Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 18

سورة الجن

وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾

And [He revealed] that the masjids are for Allah , so do not invoke with Allah anyone.

اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to worship Allah Alone and shun Shirk Allah commands His servants to single Him out alone for worship and that none should be supplicated to along with Him, nor should any partners be associated with Him. As Qatadah said concerning Allah's statement, وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَأ تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا And the Masjids are for Allah, so invoke not anyone along with Allah. "Whenever the Jews and Christians used to enter their churches and synagogues, they would associate partners with Allah. Thus, Allah commanded His Prophet to tell them that they should single Him out alone for worship." Ibn Jarir recorded from Sa`id bin Jubayr that he said concerning this verse, "The Jinns said to the Prophet of Allah, `How can we come to the Masjid while we are distant - meaning very far away - from you And how can we be present for the prayer while we are far away from you' So Allah revealed this Ayah." The Jinns crowding together to hear the Qur'an. Allah said, وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں ، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں ، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں ، حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام ، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نے حضور علیہ السلام سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا کریں ، گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ نماز پڑھو لیکن انسانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہو ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جنوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تو دور دراز رہتے ہیں نمازوں میں آپ کی مسجد میں کیسے پہنچ سکیں گے؟ تو انہیں کہا جاتا ہے کہ مقصود نماز کا ادا کرنا اور صرف اللہ ہی کی عبادت بجا لانا ہے خواہ کہیں ہو ، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے اس میں سبھی مساجد شامل ہیں ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعضاء سجدہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی جن اعضاء پر تم سجدہ کرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے ہیں پس تم پر ان اعضاء سے دوسرے کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم کیا گیا ہے ، پیشانی اور ہاتھ کے اشارے سے ناک کو بھی اس میں شامل کر لیا اور دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پہنچے ۔ آیت ( لما قام ) کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جنات نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن سنی تو اس طرح آگے بڑھ بڑھ کر عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ گویا ایک دوسرے کے سروں پر چڑھے چلے جاتے ہیں ، دوسرا مطلب یہ ہے کہ جنات اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی اطاعت و چاہت کی حالت یہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو کھڑے ہوتے ہیں اور اصحاب پیچھے ہوتے ہیں تو برابر اطاعت و اقتداء میں آخر تک مشغول رہتے ہیں گویا ایک حلقہ ہے ، تیسرا قول یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توحید کا اعلان لوگوں میں کرتے ہیں تو کافر لوگ دانت چبا چبا کر الجھ جاتے ہیں ، جنات و انسان مل جاتے ہیں کہ اس امر دین کو مٹا دیں اور اس کی روشنی کو چھپا لیں مگر اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہو چکا ہے ، یہ تیسرا قول ہی زیادہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ میں تو صرف اپنے رب کا نام ورد زبان رکھتا ہوں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا ، یعنی جب دعوت حق اور توحید کی آواز ان کے کان میں پڑی جو مدتوں سے غیر مانوس و چکی تھی تو ان کفار نے ایذاء رسانی مخالفت اور تکذیب پر کمر باندھ لی حق کو مٹا دینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر سب متحد ہوگئے اس وقت ان سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تو اپنے پالنے والے ( وحدہ لاشریک لہ ) کی عبادت میں مشغول ہوں میں اسی کی پناہ میں ہوں اسی پر میرا توکل ہے وہ ہی میرا سہارا ہے مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو کہ میں کسی اور کے سامنے جھکوں یا اس کی پرستش کروں ، میں تم جیسا انسان ہوں تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں ہوں میں تو اللہ کا ایک غلام ہوں اللہ کے بندوں میں سے ایک ہوں ، تمہاری ہدایت ضلالت کا مختار و مالک میں نہیں سب چیزیں اللہ کے قبضے میں ہیں میں تو صرف پیغام رساں