Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 23
سورة المعارج
الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ دَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۲۳﴾
Those who are constant in their prayer
جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں ۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ دَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۲۳﴾
Those who are constant in their prayer
جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں ۔
Those who with their Salah are Da'imun; It has been said that this means they guard its times and the elements obligatory in it. This has been said by Ibn Mas`ud, Masruq and Ibrahim An-Nakha`i. It has also been said that it means tranquility and humble concentration (in the prayer). This is similar to Allah's statement, قَدْ أَفْلَحَ الْمُوْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِى صَلَتِهِمْ خَـشِعُونَ Successful indeed are the believers. Those who with their Salah are Khashi`un. (23:1-2) This was said by `Uqbah bin `Amir. From its meanings, is the same terminology used to describe standing (still) water (Al-Ma' Ad-Da'im). This proves the obligation of having tranquility in the prayer. For verily, the one who does not have tranquility (stillness of posture) in his bowing and prostrating, then he is not being constant (Da'im) in his prayer. This is because he is not being still in it and he does not remain (in its positions), rather he pecks in it (quickly) like the pecking of the crow. Therefore, he is not successful in performing his prayer. It has also been said that the meaning here refers to those who perform a deed and are constant in its performance and consistent in it. This is like the Hadith that has been recorded in the Sahih on the authority of `A'ishah that the Messenger of Allah said, أَحَبُّ الاَْعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَل The most beloved deeds to Allah are those that are most consistent, even if they are few. Then Allah says, وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ
23۔ 1 مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
[١٥] دائمون کے دو مفہوم :۔ سب سے پہلی اور اہم صفت یہ ہے کہ وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ بروقت ادا کرتے ہیں۔ باجماعت ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک طرح سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ اس آیت میں دَائِمُوْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دوام کا ایک معنی تو ہمیشگی ہے اور دام الشَیْیُ بمعنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک بلا تغیر ایک ہی حالت میں رہنا، ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا گیا ہے اس کا دوسرا معنی سکون اور ٹھہراؤ ہے اور ماء الدَّائِمِ بمعنی کھڑا پانی جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنی نماز کو نہایت سکون، ٹھہراؤ، اطمینان قلب اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ یہ کرتے ہیں کہ منافقوں کی طرح جلدی جلدی چند ٹھونگیں ماریں اور فٹا فٹ نماز سے فارغ ہوئے۔ اور نہ یہ کرتے ہیں کہ بس ایک اللہ کی یاد کو دل و دماغ میں نہ لائیں باقی ادھر ادھر کی ساری باتیں نماز میں سوچتے رہیں۔
الَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ٢٣ ۠ دوم أصل الدّوام السکون، يقال : دام الماء، أي : سكن، «ونهي أن يبول الإنسان في الماء الدائم» ۔ وأَدَمْتُ القدر ودوّمتها : سكّنت غلیانها بالماء، ومنه : دَامَ الشیءُ : إذا امتدّ عليه الزمان، قال تعالی: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ما دُمْتُ فِيهِمْ [ المائدة/ 117] ( د و م ) الدام ۔ اصل میں دوام کے معنی سکون کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ دام المآء ( پانی ٹھہر گیا ) اور ( حدیث میں یعنی کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے تھوڑا سا پانی ڈالکر ہانڈی کو ٹھنڈا کردیا ۔ اسی سے دام الشئی کا محاورہ ہے یعنی وہ چیز جو عرصہ دراز تک رہے قرآن میں ہے : ۔ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ما دُمْتُ فِيهِمْ [ المائدة/ 117] اور جب تک میں ان میں رہا ان ( کے حالات ) کی خبر رکھتا رہا ۔ إِلَّا ما دُمْتَ عَلَيْهِ قائِماً [ آل عمران/ 75] جب تک اس کے سر پر ہر قت کھڑے نہ رہو
نمازوں کی پابندی کرنا قول باری ہے (الذین ھم علی صلاتھم دائمون، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں) ابوسلمہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز وہ تھی جس کی پابندی کی جاتی ہو۔ پھر حضرت عائشہ (رض) نے درج بالا آیت تلاوت کی۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ وہ لوگ نمازوں کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں۔ حضرات عمران بن حصین (رض) سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ وہ شخص جو نماز کے دوران دائیں بائیں نہیں دیکھتا۔ سائل اور محروم کون ہے ؟
آیت ٢٣{ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَآئِمُوْنَ ۔ } ” جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو اپنے روز مرہ معمولات میں نماز کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں اور کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتے۔ چناچہ ایسے ” نمازی “ اس وصف کے مصداق نہیں بن سکتے جو ” فارغ وقت “ میں تو نماز ادا کرلیتے ہیں لیکن جب کوئی اور مصروفیت ہو تو انہیں نماز کا خیال تک نہیں آتا ‘ اور نہ ہی انہیں نماز کے ضائع ہوجانے کا دکھ ہوتا ہے۔ اس آیت کے مشابہ سورة المومنون میں یہ آیت ہے : { الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ ۔ } ” وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ “
15 That is, no laziness, or love of ease and comfort, no occupation, or interest, hinders them from being punctual and regular at the prayer. When the Prayer time comes, they abandon every occupation and activity and stand up to perform worship of their God. Another meaning which Hadrat 'Uqbah bin 'Amir has given of ala salat-i-him daa imun is that they perform the Prayer with full peace of mind, tranquillity and humility; they do not try to offer the Prayer in a hurry in order to get rid of it somehow, nor think irrelevant things during the Prayer.
