Allah says,
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الاَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاء أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ
...
Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previous inhabitants that had We willed, We would have punished them for their sins.
Ibn Abbas commented on Allah's statement,
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الاَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا
(Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previous inhabitants. ..),
"(Allah says,) did We not make clear to them that had We willed, We would have punished them because of their sins!"
Mujahid and several others said similarly.
Abu Jafar bin Jarir At-Tabari explained this Ayah,
"Allah says, `Did We not make clear to those who succeeded on the earth after destroying the previous nations who used to dwell in that land. Then they followed their own ways, and behaved as they did and were unruly with their Lord. (Did We not make clear to them) that,
أَن لَّوْ نَشَاء أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ
(that had We willed, We would have punished them for their sins) by bringing them the same end that was decreed for those before them,
...
وَنَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِهِمْ
...
And We seal up their hearts,
We place a cover over their heart,
...
فَهُمْ لاَ يَسْمَعُونَ
so that they hear not,
words of advice or reminding"'
I say that similarly, Allah said,
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاَيَـتٍ لاٌّوْلِى النُّهَى
Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them, in whose dwellings they walk Verily, in this are signs indeed for men of understanding. (20:128)
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَاتٍ أَفَلَ يَسْمَعُونَ
Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them in whose dwellings they do walk about Verily, therein indeed are signs. Would they not then listen! (32:26)
and,
أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍوَسَكَنتُمْ فِى مَسَـكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ
Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter). And you dwelt in the dwellings of men who wronged themselves! (14:44-45)
Also, Allah said,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً
And how many a generation before them have We destroyed! Can you find a single one of them or hear even a whisper of them! (19:98)
meaning, do you see any of them or hear their voices.
There are many other Ayat that testify that Allah's torment strikes His enemies, while His bounty reaches His faithful believers. Thereafter comes Allah's statement, and He is the Most Truthful, the Lord of all that exists,
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا ۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت ( اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ١٢٨ۧ ) 20-طه:128 ) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں ۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں تھیں اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ کیا یہ سن نہیں رہے ؟ ایک آیت میں فرمایا تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آنے کا ہی نہیں حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے ۔ خالی گھر رہ گئے ۔ ایک اور آیت میں ہے آیت ( وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74 ) 19-مريم:74 ) ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے نہ کسی کی آواز سنائی دے اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے ، مال دار تھے ، عیش و عشرت میں تھے ، راحت و آرام میں تھے ، اوپر سے ابر برستا تھا نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہوگئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے ۔ عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں ، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا ۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے ۔ حالانکہ دنیوی و جاہت بھی ان کے پاس تھی آنکھ ، کان ، ھاتھ سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے ، نہ عقل آئی نہ اسباب بچے ۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو ۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے ؟ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے ۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے انہیں غور سے سنو ۔ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے ۔ زمین میں چل پھر کر ، آنکھیں کھول کر ، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو ۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بیکار ہوں ۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا ۔ ایسے گھیرے آگئے کہ ایک بھی نہ بچا ۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں ، اس کے وعدے اٹل ہیں وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے ۔