Surat ul Jinn

Surah: 72

Verse: 8

سورة الجن

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾

And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames.

اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Jinns stealing Information from the Sky before the the Messenger was sent and striking Them with flaming Fire after His Coming Allah informs about the Jinns when He sent His Messenger Muhammad and revealed the Qur'an to him. Among the ways He protected it (the Qur'an) was by filling sky with stern guards guarding it from all of its sides. The devils were then expelled from the places where they used to sit prior to that. This was so that they could not steal anything from the Qur'an and tell it to the soothsayers, thereby causing matters to be confused and mixed up. If this happened it would not be known who was being truthful. Allah did this out of His kindness to His creation, His mercy upon His servants and His protection of His Mighty Book (the Qur'an). This is why the Jinns said, وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاء فَوَجَدْنَاهَا مُلِيَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الاْأنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے ، اب جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا ، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہو جائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو ۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے لگے ہوئے ہیں اور آگ کے شعلے تاک لگائے ہوئے ہیں ایسے چھوٹ کر آتے ہیں کہ خطاہی نہیں کرتے جلا کر بھسم کر دیتے ہیں ، اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حقیقی مراد کیا ہے؟ اہل زمین کی کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب کا ارادہ نیکی اور بھلائی کا ہے ، خیال کیجئے کہ یہ مسلمان جن کس قدر ادب داں تھے کہ برائی کی اسناد کے لئے کسی فاعل کا ذکر نہیں کیا اور بھلائی کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور کہا کہ دراصل آسمان کی اس نگرانی اس حفاظت سے کیا مطلب ہے ، اسے ہم نہیں جانتے ۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ الٰہی تیری طرف سے شر اور برائی نہیں ، ستارے اس سے پہلے بھی کبھی کبھی جھڑتے تھے لیکن اس طرح کثرت سے ان کا آگ برسانا قرآن کریم کی حفاظت و صیانت کے باعث ہوا تھا ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ایک ستارہ ٹوٹا اور بڑی روشنی ہو گئی تو آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ پہلے اسے جھڑتا دیکھ کر تم کیا کہا کرتے تھے؟ ہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا خیال تھا کہ یا تو یہ کسی برے آدمی کے تولد پر ٹوٹتا ہے یا کسی بڑے کی موت پر ، آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی کام کا آسمان پر فیصلہ کرتا ہے ، الخ ۔ یہ حدیث پورے طور پر سباء کی تفسیر میں گذر چکی ہے ۔ دراصل ستاروں کا بکثرت گرنا ، جنات کا ان سے ہلاک ہونا ، آسمان کی حفاظت کا بڑھ جانا ، ان کا آسمان کی خبروں سے محروم ہو جانا ہی اس امر کا باعث بنا کر یہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے چاروں طرف تلاش کر دی کہ کیا وجہ ہوئی کہ ہمارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا چنانچہ ان میں سے ایک جماعت کا گذر عرب میں ہوا اور یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس نبی کی بعثت اور اس کلام کا نزول ہی ہماری بندش کا سبب ہے ، پس خوش نصیب سمجھدار جن تو مسلمان ہوگئے ، باقی جنات کو ایمان نصیب نہ ہوا ، سورہ احقاف کی آیت ( وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29؀ ) 46- الأحقاف:29 ) میں اس کا پورا بیان گذر چکا ہے ، ستاروں کا ٹوٹنا آسمان کا محفوظ ہو جانا جنات ہی کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے لئے بھی ایک خوفناک علامت تھی ، وہ گھبرا رہے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئے نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اور عموماً انبیاء کی تشریف آوری اور دین اللہ کے اظہار کے وقت ایسا ہوتا بھی تھا ، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ شیاطین اس سے پہلے آسمانی بیٹھوں میں بیٹھ کر فرشتوں کی آپس کی باتیں اڑا لایا کرتے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بنائے گئے تو ایک رات ان شیاطین پر بڑی شعلہ باری ہوئی جسے دیکھ کر اہل طائف گئے کہ شاید آسمان والے ہلاک ہوگئے انہوں نے دیکھا کہ تابڑ توڑ ستارے ٹوٹ رہے ہیں ، شعلے اڑ رہے ہیں اور دور دور تک تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے غلام آزاد کرنے ، اپنے جانور راہ اللہ چھوڑنے شروع کر دیئے آخر عبد یا لیل بن عمرہ بن عمیر نے ان سے کہا کہ اے طائف والو تم کیوں اپنے مال برباد کر رہے ہو؟ تم نجوم دیکھو اگر ستاروں کو اپنی اپنی جگہ پاؤ تو سمجھ لو کہ آسمان والے تباہ نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ انتظامات صرف ابن ابی کبشہ کے لئے ہو رہے ہیں ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ) اور اگر تم دیکھو کہ فی الحقیقت ستارے اپنی مقررہ جگہ پر نہیں تو بیشک اہل آسمان کو ہلاک شدہ مان لو ، انہوں نے سونگھی اور سونگھ کر بتایا کہ اس کا انقلاب سبب مکہ میں ہے ، سات جنات نصیبین کے رہنے والے مکہ پہنچے یہاں حضور علیہ السلام مسجد حرام میں نماز پڑھا رہے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے جس سن کر ان کے دل نرم ہوگئے بہت ہی قریب ہو کر قرآن سنا پھر اس کے اثر سے مسلمان ہوگئے اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام دی ، الحمد اللہ ہم نے اس تمام واقعہ کو پورا پورا اپنی کتاب السیرت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے آغاز کے بیان میں لکھا ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وانا لمسنا السمآء فوجدنھا ملئت …: اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت کے علاوہ ان شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہے جو آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لئے ہر طرف سے ان پر شہابوں (انگ اورں) کی بارش ہوتی ہے۔ (دیکھیے صافات : ٦ تا ١٠) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ان الملائکۃ تنزل فی العنان وھو السحاب فتذکر الا مر قضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع فتسمعہ فتوحیہ الی الکھان ، فیکذبون معھا مائۃ کذبۃ من عندانفسھم) (بخاری، بدء الخق ، باب ذکر المائکۃ صولات اللہ علیھم : ٣٢١٠)” فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے، تو شیطان چوری سے وہ بات سننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں، پھر وہ یہ بات کاہنوں کو چپکے سے پہنچا دیتے ہیں، پھر کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ “ (٢) ملئت حرساً شدیداً و شھباً : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بھی عالم بالا کی حفاظت کا اتنظام تھا، مگر جن کوئی نہ کوئی بات سن لیتے تھے اور انہیں بالائی فضا میں چھپ کر بیٹھنے کی بھی کوئی نہ کوئی جگہ مل جاتی تھی، اب (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد) جب وہ سننے کے لئے اوپر گئے تو ساری بالائی فضا سخت پہرے اور مسلسل شہابوں کی بارش سے بھری ہوئی تھی۔ ” ملئت “ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اب پہرے کا نظام پہلے سے بہت سخت ہوگیا تھا۔ اس سے انہیں پریشانی ہوئی اور وہ تلاش میں نکلے کہ اس بندوبست کا باعث ہے ؟ جیسا کہ اس سورت کی شان نزول میں گزر چکا ہے۔ (٣) قرآن مجید کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن انسانوں سے الگ مخلوق ہیں جو مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اور جو انسان کی پیدائش سے پہلے موجود تھے۔ جن آسمان کے قریب جاسکتے ہیں اور بعض اوقات عالم بالا کی ایک آدھ بات چرا سکتے ہیں، انہیں انسانوں ہی میں سے سرکش قوم یا چھپے ہوئے جراثیم قرار دے کر ان کا انکار کردینا قرآن و حدیث کا انکار ہے۔ کسی چیز کے انکار کی یہ بنیاد کہ اگر وہ موجود ہوتی تو نظر آتی، بےحد کمزور بنیاد ہے۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (٢٧، ٣٨) ، ہود (١١٩) ، حم سجدہ (٢٥، ٢٩) اور سورة احقاف (١٨، ٢٩، ٣٢) ۔ آدم اور ابلیس کا قصہ جو قرآن مجید میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور سورة رحمان پوری اس بات کی شاہد ہے کہ جن اور انسان الگ الگ مخلوق ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَ‌سًا شَدِيدًا وَشُهُبًا (...and that we sought [ to reach ] the sky, but we found it filled with stern guards and flames....72:8). The word sama& is used in two different senses: &sky& as well as &cloud&. It would appear that here the word is used in the latter sense. The Jinn Used to Go only up to the Clouds to Eavesdrop, Not to the Sky The Jinn and the devils used to go up to the sky means that they used to go to the &clouds&, take up positions there to sit and eavesdrop. The proof of this is found in Sahih of Bukhari on the authority of Sayyidah ` A&ishah (رض) عنہا who reports: سمعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقول ان الملایٔکۃ تنزل فی العَنَان و ھو السحاب فتذکر الامر الذی قضی فی السماء فتسترق الشّیاطین السمع فتسمعہ فتتوجّہ الی الکُھّان فیکذبون معھا مایٔۃ کذبۃ من عند انفسھم (اس مظھری) |" I have heard the Messenger of Allah say that the angels descended in the &anan of sama& meaning the &cloud&. There they discussed the decisions Allah has issued in the sky. The devils listened to their private conversations without them knowing about it and passed the information to the soothsayers, mixing it with a hundred lies from their side.