Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 14

سورة الأعراف

قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾

[Satan] said, "Reprieve me until the Day they are resurrected."

اس نے کہا مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۝ ١٤ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:14) انظرنی۔ تو مجھ کو مہلت دے۔ تو مجھ کو ڈھیل دے۔ انظار (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم یبعثون۔ مضارع مجہول مذکر غائب۔ بعث یبعث (فتح) وہ (یعنی لوگ) اٹھائے جاویں گے یوم قیامت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 شیطان صور میں دوسرے نفخہ تک ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

(قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلاً ) [ الاسراء : ٦٢] ” شیطان نے کہا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے لیکن اگر مجھے قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد پر غلبہ حاصل کرلوں گا تھوڑے لوگ ہی بچیں گے۔ “ ( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) [ ص : ٨٢] ” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “ ( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) [ الحجر : ٣٣] ” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “ حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں : (اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِيْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِيْ مَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِيْ جَھَنَّمَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔ “ غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں : (عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ (رض) قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِيَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقُلْتُ إِنّيآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ ) [ رواہ أبوداؤد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ] ” حضرت قیس بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بتلاؤ ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ “ مسائل ١۔ سب سے پہلے ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ ٢۔ تکبر کرنا ابلیس کا کام ہے۔ ٣۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو قطعاً پسند نہیں۔ ٤۔ ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (٧ : ١٤ تا ١٧) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (٧ : ١٠) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ابلیس کا زندہ رہنے کے لیے مہلت طلب کرنا : چونکہ اسے یہ پہلے سے معلوم تھا کہ یہ نئی مخلوق زمین میں آباد کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور انہیں خلافت ارضی سونپی جائے گی اور اسے جو ملعونیت کا داغ لگا وہ بھی نئی مخلوق کی وجہ سے لگا اس لیے اس نے اول تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ مجھے مہلت دی جائے یعنی میری عمر اتنی لمبی کردی جائے کہ جس دن لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت تک جیتا رہوں اللہ تعالیٰ نے یوں تو نہیں فرمایا کہ قبروں سے اٹھنے کے دن تک تجھے مہلت ہے البتہ یوں فرمایا (فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ الیٰ یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ) کہ تجھے وقت معلوم کے دن تک مہلت دی گئی۔ ( سورة حجر اور ص میں یہی الفاظ ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

14 ابلیس نے کہا مجھ کو اس دن تک کے لئے موت سے مہلت دیجئے جس دن کہ مردے قبروں سے اٹھائے جائیں اور مردے زندہ کئے جائیں۔