Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 1

سورة الملك

تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾

Blessed is He in whose hand is dominion, and He is over all things competent -

بہت بابرکت ہے وہ ( اللہ ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Glorification of Allah and mentioning the Creation of Death, Life, the Heavens and the Stars Allah the Exalted glorifies His Noble Self by saying, تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ... Blessed be He in Whose Hand is the dominion; Allah the Exalted glorifies His Noble Self and informs that the dominion is in His Hand. This means that He deals with all of His creatures however He wishes and there is none who can reverse His decree. He is not questioned concerning what He does because of His force, His wisdom and His justice. For this reason Allah says, ... وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ and He is Able to do all things. Then Allah says,

بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے ۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے ، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے جیسے اور جگہ ہے آیت ( كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ 28؀ ) 2- البقرة:28 ) ترجمہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اور اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لئے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے آیت ( ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀ ) 2- البقرة:28 ) ترجمہ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ، ابن ابی حاتم میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے ۔ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقاء کا ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ حضرت قتادہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے ، آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا ، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لئے ، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے ۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک گو بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے ، زیادہ صحیح یہی قول ہے ، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے ، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے ، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخلافت اور بےربطی ہے ، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے ۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کر کہیں کوئی عیب ٹوٹ پھوٹ جوڑ توڑ شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی ۔ نقصان کی نفی کر کے اب کمال کا اثبات ہو رہا ہے تو فرمایا آسمان دنیا کو ہم نے ان قدرتی چراغوں یعنی ستاروں سے بارونق بنا رکھا ہے جن میں بعض چلنے پھرنے والے ہیں اور بعض ایک جا ٹھہرے رہنے والے ہیں ، پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے واللہ اعلم ۔ شیطین کی دنیا میں یہ رسوائی تو دیکھتے ہی ہو آخرت میں بھی ان کے لئے جلانے والا عذاب ہے ۔ جیسے سورہ صافات کے شروع میں ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی ہے اور سرکش شیطانوں کی حفاظت میں انہیں رکھا ہے ، وہ بلند و بالا فرشتوں کی باتیں سن نہیں سکتے اور چاروں طرف سے حملہ کر کے بھگا دیئے جاتے ہیں اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے اگر کوئی ان میں سے ایک آدھ بات اچک کر لے بھاگتا ہے تو اس کے پیچھے چمکدار تیز شعلہ لپکتا ہے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ستارے تین فائدوں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ، آسمان کی زینت ، شیطانوں کی مار اور راہ پانے کے نشانات ۔ جس شخص نے اس کے سوا کوئی اور بات تلاش کی اس نے رائے کی پیروی کی اور اپنا صحیح حصہ کھو دیا اور باوجود علم نہ ہونے کی تکلف کیا ( ابن جریر اور ابن ابی حاتم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 اسی کے ہاتھ میں بادشاہی ہے یعنی ہر طرح کی قدرت اور غلبہ اسی کو حاصل ہے، وہ کائنات میں جس طرح کا تصرف کرے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، وہ شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دے، امیر کو غریب اور غریب کو امیر کردے۔ کوئی اس کی حکمت و مشیت میں دخل نہیں دے سکتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] تبارک کا لغوی مفہوم :۔ تَبَارَکَ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہذا اللہ کی ذات تبارک یعنی بابرکت ہوئی۔ [٣] الْمُلْکُ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ :” تبرک “ ” برکۃ “ سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ” بہت برکت والا “ کیا گیا ہے۔ ” برکۃ “ کے معنی میں زیادہ ہونا ، بڑھنا ہونا ۔” تبرک “ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بےانتہاء بڑھا ہوا ہے اور بلندی ، بڑائی اور احسان ، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بےحد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ٢۔” بیدہ “ پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لیے ترجمہ ” صرف اس کے ہاتھ میں ہے “ کیا گیا ہے۔ ٣۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے ؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے ، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال ، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے ، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا ۔ سورة ٔ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے ، فرمایا (لِّیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا) ( الزخرف : ٣٢)” تا کہ ان کا بعض بعض کو تابع بنا لے “۔ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے ؎ مانگنے والا گدا ہے ، صدقہ مانگے یاخراج کوئی مانے یا نہ مانے میرو سلطان سب گدا اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم ، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں ۔ ان کی اپنی دولت و فقر ، صحت و بیماری ، عزت و ذلت ، فتح و شکست ، جانی و بڑھاپا ، نفع و نقصان اور موت و حیات ، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے ، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ؟ دوسرا کوئی بادشا ہے بھی تو نام کا ہے ۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے ، باقی سب گدا ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللہ ِ ) ( فاطر : ١٥)” اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرح محتاج ہو “۔ ٤۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ :” شیئ “ ” شاء یشائ “ کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، چاہت ۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے ، چو چاہے کرسکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بےشمام چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہوجاتی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The Virtues of Surah Al-Mulk Prophetic Tradition has named this Surah as Waqiyah (protector) and Munjiyah (saviour) as well. In a Tradition, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: ھِیَ المانعۃ المنجیۃ تنجیہ من عذاب القبر |"It [ the Surah ] is the protector and saviour which will rescue and redeem him who recites it from the torment of the grave.