|"& [ Mazhari ]. A narration is record in Sahih of Bukhari on the authority of Sayyidna Abu Hurairah (رض) and in Muslim on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہما to the following effect: When Allah issues an order in the sky, the angels flap their wings in readiness to obey the order. When the issuance of the order is over, they discuss among themselves. The devils eavesdrop on this discussion, and pass the information to the soothsayers, admixing it with many lies. This Hadith apparently contradicts the narration of Sayyidah ` A&ishah (رض) but in actual fact, there is no conflict between the two narratives. This narrative does not prove that the devils go inside the sky to eavesdrop. Probably, when the order is issued in the first instance by Allah, it filters down to the angels from the upper level to the lower level, until the angels come down to the cloud where they discuss it. The devils steal the information from here as mentioned by Sayyidah ` A&ishah (رض) [ Mazhari ]. At any rate, before the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the Jinn and devils had free access to the heavenly information. They used to position themselves in the cloud and eavesdrop on the conversations of the angels and pass the information to the soothsayers. At the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، there arose the need to protect the heavenly revelation. As a result, the access of devils to the upper region was stopped in such a way that if a devil attempted to go up, he would be repelled by piercing flames. This was the new phenomenon that excited the curiosity of the devils and Jinn and, dividing themselves into groups, they went to the east and to the west to investigate. One of the groups arrived at a place called Nakhlah where its members heard the Qur&an and embraced the faith of Islam as mentioned in Surah Al-Jinn. Meteors Existed Since the Inception of Time, but were not Used to Repel the Devils before the Advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It happened only after his Advent A doubt that may arise here is that the existence of Meteors, which in common parlance are called inqidad-ul-kaukab the &falling stars&, is not a new phenomenon. This verse, however, indicates that they showed up to repel the devils as if they are new-age phenomena of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In response, it may be stated that there is no denying that the meteors did exist since the inception of time and space before the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and that there is no contradiction between what humanity experienced since the beginning of the world, scientific explanations and the Qur&anic statement. Philosophers and scientists explain that the meteors may originate from the earth or stars or disintegrating planets, and wander in space at enormous speeds and fall to the earth. Some fiery matter may arise from the surface of the earth and heat up at some point, or the speed of the meteors makes them glow and burn, or a flame emits from a star - and this may have habitually continued ever since. These flames, however, were not used to serve a particular purpose before the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; they were merely a natural phenomena. After the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، meteoric flames were used to serve the purpose of shooting the devils if they attempted to go up and listen furtively the conversation of the angels. See also Ma` ariful Qur’ an, Vol. 5/pp 303-305, under [ 15:17-18].

