Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 17

سورة نوح

وَ اللّٰہُ اَنۡۢبَتَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾

And Allah has caused you to grow from the earth a [progressive] growth.

اور تم کو زمین سے ایک ( خاص اہتمام سے ) اگایا ہے ۔ ( اور پیدا کیا ہے )

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And Allah has brought you forth from the (dust of) earth. This (Nabat) is a verbal noun (for emphasis) and its usage here is most excellent.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاللہُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۝ ١٧ ۙ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) نبت النَّبْتُ والنَّبَاتُ : ما يخرج من الأرض من النَّامِيات، سواء کان له ساق کا لشجر، أو لم يكن له ساق کالنَّجْم، لکن اختَصَّ في التَّعارُف بما لا ساق له، بل قد اختصَّ عند العامَّة بما يأكله الحیوان، وعلی هذا قوله تعالی: لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] ومتی اعتبرت الحقائق فإنّه يستعمل في كلّ نام، نباتا کان، أو حيوانا، أو إنسانا، والإِنْبَاتُ يستعمل في كلّ ذلك . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً وَزَيْتُوناً وَنَخْلًا وَحَدائِقَ غُلْباً وَفاكِهَةً وَأَبًّا[ عبس/ 27- 31] ( ن ب ت ) النبت والنبات ۔ ہر وہ چیز جو زمین سے اگتی ہے ۔ اسے نبت یا نبات کہا جاتا ہے ۔ خواہ وہ تنہ دار ہو جیسے درخت ۔ یا بےتنہ جیسے جڑی بوٹیاں لیکن عرف میں خاص کر نبات اسے کہتے ہیں ہیں جس کے تنہ نہ ہو ۔ بلکہ عوام تو جانوروں کے چاراہ پر ہی نبات کا لفظ بولتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں ۔ میں نبات سے مراد چارہ ہی ہے ۔ لیکن یہ اپانے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہر پڑھنے والی چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور بناتات حیوانات اور انسان سب پر بولاجاتا ہے ۔ اور انبات ( افعال ) کا لفظ سب چیزوں کے متعلق اسستعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً وَزَيْتُوناً وَنَخْلًا وَحَدائِقَ غُلْباً وَفاكِهَةً وَأَبًّا[ عبس/ 27- 31] پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا ور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھے باغ ور میوے ور چارہ ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧۔ ٢٠) اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے بنایا اور تمہیں پھر قبر میں دفن کرے گا اور پھر قیامت کے دن تمہیں قبروں سے باہر نکال لائے گا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی مانند بنایا تاکہ تم اس کے کشادہ رستوں میں چلو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧{ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا ۔ } ” اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے (سبزہ) اُگایا جاتا ہے ۔ “ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہارے جسم کے تمام اجزاء زمین سے لیے گئے ہیں بلکہ اس جسم کی پرورش اور بقا کے لیے تمہیں خوراک بھی اسی زمین سے مل رہی ہے ۔ نظریہ ارتقاء (evolution theory) کے ماننے والے لوگ اس آیت کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے اگانے کے مفہوم میں پہلے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی تخلیق کے آغاز اور پھر رفتہ رفتہ اس مخلوق کے مختلف ارتقائی مراحل سے گزار کر انسانی نسل (Homo sapiens) تک پہنچنے کا اشارہ موجود ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 Here, the creation of man out of the substances of the earth has been compared to the growth of vegetation. Just as at one time there was no vegetation on the earth, then Allah caused it to grow, so at one time man did not exist, then Allah created him.

