Commentary The Virtues of Surah Al-Mulk Prophetic Tradition has named this Surah as Waqiyah (protector) and Munjiyah (saviour) as well. In a Tradition, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: ھِیَ المانعۃ المنجیۃ تنجیہ من عذاب القبر |"It [ the Surah ] is the protector and saviour which will rescue and redeem him who recites it from the torment of the grave.|" [ Transmitted by Tirmidhi who has graded it as &liasan, gharib& as quoted by Qurtubl ] Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) reports that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"It is my heart&s desire that Surah Al-Mulk be in every believer&s heart.|" [ Tha` labi ] Sayyidna Abu Hurairah (رض) narrates that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: |"Verily, there is a Surah in the Book of Allah (Qur&an) containing thirty verses that will intercede on behalf of him who recites it until he is rescued from Hell and admitted to Paradise; and it is Surah Tabarak.|" [ Qurtubi cites it from Tirmidhi ]. تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (Glorious is the One in whose hand is the Kingdom [ of the whole universe ], and He is powerful over every thing...67:1). The word Tabaraka is derived from barakah, which literally means &to grow& or &increase&. When it is related to Allah, it signifies &to be highest in all respects& and it conveys a meaning similar to Allahu Akbar &Allah is the Highest&. بِيَدِهِ الْمُلْكُ (in Whose hand is the Kingdom): The word Yad (hand) is attributed to Allah at many places in the Qur&an, whereas He is beyond having a body, limbs or organs. As a result, the word must, of necessity, be taken as one of the mutashabihat. We need to believe in its reality, but it is not possible for anyone to grasp its exact nature. It is improper to pursue this subject. The word Mulk (Kingdom) refers to the Kingdom of the whole universe, of the heavens and the earth and of the mortal world as well as of the Hereafter. The verse under comment refers to four of the Divine attributes. Firstly, His existence; secondly, His comprehending all the attributes of perfection and being most Exalted; thirdly, His being the ruler of the heavens and earth; and fourthly, His having power over everything. The verses that follow are adduced as proofs of these attributes, which become clear by pondering over the creation of Allah. Therefore, the next verses refer to the various types of creation in the universe as proofs positive of the existence and Oneness of Allah and His all-encompassing knowledge and power. To begin with, reference is made to those proofs of the divine omnipotence that are available in human beings themselves who are the noblest creation in the universe. The words الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ (the One who created death and life) are meant for this purpose, (as will be explained shortly). Then, several verses (3 to 5) invite consideration to the creation of heavens to find proofs of Allah&s omnipotence. Thereafter, verses 15 and 16 call our attention to the creation of the earth and its benefits. Lastly, the creatures living in the heavenly atmosphere, that is, the birds are mentioned in verse 19. In short, the basic subject of the Surah is to prove the existence of Allah and His perfect knowledge and power by inviting consideration to the marvels of this universe. However, as a subsidiary subject, some other realities are also mentioned like punishment for unbelievers and reward for believers. The proofs of the divine knowledge and power found in the man himself are indicated in the following two words:
خلاصہ تفسیر وہ (خدا) بڑا عالیشیان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کر کے تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے (حسن عمل میں موت کا تو دخل یہ ہے کہ موت کی فکر سے انسان دنیا فانی اور قیامت کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عذاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں ہے اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے) اور وہ زبردست (اور بخشنے والا ہے (کہ اعمال غیر حسنہ پر عتاب اور اعمال حسنہ پر مغفرت وثواب مرتب فرماتا ہے) جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے (جیسے حدیث صحیح میں ہے کہ ایک آسمان سے اوپر بفاصلہ دراز دوسرا آسمان ہے پھر اسی طرح اس سے اوپر تیسرا و علیٰ ہذا آگے آسمان کا استحکام بیان فرماتے ہیں کہ اے دیکھنے والے) تو خدا کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا سو (اب کی بار) پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے (یعنی بلاتامل تو بہت بار دیکھا ہوگا اب کی بار تامل سے نگاہ کر) پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ (آخر کار) نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آوے گی (اور کوئی رخنہ نظر نہ آوے گا یعنی وہ جس چیز کو یجسا چاہے بنا سکتا ہے چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا کہ باوجود زمان دراز گزر جانے کے اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا۔ وہذا کقولہ تعالیٰ ومالھا من فروج اسی طرح کسی شئے کو ضعیف اور جلد متاثر ہونے والی بنادیا غرض اس کو ہر طرح کی قدرت ہے) اور (ہماری قدرت کی دلیل یہ ہے کہ) ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان (ستاروں) کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے ( جس کی حقیقت سورة حجر میں گزری ہے) اور ہم نے ان (شیاطین) کے لئے (شہاب کی مار کے عالوہ جو کہ دنیا میں ہوتا ہے آخرت میں بوجہ ان کے کفر کے) دوزخ کا عذاب (بھی) تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ اپنے رب (کی توحید) کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے جب یہ لوگ اس میں ڈالے جاویں گے تو اس کی ایک بڑی زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی جیسے معلوم ہوتا ہے کہ (ابھی) غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی (یا تو اللہ تعالیٰ اس میں ادراک اور غصہ پیدا کر دے گا کہ مبغوضین حق پر اس کو بھی غیظ آوے گا اور یا مقصود تمثیل ہے یعنی جیسے کوئی غصہ سے جوش میں آتا ہے اسی طرح وہ شدت اشتعال سے جوش میں آوے گی اور) جب اس میں کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جاوے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں آیا تھا (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو جس کا مقتضا یہ تھا کہ اس سے ڈرتے اور بچنے کا سامان کرتے۔ یہ سوال بطرو توبیخ ہے یعنی پیغمبر تو آئے تھے اور یہ سوال ہر نئے جانے والے گروہ سے ہوگا کیونکہ دوزخ میں حسب تفاوت مراتب کفر سب فرقے کفار کے یکے بعد دیگرے جاویں گے) وہ کافر (بطور اعتراف کے) کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تھا سو (ہماری شامت تھی کہ) ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا تعالیٰ نے (از قبیلا حکام و کتب) کچھ نازل نہیں کیا (ا ور) تم بڑی غلطی میں پڑے ہو اور (وہ کافر فرشتوں سے یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سنتے یا سمجھتے (یعنی پیغمبروں کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے) تو ہم اہل دوزخ میں (شامل) نہ ہوتے غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں (اور ایمان و اطاعت اختیار کرتے ہیں) ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم (مقرر) ہے اور تم لوگ خواہ چھپا کر بات کہو یا پکار کر کہو (اس کو سب خیر ہے کیونکہ) وہ دلوں کی باتوں سے خوب آگاہ ہے (اور بھلا) کیا وہ نہ جائے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین ہے۔ (اور) پورا باخبر ہے (حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شئے کا خالق مختار ہے پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور کسی چیز کی تخلیق بغیر علم کے نہیں ہو سکتی اس لئے اللہ کو ہر چیز کا علم ضروری ہوا اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے افعال بھی اس میں داخل ہیں۔ تخصیص ذکری شاید اس بناء پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا) وہ ایسا (منعم) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مخسر کردیا، (کہ تم اس میں ہر طرح کے تصرفات کرسکتے ہو) سو تم اس کے رستوں میں چلو (پھرو) اور خدا کی روزی میں سے (جو زمین میں پیدا کی ہے) کھاؤ (پیو) اور (کھا پی کر اس کو یاد رکھنا کہ) اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے (پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو ایمان و اطاعت ہے) کے یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے اور جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم کو (مثل قارون کے) زمین میں دھنسا دے پھر وہ زمین تھرتھرا (کر الٹ پلٹ ہو ( نے لگے (جس سے تم اور نیچے اتر جاؤ اور زمین کے اجزاء تمہاے ر اوپر آ کر مل جاویں) یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم پر (مثل عاد کے) ایک ہوائے تند بھیجدے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مقضا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت عاد کے) ایک ہوائے تند بھیج دے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مققنا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت سے عذاب عاجل تم پر ٹل رہا ہے تو کیا ہوا) عنقریب (مرتے ہی) تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا ( َذاب سے) کیسا (واقع اور صحیح) تھا