Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 39

سورة الحاقة

وَ مَا لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

And what you do not see

اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] وہ چیزیں جو کافروں کو نظر آتی تھیں اور وہ جو نظر نہیں آتی تھیں وہ کیا ہیں ؟ تم یہ دیکھ رہے ہو، تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ) ایک پاکیزہ سیرت انسان ہے۔ اور اس بات کے تم گواہ ہو کہ اس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ وہ ایک راست باز اور امین آدمی ہے۔ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ اس کا کوئی استاد بھی نہیں۔ پھر چالیس سال کی عمر میں یک لخت ایسا معجزہ نما کلام پیش کرنے لگا ہے جس نے تم سب کو چونکا دیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ نے ایک فرشتہ جبریل کے ذریعہ مجھ پر اتارا ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ تم نے انکار کیا تو اس نے تمہیں چیلنج کردیا کہ اگر یہ اللہ کا کلام نہیں تو تم اس جیسا کلام بنا لاؤ اور اپنے سب ادیبوں اور شاعروں اور علماء کو اپنی مدد کے لیے بلا لو۔ مگر تم اس کا جواب دینے سے عاجز رہے پھر تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ جو کلام پیش کرتا ہے سب سے پہلے خود ان پر عمل پیرا ہوتا ہے پھر اس کے ساتھی بھی ان احکام کی تعمیل کرتے ہیں جن سے ان کے اخلاق سدھر رہے ہیں۔ تمہاری طعن وتشنیع کو & دشنام طرازیوں اور تمہاری ایذارسانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں اور تمہاری کارروائیوں کا زبان سے بھی جواب نہیں دیتے۔ یہ چیزیں تو وہ ہیں جو تم دیکھ رہے ہو اور جو نہیں دیکھ رہے وہ یہ ہیں کہ نہ تمہیں اللہ نظر آتا ہے نہ اس کے فرشتے جن کا تمام تر ظاہری اور باطنی اسباب پر کنٹرول ہے۔ اور نہ وہ فرشتہ جبریل جو قرآن لے کر تمہارے صاحب کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ نہ تمہیں یہ نظر آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے مسلمانوں کی کیسے امداد کر رہا ہے اور نہ تمہیں یہ نظر آسکتا ہے کہ کون سے اسباب کے ذریعہ تمہاری جڑ کٹ جانے والی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: اس سے مراد کائنات کی تمام مخلوقات ہیں جن میں سے کچھ اِنسانوں کو نظر آتی ہیں، اور کچھ نظر نہیں آتیں، جیسے عالم بالا کی مخلوقات۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جسے تم دیکھتے ہو سے مراد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں اور ’’جسے نہیں دیکھتے‘‘ سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جو آپ پر وحی لے کر آتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:39) وما لا تبصرون : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور (ان چیزوں کی) جن کو تم نہیں دیکھ سکتے۔ آیات 38:39 میں اول الذکر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو صفات خداوندی کی مظہر ہیں۔ اور جن کو عقل یا چہرہ کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ مؤخر الذکر سے مراد وہ صفات و ذوات مراد ہیں جن کی حقیقت نہ دانش و فہم سے نظر آتی ہیں نہ آنکھوں سے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اول سے مراد اجسام اور دوسرے سے ارواح۔ یا اول سے مراد انسان اور دوسرے سے مراد جن و ملائکہ۔ یا اول سے مراد وہ علم ہے جس کو اللہ نے ملائکہ، جن و انس پر ظاہر کردیا ہے اور دوسرے سے مراد وہ خصوصی علم ہے جس سے اور کوئی واقف نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ اس قسم کو مقصود سے ایک خاص مناسبت ہے کہ قرآن مجید کا لانے والا تو نظر نہ آتا تھا اور جن پر قرآن آتا تھا وہ نظر آتے تھے، یعنی تمام مخلوق کی قسم ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے۔ دنیا کی بعض چیزیں مدرک بالبصر ہیں اوراقرب الی الفہم ہیں اور بعض نہیں اسی وجہ سے مفسرین نے بہت سی باتیں بیان کی ہیں مثلاً قرآن کے وہ لطائف جن کو سمجھ سکتے ہوں اور وہ لطائف جن کو بدون تعلیم اور تنبیہہ کے نہیں سمجھ سکتے یعنی عقل کی آنکھ بعض خوبیوں کو دیکھ لیتی ہے اور بعض پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی محتاج ہوتی ہیں۔ یا ماتبصرون سے جو زمین کے اوپر ہے اور مالا تبصرون سے وہ جو زمین کے نیچے پوشیدہ ہے یا عالم اجسام اور عالم ارواح یا مکہ معظمہ اور بیت المعمور غرض معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم بہت عام ہے اور بعض نے فرمایا ہے کہ ماتبصرون سے پیغمبر کی ذات اقدس اور مالا تبصرون سے اس کلام کو لانے والا فرشتہ ، بہرحال تمام مخلوق کی قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں۔