Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 4

سورة نوح

یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرۡکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ لَوۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴﴾

Allah will forgive you of your sins and delay you for a specified term. Indeed, the time [set by] Allah , when it comes, will not be delayed, if you only knew.' "

تو وہ خود تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقررہ تک چھوڑ دے گا یقیناً اللہ کا وعدہ جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا کاش تمہیں سمجھ ہوتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ ... He will forgive you of your sins, meaning, `if you do what I command you to do and you believe in what I have been sent with to you, then Allah will forgive you for your sins. ' ... وَيُوَخِّرْكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ... and respite you to an appointed term. meaning, `He will extend your life span and protect you from the torment that He would have made befall you if you did not stay away from His prohibitions.' This Ayah is used as proof by those who say that obedience (to Allah), righteousness and maintaining the family ties truly increase the life span of a person. This is like that which has been reported in the Hadith, صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُر Maintaining the family ties increases the life span. Concerning Allah's statement, ... إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاء لاَ يُوَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ Verily, the term of Allah when it comes, cannot be delayed, if you but know. means, hasten to the obedience (of Allah) before the coming of His vengeance. For verily, if He commands that to happen, it cannot be repulsed or prevented. For He is the Great One Who compels everything, and He is the Almighty Whose might all of creation succumbs to.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 اس کے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یغفرلکم من ذنوبکر :” من “ کا معنی عام طور پر ” بعض “ ہوتا ہے، اس صورت میں معنی ہوگا ” اور وہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔ “ مگر اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کچھ گناہ تو پھر بھی باقی رہ گئے، ان کا کیا بنے گا ؟ اس کا ایک جواب وہ ہے جو امام ابن جریر طبری (رح) نے دیا ہے کہ یہاں ” من “ ” عن “ کی جگہ آیا ہے اور ” جمیع “ کا معنی دے رہا ہے، گویا ” یغفر “ کے ضمن میں ” یصفح “ اور ” یعفو “ کا معنی ملحظو ہے : ای یعفولکم عن جمیع ذنوبکم، “ یعنی وہ تمہارے سب گناہ معاف کر دے گا۔ “ دوسرا یہ ہے کہ ” من “ ” بعض “ ہی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر تم میری دعوت قبول کر کے ایمان لے آؤ گے تو تمہارے پہلے گناہ معاف ہوجائیں گے، کیونکہ اسلام پہلے سب گناہ مٹا دیتا ہے۔ البتہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچتے رہنا، یہ نہ سمجھنا کہ ایمان لانے سے پہلے پچھلے سب گناہ معاف ہو اجیئں گے۔ (٢) ویوخرکم الی اجل مسمی : یعنی طبعی موت کا ایک وقت مقرر ہے، وہ کفر کی وجہ سے یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ ہر مومن و کافر پر آتی ہے۔ وہ تو اپنے مقرر وقت پر آکر رہے گی، البتہ ایمان لے آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب سے جو کفر کے نتیجے میں آتا ہے، تمہیں محفوظ رکھے گا۔ (٣) ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر…: اس مقرر وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ کاش ! تمہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ کاش ! تمہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ وقت آنے پر مہلت ختم ہو اجئے گی، پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تو تم اس سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or verbally ], then the person who has been so hurt must first be requested to forgive. The hadith which reports that by embracing the faith all sins are forgiven must be understood in the light of the foregoing explanation. In other words, the hadith has the same conditions attached to it as the verse under comment, that is, violation of the rights of the human beings is not forgiven except upon fulfillment of those rights or seeking forgiveness from the victims of that violation. Other scholars of Tafsir interpret the particle min as za&idah, (having no meaning, and added only because of usage). In this way, it signifies that all their sins would be forgiven. However, on the basis of other texts, this general expression is subject to the conditions mentioned above.