اور (اگر بدون عذاب عاجل کے کفر کا مبغوص ہونا ان کی سمجھ میں نہ آوے تو اس کا نمونہ بھی موجود ہے چنانچہ) ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے (دین حق کو) جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو ان پر) میرا عذاب کیسا (واقع) ہوا (جس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے پس اگر کسی مصلحت سے یہاں عذاب ٹل گیا تو در سے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا اور اوپر خلق سبع سموت الخ میں وہ دلائل توحید بیان ہوئے جو آسمان کے متعلق ہیں پھر ھوالذی جعل لکم الارض الخ میں زمین کے متعلق چیزوں کا بیان ہوا، آگے جو یعنی فضائ آسمانی کے متعلقہ دلائل کا بیان ہے) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کہ پر پھیلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں اور (کبھی اسی حالت میں) پر سمیٹ لیتے ہیں (اور دونوں حالتوں میں باوجود ثقیل اور وزنی ہونے کے زمین اور آسمان کی درمیانی فضا میں پھرتے رہتے ہیں زمین پر نہیں گر جاتے اور بجز (خدائے) رحمان کے ان کو کوئی تامے ہوئے نہیں ہے بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے (اور جس طرح چاہے اس میں تصرف کر رہا ہے) ہاں (خدا کے تصرفات تو سن لئے اب بتلاؤ کہ) رحمٰن کے سوا وہ کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بن کر (آفات سے) تمہاری حفاظت کرسکے (اور) کافر (جو اپنے معبودوں کی نسبت ایسا خیال رکھتے ہیں) تو (وہ) نرے دھوکہ میں ہیں (اور) ہاں (یہ بھی بتلاؤ کہ) وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچاوے اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرلے (مگر یہ لوگ اس سے بھی متاثر نہیں ہوتے) بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت (عن الحق) پر جم رہے ہیں (خلاصہ یہ کہ تمہارے معبودات باطلہ بت وغیرہ نہ کسی مضرت کے دفع پر قادر ہیں وہو المراد بقولہ تعالیٰ ینصرکم اور نہ ایصال منافع پر قادر ہیں وہوالمراد بقولہ تعالیٰ یرزقکم پھر ان کی عبادت محض بےوقوفی ہے یعنی جس کافر کا حال اوپر سنا ہے ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْر ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر) سو (اس کو سن کر سو چو کہ) کیا جو شخص (بوجہ ناہمواری راہ کے ٹھوکریں کھاتہ و اور) منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص (زیادہ منزل مقصود پر پہنچنے والا ہوگا) جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جا رہا ہو (یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے، اور وہ چلتا بھی ہے سیدھا ہو کر افراط تفریط سے بچ کر اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے پس ایسی حالت میں کیا منزل پر پہنچے گا اور اوپر دلائل توحید متعلق آفاق کے تھے آگے متعلق انفس کے ارشاد ہیں) آپ (ان سے) کہئے کہ وہی (ایسا قادر و منعم) ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو (اور) آپ (یہ بھی) کہئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا اور تم اسی کے پاس (قیامت کے روز) اکٹھے کئے جاؤ گے اور یہ لوگ (جب قیامت کا ذکر سنتے ہیں کمافی ہذا السورة من قولہ الیہ النشور ومن قولہ الیہ تحشرون تو) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم (یعنی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین مؤ منین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ یہ (تعیین کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو محض (علی الاجمال مگر) صاف صاف ڈرانے والا ہوں پھر جب اس (عذاب قیامت) کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے (پاس آتا ہوا دیکھنا یہ کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا جس سے متیقن ہوجائے گا کہ اب عذاب سر پر آ گیا غرض جب اس کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے) تو (مارے غم کے) کافروں کے منہ بگڑ جاویں گے (کقولہ تعالیٰ (آیت) وجوہ یومئذ علیھا غبرة ترھقھا قترة) اور (ان سے) کہا جاوے گا یہی ہے وہ جس کو تم مانگا کرتے تھے (کہ عذاب لاؤ، عذاب لاؤ، اور یہ کفار ان مضامین حقہ توحید و بعث وغیرہ کو سن کر جو ایسی باتیں کرتے (آیت) شاعر نتربص بہ ریب المنون ان کاد لیضلنا عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا، جن کا حاصل انتظار آپ کی ہلاکت کا اور آپ کو نعوذ باللہ منسوب الی الضلال کرنا ہے آگے اس کے جواب کی تعلیم ہے جس میں عذاب کفار کی تقریر اور دوسرے مضامین سے اس کی تمتیم ہے ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ (ان سے) کہئے کہ تم یہ بتئاو کہ اگر خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھ والوں کو (موافق تمہاری تمنا کے) ہلاک کر دے یا (ہماری امید اور اپنے وعدہ کے مطابق) ہم پر رحمت فرما دے تو (دونوں حالت میں اپنی خبر لو اور یہ بتلاؤ کہ) کافروں کو عذاب درد ناک سے کون بچا لے گا (یعنی ہماری تو جو حالت ہوگی دنیا میں ہوگی اور انجام اس کا ہر حال میں اچھا ہے کقولہ تعالیٰ (آیت) ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین الخ مگر اپنی کہو کہ تم پر جو مصیبت عظیمہ آنے والی ہے اس کو کون روکے گا اور ہماری دنیوی حوادث سے تمہاری وہ مصیبت کیسے ٹل جاوے گی تو اپنی فکر چھوڑ کر ہمارے حوادث کا انتظار ایک فضول حرکت ہے۔ یہ جواب ہے نتربص الخ کا اور) آپ) (ان سے یہ بھی) کہئے کہ وہ بڑا مہربان ہے ہم اس پر (اس کے حکم کے موافق) ایمان لائے اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں (پس ایمان کی برکت سے تو وہ ہم کو عذاب آخرت سے محفوظ رکھے گا اور توکل کی برکت سے حوادث دنیویہ کو دفع یا سہل کر دے گا یہ بھی نتربص کا تمتمہ جواب ہے) سو (جب تم پر عذاب الیم آنیاولا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ ایمان کی برکت سے اس عذاب سے محفوظ رہنے والے ہیں تو) عنقریب تم کو معلوم ہوجاوے گا (جب اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا اور ہم کو اس سے محفوظ دیکھو گے) کہ صریح گمرایہ میں کون ہے (یعنی تم ہو جیسا کہ ہم کہتے ہیں یا ہم ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو یہ جواب ہے ان کاد لیضلنا الخ کا، آگے تقریر ہے مضمون بالا فمن یجیرالکفرین الخ کی یعنی اوپر جو کہا گیا ہے کہ تم کو عذاب الیم سے کوئی نہیں بچا سکتا، ان کو اگر اپنے الہ باطلہ کا گھمنڈ ہو کہ وہ بچا لیں گے تو اس زعم کے ابطال و ازالہ کے لئے ان سے) آپ (یہ) کہہ دیجئے کہ اچھا یہ بتئاو کہ اگر تمہارا پانی (جو کنوؤں میں ہے) نیچے کو (اتر کر) غائب ہی ہوجائے سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے (یعنی کنوئیں کی سوت کو جاری کر دے اور اعماق ارض سے اوپر لے آئے اور اگر کسی کو کھود لینے پر ناز ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اس کو اور نیچے غائب کر دے وعلیٰ ہذا، پس جب خدا کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کیا قدرت ہوگی) معارف و مسائل فضائل سورة ملک :۔ اس سورت کو حدیث میں واقعہ اور منجیہ بھی فرمایا ہے۔ واقیہ کے معنے بچانے والی اور منجیہ کے معنے نجات دینے والی، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہی المانعتہ المنجیتہ تنجیہ من عذاب القبر، یعنی یہ سورت عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچا لے گی (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب از قرطبی) اور حضرت ابن عابس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سورة ملک ہر مومن کے دل میں ہو (ذکرہ الثعلبی) اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت ہے جس کی آیتیں تو صرف تیس ہیں قیامت کے روز یہ ایک شخص کی سفارش کرے گی یہاں کہ اس کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گی اور وہ سورة تبارک ہے۔ (قرطبی ۔ از ترمذی) تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ، لفظ تبارک برکت سے مشتق ہے جس کے لفظی معنے بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو سب سے بالاوبرتر ہونے کے معنی میں آتا ہے جیسے اللہ اکبر، بیدہ الملک، اللہ کے ہاتھ میں ہے ملک اللہ جل شانہ کے لئے قرآن کریم میں جا بجا لفظ ید بمعنے ہاتھ استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ جسم اور اعضاء سے بالاوبرتر ہے۔ اسلئے یہ لفظ متشابہات میں سے ہے جس کے حق ہونے پر ایمان لانا واجب ہے اور اسکی کیفیت و حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی اس کے در پے ہونا درست نہیں اور ملک سے مراد آسمانوں اور زمینوں کی اور دنیا و آخرت ہے اس آیت میں حق تعالیٰ کے لئے چار صفات کا دعویٰ ہے اول اس کا موجود ہونا دوسرے انتہائی درجے کی صفات کمال کا مالک اور سب سے بالاو برتر ہونا تیسرے آسمان و زمین پر اس کی حکومت ہونا، چوتھے ہر چیز پر اس کا قادر ہونا، اگلی آیات میں اس دعوے کے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہی میں غور و فکر کرنے سے واضح ہوتے ہیں اس لئے اگلی ایٓات میں تمام کائنات و مخلوقات کی مختلف انواع و اصناف سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید پر اور اس کے کمال علم وقدرت پر استدلال کیا گیا ہے سب سے پہلے اشرف المخلوقات انسان کے اپنے وجود میں جو دلائل قدرت ہیں ان کی طرف متوجہ فرمایا، ۙالَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ الخ میں اس کا بیان ہے اس کے بعد کئی آیتوں میں آسمانوں کی تخلیق میں غور و فکر سے استدلال فرمایا الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰت الایتہ اس کے بعد زمین کی تخلیق اور اس کے فوائد متعلقہ میں غور و فکر کا بیان ہوا۔ ۧهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ سے دو آیتوں میں فرمایا، پھر فضائے آسمانی میں رہنے والی مخلوق پرندوں کا ذکر فرمایا اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْر الخ غرض اس پوری سورت میں اصل مضمون حق تعالیٰ کے وجود اور اس کے کمال علم وقدرت پر کائنات عالم کے مشاہدہ سے دلائل پیش کرنا ہے۔ ضمنا دوسرے مضامین کفار کی سزا اور مومنین کی جزا کے بھی آگئے ہیں۔ خود انسان کے نفس میں جو دلائل اللہ تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے ہیں ان کی طرف دو لفظوں سے ہدایت فرمائی۔