ہوں ، اگر میں خود بھی اللہ کی معصیت کروں تو یقینا اللہ مجھے عذاب دے گا اور کسی سے نہ ہو سکے گا کہ مجھے بچا لے ، مجھے کوئی پناہ کی جگہ اس کے سوا نظر ہی نہیں آتی ، میری حیثیت صرف مبلغ اور رسول کی ہے ، بعض تو کہتے ہیں الا کا استثنا ( لا املک ) سے ہے یعنی میں نفع نقصان ہدایت ضلالت کا مالک نہیں میں تو صرف تبلیغ کرنے والا پیغام پہنچانے والا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ ( لن یجیرنی ) سے یہ استثناء ہو یعنی اللہ کے عذابوں سے مجھے صرف میری رسالت کی ادائیگی ہی بچا سکتی ہے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67؀ ) 5- المآئدہ:67 ) ، یعنی اے رسول تیری طرف جو تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے پہنچا دے اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچا لے گا ۔ نافرمان کے لئے ہمیشہ والی جہنم کی آگ ہے جس میں سے نہ نکل سکیں نہ بھاگ سکیں ۔ جب یہ مشرکین جن وانس قیامت والے دن ڈراؤنے عذابوں کو دیکھ لیں گے اس وقت ظاہر ہو جائے گا کہ کمزور مددگاروں اور بےوقعت گنتی والوں میں کون کون شامل تھا ؟ یعنی مومن موحد یا یہ مشرک ، حقیقت یہ ہے کہ اس دن مشرکوں کا برائے نام بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہو گا اور اللہ کے لشکروں کے مقابلہ پر ان کی گنتی بھی کچھ نہ ہو گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 مسجد کے معنی ہیں سجدہ گاہ۔ سجدہ بھی ایک رکن نماز ہے اس لیے نماز پڑھنے کی جگہ مسجد کہا جاتا ہے آیت کا مطلب واضح ہے کہ مسجدوں کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے اس لیے مسجدوں میں کسی اور کی عبادت کسی اور سے دعا ومناجات جائز نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] یعنی ویسے تو کسی جگہ اور کسی حال میں بھی اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارنا نہیں چاہیے مگر مساجد میں تو ایسا کام کرنے سے یہ شرک کا گناہ کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ مسجدیں تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں اور بعض علماء کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے لیے تو ساری زمین ہی مسجد بنادی گئی ہے۔ لہذا کسی جگہ بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکارنا جائز نہیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء تو اللہ کی عبادت اور بندگی کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لہذا اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکار کر ان کا غلط استعمال کرنا جائز نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وان المسجد للہ…:” المجسد “” مسجد “ کی جمع ہے، اس کا معنی سجدے بھی ہے (مصدر مسیحی) اور وہ جگہیں بھی جہاں سجدے کئے جاتے ہیں، یعنی مسجدیں اور وہ جگہیں یعنی اعضا بھی جن پر سجدہ ہوتا ہے، یعنی پیشانی، ہاتھ پاؤں اور گھٹنے (ان دونوں معنوں کی صورت میں یہ ظرف ہے) ۔ مطلب یہ ہے کہ سب سجدے بھی اللہ کے لئے ہیں، مسجدیں بھی اور اعضائے سجدہ بھی، تو پھر پکارنا بھی صرف اسی کا حق ہے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کو مت پکارو ۔” المسجد “ کا لفظ اتنا عام ہے کہ اس سے مراد صرف وہی جگہیں نہیں جو عبادت کے لئے تعمیر کی گئی ہیں بلکہ اس میں زمین کا ہر قطعہ شامل ہے، کیونکہ اس امت کیلئے ساری زمین ہی مسجد ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارنا منع ہے۔ بعض لوگ جو مصیبت یا بیماری میں ” یا اللہ “ کے ساتھ ” یا رسول اللہ “ ،” یا علی “ ، ” یا حسین “ اور ” یا شیخ عبدالقادر “ وغیرہ کہتے اور ان کو مدد کیلئے پکارتے ہیں ان کا یہ فعل درست نہیں۔ غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت کے لئے ملاحظہ فرمائیں سورة یونس (١٠٦) ، رعد (١٤) ، نحل (٢٠، ٢١) ، حج (٦٢، ٧٣، ٧٤) ، مومنون (١١٧) ، شعراء (٢١٣) ، قصص (٨٨) ، سبا (٢٢) ، فاطر (١٣، ١٤) اور سورة احقاف (٥) اس کی وجہ یہ ہے کہ پکارنا ہی اصل عبادت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(الدعاء ھو العبادۃ) ” پکارنا ہی عبادت ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی، (وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم دخرین) (المومن : ٦٠)” اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “ (ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المومن : ٣٢٣٨، وصححہ فی ابواب الدعوات، ما جاء فی فضل الدعائ)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques must be kept clear of all false beliefs and vile deeds. The word masajid could also have another sense. It could be the plural of masjad, with the letter jim carrying fath, in which case it would be masdar mimi &infinitivity& and mean &to prostrate or prostration&. The verse in this sense would signify that worship is reserved exclusively for Allah. It is not permitted to prostrate to anyone, because if he calls on anyone else for help, it is as though he is prostrating to him which must be avoided.

