Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 100

سورة الأعراف

اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لِلَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَہۡلِہَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ ۚ وَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.

اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ( ان واقعات مذکورہ نے ) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگادیں ، پس وہ نہ سن سکیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says, أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الاَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاء أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ... Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previous inhabitants that had We willed, We would have punished them for their sins. Ibn Abbas commented on Allah's statement, أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الاَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا (Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previous inhabitants. ..), "(Allah says,) did We not make clear to them that had We willed, We would have punished them because of their sins!" Mujahid and several others said similarly. Abu Jafar bin Jarir At-Tabari explained this Ayah, "Allah says, `Did We not make clear to those who succeeded on the earth after destroying the previous nations who used to dwell in that land. Then they followed their own ways, and behaved as they did and were unruly with their Lord. (Did We not make clear to them) that, أَن لَّوْ نَشَاء أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ (that had We willed, We would have punished them for their sins) by bringing them the same end that was decreed for those before them, ... وَنَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ... And We seal up their hearts, We place a cover over their heart, ... فَهُمْ لاَ يَسْمَعُونَ so that they hear not, words of advice or reminding"' I say that similarly, Allah said, أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاَيَـتٍ لاٌّوْلِى النُّهَى Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them, in whose dwellings they walk Verily, in this are signs indeed for men of understanding. (20:128) أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَاتٍ أَفَلَ يَسْمَعُونَ Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them in whose dwellings they do walk about Verily, therein indeed are signs. Would they not then listen! (32:26) and, أَوَلَمْ تَكُونُواْ أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍوَسَكَنتُمْ فِى مَسَـكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter). And you dwelt in the dwellings of men who wronged themselves! (14:44-45) Also, Allah said, وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً And how many a generation before them have We destroyed! Can you find a single one of them or hear even a whisper of them! (19:98) meaning, do you see any of them or hear their voices. There are many other Ayat that testify that Allah's torment strikes His enemies, while His bounty reaches His faithful believers. Thereafter comes Allah's statement, and He is the Most Truthful, the Lord of all that exists,

گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا ۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت ( اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ١٢٨؀ۧ ) 20-طه:128 ) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں ۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں تھیں اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ کیا یہ سن نہیں رہے ؟ ایک آیت میں فرمایا تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آنے کا ہی نہیں حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے ۔ خالی گھر رہ گئے ۔ ایک اور آیت میں ہے آیت ( وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74؀ ) 19-مريم:74 ) ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے نہ کسی کی آواز سنائی دے اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے ، مال دار تھے ، عیش و عشرت میں تھے ، راحت و آرام میں تھے ، اوپر سے ابر برستا تھا نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہوگئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے ۔ عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں ، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا ۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے ۔ حالانکہ دنیوی و جاہت بھی ان کے پاس تھی آنکھ ، کان ، ھاتھ سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے ، نہ عقل آئی نہ اسباب بچے ۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو ۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے ؟ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے ۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے انہیں غور سے سنو ۔ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے ۔ زمین میں چل پھر کر ، آنکھیں کھول کر ، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو ۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بیکار ہوں ۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا ۔ ایسے گھیرے آگئے کہ ایک بھی نہ بچا ۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں ، اس کے وعدے اٹل ہیں وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

