Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 32

سورة المعارج

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۲﴾

And those who are to their trusts and promises attentive

اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And those who keep their trusts and covenants. meaning, if they are given a trust they do not deceit and when they make a covenant they do not break it. These are the characteristics of the believers which are opposite of the characteristics of the hypocrites. This is like what is reported in the authentic Hadith, ايَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اوْتُمِنَ خَان The signs of the hypocrites are three. - When he speaks he lies, - when he promises he breaks his promise, - and when he is given a trust he behaves treacherously (with it). In another narration it states, إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَر - When he speaks he lies, - when he makes a covenant he breaks it, - and when he argues he is abusive. Concerning Allah's statement, وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَايِمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] اس آیت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر ٨ کا حاشیہ

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والذین ھم لامنتھم…: امانت و عہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ نفاق کی علامات والی مشہور حدیث میں ہے۔ (دیکھیے بخاری : ٣٣۔ مسلم : ٥٨)” امانات “ کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ پابندیوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Rights of Allah and Rights of Human beings both are included in Trust Obligations وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَ‌اعُونَ (and those who are careful about their trusts and covenants...70:32). The word amanat is the plural of amanah &trust and covenant& as in: إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا &Surely, Allah commands you to fulfill trust obligations towards those entitled to them. [ 4:58] & The use of plural number indicates that amanah does not only refer to &that which people might deposit with a trustee for safe-keeping& but it also refers to &all obligatory rights that are necessary to fulfill&. Breach of trusts and covenants is dishonesty. Trust obligations include all Divine rights, such as salah, siyam, hajj and zakah, as well as all human rights, such as rights that Allah has imposed between human beings, or human beings themselves might have entered into binding contracts and covenants. Fulfillment of them is obligatory. Failure to comply with their terms and conditions would amount to breach, or dishonesty. [ Mazhari، condensed ].

