Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 38

سورة الحاقة

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾

So I swear by what you see

پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an is the Speech of Allah Allah swears by His creation, in which some of His signs can be seen in His creatures. These also indicate the perfection of His Names and Attributes. He then swears by the hidden things that they cannot see. This is an oath swearing that the Qur'an is His Speech, His inspiration and His revelation to His servant and Messenger, whom He chose to convey His Message, and the Messenger carried out this trust faithfully. So Allah says, فَلَ أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَا لاَ تُبْصِرُونَ

ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے ، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے ۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اس کی اضافت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت ( اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ ) 69- الحاقة:40 ) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار ، اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں ، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں ، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے ، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے ، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف ، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں ، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں ، میں بھی گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے ، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی ۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی ، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے ، ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے ۔ وللہ الحمد والمنہ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فلا اقسم بما تبصرون…: کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن، کبھی یہ کہتے کہ اس نے یہ کالم اپنے پاس سے بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے، کبھی کہتے کسی دوسرے آدمی نے اسے بنا کردیا ہے، کبھی کہتے ہیں پریشان خواب و خیال ہیں، کبھی آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ دیکھیے سورة انبیاء (٥) ، صافات (٣٦) ، طور (٢٩) اور سورة نحل (١٠٣) ان تمام باتوں کا اللہ تعالیٰ نے الگ الگ جواب بھی دیا ہے، مگر ان آیات میں ایک ہی جگہ دلیل کے ساتھ سب باتوں کی تردید فرما دی ہے، چناچہ فرمایا :(فلا اقسم بما تبصرون، وما لا تبصرون)” پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو ! اور جسے تم نہیں دیکھتے ! “ قسم سے پہلے ” لا “ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ درست نہیں۔ قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید ہوتا ہے اور عام طور پر قسم اس بات کے لئے دلیل اور شاہد ہوتی ہے، یہاں جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اس میں خلاق و مخلوق، ماضی، حال و مستقبل زمین و آسمان اور دنیا و آخرت، غرض سب کچھ آجاتا ہے۔ قرآن میں مذکور قسموں میں یہ سب سے جامع قسم ہے، یعنی جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو نہیں دیکھتے، میں ان سب کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُ‌ونَ وَمَا لَا تُبْصِرُ‌ونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say &what you do not see& refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say &what you see& refers to things of the mortal world, and &what you do not see,& refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!

ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء ( مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ۝ ٣٨ ۙ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ۝ ٣٩ ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨۔ ٤٠) پھر اے اہل مکہ میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو یعنی آسمان و زمین اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے مثلا جنت و دوزخ یا یہ کہ چاند و سورج اور عرش و کرسی یا یہ کہ رسول اکرم اور جبریل امین کی کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جس کو جبریل امین رسول اکرم پر لائے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

سورة الحاقہ کے دوسرے رکوع کی سورة الواقعہ کے آخری رکوع سے گہری مشابہت ہے۔ چناچہ اگلی آیات کو پڑھتے ہوئے سورة الواقعہ کی ان آیات کو بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ - وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ - اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ ۔ } ” تو نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو ! یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

