Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 33
سورة المعارج
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
And those who are in their testimonies upright
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں ۔
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
And those who are in their testimonies upright
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں ۔
And those who stand firm in their testimonies. This means that they guard their testimonies. They do not add or decrease from what they testify to nor do they conceal their testimonies. Allah says in another Ayah, وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ ءَاثِمٌ قَلْبُهُ Who hides it, surely, his heart is sinful. (2:283) Then Allah says, وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
[٢٠] شہادت کا مفہوم & اہمیت اور شہادت پر قائم رہنے کی تاکید :۔ شہادت اس بیان کو کہتے ہیں جو ایک گواہ، خواہ وہ عینی گواہ ہو یا بعض حقائق کو علم کی حد تک جانتا ہو جسے قلبی شہادت کہتے ہیں، عدالت میں حاضر ہو کر قاضی کے سامنے دیتا ہے۔ اور قاضی اور عدالت سے مراد ہر وہ فرد یا ادارہ ہے جو فیصلہ کرنے کے بعد اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ عدالتوں کے ہاں یہ قوت نافذہ پولیس ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی فیصلہ کرنے والی پنچائت یا کونسل کو بھی عدالت کہہ سکتے ہیں اور کوئی گواہ کسی بےتعلق آدمی کے سامنے وہی بیان دے جو وہ عدالت میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو ایسے بیان دینے کو شہادت نہیں کہیں گے۔ چونکہ شریعت نے فیصلہ کا انحصار شہادتوں پر رکھا ہے۔ اور قاضی شہادتوں سے باہر ہو کر فیصلہ نہیں دے سکتا حتیٰ کہ فوجداری مقدمات میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر بھی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اس لئے ایک گواہ کی شہادت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن میں بیشمار مقامات پر شہادت صاف صاف دینے اور اس پر قائم رہنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں شہادت الزور کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ شہادت کا کچھ حصہ چھپا جانا، یا عند الضرورت شہادت سے انکار کردینا یا خاموش رہنا اور کچھ بھی بیان نہ دینا یا بیان کو گول مول کر جانا یا اس بیان کو اس طرح توڑ موڑ کر یا ہیر پھیر کر بیان کرنا جس سے مجرم بچ جائے یا کسی بھی فریق کی حق تلفی ہو رہی ہو یا جانبداری سے کام لے کر اس کے جرم سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کی جائے یہ سب صورتیں حرام، گناہ کبیرہ اور شہادۃ الزور کے ضمن میں آتی ہیں۔ گویا ایمانداروں کی ایک نہایت اعلیٰ صفت یہ بھی ہے کہ وہ صاف سیدھی شہادت پر قائم رہتے ہیں۔
والذین ھم بشھدتھم قآئمون : شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ ” شہادات ‘ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات، غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] &. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of &testimony&, and it is necessary to stand firm by one&s testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari&ah matters as expert witness, and in all judicial hearings is also implied. Everyone is duty-bound to offer the testimony when summoned. It is prohibited to add or omit any part thereof. According to this verse, it is obligatory to bear testimony, to be upright in it and stand firm by it. Al-hamdulillah The Commentary on Surah Al-Ma’ arij Ends here.
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ٣٣ شَّهَادَةُ : قول صادر عن علم حصل بمشاهدة بصیرة أو بصر . وقوله : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] ، يعني مُشَاهَدَةِ البصر ثم قال : سَتُكْتَبُ شَهادَتُهُمْ [ الزخرف/ 19] ، تنبيها أنّ الشّهادة تکون عن شُهُودٍ ، وقوله : لِمَ تَكْفُرُونَ بِآياتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] ، أي : تعلمون، وقوله : ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] ، أي : ما جعلتهم ممّن اطّلعوا ببصیرتهم علی خلقها، وقوله : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] ، أي : ما يغيب عن حواسّ الناس وبصائرهم وما يشهدونه بهما الشھادۃ ۔ ( 1 ) وہ بات جو کامل علم ویقین سے کہی جائے خواہ وہ علم مشاہدہ بصر سے حاصل ہوا ہو یا بصیرت سے ۔ اور آیت کریمہ : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ۔ میں مشاہدہ بصر مراد ہے اور پھر ستکتب شھادتھم ( عنقریب ان کی شھادت لکھ لی جائے گی ) سے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ شہادت میں حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] اور تم اس بات پر گواہ ہو ۔ میں تشھدون کے معنی تعلمون کے ہیں یعنی تم اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہو ۔ اور آیت کریمہ ۔ ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] میں نے نہ تو ان کو آسمان کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ اپنی بصیرت سے خلق آسمان پر مطع ہوجائیں اور آیت کریمہ : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے ۔ میں غالب سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک نہ تو ظاہری حواس سے ہوسکتا ہو اور نہ بصیرت سے اور شہادت سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں لوگ ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ قائِمٌ وفي قوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] . وبناء قَيُّومٍ : ( ق و م ) قيام أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر نفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ ہے ۔
آیت ٣٣{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ ۔ } ” اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔ “ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } (آیت ١٤٠) ” اور (کان کھول کر سن لو) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟ “ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔ سورة البقرۃ کی اس آیت میں اسی گواہی کو چھپانے کا ذکر ہے۔
