Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 34
سورة المعارج
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾
And those who [carefully] maintain their prayer:
اورجو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾
And those who [carefully] maintain their prayer:
اورجو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
And those who are with their Salah, Yuhafizun. meaning, they maintain its proper times, its pillars, its obligations and its recommended acts. So Allah begins this discussion (of the believers' attributes) with prayer and He concludes it with prayer. This proves the importance of it and the praise of its noble status, just as what preceded at the beginning of Surah Al-Mu'minun. It is exactly the same discussion. This is why Allah says there (in Al-Mu'minun), أُوْلَـيِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ These are indeed the inheritors. Who shall inherit the Firdaws (Paradise). They shall dwell therein forever. (23:10-11) And He says here, أُوْلَيِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ
[٢١] سورة مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حد تک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورة مومنون میں ان صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔ اور اس مقام پر بھی بعینہ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
والذین ھم علی صلاتھم یحافظون : نمازیوں کے اوصاف کا آغاز نماز پر ہمیشگی سے کیا اور ان کا اختتام نماز پر محافظت سے کیا ہے۔ اس سے نماز کی اہمیت صاف واضح ہو رہی ہے۔ محافظت سے مراد اس کے اوقات کا خیال رکھنا اور اس کے شروط و ارکان کی صحیح ادائیگی کا خیال رکھنا ہے۔ منافق نہ صحیح وقت پر نمازپ ڑھتا ہے اور نہ اطمینان و سکون سے اس کے ارکان کو درست طریقے سے ادا کرتا ہے۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(تلک صلاۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی اذا کانت بین قرنی الشیطان فام فنقرھا اربعاً لایذکر اللہ فیھا الاقلیلاً ) (مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر بالعصر : ٦٢٢)” یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے (یعنی غروب ہونے کے قریب ہوجاتا ہے) تو اٹھ کر اس کے لئے چار ٹھونگے مار لیتا ہے، اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا مگر کم۔ “
وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ ٣٤ ۭ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔
(٣٤۔ ٣٥) اور جو اپنی پانچوں نمازوں کے اوقات کی حفاظت کرتے ہیں، ان خوبیوں کے مالک باغوں میں ثواب و عزت کے ساتھ داخل ہوں گے۔
23 This gives an idea of the importance of the Prayer (salat) . The description of the merits of the high and sublime character of those who have been declared as worthy of Paradise, began with the Prayer and has been concluded with it. To be a performer of the Prayer is their first characteristic, to be steadfast and ever constant with regard to the Prayer is their second characteristic, and to guard their Prayer is their last characteristic. "Guarding the Prayer" implies many things: to perform the Prayer at its right time, to make sure before the Prayer that one's body and clothes are clean and pure, to have performed the ablutions and to have washed the limbs well, to perform the basic elements of the Prayer with its obligatory and desirable parts with due care and attention, to observe the requisite rites of the Prayer carefully, to avoid disobedience of God, which is destructive of the Prayer; all these are included in the guarding of the Prayer.
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :23 اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں ، ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے ۔ نمازی ہونا ان کی پہلی صفت ہے ، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ان کی دوسری صفت ، اور نماز کی حفاظت کرنا ان کی آخری صفت ۔ نماز کی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں ۔ وقت پر نماز ادا کرنا ۔ نماز سے پہلے اطمینان کر لینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں ۔ باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا ۔ ارکان اور واجبات اور مستحبات نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا ۔ خدا کی نافرمانیاں کر کے اپنی نمازوں کو ضائع نہ کرنا ۔ یہ سب چیزیں نماز کی حفاظت میں شامل ہیں ۔
9: آیت نمبر 23 میں نماز کی پابندی کا ذکر ہے، اور یہاں اُس کی پوری حفاظت سے مراد اُس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سور مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔
(70:34) والذین ہم علی صلوتھم یحافظون۔ یہ مستثنیت کی آٹھویں صفت ہے۔ اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ ” یعنی نماز کے اوقات، ارکان۔ سنن اور مستحبات کی نگہداشت کرتے ہیں ۔ کسی (ضروری رکن یا سنت کو یا وقت) کو فوت نہیں ہونے دیتے۔ نماز کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے :۔ شروع میں اور یہاں آخر میں اور دونوں جگہ تذکرہ کا طریقہ جدا جدا ہے۔ تکرار ذکر بتارہا ہے کہ دوسرے ارکان اسلام کے مقابلہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے۔ یحافظون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ محافظۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ وہ پابندی کرتے ہیں۔ وہ نگرانی رکھتے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 23:9 متذکرۃ الصدر۔
ف 5 یعنی اسے دھیان سے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔ اوپر کی آیت میں نماز پر دوام کی تعریف کی ہے اور اس آیت میں نفس نماز کی حافظت پر مومنین کی صفات کی ابتداء اور انتہا میں نماز کی حفاظت پر زور دیا ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ نماز ہی مومن کی معراج ہے اور باری تعالیٰ کے ساتھ مناجات ہے۔ اس بناء پر آنحضرت نے فرمایا ہے : جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ (روح)
اور صفات مومنین کا آغاز بھی نماز سے اور خاتمہ بھی نماز سے۔ والذین .................... یحافظون (٠٧ : ٤٣) ” اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں “۔ صفات مومنین کے آغاز میں جو صفت بیان کی گئی تھی ، وہاں کہا تھا کہ وہ نماز پر دوام اختیار کرتے ہیں اور یہاں ذکر ہے کہ وہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نماز کے فرائض ، اس کے اوقات ، اس کے سنن ، اس کی ہیئت اور اس کی روح کی حفاظت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ اسے مہمل طور پر اور سستی کرکے نہیں ادا کرتے۔ اور اسے یوں ضائع نہیں کرتے کہ صحیح طرح نہ پڑھیں اور آغاز و انجام دونوں جگہ نماز کا فکر کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اسی پر مومنین کی صفات ختم ہوتی ہیں۔
ثامناً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَؕ٠٠٣٤﴾ (اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) ۔ نمازوں کی پابندی یعنی اہتمام کے ساتھ ادا کرنا مومن کی صفات خاصہ اور لازمہ میں سے ہے یہاں اس کو دو مرتبہ ذکر فرمایا ایک مرتبہ مومنین کی صفات کے شروع میں اور ایک مرتبہ آخر میں۔