Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 108

سورة الأعراف

وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾٪  3

And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وہ یکا یک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders. Musa took his hand out of his cloak after he inserted his hand in it and it was shining, not because of leprosy or sickness. Allah said in another Ayah, وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَأءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ And put your hand into your bosom, it will come forth white without hurt. (27:12) Ibn Abbas said, "without hurt', means, `not because of leprosy'. Musa inserted his hand again in his sleeve and it returned back to its normal color." Mujahid and several others said similarly.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

108۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے نے جو دو معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنے صداقت کے لئے انہیں پیش کردیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٢] عصائے موسیٰ اور ید بیضاء :۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپ (علیہ السلام) نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں کی طرف سے ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ آیا اس طبعی دنیا میں ایسے خرق عادت واقعات کا ظہور ممکن بھی ہے یا نہیں ؟۔ دوسرے الفاظ میں اس بحث کا عنوان یہ ہے کہ اس کائنات میں انتظام کے لیے اللہ نے جو طبعی قوانین بنائے ہیں کیا وہ خود ان قوانین میں کسی وقت اپنی مرضی کے مطابق تصرف یا رد و بدل بھی کرسکتا ہے یا نہیں ؟ عقل پرست ایسے خرق عادت واقعات کا انکار کردیتے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں ایسے واقعات مذکور ہیں ان کی دوراز کار تاویلات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی دوراز کار کہ قرآن کی عبارت جن کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی ان حواشی میں اس طویل بحث کی گنجائش نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے میری تصنیف && عقل پرستی اور انکار معجزات && نیز آئینہ پرویزیت حصہ اول و دوم)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Thereafter, the verse (7:108) said, وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِ‌ينَ &And he drew out his hand, and it was white light to the onlookers.& The Arabic word: نَزع naza` a signifies extracting something from another thing with force. Here this word indicates that the prophet Musa (علیہ السلام) applied some force while drawing out his hand. The verse does not speak of a place from where he drew out his hand. In other verses, however, we find mention of two things. In a verse (27:12) we find the words أَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ &enter your hand under your robe.& The other verse (20:22) contains the words (وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ ) &put your hand under your arm.& The two phrases indicate that he used to draw out his hand either from under his arm or from under his shirt. Arabic word: بَيْضَاءُ &bay’ da& means white. The whiteness of hand may also be due to some disease, it is perhaps, why the Holy Qur&an has added the words &without an evil& in other (28:32, 27:12) verse to eliminate any possible doubt of a disease. We know from a Tradition reported by the Companion ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) that this whiteness was not of ordinary kind. It had light that illuminated the whole surrounding. (Qurtubi) The Arabic word &nazirin& signifying the &onlookers or viewers& indicates that this light was so surprising for the people that they gathered to see it. The prophet Musa (علیہ السلام) performed two miracles at this occasion on the demand of the Pharaoh. First, the transformation of his staff into a serpent, second, drawing his hand out from under his arm, emanating light from it. The first was to serve as warning for the unbelievers while the second aimed at inviting them to the truth. It also indicated that the message of the prophet Musa (علیہ السلام) was a light and to follow it would lead people to eternal success.

اس کے بعد فرمایا وّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ ، نزع کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز میں سے کسی قدر سختی کے ساتھ نکالنے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کو کھینچ کر نکالا، یہاں یہ مذکور نہیں کہ کس چیز میں سے نکالا۔ دوسری آیات میں دو چیزیں مذکور ہیں، ایک جگہ ادخل یَدَکَ فِی جَیبِکَ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ دوسری جگہ واضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ مذکور ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے دباؤ۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کا نکالنا گریبان کے اندر سے یا بازو کے نیچے سے ہوتا تھا۔ یعنی کبھی گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالنے سے اور کبھی بازو کے نیچے دباکر نکالنے سے یہ معجزہ ظاہر ہوتا تھا کہ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ ، یعنی وہ ہاتھ چمکنے والا ہوجاتا ہے دیکھنے والوں کے لئے۔ بیضاء کے لفظی معنی سفید کے ہیں اور ہاتھ کا سفید ہوجانا کبھی برص کی بیماری کے سبب بھی ہوا کرتا ہے، اس لئے ایک دوسری آیت میں اس جگہ من غیر سوء کا لفظ بھی آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ کی سفیدی کسی بیماری کے سبب نہ تھی۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفیدی بھی معمولی سفیدی نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ روشنی ہوتی تھی جس سے ساری فضا روشن ہوجاتی تھی۔ (قرطبی) اس جگہ لفظ للنّٰظِرِيْنَ بڑھا کر اس روشنی کے عجیب و غریب ہونے کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ یہ ایسی عجیب روشنی تھی کہ اس کے دیکھنے کے لئے ناظرین جمع ہوجاتے تھے۔ اس وقت فرعون کے مطالبہ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو معجزے دکھلائے، ایک لاٹھی کا اژدھا بن جانا دوسرے ہاتھ کو گریبان یا بغل میں ڈال کر نکالنے سے اس میں روشنی پیدا ہوجانا۔ پہلا معجزہ مخالفین کی ترہیب اور ڈرانے کے لئے، اور دوسرا معجزہ ان کی ترغیب اور قریب کرنے کے لئے ہے، جس میں اشارہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم ایک نور ہدایت رکھتی ہے اس کا اتباع باعث فلاح ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّنَزَعَ يَدَہٗ فَاِذَا ہِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۝ ١٠٨ ۧ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ بيض البَيَاضُ في الألوان : ضدّ السواد، يقال : ابْيَضَّ يَبْيَضُّ ابْيِضَاضاً وبَيَاضاً ، فهو مُبْيَضٌّ وأَبْيَضُ. قال عزّ وجل : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . ( ب ی ض ) البیاض سفیدی ۔ یہ سواد کی ضد ہے ۔ کہا جاتا ہے ابیض ، ، ابیضاضا وبیاض فھو مبیض ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ جسدن بہت سے منہ سفید ہونگے اور بہت سے منہ سیاہ ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . اور جن کے منہ سفید ہوں گے نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