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :15 یعنی کسی قسم کی سستی اور آرام طلبی ، یا مصروفیت ، یا دلچسپی ان کی نماز کی پابندی میں مانع نہیں ہوتی ۔ جب نماز کا وقت آجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے خدا کی عبادت بجا لانے کے لیے کھڑا ہو جاتے ہیں ۔ علی صلاتھم دائمون کے ایک اور معنی حضرت عقبہ بن عامر نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ پورے سکون اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں ۔ کوے کی طرح ٹھونگیں نہیں مارتے ۔ مارا مار پڑھ کر کسی نہ کسی طرح نماز سے فارغ ہو جانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اور نماز کے دوران میں ادھر ادھر التفات بھی نہیں کرتے ۔ عربی محاورے میں ٹھیرے ہوئے پانی کو ماءِ دائم کہا جاتا ہے ۔ اسی سے یہ تفسیر ماخوذ ہے ۔
(70:23) الذین ھم علی صلوتھم وائمون : یہ المصلین کی صفت ہے جو اپنی نمازوں میں مداومت اور استقامت کرتے ہیں ای لا یقضونھا ابدا ما داموا احیاء جب تک زندہ رہتے ہیں نماز قضاء نہیں کرتے۔ (الیسر والتفاسیر) حضرت عائشہ ام المؤمنین (رض) سے ایک حدیث مرفوعا مذکور ہے :۔ احب الاعمال الی اللہ ادومھا ولو قل : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل اس پر استقامت ہے خواہ وہ عمل چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت عقبہ (رض) نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز میں دائیں بائیں اور پیچھے نہیں دیکھتے۔ احمد اور ابو داؤد، نسائی۔ دارمی نے حضرت ابوذر (رض) کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :۔ کہ بندہ جب تک نماز کے اندر ادھر ادھر التفات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔ الانسان الھلوع کی مستثنیات کی یہ پہلی صفت ہے یعنی جو لوگ اپنی نمازوں کو استقامت و مداومت اور توجہ سے پڑھتے ہیں وہ الانسان الہلوع کی جنس سے مستثنیٰ ہیں ۔
ف 6 یعنی جو کوئی نماز ترک نہیں کرتے یا جو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ اس سے عبادت پر دوام کی فضیلت نکلتی ہے۔ ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا : خذو امن العمل ماتطیقون فان اللہ لا یمل حتی تملوا قالت فکان احب الاعمال الی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مادام علیہ وان قل عبادت اتنی کرو جتنی طاقت ہو۔ یعنی حد سے زیادہ اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو ورنہ تم اکتا کر چھوڑ بیٹھو گے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کو سب سے محبوب عمل وہ ہوتا جسے آپ ہمیشہ کرتے خواہ تھوڑا ہی ہو۔
9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔
الذین ھم ................ دآئمون (٠٧ : ٣٢) ” جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں “۔ نماز کے ساتھ تسلسل اور دوام ایک لازمی صفت ہے۔ گنڈے دار قسم کی نماز ، سستی سے پڑھی جانے والی نماز مکمل نماز نہیں ہے۔ نماز کے بارے میں سستی روی اور غفلت معیوب ہے۔ نماز چونکہ بندے اور رب کے درمیان رابطہ ہے اس لئے اس میں دوام لابدی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی عبادت کرتے تو آپ اس پر دوام اختیار فرماتے۔ حدیث شریف میں ہے ” اللہ کے نزدیک اعمال میں سے محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ وہ قلیل ہو ، لہٰذا اللہ کے ساتھ تعلق کا یہ مقدس رابطہ دائمی ہونا چاہئے۔ اسے مزاح نہ ہونا چاہئے کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ جس طرح جی نے چاہا کرلیا۔
8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر مامون “ جملہ معترضہ ہے جس میں عذاب خداوندی کی شدت و عظمت کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ تعالٰ کا عذاب ایک ایسی چیز ہے جس سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر ایک کو خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس سے ڈرتے رہنا چاہئے۔