Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 49

سورة المدثر

فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾

Then what is [the matter] with them that they are, from the reminder, turning away

انہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then what is wrong with them that they turn away from admonition? meaning, `what is wrong with these disbelievers who are turning away from what you are calling them to and reminding them of' كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فما لھم عن التذکرۃ…:” مستنفرۃ “ باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی ” نافرۃ “ ہے، جیسے ” عجب “ اور ” استعجب “ اسی طرح ” سخر “ اور ” استخر “ ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ، سخت بدکنے والے۔ ” قسورۃ “” قسر “ سے ہے جس کا معنی غلبہ اورق ہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اسلئے اسے ” ق سورة “ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ” ق سورة “ کہتے ہیں اور لوگوں کے شور و غل کو بھی ” ق سورة “ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھگانے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بےتحاشا بھاگتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur&an, because the word literally signifies a &reminder or something that reminds&. The Qur&an is unique in reminding Allah&s attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the &Reminder& is the Holy Qur&an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur&an has been mentioned in verses 50 and 51 in the following words, فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ |"as if they were wild donkeys, fleeing from a lion?|" The word qaswarah used in verse 51 has two meanings: [ 1] a &lion&; and [ 2] an &archer& or a &hunter&. Both meanings have been reported from the noble Companions.

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْكِرَۃِ مُعْرِضِيْنَ۝ ٤٩ ۙ تَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٩۔ ٥٢) سو ان مکہ والوں کو کیا ہوا کہ یہ قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں کہ شیر سے یا آدمیوں کی جماعت سے بھاگے جارہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دیے جائیں، چناچہ ان لوگوں نے اس کی درخواست کی تھی کہ خاص ہمارے نام نوشے آئیں جس میں ہمارا نام اور توبہ لکھی ہو کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ شان نزول : بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ (الخ) ابن منذر نے سدی سے روایت کیا ہے کہ کفار نے کہا کہ اگر محمد سچے ہیں تو صبح کو ہر ایک شخص کے سر کے نیچے سے لکھا ہوا نکلے جس میں اس کے لیے دوزخ سے برات لکھی ہوئی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:49) فما لہم عن التذکرۃ معرضین : ف بمعنی پھر، ما استفہامیہ ہے پھر ان کو کیا ہوگیا ہے۔ عن التذکرۃ : جار مجرور، التذکرۃ ای القران جار مجرور مل کر متعلق معرضین، معرضین اسم فاعل جمع مذکر منصوب، اعراض (افعال) مصدر سے اعراض کرنے والے۔ رخ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ معرضین نسب علی الحال کقولک مالک قائما : اس کا نصب بوجہ حال ہے جیسا کہ کہتے ہیں ما لک قائما تو کیوں کھڑا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ان کو کیا ہوگیا ہے جو نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے عنقریب وہ لوگ جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں انہیں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (الانعام : ١٢٤) (اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآءِ وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (بنی اسرائیل : ٩٣) ” تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے پر بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب لے آئے جسے ہم پڑھیں آپ فرما دیں کہ میرا رب پاک ہے میں تو ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔ “ گویا کہ ان میں ہر ایک اپنے نام ہدایت کا پروانہ آنے کی خواہش رکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ ان کے دل فکر آخرت سے عاری ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جس کا دل چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے مگر نصیحت اسے نصیب ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ ” اللہ “ ہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرا جائے کیونکہ وہی لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ ان آیات میں منکرین حق کی حق سے دوری اور نفرت کا ذکر کرنے کے بعد یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جو لوگ آخرت کی جوابدہی کا فکر نہیں رکھتے وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ آخرت کی فکر اور ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت پسند کرتا ہے جو اس سے ڈرتا اور ہدایت طلب کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ڈر کے بغیر فکر آخرت نصیب نہیں ہوتی اور جسے فکر آخرت نصیب نہیں وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔ فہم القرآن کے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کو کھول کر بیان کردیا ہے جو شخص ہدایت کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کرے گا اسے ہدایت مل جائے گی جو اس سے لاپرواہی کرے گا اسے گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے لیے اللہ پسند کرتا ہے ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے۔ مسائل ١۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے اعراض کرتے ہیں ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو نصیحت سن کر جنگلی گدھوں کی طرح بھاگ جاتے ہیں۔ ٢۔ اہل مکہ میں کچھ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ان کے پاس براہ راست قرآن آنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول نہیں کہ وہ ہر شخص کے پاس براہ راست اپنا پیغام بھیجے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید نصیحت ہے۔ جس کا دل چاہے اسے قبول کرے اور جس کا دل چاہے اسے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کوئی جبر نہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور لوگوں کے گناہ بخشنے والا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فمالھم ............................ قسورة جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18 ۔ ” فما لہم “ قرآن سے اعراض کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، لیکن پھر بھی اہل مکہ اس سے اعراض کر رہے ہیں وہ قرآن سے اس طرح بدکتے اور بھاگتے ہیں جس طرح حمر و حشیہ (گور خر) شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہی۔ قسورۃ کے معنی شیر کے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ یا قسورۃ، قسور کی جمع ہے بمعنی تیز انداز یہ قول حضرت ابو موسیٰ اشعری، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابو ظبیان نیز ابن عباس (رض) سے منقول ہے (قرطبی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(49) پھر ان دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس سراسر نصیحت یعنی قرآن سے اس طرح منہ موڑتے اور منہ پھیرتے اور روگردانی کرتے ہیں۔