تمام حقوق اللہ اور سب حقوق العباد امانت میں داخل ہیں : (آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ ، اس آیت میں امانات جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے جیسے دوسری جگہ بھی (آیت) ان اللہ یامرکم ان تودوا الا منت الی اھلھا فرمایا ہے دونوں جگہ بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ امانت صرف وہ مال ہی نہغیں جو کسی نے آپ کے پاس رکھ دیا ہو بلکہ تمام حقوق واجبہ جن کا ادا کرنا آپ کے ذمہ فرض ہے وہ سب امانات ہیں ان میں کوتاہی کرنا خیانت ہے اس میں تمام حقوق اللہ نماز روزہ حج زکوة بھی داخل ہیں اور تمام حقوق العباد جو منجانب اللہ کسی پر واجب ہیں یا اس نے خود کسی معاہدے اور معاملے کے ذریعہ اپنے پر لازم کر لئے ہیں وہ سب امانت کی فہرست میں داخل اور ان کی ادائیگی فرض، اس میں کوتاہی خیانت ہے (از مظہری ملحضاً )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۝ ٣٢ أمانت أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ رعی الرَّعْيُ في الأصل : حفظ الحیوان، إمّا بغذائه الحافظ لحیاته، وإمّا بذبّ العدوّ عنه . يقال : رَعَيْتُهُ ، أي : حفظته، وأَرْعَيْتُهُ : جعلت له ما يرْعَى. والرِّعْيُ : ما يرعاه، والْمَرْعَى: موضع الرّعي، قال تعالی: كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعامَكُمْ [ طه/ 54] ، أَخْرَجَ مِنْها ماءَها وَمَرْعاه[ النازعات/ 31] ، وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعى [ الأعلی/ 4] ، وجعل الرَّعْيُ والرِّعَاءُ للحفظ والسّياسة . قال تعالی: فَما رَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها[ الحدید/ 27] ، أي : ما حافظوا عليها حقّ المحافظة . ويسمّى كلّ سائس لنفسه أو لغیره رَاعِياً ، وروي : «كلّكم رَاعٍ ، وكلّكم مسئول عن رَعِيَّتِهِ» قال الشاعر : ولا المرعيّ في الأقوام کالرّاعي وجمع الرّاعي رِعَاءٌ ورُعَاةٌ. ومُرَاعَاةُ الإنسان للأمر : مراقبته إلى ماذا يصير، وماذا منه يكون، ومنه : رَاعَيْتُ النجوم، قال تعالی: لا تَقُولُوا : راعِنا وَقُولُوا انْظُرْنا [ البقرة/ 104] ، وأَرْعَيْتُهُ سمعي : جعلته راعیا لکلامه، وقیل : أَرْعِنِي سمعَك، ويقال : أَرْعِ علی كذا، فيعدّى بعلی أي : أبق عليه، وحقیقته : أَرْعِهِ مطّلعا عليه . ( ر ع ی ) الرعی ۔ اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں ۔ خواہ غذا کے ذریعہ ہو جو اسکی زندگی کی حافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو اور رعیتہ کے معنی کسی کی نگرانی کرنے کے ہیں اور ارعیتہ کے معنی ہیں میں نے اسکے سامنے چارا ڈالا اور رعی چارہ یا گھاس کو کہتے ہیں مرعی ( ظرف ) چراگاہ ۔ قرآن میں ہے ۔ كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعامَكُمْ [ طه/ 54] تم بھی کھاؤ اور اپنے چارپاؤں کو بھی چراؤ ۔ أَخْرَجَ مِنْها ماءَها وَمَرْعاها[ النازعات/ 31] اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکالا ۔ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعى [ الأعلی/ 4] اور جس نے ( خوش نما ) چارہ ( زمین سے ) نکالا ۔ رعی اور رعاء کا لفظ عام طور پر حفاظت اور حسن انتظام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَما رَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها[ الحدید/ 27] لیکن جیسے اس کی نگہداشت کرنا چاہئے تھی انہوں نے نہ کی ۔ اور ہر وہ آدمی جو دوسروں کا محافظ اور منتظم ہوا اسے راعی کہا جاتا ہے ۔ حدیث میں ہے ( 157) کلھم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہوگا شاعر نے کہا ہے ( السریع ) ولا المرعيّ في الأقوام کالرّاعی اور محکوم قومیں حاکم قوموں کے برابر نہیں ہوسکتیں ۔ اور راعی کی جمع رعاء ورعاۃ آتی ہے ۔ المراعاۃ کسی کام کے انجام پر غور کرنا اور نہ دیکھنا کہ اس سے کیا صادر ہوتا ہے کہا جاتا ہے ۔ راعیت النجوم میں نے ستاروں کے غروب ہونے پر نگاہ رکھی ۔ قرآن میں ہے : لا تَقُولُوا : راعِنا وَقُولُوا انْظُرْنا[ البقرة/ 104]( مسلمانو پیغمبر سے ) راعنا کہہ کر مت خطاب کیا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو ۔ کہا جاتا ہے : ارعیتہ سمعی ۔ میں نے اس کی بات پر کان لگایا یعنی غور سے اس کی بات کو سنا اسی طرح محاورہ ہے ۔ ارعنی سمعک میری بات سنیے ۔ اور ارع علٰی کذا ۔ کے معنی کسی پر رحم کھانے اور اسکی حفاظت کرنے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢۔ ٣٣) اور جو اپنی سپردتی میں لیے ہوئے دین (قرض) امانتوں اور اپنے آپس کے عہدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں کو حکام کے سامنے ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ ۔ } ” اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔ “ یہ چاروں آیات سورة المومنون میں بھی (آیت ٥ ‘ ٦ ‘ ٧ اور ٨ کے طور پر) جوں کی توں آئی ہیں۔ البتہ اگلی آیت میں اہل ایمان کی سیرت کی ایک اضافی صفت کا ذکر ہے جو سورة المومنون کی مذکورہ آیات میں بیان نہیں ہوئی :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

21 "Trusts" imply those trusts which Allah has entrusted to men as well as those which one man entrusts to another because of faith and confidence. Likewise, "promises" imply those promises which man makes with his God as well as those which one man makes with another. Keeping and fulfilling both these kinds of trusts and promises is a necessary characteristic of a believer. In a Hadith Hadrat Anas (may Allah bless him) has reported that when ever the Holy Prophet (upon whom be peace) addressed his Companions, he would always give them the instruction: "Beware, the one who does not keep his trust has no faith, and one who does not fulfil his pledges, has no religion." (Baihaqi. Ash-Shu ab al-Imam) .

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :21 امانتوں سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو اللہ تعالی نے بندوں کے سپرد کی ہیں اور وہ امانتیں بھی جو انسان کسی دوسرے انسان پر اعتماد کر کے اس کے حوالے کرتا ہے ۔ اسی طرح عہد سے مراد وہ عہد بھی ہیں جو بندہ اپنے خدا سے کرتا ہے ، اور عہد بھی جو بندے ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔ ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد و پیمان کا پاس و لحاظ ایک مومن کی سیرت کے لازمی خصائص میں سے ہے ۔ حدیث میں حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے جو تقریر بھی فرماتے اس میں یہ بات ضرور ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ الا ، لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ ۔ خبر دار رہو ، جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں ، اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔ ( بہقی فی شعب الایمان ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:32) والذین ہم لامانتھم وعدھم راعون ۔ الانسان الہلوع کے مستثنیت کی چھٹی صفت ہے۔ اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں۔ راعون۔ اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے رعایۃ ورعی (باب فتح) مصدر سے الرعی اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں خواہ غذاء کے ذریعہ ہو جو اس کیء زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دمشن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو۔ اور رعیتہ کے معنی کسی کی نگرانی کرنے کے ہیں اور ارعیتہ کے معنی ہیں میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعی چارہ یاگھاس کو کہتے ہیں اور مرعی (ظرف مکان) چراگاہ اور گھاس یا چارہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے اخرج منھا ماء ھا ومرعھا (79:31) اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔ اور رعایۃ بمعنی حفاظت اور نگہداشت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ فما رعوھا حق رعایتھا (57:27) لیکن جیسے اس کی نگہداشت کرنی چاہیے تھی انہوں نے نہ کی۔ اور رعی الامبر رعیتہ رعایۃ : اپنی رعایا پر سیاست رانی کرنا۔ راعون، راعی کی جمع ہے بحالت رفع ہے۔ اصل میں راعیون تھا۔ ی مفوہم ماقبل مکسور ی کا ضمہ ع کو دیا۔ یا اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے ی ساقط کردی گئی۔ راعون ہوگیا۔ نگہداشت رکھنے والے۔ نگرانی کرنے والے۔ نیز ملاحظہ ہو 23:8 متذکرۃ الصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں : مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ امانت سے مراد صرف سونا چاندی اور کرنسی کی حفاظت نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی امانت ہے۔ بیشک وہ کسی منصب کے حوالے سے عائد ہونے والی ذمہ داری ہو۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امانت کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ باضابطہ مجالس میں ہونے والی گفتگو بھی امانت ہوتی ہے۔ جس طرح ہر قسم کی امانت کا خیال رکھنا فرض اور مومن کی صفت ہے اسی طرح جائز کاموں پر کیے گئے عہد کی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے۔ عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید کے حوالے سے کیا ہوا وہ عہد ہے جو ہر انسان نے عالم ارواح میں اپنے رب کے ساتھ کیا تھا (الاعراف : ١٧٢) اس کے ساتھ وہ عہد وقیود بھی شامل ہیں جو ایک انسان دوسرے کے ساتھ اور ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنے سے مسلمان کو نہ صرف آخرت میں اجر ملے گا بلکہ دنیا میں بھی اچھی شہرت اور لوگوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے جس سے سیاست، تجارت اور معاملات میں فائدہ پہنچتا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمَجَالِسُ بالأَمَانَۃِ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ مَجَالِسَ سَفْکُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَیْرِ حَقٍّ ) (رواہ ابو داؤد : باب فِی نَقْلِ الْحَدِیثِ ، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجالس امانت ہوا کرتی ہیں۔ مگر تین قسم کی مجالس امانت نہیں ہوا کرتیں ایک وہ جس میں کسی کا ناحق خون بہایا جائے، جس میں زنا کیا جائے اور وہ جس میں کسی کا مال ناحق کھایا جائے۔ “ جنتی شہادتِ حق پر قائم رہنے والے ہوں گے : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْکَبَآءِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ ) (رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر) ” حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” بڑے گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ “ پھر فرمایا : کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ؟ وہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔ “ مسائل ١۔ ایماندار لوگ امانتوں کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ ٢۔ نیک لوگ اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ ٣۔ نیک لوگ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں۔ ٤۔ ایماندار لوگ ہر طرح اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٥۔ جنتی جنت میں بڑے احترام و اکرام کے ساتھ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتی کے انعام واکرام : ١۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٣۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٤۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٥۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ٦۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢) ٧۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : ٧٦) ٨۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ٩۔ جنتی کو ملائکہ ہر مقام پر سلام عرض کریں گے۔ (الزمر : ٧٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والذین .................... رعون (٠٧ : ٢٣) ” جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں “۔ یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جن پر اسلام اپنے معاشرے کی بنیاداٹھاتا ہے۔ معاشرے میں امانتوں کی رعایت و حفاظت اور عہد کی حفاظت کا تصور اس امانت کبریٰ کی رعایت اور حفاظت سے اٹھتا ہے جو اللہ نے زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور یہ انکار اس خوف کی وجہ سے ہوا کہ یہ بہت بڑا بھاری بوجھ ہے ، لیکن انسان نے اسے اٹھالیا۔ یہ تھی ، اسلامی نظریہ حیات کی امانت۔ عقیدہ توحید کی امانت اور یہ انسان نے اختیاراً قبول کی ، مجبوراً نہیں۔ یہ امانت جو انسانوں نے قبول کی جب وہ اپنے والد کی پشت میں تھے اور اس پر وہ گواہ ہوئے اور ان کی پیدائش اس پر گواہ ہوئی ، اسی امانت ودیانت سے یہ لازم آیا کہ دنیا میں تمام عہد پورے کرو ، چناچہ اسلام نے عہد پورا کرنے میں بہت سختی سے کام لیا اور اس کی تاکیدات کی گئیں تاکہ اسلامی معاشرہ نہایت ہی پختہ اصولوں پر قائم ہو۔ اور امانت ودیانت اور رعایت عہدہ کو نفس مومنہ کی خصوصیت قرار دیا اور خیانت اور وعدہ خلافی کفار کی صفت قرار دیا۔ اور اس کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا اور تاکیدات فرمائیں تاکہ اس میں شک نہ رہے کہ امانت اور وفائے عہد اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سادساً یوں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ٠٠٣٢﴾ (اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں) ۔ اللہ کے حقوق جو بندوں پر ہیں نماز، زکوٰۃ، روزے، کفارات، نذر کا پورا کرنا اور ان کے علاوہ بہت سی چیزیں یہ سب امانتیں ہیں جن کی ادائیگی یا اضاعت ہر شخص کو معلوم ہوتی ہے کہ میں نے کس حکم پر عمل کیا اور زندگی میں کس موقعہ پر حکم عدولی کی اس کی دوسروں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح حقوق العباد جو ایک دوسرے پر واجب ہیں وہ بھی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی فرض ہے ہر شخص اپنے متعلقہ احکام میں امانتدار ہے چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤسا اور وزراء امانت دار ہیں انہوں نے جو عہدے اپنے ذمے لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں کسی بھی معاملہ میں عوام کی خیانت نہ کریں اسی طرح سے بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی اور پڑوسی، میاں بیوی اور ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانتدار ہیں جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گناہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا، جو مال کوئی شخص کسی کے پاس حفاظت کے لیے رکھ دے کہ میں بعد میں لے لوں گا یہ بھی امانت ہے اس کی حفاظت بھی لازم ہے اور اس کا ضائع کرنا اور اس میں خیانت کرنا بہت بڑی گناہگاری ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باتیں کر رہے تھے۔ ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) آیا اس نے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کہ جب نا اہلوں کو کام سپرد کردیئے جائیں اس وقت قیامت کا انتظار کرنا۔ امانتوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ عہود کی نگرانی کا بھی حکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیے ہیں وہ بھی پورے کریں اور بندوں سے جو عہد کیے ہیں انفرادی و اجتماعی معاہدات ہیں ان کو بھی پورا کرنے کا اہتمام کریں۔ سورة الاسراء میں فرمایا : ﴿وَ اَوْفُوْا بالْعَهْدِ ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔوْلًا ٠٠٣٤﴾ (اور عہد پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) اور جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے ہیں۔