دیکھکا مکان کے کواڑ بند ہیں وہ دروازے کے پاس بیٹھ کر رونے لگیں جب کواڑ کھلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا حضرت حفصہ رو رہی ہیں اور شکوہ کررہی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) کو راضی کرنے کی غرض سے قسم کھالی کہ میں آئندہ ماریہ قبطیہ سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا اور حضرت حفصہ (رض) کو تاکید کردی کہ اس قسم کی کسی کو خبر نہ کرنا اسی طرح کی شاید کچھ اور باتیں بھی ہوں جن کو آپ نے پوشیدہ طور پر کسی بیوی سے کہا ہو اور دوسروں سے کہنے کو منع کیا ہو مگر عورت کے پیٹ میں بات کہاں پچتی ہے افشاء راز کردیا گیا۔ بہرحال ان آیتوں میں بہت سے مسائل کا انکشاف ہوگیا اگر کسی حلال چیز کو کوئی حرام کرے اگرچہ اعتقاداً اس کی حرمت کا قائل نہ ہو مگر اس کا استعمال حرام کرے تو اس کو چاہیے کہ قسم کا کفارہ دیدے اور اسے حلال کرلے ایسا کرنا معمولی بات ہے اور علما اس کو خلاف اولیٰ کہتے ہیں لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس چونکہ خلاف اولیٰ کے ارتکاب سے بھی ارفع واعلیٰ ہے۔ اس لئے فرمایا اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے اور قسم کو کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارا مالک ہے اور وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ یعنی تمہاری مصالح سے خوب واقف ہے اور اس کے تمام احکام مبنی پر حکمت ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں اور قصہ بھی آیا ہے چونکہ اس قصے کی سند میں ضعف ہے اس لئے ہم نے اس کو نظر انداز کردیا وہ یہ کہ شاید حضرت حفصہ (رض) سے فرمایا کہ میرے بعد خلیفہ ابوبکر ہوگا اس کے بعد تیرا باپ عمر (رض) ہوگا لیکن یہ بات کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بہرحال عورتوں میں حافظے کی کمزوری تو ظاہر ہے اس لئے یہ عورتیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کو پوشیدہ نہ رکھ سکیں اس کو آگے ارشاد فرمایا۔