87. Moses was granted these two miraculous signs in order to provide testimony to his being a Messenger of God, the creator and sovereign of the universe. As we have mentioned earlier, whenever the Prophets introduced themselves as God's Message-bearers, people asked them to produce some miraculous sign, to perform something supernatural. In response to those demands the Prophets produced what the Qur'an terms as 'signs', and which are called 'miracles' by theologians. Those who tend to play down the supernatural character of such signs or miracles, and who try to explain them in terms of natural laws of causation, in fact attempt to build a mid-way house between believing and disbelieving in the statements of the Qur'an. Such an approach can hardly be considered reasonable. What it does demonstrate, however, is how such people can be pulled in two opposite directions. On the one hand, they are not inclined to believe in a Book which abounds in narrations of a supernatural kind. On the other hand, being born followers of their ancestral religion, they are not inclined to reject the Book which carries supernatural narrations. With regard to miracles, there are two basic questions that people should ask themselves. Did God, after creating the universe and establishing a system of natural causations therein, suspend Himself such that it is no longer possible for Him to interfere in the workings of the universe? Or does He still hold the reins to His realm in His owns Hands so that His command is enforced every moment, and He does retain the power to alter the shape of things and the normal course of events - either partially or fully, - as and when He wills? It is impossible for those who respond in the affirmative to the first question to accept the idea of miracles. For clearly miracles do not fit in with their concept of God and the universe. Honesty demands that instead of indulging in far-fetched explanations of Qur'anic statements on miracles, such people should clearly declare that they do not believe in the Qur'an. For quite obviously the Qur'an is explicit, even quite emphatic in affirming the former concept of God. As for those who, being convinced by Qur'anic arguments, respond in the affirmative to the second question regarding God and the universe, for them there is no difficulty in accepting miracles. Let us take the instance mentioned in verse 107, namely, that the rod of Moses turned into a serpent. Now, there are those who believe that serpents can come into being only through one process - the known biological process. Such people are bound to reject the statement that Moses' rod changed into a serpent and later reverted to its original shape. On the contrary, if you are fully convinced that it is God's command alone which causes life to arise from lifeless matter, and that God has full power to confer whichever kind of life He wills, the transformation of the rod into a serpent and its subsequent reversion to its original state is no stranger than the transformation of any other lifeless matter into a living entity. The fact that the latter happens virtually every day whereas the former took place only a few times in history is not enough to declare the first as incredibly, strange and the second as 'natural'.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :87 یہ دو نشانیاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس امر کے ثبوت میں دی گئی تھیں کہ وہ اس خدا کے نمائندے ہیں جو کائنات کا خالق اور فرماں روا ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم اشارہ کر چکے ہیں ، پیغمبروں نے جب کبھی اپنے آپ کو فرستادہ رب العالمٰین کی حیثیت سے پیش کیا تو لوگوں نے ان سے یہی مطالبہ کیا کہ اگر تم واقعی رب العالمٰین کے نمائندے ہو تو تمہارے ہاتھوں سے کوئی ایسا واقعہ ظہور میں آنا چاہیے جو قوانین فطرت کی عام روش سے ہٹا ہوا ہو اور جس سےصاف ظاہر ہو رہا ہو کہ رب العالمٰین نے تمہاری صداقت ثابت کرنے کے لیے اپنی براہ راست مداخلت سے یہ واقعہ نشانی کے طور پر صادر کیا ہے ۔ اسی مطالبہ کے جواب میں انبیاء نے وہ نشانیاں دکھائی ہیں جس کو قرآن کی اصطلاح میں ”آیات “اور متکلمین کی اصطلاح میں”معجزات“کہا جاتا ہے ۔ ایسے نشانات یا معجزات کو جو لوگ قوانین فطرت کے تحت صادر ہونے والے عام واققعات قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت کتاب اللہ کو ماننے اور نہ ماننے کے درمیان ایک ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو کسی طرح معقول نہیں سمجھا جا سکتا ۔ اس لیے کہ قرآن جس جگہ صریح طور پر خارق عادت واقعہ کا ذکر کر رہا ہو وہاں سیاق و سباق کے بالکل خلاف ایک عادی واقع بنانے کی جدوجہد محض ایک بھونڈی سخن سازی ہے جس کی ضرورت صرف ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو ایک طرف تو کسی ایسی کتاب پر ایمان نہیں لانا چاہتے جو خارق عادت واقعات کا ذکر کرتی ہو اور دوسری طرف آبائی مذہب کے پیدائشی معتقد ہونے کی وجہ سے اس کتاب کا انکار بھی نہیں کرنا چاہتے جو فی الواقع خارق عادت واقعات کا ذکر کرتی ہے ۔ معجزات کے باب میں اصل فیصلہ کن سوال صرف یہ ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نظام کائنات کو ایک قانون پر چلا دینے کے بعد معطل ہو چکا ہے اور اب اس چلتے ہوئے نظام میں کبھی کسی موقع پر مداخلت نہیں کرسکتا ؟ یا وہ بالفعل اپنی سلطنت کو زمام تدبیر و انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اور ہر آن اس کے احکام اس سلطنت میں نافذ ہوتے ہیں اور اس کو ہر وقت اختیار حاصل ہے کہ اشیا کی شکلوں اور واقعات کی عادی رفتار میں جزئی طور پر یا کلّی طور پر جیسا چاہے اور جب چاہے تغیر کر دے؟ جو لوگ اس سوال کے جواب میں پہلی بات کے قائل ہیں ان کے لیےمعجزات کو تسلیم کرنا غیرممکن ہے ، کیونکہ معجزہ نہ ان کے تصّور خدا سے میل کھاتا ہے اور نہ تصور کائنات سے ۔ لیکن ایسے لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر و تشریح کرنے کی بجائے اس کا صاف صاف انکار کر دیں کیونکہ قرآن نے تو اپنا زور بیان ہی خدا کے مقدم الذکر تصور کا ابطال اور موخر الذکر تصور کا اثبات کرنے پر صرف کیا ہے ۔ بخلاف اس کے جو شخص قرآن کے دلائل سے مطمئن ہو کر دوسرے تصور کو قبول کر لے اس کے لیے معجزے کو سمجھنا اور تسلیم کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا ۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کا عقیدہ ہی یہ ہوگا کہ اژد ہے جس طرح پیدا ہوا کرتے ہیں اسی طرح وہ پیدا ہوسکتے ہیں ، اس کے سوا کسی دوسرے ڈھنگ پر کوئی اژدہا پیدا کر دینا خدا کی قدرت سے باہر ہےتو آپ مجبور ہیں ایسے بیان کو قطعی طور پر جھٹلا دیں جو آپ کو خبر دے رہا ہو کہ ایک لاٹھی اژد ہے میں تبدیل ہوئی اور پھر اژد ہے سے لاٹھی بن گئی ۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ کا عقیدہ یہ ہو کہ بے جان مادے میں خدا کے حکم سے زندگی پیدا ہوتی ہے اور خدا جس مادے کو جیسی چاہے زندگی عطا کر سکتا ہے ، اس کے لیے خدا کے حکم سے لاٹھی کا اژدہا بننا اتنا ہی غیر عجیب واقعہ ہے جتنا اسی خدا کے حکم سے انڈے کے اندر بھرے ہوئے چند بے جان مادوں کا اژدہا بن جانا غیر عجیب ہے ۔ مجرد یہ فرق کہ ایک واقعہ ہمیشہ پیش آتا رہتا ہے اور دوسرا واقعہ صرف تین مرتبہ پیش آیا ، ایک کو غیر عجیب اور دوسرے کو عجیب بنا دینے کے لیے کافی نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

53: یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کردیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہوجائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:108) نزع۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب فتح) نزع سے باہر نکالا۔ بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث بیاض سے۔ اس کی جمع بیض ہے۔ اور مذکر ابیض۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

108 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کو جو باہر نکالا تو وہ ہاتھ اسی وقت سب دیکھنے والوں کے لئے سفید اور بہت چمکدار ہوگیا۔