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ سب سجدے صرف اللہ کے لئے مخصوص ہیں اور جو شخص غیر اللہ کو اعانت کے لئے پکارتا ہے گویا وہ اس کو سجدہ کرتا ہے۔ غیر اللہ کے سجدہ سے اجتناب کرو۔ مسئلہ باجماع امت غیر اللہ کے لئے سجدہ حرام ہے اور بعض علماء کے نزدیک کفر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللہِ اَحَدًا۝ ١٨ ۙ مَسْجِدُ : موضع الصلاة اعتبارا بالسجود، وقوله : وَأَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ [ الجن/ 18] ، قيل : عني به الأرض، إذ قد جعلت الأرض کلّها مسجدا وطهورا کما روي في الخبر وقیل : الْمَسَاجِدَ : مواضع السّجود : الجبهة والأنف والیدان والرّکبتان والرّجلان، وقوله : أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ [ النمل/ 25] أي : يا قوم اسجدوا، وقوله : وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] ، أي : متذلّلين، وقیل : کان السّجود علی سبیل الخدمة في ذلک الوقت سائغا، وقول الشاعر : وافی بها لدراهم الْإِسْجَادِعنی بها دراهم عليها صورة ملک سجدوا له . المسجد ( ظرف ) کے معنی جائے نماز کے ہیں اور آیت وَأَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ [ الجن/ 18] اور مسجدیں تو خدا ہی ( کی عبادت کے لئے ہیں ) میں بعض نے کہا ہے کہ مساجد سے روئے زمین مراد ہے کیونکہ آنحضرت کے لئے تمام زمین کو مسجد اور طھور بنایا گیا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں مروی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ مساجد سے اعضاء سجود یعنی پیشانی ناک دونوں ہاتھ دونوں زانوں اور دونوں پاؤں مراد ہیں اور آیت : ۔ أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ [ النمل/ 25]( اور نہیں سمجھتے ) کہ اللہ کو ۔۔۔۔۔۔۔ سجدہ کیوں نہ کریں ۔ میں لا زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ میری قوم اللہ ہی کو سجدہ کرو ۔ اور آیت : ۔ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے ۔ میں اظہار عاجزی مراد ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مراد سجدہ خدمت ہے جو اس وقت جائز تھا اور شعر ( الکامل ) وافی بها لدراهم الْإِسْجَادِمیں شاعر نے وہ دراھم مراد لئے ہیں جن پر بادشاہ کی تصویر ہوتی تھی اور لوگ ان کے سامنے سجدہ کرتے تھے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جتنی مسجدیں ہیں سب اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں تو ان مسجدوں میں اللہ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو یا یہ کہ مساجد سے مراد انسان کے وہ اعضاء ہیں جن سے وہ سجدہ کرتا مثلا پیشانی ہاتھ پیر وغیرہ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨{ وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ } ” اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں “ یہاں ” مساجد “ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء ( پیشانی ‘ ناک ‘ ہاتھ ‘ پائوں ‘ گھٹنے) بھی ۔ یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ { فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ۔ } ” تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 "We might try them by that blessing": "We might see whether they remain grateful after having received the blessing or not, and whether they put Our blessing to right use or not. " 18 "To turn away from Allah's remembrance" means that one may reject the advice and admonition sent down by Allah, or one may disdain giving ear to Allah's remembrance, or one may turn away from the worship of Allah.

