Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 140

سورة الأعراف

قَالَ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡکُمۡ اِلٰـہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾

He said, "Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?"

فرمایا کیا اللہ تعالٰی کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Reminding the Children of Israel of Allah's Blessings for Them Allah tells; قَالَ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَـهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَإِذْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ الِ فِرْعَونَ يَسُومُونَكُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ وَفِي ذَلِكُم بَلء مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ

ماضی کی یاد دہانی انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی ، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا ۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا ۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہو سکتا ہے؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی ۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ بقرہ میں گذر چکی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

140۔ 1 کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کرسکتا ہوں ؟ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا۔۔ : تیسری ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے بطور سوال ڈانٹ ہے کہ کیا الٰہ (معبود) بھی کوئی ایسی ہستی ہے کہ انسان جسے جی چاہے بنا لے، بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کو ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے اور پھر جس ذات نے تم پر بےبہا انعامات کیے ہیں اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے، کیا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شکر گزاری نہیں بلکہ عین ناشکری اور نمک حرامی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اَغَيْرَ اللہِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰہًا وَّہُوَفَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝ ١٤٠ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہاے ت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٠) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا ایسے باطل الہ (معبود) کی پوجا کا تمہیں حکم کروں، حالانکہ اس نے تمام لوگوں پر تمہیں اسلام کی وجہ سے فضیلت دی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر یہ کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت ورسوائی سے رہائی دی فرعون اور قبطی تمہیں خوار و ذلیل سمجھتے تھے قیدیوں کی طرح تمہیں نظر بند کر رکھا تھا اس صاحب قدرت نے ان کے پنجے سے تم کو چھڑایا اور ان دشمنوں کو غارت کر کے تمہارے کلیجے کو ٹھنڈا کیا اور پھر تم پر یہ فضل کیا کہ ان کی سلطنت تمہیں بخشی تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اور دین کی عبادت کب زیبا ہے کیا اس کے انعام اور فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گذرا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی بردباری ہے جو وہ مشرک لوگوں کے رزق کا سامان کرتا ہے ان کو صحت و تندرستی سے رکھتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ شرک ایسا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا میں مشرک لوگوں کا رزق اور تندرستی کا انتظام غیب سے نہ ہوتا تو بجا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے رزق اور تندرست رہنے کا انتظام فرماتا ہے۔ اس آیت میں بت پرستی کا جو ذکر ہے اس کی مذمت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے اور اس کی تفسیر ہے کہ باوجود شرک کے مشرک لوگوں پر فورا کوئی آفت کیوں نہیں آتی :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:140) ابغیکم۔ میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ ابغی مضارع واحد متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس آیت میں بھی ان کے مطالبہ کی تر دید اور انکار و توبیخ کے اسلوب میں اس پر اظہار تعجب ہے ( رازی) یعنی الہ (معبود) کوئی ایسی ہستی نہیں ہوسکتی انسان کو جسے جی چاہے بنالے بلکہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو انسان کی ہر قسم کے انعامات سے نوازتا رہے اور پھر جس ذات ن تم پر انعامات کئے اور تمہیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے کی ا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو ؟ یہ شرکزاری نہیں بلکہ عین ناشکر اور نمک حرام ہے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں اپنے نظریہ حیات اور اپنے رب کے بارے میں غیرت کی وجہ سے مزید جوش آجاتا ہے۔ ان کا نغمہ تیز تر ہوجاتا ہے اور وہ برہمی کے ساتھ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ابھی ابھی سمندر کے کنارے جو کچھ ہوا تم بھول گئے ہو ، تم اپنے مرتبہ ومقام کا خیال بھی نہیں رکھتے۔ (قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) ۔ : " پھر موسیٰ نے کہا " کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قومیں پر فضیلت بخشی ہے " اس دور میں تمام اقوام پر بنی اسرائیل کی فضیلت واضح ہے کہ تمام مشرک اقوام میں سے بنی اسرائیل کو منصب رسالت دیا گیا۔ اس سے بڑی فضیلت اور اس سے زیادہ احسان اور کیا ہوسکتا ہے۔ رسالت ایک عظیم فضل اور عظیم احسان ہے۔ نیز اس وقت بنی اسرائیل کو اس منصب کے لیے بھی چنا گیا۔ کہ وہ اس زمین پر مقتدر اعلیٰ ہوں گے۔ خصوصاً ارض مقدس کو ان کے ہاتھوں واگزار کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ، کیونکہ اس دور میں ارض مقدس پر غیر قوموں کا قبضہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان اعزازات کے بعد وہ کس منہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے لیے کوئی الہ تجویز کیا جائے جیسا کہ دوسری قوم نے اپنے لیے الہ تجویز کر رکھے ہیں ، جبکہ ان پر اللہ کا بڑا فضل و کرم تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

132: یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے کہ کیسے ناشکر گذار ہو کیا میں اس اللہ کے سوا تمہیں کوئی اور معبود بنا دوں جس اللہ نے تمام دنیا جہاں کے لوگوں پر تم کو فضیلت دی، مراد یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو لوگ موجود ہیں ان میں تم سب سے افضل ہو اس لیے اس سے امت محمدیہ پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ نیز وہ وقت یاد کرو جب فرعون نے تمہیں انتہائی ذلت کے عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اس شدید بلاء و مصیبت سے اللہ نے تمہیں نجات عطا فرمائی۔ اس لیے اب تمہیں اس کے ان انعامات کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

140 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میں تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس معبود حقیقی نے تم کو اس زمانے میں تمام اقوام ِ عالم پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یعنی بجائے شکر بجالانے کے شرک کی ہوس اور خواہش کرتے ہو۔