معارف و مسائل ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد ہے اور مراد یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہو جائینگے، مگر دوسری نصوص کی بناء پر شرط مذکور بہرحال ضروری ہے۔ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، اجل کے معنے مدت اور مسمی سے مراد متعین کردہ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس مدت تک دنیا میں مہلت دے گا جو تمہارے لئے مقرر اور متعین ہے یعنی مقررہ مدت عمر سے پہلے تمہیں کسی دنیاوی عذاب میں پکڑ کر ہلاک نہ کریگا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ایان نہ لائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مدت مقررہ سے پہلے ہی تم پر عذاب لا کر ہلاک کر دے۔ معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر مثلاً اسی سال ہوگی اور نہ کیا تو ساٹھ سال میں موت مسلط کردی جائے گی یا منفی کا موں میں اللہ کی ناشکری سے عمر گھٹ جانا اور شکر گزاری سے عمر بڑھ جانا، اسی طرح بعض اعمال مثلاً والدین کی اطاعت و خدمت سے عمر میں ترقی ہونا جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا بھی یہی مطلب ہے۔ انسان کی عمر میں کمی زیادتی کی بحث :۔ اس کی تشریح تفسیر مظہری میں یہ ہے کہ تقدیر اور قضائے الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم یعنی قطعی، دوسری معلق یعنی جو کسی شرط پر معلق ہو۔ یعنی لوح محفوظ میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ فلاح شخص نے اگر اللہ کی اطاعت کی تو اس کی عمر مثلاً ستر سال ہوگی اور نہ کی تو پچاس سال میں مار دیا جائے گا اس دوسری قسم تقدیر میں شرط نہ پائے جانے پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم میں ان دونوں قسم کی قضا و تقدیر کا ذکر اس آیت میں ہے یمحواللہ مایشآء و یثبت وعندہ ام الکتب۔ یعنی اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں محو و اثبات یعنی ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب، اصل کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تقدیر مبرم لکھی ہوئی ہے کیونکہ تقدیر معلق میں جو شرط لکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ شخص یہ شرط پوری کرے گا یا نہیں، اس لئے تقدیر مبرم میں قطعی فیصلہ لکھا جاتا ہے۔ حضرت سلمان فارسی، کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا یرد القضآء الا الدعا ولا یزید فی العمر الا البر رواہ الترمذی (مظہری) یعنی قضائے الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے نہیں روک سکتی اور کسی کی عمر میں زیادتی بجز برو الدین کے نہیں ہوس کتی۔ بر کے معنے ان کے ساتھ اچھا سلوک ہے اور مطلب اس حدیث کا یہی ہے کہ تقدیر معلق میں ان اعمال کی وجہ سے تبدیلی ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں جواَجَلٍ مُّسَمًّى تک موخر کرنے کو ان کے ایمان لانے پر موقوف کیا ہے یہ ان کی عمر کے بارے میں تقدیر معلق کا بیان ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو علم عطا فرما دا ہوگا اس کے سبب سے انہوں نے اپنی قوم کو بتلایا کہ تم ایمان لائے تو جو اصلی عمر تمہارے لئے اللہ نے مقرر فرمائی ہے وہاں تک تمہیں مہلت ملے گی اور کسی عذاب دنیوی کے ذریعہ ہلاک نہ کئے جاؤ گے اور اگر ایمان نہ لائے تو اس اصلی عمر سے پہلے ہی خدا تعالیٰ کا عذاب تمہیں ہلاک کر دے گا اور آخرت کا عذاب اس صورت میں اس کے علاوہ ہوگا۔ آگے یہ بھی بتلا دیا کہ ایمان لانے پر بھی ہمیشہ کے لئے موت سے نجات نہیں ہوگی بلکہ تقدیر پر مبرم میں جو تمہاری عمر لکھی ہوئی ہے اس پر موت آنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے اس عالم دنیا کو دائمی نہیں بنایا یہاں کی ہر چیز کو فنا ہونا تقاضائے حکمت ہے اس میں ایمان و اطاعت اور کفر و معصیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ (آیت) ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر۔ میں اس کا بیان ہے آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کی اصلاح و ایمان کے لئے مسلسل مختلف قسم کی کوششوں میں لگے رہنے کا اور قوم کی طرف سے ان کی مخالفت و تکذیب کا بیان تفصیل سے آیا ہے اور آخر میں مایوس ہو کر بد دعا کرنے اور پوری قوم کے عذاب غرق میں مبتلا ہونے کا بیان ہے۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور قرآنی تصریح کے مطباق ان کی عمر پچاس کم ایک ہزار ارسال ہوگی، اس پوری مدت دراز میں نہ کبھی اپنی کوشش کو چھوڑا نہ کبھی مایوس ہوئے قوم کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں دی گئیں سب پر صبر کرتے رہے۔ بروایت ضحاک حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ان کی قوم ان کو اتنا مارتی کہ وہ گر جاتے تو ان کو ایک کمبل میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے یہ مر گئے، مگر پھر جب اگلے روز ان کو ہوش آتا تو ان کو اللہ کی طرف بلاتے اور تبلیغ کے عمل میں لگ جاتے۔ محمد بن اسحاق نے عبید بن عمرولیثی سے روایت کیا ہے کہ ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کا گلا گھونٹ دیتی تھی جس سے وہ بیہوش ہوجاتے اور جب ہوش آتا تو یہ دعا کرتے تھے رب الغفرلقومی انھم لایعلمون اے میرے پروردگار، میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ وہ جانتے نہیں۔ ان کی ایک نسل کے ایمان لانے سے مایوسی ہوئی تو یہا مید رکھتے تھے کہ ان کی اولاد میں کوئی ایمان لے آئیگا وہ نسل بھی گزر جاتی تو تیسری نسل سے یہی توقع لگا کر اپنے فرض منصبی میں شمغول رہتے کیونکہ ان نسلوں کی عمریں اتنی طویل نہ تھیں جتنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور معجزہ عطا ہوئی تھی، جب ان کی نسل پر نسل گزرتی رہی اور ہر آنیوالی نسل پچھلی سے زیادہ شریر اور بدتر ثابت ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں اپنا شکوہ پیش فرمایا جس میں بتلایا کہ میں نے ان کو رات دن اجتماعاً و انفراداً علانیہ اور خفیہ جو جو طریقہ کسی کو راستہ پر لانے کا ہوسکتا ہے وہ سب اختیار کیا، کبھی اللہ کے عذاب سے ڈرایا، کبھی جنتوں کی نعمتوں کی ترغیب دلائی اور یہ بھی کہ ایمان اور عمل صالح کی برکت سے تمہیں دنیا میں بھی فراخی اور خوشحالی نصیب ہوگی۔ کبھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ کی نشانیوں کو پیش کر کے سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی دوسری طرف حق تعالیٰ نے ان کو یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی پوری قوم میں جس کو ایمان لانا تھا لے آیا آگے انہیں کوئی ایمان قبول نہ کرے گا (آیت) انہ لن یومن من قومک الامن قد امن کا یہی مطلب ہے اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان پر بد دعا کے کلمات آئے جس کا آگے ذکر کیا گیا جس کے نتیجہ میں پوری قوم غرق و ہلاک ہوگئی۔ بجز مومنین کے جن کو ایک کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا قوم کی فہمائش کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے یعنی ایمان لا کر پچھلے گناہوں کی معافی مانگنے کی دعوت دی اور اس کا دنیاوی نفع یہ بتلایا کہ ۙيُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا 11 ۝ ۙوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ اس سے ا کثر علماء نے استدلال کیا ہے کہ گناہوں سے توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ بارش حسب موقع برسا دیتے ہیں قحط نہیں پڑنے دیتے اور مال و اولاد میں استغفار سے برکت ہوتی ہے۔ کہیں کسی حکمت الہیہ کے تقاضے سے اسکے خلاف بھی ہوتا ہے مگر عادة اللہ عام لوگوں کے ساتھ یہی ہے کہ توبہ و استغفار اور ترک معصیت سے دنیا کی بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں۔ روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝ ٠ ۭ اِنَّ اَجَلَ اللہِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤَخَّرُ۝ ٠ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ ٤ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفرانک ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ ے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ أخر ( تاخیر) والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44] ( اخ ر ) اخر التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } ( سورة القیامة 13) جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ۔ { مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ } ( سورة الفتح 2) تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ { إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ } ( سورة إِبراهيم 42) وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ دہشت کے سبب آنکھیں کھلی کی کھلی ۔ رہ جائیں گی ۔ { رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ } ( سورة إِبراهيم 44) اسے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کر أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ توحید اور توبہ کی وجہ سے تمہارے گناہ معاف کردے گا اور موت تک بغیر عذاب کے مہلت دے گا عذاب خداوندی اگر آگیا تو وہ ٹلے گا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ یَغْفِرْ لَــکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ } ” اللہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا “ یہاں پر حرف مِنْ (تبعیضیہ) بہت معنی خیز ہے۔ یعنی سب کے سب گناہ معاف ہونے کی ضمانت نہیں ‘ البتہ کچھ گناہ ضرور معاف ہوجائیں گے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو جسے چاہے گا اور جب چاہے گا معاف کر دے گا ‘ لیکن حقوق العباد کے تنازعات کے حوالے سے وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس کے لیے روز محشر متعلقہ فریقوں کے درمیان باقاعدہ لین دین کا اہتمام کرایا جائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے اگر کسی کا حق غصب کیا ہوگا ‘ کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا یا کسی بھی طریقے سے کسی پر ظلم کیا ہوگا تو ایسے ظالم کی نیکیوں کے ذریعے سے متعلقہ مظلوم کی تلافی کی جائے گی۔ اس لین دین میں اگر کسی ظالم کی نیکیاں کم پڑجائیں گی تو حساب برابر کرنے کے لیے اس کے ظلم کا شکار ہونے والے مظلوموں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ { وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } ” اور تمہیں مہلت دے دے گا ایک وقت معین تک۔ “ یعنی اگر تم لوگ اللہ کو معبود مانتے ہوئے اس کا تقویٰ اختیار کرو گے اور میرے احکام کی تعمیل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کچھ مدت کے لیے تمہیں بحیثیت قوم دنیا میں زندہ رہنے کی مزید مہلت عطا فرما دے گا۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مہلت بھی ایک وقت معین تک ہی ہوگی۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین بہت سخت اور اٹل ہیں۔ { اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآئَ لَا یُؤَخَّرُ ٧ لَـوْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ } ” اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے گا تو اسے موخر نہیں کیا جاسکے گا۔ کاش کہ تمہیں معلوم ہوتا ! “ جب کوئی قوم اپنے رسول کی دعوت کو ٹھکرا دیتی ہے اور اسے غور و فکر کرنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہو وہ ختم ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا قطعی فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر کوئی طاقت اس فیصلے کو موخر نہیں کرسکتی۔ آئندہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے اندازِ دعوت کا پورا نقشہ نظر آتا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے خود کو کس کس طرح سے ہلکان کیا۔ قوم کو دعوت و تبلیغ کرتے اور پیغامِ حق سناتے ہوئے نوصدیاں بیت گئیں لیکن قوم اس دعوت حق پر کان دھرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ جب آپ (علیہ السلام) کو ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہی تو آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض داشت پیش کی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 The sentence yaghfir la-kum min dhunub-i-kum in the original does not mean that Allah will forgive some of their sins, but its correct meaning is: "If you accept and acknowledge the three things which are being presented before you, He will forgive all the sins that you have committed in the past." 4 That is, "If you accepted these three things, you would be given respite to live in the world until the time that Allah has appointed for your natural death." 5 "The appointed time of Allah .. ": the time fixed by Allah for sending down a torment on a people. In this regard the Qur'an has at several places stated explicitly that when Allah's torment has been decreed for a certain people, they are not pardoned even if they affirm the faith after it. 6 That is, "If you come to know fully well that the time which is now passing after you have received Allah's message through me, is, in fact, a period of respite that has been granted to you for affirming the faith-and there is no chance of escape from Allah's torment after the term of respite has elapsed-you would testify to the faith without delay and would not like to postpone it until the torment actually started descending on you."