21 That is, the truth is not as you think it to be.

سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :21 یعنی تم لوگوں نے جو کچھ سمجھ رکھا ہے بات وہ نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ ٤٣۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا لاتے ہیں اور کاہنوں کو وہ باتیں سکھاتے ہیں پھر قرآن بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہے تو ان لوگوں تے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا ہے کہ تم بھی کچھ ایسا کلام بنا کر پیش کرو جو فصاحت اور اخبار غیب میں قرآن کی مانند ہو۔ جب یہ لوگ اور ان کے کاہن اور کاہنوں کے مددگار وہ چور جنات سب کے سب مل کر ایسا کچھ کلام بنانے اور پیش کرنے سے عاجز ہیں تو پھر اس قرآن کو شاعر یا کاہن کا کلام بتانا محض نادانی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:38) فلا اقسم : میں لا نفی کا بھی ہوسکتا ہے جس کی دو صورتیں ممکن ہیں :۔ (1) بات صاف ظاہر ہے قسم کھا کر پختہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (2) لا کا تعلق کلام محذوف سے ہے یعنی کافر جو یہ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نسبت خدا کی طرف غلط کی ہے۔ یہ خود شاعر اور کاہن ہے اور حشر و نشر کچھ نہہوگا۔ یہ باتیں سچ نہیں ہیں میں قسم کھاتا ہوں۔ (تفسیر مظہری) جمہور مفسرین کے نزدیک لااقسم میں تاکیدکا ہے۔ لغات القرآن میں ہے :۔ اقسم میں قسم کھاتا ہوں۔ اقسام (افعال) سے جس کے معنی قسم کھانے کے ہیں :۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ یہ دراصل قسامۃ سے ماخوذ ہے۔ قسامت وہ قسمیں ہیں جو اولیاء مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں :۔ (1) اپنی ذات مقدسہ کی۔ (2) اپنے افعال حکیمانہ کی۔ (3) اپنی مخلوق کی۔ مخالفین قرآن پر جو اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قسمیں کیوں کھائیں۔ یہ اعتراض طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ مختلف طور پر دہرایا جاتا رہتا ہے۔ لیکن قسم کی حقیقت اور تاریخ پر ذرا غور وفکر کی زحمت گوارہ کی جائے تو یہ عقدہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ اصل میں قسم کا استعمال ابتداء اس طرح شروع ہوا کہ جب کوئی اہم واقعہ بیان کیا جاتا تو اس کی صحت اور تصدیق کے لئے کسی شخص کی گواہی پیش کی جاتی یہی طریقہ جب بڑھنے لگا تو انسان کے علاوہ حیوانات و جمادات کی شہادت بھی فرض ثبوت میں آنے لگی۔ مثلاً ہم خود اپنی زبان میں کہتے ہیں ” درو دیوار۔ اس بات پر شاہد ہیں “ آسمان و زمین اس پر گواہ ہیں۔ اس نے جنگ میں جس طرح جانبازی کے جوہر دکھائے میدان جنگ اس کی گواہی دے سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ عربی زبان میں اس کی ہزاروں مثالیں ہیں۔ اس قسم کی شہادتوں سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں زبان حال سے اس کی شاہد ہیں۔ یعنی اگر ان میں ذرا بھی بولنے کی سکت ہوتی تو ضرور کہہ اٹھتیں کہ ہاں یہ واقعہ سچ ہے، یہی طریقہ آگے چل کر قسم کے معنی میں مستعمل ہونے لگا۔ چناچہ خود قرآن مجید میں بھی شہادت کا لفظ قسم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سورة منافقون میں ارشاد ہے :۔ اذا جاءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ ، واللہ یعلم انک لرسولہ ، واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون ۔ اتخذوا اہمانھم جنۃ (63:12) منافقین جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ بیشک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تو اس کا رسول ہے لیکن خدا شہادت دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ آیت مذکورہ میں منافقین کے الفاظ میں قسم کا کوئی لفظ مذکور نہیں ہے صرف شہادت کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن مجید نے اس شہادت کو قسم قرار دیا ہے اس کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ہم اپنی زبان میں قسم کھاتے ہیں تو کہتے ہیں ” اللہ جانتا ہے، خدا گواہ ہے ، خدا شاہد ہے۔ عربی زبان نے جب وسعت اختیار کی تو بعض حروف قسم کے ساتھ خاص ہوگئے جیسے واؤ ۔ ب ۔ ت۔ واللہ ، باللہ، تاللہ کہیں صاف لفظ قسم ہوتا ہے اور کبھی لأ کے ساتھ آتا ہے۔ جیسے لا اقسم : اور کبھی جملہ پر لام لاکر قسم کھائی جاتی ہے جیسے لعمرک (15:72) اب قسم کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے :۔ ایک یہ ہے کہ جب کوئی چیز بیان کی جائے اور اس کے ثبوت پر کوئی شہادت پیش کی جائے چاہے وہ شہادت ذی روح کی ہو یا غیر ذی روح کی ہو۔ بزبان حال ہو یا بزبان قال۔ دوم یہ کہ کسی چیز کی توثیق و اثبات کے لئے کسی عظیم الاشان شے یا کسی عزیز چیز کی قسم کھائی جائے۔ یہ دوسرے معانی قسم کے حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہیں جو بعد میں چل رک پیدا ہوگئے۔ جہاں جہاں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لئے قسم کا لفظ آیا ہے وہ پہلے معنی کے لحاظ سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہایت کثرت سے شمس و قمر، لیل و نہار، ابروباد، کو وہ صحرا ، چرند، پرند، دریا اور سمندر غرض جا بجا۔ مظاہر قدرت کی نسبت آیت کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں جن چیزوں کو اکثر مواقع پر آیات کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ انہی کی جابجا قسم بھی کھائی ہے جس کے صاف معانی یہ ہیں کہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود اور عظمت و شان پر شہادت دے رہی ہیں اور اس کی قدرت پر گواہ ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ قسم، یمین۔ حلف، عام لوگ ان تینوں کو ہم معنی خیال کرتے ہیں جس کی بنا پر بڑی غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے حالن کہ ان سب الفاظ کے معنی اور مفہوم بالکل جدا جدا ہیں قسم کے معنی ہیں کسی چیز کی صحت اور تصدیق کے لئے گواہی پیش کرنا۔ قرآن مجید میں جو قسمیں مذکور ہیں ان سب کے یہی معنی ہیں کہ جن چیزوں پر قسم کھائی گئی ہے وہ خدا کے وجود ہر۔ اس کی قدرت اور شان پر اور اس کی عظمت و اقتدار پر شہادت دے رہی ہیں۔ سورة فجر میں ارشاد ہے :۔ والفجر ولیال عشر والشفع والوتر والیل اذا یسر ۔ ہل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ (89:15) (فجر دس راتیں جفت و طاق اور رات جب چلنے پر ہو ان سب باتوں میں صاحب عقل کیلئے قسم ہے) یعنی یہ سب چیزیں عقل مند کے نزدیک خدا کے وجود اور اس کی قدرت پر زبان حال سے گواہی دے رہی ہیں۔ یمین کے معنی ہاتھ کے ہیں یہ لفظ عموما معاہدات کی توثیق کے لئے استعمال ہوتا ہے گویا دوسرے معاہد کو ضامن دینا ہوتا ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ والیمین فی الحلف مستعار فی الید اعتبارا بما یفعلہ المعاھد و المحالف غیرہ۔ معاہدہ کرنے والا اور حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے یمین حلف کے معنی میں اسی فعل سے مستعار لیا گیا ہے یمین کا لفظ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کہیں استعمال نہیں فرمایا۔ حلف کا لفظ ان دونوں لفظوں سے وسیع ہے۔ لیکن اس کے مفہوم میں ذماءت و ذلت شامل ہے۔ اور اس کا استعمال بالکل اسی طرح ہوتا ہے جس طرح آج کل عوام قسمیں کھاتے ہیں اسی وجہ سے قرآن مجید میں حلاف کے لئے مہین کا لفظ (قابل اہانت) استعمال کیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے :۔ ولا تطع کل حلاف مہین (68:10) اور تو کہا نہ مان پر قسمیں کھانے والے بےقدر کا یہ لفظ جہاں آیا ہے منافقین کی زبان سے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لئے کہیں بھی استعمال نہیں فرمایا ہے۔ (ا) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو اپنی ذات پاک کی قسمیں کھائی ہیں وہ یہ ہیں :۔ (1) قل ای وربی انہ لحق (10:53) کہ دو کہ ہاں خدا کی قسم یہ سچ ہے۔ (2) قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کہہ دو ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (3) فوربک لنحشرنھم والشیطین (19:68) تمہارے پروردگار کی قسم ! ہم ان کو جمع کردیں گے اور شیطانوں کو بھی۔ (4) فوربک لنسئلنھم اجمعین۔ (15:92) تمہارے پروردگار کی قسم۔ ہم ان سے ضرور باز پرس کریں گے۔ (5) فلا وربک لا یؤمنون (4:65) تمہارے پروردگار کی قسم ! یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے۔ (ب) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کے علاوہ اپنے فعل کی قسم کھائی ہے۔ جیسے کہ ارشاد ہے :۔ والسماء وما بنھا والارض وما طحھا ، ونفس وما سوھا (91:57) قسم ہے آسمان کی جس نے اسے بنایا۔ اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو درست بنایا۔ (ج) اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مفعول (مخلوق) کی قسم بھی کائی ہے، جیسے :۔ (1) والنجم اذا ھوی (53:1) قسم ہے تارے کی جب غائب ہونے لگے۔ (2) والطور (52:1) قسم ہے (کوہ) طور کی۔ (3) وکتب مسطور (52:2) اور قسم ہے کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔ وغیرہ ذلک۔ مذیر تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : (1) التبیان فی اقسام القران، مصنفہ علامہ ابن قیم (رح)۔ (2) امعان فی اقسام القران، مصنفہ حمید الدین فراہی۔ (3) الاتقان فی علوم القران، حصہ دوم نوع 67 ۔ مصنفہ علامہ جلال الدین سیوطی (رح)۔ بما تبصرون : ما موصولہ، تبصرون سلہ، مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ابصار (افعال) مصدر، تم دیکھتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 جیسے زمین و آسمان، آدمی اور جانور وغیرہ … آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب فلا میں لا کو زائد مانا جائے جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے ورنہ مطلب یہ ہوگا کہ ” مجھے ان چیزوں کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں جنہیں تم دیکھتے ہو

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٣٨ تا ٥٢۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا اللہ کا کلام اللہ کا برحق رسول سناتا ہے نہ یہ محض شاعرانہ بات ہے کہ وہ تو اکثر قابل عمل ہی نہیں ہوتی اور نہ کس کاہن کا کلام ہے کہ جو شیاطین سے سن کر کچھ اٹکل پچو سے سچ جھوٹ ملاکرتیار کرتے ہیں بھلا ان سے اس قدر عظیم نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ہرگز نہیں لیکن کفار کو اس کے باوجود بھی اس پر ایمان نصیب نہیں اور نصیحت حاصل کرنے سے محروم ہیں یہ تو اس پروردگار کا کلام ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے یعنی سب کی ضروریات کا پورا کرنے والا ہے۔ حفاظت الٰہیہ۔ اسی نے ایسانظام بخشا ہے کہ سب کے حقوق کا محافظ ہے اور یہی سبب کے رسول برحق کو اللہ کی حفاظت حاصل ہے اگر ی اپنی طرف سے سب کچھ بنایا گیا ہو تو جس طرح اس نے دنیا کے تمام نظاموں اور حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سب کچھ مٹا کر اللہ کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اس کے داعی توقید وبند میں ہوتے یا قتل کردیے گئے ہوتے یہاں ان مصیبتوں کو اپنی طرف سے منسوب فرمایا کہ اللہ حفاظت نہ فرماتے اور کفار کے غضب کا شکار بنادیتے اور کوئی بھی بچانے والا نہ ہوتا مگر یہ سب اس لیے نہیں ہوا کہ آپ رسول برحق ہیں اور یہ اللہ کا کلام ہے اور ہراس آدمی کی مکمل راہنمائی کرتا ہیے جو اپنارشتہ اللہ کریم سے جوڑے جو ایمان نہیں لاتے وہ بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں گو کہ آج نہیں مان رہے مگر آخر ایک روز یہی قرآن ان کے لیے حسرت کا سبب ہو اور کہیں گے کاش ہم نے مانا ہوتایہ حقیقی اور یقینی بات ہے یعنی قرآن حقائق پہ مبنی ہے لہذا اس عطا پر اپنے عظیم پروردگار کی پاکی بیان کیا جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے رکوع کی تسبیح کے طور پر متعین فرمادیا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی کم اس پر توجہ کرتے ہو۔ اگر رسول کوئی بات اپنی طرف سے ہمارے ذمہ لگا دیتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی شاہ رگ کاٹ ڈالتے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کو فرمایا بالخصوص کفار کو مخاطب کیا ہے کہ ان چیزوں کی قسم جو تم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہو اور ان کی بھی قسم جو تمہاری آنکھیں نہیں دیکھتیں۔ نظرآنے والی اور نظروں سے اوجھل چیزوں سے مراد مفسرین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف حمیدہ، آپ کی جدوجہد کے دور رس اثرات اور مستقبل میں حاصل ہونے والی کامیابیاں لی ہیں۔ اس سورت کی ابتدائی آیات کو سامنے رکھاجائے تو نظر نہ آنے والی چیزوں میں سب سے بڑی بات اور حقیقت قیامت اور اس کی ہولناکیاں ہیں۔ جس کا وہ لوگ انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیامت پر ایمان لانا ہے۔ جس وجہ سے کفار قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرتے اور یہ الزام دیتے تھے کہ یہ رسول کا اپنا کلام ہے۔ کبھی کہتے کہ یہ شاعر کی شاعری ہے اور کبھی ہرزا سرائی کرتے کہ یہ ایک جوگی اور کاہن کی پیش گوئیاں ہیں۔ اس پر انہیں بار بار سمجھایا گیا کہ یہ نہ رسول کا اپنا کلام ہے نہ شاعر کی شاعری اور نہ کسی کاہن کی کہانت ہے۔ یہ تو جہانوں کے رب کا کلام اور فرمان ہے۔ کفار کے تمام الزامات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ کلام الٰہی نہیں بلکہ کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ رب ذوالجلال نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے پُرجلال انداز میں فرمایا کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہونا تو دور کی بات ہے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنی طرف سے ہمارے ذمے لگاتے تو ہم اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے۔ اگر ہم ایسا کرتے تو کوئی بھی تم میں سے ہمیں ایسا کرنے سے نہ روک سکتا۔ شاہ رگ گردن کی وہ رگ ہے اگر کٹ جائے تو انسان کی موت فوری طور پر واقع ہوجاتی ہے۔ دائیں ہاتھ پکڑنے کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ انسان کو اس کے سامنے سے کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کا دایاں ہاتھ ہی پہلے حرکت میں آتا ہے اور قوت کے لحاظ سے یہ بائیں ہاتھ سے طاقت والا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں ہر طرح کے الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ قرآن مجید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہے۔ اس بات کی تو یہاں تردید کی جا رہی ہے کہ اگر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بھی بات قرآن میں شامل کرتا تو اس کی شہ رگ کاٹ دی جاتی۔ اس وضاحت کے بعد ” قول رسول کریم “ کا معنٰی صرف یہی کیا جاسکتا ہے اور ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اسے اللہ کے حکم سے جبریل امین (علیہ السلام) لاتے رہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی زبان سے کئی سال تک لوگوں کے سامنے پڑھتے رہے۔ لہٰذا اس لیے قرآن مجید کو ” قول رسول کریم “ کہا گیا ہے۔ یہ پرہیزگاروں کے لیے بہت بڑی راہنمائی اور نصیحت ہے۔ کفار کا یہ بھی الزام تھا کہ اس پر شیطان وحی کرتے ہیں۔ اس کی تردید کے لیے وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان نہیں اسے آپ کو جبریل (علیہ السلام) پڑھ کر سناتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگائے گئے الزامات اور ان کا جواب : (یونس : ٣) (ص : ٤) (الطور : ٢٩) (یٰس : ٦٩) (النحل : ١٠١) (الطور : ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (٩٦ : ٨٣) وما لا تبصرون (٩٦ : ٩٣) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔ فلا .................... لا تبصرون (٩٦ : ٩٣) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔ اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔ گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب) اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی ) نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو ٢١٩١ میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں : ” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد) سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔ ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں : ” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد) اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔ ” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔ ” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔ ” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔ ” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا : فلا .................... لا تبصرون (٩٦ : ٩٣) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں : فلا افسم .................... رب العلمین (١٤) (٩٦ : ٨٣ تا ٣٤) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔ رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔ اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔ لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ وعندہ .................... کتب مبین (٦ : ٩٥) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔ مثلا یہ تصور : یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (٧٥ : ٤) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔ وما تحمل ........................ اللہ یسیر (٥٣ : ١١) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔ نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔ ان اللہ .................... من بعد (٥٣ : ١٤) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔ یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں : ان اللہ فالق .................................... یومنون (٩٩) (٦ : ٩٩) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔ کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔ کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔ ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔ ” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔ اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“ اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔ عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔ غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔ بیشک یہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔ تنزیل من رب العلمین (٩٦ : ٣٤) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔ اور یہ تعقیبات۔ قلیلاً ما تومنون (٩٦ : ٢٤) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔ قلیلا ما تذکرون (٩٦ : ٢٤) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔ اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے متقیوں کے لیے نصیحت ہے ان آیات میں قرآن کریم اور صاحب قرآن کریم کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں اور دشمنوں کی باتوں کی تردید فرمائی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کو تیار نہ تھے۔ اولاً ارشاد فرمایا کہ تم جن چیزوں کو دیکھتے ہو اور جن چیزوں کو نہیں دیکھتے میں ان کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ شاعر لوگ شاعرانہ باتیں کرتے تھے وہ عام لوگوں کی باتوں سے مختلف ہوتی تھیں اور کاہن لوگ شیاطین سے سن کر آئندہ ہونے والی کوئی بات بتا دیتے تھے۔ (جس کا ذکر سورة ٴ جن میں آ رہا ہے اور سورة ٴ حجر اور سورة ٴ سباء اور سورة ٴ صافات میں گزر چکا ہے) اور ان میں اپنے پاس سے اور بہت سی باتیں ملا کر بیان کردیتے تھے اور تک بندی کی طرح کچھ باتیں کہہ جاتے تھے اہل مکہ نے قرآن کریم کو شاعروں کاہنوں کا کلام بتادیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ شاعر ہیں نہ کاہن ہیں نہ ان لوگوں کے پاس آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہے مگر انسان کی ضد وعناد ایسی چیز ہے کہ جب انسان اس پر کمر باندھ لے اور حق سے بالکل ہی منہ موڑ لے تو قبول حق کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ان میں بہت کم کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو ضد اور عناد کو چھوڑ کر حق کو قبول کرے اور اپنی سمجھ سے کام لے اس لیے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا : ﴿ قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ٠٠٤١﴾ (تم بہت کم ایمان لاتے ہو) اور ﴿ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ٠٠٤٢ ﴾ (تم بہت کم سمجھتے ہو) بھی فرمایا۔ ﴿ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ٠٠٣٨ وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ٠٠٣٩﴾ جو فرمایا اس میں ان چیزوں کی قسم کھائی جنہیں بندے دیکھتے ہیں اور جنہیں نہیں دیکھتے صاحب روح المعانی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی جو بندوں کے مشاہدات اور مغیبات ہیں اس لیے حضرت قتادہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق کی قسم کھا کر بتاکید یہ فرمایا کہ قرآن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لایا ہوا کلام ہے حضرت عطا نے فرمایا کہ تبصرون سے آثار قدرت اور ما لا تبصرون سے اسرار قدرت مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اجسام اور ارواح مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ انسان اور جن اور ملائكہ مراد ہیں۔ وقیل غیر ذلک (روح المعانی صفحہ ٦٠: ج ٢٩)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں وہ نہ شاعر ہیں، نہ کاہن مگر اس کے باوجود تم بہت کم مانتے اور نصیحت پکڑتے ہو۔ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے اترا ہے یا ” انہ لقول رسول کریم “ جواب قسم ہے اور یہ قرآن کے کلام اللہ اور وحی الٰہی ہونے پر استدلال ہے۔ تم بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کیے بغیر ہی ان کو تسلیم کرتے ہو، تو وحی کا بھی انکار نہ کرو، اگر تم اس کے نزول کو آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