|" [ Transmitted by Tirmidhi who has graded it as &liasan, gharib& as quoted by Qurtubl ] Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) reports that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"It is my heart&s desire that Surah Al-Mulk be in every believer&s heart.|" [ Tha` labi ] Sayyidna Abu Hurairah (رض) narrates that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: |"Verily, there is a Surah in the Book of Allah (Qur&an) containing thirty verses that will intercede on behalf of him who recites it until he is rescued from Hell and admitted to Paradise; and it is Surah Tabarak.|" [ Qurtubi cites it from Tirmidhi ]. تَبَارَ‌كَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ (Glorious is the One in whose hand is the Kingdom [ of the whole universe ], and He is powerful over every thing...67:1). The word Tabaraka is derived from barakah, which literally means &to grow& or &increase&. When it is related to Allah, it signifies &to be highest in all respects& and it conveys a meaning similar to Allahu Akbar &Allah is the Highest&. بِيَدِهِ الْمُلْكُ (in Whose hand is the Kingdom): The word Yad (hand) is attributed to Allah at many places in the Qur&an, whereas He is beyond having a body, limbs or organs. As a result, the word must, of necessity, be taken as one of the mutashabihat. We need to believe in its reality, but it is not possible for anyone to grasp its exact nature. It is improper to pursue this subject. The word Mulk (Kingdom) refers to the Kingdom of the whole universe, of the heavens and the earth and of the mortal world as well as of the Hereafter. The verse under comment refers to four of the Divine attributes. Firstly, His existence; secondly, His comprehending all the attributes of perfection and being most Exalted; thirdly, His being the ruler of the heavens and earth; and fourthly, His having power over everything. The verses that follow are adduced as proofs of these attributes, which become clear by pondering over the creation of Allah. Therefore, the next verses refer to the various types of creation in the universe as proofs positive of the existence and Oneness of Allah and His all-encompassing knowledge and power. To begin with, reference is made to those proofs of the divine omnipotence that are available in human beings themselves who are the noblest creation in the universe. The words الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ (the One who created death and life) are meant for this purpose, (as will be explained shortly). Then, several verses (3 to 5) invite consideration to the creation of heavens to find proofs of Allah&s omnipotence. Thereafter, verses 15 and 16 call our attention to the creation of the earth and its benefits. Lastly, the creatures living in the heavenly atmosphere, that is, the birds are mentioned in verse 19. In short, the basic subject of the Surah is to prove the existence of Allah and His perfect knowledge and power by inviting consideration to the marvels of this universe. However, as a subsidiary subject, some other realities are also mentioned like punishment for unbelievers and reward for believers. The proofs of the divine knowledge and power found in the man himself are indicated in the following two words:

خلاصہ تفسیر وہ (خدا) بڑا عالیشیان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کر کے تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے (حسن عمل میں موت کا تو دخل یہ ہے کہ موت کی فکر سے انسان دنیا فانی اور قیامت کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عذاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں ہے اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے) اور وہ زبردست (اور بخشنے والا ہے (کہ اعمال غیر حسنہ پر عتاب اور اعمال حسنہ پر مغفرت وثواب مرتب فرماتا ہے) جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے (جیسے حدیث صحیح میں ہے کہ ایک آسمان سے اوپر بفاصلہ دراز دوسرا آسمان ہے پھر اسی طرح اس سے اوپر تیسرا و علیٰ ہذا آگے آسمان کا استحکام بیان فرماتے ہیں کہ اے دیکھنے والے) تو خدا کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا سو (اب کی بار) پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے (یعنی بلاتامل تو بہت بار دیکھا ہوگا اب کی بار تامل سے نگاہ کر) پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ (آخر کار) نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آوے گی (اور کوئی رخنہ نظر نہ آوے گا یعنی وہ جس چیز کو یجسا چاہے بنا سکتا ہے چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا کہ باوجود زمان دراز گزر جانے کے اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا۔ وہذا کقولہ تعالیٰ ومالھا من فروج اسی طرح کسی شئے کو ضعیف اور جلد متاثر ہونے والی بنادیا غرض اس کو ہر طرح کی قدرت ہے) اور (ہماری قدرت کی دلیل یہ ہے کہ) ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان (ستاروں) کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے ( جس کی حقیقت سورة حجر میں گزری ہے) اور ہم نے ان (شیاطین) کے لئے (شہاب کی مار کے عالوہ جو کہ دنیا میں ہوتا ہے آخرت میں بوجہ ان کے کفر کے) دوزخ کا عذاب (بھی) تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ اپنے رب (کی توحید) کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے جب یہ لوگ اس میں ڈالے جاویں گے تو اس کی ایک بڑی زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی جیسے معلوم ہوتا ہے کہ (ابھی) غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی (یا تو اللہ تعالیٰ اس میں ادراک اور غصہ پیدا کر دے گا کہ مبغوضین حق پر اس کو بھی غیظ آوے گا اور یا مقصود تمثیل ہے یعنی جیسے کوئی غصہ سے جوش میں آتا ہے اسی طرح وہ شدت اشتعال سے جوش میں آوے گی اور) جب اس میں کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جاوے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں آیا تھا (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو جس کا مقتضا یہ تھا کہ اس سے ڈرتے اور بچنے کا سامان کرتے۔ یہ سوال بطرو توبیخ ہے یعنی پیغمبر تو آئے تھے اور یہ سوال ہر نئے جانے والے گروہ سے ہوگا کیونکہ دوزخ میں حسب تفاوت مراتب کفر سب فرقے کفار کے یکے بعد دیگرے جاویں گے) وہ کافر (بطور اعتراف کے) کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تھا سو (ہماری شامت تھی کہ) ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا تعالیٰ نے (از قبیلا حکام و کتب) کچھ نازل نہیں کیا (ا ور) تم بڑی غلطی میں پڑے ہو اور (وہ کافر فرشتوں سے یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سنتے یا سمجھتے (یعنی پیغمبروں کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے) تو ہم اہل دوزخ میں (شامل) نہ ہوتے غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں (اور ایمان و اطاعت اختیار کرتے ہیں) ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم (مقرر) ہے اور تم لوگ خواہ چھپا کر بات کہو یا پکار کر کہو (اس کو سب خیر ہے کیونکہ) وہ دلوں کی باتوں سے خوب آگاہ ہے (اور بھلا) کیا وہ نہ جائے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین ہے۔ (اور) پورا باخبر ہے (حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شئے کا خالق مختار ہے پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور کسی چیز کی تخلیق بغیر علم کے نہیں ہو سکتی اس لئے اللہ کو ہر چیز کا علم ضروری ہوا اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے افعال بھی اس میں داخل ہیں۔ تخصیص ذکری شاید اس بناء پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا) وہ ایسا (منعم) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مخسر کردیا، (کہ تم اس میں ہر طرح کے تصرفات کرسکتے ہو) سو تم اس کے رستوں میں چلو (پھرو) اور خدا کی روزی میں سے (جو زمین میں پیدا کی ہے) کھاؤ (پیو) اور (کھا پی کر اس کو یاد رکھنا کہ) اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے (پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو ایمان و اطاعت ہے) کے یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے اور جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم کو (مثل قارون کے) زمین میں دھنسا دے پھر وہ زمین تھرتھرا (کر الٹ پلٹ ہو ( نے لگے (جس سے تم اور نیچے اتر جاؤ اور زمین کے اجزاء تمہاے ر اوپر آ کر مل جاویں) یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم پر (مثل عاد کے) ایک ہوائے تند بھیجدے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مقضا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت عاد کے) ایک ہوائے تند بھیج دے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مققنا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت سے عذاب عاجل تم پر ٹل رہا ہے تو کیا ہوا) عنقریب (مرتے ہی) تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا ( َذاب سے) کیسا (واقع اور صحیح) تھا اور (اگر بدون عذاب عاجل کے کفر کا مبغوص ہونا ان کی سمجھ میں نہ آوے تو اس کا نمونہ بھی موجود ہے چنانچہ) ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے (دین حق کو) جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو ان پر) میرا عذاب کیسا (واقع) ہوا (جس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے پس اگر کسی مصلحت سے یہاں عذاب ٹل گیا تو در سے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا اور اوپر خلق سبع سموت الخ میں وہ دلائل توحید بیان ہوئے جو آسمان کے متعلق ہیں پھر ھوالذی جعل لکم الارض الخ میں زمین کے متعلق چیزوں کا بیان ہوا، آگے جو یعنی فضائ آسمانی کے متعلقہ دلائل کا بیان ہے) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کہ پر پھیلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں اور (کبھی اسی حالت میں) پر سمیٹ لیتے ہیں (اور دونوں حالتوں میں باوجود ثقیل اور وزنی ہونے کے زمین اور آسمان کی درمیانی فضا میں پھرتے رہتے ہیں زمین پر نہیں گر جاتے اور بجز (خدائے) رحمان کے ان کو کوئی تامے ہوئے نہیں ہے بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے (اور جس طرح چاہے اس میں تصرف کر رہا ہے) ہاں (خدا کے تصرفات تو سن لئے اب بتلاؤ کہ) رحمٰن کے سوا وہ کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بن کر (آفات سے) تمہاری حفاظت کرسکے (اور) کافر (جو اپنے معبودوں کی نسبت ایسا خیال رکھتے ہیں) تو (وہ) نرے دھوکہ میں ہیں (اور) ہاں (یہ بھی بتلاؤ کہ) وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچاوے اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرلے (مگر یہ لوگ اس سے بھی متاثر نہیں ہوتے) بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت (عن الحق) پر جم رہے ہیں (خلاصہ یہ کہ تمہارے معبودات باطلہ بت وغیرہ نہ کسی مضرت کے دفع پر قادر ہیں وہو المراد بقولہ تعالیٰ ینصرکم اور نہ ایصال منافع پر قادر ہیں وہوالمراد بقولہ تعالیٰ یرزقکم پھر ان کی عبادت محض بےوقوفی ہے یعنی جس کافر کا حال اوپر سنا ہے ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْر ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر) سو (اس کو سن کر سو چو کہ) کیا جو شخص (بوجہ ناہمواری راہ کے ٹھوکریں کھاتہ و اور) منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص (زیادہ منزل مقصود پر پہنچنے والا ہوگا) جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جا رہا ہو (یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے، اور وہ چلتا بھی ہے سیدھا ہو کر افراط تفریط سے بچ کر اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے پس ایسی حالت میں کیا منزل پر پہنچے گا اور اوپر دلائل توحید متعلق آفاق کے تھے آگے متعلق انفس کے ارشاد ہیں) آپ (ان سے) کہئے کہ وہی (ایسا قادر و منعم) ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو (اور) آپ (یہ بھی) کہئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا اور تم اسی کے پاس (قیامت کے روز) اکٹھے کئے جاؤ گے اور یہ لوگ (جب قیامت کا ذکر سنتے ہیں کمافی ہذا السورة من قولہ الیہ النشور ومن قولہ الیہ تحشرون تو) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم (یعنی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین مؤ منین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ یہ (تعیین کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو محض (علی الاجمال مگر) صاف صاف ڈرانے والا ہوں پھر جب اس (عذاب قیامت) کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے (پاس آتا ہوا دیکھنا یہ کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا جس سے متیقن ہوجائے گا کہ اب عذاب سر پر آ گیا غرض جب اس کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے) تو (مارے غم کے) کافروں کے منہ بگڑ جاویں گے (کقولہ تعالیٰ (آیت) وجوہ یومئذ علیھا غبرة ترھقھا قترة) اور (ان سے) کہا جاوے گا یہی ہے وہ جس کو تم مانگا کرتے تھے (کہ عذاب لاؤ، عذاب لاؤ، اور یہ کفار ان مضامین حقہ توحید و بعث وغیرہ کو سن کر جو ایسی باتیں کرتے (آیت) شاعر نتربص بہ ریب المنون ان کاد لیضلنا عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا، جن کا حاصل انتظار آپ کی ہلاکت کا اور آپ کو نعوذ باللہ منسوب الی الضلال کرنا ہے آگے اس کے جواب کی تعلیم ہے جس میں عذاب کفار کی تقریر اور دوسرے مضامین سے اس کی تمتیم ہے ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ (ان سے) کہئے کہ تم یہ بتئاو کہ اگر خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھ والوں کو (موافق تمہاری تمنا کے) ہلاک کر دے یا (ہماری امید اور اپنے وعدہ کے مطابق) ہم پر رحمت فرما دے تو (دونوں حالت میں اپنی خبر لو اور یہ بتلاؤ کہ) کافروں کو عذاب درد ناک سے کون بچا لے گا (یعنی ہماری تو جو حالت ہوگی دنیا میں ہوگی اور انجام اس کا ہر حال میں اچھا ہے کقولہ تعالیٰ (آیت) ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین الخ مگر اپنی کہو کہ تم پر جو مصیبت عظیمہ آنے والی ہے اس کو کون روکے گا اور ہماری دنیوی حوادث سے تمہاری وہ مصیبت کیسے ٹل جاوے گی تو اپنی فکر چھوڑ کر ہمارے حوادث کا انتظار ایک فضول حرکت ہے۔ یہ جواب ہے نتربص الخ کا اور) آپ) (ان سے یہ بھی) کہئے کہ وہ بڑا مہربان ہے ہم اس پر (اس کے حکم کے موافق) ایمان لائے اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں (پس ایمان کی برکت سے تو وہ ہم کو عذاب آخرت سے محفوظ رکھے گا اور توکل کی برکت سے حوادث دنیویہ کو دفع یا سہل کر دے گا یہ بھی نتربص کا تمتمہ جواب ہے) سو (جب تم پر عذاب الیم آنیاولا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ ایمان کی برکت سے اس عذاب سے محفوظ رہنے والے ہیں تو) عنقریب تم کو معلوم ہوجاوے گا (جب اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا اور ہم کو اس سے محفوظ دیکھو گے) کہ صریح گمرایہ میں کون ہے (یعنی تم ہو جیسا کہ ہم کہتے ہیں یا ہم ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو یہ جواب ہے ان کاد لیضلنا الخ کا، آگے تقریر ہے مضمون بالا فمن یجیرالکفرین الخ کی یعنی اوپر جو کہا گیا ہے کہ تم کو عذاب الیم سے کوئی نہیں بچا سکتا، ان کو اگر اپنے الہ باطلہ کا گھمنڈ ہو کہ وہ بچا لیں گے تو اس زعم کے ابطال و ازالہ کے لئے ان سے) آپ (یہ) کہہ دیجئے کہ اچھا یہ بتئاو کہ اگر تمہارا پانی (جو کنوؤں میں ہے) نیچے کو (اتر کر) غائب ہی ہوجائے سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے (یعنی کنوئیں کی سوت کو جاری کر دے اور اعماق ارض سے اوپر لے آئے اور اگر کسی کو کھود لینے پر ناز ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اس کو اور نیچے غائب کر دے وعلیٰ ہذا، پس جب خدا کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کیا قدرت ہوگی) معارف و مسائل فضائل سورة ملک :۔ اس سورت کو حدیث میں واقعہ اور منجیہ بھی فرمایا ہے۔ واقیہ کے معنے بچانے والی اور منجیہ کے معنے نجات دینے والی، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہی المانعتہ المنجیتہ تنجیہ من عذاب القبر، یعنی یہ سورت عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچا لے گی (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب از قرطبی) اور حضرت ابن عابس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سورة ملک ہر مومن کے دل میں ہو (ذکرہ الثعلبی) اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت ہے جس کی آیتیں تو صرف تیس ہیں قیامت کے روز یہ ایک شخص کی سفارش کرے گی یہاں کہ اس کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گی اور وہ سورة تبارک ہے۔ (قرطبی ۔ از ترمذی) تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ، لفظ تبارک برکت سے مشتق ہے جس کے لفظی معنے بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو سب سے بالاوبرتر ہونے کے معنی میں آتا ہے جیسے اللہ اکبر، بیدہ الملک، اللہ کے ہاتھ میں ہے ملک اللہ جل شانہ کے لئے قرآن کریم میں جا بجا لفظ ید بمعنے ہاتھ استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ جسم اور اعضاء سے بالاوبرتر ہے۔ اسلئے یہ لفظ متشابہات میں سے ہے جس کے حق ہونے پر ایمان لانا واجب ہے اور اسکی کیفیت و حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی اس کے در پے ہونا درست نہیں اور ملک سے مراد آسمانوں اور زمینوں کی اور دنیا و آخرت ہے اس آیت میں حق تعالیٰ کے لئے چار صفات کا دعویٰ ہے اول اس کا موجود ہونا دوسرے انتہائی درجے کی صفات کمال کا مالک اور سب سے بالاو برتر ہونا تیسرے آسمان و زمین پر اس کی حکومت ہونا، چوتھے ہر چیز پر اس کا قادر ہونا، اگلی آیات میں اس دعوے کے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہی میں غور و فکر کرنے سے واضح ہوتے ہیں اس لئے اگلی ایٓات میں تمام کائنات و مخلوقات کی مختلف انواع و اصناف سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید پر اور اس کے کمال علم وقدرت پر استدلال کیا گیا ہے سب سے پہلے اشرف المخلوقات انسان کے اپنے وجود میں جو دلائل قدرت ہیں ان کی طرف متوجہ فرمایا، ۙالَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ الخ میں اس کا بیان ہے اس کے بعد کئی آیتوں میں آسمانوں کی تخلیق میں غور و فکر سے استدلال فرمایا الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰت الایتہ اس کے بعد زمین کی تخلیق اور اس کے فوائد متعلقہ میں غور و فکر کا بیان ہوا۔ ۧهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ سے دو آیتوں میں فرمایا، پھر فضائے آسمانی میں رہنے والی مخلوق پرندوں کا ذکر فرمایا اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْر الخ غرض اس پوری سورت میں اصل مضمون حق تعالیٰ کے وجود اور اس کے کمال علم وقدرت پر کائنات عالم کے مشاہدہ سے دلائل پیش کرنا ہے۔ ضمنا دوسرے مضامین کفار کی سزا اور مومنین کی جزا کے بھی آگئے ہیں۔ خود انسان کے نفس میں جو دلائل اللہ تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے ہیں ان کی طرف دو لفظوں سے ہدایت فرمائی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِہِ الْمُلْكُ۝ ٠ ۡوَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ۝ ١ ۙ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ بڑا عالی شان اور برکتوں والا ہے جس کے قبضہ قدرت میں عزت و ذلت اور تمام بادشاہی ہے اور وہ عزت و ذلت پر پورا قادر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ } ” بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے “ یہ دین اسلام کے سیاسی منشور کی بنیادی شق ہے ۔ یعنی پوری کائنات کا اقتدار اور اختیار کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ دنیا میں اگر انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کے احکام سے کہیں بغاوت دکھائی دیتی ہے تو وہ بھی دراصل اسی کے عطا کردہ اختیار کی وجہ سے ہے ۔ اس میں ایمان کے دعوے داروں کا امتحان بھی ہے کہ وہ بھلا اللہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے مقابلے میں کیا طرزعمل اختیار کرتے ہیں۔ ورنہ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ کہکشائیں ‘ ہوائیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور تابع ہے ۔ پوری کائنات پر اللہ تعالیٰ کی حکومت اور قدرت کی کیفیت یہ ہے کہ کہیں کوئی ایک ذرہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا اور حرکت کرتا ہوا کوئی ذرہ اس کی مشیت کے بغیر ساکن نہیں ہوسکتا۔ اپنی تمام مخلوق میں صرف انسان کو اس نے ایک حد تک ارادے اور عمل کا اختیار دیا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ اس میں انسان کی آزمائش مقصود ہے ۔ لیکن انسان ہے کہ ہلدی کی یہ گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھا ہے ۔ اب کہیں وہ فرعون بن کر اللہ کے مقابلے میں ” میری حکومت ‘ میرا ملک اور میرا مثالی نظام “ جیسے دعو وں کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے تو کہیں کسی فرعون کی چاکری اور وفاداری کی دھن میں مقتدر حقیقی کے احکام کو پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں انسان کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ خود اپنے جسم پر بھی اسے کوئی اختیار نہیں۔ ظاہر ہے انسان کے جسم کی فزیالوجی اور اناٹومی کا سارا نظام بھی تو اللہ تعالیٰ کے طے کردہ قانون کے تابع ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنے دل کو آرام دینے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے بند کردے اور پھر اپنی مرضی سے دوبارہ رواں کرلے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں۔ { وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ ۔ } ” اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Tabaraka is a superlative from barkat. Barkat comprehends the meanings of exaltation and greatness, abundance and plentifulness, permanence and multiplicity of virtues and excellences. When the superlative tabaraka is formed from it, it gives the meaning that Allah is infinitely noble and great; He is superior to everything beside Himself in His essence and attributes and works; His beneficence is infinite, and His excellences are permanent and everlasting. (For further explanation, see E.N. 43 of AI-A`raf, E.N. 1.4 of Al-Mu'minun E.N.'s 1 and 19 of Al-Furgan) . 2 As the word al-Mulk has been used definitely, it cannot be taken in any limited meaning. Inevitably it would imply sovereignty over everything that exists in the Universe. "In Whose hand is the Kingdom' does not mean that He has physical hands, but that He is possessor of all power and authority and no one else has any share in it. 3 That is, He can do whatever He wills: nothing can frustrate or hinder Him from doing what He pleases.