سورة نُوْح حاشیہ نمبر :15 یہاں زمین کے مادوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اگنے سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح کسی وقت اس کرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالی نے یہاں ان کو اگایا ، اسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا ، پھر اللہ تعالی نے یہاں اس کی پود لگائی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: یعنی جس طرح ایک پودا زمین میں مختلف مراحل طے کرکے اُگتا ہے، اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر اس زمین میں پیدا فرمایا ہے، نیز جس طرح زمین سے اُگنے والا سبزہ فنا ہوکرمٹی میں مل جاتا ہے، اور پھر جب اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے اُس سبزے کو دوبارہ اُسی مٹی سے اگادیتا ہے، اس طرح تم بھی مر کر مٹی میں مل جاؤگے، پھر جب اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو تہیں دوبارہ زندگی عطا فرماکر زمین سے دوبارہ نکال لے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:17) واللہ انبتکم من الارض نباتا : انبت ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انبات (افعال) مصدر۔ بمعنی اگانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نباتا مفعول مطلق۔ اسم منصوب ہے۔ یہاں انبتکم (باب افعال) کی رعایت سے موضع مصدر میں لایا گیا ہے ای بمعنی انباتا۔ (الخازن) ترجمہ ہوگا :۔ اور اللہ نے تم کو زمین سے اگایا۔ فائدہ (1): اگانے سے مراد سے پیدا کرنا۔ روئیدگی کا لفظ پیدائش کے لفظ سے زیادہ حدوث (کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو) کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے اس لئے انشاکم کی بجائے انبتکم فرمایا ہے ۔ (تفسیر مظہری) فائدہ (2): انبات من الرض (زمین سے اگایا جانا) دو طرح سے ہے :۔ (1) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا لہٰذا آپ کی نسل بھی ایک طرح سے مٹی ہی سے پیدا کی گئی۔ (2) انسان نطفہ منی سے پیدا ہوتا ہے اور منی زمین کی غذاؤں سے بنتی ہے اور وہ غزائیں زمین سے اگتی ہیں۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ انسان کو خاک سے اگایا گیا (تفسیر حقانی وغیرہ) فائدہ (3): ” اللہ نے تم کو اگایا “ میں ضمیر پر اکتفاء کرنے کے بجائے (لفظ اللہ) اسم ظاہر پر فرمایا کیونکہ محبوب کا نام لذت آفریں ہوتا ہے (تفسیر مظہری) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے بنایا… دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ ” اللہ نے تمہیں زمین سے (یعنی زمین سے نکلنے والی نباتات کے ذریعہ) بڑھا کر بڑا کیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واللہ ................ اخراجا (١٧ : ٨١) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔ انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔ والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت پر دلیل دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے : یایھا الناس .................... زوج بھیج (٣٣ : ٥) ” اے لوگو ، تمہیں قیامت میں زندہ ہوکر اٹھنے میں شبہ ہے تو ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو مختلف تھی بنی ہوئی اور غیر بنی ہوئی ، تاکہ تم کو بتا دیں اور ارحام میں ہم ٹھہراتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مقرر وقت تک ، پھر تمہیں طفل کی شکل میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوانی تک پہنچو ، پھر تم میں سے بعض کو موت آلیتی ہے اور بعض ذلیل عمر تک لوٹ جاتے ہیں ، تاکہ اس طرح وہ علم کے بعد کچھ نہ جائیں اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خراب پڑی ہے۔ جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تازہ ہوجاتی ہے۔ اور ابھرتی ہے۔ اور وہ ہر قسم کی پررونق چیز اگاتی ہے “۔ اور سورة مومنون میں پیدائش کے مختلف مدارج بتلانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے۔ فانشانا ................ واعناب ” پھر ہم اس کے ذریعے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگاتے ہیں “۔ اور اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو قابل نظر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ روئے زمین پر اللہ نے حیات ونبات کے لئے تقریباً ایک ہی جیسے اصول رکھے ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی اسی طرح ہے جس طرح نباتات کی تخلیق ہے۔ جن عناصر سے انسان پیدا ہوتا ہے انہی سے حیوانات ونباتات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دونوں انہی عناصر سے غذا اخذ کرتے ہیں۔ انسان حیوان بھی زمین کے نباتات میں سے ایک نبات ہیں۔ جس طرح اللہ نے نباتات کو رنگارنگی دی ہے ، اسی طرح حیوانات اور انسانوں کو بھی تنوع اور رنگارنگی دی ہے۔ دونوں زمین سے ہیں ، دونوں زمین سے غذا لیتے ہیں اور دونوں زمین میں فنا ہوتے ہیں۔ یوں ایمان کے ذریعہ ایک مومن کے شعور میں اس زمین کی زندہ اگنے والی مخلوق کے بارے میں صحیح تصور پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک زندہ اور لعمی شعور ہے کیونکہ اس کی اساس شعوری ایمان پر ہے اور یہ قرآنی علوم کا مخصوص امتیاز ہے۔ جو لوگ زمین سے پیدا کیے گئے ہیں وہ دوبارہ اس زمین کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو زمین سے نکالا ، دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔ چناچہ اس طرح ان کی ہڈیاں اور بوسیدہ اجزائے وجود زمین کے ذرات کو زمین سے نکالے گا۔ اور یہ اسی طرح ہوگا جس طرح پہلی مرتبہ ہوا۔ یہ نہایت ہی سہل کام ہے اللہ کے لئے۔ یہ کام اللہ ایک لمحہ اور ایک لحظہ میں کردے گا۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ بشرطیکہ لوگ قرآنی زاویہ سے اس حقیقت پر غور کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ قدرتوں والا ہے کہ اس نے تمہیں اس زمین سے اگایا ہے اور دوبارہ بھی وہ تمہیں اسی طرح اگالے گا۔ جب یہ شعور انسان کے اندر بیٹھ گیا تو پھر انسان خوف آخرت کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی تیاری کرتا ہے کیونکہ یہ قیامت تو اسی طرح آسانی سے قائم ہوجائے گی جس طرح اس زمین پر نباتات اگتے ہیں۔ نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ۔ جس کے اندر کوئی معقول انسان ، کوئی قبل وقال نہیں کرسکتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” واللہ انبتکم “ نباتا مفعول مطلق ہے من غیر بابہ، جیسا کہ تبتل الیہ تبتیلا میں ہے انسان کو زمین سے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب کے بابا حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جن نطفوں سے تم کو پیدا کیا گیا ہے وہ زمین سے حاصل ہونے والی غذا سے پیدا ہوتے ہیں پھر موت کے بعد تمہیں دوبارہ زمین میں لوٹائے گا اور تم قبروں میں دفن کیے جاؤ گے پھر قیامت کے دن تمہیں زندہ کر کے قبروں میں سے نکالے گا۔ ” واللہ جعل لکم الارض بساطا “ پھر نیچے دیکھو زمین کو اس نے کس طرح نرم اور ہموار بنادیا ہے جس میں تم کھلے راستے اور چوڑی چوڑی سڑکیں بناتے اور ان میں چلتے ہو۔ ان تمام صفات کا جو مالک ہے اور جس نے یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہی تم سب کا معبود حقیقی ہے، اس کی توحید پر ایمان لاؤ اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت کو چھوڑ دو ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص طور پر زمین سے اگایا۔ یعنی تمہارا سلسلہ مٹی سے چلایا اور تم کو ابتدائً مٹی سے پیدا کیا وہی مٹی تمہاری غذارکھی اور اس مٹی سے نطفہ خلق کیا۔