Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 130

سورة الأعراف

وَ لَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِیۡنَ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾

And We certainly seized the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.

اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Fir`awn and His People suffer Years of Drought Allah said, وَلَقَدْ أَخَذْنَا الَ فِرْعَونَ ... And indeed We punished the people of Fir`awn, We tested and tried them, ... بِالسِّنِينَ ... with years of drought, of famine due to little produce, ... وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ ... and lack of fruits, According to Mujahid, which is less severe. Abu Ishaq narrated that Raja' bin Haywah said, "The date tree used to produce only one date!" ... لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اعمال کا خمیازہ اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں ، کھیتیاں کم آئیں ، قحط سالیاں پڑ گئیں ، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ٹھاک ہو جائیں ۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ اور مومنوں کی وجہ سے ہے ۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے ان کی بد شگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

130۔ 1 آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ اور سنین سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ۔ : اوپر کی آیت میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمہارا مالک تمہارے دشمن کو تباہ کر دے، تو اب یہاں سے ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا بیان شروع کیا جن میں وقتاً فوقتاً آل فرعون کو مبتلا کیا گیا، حتیٰ کہ آخر کار تباہ کردیے گئے، تاکہ ان مشرکین کو کفر پر کچھ تنبیہ ہو اور انھیں خبردار کیا جائے کہ پیغمبروں کے جھٹلانے کا انجام تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف اور مصیبتیں ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں، کیونکہ مصیبت کے وقت دل نرم اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verses speak of the events that led Pharaoh and his people to a number of calamities sent to them as punishment and finally led them to their death. The first heavenly punishment came to them in the form of famine. According to historical reports this famine lasted for seven years. |"And We seized the people of the Pharaoh with years of famine and loss of fruits, so that they may take lesson. So when something good came to them they said, &This is our right.& And if they suffered from something evil, they ascribed it as an ill omen to Musa and those with him. Listen, their omen lies with Allah only, but most of them do not know.|" The first verse has described the famine with two phrases: &years of famine& and &loss of fruits.& The respected Companion ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) and the commentator Qatadah have said that the punishment of drought was for the people of the rural areas, while people living in cities and towns were punished by the loss of fruits.

اس کے بعد آیت مذکورہ کے وعدہ کا ایفاء اور قوم فرعون کا طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہونا اور بالآخر غرق دریا ہو کر ختم ہوجانا کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا، جس میں سب سے پہلا عذاب قحط اور اشیاء کی کمیابی اور گرانی کا تھا جو قوم فرعون پر مسلط ہوا۔ تفسیری روایات میں ہے کہ یہ قحط ان پر سات سال مسلسل رہا، اور آیت میں جو اس قحط کے بیان میں دو لفظ آئے ہیں، ایک سِنِيْنَ ، دوسرے نَقْصٍ ثَّمَرٰتِ ۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور قتادہ وغیرہ نے فرمایا کہ قحط اور خشک سالی کا عذاب تو گاؤں والوں کے لئے تھا اور پھلوں کی کمی شہر والوں کے لئے، کیونکہ عموما دیہات میں غلہ کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے اور شہروں میں پھلوں کے باغات ہوتے ہیں تو اشارہ اس طرف ہوا کہ نہ غلہ کے کھیت باقی رہے نہ پھلوں کے باغات۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّـنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَذَّكَّـرُوْنَ۝ ١٣٠ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ آل الآل : مقلوب من الأهل ، ويصغّر علی أهيل إلا أنّه خصّ بالإضافة إلى الأعلام الناطقین دون النکرات، ودون الأزمنة والأمكنة، يقال : آل فلان، ولا يقال : آل رجل ولا آل زمان کذا، أو موضع کذا، ولا يقال : آل الخیاط بل يضاف إلى الأشرف الأفضل، يقال : آل اللہ وآل السلطان . والأهل يضاف إلى الكل، يقال : أهل اللہ وأهل الخیاط، كما يقال : أهل زمن کذا وبلد کذا . وقیل : هو في الأصل اسم الشخص، ويصغّر أُوَيْلًا، ويستعمل فيمن يختص بالإنسان اختصاصا ذاتیا إمّا بقرابة قریبة، أو بموالاة، قال اللہ عزّ وجل : وَآلَ إِبْراهِيمَ وَآلَ عِمْرانَ [ آل عمران/ 33] ، وقال : أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ [ غافر/ 46] . قيل : وآل النبي عليه الصلاة والسلام أقاربه، وقیل : المختصون به من حيث العلم، وذلک أنّ أهل الدین ضربان : - ضرب متخصص بالعلم المتقن والعمل المحکم فيقال لهم : آل النبي وأمته . - وضرب يختصون بالعلم علی سبیل التقلید، يقال لهم : أمة محمد عليه الصلاة والسلام، ولا يقال لهم آله، فكلّ آل للنبيّ أمته ولیس کل أمة له آله . وقیل لجعفر الصادق رضي اللہ عنه : الناس يقولون : المسلمون کلهم آل النبي صلّى اللہ عليه وسلم، فقال : کذبوا وصدقوا، فقیل له : ما معنی ذلك ؟ فقال : کذبوا في أنّ الأمّة کا فتهم آله، وصدقوا في أنهم إذا قاموا بشرائط شریعته آله . وقوله تعالی: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ [ غافر/ 28] أي : من المختصین به وبشریعته، وجعله منهم من حيث النسب أو المسکن، لا من حيث تقدیر القوم أنه علی شریعتهم . ( ا و ل ) الآل ۔ بعض نے کہا ہے کہ آل اصل میں اہل ہے کیونکہ اسکی تصغیر اھیل آتی ہے مگر اس کی اضافت ناطقین انسان میں سے ہمیشہ علم کی طرف ہوتی ہے کسی اسم نکرہ یا زمانہ یا مکان کی طرف اس کی اضافت جائز نہیں ہے اس لئے آل فلاں ( علم ) تو کہہ سکتے ہیں مگر آل رجل ، آل زمان کذا وآل مکان کذا بولنا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح ہمیشہ صاحب شرف اور افضل ہستی کیطرف مضاف ہوگا اس لئے آل الخیاط بھی نہیں کہہ سکتے بلکہ آل اللہ یا آل السلطان کہا جائیگا ۔ مگر اھل کا لفظ مذکورہ بالا میں سے ہر ایک کی طرف مضاف ہوکر آجاتا ہے ۔ چناچہ جس طرح اہل زمن کذا وبلد کذا بولا جاتا ہے اسی طرح اہل اللہ واہل الخیاط بھی کہہ دیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ لفظ ، ، آل ، ، دراصل بمعنی شخص ہے اس کی تصغیر اویل آتی ہے اور یہ اس شخص کے متعلق استعمال ہوگا جس کو دوسرے کے ساتھ ذاتی تعلق ہو مگر قریبی رشتہ داری یا تعلق والا ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ { وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ } ( سورة آل عمران 33) خاندان ابراہیم اور خاندان عمران ۔ { أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ } ( سورة غافر 46) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کردو ۔ آل النبی ۔ بعض نے کہا ہے کہ آل النبی سے آنحضرت کے رشتہ دار مراد ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک اس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں علم ومعرفت کے اعتبار سے آنحضرت کے ساتھ خصوصی تعلق حاصل ہو ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اہل دین دو قسم پر ہیں ۔ ایک وہ جو علم وعمل کے اعتبار سے راسخ اور محکم ہوتے ہیں ان کو آل النبی اور امتہ بھی کہہ سکتے ہیں دوسرے وہ لوگ ہیں جن کا سراسر تقلیدی ہوتا ہے ان کو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کہہ سکتے ہیں مگر آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کہہ سکتے اس سے معلوم ہوا کہ امت اور آل میں عموم وخصوص کی نسبت ہے یعنی ہر آل نبی اسکی امت میں داخل ہے مگر ہر امتی آل نبی نہیں ہوسکتا۔ امام جعفر صادق سے کسی نے دریافت کیا کہ لوگ تمام مسلمانوں کو آل نبی میں داخل سمجھتے ہیں ۔ تو انہوں نے فرمایا یہ صحیح بھی ہے اور غلط تو اس لئے کہ تمام امت آل نبی میں داخل نہیں ہے اور صحیح اسلئے کہ وہ شریعت کے کماحقہ پابند ہوجائیں تو انہیں آل النبی کہا جاسکتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ } ( سورة غافر 28) اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص ۔ ۔۔۔ کہئے ۔ میں اس مرد مومن کے آل فرعون سے ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ( بظاہر ) تو اس کے خصوص اہل کاروں اور فرعون شریعت کے ماننے والوں سے تھا اور مسکن فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ سِّنِينَ ( قحط سالي) وَلَقَدْ أَخَذْنا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ [ الأعراف/ 130] ، فعبارة عن الجدب، وأكثر ما تستعمل السَّنَةُ في الحول الذي فيه الجدب، يقال : أَسْنَتَ القوم : أصابتهم السَّنَةُ ، وَلَقَدْ أَخَذْنا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ [ الأعراف/ 130] اور ہم نے فرعونیوں کو کئی سال تک قحط میں مبتلارکھا ۔ سنین کے مراد قحط سالی اور زیادہ تر سنۃ کا لفظ قحط سالی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ اسنت القوم لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے ۔ نقص النَّقْصُ : الخُسْرَانُ في الحَظِّ ، والنُّقْصَانُ المَصْدَرُ ، ونَقَصْتُهُ فهو مَنْقُوصٌ. قال تعالی: وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] ، وقال : وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] ، ( ن ق ص ) النقص ( اسم ) حق تلفی اور یہ نقصتہ ( ن ) فھو منقو ص کا مصدر بھی ہے جس کے معنی گھٹانے اور حق تلفی کر نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ [ البقرة/ 155] اور جانوں اور مالوں ۔۔۔۔ کے نقصان سے وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ [هود/ 109] اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پوارا کم وکاست دینے والے ہیں ۔ ثمر الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع : ثِمَار وثَمَرَات، کقوله تعالی: أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] ( ث م ر ) الثمر اصل میں درخت کے ان اجزاء کو کہتے ہیں جن کو کھایا جاسکے اس کا واحد ثمرۃ اور جمع ثمار وثمرات آتی ہے قرآن میں ہے :۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] اور آسمان سے مبینہ پرسا کر تمہارے کھانے کے لئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کیے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٠) اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی اور بھوک کی سخت مصیبتوں میں مبتلا کیا اور پھلوں کی کم پیداوار میں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٠ (وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ) یہ وہی قانون ہے جس کا ذکر اسی سورت کی آیت ٩٤ میں ہوچکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجتا ہے تو انہیں آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور دعوت حق کی طرف متوجہ ہوں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب آل فرعون کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے اپنی دعوت شروع کی تو اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر بھی چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجنے شروع کیے تاکہ وہ ہوش میں آجائیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

57: پیچھے آیت نمبر : ٩٤ میں اللہ تعالیٰ نے جو اصول بیان فرمایا تھا اس کے مطابق پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں، ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا اورا سکے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(130 ۔ 131) ۔ اللہ پاک نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا امتحان لیا کہ قحط ڈال دیا درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور لگتی تھی چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا یہ جانچ تھی کہ شاید مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھکار آمد نہ ہوا اپنے کفر پر جمے رہے پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی تو کہنے لگے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان کے باعث سے یہ سال نحس ہوا اور یہ نہ سمجھتے تھے کہ خوشی کا وقت خدا کے فضل سے نصیب ہوا اور رنج کی گھڑی اس کی آزمائش ہے اس لئے فرمایا کہ خوشی اور تکلیف سب خدا ہی کی طرف سے ہے اس میں کسی کو نحوست کو کچھ دخل نہیں ہے یہ سب خدا کی طرف سے ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدفالی کی ممانعت فرمائی ہے صحیح سند سے ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدفالی کو شرک فرمایا ہے بدفالی میں تقدیر الٰہی کا ان کا اور بدفالی کی چیزوں میں مستقل طور پر ضرر رسانی کا اعتقاد پایا جاتا ہے اسی کو اللہ کے رسول نے شرک فرمایا ہے کیونکہ سوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کسی چیز میں مستقل طور پر ضرر رسانی کی قدرت نہیں ہے ترمذی اور مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مخلوقات کسی شخص کے ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو بھی بغیر حکم اللہ تعالیٰ کی کوئی اس شخص کو ضرر نہیں پہنچا سکتا ١ ؎ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٥٣ باب التوکل والصبر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:130) السنین۔ قحط۔ سال ۔ برس۔ سنۃ کی جمع۔ قحط سالی۔ نقص۔ مصدر ۔ کم کرنا۔ اسم کمی۔ (باب نصر) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اوپر کی آیت میں جب موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ وعدہ فرمای کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمہار امالک تمہارے دشمن کر تباہ کر دے تو اب یہاں سے ان تکالیف ومحن کا بیان شروع کیا جن میں وقتا فوقتا ان کو مبتلا کیا حتی کہ آخر کار تباہ کر دئیے گئے گا کہ ان مشرکین کو کفر پر زجر و تو بیخ ہو اور تنبیہ ہو کہ پیغمبروں کی تکذیب کا انجام تباہی کر صورت میں ظاہر ہوتا ہے (کبیر) آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف ومحن ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 130 تا 141 ۔ اسرار و معارف : چنانچہ فرعون کی قوم بھی گرفتار بلا ہوگئی یاد رہے اللہ اتنا کریم ہے کہ فورا تباہی ان پر بھی نہیں بھیجی بلکہ تھوڑی سی شدت بعض امور میں پیدا فرمائی کہ انہیں نصیحت ہو اور توبہ کریں لہذا ان پر قحط مسلط فرما دیا اور پھلوں میں کمی واقع ہوگئی تاکہ انہیں اپنی بےبسی کا احساس ہو مگر دل کی سیاہی ایسی باتوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے آجکل بھی رزق کی تنگی سے بچنے کے مختلف حیلے ذاتی اور قومی رہ سطح پر اپنائے جاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں آتا کہ توبہ کرلیں۔ ایسے ان کا حال تھا بلکہ اتفاقاً اگر کوئی اچھا واقعہ پیش آتا تو اپنی دانائی کا نتیجہ قرار دیتے اور مصیبت کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ا ن کے پیروکاروں کی نحوست۔ لیکن یہ جان لینا چاہئیے کہ بدکار کے اعمال کی نحوست ہی اس کی تباہی کے لیے کافی ہوتی ہے اور یہی حال ان کا بھی تھا۔ اصلاح کیلئے سختی کی جاتی ہے : وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ فرعون نے لوگوں کے گروہ بنا رکھے تھے اور ایک گروہ یعنی قبطی تو بڑے معززین رہے تھے جبکہ دوسرے سبطی یا بنی اسرائیل کو بہت ذلیل و خوار کر رکھا تھا حتی کہ نہ صرف یہ کہ ان سے بیگار لی جاتی بلکہ ان کے بیٹوں تک کو ذبح کردیا جاتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھا جاتا کہ فرعون کو نجومیوں نے اطلاع دی تھی کہ اس قوم میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت ختم کردے گا تو اس نے بچے قتل کرنے کا حکم دے دیا وہ بہت بڑا فسادی تھا۔ جب اللہ چاہتا ہے تو کمزور طاقتور پہ غالب آتے ہیں : پھر اللہ نے چاہا کہ کمزوروں پر احسان کرے اور ان متکبروں سے اقتدار چھین کر کمزوروں کو سردار اور حاکم بنا دے اور انہیں ان کی حکومت ، شان و شوکت اور مال و دولت کا وارث بنا دے اور انہیں اقتدار عطا کر کے فرعون اس کے وزیر ہامان اور فرعون کے لاؤ لشکر کو وہی بات کر کے دکھا دیں جس سے بچنے کے کیے یہ بچوں کو قتل کر رہے ہیں اور بہت خوفزدہ ہیں ہر حال میں اسے روکنا چاہتے ہیں۔ کلام باری : چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر ان کی والدہ کو حکم دیا یہاں لفظ وحی لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ان سے بات کی اور ثابت ہے کہ ولی اللہ کو کلام باری کا شرف نصیب ہوسکتا ہے اور وہ خود اس کے لیے دلیل بھی ہے ہاں نبی سے جو کلام ہوتا ہے وہ ساری امت کے لیے دلیل ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے فرمایا کہ انہیں دودھ پلاؤ اور پاس رکھو جب تک کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا پھر اگر فرعون کے سپاہیوں سے خطرہ ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دینا اور یہ ڈر نہ رکھنا کہ کہیں دریا میں ہی ہلاک نہ ہوجائے یا بچھڑ تو بحرحال جائے گا ایسا کچھ نہ ہوگا بلکہ ہم اسے واپس تمہاری گود میں دیں گے اور یہ زندہ بھی رہے گا اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ دریا میں بہتا ہوا وہ صندوق فرعون کے اہل خانہ نے پکڑ لیا کہ دریا سے نہر کاٹ ک محلات سے گزاری گئی تھی پانی بہا کر ادھر لے گیا فرعون کی اہلیہ کی نظر پڑی تو اٹھوا لیا وہ یہ نہ جان سکی کہ یہ تو فرعونی سلطنت کی تباہی کا سبب اور سب سے بڑا دشمن بنے گا بیشک فرعون ہامان اور ان کے لاؤ لشکر غلطی پر تھے بھلا قدرت باری سے مقابلہ کیسا فرعون نے دیکھا تو قتل کا ارادہ کرلیا کہ یقینا کسی اسرائیلی عورت نے قتل کے خوف سے پھینکا ہوگا مگر اس کی اہلیہ جو کہ بےاولاد تھی کہنے لگی کہ اللہ نے ہمیں یہ چاند سا بچہ عطا کیا ہے میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا اور بڑا ہو کر ہماری خدمت کریگا ہم اسی کو بیٹا بنا لیں گے۔ لیکن وہ اس بات کو نہ جان سکے کہ یہ بڑا ہو کر کیا بننے والا ہے۔ اور تم مجھ سے یہ توقع رکھو کہ تمہیں اللہ کے سوا کسی دروازے پہ لے جاؤن گا قطعاً غلط ہے تم نہیں دیکھتے اللہ کریم نے تمہیں ایک زمانے پر فضیلت بخشی ہے فرعون اور اس کی قوم کس طرح عذاب کی صورت میں تم پر مسلط تھے حتی کہ تمہارے بچوں کو ذبح کردیتے اور بچیاں اپنی غلامی کے لیے رکھ لیتے تھے مگر تم اس قدر کمزور تھے کہ شکایت بھی نہ کرسکتے تھے پھر اللہ کریم نے تمہاری مدد فرمائی فرعون اور اس کی قوم کو غرق دریا کردیا اور ملک کو تمہارے لیے خالی کرالیا اور تم معزز اور حکمران بنا دئیے گئے بھلا تمہیں زیب دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کے در پہ جھکنے کی سوچو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ السنین (سنتہ) ۔ کئی سال۔ قحط سالی) ۔ یطیروا (طیر) ۔ بدشگونی۔ (پرندوں سے بد شگونی لیتے تھے) ۔ طئرھم (ان کی بد قسمتی۔ بد بختی) ۔ مھما (جب بھی۔ جو بھی) ۔ الجراد (ٹڈی) ۔ القمل (چچڑیاں (چھوٹے چھوٹے جانور) ۔ الصفادع (مینڈک ) ۔ الدم (خون ) ۔ ایت مفصلت (بہت سی مسلسل نشانیاں) ۔ الرجز (عذاب ) ۔ لنرسلن (البتہ ہم ضرور بھیجیں گے ) ۔ ینکثون (وہ عہد توڑ دیتے ہیں) ۔ الیم (دریا۔ سمندر ) ۔ تشریح : آیت نمبر (130 تا 136 ) ۔ ” قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں عطا کیں “ گذشتہ چند آیات میں ان نونشانیوں (معجزات ) کا ذکر ہے۔ (1) عصا کا اژدھا بن جانا (2) ید بیضا (3) قوم فرعون پر قحط (4) طوفان (5) ٹڈیوں کی یلغار (6) گھن کا کیڑا (7) مینڈکوں کا عذاب (8) خون کا عذاب (9) طاعون۔ اس قوم پر کئی سال تک ایسا قحط پڑا کہ وہ لوگ دانے دانے کو محتاج ہوگئے بالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور یہ قحط ان سے دور ہوا۔ مگر وہ پھر کفر پر اڑگئے تب اللہ نے پانی کا عذاب مسلط کیا زمین سے بھی پانی نکلنے لگا اور آسمان سے بھی طوفانی بارشیں ہونے لگیں ان کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ نہ رہی ساری چیزیں بھیگ گئیں۔ اناج اور غلہ خراب ہوگیا کھانا پکنا مشکل ہوگیا طوفان کی یہ سب مصیبتیں قبطیوں (قوم فرعون) پر آئیں لیکن بنی اسرائیل کے گھر کھیتی باڑی باغ وغیرہ مخفوظ رہے۔ آخر انہوں نے بہت سے وعدے کر کے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کرائی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے مصیبت تو ٹل گئی مگر انہوں نے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا پھر اللہ نے ان قبطیوں پر سزا کے طور پر ٹڈیوں کے دل کے دل مسلط کئے ان کے سارے کھیت اور باغ تباہ و برباد ہو کر وہ گئے کھیتوں اور باغات کی تباہی نے انہیں بوکھلا کر رکھ دیا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دوڑے دوڑے ہوئے آئے روئے اور گڑ گڑائے پھر بہت سے وعدے کئے قسمیں کھائیں آخر پھر پیغمبر کی دعا سے یہ آفت دور ہوئی مگر نہ تو وہ اللہ پر ایمان لائے نہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیجا۔ پھر عہد شکنی اور سر کشی پر اڑگئے۔ قحط ، طوفان اور ٹڈیوں کا عذاب اتنا سخت تھا کہ ان کو سنبھل جانا چاہیئے تھا مگر اس قوم کا مزاج اتنا سخت بن چکا تھا کہ ہر مصیبت کے ٹلنے پر وہ پھ سے اپنی سرکشی اور نافرمانی میں لگ جاتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذابوں کا سلسلہ قائم رہا چناچہ ایک دفع پھر ان پر گھن کے کیڑوں کا عذاب مسلط کیا گیا۔ جوں، مکھی، مچھر اور طرح طرح کے کیڑے پیدا کئے گئے جن سے کوئی چیز محفوظ نہ تھی۔ نہ وہ بیٹھ سکتے تھے، نہ کام کرسکتے تھے ہر جگہ کیڑے ہی کیڑے ہوگئے جسم میں ہر جگہ خارش سر میں جوئیں اور کھجلی پیدا ہوگئی یہ عذاب اتنا سخت تھا کہ پوری قوم بلبلا اٹھی۔ آخر ان کے حالات پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ترس آگیا۔ دعا کی اور یہ آفت ٹل گیں۔ لیکن عذاب ٹلنے کے بعد پھر وہ اسی تکبر غرور دنیا پرستی اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوگئے۔۔۔۔ ۔ پھر مینڈک کا عذاب مسلط کردیا گیا ہر جگہ مینڈک، برتنوں میں بستروں پر بدن پر رات کو چھت میں سے مینڈک ٹپکتے اور یہ مینڈک بھی نہایت مکروہ شکل کے تھے جن کو دیکھ کر وحشت ہوتی تھی۔۔۔۔ ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست لے کر آگئے اور پھر سے جھوٹے وعدے، قسمیں اور ایمان لانے کی باتیں کرنے لگے مصیبت تو ایک دفع ٹل گئی مگر پھر وہی اکڑ ، وہی تکبروہی کفر و شرک نتیجہ یہ ہوا کہ جب قوم مطمئن ہوگئی تو اللہ نے ان کی نافرمانیوں کے سبب ان پر خون کا عذاب مسلط کردیا یہ بھی ہر برتن میں ہر بستر پر پانی کے برتنوں میں کپڑوں میں زمین پر خون نظر آتا۔ پوری قوم پھر گھبرا اٹھی۔ پھر نالہ و فریاد لے کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئی۔ دعا کی گئی عذاب ٹل گیا مگر وہ قوم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان مسلسل عذابوں نے ان کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی تھی مگر وہ اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ ایک آخری عذاب جو ان پر مسلط کیا گیا وہ طاعون کا تھا جس میں ستر ہزار قبطی ہلاک ہوگئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ان کے کام آئی۔ یہ سارے عذاب آتے رہے یعنی ان کے درمیان سنبھلنے اور درست ہونے کا کافی موقعہ دیا گیا لیکن جس کو سنبھلنا نہیں ہوتا اس پر بڑی سے بڑی آفت بھی اثر نہیں کرتی اور اس کی ہٹ دھرمی اس کو ہر سعادت سے محروم رکھتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اور سمجھ کر قبول کرلیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب سیاق کلام موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ اب ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر میں فرعون اور اس کی قوم نظر آتے ہیں۔ فرعون اپنی قوم پر انتہائی ظلم کرتے ہوئے نظر آتا ہے اور حضرت موسیٰ کا وہ وعدہ سچ ہوجاتا ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا اور جس کی انہیں امید تھی۔ اب رسول کی تمام باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ قصہ یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ منظر نہایت ہی معمول کے حالات میں شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے فضا میں تندی اور تیزی آتی جاتی ہے اور پردہ گرنے سے پہلے ہم فضا میں ایک خوفناک طوفان دیکھتے ہیں۔ ہر چیز تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ روئے زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اب یہاں کوئی طاغوت و سرکش نہیں رہتا۔ اور نہ طاغوت کے اہالی و موالی کا کوئی اتہ پتہ نظرآتا ہے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل نے مشکلات پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جزائے خیر دے دی۔ فرعون اور اس کی پارٹی نے فسق و فجور کی راہ لی اور ظلم کیا اور وہ بھی اپنے کیے پر مناسب انجام تک پہنچ گئے۔ اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوا اور اس کی وعید نے بھی رنگ دکھایا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سنت الہیہ کے مطابق سلوک ہوا۔ اللہ نے انہیں نہایت ہی مشکل حالات میں مبتلا کیا۔ ذرا تفصیلا مطالعہ کریں۔ ( وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ) " ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے " یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ابتدائی تنبیہ تھی۔ ملک کو خشک سالی نے آ لیا اور ہر قسم کی فصلیں ضائع ہوگئیں اور پیداوار ختم ہوگئی۔ سنین عربی اصطلاح میں خشک سالوں اور قحط اور شدت کے لیے بولا جاتا ہے۔ قحط سالی مصر جیسے سرسبز اور گل گلزار ملک میں عذاب الہی تصور ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر اس سے خوف و ہراس پیدا ہوجاتا تھا اور وہ پریشان ہو کر عالم بالا کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ لیکن چونکہ طاغوتی قوتیں اور ان کے اہلکار لوگوں کو غافل کرتے ہیں ، دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں ، اس لیے وہ اس لائن پر نہیں سوچتے کہ یہ عذاب الہی ہے جو ان پر بصورت خشک سالی وغیرہ آیا ہے۔ طاغوتی قوتوں کی وجہ سے لوگوں کے اندر اس قدر غفلت اور لا پرواہی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی تنبیہات کو بھول جاتے ہیں اور یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ایمان اور روحانی اقدار اور طبیعی حالات کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور عالم الغیب کی نظر لوگوں کی اخلاقی زندگی اور ان کے طبیعی حالات دونوں پر ہوتی ہے۔ طاغوتی نظام کے تحت لوگوں کا دماغ اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ وہ محسوسات کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں سکتے اور وہ بہائم کی سطح تک اتر آتے ہیں کیونکہ بہائم بھی صرف محسوسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کچھ ایسے واقعات دیکھیں بھی جن کی وہ طبیعی تعبیر نہیں کرسکتے تو بھی ان اہم واقعات کو وہ اتفاقات اور مصاونات کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور ان واقعات کے پیچھے کام کرنے والی سنت الہیہ اور ناموس قدرت کو وہ نہیں سمجھ پاتے ، جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ (جب خروچیف کے دور میں روس خشک سالی کا شکار ہوا اور ہر قسم کی زرعی پیداوار ختم ہوگئی تو اس نے کہا کہ قدرت ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ لا مذہب کمیونزم کا قائل تھا اور کسی غیبی طاقت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ غرض یہ لوگ زبردستی اپنے آپ کو اندھا کرتے ہیں اور دست قدرت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ندرت کیا ہے جو ان کے خلاف جا رہی ہے ؟ یہی تو رب تعالیٰ ہے) ۔ غرض قوم فرعون کو اللہ نے متنبہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ کافر اور فاسق و فاجر تھے۔ بت پرستی کے خرافات نے ان کی فطرت کو تبدیل کردیا تھا اور اس کائنات میں جو ناموس قدرت جاری ہے اور جس کے مطابق خود انسانوں کی زندگی بھی رواں دواں ہے اس کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق نہ تھا۔ کیونکہ اس ناموس قدرت کا صحیح ادراک صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہیں صحیح ایمان اور نور ایمان نصیب ہوا ہو۔ اہل ایمان ہی یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ یہ کائنات یونہی پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہمیشہ کے لئے یونہی بےمقصد رہے گی بلکہ اس کے اوپر اللہ کے سچے قوانین حاوی ہیں۔ یہ ہے حقیقی علمی سوچ۔ یہ سوچ اللہ کے عالم مغیبات کا انکار نہیں کرتی۔ اس لئے کہ حقیقی علم و سائنس اور علم غیب کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ کائنات اور انسانی زندگی دونوں کے پیچھے اللہ ذات کام کرتی ہے جو (فعال لما یرید) ہے اور ذات الٰہی کا مطالبہ یہ ہے کہ بندے ایمان لائیں اور اللہ خلافت فی الارض کا منصب ان کے سپرد کردے۔ اور جس نے ہمیشہ انسانوں کے لئے ایسی شریعتیں تجویز کی ہیں جو ان قوانین فطرت اور نوامیس قدرت سے ہم آہنگ رہی ہیں اور انہوں نے اس کائنات میں انسانی زندگی اور اخلاق زندگی کے درمیان توازن پیدا کیا ہے۔ فرعون اور اس کے اہالی و موالی یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے کفر و فسق اور آل موسیٰ پر ان کے مظالم اور قحط سالی کے عذاب کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ خصوصاً مصر میں جہاں ہمیشہ تازگی ، سرسبزی اور بہار رہتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں اور زرعی پیداوار کی کثرت اور فراوانی ہوتی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ مشکلات ان کے فسق و فجور کی وجہ سے ان پر نازل ہو رہی ہیں۔ غرض اہل فرعون مصر میں عظیم خشک سالی کے مہلک آثار کو دیکھ کر بھی متنبہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب کبھی ان پر اچھے دن آتے تو کہتے کہ یہ تو ان کا حق ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں لیکن جب خشک سالی اور مشکلات در پیش ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ سب کچھ موسیٰ کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی وجہ سے یہ مشکلات ان پر آرہی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قوم فرعون کی قحط سالی وغیرہ کے ذریعہ گرفت ہونا اور ان کا الٹی چال چلنا مصر میں فرعونیوں کی حکومت تھی خوب عیش و عشرت اور تنعم میں تھے۔ جب حضرت موسیٰ نے انہیں ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے ایمان قبول نہ کیا اور ساتھ ہی بنی اسرائیل پر مزید ظلم و ستم ڈھانے کا فیصلہ کرلیا، اور اللہ تعالیٰ کی بھر پور نعمتیں ہوتے ہوئے شکر ادا کرنے کے بجائے کفر ہی پر جمے رہے۔ لہٰذا بطور تنبیہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان پر قحط سالی بھیج دی۔ اہل مصر کو دریائے نیل کے پانی پر بھروسہ رہا ہے وہ سمجھتے رہے ہیں کہ ہمارے کھیتوں کی آب پاشی کے لیے یہ میٹھا اور عمدہ پانی خوب زیادہ کافی اور وافی ہے۔ لیکن وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ پیداوار پانی سے نہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے سارے کام کرلیے جائیں، زمین کو سینچ دیا جائے اس میں بیج ڈال دیا جائے اور خوب آبپاشی کردی جائے لیکن ضروری نہیں کہ کھیتی اگ جائے اور اگر اگ جائے تو ضروری نہیں کہ آفتاب سے محفوظ رہے اور دانے پیدا ہونے تک قائم رہے۔ اور پھر اگر محفوظ ہوجائے اور غلہ بھی پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ غلہ ضائع ہونے سے محفوظ ہوجائے اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اس غلہ کو کیڑے مکوڑوں کے ذریعہ ختم فرما دے اور کاشت کرنے والے دیکھتے ہی رہ جائیں۔ سورۂ واقعہ میں فرمایا (اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا فَظَلَلْتُمْ تَتَفَکَّہُوْنَ اِِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ) (بتاؤ تم جو کچھ بوتے ہو کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا بنا دیں۔ پھر تم تعجب کرتے ہوئے رہ جاؤ کہ بلاشبہ ہم پر تاوان پڑگیا، بلکہ ہم محروم رہ گئے) کیا دھرا سب ضائع ہوا جو بیج ڈالا تھا وہ بھی گیا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ لیست السنۃ بان لا تمطروا و لکن السنۃ ان تمطروا و لاتنبت الارض شیئا۔ (قحط یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو لیکن قحط یہ ہے کہ بارش خوب ہو اور زمین کچھ بھی نہ اگائے) ۔ (رواہ مسلم ص ٣٩٣ ج ٢) اللہ جل شانہٗ نے مصریوں پر قحط بھیج دیا جو کھیتیاں نہ اگنے کی صورت میں ظاہر ہوا اور پھلوں میں بھی کمی فرما دی جسے و نقصٍ من الثمرات سے تعبیر فرمایا۔ ان کی کھیتیوں کی پیداوار بھی گئی اور باغوں میں جو پھل پیدا ہوتے تھے ان میں بھی خوب کمی آگئی۔ ان کو اس میں اس لیے مبتلا فرمایا کہ نصیحت حاصل کرلیں اور عبرت لیں۔ سختی کی بجائے قلب نرم ہونے چاہئیں۔ انہیں کفر سے توبہ کرنا اور ایمان قبول کرنا تھا لیکن وہ الٹی ہی چال چلے اور وہ یہ کہ جب خوشحالی ہوتی تو کہتے تھے کہ ہم تو اسی کے مستحق ہیں۔ ہم اس لائق ہیں کہ ہمارا یہی حال ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام سمجھ کر شکر گزار ہونے کے بجائے اپناہی کمال سمجھتے تھے کہ ہم تو خوشحالی کے اور آرام و راحت کے مستحق ہیں اور اسی کے لائق ہیں۔ اب یہ جو مصیبت آئی ہے یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی نحوست ہے۔ ان کی نحوست کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں پھنس گئے اپنے کفر اور نا شکری کو مصیبتوں کا سبب سمجھنے کے بجائے صالحین اور شاکرین اور ذاکرین کے وجود کو اور ان کی دعوت توحید کو اور ان کے اعمال صالحہ کو مصیبت آنے کا سبب بتاتے تھے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا : (اَلَآ اِنَّمَا طآءِرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ ) (خبر دار ان کی نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے) یعنی اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے اسباب اور مسببات کا علم ہے اور جو کچھ مخلوق کو پیش آتا ہے۔ اللہ کی قضاء و قدر سے ہے اور اسی کی طرف سے ہے اسباب کے اعتبار سے یہ نحوست ان کو اس لیے در پیش ہوئی کہ وہ کفر پر جمے ہوئے ہیں (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قوم فرعون کے بعض افراد سمجھتے تو تھے کہ یہ مصیبت کفر کی وجہ سے ہے لیکن اکثریت سے مغلوب تھے۔ نہ حق بات کہہ سکتے تھے اور نہ حق قبول کرتے تھے۔ قوم فرعون کا یہ طریقہ تھا کہ نہ صرف آیات اور معجزات کو دیکھ کر ایمان قبول نہیں کرتے تھے بلکہ جو بھی کوئی معجزہ سامنے آتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ یہ تمہارا دھندہ جادو ہے تمہارے جادو کے ذریعہ ایسی چیزیں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ تم کچھ بھی کرلو ہم تمہاری تصدیق کرنے والے نہیں ہیں۔ اس کے بعد مزید عذابوں کا تذکرہ فرمایا جن کے ذریعہ قوم فرعون کی گرفت ہوئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

123: یہ تیسرا واقعہ ہے۔ پہلے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اب یہاں سے ان کی ہلاکت کے مبادی کا ذکر شروع ہوا۔ “ السنین ”“ سنة ” کی جمع ہے اور مراد قحط کے سال ہیں۔ “ وا لسنین جمع سنة والمراد بھا عام القحط ” (روح ج 9 ص 31) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

130 اور یقیناً ہم نے آل فرعون اور فرعون والوں کو خشک سالی اور قحط سالیوں میں اور پھلوں کے نقصانات اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور غور و فکر اور سوچ بچار کریں یعنی تنبیہہ کے طور پر ان کی گرفت بھی کی اور ان کو مختلف سزائیں بھی دیں کہ وہ دین حق کی مخالفت سے باز آجائیں اور نصیحت حاصل کریں۔