سورة نُوْح حاشیہ نمبر :3 اصل الفاظ یغفر لکم من ذنوبک ۔ اس فقرے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تمہارے گناہوں میں سے بعض کو معاف کر دے گا ، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کر لو جو تمہار سامنے پیش کی جا رہی ہیں تو اب تک جو گناہ تم کر چکے ہو ان سب سے وہ درگزر فرمائے گا ۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عن کے معنی میں ہے ۔ سورة نُوْح حاشیہ نمبر :4 یعنی اگر تم نے یہ تین باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اس وقت تک جینے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تعالی نے تمہاری طبعی موت کے لیے مقرر کیا ہے ۔ سورة نُوْح حاشیہ نمبر :5 اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کر دیا ہو ۔ اس کے متعلق متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بات بصراحت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی قوم کے حق میں نزول عذاب کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا ۔ سورة نُوْح حاشیہ نمبر :6 یعنی اگر تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ میرے ذریعہ سے اللہ کا پیغام پہنچ جانے کے بعد اب جو وقت گزر رہا ہے ۔ یہ دراصل ایک مہلت ہے جو تمہیں ایمان لانے کے لیے دی جا رہی ہے ، اور اس مہلت کی مدت ختم ہو جانے کے بعد پھر خدا کے عذاب سے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے ، تو تم ایمان لانے میں جلدی کرو گے اور نزول عذاب کا وقت آنے تک اس کو ٹالتے نہ چلے جاؤ گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدّر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:4) یغفر لکم من ذنوبکم ویؤخرکم الی اجل مسمی۔ جواب امر میں ہے متذکرہ بالا تینوں احکام کے جواب ہیں۔ یغفر مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ مغفرۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ تمہیں بخش دے گا۔ (1) من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے، وہ تمہارے بعض گناہ معاف کر دے گا۔ یعنی دو گناہ جن کا تعلق اسکی اپنی ذات سے ہے عوام الناس نہیں (2) یا من زائدہ ہے وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ ویؤخرکم۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یؤخر مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ تاخیر (تفعیل) مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہیں مہلت دے گا۔ اجل مسمی موصوف و صفت۔ اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مدت مقررہ۔ معینہ۔ تعین کیا ہوا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ ان اجل اللہ اذاجاء لایؤخر : حقیقت یہ ہے کہ خدا کا مقرر کیا ہوا وقف جب آجانا ہے تو مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اجل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اجل منصوب بوجہ عمل ان۔ لایؤخر : فعل نہی مضارع مجہول صیغہ واحد مذکر غائب۔ تاخیر مصدر سے۔ اس میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ لو کتنم تعلمون ۔ کاش تم (یہ حقیقت) جانتے ہوتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ “ اس صورت میں ” من “ کا لفظ زائد ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے، اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا۔ 4۔ یعنی موت کا آنا ہر حال میں ضروری ہے، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آجل کے عذاب عاجل بھی ہوگا اور ایک حالت میں مثل عذاب آجل کے عذاب عاجل سے بھی محفوظ رہو گے، اور تخصیص نفی عذاب عاجل میں یہ نکتہ ہے کہ ایمان پر عذاب آج سے تو تحفظ رہتا ہی ہے، مگر بعض اوقات باوجود ایمان کے بھی دنیوی کلفتیں پیش آجاتی ہیں، پس اس کی نفی سے ایمان لانے پر مزید فضل کا وعدہ ہوگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یغفرلکم ........................ اجل مسمی (١٧ : ٤) ” اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا “۔ اور یہ باقی رکھنا ، اس بات کے عوض میں ہوگا کہ تم اللہ کی بندگی کرو گے ، اللہ سے ڈرو گے اور رسول خدا کی اطاعت کرو گے ، اور اس کے بدلے اللہ مزید یہ کرے گا کہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کردے گا اور تمہارا حساب و کتاب اس وقت تک موخر ہوجائے گا جو اللہ نے مقرر کررکھا ہے یعنی یوم الاخرت تک۔ اور اس طرح دنیا میں تم پر جو تباہ کن عذاب آنے والا ہے ، وہ موخر ہوجائے گا۔ (عنقریب حضرت نوح (علیہ السلام) پیش کریں گے کہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ اور بھی وعدے فرمائے تھے) ۔ اس کے بعد یہ فرمایا گیا کہ قیام قیامت حتمی ہے اور وہ اپنے وقت پر ضرور آئے گی۔ اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوسکتی۔ جس طرح دنیا کے عذاب میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ چناچہ قیامت کے بارے میں عقیدے کو یوں درست کردیا جاتا ہے۔ ان اجل ........................ تعلمون (١٧ : ٤) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔ اس سے مراد قیامت بھی ہوسکتی ہے اور ہر وہ دوسرا وقت بھی ہوسکتا ہے جو اللہ کسی واقعہ کے وقوع کے لئے مقرر کردے۔ بہرحال یہاں یہ عام عقیدہ ذہنوں میں بٹھانا مقصود ہے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ٹالا نہیں جاسکتا۔ ہاں اگ ریہ لوگ اطاعت کرلیں اور توبہ کرلیں تو اللہ دنیا میں تباہ کردینے کی بجائے قیام قیامت تک کے لئے ان کا عذاب ٹال دے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور اپنی قوم کو ہدایت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کسی مصلحت کی پرواہ نہیں کرتے ، کسی مفاد کا لحاظ نہیں کررہے۔ وہ اس عظیم مقصد کے لئے وہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں۔ لوگ اعتراض کررہے ہیں ، منہ موڑ رہے ہیں اور مذاق کررہے ہیں۔ لیکن آپ ہیں کہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ساڑھے نو سو سال اس جدوجہد میں گزرجاتے ہیں۔ چند لوگ ہی دعوت قبول کرتے ہیں جبکہ قوم کی طرف سے منہ موڑنے ، گمراہی پر اصرار کرنے اور مذاق کرنے میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ٹھیک ساڑھے نو سو سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں جو کچھ پیش آیا ، وہ عرض کردیتے ہیں ، جبکہ رب تعالیٰ کو تو پہلے سے معلوم ہے۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) بھی جانتے ہیں کہ رب کو معلوم ہے ، لیکن شکوہ شکایت یونہی دہرائی جاتی ہے اور انبیائے کرام کا شکوہ تو اللہ ہی سے ہوسکتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں ہی اپنی فریاد پیش کرسکتے ہیں۔ اور وہ مومنین جن کو حقیقت ایمان تک رسائی حاصل ہوتی ہے وہ بھی صرف اللہ ہی سے شکایت کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” یغفرلکم “ مجزوم بوجہ جواب امر۔ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اجل مسمی یعنی موت تک تم کو بلا عذاب مہلت دے گا۔ لیکن اگر تم ایمان نہ لائے تو خدا کا عذاب آجائے گا اور پھر کسی صورت ٹل نہیں سکے گا۔ اجل مسمی سے مراد موت ہے۔ اور اجل اللہ سے دنیوی عذاب کا معین وقت مراد ہے (جلالین) ۔ فرشتوں کے یہاں بطور تقدیر معلق لکھا ہوتا ہے کہ اگر مان لیں تو بہتر، ورنہ ان پر فلاں وقت میں عذاب نازل ہوگا۔ ومعناہ ان اللہ تعالیٰ کان قضی قبل خلقہم انھم ان امنوا بارک فی اعمارھم، وان لم یومنوا عوجلوا بالعذاب (قرطبی ج 18 ص 299) ۔ لوکنتم تعلمون اگر تم جانتے ہوتے کہ ایمان نہ لانے کی صورت میں جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ ٹل نہیں سکے گا تو ایمان کی طرف دوڑتے اور اس میں ذرا تاخیر نہ کرتے۔ لو بمعنی ان ہے یا اپنے اصل پر بمعنی تمنی ہے، اس صورت میں جواب کی ضرورت نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور معاف کردے گا اور ایک مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا اور جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر اس کو پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ کاش تم اس بات کو سمجھ لیتے ۔ یعنی اگر تم ایمان لے آئے تو جس عذاب سے تم کو ڈرایا جاتا ہے وہ عذاب نہیں آئے گا اور موت کے وقت تک عذاب سے محفوظ رہوگے بلکہ موت کے بعد جو عذاب ہونے والا ہے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے اس عذاب سے بھی محفوظ رہوگے۔ یعنی عذاب حاصل اور عذاب آجل دونوں سے تمہاری حفاظت ہوگی۔ البتہ موت کا جو وقت مقرر ہے وہ موخر نہیں کیا جاسکتا اس میں مومن اور غیر مومن دونوں یکساں ہیں، ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان نہ لانے کی حالت میں اگر عذاب عاجل کا وعدہ سر پر پہنچ گیا تو پھر ٹالے نہیں ٹلے گا۔ اس وقت ایمان لانا بھی غیر نافع ہوگا، بہرحال مفسرین کے چند اقوال ہیں ہم نے سہل اور آسان طریق پر تفسیر کردی ہے اس موقع پر قضائے مبرم اور معلق کی لاطائل بحثوں میں الجھنے سے بچ کر ایک آسان طریقہ اختیار کرلیا ہے تاکہ سمجھنے والوں کو قرآن سمجھنے میں آسانی ہو۔ لو کنتم تعلمون یعنی اگر تم اتنی بات کو سمجھ لیتے تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا اور عذاب عاجل یعنی دنیوی اور عذاب آجل یعنی اخروی عذاب سے بچ جاتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندگی کرو کہ نوع انسان دنیامیں قیامت تک رہے اور قیامت کو تو دیر نہ لگے گی اور جو سب مل کر بندگی چھوڑ دو تو سارے ابھی ہلاک ہوجائو طوفان ایسا ہی آیا تھا۔ کہ ایک آدمی نہ بچے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بندگی سے ان کا بچائو ہوگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو خلاصہ بیان فرمایا وہ بہت صاف ہے اور حضرت شاہ صاحب ہی کا حصہ ہے جس دن زمین پر کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لینے والا نہ ہوگا اس دن قیامت ہی آجائے گا۔