100۔ 1 یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر قفل لگ جاتے ہیں، پر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے، دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی حق کی آواز کے لئے ان کے کان بھی بند ہوجاتے ہیں پھر واعظ و نصیحت ان کے لئے بیکار ہوجاتے ہیں۔ آیت میں ہدایت تبیین (وضاحت) کے معنی میں ہے اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] یعنی اگر وہ چاہتے تو اپنی پیش رو قوم کے انجام سے عبرت حاصل کرسکتے تھے اور یہ بات وہ خوب سمجھ سکتے تھے کہ جن جرائم کی پاداش میں پہلی قومیں ہلاک کی گئی ہیں اگر ہم میں بھی وہ جرائم پائے جائیں تو ہم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہوسکتی ہے اور ہمارے دلوں پر بھی ایسی ہی مہر لگ سکتی ہے جب ہمارے کان کوئی ہدایت کی بات سننے پر آمادہ ہی نہ ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ ۔۔ : یعنی کیا بعد میں آنے والوں کو پہلوں کے حالات سن اور دیکھ کر یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوئی اور انھیں اس سے رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کہ ہم چاہیں تو ان کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں میں پکڑ لیں۔ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ : یعنی ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں تو وہ نصیحت کی کوئی بات نہیں سنتے، آخر کار اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیے جاتے ہیں۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں کہ اس فقرے کا یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب اسے ” ُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ“ پر معطوف نہ مانا جائے (بلکہ نیا کلام مانا جائے) اور اگر اسے ” ُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ“ پر معطوف مانا جائے ( اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے) تو ترجمہ یوں ہوگا :” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں۔ “ مگر ابن عاشور صاحب ” التحریر والتنویر “ اور محیی الدین الدرویش صاحب ” اعراب القرآن “ نے اس معنی کی تردید کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا عطف ” بذنوبھم “ پر مانا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے دل پر مہر کردیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک مہر نہیں لگائی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، اس لیے ” وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ “ نیا کلام ہے، اس کا عطف ” بذنوبھم “ پر درست نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتا ہے انھیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور یہ جانتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہیے کہ اگر ظلم و فساد کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کردیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After relating events of the early people, the above verses invite the people of Arabia and the people of the world to take lesson from these events by abstaining from deeds that incurred Allah&s wrath, and by following the practices that led the prophets and their believers to eternal success. The verse 100 speaks |" Is it not a guidance to those who inherit the land after it&s (former) inhabitants that, if We so will, We would afflict them for their sins?|" The word ھَدٰی۔ یَھدِی signifies to guide or to inform. The events narrated above have been made the subject of the verb (guide) یَھدِ. The verse implies that these events should serve as a lesson and a means of guidance for later generations who have inherited the land from their earlier owners. They too, can incur the punishment of Allah for their disbelief just as their ances¬tors met the fate of ruin and disaster for their disobedience. Thereafter, the verse says: وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ |"And We seal their hearts so that they do not listen|" The word: طبع is used for printing or stamping. It implies that these people have taken no lesson from the past events with the result that they incurred the wrath of Allah making their hearts sealed. They are, therefore, unable to listen to the truth. The Holy Prophet g said in a Tradition: When one commits sin for the first time a black dot is placed on his heart, if he keeps committing sins for the second and third times the second and third dots are placed. If one increases in his sins without repenting to Allah, these black spots keep increasing until the whole heart is painted black.|" This ultimately deprives man of his natural faculty of distinguishing right from wrong. This, conse¬quently, leads one to receive evil as good and good as evil, harmful as useful and useful as harmful. This perversion of human understanding has been termed in the Holy Qur&an as & ra&n& signifying the rust of the heart. In this verse, as in many other verses of the Holy Qur&an, this stage has been named as &taba|". The result of their hearts being sealed has been mentioned at the end of the verse by saying (لَا يَسْمَعُونَ ) |"so that they do not listen|". One may think that more appropriate expression in this context was (S& ) they do not understand|" as the adverse effect of sealing, of فَهُمْ لَا يَفقھُونَ the heart is obviously related to the faculty of understanding and not to the listening. The Holy Qur&an has used the word &listen& to indicate that understanding is usually the result of listening to the truth. Now, since their hearts have been sealed they are rendered unable to listening the truth. Another explanation to this may be that all human faculties and limbs are controlled by human heart, that is, the function of all human parts is adversely affected by malfunctioning of the heart. When one loves anyone or anything he likes everything - good or bad - in that person or object.