22 That is, they neither conceal evidence nor change it in any way for selfish motives.
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :22 یعنی نہ شہادت چھپاتے ہیں ، نہ اس میں کوئی کمی بیشی کرتے ہیں ۔
(70:33) والذین ھم بشھدتھم قائمون۔ یہ الانسان الہلوع کے زمرہ سے جو مستثنیٰ ہیں ان کی ساتویں صفت ہے۔ اور وہ جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں ۔
ف 4 یعنی سچی گواہی دیتے ہیں کسی کے ڈر یا طمع سے گواہی دینے میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ کوئی بات چھپاتے ہیں دیکھیے ( سورة بقرہ 4240)
والذین ................ قائمون (٠٧ : ٣٣) ” جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں “۔ اللہ نے ادائے شہادت کے ساتھ بیشمار حقوق وابستہ کیے ہیں۔ بلکہ شہادت پر اللہ کی حدود کا قیام موقوف ہے۔ اگر شہادت قائم نہ ہو تو حدود قائم نہیں ہوسکتیں۔ یہ کہ کسی کو شہادت ادا نہ کرنے کا گناہ نہ کرنا چاہئے اور جب کسی سے شہادت مانگی جائے تو وہ اسے کبھی بھی نہ چھپائے۔ اور شہادت کو صحیح طرح ادا کرنا چاہئے اس میں ادھر ادھر کی بات نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کو اس شخص کی شہادت قرار دیا ہے تاکہ اسے اللہ کی اطاعت کے ساتھ واسطہ کیا جائے۔ دوسری جگہ ہے : واقیموا ............ للہ ” اور شہادت اللہ کے لئے قائم کرو “۔ اور یہاں اسے صفات مومنین میں سے ایک صفت قرار دیا۔ اور یہ شہادت بھی امانات میں سے ایک امانت ہے یہاں اسے علیحدہ بھی ذکر کیا کیونکہ یہ بہت اہم فریضہ ہے۔
سابعاً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ۪ۙ٠٠٣٣﴾ (اور جو اپنی گواہیوں کے ساتھ قائم رہنے والے ہیں) یعنی گواہیوں کو ٹھیک طرح سے ادا کرتے ہیں، اس میں ہر قسم کی گواہی داخل ہے، ایمانیات کی گواہی دینا اور اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا ہے اس کے مطابق حق اور ناحق کی تعلیم اور تفہیم میں مشغول رہنا اور جہاں کہیں کسی کا کوئی حق مارا جاتا ہو اپنی سچی گواہی سے اسے ثابت کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق دلوانا دینا یہ سب شھاداتھم قائمون کے عموم میں داخل ہے، حضرت زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں وہ شخص نہ بتادوں جو گواہوں میں سب سے بہتر ہے، پھر خود ہی فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے۔ (رواہ مسلم) جب کسی کا حق مارا جا رہا ہو اور کسی کو صورت حال کا صحیح علم ہو وہ حق کی حفاظت کرنے کے لیے گواہ بن کر پیش ہوجائے اور گواہی دے دے اور جب صاحب حق گواہی دینے کے لیے بلائے تو نہ گواہی کو چھپائے اور نہ گواہی دینے سے انکار کرے جیسا کہ سورة ٴ البقرہ میں فرمایا ﴿وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ١ؕ ﴾ (اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں) اور فرمایا ﴿ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ١ؕ وَ مَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ ١ؕ ﴾ (اور گواہی کو مت چھپاؤ، اور جو شخص اس کو چھپائے اس کا دل گناہگار ہے) ۔