Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 38

سورة المدثر

کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾

Every soul, for what it has earned, will be retained

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

What will take place in the Discussion between the People of Paradise and the People of the Hellfire Allah informs that, كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ Every person is a pledge for what he has earned, meaning, bound to his deed on the Day of Judgement. Ibn `Abbas and others have said this. إِلاَّ أَصْحَابَ الْيَمِينِ

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت ( وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ 99۝ۧ ) 15- الحجر:99 ) یعنی موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے ، اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لئے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لئے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لئے ( ہاویہ ) میں گئے ۔ پھر فرمایا کیا بات ہے کہ کونسی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ، فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں اسد کہتے ہیں اور حبشی زبان میں ( قسورہ ) کہتے ہیں اور نبطی زبان میں رویا ۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیدہ علیحدہ کتاب اترے جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے آیت ( حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ١٢٤؁ ) 6- الانعام:124 ) یعنی جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دیئے جائیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟ پھر فرمایا سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ، جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 29؀ۧ ) 81- التكوير:29 ) یعنی تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ۔ پھر فرمایا اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ، مسند احمد میں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا ، ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں ، سہیل اس کا راوی قوی نہیں اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورہ مدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی ، فالحمد اللہ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہوگا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(کل نفس بما کسبت …: یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیز اس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کردیا جائے جس سکے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہوگا ، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہئای نہیں پاسکتا۔ ہاں جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ اعمال صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جایئں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ (Everyone will be detained [ in the Hell ] because of what he did, [ 38] except the People of the Right, [ i.e. those who will be given their Book of Deeds in their right hands ] 74:38-39) The word rahinah is used in the sense of marhunah &will be detained&. The word is derived from rahn &to give something valuable to a pawnbroker as a security for a debt. The valuable thing is thus merely detained by the pawnbroker. He cannot use it or take advantage of it. Likewise, every person on the Day of Judgment will be detained in lieu of his sins, except those who will be given their Book of Deeds in their right hands. In this context, &detention& could refer to being detained in Hell. In this case, the statement would mean that every person will be held in pledge in Hell against his sins to receive punishment, except the People of the Right. The context indicates that the People of the Right are those who have repaid their debt, i.e. they have fulfilled their obligations in this world towards Allah and other human beings. In these instances there is no need for them to be detained. This interpretation seems to be plain, simple and straightforward. However, if &detention& refers to being held at some other place before giving account or before admission into Paradise or Hell, it signifies that every person will be held to give an account of his deeds. No person will be permitted to move out unless the account is taken. In this case, the exception of the People of the Right could refer to the sinless who are not accountable, such as minors or immature children as explained by Sayyidna ` Ali. According to a Tradition, a segment of the Holy Prophet&s community would be exempted from accountability. They will enter Paradise without having to account for actions. Possibly, it could be referring to this segment. According to Surah .Al-Waqi` ah, there will be three categories of people on the Plain of Gathering: [ 1] sabiqun &the Foremost& and muqarrabun &who have attained nearness to Allah&; [ 2] the People of the Right; and [ 3] the People of the Left. On this occasion, the muqarrabun have been merged with the People of the Right&, and only the latter people have been mentioned. From this point of view, there is no express text which states that all the People of the Right will be excepted, and will not be detained for accountability. The first interpretation, that is being held in Hell, appropriately fits the context. And Allah knows best!

ۭكُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ 38؀ۙاِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ رھنتہ بمعنی مرہونہ ہے اور مراد اس سے اس کا محبوس ومقید ہونا ہے جس طرح کوئی شخص قرص کے بدلے میں کوئی چیز رہن رکھدے تو وہ چیز قرض خواہ کے قبضہ میں محبوس رہتی ہے، مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح قیامت کے روز ہر ایک نفس اپنے گناہوں کے بدلے میں محبوس اور مقید رہیگا مگر اصحاب الیمین اس حبس اور قید سے مستثنی ہوں گے۔ یہاں حبس سے مراد جہنم میں محبوس ہونا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگنتے کے لئے جہنم میں محبوس رہے گا مگر اصحاب الیمین اس سے مستثنی ہوں گے۔ اس سیاق سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اصحاب الیمین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا قرض ادا کردیا یعنی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے سب حقوق دنیا میں ادا کردیئے تھے یا اللہ تعالیٰ اور بندوں نے معاف کردیئے وہ فرض اور قرض سب ادا کرچکے ان کے نفوس کے مرہون ہونے کی کوئی وجہ نہیں، یہ تفسیر بظاہر صاف و بےتکلف ہے۔ اگر حبس سے مراد حساب کتاب اور جنت دوزخ کے داخلے سے پہلے کسی جگہ محبوس ہونا ہے تو اس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمام نفوس اپنے اپنے حساب کے لئے محبوس ہوں گے جب تک حساب نہ ہوجائے کوئی کہیں نہ جاسکے گا۔ اس صورت میں اصحاب الیمین مستثنی کئے گئے ان سے مراد یا تو وہ معصومین ہوسکتے ہیں جن کے ذمہ حساب نہیں، جیسے نابالغ بچے کما ہو قول علی کرم اللہ وجہہ یا پھر وہ لوگ جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس امت کے بہت سے لوگ سے مستثنی کردیئے جاویں گے وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ اور سورة واقعہ میں جو حاضرین محشر کی تین قسمیں بتلائی ہیں۔ ایک سابقین ومقربین، دوسرے اصحاب الیمین، تیسرے اصحاب الشمال، یہاں مقربین کو بھی اصحاب الیمین میں شامل کرکے صرف اصحاب الیمین کے ذکر پر اکتفا کیا گیا لیکن اس معنی کے اعتبار سے تمام اصحاب الیمین کا حساب کے لئے محبوس ہونے سے استثنا کسی نص سے ثابت نہیں یہ معنی پہلی تفسیر یعنی حبس فی جہنم ہی کے ساتھ درست ہوسکتے ہیں۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُلُّ نَفْسٍؚبِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۝ ٣٨ ۙ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ رَهِينٌ الرَّهْنُ : ما يوضع وثیقة للدّين، والرِّهَانُ مثله، لکن يختصّ بما يوضع في الخطاروأصلهما مصدر، يقال : رَهَنْتُ الرَّهْنَ ورَاهَنْتُهُ رِهَاناً ، فهو رَهِينٌ ومَرْهُونٌ. ويقال في جمع الرَّهْنِ : رِهَانٌ ورُهُنٌ ورُهُونٌ ، وقرئ : فَرُهُنٌ مقبوضة وفَرِهانٌ وقیل في قوله : كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ، إنه فعیل بمعنی فاعل، أي : ثابتة مقیمة . وقیل : بمعنی مفعول، أي : كلّ نفس مقامة في جزاء ما قدّم من عمله . ولمّا کان الرّهن يتصوّر منه حبسه استعیر ذلک للمحتبس أيّ شيء کان، قال : بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ، ورَهَنْتُ فلانا، ورَهَنْتُ عنده، وارْتَهَنْتُ : أخذت الرّهن، وأَرْهَنْتُ في السِّلْعة، قيل : غالیت بها، وحقیقة ذلك : أن يدفع سلعة تقدمة في ثمنه، فتجعلها رهينة لإتمام ثمنها . ( ر ھ ن ) الرھن ( گروی رکھی ہوئی چیز ) اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جو قرض میں بطور ضمانت رکھ لی جائے اور یہی معنی رھان کے ہیں لیکن رھان خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی مقابلہ میں شرط کے طور پر رکھ لی جائے اصل میں یہ دونوں لفظ مصدر ہیں جیسے رھنت الرھن وراھنتہ رھانا اور رھین اور مرھون : صیغہ صفت ہیں اور رھن کی جمع رھان رھن اور رھون آتی ہے اور آیت : ۔ فرھن مقبوضۃ : تو کچھ رہن قبضہ میں رکھ لو ۔ میں ایک قراءت فَرُهُنٌ مقبوضة بھی ہے اور آیت كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ [ المدثر/ 38] ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رھینۃ فعیل بمعنی فاعل سے ہے اور اس کے معنی ثابت اور قائم رہنے والی کے ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فعیل بمعنی مفعول سے ہے اور اس کے معنی ہیں کہ ہر شخص اپنے گزشتہ اعمال کی پاداش میں رکا رہے گا ۔ پھر رھن میں چونکہ حبس ( روکنے ) کے معنی پائے جاتے ہیں اس لئے کبھی مجازا رھن یعنی مطلق کسی چیز کو روکنے کے آجاتا ہے ۔ جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے ۔ رھنت فلانا رھنت عنده کے معنی کسی کے پاس گروی رکھنے کے ہیں اور ارتھنت ( افتعال ) کے معنی گروی لینے کے ۔ اور ارھنت ( افعال ) فی السلعۃ کے معنی بعض نے سامان تجارت کو گراں فروخت کرنا کئے ہیں اصل میں اس کے معنی بیعانہ کے طور پر کچھ سامان دے دینے کے ہیں ۔ جو قیمت ادا کرنے تک بطور ضمانت بائع کے پاس رہتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨{ کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ ۔ } ” ہر جان رہن ہے اس کے عوض جو کچھ کہ اس نے کمایا ہے۔ “ ہر انسان نے اپنی دنیا کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے قیامت کے دن وہ سب کچھ اسے وصول کرنا ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 For explanation, see E.N. 16 of Surah At-Tur.

سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :30 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ طور ، حاشیہ 16 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: یعنی جس طرح قرض کی توثیق کے لئے کوئی چیز گروی (رہن) رکھی جاتی ہے، کہ اگر قرض ادا نہ ہوا تو قرض خواہ اُسے بیچ کر اپنا حق حاصل کرسکتا ہے، اسی طرح کافر اس طرح رہن رکھا ہوا ہے کہ یا تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلے، ورنہ اس کا پورا وجود دوزخ کا ایندھن بنے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ ٥٦۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحساب حسابا یسیرا۔ مسند امام ١ ؎ احمد میں صحیح سند سے حضرت عائشہ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی دعائوں میں یہ دعاء مانگتے ہوئے دیکھا اللھم حاسبنی حسابا یسرا۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ چکے تو انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ حضرت حسابا یسیرا کا کیا مطلب ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسابا یسیرا ان لوگوں کے حساب کا نام ہے جن کے اعمال ناموں کو خدا تعالیٰ سرسری نظر سے ملاحظہ فرمائے گا اور اس سرسرسی نظر میں کچھ در گزر بھی ہوگی ‘ ورنہ بغیر درگزر کے جن لوگوں کا حساب ذرا جانچ سے ہوگا وہ عذاب میں پھنس جائیں گے۔ مختصر طور پر حضرت عائشہ (رض) کی یہ حدیث صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ اذا لسماء الشقت کی آیت اور ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ منکرین حشر کے اور جن کے حساب میں جانچ منظور ہے۔ ان سب کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دے کر ان کے حساب کی جانچ ہو کر ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا پھر منکرین حشر تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کلمہ گو گناہ گار جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نجات پا کر جنت میں جائے گا۔ چناچہ صحیح ٣ ؎ بخاری و مسلم کی حضرت ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے یہ لوگ جو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہ جائیں گے انہی سے جنتی لوگ ان کے ہمیشہ دوزخ میں رہ جانے کا سبب پوچھیں گے اور وہ دوزخی جواب دیں گے کہ ہم مرتے دم تک سزا و جزا کے منکر تھے۔ مرنے کے بعد ہمیں اس کا یقین آیا۔ ورنہ جیتے جی جو لوگ آخرت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ان کے ہی ساتھ ہم بھی لگے رہتے تھے اور جبکہ ہم کو سزا و جزا کا یقین ہی نہیں تھا تو ہم نے نہ خدا کی عبادت کی نہ خدا کے بندوں کا کوئی حق ادا کیا۔ پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں کی سفارش بھی نہ ہوگی۔ کیونکہ سفارش تو اس بات کی ہوگی کہ گناہ گاروں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے جو لوگ سرے سے دوزخ اور جنت کے ہی منکر تھے۔ ان کی سفارش کیا ہوسکتی ہے اب اس قدر نصیحت سے ایسے بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شیر یا شکاری یا شور و غل سے بھاگتے ہیں۔ اس سے اہل مکہ کی ایک سرکشی بیان فرمائی جس کا حاصل سلف کی روایتوں کے موافق یہ ١ ؎ ہے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے تھے کہ ہم میں سی ہر ایک شخص کے نام آسمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آینا چاہئے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول ‘ اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبیٰ کا یقین اور اس یقین کے سبب سے اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے۔ پھر فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن انسان کا کلام اور جادو ہے۔ حقیقت میں ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ جادو کا سیکھ لینا اور انسان کے کلام کے مانند کلام کا بنا لینا ان لوگوں کو ایسا عاجز نہ کردیتا جیسا کہ اب یہ قرآن کے مانند کلام کے بنانے سے عاجز اور لاچار ہیں اس لئے یہ قرآن اللہ کا کلام اور ہر نصیحت پکڑنے والے کے لئے ایک نصیحت ہے لیکن جس کو اللہ چاہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور اللہ کے علم ازلی میں ہر نصیحت کا پکڑنے والا اور نصیحت سے بھاگنے والا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی قرار پا چکا ہے اس واسطے زبردستی سے اللہ کسی کو نصیحت پکڑنے کے راستہ پر لانا نہیں چاہتا۔ پھر فرمایا کہ جن باتوں سے اللہ نے منع کیا ہے ‘ انسان کو ان سے ڈرنا لائق اور سرزا وار ہے اور اس کے بعد اللہ کو ایسے لوگوں کے گناہوں کا بخش دینا لائق اور سزا وار ہے۔ مسند احمد ‘ ترمذی ١ ؎‘ ابن ماجہ وغیرہ میں انس بن مالک کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت ھو اھل التقویٰ و اھل امغفرۃ پڑھ کر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کو سزا وار ہے کہ وہ میری عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے اگر انسان نے ایسا کیا تو پھر وہ اس لائق ہے کہ میں اس کے گناہ بخش دوں۔ اس حدیث کے راویوں میں ایک شخص سہیل بن عبد اللہ کو اگرچہ بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن عبدی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اس باب میں اور صحابہ (رض) سے بھی روایتیں ہیں جس سے ایک روایت کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے۔ خصوصاً معاذ بن جبل کی صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم کی وہ حدیث اس کی پوری تائید کرتی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرما دے جس چیز کے دیکھنے یا سننے سے دل پر خوف پیدا ہو اہل عرب کی زبان میں اس کو ق سورة کہتے ہیں۔ جنگلی گدھے شیر کی صورت دیکھنے اور شور و غل سننے سے دونوں چیزوں سے بھاگتے ہیں ‘ اس واسطے سلف میں سے اکثر علماء نے ق سورة کے معنی یہاں شیر کے لئے ہیں اور کچھ علماء نے شور و غل کے لئے ہیں۔ حقیقت میں دونوں معنی صحیح ہیں کیونکہ حاصل معنی یہ ہیں کہ جس طرح جنگلی گدھے شیر کی صورت دیکھنے یا شور و غل کی آواز سننے سے بھاگتے ہیں ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی صورت دیکھنے سے اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے بھاگتے ہیں۔ ١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة مدثر ص ١٩٠ ج ٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری باب الرد علی الجھمیۃ الخ ص ١٠٩٧ ج ٢۔ (٢ ؎ صحیح بخاری باب من نوقش الحساب عزب ص ٩٦٧ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص ١١٠٧ ج ٢ و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم الخ ص ١٠٣ ج ١۔ ) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٨٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:38) کل نفس بما کسبت رھینۃ : کل نفس مضاف مضاف الیہ سب جانیں۔ تمام اشخاص، ہر کوئی، ہر شخص، بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کسبت اس کا صلہ ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب باب ضرب مصدر۔ اس نے کمایا۔ رھینۃ گروی، یہ رھین کی تانیث نہیں ہے کیونکہ نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ جب فعیل مفعول کے معنی میں ہو تو مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے صفت آتی ہے اگر یہ رھین بمعنی مصدر ہے۔ اس کا مطلب رہن ، گروی ہونا ہے (ضیاء القرآن) ۔ آیت کا مطلب ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلہ میں گروی ہے۔ تفسیر حقانی میں ہے :۔ رھینۃ اسم بمعنی الرھن کا لشییمۃ بمعنی الشتم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌۙ٠٠٣٨﴾ (ہر جان اپنے عمل کی وجہ سے مرہون ہے) جیسے کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز رہن رکھ دیتا ہے پھر اسے چھڑا نہیں سکتا۔ جب تک وہ مال ادا نہ کر دے جس کے عوض چیز رہن رکھی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن ہر شخص کا عمل روکے رکھے گا یعنی حساب کتاب ہوگا اہل کفر اور اہل شرک کا جرم چونکہ سب سے بڑا ہے اس لیے اہل کفر اور اہل شرک اپنے اس جرم کی وجہ سے ہمیشہ ہی محبوس رہیں گے۔ انہیں کوئی عمل کوئی فدیہ کوئی سفارش دوزخ سے نہ چھڑا سکے گی، اب رہے وہ لوگ جو مومن تو تھے لیکن اعمال صالحہ بھی کیے اور برے اعمال کا ارتکاب بھی کرلیا تو یہ لوگ نیکیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ جائیں گے اور بہت سے لوگ شفاعتوں سے اور بہت سے لوگ حقوق العباد ادا کر کے اور بہت سے لوگ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و مغفرت کی وجہ سے چھوٹ جائیں گے جن کی نیکیوں کے اعمال نامے بھاری ہوں گے وہ لوگ نجات پائیں گے اور جن لوگوں پر دوسرے لوگوں کے حقوق تھے وہ حقوق کی وجہ سے ماخوذ ہوں گے ان کی نیکیاں اصحاب حقوق کو دے دی جائیں گی اگر حقوق ادا کرنے سے پہلے نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان پر اصحاب حقوق کے گناہ ڈال دیئے جائیں گے پھر دوزخ میں داخل دیا جائے گا۔ (رواہ مسلم کما حدیث القصاص فی المشکوٰۃ صفحہ ٤٣٥) حضرت عبداللہ بن انیس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا جو ننگے بےختنہ اور بالکل خالی ہاتھ ہوں گے پھر ایسی آواز سے ندا دیں گے جسے دور والے ایسے ہی سنیں گے جیسے قریب والے سنیں گے اور اس وقت یہ فرمائیں گے کہ میں بدلہ دینے والا ہوں، میں بادشاہ ہوں (آج) کسی دوزخی کے حق میں یہ نہ ہوگا کہ دوزخ میں چلا جائے اور کسی جنتی پر اس کا ذرا بھی کوئی حق ہو اور یہ بھی نہ ہوگا کہ کوئی جنتی جنت میں چلا جائے اور کسی دوزخی کا اس پر کوئی حق ہو جب تک کہ میں صاحب حق کو بدلہ نہ دوں حتیٰ کہ ایک چپت بھی ظلماً مار دیا تھا تو اس کا بدلہ بھی دلا دوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدلہ کیسے دلایا جائے گا ؟ حالانکہ ہم ننگے بےختنہ اور بالکل خالی ہاتھ ہوں گے، جواباً سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نیکیوں اور برائیوں سے لین دین ہوگا۔ (قال فی الترغیب صفحہ ٤٠٤ : ج ٤ رواہ احمد باسناد حسن) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جس نے اپنے زر خرید غلام کو ظلماً ایک کوڑا بھی مارا تھا قیامت کے روز اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمایا کہ حضور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ (اگر) والدین کا اپنی اولاد پر قرض ہوگا تو جب قیامت کا دن ہوگا وہ اپنی اولاد سے الجھ جائیں گے (کہ ہمارا قرض ادا کرو) وہ جواب دے گا کہ میں تو تمہاری اولاد ہوں (وہ اس کا کچھ اثر نہ لیں گے اور مطالبہ پورا کرنے پر اصرار کرتے رہیں گے، بلکہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش اس پر ہمارا اور بھی قرض ہوتا۔ (الترغیب والترہیب صفحہ ٤٠٥: ج ٤ از طبرانی و اسنادہ ضعیف)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” کل نفس “۔ رھینۃ مصدر ہے رھن کا۔ یہ فعیل بمعنی مفعول نہیں کیونکہ اس کا استعمال مذکر، مونث میں یکساں ہے۔ قیامت کے دن ہر نفس کفر و طغیان کی وجہ سے دوزخ میں رہن اور محبوس ہوگا مگر اصحاب الیمین یعنی وہ لوگ جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے کیونکہ وہ تو جنت میں ہوں گے اور ان کو وہاں ہر قسم کی راحت اور ہر نوع تعیش و تنعم حاصل ہوگی۔ یتساءلون، وہ مشرکین کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے اور مجرموں سے پوچھیں گے کہ کیا چیز تمہیں دوزخ میں لے آئی ہے اور تمہارے وہ کون سے اعمال ہیں جو تمہارے دوزخ میں آنے کا باعث ہوئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے رہن رکھا ہوا ہے یعنی ہر شخص اپنے کئے کاموں میں پھنسا ہوا ہے ہم سورة طور میں تفصیل عرض کرچکے ہیں یعنی ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس ہے جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے اور یہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرضہ ادا کردو اور اپنی چیز لے لو ، یہی حالت اعمال کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے بندہ کو جن چیزوں کا مکلف کیا ہے اگر وہ بجالائے اور ان حقوق کو پورا کردے تو گردن چھٹ جائے اور اگر ان حقوق کو پورا نہیں کیا تو اسی طرح محبوس سمجھو جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے۔ آگے ان مخصوص حضرات کا استثنا ہے جو حقوق اور فرائض کی بجاآوری کے باعث سبکدوش ہوچکے ہیں، چناچہ فرماتے ہیں۔