خلاصہ تفسیر (آگے اس کی علت بتلاتے ہیں کہ ان کو عذاب سے کیوں ڈرنا چاہئے، اور علت ان کا امم سابقہ کے ساتھ جرم کفر میں شریک ہونا ہے یعنی) اور ان (گذشتہ) زمین پر رہنے والوں کے بعد جو لوگ (اب) زمین پر بجائے ان کے رہتے ہیں کیا ان واقعات مذکورہ نے ان کو یہ بات ( ہنوز) نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو (بھی مثل امم سابقہ کے) ان کے جرائم (کفر تکذیب) کے سبب ہلاک کر ڈاتے ( کیونکہ) امم سابقہ ان ہی جرئم کے سبب ہلاک کی گئی) اور ( واقعی یہ واقعات تو ایسے ہی ہیں کہ ان سے سبق لینا چاہئے تھا لیکن اصل یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اس سے وہ حق بات کو دل سے) سنتے ( بھی) نہیں (اور ماننا تو درکنار رہا، پس اس بند لگانے سے ان کی قساوت بڑھ گئی کہ ایسے عبرت خیز واقعات سے بھی عبرت نہیں ہوتی اور اس بند لگانے کا سبب انہی کا ابتداء میں کفر کرنا ہے، لقولہ تعالیٰ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ ۔ آگے شاید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے سارے مضمون مذکور کا خلاصہ ہے کہ) ان (مذکورہ) بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب (بستیوں میں رہنے والوں) کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تھے ( مگر) پھر (بھی ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی یہ کیفیت تھی کہ) جس چیز کو انہوں نے اول ( وہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے ( اور جیسے یہ دل کے سخت تھے) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگادیتے ہیں اور ( ان میں سے بعضے لوگ مصیبتوں میں ایمان لانے کا عہد بھی کرلیتے تھے لیکن) اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا ( یعنی زوال مصیبت کے بعد پھر ویسے کے ویسے ہی ہوجاتے تھے) اور ہم نے اکثر لوگوں کو ( باوجود ارسال رسل و اظہار معجزات ونزول بینات و توثیق معاہدات) بےحکم ہی پایا ( پس کفار ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتے رہے ہیں، آپ بھی غم نہ کیجئے ) ۔ معارف ومسائل آیات مذکورہ میں بھی پچھلی قوموں کے واقعات و حالات سنا کر موجودہ اقوام عرب وعجم کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان واقعات میں تمہارے لئے بڑا درس عبرت ہے کہ جن کاموں کی وجہ سے پچھلے لوگوں پر اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہوا ان کے پاس نہ جائیں اور جن کاموں کی وجہ سے انبیاء علیھم السلام اور ان کے متبعین کو کامیابی حاصل ہوئی ان کو اختیار کریں۔ چناچہ پہلی آیت میں ارشاد ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ، ھدی یھدی کے معنی نشان دہی کرنے اور بتلانے کے آتے ہیں، اس جگہ اس کا فاعل وہ واقعات ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، معنی یہ ہیں کہ موجودہ زمانہ کے لوگ جو پچھلی قوموں کے ہلاک ہونے کے بعد ان کی زمینوں مکانوں کے وارث بنے یا آئندہ بنیں گے کیا ان کو پچھلے عبرتناک واقعات نے یہ نہیں بتلایا کہ کفر و انکار اور احکام خداوندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں جس طرح ان کے مورث اعلی (یعنی پچھلی قومیں) ہلاک و برباد ہوچکی ہیں اسی طرح اگر یہ بھی انہیں جرائم کے مرتکب رہے تو ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا قہر و عذاب آسکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، طبع کے معنی چھاپنے اور مہر لگانے کے ہیں اور معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ واقعات ماضیہ سے بھی کوئی عبرت اور ہدایت حاصل نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غضب الہی سے ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ کچھہ نہیں سنتے، حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب کوئی انسان پہلے پہل گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک نقطہ سیاہی کا لگ جاتا ہے، دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا اور تیسرا گناہ کرتا ہے تو تیسرا نقطہ لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ برابر گناہوں میں بڑھتا گیا توبہ نہ کی تو یہ سیا ہی کے نقطے اس کے سارے قلب کو گھیر لیتے ہیں اور انسان کے قلب میں اللہ تعالیٰ نے جو فطری مادہ بھلے برے کی پہچان اور برائی سے بچنے کا رکھا ہے وہ فنا یا مغلوب ہوجاتا ہے، اور اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ اچھی چیز کو برا اور بری کو اچھا، مفید کو مضر اور مضر کو مفید خیال کرنے لگتا ہے، اسی حالت کو قرآن میں دان یعنی قلب کے زنگ سے تعبیر فرمایا ہے، اور اسی حالت کا آخری نتیجہ وہ ہے جس کو طبع یعنی مہر لگانے سے اس آیت میں اور بہت سی دوسری آیات میں تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ دل پر مہر لگ جانے کا نتیجہ تو عقل وفہم کا معدوم ہوجانا ہے، کانوں کی سماعت پر تو اس کا کوئی اثر عادة نہیں ہوا کرتا، تو اس آیت میں موقع اس کا تھا کہ اس جگہ فھم لا یفقھون فرمایا جاتا یعنی وہ سمجھتے نہیں، مگر قرآن کریم میں یہاں فھم لایسمعون آیا ہے یعنی وہ سنتے نہیں۔ سبب یہ ہے کہ سننے سے مراد اس جگہ ماننا اور اطاعت کرنا ہے جو نتیجہ ہوتا ہے سمجھنے کا، مطلب یہ ہے کہ دلوں پر مہر لگ جانے کے سبب وہ کسی حق بات کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کا قلب اس کے تمام اعضاء وجوارح کا مرکز ہے جب قلب کے افعال میں خلل آتا ہے تو سارے اعضاء کے افعال مختل ہوجاتے ہیں، جب دل میں کسی چیز کی بھلائی یا برائی سما جاتی ہے تو پھر ہر چیز میں اس کو آنکھوں سے بھی وہی نظر آتا ہے، کانوں سے بھی وہی سنائی دیتا ہے۔ چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش درنظر دوسری آیت میں ارشاد فرمایا تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا، انبائ، نبا کی جمع ہے جس کے معنی ہیں کوئی عظیم الشان خبر، معنی یہ ہیں کہ ہلاک شدہ بستیوں کے بعض واقعات ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ اس میں حرف من سے اشارہ کردیا گیا کہ پچھلی اقوام کے حالات و واقعات جو ذکر کئے گئے ہیں وہ سب واقعات کا استیعاب نہیں بلکہ ہزاروں واقعات میں سے چند اہم واقعات کا بیان ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَہْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ۝ ٠ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۝ ١٠٠ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» أي : أصله وبقيّته ( ور ث ) الوارثۃ والا رث کے معنی عقد شرعی یا جو عقد کے قائم مقام ہے جو کے بغیر کسی چیز کے ایک عقد کے قائم مقام ہے کے بغیر کسی چیز کے ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دسرے کی ملکیت میں چلے جانا کئے ہیں اسی سے میت کی جانب سے جو مال ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے اسے تراث اور کیراث کہا جاتا ہے اور تراث اصل میں وراث ہے واؤ مضموم کے شروع میں آنے کی وجہ سے اسے تا سے تبدیل کرلو اسے چناچہ قرآن میں سے ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] اور حج کے موقعہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ۔«اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» کہ اپنے مشاعر ( مواضع نسکہ ) پر ٹھہرے رہو تم اپنے باپ ( ابراہیم کے ورثہ پر ہو ۔ تو یہاں ارث کے معنی اصل اور بقیہ نشان کے ہیں ۔ ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ طبع الطَّبْعُ : أن تصوّر الشیء بصورة مّا، كَطَبْعِ السّكّةِ ، وطَبْعِ الدّراهمِ ، وهو أعمّ من الختم وأخصّ من النّقش، والطَّابَعُ والخاتم : ما يُطْبَعُ ويختم . والطَّابِعُ : فاعل ذلك، وقیل للطَّابَعِ طَابِعٌ ، وذلک کتسمية الفعل إلى الآلة، نحو : سيف قاطع . قال تعالی: فَطُبِعَ عَلى قُلُوبِهِمْ [ المنافقون/ 3] ، ( ط ب ع ) الطبع ( ف ) کے اصل معنی کسی چیز کو ( ڈھال کر) کوئی شکل دینا کے ہیں مثلا طبع السکۃ اوطبع الدراھم یعنی سکہ یا دراہم کو ڈھالنا یہ ختم سے زیادہ عام اور نقش سے زیادہ خاص ہے ۔ اور وہ آلہ جس سے مہر لگائی جائے اسے طابع وخاتم کہا جاتا ہے اور مہر لگانے والے کو طابع مگر کبھی یہ طابع کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہ نسبۃ الفعل الی الآلۃ کے قبیل سے ہے جیسے سیف قاطع قرآن میں ہے : فَطُبِعَ عَلى قُلُوبِهِمْ [ المنافقون/ 3] تو ان کے دلوں پر مہر لگادی ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) کیا سرزمین مکہ کے رہنے والوں پر ابھی تک یہ چیز واضح نہیں ہوئی کہ جیسا ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا ہے اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیں اور ان پر مہر لگا دیں جس کی وجہ سے انکو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم کی تصدیق کی توفیق ہی نہ ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٠ (اَوَلَمْ یَہْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ ج) کیا بعد میں آنے والی قوم نے اپنی پیش رو قوم کی تباہی و بربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ؟ قوم عاد نے کیوں کوئی سبق نہیں سیکھا قوم نوح کے عذاب سے ؟ اور قوم ثمود نے کیوں عبرت نہیں پکڑی قوم عاد کی بربادی سے ؟ ‘ اور قوم شعیب نے کیوں نصیحت حاصل نہیں کی قوم لوط کے انجام سے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

79. Every nation which rises in place of one that falls, can perceive the misdeeds which brought about the preceding nation's fall. Were such a people to make use of their reason, to appreciate the false ideas and misdeeds which led to the undoing of those who once strutted abroad in vainglory, they would have realized that the Supreme Being Who had once punished them for their misdeeds and deprived them of power and glory had not ceased to exist. Nor has that Supreme Being been deprived of the power to inflict a punishment on the people of the present times, a power with which He smote the nations of the past. Nor has God become bereft of the capacity to dislodge the wicked nations of today in the manner He did in the past. 80. Those people who derive no lesson from history, who thoughtlessly pass over the ruins of the past, remaining engrossed in heedlessness, are deprived by God of the capacity to think correctly and to pay due attention to the counsel of well-wishers. Such is the God-made law of nature that if someone closes his eyes, not even a single ray of sun-light will reach his sight. Similarly, if someone is bent upon closing his ears none can make him hear even a word.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :79 یعنی ایک گرنے والی قوم کی جگہ جو دوسری قوم اُٹھتی ہے اس کے لیے اپنی پیش رو قوم کے زوال میں کافی رہنمائی موجود ہوتی ہے ۔ وہ اگر عقل سے کام لے تو سمجھ سکتی ہے کہ کچھ مدّت پہلے جو لوگ اسی جگہ داد عیش دے رہے تھے اور جن کی عظمت کا جھنڈا یہاں لہرا رہا تھا انہیں فکر وعمل کی کن غلطیوں نے برباد کیا ، اور یہ بھی محسوس کر سکتی ہے کہ جس بالا تر اقتدار نے کل اُنہیں ان کی غلطیوں پر پکڑا تھا اور ان سے یہ جگہ خالی کرالی تھی ، وہ آج کہیں چلا نہیں گیا ہے ، نہ اس سے کسی نے یہ مقدرت چھین لی ہے کہ اس جگہ کے موجودہ ساکنین اگر وہی غلطیاں کریں جو سابق ساکنین کر رہے تھے تو وہ ان سے بھی اسی طرح جگہ خالی نہ کراسکے گا جس طرح اس نے ان سے خالی کرائی تھی ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :80 یعنی جب وہ تاریخ سے اور عبرتناک آثار کے مشاہدے سے سبق نہیں لیتے اور اپنے آپ کو خود بھلاوے میں ڈالتے ہیں تو پھر خدا کی طرف سے بھی انہیں سوچنے سمجھنے اور کسی ناصح کی بات سننے کی توفیق نہیں ملتی ۔ خدا کا قانونِ فطرت یہی ہے کہ جو اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اس کی بینائی تک آفتاب روشن کی کوئی کرن نہیں پہنچ سکتی اور جو خود نہیں سننا چاہتا اسے پھر کوئی کچھ نہیں سنا سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اللہ پاک نے اس میت میں یہ بات بیان کی کہ جو لوگ رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے کیسے بےپرواہ میں ان سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں جن کے یہ جانشین بن کر بیٹھے ہیں ان کے حال سے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہوا انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور دین حق سے روگرداں رہے تو کس ذلت کے ساتھ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوئے ہم چاہیں تو انہیں قوموں کی طرح گیا اس کو نہیں پکڑ سکتے ہیں ان پر عذاب نہیں بھیج سکتے ہیں یہ ان کے پکڑے جانے کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر بھی اسی مہر لگادی کہ نصیحت سننے اور سمجھنے سے مجبور ہیں۔ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ لگ کر اس کا دل ایسا سخت ہوجاتا ہے کہ کسی نیک بات کے اثر سے اس کا دل نرم نہیں ہوتا اس آیت میں گنہگار نافرمان لوگوں کے دلوں پر مہر لگ جانے کا جو ذکر ہے یہ وہی دل پر زنگ لگ جانے کی مہر ہے جس کا ذکر ابوہریرہ (رض) اس حدیث میں ہے چناچہ اس کی زیادہ تفصیل سورة ویل للمطففین میں آوے گی :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:100) لم یھد۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لم۔ ھدایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ اصل میں یھدی تھا۔ لم کی وجہ سے مضارع بمعنی ماضی ہوا۔ کیا ہدایت نہیں کی ۔ کیا موجب ہدایت نہیں ہوا۔ جب لازم کو حرف صلہ یا حرف جر لگا کر متعدی بنایا جائے تو معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً ذھب گیا۔ ذھب بہ لے گیا۔ موجودہ صورت میں ھدی یھدی پر اللام حرف صلہ لایا گیا ہے۔ یھدی ل واضح کرنا۔ اولم یھد للذین ۔۔ بذنوبھم۔ کیا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں اس امر واقعی نے واضح نہیں کردیا۔ کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں۔ ونطبع ۔۔ لایسمعون ۔ اگر یہ جملہ پہلے پر عطف ہے تو مطلب یہ ہوگا۔ ” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا سکتے ہیں کہ وہ کچھ سنیں ہی نہیں۔ اور اگر یہ نیا جملہ ہے تو اس کا معنی ہوگا۔ (اگر یہ حقائق سے سبق نہ سیکھیں گے تو) ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے کہ وہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔ (انسان دھیان دے کر نصیحت تبھی سنتا ہے اگر اس کا دل اثر قبول کرنے کی خواہش رکھتا ہو۔ اگر دل پر مہر لگی ہوئی ہے تو پھر سنتا کون ہے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اور انہیں تباہ کر ڈالیں ج جیسا کہ ان کو تباہ کر ڈا لا جن کی جگہ یہ آباد ہوئے ہیں۔ ابن کثیر)9 آخراک اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیئے جاتے ہیں اس فقرہ کا دیا گیا ترجمہ اس صورت میں ہے جب اسے اصبناھم بذنوبھم پر معطور نہ جائے کہ اور اگر اسے اصبنام ھم بذجو بھم پر معطوف مانا جائے اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے۔ تو ترجمہ یوں ہوگا اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتے ہے انہیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور کہ جانتے ہوئے اور انپنی زندگی گزارنے نے چاہیے کہ اگر ظلم و انصاف کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طراح تباہ و برباد کردے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کردیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔ اسرار و معارف : ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں گرفتار ہو کر مختلف تباہیوں کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر دوسری سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں گرفتار ہو کر مختلف تباہیوں کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر دوسری سزا جو گناہ پر مرتب ہوتی ہے کہ دل پر مہر کردی جاتی ہے۔ قلوب پر اعمال کا اثر : یعنی دل کا دروازہ حق بات لیے بند ہوجاتا ہے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے پھر کرتا ہے تو سیاہی اور بڑھتی ہے حتی کہ مسلسل گناہ سے دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے یہی وہ حال ہے جسے کبھی مہر سے اور کبھی ران یعنی زنگ سے تعبیر فرمایا گیا ہے فرمایا پھر انہیں کچھ سنائی نہیں دیتا حالانکہ وہ بہرے تو نہیں ہوجاتے اور سب کچھ سن رہے ہوتے ہیں مگر یہ بھی تجربہ شدہ بات ہے کہ بہترین ذرائع کے باوجود لوگ ہدایت سے مھروم رہے مثلاً خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا کلام سنا اور ایمان نہ لائے بلکہ انہیں وہ تکلیف دہ محسوس ہوا اس لیے کہ برے اعمال کے باعث دل سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے اور نیکی کو قبول کرنے کی استعداد سے محروم تھے اگر دل میں سے یہ قوت ختم ہوجائے تو کان آنکھ یا جملہ حسیات صرف بدن کی ضروریات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے کام کرتی ہیں جو ہر جاندار کو حاصل ہے لہذا صرف بدنی ضرورت کے کام آنا اور روح کی ضروریات سے بیخبر ہوجانا اتنا بڑا جرم اور ایسی محرومی ہے کہ ارشاد فرمایا یہ سنتے ہیں ہی نہیں اصل انسان تو روح تھی بدن تو اس کا آلہ تھا جب روح کے فائدے کی بات یا اس کی ضرورت کی بات نہیں سنتے تو ایسا ہی ہے کہ یہ سنتے ہیں ہی نہیں۔ اور اے حبیب اسی غرض سے ان تباہ شدہ بستیوں اور عذاب الہی میں گرفتار شدہ اقوام کے حالات کا بعض حصہ یا بعض واقعات ہم آپ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی قوم اور امت دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرے ان کے پاس بھی اللہ کے رسول واضح دلائل اور معجزات لے کر آئے مگر وہ اپنی انا میں گرفتار رہے کہ جو جھوٹ انہوں نے ایجاد کر رکھے تھے انہیں پر اصرار کرتے رہے اور حق کو قبول نہ کیا یہ صورت حال آج بھی کسی نہ کسی صورت دیکھی جاسکتی ہے کہ لوگ اور اچھے پڑھے لکھے لوگ یا علما بھی جب ایک بات کہہ دیتے ہیں تو اس پر ضد کرتے ہیں اور دلائل کی ناروا تاویل کرنے میں لگے رہتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ اگر غلطی ہوجائے تو پتہ چلنے پر توبہ کرنا اور حق کو قبول کرنا چاہیے کفار میں تو یہ بات اس لیے پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے۔ سب کے نہیں مگر اکثر کے ضرور کردی جاتی ہے اور یہ اکثر وہی ہوتے ہیں جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں ایسے ہی اگر مومن بھی نافرمانی کا راستہ اختیار کرلے تو بعض اوقات دل تباہ ہوجاتا ہے اور ایسا آدمی ایمان چھوڑ کر کفر کی دلدل میں جا گرتا ہے۔ فرمایا جن میں اکثر کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے وہ سب بدعہد ہوتے ہیں یعنی نافرمان ہوتے ہیں کہ یوم الست جو عہد کیا اسے بھی پورا نہیں کرتے اور زندگی میں کتنے مواقع مشکلات وغیرہ کے آتے ہیں جب کہہ اٹھتے ہیں اگر یہ مصیبت ٹل گئی تو پھر جرم نہ کروں گا مگر جب مصیبت ختم ہوجائے تو پھر گناہ کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور اکثر گناہ اور برائی میں مشغول رہتے ہیں۔ صرف نبی ہی اللہ کی ذات وصفات اور پسند و ناپسند سے مطلع فرما سکتا ہے : پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا بادشاہ مصر جس کا لقب فرعون ہوتا تھا یعنی تمام بادشاہ فرعون کہلاتے تھے۔ کی طرف اور اس کے امراء اور مذہبی پیشواؤں کی طرف اپنے احکام اپنی باتیں اور بہت سے واضح معجزات عطا فرما کر مبعوث فرمایا گیا مگر انہوں نے زیادتی کی نبی کے ساتھ بھی اور اللہ کے دین اور آیات کے ساتھ بھی تو پھر دیکھئے ایسے فساد پرور لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ موسی (علیہ السلام) نے فرعون کو دعوت دی اور فرمایا میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ یعنی بعثت نبوت اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے ، اور میں کبھی اللہ کی طرف غلط بات منسوب نہیں کرسکتا۔ یعنی تمام نبی معصوم بھی ہوتے ہیں امانت دار بھی اور اللہ کی ذات وصفات یا پسند و ناپسد کا علم خود اللہ کی ذات سے پاتے ہیں لہذا غیر نبی اگر اپنی طرف سے کسی بات پر ثواب یا عذاب کا وعدہ کرے تو یہ اللہ کریم پر جھوٹ باندھنے والی بات ہوگی مگر اللہ کے نبی کبھی اللہ پر ایسی بات نہیں کہتے جس کے کہنے کا خود اللہ کی طرف سے حکم نہ دیا گیا ہو۔ پھر میں تمہارے رب کی طرف سے معجزات بھی لایا ہوں یعنی اللہ نے مجھے ایسے امور عطا فرمائے ہیں جو انسانی بس سے باہر ہیں اس لیے کہ وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہاری تربیت کرنا چاہتا ہے لہذا کفر و شرک اور ظلم و جور سے باز آجاؤ اور بنی اسرائیل کو جو ظلماً غلامی میں جکڑ رکھا ہے اس سے توبہ کرو اور انہیں میرے ساتھ جانے اور رہنے کی آزادی دو تو فرعون نے کہا اگر آپ کے پاس کوئی ایسی نشانی ہے تو پیش کریں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت سے معجزات کا تزکرہ ملتا ہے جن میں سے دو بہت واضح تھے ایک ہاتھ کی لاٹھی کو پھینکتے تو وہ بہت بڑا اژدھا بن جاتی اور دوسرا یہ تھا کہ ہاتھ کو بغل میں دے کر نکالتے تو وہ روشن ہوجاتا تھا۔ یہ سنت الہی ہے کہ لوگوں کے پاس جیسے علوم اور کمالات ہوں ویسے ہی معجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دئیے جاتے ہیں فرعون کا دور جادو کے کمالات کا دور تھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ جادوگروں پر ان کی عظمت ثابت ہوگئی چناچہ انہوں نے لاٹھی پھینکی تو بہت بڑا اژدھا بن گئی اور ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالا تو وہ روشن اور سفید ہوگیا کہ پورا ماحول روشن کردیا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (100 تا 102 ) ۔ یرثون (وہ مالک ہوتے ہیں) ۔ اصبنھم (ہم نے ان کو پہنچایا۔ مصیبت میں ڈالا) ۔ نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لا یسمعون (وہ نہیں سنتے ہیں) ۔ تلک القری (یہ بستیاں ) ۔ نقص (ہم بیان کرتے ہیں ) ۔ انباء (خبریں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (100 تا 102) ۔ ” جیسا کہ گذشتہ آیات میں سمجھایا گیا ہے کہ قوموں کی تباہی ان کے گناہوں اور بد اعمالیوں کی سزا ہے جب وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں بہت دور نکل جاتی ہیں۔ جب اصلاح کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں، زلزلہ، طوفان، قحط، آتش زدگی، آتش فشانی، جنگ، وبا، وغیرہ یہ محض موسمی، جغرافیائی طبعیاتی، اتفاقی، حادثاتی یا جیسا کہ کارل مارکس وغیرہ نے سمجھایا ہے عمل اور ردعمل کی مسلسل زنجیر نہیں یا جیسا کہ سائنس نے سمجھایا ہے کہ ان کا تعلق جزا و سزا سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا خاص تعلق کفر، ضد، ہٹ دھرمی اور ظلم سے ہے جیسا کہ اوپر پانچ اقوام کی مثالیں دی گئی ہیں۔ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اہل عرب خصوصاً اہل قریش دولت اور اقتدار کی فروانی میں بہکے ہوئے تھے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ سے ان کے ہوائی قلعے مسمار ہوتے نظر آرہے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک بات کو حق اور سچ سمجھنے کے باوجود ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ تمام منطق اور معقولیت کے باوجود ایمان نہ لانے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ان کا دنیاوی مفاد۔ ان کی آنکھیں اس دنیا سے آگے نہیں دیکھ رہی تھیں ان کے دماغ اس دنیا کی لذتوں سے آگے نہیں سوچ رہے تھے۔ اس آیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ کا ایک تازیانہ اچانک آئے گا اور تم ذلیل و رسوا ہو کر اپنے کھیتوں، دوکانوں، مکانو اور عیش عشرت کی جگہوں سے رخصت ہو جائو گے۔ یہ قومیں جو تم سے زیادہ با اثر اور باثروت تھیں صرف ایک جھٹکے میں جہنم کے قریب پہنچ گئیں ۔ اسی طرح تم بھی پہنچ سکتے ہو۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ : جب کوئی انسان پہلی مرتبہ گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ سا لگ جاتا ہے وہ جتنے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے اتنے ہی سیاہی کے نقطے لگتے جاتے ہیں یہاں تک کہ تمام دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس دل سے نیکی اور بدی کا امتیاز اٹھ جاتا ہے ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اب اس کے لئے ہر معقو لیت اور نصیحت کی بات بیکار ہو کر وہ جاتی ہے (اگر وہ اللہ سے معافی مانگ لے تو اللہ اس دل کی سیاہی کو دور فرمادیتے ہیں) ۔ اس کو قرآن کریم نے دلوں پر مہر کردینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ دل پر مہر لگ جانے کی ایک خاص پہچان ہے کہ اگر کہیں اس نے ایک مرتبہ ” نہیں “ کہہ دیا تو خواہ ہزار مرتبہ اس ” نہیں “ کو غلط ثابت کردیا جائے وہ اپنی جھوٹی ان اور وقار کی خاطر مان کردینے والا نہیں ہے اور اس کی ” نہیں “ ” ہاں “ سے بدلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے اس طرز عمل سے اپنے آپ کو اپنے اہل ضانہ اور دوست احباب کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ” میں ایک عقل مند انسان ہوں اور اپنی کوئی رائے رکھتا ہوں “ اگر میں نے اپنے آپ تردید کردی تو اس کے عقلمندی کے دعوے میں سوراخ پڑجائیں گے۔ جب دلوں پر اس طرح کی مہر لگ جاتی ہے جس کو انسان اپنی عقل مندی کا نام دیتا ہے تو پھر کوئی حق و صداقت کی بات اس کے دل تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس جگہ جس عہد کا ذکر ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد ” عہد الست “ ہے یعنی وہ عہد جو روز اول تمام مخلوق نے اللہ سے وعدہ کیا تھا وہی عہد مراد ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہے کہ یہاں عہد سے مراد ” عہد ایمان “ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا وہ دشمن جو کٹر دشمن ہے اس پر بھی جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ عہد وفا کرلیتا ہے لیکن حالات سدھر تے ہی وہ بدل جاتا ہے۔ جس طرح قریش مکہ نے قحط کے زمانہ میں اللہ سے عہد کیا مگر پھر ہی دنوں میں اس کو بھلا کر پھر سے اپنے کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس بند لگانے کا سبب ان ہی کی ابتداء میں کفر کرنا ہے لقولہ تعالیٰ طبع اللہ علیھا بکفرھم۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کا رویہ اور ان کی عادات۔ ایک مرتبہ پھر غافل اور نافرمانوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج جن بستیوں اور سر زمین کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےخوف ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں ملیا میٹ کردیا۔ ان کے بعد آنے والوں کی بصیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی غلطیوں سے بچیں اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جن کے واقعات اللہ تعالیٰ نے اس لیے بار بار اور کھول کھول کر بیان کیے تاکہ نئی نسل اپنے سے پہلے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ بعد کے لوگ اپنی اصلاح اور فلاح کی طرف توجہ کریں بلکہ یہ لوگ وہی کام کرتے ہیں جو پہلے لوگوں کی تباہی کا سبب ہوتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) دلائل کے ساتھ تشریف لائے اور انھوں نے ایمان باللہ اور اپنی اطاعت کا حکم دیا تو لوگوں نے انھیں جھٹلایا اور پھر اپنی ضد پر پکے ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی اور پھر وہ کفر کی حالت میں ہی ہلاک ہوئے۔ یہاں پہلے لوگوں کی ضد اور ان کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد توجہ دلائی ہے کہ ان کے وارث بننے والوں کو یہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے اگر یہ بھی یہی راہ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر بھی مہرثبت کر دے گا۔ پھر یہ ہوگا کہ یہ حق بات سننے اور نگاہ عبرت سے محروم ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ہدایت کسی پر مسلط نہ کی جائے گی۔ مہر کس طرح لگتی ہے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَّسُوْلِ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْٓءَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَاد زیدَ فِیْہَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللَّہُ (کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب وَمِنْ سُورَۃِ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (حسن )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ گناہ کرتا ہے اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی سیاہی دل پر غالب آجاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ نے کیا ہے ” کیوں نہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ پڑچکا ہے۔ “ مسائل ١۔ پہلی اقوام سے نصیحت و عبرت پکڑنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو واضح دلائل کے ساتھ مبعوث فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے : ١۔ کافروں کے دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ (البقرۃ : ٧) ٢۔ مشرکوں کے دلوں پر مہرلگادی جاتی ہے۔ (الانعام : ٤٦) ٣۔ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود بنانے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (الجاثیۃ : ٢٣) ٤۔ اللہ تعالیٰ پر افتراء بازی کرنے والوں کے دل پر مہر لگتی ہے۔ (الشوریٰ : ٢٤) ٥۔ مرتد ہونے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے۔ (المنافقون : ٣) ٦۔ تکبر کرنے والے کے دل پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (المومن : ٣٥) ٧۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے دلوں پر مہر ثبت ہوتی ہے۔ (التوبۃ : ٩٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے تھے اور ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور اس عارضی مصنوعی عافیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اس لاپرواہی کو ایک طرف چھوڑ دیتے تو وہ اصلاح پذیر ہوجاتے اور ان واقعات سے عبرت لیتے۔ کاش ! کہ وہ ایسا کرتے۔ اس آیت میں جو تنبیہ کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نامعلوم عذاب اور مستقبل کی اچانک تباہی اور بربادی کے خوف سے کانپتے ہی رہیں اور وہ ہر وقت غیر یقینی صورت حالات سے دوچار رہیں کہ کسی بھی وقت ان پر کوئی عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت کا جزع و فزع ، کسی بھی وقت آجانے والے عذاب کا ڈر ، اور ہر وقت یہ خطرہ کہ کسی بھی وقت کوئی آفت نازل ہوسکتی ہے ، ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے انسانی قوتیں شل ہوجاتی ہیں اور انسان علم و عمل کی خوبی سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح مایوس ہوکر انسان اس کرۂ ارض کی تعمیر اور ترقی کے مسلسل عمل سے دستکش ہوسکتا ہے۔ اس تنبیہ کی غرض وغایت انسان کو شل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان بیدار ہو ، اس کے اندر ہر وقت خدا خوفی کا احساس ہو ، وہ ہر وقت اپنے نفس کے اوپر نگراں رہے ، اور دنیا میں گزرے ہوئے واقعات سے سبق لے وہ انسانی تاریخ کے محرکات کو معلوم کرلے۔ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت قائم رہے اور عیش و عشرت کی زندگی اسے غافل اور مغرور نہ کردے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں آخرت میں امن ، اطمینان ، اپنی رضا مدنی ، دنیا و آخرت کی رضامندی عطا کرے گا لیکن یہ اس وقت ہوگا جب انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے احساس کو تیز رکھا۔ اور انہوں نے تقویٰ اور خدا خوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو آلودگیوں میں ملوث نہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادی قوت کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے اپنے محدود و مادی وسائل کے مقابلے میں ان وسائل پر بھروسہ کیا جو اللہ کے ہاں موجود ہیں۔ اور جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرتے ، ان کے دل دولت ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کے ذکر پر مطمئن تھے ، وہ اپنی خواہشات اور شیطانی حرکات پر کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ وہ اس کرہ ارض پر مصلح کے طور پر اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے نہ ڈرتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ اس انداز میں ہم اللہ کے عذاب سے اس دائمی ڈراوے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ، ایسا عذاب جو اٹل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی ان تدابیر کے مطابق ہوتا ہے جس کا ادراک انسان کو نہیں ہوتا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات کا مطلب محض خوف و ہراس پھیلانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہے ، لوگوں کے اندر بےچینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر احساس زیاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ زندگی کو معطل کرنا مطلوب نہیں ہے ، بلکہ اسے لاپرواہی اور سرکشی سے بچانا مطلوب ہے۔ اسلامی اور قرآنی منہاج تربیت کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے طور طریقوں کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اقوام اور سوسائٹیوں کے مسائل واطوار کو بھی درست کرتا ہے۔ اور ہر ایک کا علاج اس کے حالات کے مطابق کرتا ہے۔ کسی کو امن ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے کی امید کی دولت دیتا ہے۔ اور کسی کے لئے خوف بیداری اور سٹینڈ ٹو کا نسخہ تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے باز آجائے اور اللہ کے عذاب سے ڈرے جو کسی بھی وقت انہیں گھیر سکتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مادی زندگی پر بھروسہ کرکے غرے میں مبتلا ہوجائے۔ اللہ بہرحال اپنی مخلوق سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ لطیف وخبیر ہے۔ یہاں سنت جاریہ کا بیان ختم ہوجاتا ہے۔ انسانی وجدان کو اس سنت کے شعور کا ٹچ دیا گیا اور نہایت ہی اچھے اشارات دئیے گئے۔ اب روئے سخن حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پلٹ جاتا ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان بستیوں کے باشندوں کا مجموعی طور پر کیا انجام ہوا اور اس انجام سے کفر کا کیا مزاج سامنے آتا ہے اور ایمان کا مزاج کس رنگ میں سامنے آتا ہے اور اقوام عالم کی تاریخ سے ان دو قسم کے انسانوں کی عمومی روش کیا معلوم ہوتی ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

زمین کے وارث ہونے والے سابقہ امتوں سے عبرت حاصل کریں ہلاک ہونے والی چند امتوں کے جو واقعات گزشتہ چند رکوع میں بیان کیے گئے ان سے عبرت دلانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جو امتیں ہلاک کی گئیں ان کی جگہ جو لوگ زمین پر آباد ہوئے کیا ان بعد میں آنے والوں کو ان واقعات سے عبرت حاصل نہ ہوئی اور کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیں۔ اور بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ لہٰذا وہ سنتے ہی نہیں۔ کانوں سے سن لیتے ہیں لیکن قبول کرنے کی نیت سے نہیں سنتے۔ لہٰذا سنا بےسنا برابر ہوجاتا ہے اور یہ مہر لگانا ایسا ہی ہے، جیسا کہ سورة نساء میں فرمایا (بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ) (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر لگا دی ہے) اور اسی کو سورة صف میں فرمایا (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ) (سو جب وہ ٹیڑھے رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا) جب انسان کفر کو اختیار کرلیتا ہے اور اسی پر جما رہتا ہے اور دلائل واضحہ کے ہوتے ہوئے حق قبول نہیں کرتا تو اللہ کی طرف سے یہ سزا بھی دی جاتی ہے کہ دل پر مہر لگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے حق قبول کرنے کا موقعہ ختم ہوجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

104:“ ھدایت ” سے اس کا متعارف و معنی مراد ہے یا بمعنی ظہور ہے۔ یعنی کیا پہلی امتوں کی ہلاکت اور ان کی تباہی ان کی ہدایت کا موجب نہ بنی یاس اس سے ان پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ کفر وعناد کی وجہ سے ان کو بھی عذاب سے ہلاک کیا جاسکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 اور کیا وہ لوگ جو گزشتہ ہلاک شدہ لوگوں کی جگہ آج کل زمین کے وارث بنے ہوئے ہیں ان کے لئے ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی اور ان پر یہ امر ظاہر نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان نئے وارث شدگان کو بھی ان کے جرائم کے باعث پکڑلیں اور ان کو عذاب میں مبتلا کردیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اس لئے یہ سنتے تک نہیں اور ان کو سماع قبول میسر نہیں جو بات سن کر دل میں نہ اترے اس کا سننا نہ سننا برابر ہے۔