(آیت) وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا لفظ سماء عربی لغت میں جس طرح آسمان کے لئے بولا جاتا ہے اسی طرح بادل پر بھی لفظ سماء کا اطلاق عام اور معوف ہے۔ یہاں بظاہر سماء سے مراد یہی بادل ہے۔ جنات آسمانی خبریں سننے کے لئے صرف بادلوں تک جاتے تھے آسمان تک نہیں :۔ اور جنات و شیاطین کا آسمانی خبریں سننے کے لئے آسمان تک جانے کا مطلب یہی ہے کہ بادلوں تک جاتے تھے اور وہاں سے آسمانی خبریں سنتے تھے۔ اور دلیل اس کی حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث جو صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل آئی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ فرشتے عنان سماء میں اترتے ہیں جس کے معنے بادل کے ہیں وہاں وہ ان فیصلوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان میں جاری فرمائے ہیں۔ یہاں سے شیطان یہ خبریں چراتے ہیں اور سن کر کاہنوں کے پاس لاتے ہیں اور اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر ان کو بتاتے ہیں۔ اور صحیح بخاری ہی میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور مسلم میں حضرت ابن عباس کی روایت سے جو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اصل آسمانوں میں پیش آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم آسمان میں جاری فرماتے ہیں تو سب فرشتے بغرض اطاعت اپنے پر مارتے ہیں اور جب کلام ختم ہوجاتا ہے تو باہم تذکرہ کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ اس تذکرہ کو آسمانی خبریں چرانے والے شیاطین سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس اس میں بہت سے جھوٹ شامل کر کے پہنچاتے ہیں۔ یہ مضمون حدیث عائشہ مذکورہ کے منافی نہیں کیونکہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شیاطین آسمانوں میں جا کر یہ خبریں چرا لاتے ہیں بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے یہ خبریں درجہ بدرجہ آسمانوں میں فرشتوں کے اندر پھیلتی ہوں، پھر فرشتے عنان سماء یعنی بادل تک آتے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوں یہاں سے شیاطین خبروں کی چوری کرتے ہوں جیسا کہ حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث میں ہے ( کذافی المظہری) بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے شیاطین کا آسمانی خبریں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھا۔ شیاطین بادلوں تک پہنچ کر فرشتوں سے سن لیا کرتے تھے۔ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے وقت آپ کی آسمانی وحی کی حفاظت کے لئے اس سلسلہ کو اس طرح بند کردیا گیا کہ جب کوئی شیطان یہ خبریں سننے کے لئے اوپر آتا تو اس کی طرف شہاب ثاقب کا انگارہ پھینک کر اس کو دفع کردیا جاتا ہے۔ یہی وہ نیا حادثہ تھا جس کی شیاطین و جنات کو فکر ہوئی اور تحقیق حال کے لئے دنیا کی مشرق و مغرب میں وفود بھیجے پھر مقام نخلہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک وفد جنات کا قرآن سن کر ایمان لانا سورة جن میں ذکر فرمایا گیا۔ شہاب ثاقب بعثت نبوی سے پہلے بھی تھے مگر ان کے ذریعہ دفع شیاطین کا کام آپ کے زمانہ سے ہوا :۔ یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شہاب ثاقب جس کو عرف میں ستارہ ٹوٹنا یا عربی میں انقضاص الکوکب کہتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں قدیم زمانہ سے ہوتا آیا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد نبوی کی تخصیص ہے۔ جواب یہ ہے کہ شہاب ثاقب کا وجود تو پہلے سے تھا خواہ اس کی حقیقت وہ ہو جو فلاسفہ بیان کرتے ہیں کہ زمین سے کچھ آتشیں مادے فضا میں پہنچتے ہیں وہ کسی وقت بھڑک اٹھتے ہیں یا یہ ہو کہ خود کسی ستارہ اور سیارہ سے یہ آتشیں مادہ نکلتا ہو۔ بہرحال اس کا وجود اگرچہ ابتداء عالم سے ہے مگر اس آتشیں مادہ سے شیاطین کو دفع کرنے کا کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے شروع ہوا اور یہ بھی رضوری نہیں کہ جتنے شہاب ثاقب نظر آتے ہیں سب سے ہی یہ کام لیا جاتا ہو۔ اس کی پوری تفصیل سورة حجر کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَنَّا لَمَسْـنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُہُبًا۝ ٨ ۙ لمس اللَّمْسُ : إدراک بظاهر البشرة، کالمسّ ، ويعبّر به عن الطّلب، کقول الشاعر : وأَلْمِسُهُ فلا أجده وقال تعالی: وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّماءَ فَوَجَدْناها مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً [ الجن/ 8] ، ويكنّى به وبِالْمِلَامَسَةِ عن الجماع، وقرئ : لامَسْتُمُ [ المائدة/ 6] ولَمَسْتُمُ النّساء حملا علی المسّ ، وعلی الجماع، «ونهى عليه الصلاة والسلام عن بيع الملامسة»وهو أن يقول : إذا لَمَسْتَ ثوبي، أو لَمَسْتُ ثوبک فقد وجب البیع بيننا، واللُّمَاسَةُ : الحاجة المقاربة . ( ل م س ) اللمس ( ن ) مس کی طرح اس کے معنی بھی اعضاٰ کی بلائی کھال کے ساتھ کسی چیز کو چھو کر اس کا ادراک کرلینا کے ہیں ۔ پھر مطلق کسی چیز کی طلب کرنے کے معنی میں آتا ہے شاعر نے کہا ہے ( مجزوالوافر ) ( 400) المسہ فلا اجدہ میں اسے تلاش کرتا ہوں مگر وہ ملتا نہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّماءَ فَوَجَدْناها مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً [ الجن/ 8] اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا۔ اور لمساور ملامسۃ کے معنی کنایتۃ جماع کے بھی آتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : لامَسْتُمُ [ المائدة/ 6] یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو ۔ میں ایک قراءت لمستم النساء بھی ہے اس لئے مجامعت کرنا مراد لیا ہے اور حدیث میں ہے (112) انہ نھی عن الملامسۃ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع ملامسۃ سے منع فرمایا : اور بیع ملامسۃ کی صورت یہ ہے کہ بائع یا مشتری دوسری سے کہہ کہ جب ہم سے کوئی دوسرے کپڑا چھوٹے گا تو بیع واجب ہوجائے گی ۔ اللماسۃ ۔ معمولی حاجت ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ مِلْء) بهرنا) مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة أَمْلَائِهِ. الملأ کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی بر تن بھر جائے محاورہ ہے : ۔ اعطنی ملاءہ وملاء بہ وثلاثۃ املائہ حرس قال اللہ تعالی: فَوَجَدْناها مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً [ الجن/ 8] ، والحَرَس والحُرَّاس جمع حارس، وهو حافظ المکان، والحرز والحرس يتقاربان معنی تقاربهما لفظا، لکن الحرز يستعمل في الناضّ والأمتعة أكثر، والحرس يستعمل في الأمكنة أكثر، وقول الشاعر : فبقیت حرسا قبل مجری داحس ... لو کان للنفس اللجوج خلودقیل : معناه : دهرا فإن کان الحرس دلالته علی الدّهر من هذا البیت فقط فلا يدلّ ، فإنّ هذا يحتمل أن يكون مصدرا موضوعا موضع الحال، أي : بقیت حارسا، ويدلّ علی معنی الدهر والمدّة لا من لفظ الحرس، بل من مقتضی الکلام . وأَحْرَسَ معناه : صار ذا حرس، كسائر هذا البناء المقتضي لهذا المعنی وحَرِيسَة الجبل : ما يحرس في الجبل باللیل . قال أبو عبید : الحریسة هي المحروسة وقال : الحریسة : المسروقة، يقال : حَرَسَ يَحْرُسُ حَرْساً ، وقدّر أنّ ذلک لفظ قد تصوّر من لفظ الحریسة، لأنه جاء عن العرب في معنی السرقة . ( ح ر س) الحرس والحراس ( جمع ) پاسبان ۔ اس کا واحد حارس ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَوَجَدْناها مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً [ الجن/ 8] سے بھرا ہوا پایا ۔ الحرس ( ض) اور الحرز کے جس طرح الفاظ ملتے جلتے ہیں ایسے ہی ان کے معنی بھی قریب قریب ایک ہی ہیں ان میں فرق صرف اتنا ہے کہ حرز کا استعمال زیادہ نقدی اور سامان کی حفاظت کے لئے آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) (104) فبقیت حرسا قبل مجری داحس لوکان للنفس اللجوج خلود میں واحس کی دوڑ سے پہلے اس کی حفاظت کرتا رہا کاش سرکش کے لئے ہمیشہ رہنا ہوتا بعض نے کہا ہے کہ شعر میں حرسا کے معنی دھرا کے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر صرف اس شعر کی بنا پر حرس کے معنی زمانہ کے گئے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ شعر مذکورہ میں ہوسکتا ہے کہ حرس مصدر بمعنی فاعل موضع حال میں ہو اسی بقیت حارسا اب رہا اس کا زمانہ یا مدت کے معنی پر دلالت کرنا تو یہ لفظ حرس کے اصل میں نہیں ہیں بلکہ مقتضائے کلام سے مفہوم ہوتے ہیں ۔ احرس صاحب حراست ہونا ( اس میں صاحب مآ خذ ہونے کے معنی پائے جاتے ہیں جیسا کہ باب افعال کا خاصہ ہے ۔ حریسۃ الحبل وہ مال جو رات کے وقت پہاڑ میں حفاظت گے لئے رکھا جاتا ہے ۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ الحریسۃ بمعنی محروسۃ ہے نیز الحریسۃ بمعنی مسروقۃ بھی آجاتا ہے یعنی چوری کیا ہوا مال اور اس معنی میں باب حرس ( ض) یحرس حرسا آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ الحریسۃ سے بنا ہے کیونکہ اہل عرب سے الحریسۃ کے بمعنی سرقہ یعنی چوری بھی منقول ہے ۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ شهب الشِّهَابُ : الشّعلة السّاطعة من النار الموقدة، ومن العارض في الجوّ ، نحو : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] ، شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] ، شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] . والشُّهْبَةُ : البیاض المختلط بالسّواد تشبيها بالشّهاب المختلط بالدّخان، ومنه قيل : كتيبة شَهْبَاءُ : اعتبارا بسواد القوم وبیاض الحدید . ( ش ھ ب ) الشھاب کے معنی بکند شعلہ کے ہیں خوارہ وہ جلتی ہوئی آگ کا ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] تو جلتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لگتا ہے ۔ شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] روشنی کرنیوالا انگارہ ۔ شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] انگارہ تیار ۔ الشھبتہ سفیدی جس میں کچھ سیاہی ملی ہوئی ہو ۔ جیسا کہ انگارہ کی روشنی کے ساتھ دھواں ملا ہوتا ہے اسی سے کتیبتہ شھباء کاز محاورہ ہے جس کے معنی مسلح لشکر کے ہیں کیونکہ اس میں ہتھیاروں کی چمک سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاہی اور سفیدی ملی ہوئی ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

پھر اللہ تعالیٰ جنات کی باہمی گفتگو کو روایت کرتا ہے کہ ہم ایمان لانے سے پہلے خبروں کی تلاش میں آسمان کی طرف پہنچے تو ہم نے اس کو سخت محافظ فرشتوں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا تاکہ کوئی آسمان کی خبریں نہ چرا سکے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ” اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو “ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا ۔ } ” تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔ “ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین ِجن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہوجاتی ہو مگر نزول وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 Another meaning of this sentence can be: "Allah will not resurrect anyone after death." As the wards are comprehensive they can be taken to mean that, as among human beings, so among the jinn too there were the people who denied both the Prophethood and the Hereafter. However, in view of the theme that follows, the meaning that we have given in the text above is preferable, for according to it these believing jinn tell the people of their community: "Your view is proved wrong that AIlah will not appoint anyone as a Messenger. In fact, the gates of heavens have been closed on us only because AIIah has already appointed a Messenger. "

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ وہی بات ہے جس کا ذِکر حاشیہ نمبر 1 میں اوپر گذرا ہے کہ جِنّات کو آسمان کے قریب پہنچنے سے بھی روک دیا گیا ہے، اور اس غرض سے فرشتوں کو پہرے پر مقرّر کردیا گیا ہے جو چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سننے والے کو شعلے پھینک کر مار بھگاتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨۔ ١٠۔ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات بعض روایتوں کے موافق اول آسمان بعض کے موافق چوتھے آسمان تک پہنچ کر چوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن آتے تھے اور ایک بات میں نو باتیں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہن لوگوں سے کہہ دیتے تھے قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ بڑھ گیا اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے جب آسمان تک جانے کا قصد کیا تو ان پر چاروں سے طرف سے انگارے برسنے شروع ہوگئے جنات نے اس انتظام کا ذکر ابلیس سے کیا۔ اس ملعون نے ہر طرف جنات کو اس انتظام کا سبب دریافت کرنے کو بھیجا باقی ٹکڑا اس حدیث کا اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ ان ٹکڑیوں میں ایک ٹکڑی نے مکہ اور طائف کے مابین میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور اسلام اختیار کیا۔ ترمذی ١ ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس انتظام کو دیکھ کر اس ٹکڑی کے جنات نے قرآن شریف کے سننے سے پہلے شک کے طور پر یہ کہا تاکہ اس انتظام سے یا تو زمین کے رہنے والوں پر کوئی آفت آئے گی یا ان کی کچھ بہتری ہوگی لیکن جب انہوں نے قرآن شریف سنا تو ان کی سمجھ میں آگیا کہ وہ انتظام اسی قرآن کی حفاظت کے لئے تھا۔ ١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ١٩٠ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(72:8) وانا لمسنا السماء واؤ حرف عاطفہ، انا حرف مشبہ بفعل نا ضمیر جمع متکلم بیشک ہم۔ لمسنا السمائ : لمسنا ماضی جمع متکلم لمس باب نصر، ضرب۔ مصدریہ۔ ہم نے ٹٹولا۔ ہم نے ڈھونڈا۔ ہم نے قصد کیا۔ اور باب مفاعلۃ سے بمعنی عورت سے جماع کرنے کے آتا ہے مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے او لمستم النساء (5:6) یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو۔ (ایک قرأت میں لمستم النساء بھی آیا ہے) لمس کے اصل معنی مس کی طرح اعضاء کی بالائی کھال کے ساتھ کسی چیز کو چھوکر اس کا ادراک کرلینے کے ہیں۔ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹول ڈالا۔ ٹٹول دیکھا۔ فوجدھا : ف ما قبل کے انجام کے لئے بمعنی تو۔ ھا ضمیر کا مرجع السماء ہے۔ تو ہم نے اس کو پایا۔ ملئت : ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ملا (باب فتح) مصدر بمعنی بھرنا۔ حرسا شدیدا۔ موصوف و صفت۔ حرس۔ پاسبان، چوکیدار۔ حارس کی جمع خدم یا خرم کی طرح اسم جمع ہے۔ شدیدا : مضبوط۔ زبردست۔ شھبا شھاب کی جمع ہے یعنی ستاروں سے ٹوٹ کر نکلنے والا آگ کا شعلہ۔ حرسا اور شھبا بوجہ منصوب ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم نے آسمان کو قوی نگرانوں سے یعنی ان ملائکہ سے جو آسمان تک پہنچنے سے روکتے ہیں ٹوٹنے والے شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 یعنی اس میں فرشتے کثرت سے پہرا دے رہے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے کے لئے اس کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیتے اور جو شیطان اس کی جرأت کرتا ہے اس پر آگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں۔ اس سے ہم نے سمجھا کہ زمین میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے جس کی بدولت آسمان کی حفاظت کے لئے یہ نئے انتظامات کئے گئے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں اور ہم نے کئی طرح کے مذہب اختیار کر رکھے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت سننے کے بعد ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو نہ تو کسی معاملے میں زمین میں عاجز کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سے بھاگ کر بچ سکتے ہیں اس لیے جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو ہم فوری طور پر اس پر ایمان لے آئے، جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ ہی اس پر زیادتی ہوگی۔ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور باقی نافرمان ہیں۔ جنہوں نے اپنے رب کا فرمان تسلیم کرلیا وہ ہدایت کے راستے پر چل پڑے اور جنہوں نے نافرمانی اختیار کی وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جن آسمان کے دروازوں کے قریب جاکر کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے اور وہ باتیں کاہن قسم کے لوگوں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ اس بنا پر کاہن لوگ غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاتم المرسلین بنایا تو آسمان کی حفاظت کا خصوصی بندوبست فرمادیا تاکہ جن کسی طرح بھی آسمان کی باتیں نہ سن سکیں۔ اس لیے مسلمان ہونے والے جنوں نے اپنے ساتھیوں کو بتلایا کہ اب آسمان کی حفاظت کے لیے پہرے دار بٹھادیئے گئے ہیں اور شہاب ثاقب ہمارا تعاقب کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بات بھی سمجھائی کہ ہمیں اپنے رب کی نافرمانی کرنے کی بجائے اس کی تابعداری اختیار کرنی چاہیے۔ کیونکہ جو اپنے رب کی تابعداری اختیار کرے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہوگا اور نہ ہی اسے خوف ہوگا اور جس نے اس کی تابعداری نہ کی اسے جہنم کا ایندھن بننا ہوگا۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر ایمان لانے کی ترغیب دی کہ ایمان لانے میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ تم اپنے رب پر ایمان لا کر اس کی نعمتوں کے حقدار بن جاؤ گے اور اس کی جہنم سے محفوظ ہوجاؤ گے۔ بیشک جن آگ سے پیدا کیے گئے ہیں لیکن جنوں کی آگ کے مقابلے میں ان کی آگ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے مسلمان جنوں نے اپنے ساتھیوں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا تاکہ وہ اپنے رب پر ایمان لے آئیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ ) (رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ ۔۔ فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہٖ الْیُمْنَی نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہُ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی شیاطین آسمان سے چوری چھپے باتیں سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے سے اس کو بیان کرتے کیا بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کی حفاظت کے لیے چوکیدار اور شہاب ثاقب مقرر کر رکھے ہیں۔ ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد جن آسمان کی کوئی بات نہیں سن سکتے۔ ٣۔ جنوں میں نیک بھی ہوتے ہیں اور گمراہ بھی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی طاقت کسی معاملے میں بےبس نہیں کرسکتی اور نہ ہی کوئی اللہ کی گرفت سے بھاگ سکتا ہے۔ ٥۔ جو شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ نقصان ہوگا اور نہ اس پر زیادتی ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : ٢٠) ٢۔ ” اللہ “ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : ٢٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور اس سے نکلتی ہے۔ ( الحدید : ٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ آسمانون و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلہ : ٧) (البقرۃ : ٢٨٤) ٥۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : ١٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانا لمسنا ............................ ربھم رشدا یہ واقعات جو جنوں کے ذریعہ قرآن نے نقل کیے ہیں ، بتاتے ہیں کہ اس آخری رسالت سے قبل کے زمانے میں ، جس میں رسول نہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے دور میں ، جنوں کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے اور عالم بالا میں اس زمین اور کائنات کے بارے میں جو احکام صادر ہوئے تھے یا فرشتوں کے درمیان زیر بحث آتے تھے ، مثلاً اللہ تعالیٰ فرشتوں کو جو احکام برائے نفاذ صادر کرتا تھا ، یہ جن عالم بالا میں بعض مقامات تک پہنچ کر گن سن لے لیتے تھے اور پھر ان سچی معلومات کے ساتھ بہت سی غلط معلومات جمع کرکے ، یہ جن دنیا میں کاہنوں ، قیافہ دانوں اور دوسرے مذہبی رہنماﺅں کو دیتے اور یہ لوگ ان حقیقی معلومات کو شیطانوں کے آمیزے کے ساتھ مزید اپنے مفاد کی چیزیں ملا کر لوگوں میں پھیلاتے ، ان کو گمراہ کرتے اور اس طرح شیطانی منصوبہ چلتا رہتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل یہ نظام کس طرح چلتا تھا ، اس کی تفصیلات قرآن نے نہیں دی ہیں اور نہ یہ تفصیلات جاننے کی کوئی ضرورت ہے۔ چناچہ جنوں کا یہ گروہ کہتا ہے کہ اب عالم بالا سے یہ گن سن ممکن نہیں رہی ہے۔ اب جب وہ یہ کوشش کرتے ہیں جسے وہ ” لمس سمائ “ سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف شدید پہرے لگے ہوئے ہیں اور جو جن بھی ایک حد سے اوپر جاتا ہے آگے سے شہاب ثاقب کی بمباری ہوتی ہے۔ جو بھی ایسی کوشش کرتا ہے شہاب گر کر اسے ختم کردیتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تو غیب نہیں جانتے کہ ان نئے انتظامات کے مقاصد کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ ﴾ (الآیات) جنات نے یہ بھی کہا کہ ہم اس سے پہلے آسمان کی طرف جایا کرتے تھے وہاں موقع دیکھ کر بیٹھتے تھے اور اوپر جو باتیں ہوتی تھیں انہیں سنا کرتے تھے اب تو حالت یہ ہے کہ ہم اوپر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آسمان سخت پہرہ سے بھرا ہوا ہے (یہ پہرہ فرشتوں کا ہے) اور اس پہرہ کے علاوہ ایک یہ بات بھی ہے کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو شعلوں کو تیار پاتے ہیں اب اگر کوئی اوپر کی باتوں کو سننا چاہے تو جو شعلے پہلے سے تیار ہیں ان میں سے کوئی شعلہ اسے مار دیتا ہے (اس کی تفصیل سورة ٴ حجر اور سورة ٴ صافات میں گزر چکی ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) اور یہ کہ ہم نے اپنی عادت کے موافق آسمانی خبروں کو حاصل کرنے کے لئے آسمان کو چھوا اور ٹٹولا مگر ہم نے آسمان کو سخت نگہبانوں اور چوکیداروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جنوں کو انگارے پڑتے ہیں اور خبریں سننے نہیں دیتے چوکیدار ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی کلام جنوں کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ منجملہ وحی کے یہ کلام وحی ہو۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے بلا روک ٹوک ہم آسمانوں کی خبریں لے اڑتے تھے اور فرشتوں سے سنی ہوئی باتوں کو قطع وبرید کرکے کاہنوں کو بتاتے تھے اب وہ چیز نہیں رہی ہم نے آسمان کو بہت کچھ ٹٹولا اور آسمان کی جستجو کی، لیکن ہر جگہ یا تو آگ کے شعلے ہیں یا پاسبان ہیں جو بڑے سخت ہیں کہ کسی کو قریب آنے نہیں دیتے اور کوئی قریب پھٹکنے نہیں پاتا حالانکہ۔