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :1 تبارک برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ برکت میں رفعت و عظمت ، افزائش اور فراوانی ، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات کے مفہومات شامل ہیں ۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تبارک بنایا جائے تو اسکے معنی ہوتے ہیں کہ وہ بے انتہا بزرگ و عظیم ہے ، اپنی ذات و صفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے با لا تر ہے ، بے حدو حساب بھلائیوں کا فیضان اس کی ذات سے ہو رہا ہے ، اور اس کے کمالات لازوال ہیں ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ 43 ۔ جلد سوم ، المومنون ، حاشیہ 14 ۔ الفرقان ، حواشی 19 ) ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :2 الملک کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا جا سکتا ۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجودات عالم پر شاہانہ اقتدار ہی ہوسکتا ہے ۔ اور اس کےہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے ، بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ عربی کی طرح ہماری زبان میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے ، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے ۔ ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :3 یعنی وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے کوئی چیز اسے عاجز کرنے والی نہیں ہے ۔ کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ کر سکے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٥۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔ تمام رعیت کے لوگ کئی سال موسم پر مینہ برسنے کی تمنا کرتے ہیں مگر جب تک اس بادشاہ حقیقی کا حکم نہ ہو دنیا کے بادشاہوں سے کیا ہوسکتا ہے تمام رعیت کے لوگ اور نوکر لوگ ایک بادشاہ کا صاحب اولاد ہوجانا یا ایک بادشاہ کا کسی مرض سے اچھا ہوجانا چاہتے ہیں لیکن بغیر حکم حاکم حقیقی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ روم کے بادشاہ کی حکومت مثلاً ایران میں نہیں اور ایران کے بادشاہ کی حکومت روم میں نہیں وہی بادشاہ حقیقی ہے جس کی بادشاہی ایک وتیرہ پر تمام دنیا میں جاری ہے۔ غرض دنیا کے بادشاہوں کی نہ تمام دنیا میں حکومت ہے نہ ہر طرح کا کارخانہ ان کے قبضہ کے ملک کا ان کے اختیار سے چل سکتا ہے ہر جگہ اور ہر طرح کا کام اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے اس واسطے بادشاہ اور فقیر سب کے سمجھانے کو فرمایا کہ تمام دنیا کا ملک تمام دنیا کی بادشاہی اور اس بادشاہی میں ہر طرح کی حکومت اس ایک ذات وحدہ لا شریک کے ہاتھ میں ہے جس نے تمام دنیا کو اس آزمائش کے لئے پیدا کیا کہ دنیا میں پیدا ہو کر کون نیک کام کرتا ہے اور کون بد اور پھر اپنی پیدا کی ہوئی ایسی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی قدرت سے باہر ہیں تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ موت وحیات کے پیدا کرنے سے یہ مطلب ہے کہ انسان کی ایک حالت تو وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی کہ وہ دنیا میں نابود اور علم الٰہی میں ایک وقت مقررہ پر اس کا دنیا میں آنا مقرر تھا پھر اس کو دنیا میں پیدا کیا جس کے سبب سے اس کی نابودی کی حالت جاتی رہی اور وہ زندگی کی حالت میں آگیا۔ کنتم امواتا فاحیاکم خلق الموت والحیات کی پوری تفسیر ہے پھر فرمایا کہ انسان کو حالت نابودی سے حالت زندگی اس لئے دی گئی ہے تاکہ دنیا کی ظاہری حالت میں کھل جائے کہ دنیا میں کس نے اچھے کام کئے اور کس نے برے ورنہ اللہ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے ہی نیک و بد کا حال کھل چکا ہے۔ چناچہ صحیح ١ ؎ مسلم میں عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا کے پیدا کرنے کے بعد ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا و سزا کا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ جزا و سزا کا مدار دنیا کی ظاہری حالت پر رکھا ہے کہ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ عزیز کے معنی زبردست حقیقت میں وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کے آگے سب زبردست زیر ہیں۔ بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ جب سب کی شفاعت ختم ہوچکے گی تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنی تمام عمر میں کوئی نیک کام نہیں کیا۔ دوزخ میں سے ایک لپ بھر کر نکالے گا اور ان کو پھر جنت میں بھیج دے گا چناچہ صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری کی ایک بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر ہے سات آسمان اس طرح بنائے کہ جس طرح پہلا آسمان دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی طرح ہر ایک آسمان کا دل پانسو برس کی راہ کا ہے بغیر کسی سہارے کے اتنے بڑے دل کی یہ تہ پر تہ سات چھتیں جدا جدا فقط اس کی قدرت سے کھڑی ہیں پھر فرمایا کہ جو کوئی اللہ کی اس قدرت کو گھڑی گھڑی غور کی نگاہ سے دیکھے گا تو آخر اس کی نگاہ تھک جائے گی مگر کسی کا کیا مقدور ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز میں کسی طرح کا عیب پکڑ سکے۔ اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں میں تاروں کو پیدا کرکے اس کی روشنی سے آسمانوں کی زینت اور رونق جو بڑھائی اس کا ذکر فرمایا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ خبریں سننے جو آجاتے ہیں انہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان پر انگارے برساتے ہیں ترمذی ١ ؎ نسائی ‘ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا تھا تاکہ قرآن شریف کا کوئی مضمون اللہ کے رسول پر نازل ہونے سے پہلے چوری کے طور پر کاہن لوگوں کو نہ پہنچے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے زیادہ تفصیل اس کی سورة جن میں آئے گی آسمان دنیا کے سوا تارے اگرچہ اور آسمانوں میں بھی ہیں لیکن اہل دنیا کا تعلق فقط آسمان دنیا سے ہے اس لئے آیت میں اس کا ذکر فرمایا۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ علیھما السلام ص ٢٢٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص ١١٠٧ ج ٢ و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ بہم الخ ص ١٠٢ ج ١۔ ) (١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص ١٩ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:1) تبارک : ماضی واحد مذکر غائب تبارک (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت برکت والا ہے، وہ بڑی برکت والا ہے، مخاطب کا تبارکت بھی آتا ہے صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض لوگ اسے اسم فعل بتاتے ہیں۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الٰہی ثابت ہونا کے ہیں۔ آیت ہذا میں تنبیہ کی ہے کہ وہ تمام خیرات جن کو لفظ تبارک کے تحت ذکر کیا ہے ذات باری تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے۔ الذی بیدہ الملک : الذی اسم موصول۔ الملک مبتدائ، بیدہ خبر، دونوں مل کر موصول کا صلہ اور یہ سارا جملہ مل کر فاعل ہے تبارک کا۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (دارین کی) بادشاہت ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ واؤ عاطفہ، جملہ کا عطف صلہ بیدہ الملک پر ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ١٤۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک حال ہے اسی کا نام موت ہے وہ بھی زندگی کی طرح مخلوق ہے عدم محض نہیں جس طرح زندگی کی اقسام ہیں کہ جمادات میں حیات ہے نباتان میں ہے اور حیوانات میں ہے مگر سب کی اپنی اپنی حیات ہے اور سب سے کامل حیات انسان میں ہے کہ وہ معرفت باری کا شعور رکھنے کی استعداد رکھتا ہے اور یہی استعداد ایمان وعمل اور آزمائش کی بنیاد ہے کہ جس بار سے آسمان اور زمین اور پہاڑ تک ڈر گئے وہ انسان نے اٹھالیا اسی طرح موت کی بھی اقسام ہیں اور انسانی موت دو طرح سے ہے کہ معرفت باری کی وہ استعداد اپنے کردار کے باعث ضائع کردے تو بھی ایک طرح سے انسانیت سے عاری ہوکرمردہ قرار پایا جیسے کفار کو مردہ کہا گیا ہے اور دوسرے جب بدن اور روح کا وہ رشتہ منقطع ہوجائے جو دنیا کی زندگی کا سبب ہے اور یوں دار عمل سے اس کا کام ختم ہوا اور دار آخرت پر اجل کو چل دیا۔ آسماں۔ وہی ہستی ہے جس نے سات آسمانون کو تہہ درتہہ پیدا فرمایا کسی کو اس کے بنانے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی خواہ بار بار نظردوڑائیں آلات سے دیکھیں یامشینوں سے نظر تھک ہار کر رہ جائے گی مگر اسے کوئی خامی نہ ملے گی ضروری نہیں کہ یہ نیلگوں نظر آنے والا ہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے دوری کے باعث فضا ایسی نظر آتی ہو اور آسمان بہت پرے یہ بھی ممکن ہے فضاصاف ہو اور آسمان ہی نظر آتا ہوں بہرحال مادی نظر سے دیکھیں یا عقل وخرد سے کسی طرح کی کوئی کمی نظر نہیں آتی اور ہم نے ستاروں کو چراغوں کی طرح سجا کر پہلے آسمان کے لیے زینت کا سبب بنادیا اگرچہ ستارے آسمان سے بہت نیچے ہوں مگر زمین سے نظر کریں تو آسمان پر ٹانکے ہوئے ہی نظر آتے ہیں نیز ان سے شیطانوں کو بھگانے کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ اس سے مراد شہاب ثاقب بی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیاطین کو بھگانے کے لیے کوئی شعلہ یاکرنٹ ستاروں سے نکلتا ہو ضروری نہیں کہ ہمیں بھی نظر آئے ہاں یہ طے ہے کہ شیاطین کو ستاروں کی حدود پار نہیں کرنے دی جاتیں اور شیطانوں کے لیے دہکتی آگ کا عذاب بھی تیار کررکھا ہے ۔ ساتھ وہ لوگ بھی جو شیطاین کی راہ اختیار کرکے اپنے رب سے کفر کرتے ہیں وہ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے جو بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے جب انہیں اس میں پھینکا جائے گا تو وہ اس کی دھاڑ سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے اور الگ رہا ہوگا کہ غصے سے پھٹ جائے گی اور کفار سے دوزخ میں متعین فرشتہ یاداروغہ پوچھے گا کیا تمہارے پاس کوئی اللہ کا نبی نہ آیا جو تمہیں بروقت اس برے انجام سے مطلع کرتا اور تم بچنے کی تدبیر کرتے تو کہیں گے ہاں بیشک ہمارے پاس ایسی ہستی آئی جس نے ہم کو ان سب باتوں کی اطلاع دی مگر ہم نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا آپ نے محض جھوٹا فسانہ گھڑ رکھا ہے اور آپ خود غلطی کیے جا رہے ہیں اور تب کہیں گے کاش ہم ان کی باتوں پہ غوروفکر کرتے اور عقل سے کام لیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنی غلطی قبول بھی کی اب آکر جب ساراکام ختم ہوچکا اب اس اقرار کا انہیں کچھ حاصل نہیں ہاں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے رب پر غائبانہ ایمان لائے اور پھر اس کی عظمت کو اپنے دلوں میں محسوس کیا ان کے لیے اللہ کی بخشش ہے کہ انسانی کمزوریوں کی بنا پر اگر کوئی خامی رہ گئی تو اللہ کریم معاف فرما کر انہیں بہت عظیم الشان بدلہ عطافرمائیں گے۔ اے لوگو تم چھپ کر باتیں کرویاظاہر میں کرو اللہ کی ذات تو ایسی ہے جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے اور کیوں نہ ہو اس نے خود ہر ایک کو پیدا کیا حیات بخشی کام کرنے اور سوچنے کی طاقت دی بھلاوہ ہر حال سے کیوں واقف نہ ہوگا بلکہ وہ تمام چھپے بھید جاننے والا اور ہر شے اور ہر حال سے باخبر ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم چھپائو۔ تشریح : اس سورت میں اللہ کی ذات، صفات اور قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہر طرح کی برکتوں، عظمتوں اور تمام بھلائیوں اور کائنات میں ہر طرح کے اختیارات کا مالک ومختار ہے۔ اسی نے زندگی اور موت کو پیدا کیا ہے اور زندگی اور موت کے درمیانی وقفہ کو انسان کی آزمائش بنادیا ہے تاکہ اس آزمائش اور امتحان کے ذریعہ یہ دیکھا جاسکے کہ کون زیادہ حسن عمل پیش کرتا ہے اور کون اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر میدان حشر میں پہنچتا ہے۔ اسی کی ساری طاقت و قوت ہے وہ دینے پر آئے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ دے تو کوئی اس کو مجبور نہیں کرسکتا۔ وہی ہر ایک کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہ کائنات اسی نے بنائی ہے وہی اس کا اتنظام سنبھالے ہوئے ہے۔ اسی نے اوپر تلے سات آسمان اس طرح بنائے ہیں کہ انسان جب بھی ان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھے گا اس میں بار بار غوروفرک کرے گا تو وہ کہہ اٹھے گا کہ واقعی اللہ کا ایک مضبوط نظام ہے جس میں کہیں بدنظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہیں ہے۔ اس میں کہیں کوئی فرق اور شگاف محسوس نہ کرسکے گا۔ وہ ان آسمانوں اور زمین کی خود حفاظت کرتا ہے۔ اسی نے چاند، سورج اور ستاروں کی روشنی سے آسمان کی اس طرح سجا کر ہر طرف حسن و خوبصورتی کو بکھیردیا ہے کہ کہیں ویرانی نظر نہیں آتی۔ غیب کی خبریں حاصل کرنے کے لئے اگر جنات اور شیاطن آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر جلتے انگاروں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی ہے جس سے ان کو آسمانوں سے دور بھگا دیا جاتا ہے۔ کفار و مشرکین کے سادہ زہن رکھنے والوں کو کاہن اپنے اندازوں سے جھوٹی سچی باتیں ملا کر بیان کرتے اور عام لوگ ان پر یقین کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جنات اور شیاطین اول تو آسمانون تک پہنچ ہی نہیں سکتے لیکن اگر وہ کسی طرح آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں تو شہاب ثاقب ان کی خبر لینے کے لئے تیار رہتے ہیں جن کے ذریعہ ان کو آسمانوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج یہ کاہن دنیا کی ادنیٰ دولت کمانے کے چکر میں لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب ان کاہنوں اور شیاطین اور جنات کو جہنم کے قریب پہنچایا جائے گا۔ وہ جہنم ان شیاطین اور کاہنوں کو دیکھ کر ایسی دہشت ناک اور ناپسندیدہ آواز نکالے گی کہ جیسے وہ غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ اس وقت ان پر ایک ہیبت سوار ہوگی کیونکہ جہنم کا غصہ سے چلانا اور بھڑکتی آگ ان کے ہوش ٹھکانے لگا دے گی۔ اس وقت فرشتے ان سے پوچھیں گے کیا آج کے دن کے عذاب سے ڈرانے والے اور خبردار کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر ہمارے پاس آئے تھے انہوں نے ہمیں اس دن کے عذاب سے ڈرایا بھی تھا مگر ہم نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی۔ ہم نے ان کو جھٹلایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ یہ سب کچھ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو اللہ نے تو ایسا کوئی حکم نازل نہیں کیا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تم خود ہی بھٹکے ہوئے لوگ ہو۔ وہ کفار و مشرکین بڑی حسرت، ندامت اور ناامیدی کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی بات سن کر اس کو قبول کرلیتے تو آج یہ جہنم کی آگ اور رسوائی نصیب نہ ہوتی۔ جب یہ کفار و مشرکین اپنے کئے ہوئے جرم کا اعتراف کرلیں گے تو اللہ کے حکم سے فرشتے ان کو گھسٹیتے ہوئے اس جہنم کی طرف لے جائیں گے جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ دوسری طرف اللہ کے وہ نیک بندے ہوں گے جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کی بات مان کر خوف الٰہی کے ساتھ محتاظ زندگی اختیار کر ہوگی ان سب کو جنت کو راحتیں، اللہ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم عطا کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ ہر شخص کو حسن عمل پیش کرنا چاہیے اور اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی قندیلوں کو روشن رکھنا چاہیے وہ ہر چیز کا خالق ہے اسے ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے کوئی کسی بات کو کھلم کھلا کہے یا چھپا کر کہے اس سے کوئی بات اور کوئی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک پہنچ کر دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر کی سورت میں حقوق رسالت کا بیان تھا، اس سورت میں حقوق توحید کا، اور ان کے ایفاء و اخلال پر جزاء و سزا کا بیان ہے ونیز آخر سورت سابقہ میں بعض اہل سعادت و بعض اہل شقاوت کا ذکر تھا، اس میں مطلقا سعداء و اشقیاء کا ذکر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة التحریم کا اختتام اچھے اور برے کردار کے بیان پر ہوا یہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے کہ اسے آزمایا جائے کہ یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔ ” اللہ “ ہی کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور وہ بڑا ہی برکت والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تبارک کا دوسرا معنٰی کثرت خیر اور دوام خیر بھی کیا گیا ہے۔ ملک سے مراد ساری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ اس فرمان میں بیک وقت مادہ پرست سائنسدانوں اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کی تردید کی گئی ہے۔ جو سائنسدان سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات بگ بینگ (BIG BANG) کے ذریعے خود بخود معرض وجود میں آئی اور اسے کوئی بنانے اور چلانے والا نہیں ہے۔ مشرک یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے کچھ اختیارات دوسری ہستیوں کو بھی سونپ رکھے ہیں۔ ان کی تردید کے لیے فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں پوری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ کائنات کا نظام چلانے کے لیے نہ اس کا کوئی معاون ہے اور نہ مدد گار، اسے کسی کی معاونت کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ اسی نے موت اور زندگی پیدا فرمائی ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ وہ ظالموں پر غلبہ پانے والا اور نیک بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہاں موت کا تذکرہ حیات سے پہلے کیا گیا ہے کیونکہ انسان اور پوری کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔ گویا کہ پہلے موت پھر زندگی پھر موت اور پھر زندگی ہے۔ ( البقرۃ : ٢٨) وہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے۔ کوئی چیزنہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ” اللہ “ کے حکم کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ اس نے عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت کا سلسلہ اس لیے جاری کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ دین کے اعتبار سے بہتر عمل وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے جو شخص اس کے مطابق عمل نہیں کرتا وہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیرہو یا غریب، راعی ہو یا رعایا اس سے ضرور پوچھا جائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا لیکن بتقاضا بشریت اس سے گناہ ہوگئے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا ہے۔ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ.) (رواہ الترمذی : بَابُ مَا جَاءَ فِی قِصَرِ الأَمَلِ ، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا کندھا پکڑکر اور فرمایا دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ) (رواہ الحاکم : کتاب الرقاق، قال الحاکم ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بابرکت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک اور اس کا بادشاہ ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آزمانے کے لیے موت اور زندگی کا سلسلہ بنایا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص بہتر عمل کرتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور ہر چیز پر غالب ہونے کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان سب سے بہتر ہے اور اسے بہترین عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن التقویم بنایا ہے۔ ( التین : ٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے احسن حدیث اتاری ہے۔ (الزمر : ٣٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینا احسن بات ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : ٣٣) ٤۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا احسن طریقہ ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : ٣٤) (النحل : ١٢٥) ( الملک : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس سورت کے آغاز میں اللہ کب برکات پر مشتمل یہ سپاس نامہ اس بات پر دال ہے کہ اللہ کی برکتیں اور اللہ کے کرم ، اور اللہ کے فیوض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اللہ کی برکتیں اللہ کی سلطنت میں ہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں۔ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کی برکات کا فیض عام اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے اور یہ پوری کائنتا اس کی حمد گا رہی ہے اور اس لاانتہا وجود کی وادیوں میں اس کی گونج ہے۔ قلب مومن ان برکتوں سے لبالب ہے اور یہ کائنات اس کتاب الٰہی کے ذریعہ قلب مومن پر نازل ہوتی ہے اور اس پوری کائنات میں ان کا ظہور ہے۔ بیدہ الملک (٧٦ : ١) ” جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے “۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے ، اس کا اس نے احاطہ کررکھا ہے۔ اس کی چوٹی کے بال اس کے ہاتھ میں ہیں ، وہ اس میں متصرف ہے۔ یہ ہے اصل حقیقت کہ اس پوری کائنات کا بادشاہ وہی ہے جب یہ حقیت انسانی ضمیر میں بیٹھ جاتی ہے تو یہ اپنی راہ خود بخود متعین کردیتی ہے اور اس کے بعد پھر کوئی بھی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کے لئے فارغ نہیں ہوتا۔ پھر وہ ایک ہی آقا ، ایک معبود اور ایک ہی بادشاہ کا قائل ہوتا ہے۔ وھو علی ............ قدیر (٧٦ : ١) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے ، کوئی چیز اس کے ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس مشیت کی حدود وقیود سے باہر ، جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے ، جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہے کرسکتا ہے ، جو حکم دے اس کی تعمیل کرواسکتا ہے۔ اس کی قدرت بےحدو بےقید ہے۔ جب یہ حقیقت ذہن میں بیٹھ جائے تو ہمارے احساسات ، تصورات اور عقل میں کسی قوت کے لئے کوئی سوچ جاتی ہے تو اس کی نفی ہوجاتی ہے۔ انسان جو کچھ بھی سوچ سکتا ہے اس کی قدرت اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ انسان کا تصور بہت ہی محدود ہے کیونکہ انسان کی ذات اور اس کی فکری کائنات محدود ہے۔ انسان اپنے ماحولیات اور معلومات کے محدود دائرے میں سوچنے کا عادی ہے جو بہت ہی محدود ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ انسان کو اس محدود دائرے سے نکالتی ہے۔ انسان یقین کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے تو انسان اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہے اور یوں وہ اس محدود سوچ سے لامحدود سوچ کی طرف نکل جاتا ہے ورنہ انسان حاضر وموجود کے محدود تصور ہی کا غلام ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے) دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا فرمایا ہے اور ان دونوں کے پیدا فرمانے میں بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے سب سے اچھا کون ہے مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا میں آتے جاتے ہیں پیدا ہوتے ہیں، زندہ رہتے ہیں پھر مرجاتے ہیں یہ موت وحیات یوں ہی بغیر حکمت کے نہیں ہے، انسان یوں نہ سمجھے کہ میں یوں ہی عبث بغیر کسی حکمت کے پیدا کیا گیا ہوں۔ سورة قیامہ میں فرمایا ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ٠٠٣٦﴾ (کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا) ۔ نہ انسان کی تخلیق عبث ہے نہ اس کی زندگی خوامخواہ ہے اس کے پیدا کرنے والے نے اس کی زندگی کے لیے احکام بھیجے ہیں ان احکام پر عمل کرنا جتنا بھی زیادہ کوئی شخص اچھا عمل کرلے گا اسی قدر اچھا آدمی ہوگا اور خوبی کی صفت سے متصف ہوگا، پھر جب مرے گا تو زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا اور جتنے جس کے اچھے اعمال ہوں گے اسی قدر عالم آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا، دنیا میں جینا ہے عمل کرنا ہے پھر مرنا ہے پھر حساب کتاب ہے اچھے اعمال کا اچھا بدلہ ہے اور برے اعمال کی بری سزا ہے۔ سورة ٴ مومنون میں فرمایا ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ٠٠١١٥﴾ (کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے) سورة ٴ ہود رکوع نمبر ایک میں بھی ﴿لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان ج ٢) چہارم : یہ فرمایا ہے کہ وہ عزیز یعنی زبردست ہے کوئی بھی اس کی گرفت اور سلطنت سے باہر نہیں جاسکتا، جسے عذاب دینا چاہے وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اور وہ غفور بھی ہے جسے بخشنا چاہے کوئی اس کی بخشش کو روک نہیں سکتا۔ پنجم : یہ فرمایا کہ اس نے سات آسمان تہ بہ تہ یعنی اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ ششم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو رحمن جل مجدہ کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں دیکھے گا اس نے جس چیز کو جس طرح چاہا بنایا آسمانوں کو جیسا بنانا چاہا وہ اسی طرح وجود میں آگئے نہ ان میں کوئی شگاف ہے ﴿وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ﴾ اور نہ ایک آسمان دوسرے آسمان پر گرتا ہے۔ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ ہر ایک کے درمیان جتنا بعد رکھا ہے اسی کے مطابق قائم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہر آسمان سے لے کردوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ (كما فی المشکوٰۃ صفحہ ٥١٠ عن احمد والترمذی) ہفتم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو نظر ڈال اور دیکھ کیا تجھے کوئی خلل نظر آتا ہے پھر نظر ڈال اور بار بار دیکھ گہری نظر سے دیکھ غور و فکر و تامل کے ساتھ نگاہ ڈال جب تو نظر ڈالے گا تو تیری نظر ذلیل اور درماندہ اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی تجھے کسی طرح کا رخنہ نظر نہ آئے گا۔ ہشتم : یہ بیان فرمایا کہ ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا (ستارے مراد ہیں) جیسا کہ کہ سورة الصافات میں فرمایا : ﴿اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآء الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِۙ٠٠٦﴾ (بیشک ہم نے قریب والے آسمان کو بڑی زینت یعنی ستاروں کے ذریعہ زینت دی) ۔ رات کو آسمان کی طرف دیکھو تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے ایک خوبصورتی کا کیف محسوس ہوتا ہے یہ بات اصحاب فرحت و سرور اور اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ نہم : یہ فرمایا کہ ہم نے ان چراغوں یعنی ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا۔ شیاطین اوپر جاتے ہیں تاکہ اہل سماء یعنی حضرات ملائكہ کی باتیں سنیں۔ ستاروں سے ان کے مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے ضروری نہیں کہ ستارہ خود اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطان کو لے ستاروں میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں جو شیاطین کو مارتی ہیں۔ سورة ٴ حجر میں فرمایا ﴿اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ﴾ (مگر یہ کوئی بات چوری سے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ لیتا ہے) ۔ دہم : یہ فرمایا کہ ہم نے شیاطین کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے شیاطین کی بڑی بڑی شرارتیں ہیں خود بھی کافر ہیں بنی آدم کو بھی کفر پر رکھنا چاہتے ہیں اور جو شخص ایمان لے آئے اس کو گناہوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں جو تکوینی امور سے متعلق ہیں جیسے ہی پہنچتے ہیں، انگاروں اور چنگاریوں کی مار پڑتی ہے جس سے بعض مرجاتے ہیں اور بعض مجنون یعنی دیوانے ہوجاتے ہیں اگر انگارہ لگنے سے پہلے ان میں سے کسی نے ایک آدھ بات سن لی تو زمین پر آ کر اس بات کو کاہن کے کان میں ڈال دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کردیتا ہے شیاطین اس لیے یہ حرکت کرتے ہیں کہ لوگوں کو کاہنوں کا معتقد بنائیں اور ایمان سے دور رکھیں۔ فائدہ : سورة الملک کے شروع میں جو ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ ﴾ فرمایا ہے اس سے بظاہر متبادر یہی ہے کہ موت اور حیات دونوں وجودی چیزیں ہیں اگر موت کو عدم الحیاۃ سے تعبیر کیا جائے تو یوں سمجھ آتا ہے کہ ان کی روحیں نکال لی جاتی ہیں روح کا نکالنا یہ تو وجودی چیزیں ہیں اس اعتبار سے موت کو وجودی چیز کہنے میں کسی تامل کی بات نہیں ہے اور اس میں زیادہ غور و فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” تبرک الذی “ یہ سورت کا دعوی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ تائید ” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ۔ (2) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی یوں تعبیر فرماتے ہی۔ برکت از وست ہر برکت و خیر اسی کی طرف سے ہے۔ ” ھو الذی جاء بکل برکۃ وخیر “۔ یہی دعوی سورة الفرقان کی ابتداء میں اس عنوان سے مذکور ہے۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔ الایۃ “ سورة الرحمن میں فرمایا ” تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔ 3:۔ ” بیدہ الملک “ یہ سورت کے دعوے پر پہلی دلیل عقلی عام ہے کہ ساری کائنات کی سلطنت اور اس میں تصرف و اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ ” وھو علی کل شیئ قدیر “ دوسری دلیل عقلی عام اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، اس لیے ہر نعمت و برکت اسی ہی کی طرف سے ہے۔ بیدہ الملک ای ھو المتصرف فی جمیع المخلوقات بما یشاء لا معقب لحکمہ ولا یسئل عما یفعل لقھرہ و حکمتہ وعدلہ (ابن کثیر ج 4 ص 396) ۔ جب ساری کائنات کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی وہی ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) اس سورت کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے اس کو مالغہ بھی کہتے ہیں یہ سورت عذاب قبر کو اس شخص سے روکتی ہے جو اس کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ پڑھ لیا کرتا ہے اس کو منجیہ بھی کہتے ہیں یہ عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے سے قبل سوروہ ملک اور الم تنزیل سجدہ کی ضرور تلاوت فرمایا کرتے تھے اس سورت کا نام حدیث میں واقعیہ بھی آیا ہے یہ …قبر میں مردے کو عذاب سے اس طرح بچاتی ہے جس طرح پرندہ اپنے بچے کو پروں میں چھٹا کر بچاتا ہے۔ حضوراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں اس بات کو درست رکھتا ہوں کہ یہ سورت ہر مومن کے دل میں ہو یہ سورت عذاب قبر سے اور قیامت کے دن کی پریشانیوں سے اپنے پڑھنے والے کی حفاظت اور اس کی شفاعت کرتی ہے اور اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑتی ہے اور عذاب کو روکتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے بہت بابرکت اور بڑا عالیشان ہے وہ جس کے قبضے میں ساری سلطنت ہے اور جس کے ہاتھ راج ہے وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے۔ برکت کے معنی زیادتی اور بڑھنے کے ہیں یہ زیادتی خواہ حسی ہو یا عقلی حضرت حق تعالیٰ کی طرف برکت کی نسبت باعتبار اس برتری اور بلندی کے ہے جو اس کو اپنی تمام مخلوق پر حاصل ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات میں کوئی اس کی مثل نہیں ہے اسی کے ہاتھ راج ہے۔ یعنی ہر قسم کے تصرفات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ہر نظم ونسق اور تغیرات و تصرفات میں اسی کا حکم چلتا ہے یا وہ مالک الملک ہے جس کو چاہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر الذی بیدہ الملک کے لئے قائم مقام دلیل کے ہے۔