Commentary يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or verbally ], then the person who has been so hurt must first be requested to forgive. The hadith which reports that by embracing the faith all sins are forgiven must be understood in the light of the foregoing explanation. In other words, the hadith has the same conditions attached to it as the verse under comment, that is, violation of the rights of the human beings is not forgiven except upon fulfillment of those rights or seeking forgiveness from the victims of that violation. Other scholars of Tafsir interpret the particle min as za&idah, (having no meaning, and added only because of usage). In this way, it signifies that all their sins would be forgiven. However, on the basis of other texts, this general expression is subject to the conditions mentioned above.
معارف و مسائل
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد ہے اور مراد یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہو جائینگے، مگر دوسری نصوص کی بناء پر شرط مذکور بہرحال ضروری ہے۔ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، اجل کے معنے مدت اور مسمی سے مراد متعین کردہ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس مدت تک دنیا میں مہلت دے گا جو تمہارے لئے مقرر اور متعین ہے یعنی مقررہ مدت عمر سے پہلے تمہیں کسی دنیاوی عذاب میں پکڑ کر ہلاک نہ کریگا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ایان نہ لائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مدت مقررہ سے پہلے ہی تم پر عذاب لا کر ہلاک کر دے۔ معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر مثلاً اسی سال ہوگی اور نہ کیا تو ساٹھ سال میں موت مسلط کردی جائے گی یا منفی کا موں میں اللہ کی ناشکری سے عمر گھٹ جانا اور شکر گزاری سے عمر بڑھ جانا، اسی طرح بعض اعمال مثلاً والدین کی اطاعت و خدمت سے عمر میں ترقی ہونا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے۔ انسان کی عمر میں کمی زیادتی کی بحث :۔ اس کی تشریح تفسیر مظہری میں یہ ہے کہ تقدیر اور قضائے الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم یعنی قطعی، دوسری معلق یعنی جو کسی شرط پر معلق ہو۔ یعنی لوح محفوظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ فلاح شخص نے اگر اللہ کی اطاعت کی تو اس کی عمر مثلاً ستر سال ہوگی اور نہ کی تو پچاس سال میں مار دیا جائے گا اس دوسری قسم تقدیر میں شرط نہ پائے جانے پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم میں ان دونوں قسم کی قضا و تقدیر کا ذکر اس آیت میں ہے یمحواللہ مایشآء و یثبت وعندہ ام الکتب۔ یعنی اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں محو و اثبات یعنی ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب، اصل کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تقدیر مبرم لکھی ہوئی ہے کیونکہ تقدیر معلق میں جو شرط لکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ شخص یہ شرط پوری کرے گا یا نہیں، اس لئے تقدیر مبرم میں قطعی فیصلہ لکھا جاتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی، کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا یرد القضآء الا الدعا ولا یزید فی العمر الا البر رواہ الترمذی (مظہری) یعنی قضائے الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے نہیں روک سکتی اور کسی کی عمر میں زیادتی بجز برو الدین کے نہیں ہوس کتی۔ بر کے معنے ان کے ساتھ اچھا سلوک ہے اور مطلب اس حدیث کا یہی ہے کہ تقدیر معلق میں ان اعمال کی وجہ سے تبدیلی ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں جواَجَلٍ مُّسَمًّى تک موخر کرنے کو ان کے ایمان لانے پر موقوف کیا ہے یہ ان کی عمر کے بارے میں تقدیر معلق کا بیان ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو علم عطا فرما دا ہوگا اس کے سبب سے انہوں نے اپنی قوم کو بتلایا کہ تم ایمان لائے تو جو اصلی عمر تمہارے لئے اللہ نے مقرر فرمائی ہے وہاں تک تمہیں مہلت ملے گی اور کسی عذاب دنیوی کے ذریعہ ہلاک نہ کئے جاؤ گے اور اگر ایمان نہ لائے تو اس اصلی عمر سے پہلے ہی خدا تعالیٰ کا عذاب تمہیں ہلاک کر دے گا اور آخرت کا عذاب اس صورت میں اس کے علاوہ ہوگا۔ آگے یہ بھی بتلا دیا کہ ایمان لانے پر بھی ہمیشہ کے لئے موت سے نجات نہیں ہوگی بلکہ تقدیر پر مبرم میں جو تمہاری عمر لکھی ہوئی ہے اس پر موت آنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اس عالم دنیا کو دائمی نہیں بنایا یہاں کی ہر چیز کو فنا ہونا تقاضائے حکمت ہے اس میں ایمان و اطاعت اور کفر و معصیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ (آیت) ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر۔ میں اس کا بیان ہے آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کی اصلاح و ایمان کے لئے مسلسل مختلف قسم کی کوششوں میں لگے رہنے کا اور قوم کی طرف سے ان کی مخالفت و تکذیب کا بیان تفصیل سے آیا ہے اور آخر میں مایوس ہو کر بد دعا کرنے اور پوری قوم کے عذاب غرق میں مبتلا ہونے کا بیان ہے۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور قرآنی تصریح کے مطباق ان کی عمر پچاس کم ایک ہزار ارسال ہوگی، اس پوری مدت دراز میں نہ کبھی اپنی کوشش کو چھوڑا نہ کبھی مایوس ہوئے قوم کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں دی گئیں سب پر صبر کرتے رہے۔ بروایت ضحاک حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ان کی قوم ان کو اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے تو ان کو ایک کمبل میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے یہ مر گئے، مگر پھر جب اگلے روز ان کو ہوش آتا تو ان کو اللہ کی طرف بلاتے اور تبلیغ کے عمل میں لگ جاتے۔ محمد بن اسحاق نے عبید بن عمرولیثی سے روایت کیا ہے کہ ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کا گلا گھونٹ دیتی تھی جس سے وہ بیہوش ہوجاتے اور جب ہوش آتا تو یہ دعا کرتے تھے رب الغفرلقومی انھم لایعلمون اے میرے پروردگار، میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ وہ جانتے نہیں۔ ان کی ایک نسل کے ایمان لانے سے مایوسی ہوئی تو یہا مید رکھتے تھے کہ ان کی اولاد میں کوئی ایمان لے آئیگا وہ نسل بھی گزر جاتی تو تیسری نسل سے یہی توقع لگا کر اپنے فرض منصبی میں شمغول رہتے کیونکہ ان نسلوں کی عمریں اتنی طویل نہ تھیں جتنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور معجزہ عطا ہوئی تھی، جب ان کی نسل پر نسل گزرتی رہی اور ہر آنیوالی نسل پچھلی سے زیادہ شریر اور بدتر ثابت ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں اپنا شکوہ پیش فرمایا جس میں بتلایا کہ میں نے ان کو رات دن اجتماعاً و انفراداً علانیہ اور خفیہ جو جو طریقہ کسی کو راستہ پر لانے کا ہوسکتا ہے وہ سب اختیار کیا، کبھی اللہ کے عذاب سے ڈرایا، کبھی جنتوں کی نعمتوں کی ترغیب دلائی اور یہ بھی کہ ایمان اور عمل صالح کی برکت سے تمہیں دنیا میں بھی فراخی اور خوشحالی نصیب ہوگی۔ کبھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کی نشانیوں کو پیش کر کے سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی دوسری طرف حق تعالیٰ نے ان کو یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی پوری قوم میں جس کو ایمان لانا تھا لے آیا آگے انہیں کوئی ایمان قبول نہ کرے گا (آیت) انہ لن یومن من قومک الامن قد امن کا یہی مطلب ہے اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان پر بد دعا کے کلمات آئے جس کا آگے ذکر کیا گیا جس کے نتیجہ میں پوری قوم غرق و ہلاک ہوگئی۔ بجز مومنین کے جن کو ایک کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا قوم کی فہمائش کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے یعنی ایمان لا کر پچھلے گناہوں کی معافی مانگنے کی دعوت دی اور اس کا دنیاوی نفع یہ بتلایا کہ ۙيُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا 11 ۙوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ اس سے ا کثر علماء نے استدلال کیا ہے کہ گناہوں سے توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ بارش حسب موقع برسا دیتے ہیں قحط نہیں پڑنے دیتے اور مال و اولاد میں استغفار سے برکت ہوتی ہے۔ کہیں کسی حکمت الہیہ کے تقاضے سے اسکے خلاف بھی ہوتا ہے مگر عادة اللہ عام لوگوں کے ساتھ یہی ہے کہ توبہ و استغفار اور ترک معصیت سے دنیا کی بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے