Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 33

سورة الأعراف

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

Say, "My Lord has only forbidden immoralities - what is apparent of them and what is concealed - and sin, and oppression without right, and that you associate with Allah that for which He has not sent down authority, and that you say about Allah that which you do not know."

آپ فرمایئے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات نہ لگا دو جس کو تم جانتے نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Fahishah, Sin, Transgression, Shirk and Lying about Allah are prohibited Allah says to His prophet (peace be upon him); قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ... Say: "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are the Fawahish (immoral deeds) whether committed openly or secretly, Imam Ahmad recorded that Abdullah said that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, لاَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ الله None is more jealous than Allah, and this is why He prohibited Fawahish, committed openly or in secret. And none likes praise more than Allah. This was also recorded in the Two Sahihs. In the explanation of Surah Al-An`am, we explained the Fahishah that is committed openly and in secret. Allah said next, ... وَالاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ... and Ithm, and transgression without right, As-Suddi commented, "Al-Ithm means, `disobedience'. As for unrighteous oppression, it occurs when you transgress against people without justification." Mujahid said, "Ithm includes all types of disobedience. Allah said that the oppressor commits oppression against himself." Therefore, the meaning of, Ithm is the sin that one commits against himself, while `oppression' pertains to transgression against other people, and Allah prohibited both. Allah's statement, ... وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ... and joining partners with Allah for which He has given no authority, prohibits calling partners with Allah in worship. ... وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ and saying things about Allah of which you have no knowledge. such as lies and inventions, like claiming that Allah has a son, and other evil creeds that you -- O idolators -- have no knowledge of. This is similar to His saying: فَاجْتَنِبُواْ الرِّجْسَ مِنَ الاٌّوْثَـنِ So shun the abomination (worshipping) of the idols. (22:30)

بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں ۔ سورۃ انعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گذر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کر دیا ہے اور ناحق ظلم و تعدی ، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے پس اثم سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور بغی سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے ۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی ۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( فاجتنبوا الرجس من الا وثان ) الخ ، بتوں کی نجاست سے بچو ، الخ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 1 اعلانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ' گرل فرینڈ ' سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے، بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے، اس میں ہر قسم کی ظاہری بےحیائی کو شامل ہے، جیسے فلمیں، ڈرامے، ٹیوی، وی سی آر فحش اخبارات و رسائل، رقص و سرور اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بےپردگی اور مردوں سے ان کا بےباکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بےحیائی کے کھلے عام مظاہرہ وغیرہ یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں 33۔ 2 گناہ اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو برا سمجھے، بعض کہتے ہیں گناہ وہ ہے جس کا اثر کرنے والے کی اپنی ذات تک محدود ہو اور بغی یہ ہے کہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچیں یہاں بغی کے ساتھ بغیر الحق کا مطلب ناحق ظلم و زیادتی مثلا لوگوں کا حق غضب کرلینا، کسی کا مال ہتھیالینا ناجائز مارنا پیٹنا اور سب وشتم کر کے بےعزتی کرنا وغیرہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ حرام چیزوں کا ذکر فرمایا جن کا تعلق کھانے کی چیزوں سے نہیں بلکہ اعمال سے ہے سب سے پہلے بےحیائی کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے سے یہ بیان چلا آ رہا ہے کہ کس طرح شیطان نے آدم و حواعلیہا السلام کو بےستر کیا۔ پھر مشرکین مکہ کا ذکر کیا جو طواف تک برہنہ ہو کر کرتے اور اسے مذہبی تقدس کا درجہ دیتے تھے اور گناہ کا لفظ اگرچہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہ پر استعمال ہوتا ہے تاہم غالباً یہ لفظ یہاں ایسے گناہ کے لیے آیا ہے جس کا اثر اس کی ذات تک محدود رہے کسی دوسرے کو اس کا نقصان نہ پہنچ رہا ہو اور ناحق زیادتی سے مراد ایسے گناہ ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں اور شرک تو تمام حرام کاموں میں سرفہرست ہے اور اللہ کے ذمے لگانے کی اس مقام پر وہی مثال کافی ہے جو مشرک کہتے تھے کہ آیت (وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا 28؀) 7 ۔ الاعراف :28)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ ۔۔ : اوپر کی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں حرام کر رکھی تھیں، اب اس آیت میں اصل حرام چیزوں کو بیان فرما دیا۔ (رازی) ” الْفَوَاحِشَ “ یہ ” فَاحِشَۃٌ“ کی جمع ہے اور انتہائی قبیح فعل کو کہتے ہیں۔ ” َالْاِثْمَ “ سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی ” اِثْمٌ“ کہہ لیتے ہیں اور ” وَالْبَغْيَ “ کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں۔ الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں اور وہ بھی ” انما “ کلمۂ حصر کے ساتھ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں ہے، حالانکہ بہت سی دوسری اشیاء کی حرمت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے۔ رازی (رض) فرماتے ہیں کہ دراصل جنایات ( جرائم، قصور، زیادتیاں) پانچ ہی قسم کی ہیں، پہلی نسب پر جنایت ہے، اس کا سبب زنا ( اور اس سے ملتی جلتی چیزیں) ہے۔ ” الْفَوَاحِشَ “ سے یہی مراد ہے۔ دوسری عقل پر جنایت جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے ہیں اور ” َالْاِثْمَ “ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ تیسری عزت پر جنایت، چوتھی جان و مال پر جنایت اور ” َالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ “ میں ان دونوں کی حرمت کی طرف اشارہ ہے۔ پانچویں دین پر جنایت اور یہ دو قسم کی ہے : 1 توحید میں طعن کرنا جس کی طرف ( وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ ) سے اشارہ فرمایا ہے۔ 2. اور بغیر علم کے اللہ کے ذمے بات لگانا اور فتویٰ دینا جس کی طرف ( َّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) سے اشارہ فرمایا ہے۔ غرض کہ تمام جرائم اور جنایات میں یہ پانچ اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کی شاخیں اور ان کے تحت آنے والی چیزیں ہیں، اس بنا پر ” اِنَّمَا “ کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔ (کبیر) یاد رہے کہ اللہ کے ذمے بات لگانے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے بات لگانا بھی شامل ہے کیونکہ وہ اللہ ہی کی بات ہے، اسی لیے جو جان بوجھ کر ان پر جھوٹ لگائے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ رازی (رض) کے جواب کے لاجواب ہونے میں شک نہیں، مگر ایک سادہ جواب یہ ہے کہ ” الاثم “ میں ہر گناہ آجاتا ہے، اس لیے ” اِنَّمَا “ کے ساتھ حصر پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, the second verse takes up the description of some of the things declared unlawful by Allah Ta` ala forsaking which really brings His pleasure. The hint given here is that these people were suffering from a twofold ignorance. On the one hand, they deprived themselves of the good things of life Allah had made lawful for them by denying to use them as if they were unlawful - and did so for no reason. Then, on the other hand, there were things genuinely and really unlawful, things the use of which was to result in the wrath of Allah and the punishment of the Hereafter, these they embraced with both arms only to discover that they had embraced what was to be their undoing in the life-to-come. Thus, they were doubly deprived, deprived of the blessings they had in the mortal world and deprived of the blessings they had the chance of having in the Hereafter. After that, says the Qur&an: إِنَّمَا حَرَّ‌مَ رَ‌بِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِ‌كُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ Say, |"My Lord has prohibited only the shameful things, what is apparent from them and what is hidden, and sin and unjust aggression, and that you associate with Allah something for which He has not sent any authority, and that you say about Allah what you do not know - 33. In the detail given above, the word: اِثم (ithm : sin) covers all sins which fall on one personally - and in: بَغیَ ; (baghy : injustice) included there are sins which relate to rights and dealings as concerning others. Then come Shirk, the associating of partners with Allah, and the forg¬ing of lies against Him. That they are grave sins is quite evident. This particular detail was mentioned here also because it covers almost all kinds of prohibitions and sins - whether they pertained to belief or conduct, or were done personally, or related to rights of others which were usurped. This was done also because these people of the Jahiliyyah were involved with all these crimes and prohibitions. Thus, exposed here was another demonstration of their ignorance which was that they would abstain from what was made lawful for them and would not even hesitate to use what was declared to be unlawful. Unfortunately, it is a necessary outcome of excess (ghuluww) in re¬ligion and introduction of self-invented practices (bid` at) in it that peo¬ple who get involved with this type of activity become habitually heedless to the root of religion and its essential requirements. Therefore, the Haram caused by excess in religion and innovation in established faith is twofold. First of all getting involved with such Ghuluww and Bid&ah is a sin in itself. Then, seen in contrast, far too grave is the very deprivation from the true religion of Allah and the genuine way of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .Refuge with Allah (from such a fate) !

