Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 45

سورة المدثر

وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآئِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

And we used to enter into vain discourse with those who engaged [in it],

اور ہم بحث کرنے والے ( انکاریوں ) کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And we used to speak falsehood with vain speakers. meaning, `we used to speak about what we had no knowledge of.' Qatadah said, "It means that every time someone went astray we would go astray with them." وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یعنی کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَاۗىِٕضِيْنَ۝ ٤٥ ۙ خوض الخَوْضُ : هو الشّروع في الماء والمرور فيه، ويستعار في الأمور، وأكثر ما ورد في القرآن ورد فيما يذمّ الشروع فيه، نحو قوله تعالی: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ : إِنَّما كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ [ التوبة/ 65] ، وقوله : وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خاضُوا[ التوبة/ 69] ، ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ [ الأنعام/ 91] ، وَإِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ [ الأنعام/ 68] ، وتقول : أَخَضْتُ دابّتي في الماء، وتخاوضوا في الحدیث : تفاوضوا . ( خ و ض ) الخوض ( ن ) کے معنی پانی میں اترنے اور اس کے اندر چلے جانے کے ہیں بطور استعارہ کسی کام میں مشغول رہنے پر بولا جاتا ہے قرآن میں اس کا زیادہ تر استعمال فضول کاموں میں لگے رہنا ہر ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ : إِنَّما كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ [ التوبة/ 65] اور اگر تم ان سے ( اس بارے میں ) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم عورتوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے ۔ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خاضُوا[ التوبة/ 69] اور جس طرح وہ باطل میں ٖڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے ۔ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ [ الأنعام/ 91] پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں ۔ وَإِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ [ الأنعام/ 68] اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ ۔ یہاں تک کہ اور باتوں میں مشغول ہوجائیں ۔ کہا جاتا ہے : ۔ میں نے اپنی سواری کو پانی میں ڈال دیا ۔ باہم باتوں میں مشغول ہوگئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥{ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ } ” اور ہم کٹ حجتیاں کرنے والوں کے ساتھ مل کر کٹ حجتیاں کیا کرتے تھے۔ “ ہم تو دنیا میں بس کھیل تماشوں میں ہی لگے رہے۔ حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی کے مقصد اور انجام کے بارے میں تو کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: اس سے مراد کافروں کے وہ سردار ہیں جو اسلام اور قرآن کا مذاق اُڑانے کے لئے محفلیں سجایا کرتے تھے، اور بے ہودہ مذاق سے حق کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن قرآنِ کریم کے الفاظ عام ہیں جو ہر قسم کی بے ہودہ گفتگو اور بے ہودہ مشغلوں کو شامل ہیں، جو آخرت میں اِنسان کے لئے مصیبت کا سبب بنیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” یعنی امان کی باتوں پر انکار کرتے سب کے ساتھ مل کر “ مطب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ پیغمبر اور قرآن و قیامت کا مذاق اڑاتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وکنا ................ الخائضین (74:45) ” اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے “۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدہ کے بارے میں کس قدر بےباک تھے اور وہ اسلامی عقیدے کو محض گپ شپ سمجھتے تھے۔ اور ایمان ان کے لئے طنز و مزاح کا موضوع تھا۔ حالانکہ ایمان اور عقیدہ ایک نہایت ہی سنجیدہ ، خطرناک اور خوفناک نتائج کا حامل معاملہ تھا۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ان کو چاہئے تھا کہ نہایت غوروخوض کے بعد کوئی فیصلہ کرتے۔ زندگی کے تمام معاملات سے قبل اس بارے میں فیصلہ ضروری تھا۔ اس کا تصور ، اس کا شعور ، اس کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے تعین پر تمام حیات کا تعین موقوف ہے۔ لہٰذا اس موضوع پر سنجیدگی اور غوروفکر کے ساتھ فیصلہ نہ کرنا ایک احمقانہ قدم تھا اور ہم سے اس حماقت کا صدور ہوچکا ہے کہ ہم اس قدر اہم معاملے کو گپ شپ سمجھتے رہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور دین حق پر نکتہ چینی کرنے والوں کے ہمراہ ہم بھی نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