سورة الْجِنّ حاشیہ نمبر :19 مفسرین نے بالعموم مساجد کو عبادت گاہوں کے معنی میں لیا ہے اور اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت گاہوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عبادت گاہ ہے اور آیت کا منشا یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کہیں بھی شرک نہ کیا جائے ۔ ان کا استدلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے کہ جعلت لی الارض مسجد و طھورا ۔ میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر نے مساجد سے مراد وہ اعضاء لیے ہیں جن پر آدمی سجدہ کرتا ہے ، یعنی ہاتھ ، گھٹنے ، قدم اور پیشانی ۔ اس تفسیر کی رو سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان پر اللہ کے سوا کسی اور کے لیے سجدہ نہ کیا جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: اس جملے کا دُوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تمام مسجدیں اللہ کی ہیں ۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨۔ ٢٤۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں تو ان لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر کمر باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ کا دوا یکونون علیہ لبدا کی تفسیر میں سلف کیا ہی قول بھی ١ ؎ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن شریف پڑھا تو اس کے سننے کے شوق میں جنات کا ہجوم اور اڑدھام جو ہوا تھا اسی کو کادوا یکونون علیہ لبدا فرمایا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جنات نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صحابہ کو جماعت سے نماز پڑھتے جو دیکھا تھا یہ انہوں نے اسی جماعت کی نماز کا ذکر اپنی قوم سے ان لفظوں میں کیا ہے یہ ایک قول حضرت عبد اللہ بن عباس کا ہے اور ترمذی ٢ ؎ نے اس کو روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے ظاہراً اس قول کے معنی یہ ہیں کہ آیت اس مطلب پر بھی صادق آتی ہے ورنہ حافظ ابو جعفر بن جریر نے سلف کا قولوں میں قتادہ وغیرہ کے اس قول کو ترجیح دی ہے جو ان دونوں قولوں سے پہلے ذکر کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی آیتوں کا مضمون بھی اسی کا مقتضی ہے کہ اس قول کو ترجیح دی جائے کیونکہ اس آیت سے پہلے جو آیت ہے وہ مشرکین کی شان میں ہے اور اسی طرح اس آیت کے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جس جواب کا ارشاد فرمایا ہے وہ مشرکین مکہ کی مخالفت کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے مشرکو تم ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع ہو کر مجھ سے مخالفت کیوں کرتے ہو۔ میں تو اللہ کے حکم کے موافق فقط اللہ کی خالص عبادت کرتا ہوں اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ رہی تمہاری ہدایت اور گراہمی وہ میرے اختیار میں نہیں جس طرح اللہ کا حکم آتا ہے میں خود بھی اس کے موافق عمل کرتا ہوں اور تم کو بھی وہ حکم الٰہی پہنچا دیتا ہوں کیونکہ اللہ کے حکم کے موافق عمل کرنے میں یا اس کو تم کہ پہنچا دینے میں مجھ سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو مجھے اللہ کے مواخذہ سے کون بچا سکتا ہے نہ اس سے بچنے کی کوئی پناہ کی جگہ مجھ کو نظر آتی ہے۔ اب بعد اس فہمایش کے جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے اگرچہ تم مجھ کو اکیلا اور میرے ساتھیوں کو تھوڑی سی جماعت دیکھ کر مخالفتوں پر آمادہ ہو لیکن اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ تمہاری بڑی بھیڑ کا انجام کیا ہوا اور ہماری تھوڑی سی جماعت کا کیا حال ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی میں ہی انجام ہر ایک کو معلوم ہوگیا۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٣٢ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص ١٩٠ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:18) وان المساجد للہ اس جملہ کا عطف جملہ ان لوا ستقاموا پر ہے یعنی یہ بھی میری طرف وحی کیا گیا کہ مسجدیں یعنی وہ مقامات جو نماز کے لئے بنائے جاتے ہیں اللہ ہی کے لئے مخصوص ہیں (اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک قرار دینے کے لئے نہیں ہیں) ان حرف مشبہ بالفعل المساجد اس کا اسم اور للہ اس کی خبر ہے المساجد بوجہ عمل ان منصوب ہے۔ فلا تدعوا مع اللہ احدا ف سببیہ ہے لا تدعوا فعل نہی جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارومت۔ تم نہ پکارو۔ احدا۔ (کوئی) ایک۔ لا تدعوا کا مفعول۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یوں تو کسی بھی جگہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا جائز نہیں ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ مسجدوں میں جو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں کسی اور کو پکارنا شرک کی بدترین صورت ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ جب اپنے گرجوں میں داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ صرف مجھے پکارو خصوصاً جبتم مسجدوں میں داخل ہوجاو میرے ہی نام پر میری ہی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ “ ) بعض مفسرین نے مساجد سے مراد جسم کے وہ اضعاء لئے ہیں جنہیں سجدہ کے وقت زمین پر رکھا جاتا ہے یعنی پیشانی دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ ہی کے دیئے ہوئے ہیں، لہٰذا یہ جائز نہیں ہے کہ ان کے ذریعے اپنے حقیقی خالق ومالک کے علاوہ کسی اور کوئی بھی سجدہ کرو۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وان المسجد .................... احد ” اس کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ بھی صرف اللہ کے لئے ہے اور مقامات سجود ، مساجد بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ لہٰذا اسلام مکمل توحید کا قائل ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کسی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اور اللہ کی توحید کے سوا تمام اعتبارات اور تمام حیشلیت ہیچ ہیں۔ لہٰذا کسی کے ہاں کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے طلب کرنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنے قلب میں استحضار دینا جائز ہے۔ اگر یہ آیت جنوں کا مقولہ ہے تو پھر یہ جنوں کی اس بات کی تاکید ہے۔ ولن ................ احدا (٢٨ : ٢) ” اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “ ۔ خصوصاً عبادت اور ذکر وفکر کے مقام میں بالخصوص سجدہ ریزی میں۔ اور اگر یہ ابتداء ہی سے کلام الٰہی ہے تو پھر موقعہ کی مناسبت سے اللہ کی طرف سے ہدایت ہے اور یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ بر محل ہدایت دے دیتا ہے اور اسی طرح اگلی آیت :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ٠٠١٨﴾ (اور بلاشبہ سب سجدے اللہ ہی کے لیے ہیں سو اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو) یعنی کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ بعض حضرات نے مساجد کو مسجد بفتح الجیم کی جمع لیا ہے اور اسے مصدر میمی بتایا ہے ہم نے اسی کے مطابق آیت کریمہ کا ترجمہ کیا ہے یہ معنی لینے سے غیر اللہ کے لیے ہر طرح کے سجدے کرنے کی ممانعت ہوجاتی ہے سجدہ عبادت کا ہو یا سجدہ تعظیمی ہو ان سب سجدوں کی ممانعت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی سجدہ جائز اور مباح نہیں ہے پہلے تو بادشاہوں میں رسم تھی کہ دربار میں آنے والے ان کو سجدے کیا کرتے تھے اور اب بہت سے پیروں اور فقیروں نے یہ طریقہ نکال رکھا ہے کہ مرید ان کے پاس آتے ہیں یا رخصت ہوتے ہیں تو انہیں سجدہ کرتے ہیں یہ حرام ہے اور شرک ہے۔ اگر مساجد کو مسجد (بكسر الجیم) کی جمع لیا جائے تب بھی معنی سابق کی طرف مفہوم راجع ہوتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جہاں کہیں بھی کوئی سجدہ کرنے کی جگہ ہے یہ جگہ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرنے کے لیے مخصوص ہے خواہ عبادت گاہ کے نام سے کوئی جگہ بنا لی جائے جسے مسجد کہتے ہیں خواہ ضرورت کیو قت سفر حضر میں کہیں بھی کسی جگہ بھی نماز پڑھنے کا ارادہ کرلیا جائے۔ یہ عبادت بہر حال اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص رکھنا لازم ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت کرنا حرام ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ ” وان المساجد “ یہ بھی انہ استمع پر معطوف ہے۔ یہ گذشتہ سورتوں میں بیان شدہ دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ ہے۔ مساجد سے یا مسجدیں اور عبادت خانے مراد ہے یا اس سے اعضاء سجدہ مراد ہیں۔ یعنی مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص ہیں، اسی طرح اعضاء سجود کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے حاجات و مشکلات میں اللہ کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) اور میری طرف یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں سو ان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یعنی یوں تو غیر اللہ کی عبادت ہر جگہ حرام اور شرک ہے کیونکہ ساری زمین ہی سجدہ گاہ ہے لیکن خاص طور پر وہ مقام جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خاص ہے جیسے مساجد اللہ خواہ وہ حرم پاک ہو یا مسجد نبوی یا بیت المقدس یا عام مساجد یہ تمام مقامات غیر اللہ کی عبادت سے محفوظ رہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے یہ مقامات محفوظ رہیں، بشرطیکہ مسلمانوں کا ان مقامات پر اقتدار ہو، اور اگر خدانخواستہ مسلمان مغلوب ہو کر اپنا اقتدار کھو بیٹھیں تو پھر حسب استطاعت تحفظ مساجد کے ذمہ دار ہوں گے۔ بعض مفسرین نے مساجد سے اعضائے سجود مراد لئے ہیں اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ یہ اعضائے سجود اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں ان کے سوائے اس کے کسی کے آگے نہ جھکائو جیسا کہ غیر مسلموں کا شیوہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اعضاء کو غیر اللہ کی عبادت میں استعمال کیا کرتے ہیں۔