اس کے بعد دوسری آیت میں کچھ ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان کو ترک کرنے ہی سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ دوہری جہالت میں مبتلا ہیں، ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی عمدہ اور نفیس چیزوں کو اپنے اوپر بلاوجہ حرام کرکے ان نعمتوں سے محروم ہوگئے، اور دوسری طرف جو چیزیں حقیقةً حرام تھیں، اور جن کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور آخرت کا عذاب نتیجہ میں آنے والا ہے، ان کے استعمال میں مبتلا ہو کر آخرت کا وبال خرید لیا، اور اس طرح دنیا و آخرت دونوں جگہ نعمتوں سے محروم ہو کر خسران دنیا و آخرت کا مورد بن گئے، ارشاد فرمایا : اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ ” یعنی جن چیزوں کو تم نے خواہ مخواہ حرام ٹھہرا لیا وہ تو حرام نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے تمام بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے خواہ وہ کھلے ہوئے ہوں یا چھپے ہوئے، اور ہر گناہ کے کام کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بلا دلیل کسی کو شریک ٹھہرانے کو اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا دو جس کی تم سند نہ رکھو “۔ اس تفصیل میں لفظ اثم کے تحت وہ تمام گناہ آگئے جن کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے، اور بَغُی میں وہ گناہ جن کا تعلق دوسروں کے معاملات اور حقوق سے ہو، اور شرک اور افتراء علی اللہ یہ عقیدہ کا گناہ عظیم ظاہری ہے۔ اس خاص تفصیل کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا کہ اس میں تقریباً ہر طرح کے محرکات اور گناہ پورے آگئے، خواہ عقیدہ کے گناہ ہوں یا عمل کے، اور پھر ذاتی عمل کے گناہ ہوں یا لوگوں کے حقوق، اور اس لئے بھی کہ یہ اہل جاہلیت ان سے جرائم اور محرمات میں مبتلا تھے، اس طرح ان کی دوسری جہالت کو کھولا گیا کہ حلال چیزوں سے پرہیز کرتے اور حرام کے استعمال سے نہیں جھجکتے۔ اور دین میں غلو اور نو ایجاد بدعات کا یہ لازمی خاصہ ہے کہ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ دین کی اصل اور اہم ضروریات سے عادة غافل ہوجاتے ہیں، اس لئے غلو فی الدین اور بدعت کا نقصان دوہرا ہوتا ہے، ایک خود غلو اور بدعت میں مبتلا ہونا گناہ ہے، دوسرے اس کے بالمقابل صحیح دین اور سنت کے طریقوں سے محروم ہونا۔ نعوذ باللہ منہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ۝ ٠ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُہُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۝ ٣٤ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] أي : كل نوع منها علی طریقة قد سخرها اللہ عليها بالطبع، فهي من بين ناسجة کالعنکبوت، وبانية کالسّرفة «4» ، ومدّخرة کالنمل ومعتمدة علی قوت وقته کالعصفور والحمام، إلى غير ذلک من الطبائع التي تخصص بها كل نوع . وقوله تعالی: كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً [ البقرة/ 213] أي : صنفا واحدا وعلی طریقة واحدة في الضلال والکفر، وقوله : وَلَوْ شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً [هود/ 118] أي : في الإيمان، وقوله : وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ [ آل عمران/ 104] أي : جماعة يتخيّرون العلم والعمل الصالح يکونون أسوة لغیرهم، وقوله : إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ [ الزخرف/ 22] أي : علی دين مجتمع . قال : وهل يأثمن ذو أمّة وهو طائع وقوله تعالی: وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ [يوسف/ 45] أي : حين، وقرئ ( بعد أمه) أي : بعد نسیان . وحقیقة ذلك : بعد انقضاء أهل عصر أو أهل دين . وقوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّهِ [ النحل/ 120] أي : قائما مقام جماعة في عبادة الله، نحو قولهم : فلان في نفسه قبیلة . وروي :«أنه يحشر زيد بن عمرو بن نفیل أمّة وحده» وقوله تعالی: لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] أي : جماعة، وجعلها الزجاج هاهنا للاستقامة، وقال : تقدیره : ذو طریقة واحدة فترک الإضمار أولی. الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں ۔ میں امم سے ہر وہ نوع حیوان مراد ہے جو فطری اور ت سخیری طور پر خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہو ۔ مثلا مکڑی جالا بنتی ہے اور سرفۃ ( مور سپید تنکوں سے ) اپنا گھر بناتی ہے اور چیونٹی ذخیرہ اندوزی میں لگی رہتی ہے اور چڑیا کبوتر وغیرہ وقتی غذا پر بھروسہ کرتے ہیں الغرض ہر نوع حیوان اپنی طبیعت اور فطرت کے مطابق ایک خاص قسم کی زندگی بسر کر رہی ہے اور آیت کریمہ :۔ { كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة البقرة 213) ( پہلے تو سب ) لوگ ایک امت تھے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تما لوگ صنف واحد اور ضلالت و کفر کے ہی کے مسلک گامزن تھے اور آیت کریمہ :۔ { وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً } ( سورة المائدة 48) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ہی شریعت پر کردیتا ۔ میں امۃ واحدۃ سے وحدۃ بحاظ ایمان مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ { وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ } ( سورة آل عمران 104) کے معنی یہ ہیں کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیے جو علم اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرے اور دوسروں کے لئے اسوۃ بنے اور آیت کریمہ ؛۔ { إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ } ( سورة الزخرف 22 - 23) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک متفقہ دین پر پایا ہے ۔ میں امۃ کے معنی دین کے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہی ع (25) وھل یاثمن ذوامۃ وھوطائع ( طویل ) بھلا کوئی متدین آدمی رضا اور رغبت سے گناہ کرسکتا ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ } ( سورة يوسف 45) میں امۃ کے معنی حین یعنی عرصہ دارز کے ہیں اور ایک قرات میں بعد امہ ( ربالھاء ) ہے یعنی نسیان کے بعد جب اسے یاد آیا ۔ اصل میں بعد امۃ کے معنی ہیں ایک دور یا کسی ایک مذہب کے متبعین کا دورگزر جانے کے بعد اور آیت کریمہ :۔ { إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا } ( سورة النحل 120) کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم عبادت الہی میں ایک جماعت اور قوم بمنزلہ تھے ۔ جس طرح کہ محاورہ ہے ۔ فلان فی نفسہ قبیلۃ کہ فلاں بذات خود ایک قبیلہ ہے یعنی ایک قبیلہ کے قائم مقام ہے (13) وروی انہ یحشر زیدبن عمرابن نفیل امۃ وحدہ اورا یک روایت میں ہے کہ حشر کے دن زید بن عمر و بن نفیل اکیلا ہی امت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ { لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ } ( سورة آل عمران 113) وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ( حکم خدا پر ) قائم بھی ہیں ۔ میں امۃ بمعنی جماعت ہے زجاج کے نزدیک یہاں قائمۃ بمعنی استقامت ہے یعنی ذو و طریقہ واحدۃ تو یہاں مضمر متردک ہے أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ لایستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ( باب استفعال) وہ دیر نہیں کرسکتے۔ وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ لا یستقدمون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ پہلے نہیں ہوسکتے ( باب استفعال)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

فواحش سے مراد قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور بالادستی قائم کرنے کا نام ہے۔ قول باری ولاثم کا ذکر شراب اور جوئے کے سلسلے میں ایک اور مقام پر بھی کیا گیا ہے چناچہ ارفاد ہے یسئلونک عن الخمرو المیسرقل فیھما اثم کبیر۔ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو کہ ان دونوں چیزوں میں بھاری گنا ہ ہے) شراب اور جوئے کو گناہ کی صفت سے موصوف کرنا شراب اور جوئے کی تحریم کا مقتضی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیجیے زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت اور اثم یعنی شراب جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ میں نے شراب اتنی پی کہ میری عقل جاتی رہی، اسی طرح شراب عقل کو ختم کردیتی ہے، میں نے شراب اعلانیہ فنجانوں میں پی اور اے مخاطب تو ہمارے میں ہتک عزت کا مشاہدہ کررہا ہے۔ نیز ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور بغیر سند اور دلیل کے شرک کرنے کو اور خود کھیتیوں جانوروں پاکیزہ چیزوں اور لباسوں کو اپنے اوپر حرام کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ ) بے حیائی خواہ چھپی ہوئی بھی ہو ‘ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24. For an elaboration of hidden and overt indecencies see Towards Understanding the Qur'an, vol. 11, al-An'am, 6: nn. 128 and 131, pp. 290-2. 25. The word ithm denotes negligence, dereliction of duty. Athimah signifies the she-camel which, though capable of running at a fast pace, deliberately moves slowly. The meaning of the word, therefore, carries the idea of sin. Viewed in the context of man, the word convey's the sense of man's deliberate neglect of his duty to God, his failure to pursue God's good pleasure despite his having the capacity to obey and follow Him. 26. To exceed the limits set by God and to enter an area which has been declared out of bounds for man constitute rebellion and transgression. According to this definition of baghy, the charge of rebellion will apply to all those who act according to their whims rather than in accordance with the directives of God. It is applicable to those who behave as though they are the true masters of God's Kingdom, claiming for themselves the prerogatives of God. It also applies to all those who usurp the rights of others.

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :24 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حواشی ١۲۷و١۳١ ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :25 اصل میں لفظ اِثْمٌ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی کوتاہی کے ہیں ۔ اٰثِمَہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیز چل سکتی ہو مگر جان بوجھ کو سُست چلے ۔ اسی سے اس لفظ میں گناہ کا مفہوم پیدا ہوا ہے ، یعنی انسان کا اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری میں قدرت و استطاعت کے باوجود ، کوتاہی کرنا اور اس کی رضا کو پہنچنے میں جان بوجھ کر قصور دکھانا ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :26 یعنی اپنی حد سے تجاوز کرکے ایسے حدود میں قدم رکھنا جن کے اندر داخل ہونے کا آدمی کو حق نہ ہو ۔ اس تعریف کی رو سے وہ لوگ بھی باغی قرار پاتے ہیں جو بندگی کی حد سے نکل کر خدا کے ملک میں خود مختیارانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں ، اور وہ بھی جو خد ا کی خدائی میں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجاتے ہیں ، اور وہ بھی جو بندگانِ خدا کے حقوق پر دست درازی کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: یوں توکسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہئے، عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی بلکہ اپنے بے بنیاد اندازوں پر تھی جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

مسند امام احمد صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت شریف میں چھپی کھلی بےحیائی اور گناہ ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی اور گناہ حق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے ظاہر و باطن بےحیائی کے متعلق سورة انعام میں بیان ہوچکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ چھپے ہوئے زنا کو عیب نہیں سمجھتے تھے مجاہد نے کہا کہ لفظ اثم سے تمام گناہ چھوٹے بڑے مراد ہیں اور باغی کو بغاوت کا وبال اسی کی جان پر ہے سدی کا قول ہے کہ ہر معصیت اثم ہے اور بغی کے معنے لوگوں پر ناحق زیادتی کا کرنا ہے غرض ذاتی گناہ اور لوگوں پر زیادتی کا کرنا دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا اسی طرح شرک باللہ کو جو ایک بےسند بات ہے حرام کیا کہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ایسا ہی یہ بھی حرام کیا کہ بغیر علم کے جہالت سے خدا پر جھوٹ نہ باندھو کہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے اور فرشتے بیٹیاں یا خدا کا یہ حکم ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو یہ چیز کھاؤ یہ نہ کھاؤ غرضیکہ اپنی طرف سے کوئی بات خدا پر نہ لگاؤ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ حرام و حلال کے واسطے خدا رسول کا حکم ضرور ہے مستدرک حاکم اور مسند بزار کے حوالہ سے ابودر (رض) داء کی صحیح حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حرام حلال وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کیا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بعضے لوگ قیامت کے دن ایسے ہوں گے کہ انہوں نے لوگوں پر ظلم اور زیادتی کی ہوگی جس کے معاوضہ میں ان ظالموں کی سب نیکیاں مظلوموں کو مل جاویں گی اور یہ ظالم لوگ خالی ہاتھ دوزخ میں چلے جاویں گے آیت میں لوگوں پر زیادتی کرنے کی جو ممانعت ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں پر ظلم و زیادتی کا کرنا ایسا گناہ ہے جس کے لئے فقط توبہ کافی نہیں ہے بلکہ اس گناہ کی سزا میں ظالموں کی نیکیاں مظلوموں کو مل جاویں گی :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اوپر کی آیت میں یہ فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف بہت سی چیزیں چرا کر رکھی تھیں اب اس آیت محرمات کو بیان فرمادیا، (رازی) جب مسلمانوں نے کپڑے پہن کر طواف کرنا شروع کیا تو کفار نے ان پر عیب لگایا اس پر یہ آیت ناز ل ہوئی ( قر طبی) الفواحش، یہ فاحشتہ کی جمع ہے اور انہتائی قبیح فعل کو کہتے ہیں الا ثم سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی اثم کہہ لیتے ہیں اور البغو کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں وہ بھی انما اور کوئی چیز حرام نہیں ہے حالانکہ بہت سے دوسری شیا کو حر مت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے امام رازی فراتے ہیں کہ کہ دراصل جنایات پانچ ہی قسم کی ہیں 1 ۔ جنایتہ علی الا نساب اور اس کا سبب زنا ہے اور الفواحش سے یہی مراد ہے دو جنایتہ علی العقل جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے بیں اور الاثم میں اسی طر اشارہ ہے سوم جنایتہ علی الاعراض چہارم جنایتہ علی النفوس والا موال اور البغی بغیر الحق میں ان دونوں کی حرمت کی طر اشارہ ہے بنجم جنایتہ علی الادیان اور یہ دو قسم کی ہے۔ 1 ۔ توحید میں طع کرنا جس کی طرف وان تشر کو اباللہ سے اشارہ فرمایا ہے اور 2 ۔ بغیر علم کے فتویٰ دینا جس کی طرف وان تقولو اعلی اللہ مالا تعلمون ؟ سے اشارہ فرمایا ہے غرض کہ جملہ جنایات میں یہ پانچ اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کے فروغ اور تواضع ہیں اس بنا پر انما کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں آتا، (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ جیسے برہنہ طواف کرنا۔ 7۔ جیسے بدکاری۔ 8۔ یعنی جو واقع میں حلال ہیں ان کو تو تم نے حرام سمجھا اور جو واقع میں حرام ہیں ان کو حلال سمجھا۔ عجب جہل میں گرفتار ہو اور جس طرح قل امرربی بالقسط میں تمام امور داخل ہوگئے تھے اسی طرح یہاں۔ انما حرم، میں تمام منہیات داخل ہیں۔ بغی میں تو سب معاملات آگئے۔ اور ان تشرکون اوان تقولو میں تمام عقائد فاسدہ آگئے اور اثم میں تمام اعمال و معاصی آگئے جن میں سے فحش معاصی کی تخصیص ذکر کے ساتھ اہتمام کے لیے کی گئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے منکرین حق سے سوال کیا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال قرار دیا ہے بتاؤ ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ اب ایک خاص انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ بتلایا گیا ہے کہ جو چیزیں تم نے از خود اپنے آپ حرام کی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں حرام نہیں کیں بلکہ یہ چیزیں حرام قرار دی ہیں۔ ١۔ بےحیائی خفیہ ہو یا اعلانیہ۔ ٢۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ٣۔ ہر قسم کی تعدّی اور سرکشی۔ ٤۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات لگانا جس کا قرآن وسنت میں ثبوت نہ ہو۔ فواحش، فاحشۃ کی جمع ہے جسے کلی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔ بےحیائی سرعام کی جائے یا چھپ کر کی جائے وہ ہر صورت اور ہر حالت میں ناجائز اور حرام ہے۔ اکثر مفسرین نے فواحش سے مراد بےحیائی اثم سے مراد شراب خوری لی ہے کیونکہ سورة بنی اسرائیل آیت ٣٢ میں زنا کو بےحیائی قرار دیا ہے۔ اثم کا معنیٰ بعض مفسرین نے شراب لیا ہے اس لیے کہ سورة البقرۃ، آیت ٢١٩ میں شراب اور جوا کو اثم کہا ہے تاہم اس تفسیر کے باوجود فواحش سے مراد یہاں ہر قسم کی بدکاری اور بےحیائی ہے چاہے عملاً ہو یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کے اخلاق تباہ اور ان کی دینی اور ایمانی قدریں کمزور ہوتی ہوں اس قسم کی تمام حرکات بےحیائی تصور کی جائیں گی۔ اثم کی تشریح کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودی (رض) لکھتے ہیں کہ اثم اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو تیز رفتار چل سکتی ہو مگر اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر سست روی کا مظاہرہ کرے یعنی انسان نیکی کرنے کی استعداد اور طاقت رکھتا ہو مگر پھر بھی نیکی کرنے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرے اس لحاظ سے اثم یعنی گناہ کا دائرہ بڑا وسیع ہوجاتا ہے شاید اسی بنیاد پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (اَللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ ) [ رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ] ” الٰہی میں تجھ سے سستی اور غفلت سے پناہ مانگتا ہوں۔ “ البغی کا معنیٰ تعدی اور سرکشی اختیار کرنا جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی اور ایمانی حدود سے تجاوز کرنا ہے اس لیے یہاں اَلْبَغْیُ بِغَیْرِ الْحَقِّ کے الفاظ فرمائے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی شخص کو اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے کا حق ہے بلکہ بِغَیْرِ الْحَقِّ کے الفاظ سے یہ تاکید کی جا رہی ہے کہ کسی انسان کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور سرکشی کرے بعض اہل علم نے البغی سے مراد ایسا گناہ لیا ہے جس میں گناہ کرنے والا دوسرے پر زیادتی کا بھی ارتکاب کرے جیسے قتل، چوری، زنا بالجبر وغیرہ۔ شرک : سورۂ لقمان آیت ١٣ میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے شرک اس لیے ظلم عظیم ہے کہ مشرک جن صفات کو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے ساتھ منسوب کرتا اور سمجھتا ہے وہ صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخص زندہ ہو یا فوت ہوچکا ہو۔ اس میں نہیں پائی جاتیں۔ اور نہ ہی شرک کی تائید میں کوئی معقول دلیل پیش کی جاسکتی ہے بشرطیکہ کسی کی عقل ماؤف نہ ہوچکی ہو۔ ہر زمانے کے مشرک شرک کی حمایت میں جو دلیلیں دیتے ہیں وہ عقل اور علم کے معیار پر پوری نہیں اترتیں اس لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ اس نے شرک کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اللہ اور اس کے رسول پر کذب بیانی کرنا : یعنی اپنے جی سے حلال و حرام ٹھہرانا، اپنی خواہشوں کی پیروی اور ثواب کی خاطر دین میں بدعتیں ایجاد کرنا، من مرضی سے شریعت تصنیف کرکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا۔ اس اعتبار سے جو شخص رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی اور من گھڑت حدیث منسوب کرتا ہے وہ بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتا ہے۔ (عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہٖ قَالَ قُلْتُ للزُّبَیْرِ (رض) إِنِّی لَا أَسْمَعُکَ تُحَدِّثُ عَنْ رَّسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَمَا یُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ أَمَا إِنِّی لَمْ أُفَارِقْہُ وَلَکِنْ سَمِعْتُہٗ یَقُولُ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب اثم من کذب علی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد زبیر (رض) سے کہا میں نے آپ کو نہیں سنا کہ آپ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بیان کریں جس طرح فلاں فلاں آدمی بیان کرتا ہے۔ حضرت زبیر (رض) نے کہا میں نے ہمیشہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات سنی کہ آپ نے فرمایا جو کوئی میری جانب جھوٹ کی نسبت کرے اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم سمجھے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ “ ) [ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ چھوٹے بڑے، ظاہر اور باطن گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ ٢۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و سرکشی کرے۔ ٣۔ شرک کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ٤۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں اس لیے من گھڑت باتیں کرنے سے شرک ثابت نہیں ہوسکتا۔ ٥۔ من گھڑت مسائل بیان کرنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کا عقیدہ بےبنیاد ہے : ١۔ اللہ کے سوا مشرک جس کی عبادت کرتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الحج : ٧١) ٢۔ مشرک اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ (الانعام : ٨١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے فحش کاموں اور ظاہری و باطنی گناہوں کو حرام قرار دیا ہے اوپر ارشاد فرمایا کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا پھر فرمایا کہ میرے رب نے انصاف کا حکم فرمایا ہے اس نے فواحش سے بچنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یہاں بطور تاکید پھر اس مضمون کا اعادہ فرمایا جس میں قدرے تفصیل بھی آرہی ہے ارشاد فرمایا ہے۔ (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ ) آپ فرما دیجیے کہ میرے رب نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تمام فحش باتیں اور فحش کام حرام ہیں خواہ ظاہری طور پر ہوں خواہ پوشیدہ طور پر۔ ننگے ہو کر طواف کرنا، لوگوں کے سامنے ستر کھول کر آجانا۔ عورتوں کو بےپردہ پھرانا، علانیہ طور پر فحش کام کرنا سب اسی ماظَھَرَ میں داخل ہے اور وَ مَا بَطَنَ (خفیہ طور) میں وہ سب فحش کام اور فحش کلام داخل ہیں جو در پردہ پوشیدہ طور پر کیے جاتے ہیں۔ زنا اور اس کے دواعی جو چھپ کر ہوتے ہیں ان سب کے حرام ہونے کی تصریح ان لفظوں میں ہوگئی۔ (میاں بیوی والے تعلقات چونکہ حلال ہیں اس لیے فحش ممنوع میں داخل نہیں ہیں) پھر فرمایا والْاِثْمَ اور اللہ نے گناہ کو بھی حرام قرار دیا اس میں ہر گناہ کی ممانعت آگئی۔ (وَ الْبَغْیَ بْغَیْرِ الْحَقِّ ) اور اللہ نے ظلم و زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا جو ناحق ہی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ اَنْ تُشْرِکُوْا باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا) اور اللہ نے یہ بھی حرام قرار دیا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرو۔ جو لوگ شرک کرتے تھے وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کو حجت بناتے تھے اور بعض جہالت کے مارے یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہیں یہ ہمیں اللہ کے نزدیک پہنچا دینگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں فرمایا (مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا) کہ یہ تمہارا شرک کرنا وہ چیز ہے جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی تمہارے پاس کوئی دلیل اور حجت اور سند نہیں۔ نیز فرمایا (وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) اور اللہ نے یہ بھی حرام کیا کہ تم اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے۔ چونکہ اپنے برے کاموں کے بارے میں یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا اس لیے تنبیہ فرمائی کہ تم اپنی جہالت سے جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہو یہ بھی اللہ نے حرام قرار دیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34: یہ تحریمات الٰہیہ کا بیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جو تم نے از خود حرام کرلی ہیں اور جو چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں ان کو تم حرام نہیں سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام فواحش ظاہرہ اور خفیہ کو حرام کیا ہے، ہر قسم کے گناہ، ظلم ناحق، تمام انواع شرک اور اپنی ذات پر افتراء کو حرام ٹھہرایا ہے مگر ان محرمات سے تم باز نہیں آتے ہو۔ “ مَا لَمْ يُنَزِّلْ ” میں “ مَا ” سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور بہ ای بمعبودیتہ یعنی ان معبودان باطلہ کو خدا کا شریک بنانا بھی حرام ہے جن کے معبود ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 آپ فرما دیجئے کہ میرے پروردگار نے تو بس تمام فحش اور بےحیائی کے کاموں کو خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ ہوں ان کو حرام فرمایا ہے اور ہر گناہ کی بات کو حرام کیا ہے اور کسی پر ناحق زیادتی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا جس کی سند اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ہو اس شرک کو حرام فرمایا ہے اور اس بات کو حرام کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی ایسی بات منسوب کرو جس کا تم کو علم نہ ہو یعنی ماکولات وغیرہ کی اباحت کا ذکر کرنے کے بعد ان باتوں کا ذکر فرمایا جو واقعی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبیح اور بری ہیں اور جن میں تم عام طور سے مبتلا ہو مثلاً بےحیائی کے کام وہ علانیہ ہوں جیسے ستر کو ظاہرکرنا اور کعبہ کا طواف کرتے وقت برہنہ ہوجانا یا چھپ کر جیسے زنا وغیرہ میں مبتلا ہونا یا کفر و نفاق کا مرتکب ہونا اور مثلاً ہر گناہ خواہ وہ صغیرہ ہو یا کبیرہ اور مثلاً کسی پر بغیر حق شرعی کے زیادتی کرنا اور مثلاً اللہ تعالیٰ کی عبادت یا اس کی ذات وصفات میں کسی کو بغیر کسی دلیل اور سند کے شریک کرنا اور مثلاً بغیر کسی علم اور واقفیت کے اللہ تعالیٰ پر کوئی بہتان باندھنا یا تہمت لگانا یا اس کے دین میں الحاد اور کج روی اختیار کرنا اور اس کی ذات وصفات میں عیب لگانا وغیرہ یہ سب باتیں میرے رب نے بیشک حرام فرمائی ہیں۔