Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 21

سورة الدھر

عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾

Upon the inhabitants will be green garments of fine silk and brocade. And they will be adorned with bracelets of silver, and their Lord will give them a purifying drink.

ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ... Their garments will be of fine green silk, and Istabraq. meaning, among the garments of the people of Paradise is silk and Sundus, which is a high quality silk. These garments will be shirts and similar clothing from the undergarments. Concerning Istabraq (velvet), from it there is that which has a glitter and shimmer to it, and it is that which is worn as outer clothes, just as is well-known in clothing. ... وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ ... They will be adorned with bracelets of silver, This is a description of the righteous. In reference to those who will be near to Allah, then their description is as Allah says, يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُوْلُواً وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ Wherein they will be adorned with bracelets of gold and pearls and their garments therein will be of silk. (22:23) After Allah mentions the outward beautification with silk and ornaments, He then says, ... وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا and their Lord will give them a purifying drink. meaning, it will purify their insides of envy, despise, hatred, harm and the other reprehensible character traits. This is just as we have recorded from the Commander of the believers, `Ali bin Abi Talib, that he said, "When the people of Paradise come to the Gate of Paradise, they will find two springs there. Then it will be as if they were inspired with what to do, so they will drink from one of them and Allah will remove whatever harmfulness there may be within them. Then they will bathe in the other spring and a glow of delight will run all over them. Thus, Allah informs of their outward condition and their inner beauty." Allah then says, إِنَّ هَذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاء وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] سورة کہف کی آیت نمبر ٣١ میں مذکور ہے کہ اہل جنت کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور یہاں چاندی کے کنگنوں کا ذکر ہے۔ اور یہ بات اہل جنت کی مرضی پر منحصر ہوگی کہ جیسے کنگن وہ پہننا چاہیں انہیں پہنائے جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں قسم کے پہنائے جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی سونے کے پہنائے جائیں اور کبھی چاندی کے۔ یا مردوں کو چاندی کے پہنائے جائیں اور عورتوں کو سونے کے۔ [٢٥] یہ کافور اور زنجبیل کے امتزاج والے مشروبات کے علاوہ ایک تیسرے مشروب کا ذکر ہے۔ جسے شراباً طہوراً کا نام دیا گیا ہے۔ طہور سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو خود بھی صاف ستھری ہو اور دوسری چیزوں کو بھی صاف ستھرا کرنے والی ہو۔ یعنی وہ مشروب ایک تو بذات خود انتہائی صاف شفاف ہوگا۔ دوسرے اہل جنت کے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی رنجش اور کدورتیں دور کر دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) علیھن ثیاب سندس خضرو استبرق …:” سندس “ باریک ریشم ۔ ” استبرق “ گاڑھا ریشم۔ ” خلوا “ ” حلیۃ “ سے ” فعلوا “ کے وزن پر ہے، اصل میں ” حلیوا “ تھا، زیور پہنائے جائیں گے۔” اساور “ ” سوار “ کی جمع ہے، کنگن۔ ” شراباً “ مشروب، پینے کی چیز، ” طھوراً “ جو پاک ہو اور پاک کرنے والی ہو، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا من السمآء مآء طھوراً ) (الفرقان : ٣٨)” اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔ “ (٢)” علیھم “ (ان کے اوپر) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ جن نشستوں پر جن نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ان کے اوپر باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ جب پردے اتنی قیمتی ہوں گے تو ان کے لباس کا کیا کہنا۔ دوسرا یہ انہوں نے باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کا لباس پہن رکھا ہوگا، جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا :(ویلبسون ثیاباً خصراً من سندس و استبرق) (الکھف : ٣١)” اور وہ باریک اور گاڑھے سبز ریشم کے پکڑے پہنیں گے۔ ‘ یہ معنی زیادہ درست ہے، کیونکہ سورة کہف کی آیت سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ انس بن مالک، مجاہد اور قتادہ کی قرأت میں ” علیھم “ ہے۔ (دیکھیے زاد المسیر لابن الجوزی) اس قرأت سے بھی دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے، اگرچہ پہلا معنی بھی غلط نہیں۔ (٢) سورة کہف میں فرمایا :(یحلون فیھا من اساور من ذھب) (الکھف : ٣١)” ان میں انہیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے۔ “ جبکہ یہاں چاندی کے کنگن پہنائے جانے کا ذکر ہے، دونوں میں تطبیق کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں کئی جنتیں ہیں، جیسا کہ سورة رحمان میں الگ الگ دو دو جنتوں کا ذکر ہے اور جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنتان من فضۃ آنیتھما و ما فیھما و جنتان من ذٓھب آنیتھما وما فیھما) (بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : وجود یومئد ناظرۃ): ٨٣٣٣)”’ و باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے سونے کا ہے۔ “ اب جنتی کی مرضی ہے کہ سونے کے کنگن پہنے یا چاندی کے یا دونوں پہن لے اور بعض اہل علم نے فرمایا کہ شاید اہل جنت کے درجات کے لحاظ سے سونے کے کنگن مقربین کے لئے اور چاندی کے اصحاب الیمین کے لئے ہوں گے۔ (التسہیل) مگر یہ بات جزم سے نہیں کہی جاسکتی، اس لئے پہلی بات ہی زیادہ درست ہے۔ (٤) یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کنگن وغیرہ عام طور پر عورتیں پہنتی ہیں، جنت میں مردوں کو کنگن پہنانے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب یہ ہے کہ ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگنوں سے مراد اہل جنت کی شاہانہ شان و شوکت بیان کرنا ہے۔ دنیا میں قدیم زمانے سے بادشاہ سونے چاندی کے کنگن پہنتے رہے ہیں، جیسا کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر طعن کیا تھا :(فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب) (الزخرف : ٥٣)” اسے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے ؟ “ (٥) و سقھم ربھم شراباً طھوراً : آیت کے اس ٹکڑے میں جنتیوں کے لئے کئی بشارتیں ہیں، ایک یہ کہ انہیں ان کا رب خود شراب طہور پلائے گا۔ اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہوسکتی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ مشروب دنیا کے تمام سرور آمد مشروبات کی ظاہری و باطنی نجاستوں سے اور ہر قسم کی خرابیوں سے پاک ہوگا، نہ اس میں نشہ ہوگا نہ درد سر، نہ متلی نہ قے، نہ اعضا شکنی ، نہ زوال عقل، وہ سرا سر لذت و سرور ہوگا۔ تیسری یہ کہ ” طھوراً “ کے لفظ طے شہر ہو رہا ہے کہ اس کے پینے سے اہل جنت کے دل پاک ہوجائیں گے اور ان سے حسد، بغض اور تمام کدورتیں دور ہوجائیں گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ (...And they will be adorned by bracelets of silver...76:21). The asawir is the plural of siwar that refers to a &bracelet&. It is a piece of jewellery worn around the wrist. This verse speaks of&silver bracelets&. On another occasion [ 22:23], the Qur&an speaks of asawira min dhahab &gold bracelets&. There is no discrepancy between the two verses, because sometimes the silver bracelets will be worn, and at other times the gold bracelets, or some will wear gold bracelets and others will wear silver bracelets. However, a question arises in any case: A bracelet looks good on women, but does not suit men. Why will the men of Paradise wear bracelets? The Answer is that suitability of any piece of jewellery to men or women depends on custom. The style and appeal of jewellery differ from country to country and vary from nation to nation. In some cultures, a piece of jewellery is treated as highly inappropriate for men, and in other cultures it is regarded as highly beautiful and elegant. The Chosros [ Persian kings ] used to wear bracelets around their wrists, and various kinds of jewellery used to be studded on their chest and crown. This was counted as a distinctive feature of their prestige and honour. After the conquest of Persian empire, the treasures that fell into Muslims& hands contained the Persian Emperor&s bracelets. Thus the various cultures and nations differ in their taste for jewellery in this very world. The flair and taste for jewellery for men in Paradise cannot be equated with their flair for it in this world.

وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ، اساور، سوار کی جمع ہے کنگن کو کہا جاتا جو ہاتھوں میں پہننے کا زیور ہی اس آیت میں چندی کے کنگن کا ذکر ہے اور ایک دوسری آیت میں اساور رمن ذھب آیا ہے یعنی کنگن سونے کے، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت چاندی کے کسی وقت سونے کے کنگن استعمال کئے جاویں یا بعض کے کنگن سونے کے ہوں بعض کے چاندی کے، مگر ایک سوال اس جگہ بہرحال ہے کہ چاندی کے کنگن ہوں یا سونے کے بہرحال یہ زیور ہیں جو عورتوں کے استعمال کے لئے ہوتے ہیں۔ مردوں کے لئے ایسے زیور پہننا عیب سمجھا جاتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا عورتوں یا مردونکے لئے مخصوص ہونا اور ان کے لئے مستحسن یا عیب ہونا یہ چیز عرف و عادت کے تابع ہوتی ہے بعض ملکوں یا قوموں میں ایک چیز بڑی عیب اور بری سمجھی جاتی ہے دوسری قوموں میں وہ بڑا حسن سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں ملوک کسریٰ ہاتھوں میں کنگن اور سینے اور تاج میں زیورات اسعتمال کرتے تھے اور یہ ان کا خاص امتیاز و اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ ملک کسریٰ فتح ہونے کے بعد جو خزائن کسریٰ مسلمانوں کو ہاتھ آئے ان میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے۔ جب دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں کے معمولی جغرافیائی اور قومی تفاوت سے یہ معاملہ مختلف ہوسکتا ہے تو جنت کو دنیا پر قیاس کرنے کے کوئی معنے نہیں ہوسکتا ہے کہ وہاں زیور مردوں کے لئے بھی مستحسن سمجھا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عٰلِيَہُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْـتَبْرَقٌ۝ ٠ ۡوَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ۝ ٠ ۚ وَسَقٰىہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا۝ ٢١ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ سُندس استبرق والسّندس : الرّقيق من الدّيباج، والإستبرق : الغلیظ منه . السدوس : طیسان کو کہتے ہیں السندس باریک اور اس کے مقابل استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں خضر قال تعالی: فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً [ الحج/ 63] ، وَيَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً مِنْ سُنْدُسٍ [ الكهف/ 31] ، فَخُضْرٌ جمع أخضر، والخُضْرَة : أحد الألوان بين البیاض والسّواد، وهو إلى السّواد أقرب، ولهذا سمّي الأسود أخضر، والأخضر أسود قال الشاعر : قد أعسف النازح المجهول معسفه ... في ظلّ أخضر يدعو هامه البوم«2» وقیل : سواد العراق للموضع الذي يكثر فيه الخضرة، وسمّيت الخضرة بالدّهمة في قوله سبحانه : مُدْهامَّتانِ [ الرحمن/ 64] ، أي : خضراوان، وقوله عليه السلام : «إيّاكم وخَضْرَاء الدّمن» «3» فقد فسّره عليه السلام حيث قال :«المرأة الحسناء في منبت السّوء» ، والمخاضرة : المبایعة علی الخَضْرِ والثمار قبل بلوغها، والخضیرة : نخلة ينتثر بسرها أخضر . ( خ ض ر ) قرآن میں ہے : فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً [ الحج/ 63] تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے۔ وَيَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً مِنْ سُنْدُسٍ [ الكهف/ 31] سبز رنگ کے کپڑے ۔ خضرا کا واحد اخضر ہے اور الخضرۃ ایک قسم کا دنگ ہوتا ہے جو سفیدی اور سیاہی کے بین بین ہوتا ہے مگر سیاہی غالب ہوتی ہے یہی وجہ ہے ک اسور ( سیاہ ) اور اخضر ( سبز) کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( البسیط) (136) قد اعسف النازح المجھود مسفۃ فی ظل اخضر یدعوھا مہ الیوم میں تاریک اور بھیانک راتوں میں دور دراز راستوں میں سفر کرتا ہوں جو بےنشان ہوتے ہیں ۔ اور سبزی اور شادابی کی وجہ سے عراق کے ایک حصہ کو سواد العراق کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ مُدْهامَّتانِ [ الرحمن/ 64] کے معنی سر سبز کے ہیں اور خضرۃ کی جگہ دھمۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی سیاہی کے ہیں ۔ حدیث میں ہے :۔ (114) ایاکم وخضواء الدمن تم کوڑی کی سر سبزی سے بچو۔ اور خضراء الدمن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا المرآۃ الحسنۃ فی منبت السوء یعنی خوبصورت عورت جو بدطنت ہو ۔ المخاضرۃ سبزیوں اور کچے پھلوں کی بیع کرنا ۔ الخضیرۃ کھجور کا درخت جس کی سبزا در نیم پختہ کھجوریں جھڑجائیں حلی الحُلِيّ جمع الحَلْي، نحو : ثدي وثديّ ، قال تعالی: مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ الأعراف/ 148] ، يقال : حَلِيَ يَحْلَى قال اللہ تعالی: يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ [ الكهف/ 31] ، ( ح ل ی ) الحلی ( زیورات ) یہ حلی کی جمع ہے جیسے ثدی کی جمع ثدی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ الأعراف/ 148] اپنے زیور کا ایک بچھڑا ( بنالیا ) وہ ایک جسم ( تھا ) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی حلی یحلٰی آراستہ ہونا اور حلی آراستہ کرنا ) قرآن میں ہے ۔ يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ [ الكهف/ 31] ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ وَحُلُّوا أَساوِرَ مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 21] اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ اور حلیتہ کے معنی زیور کے ہیں ۔ سور السَّوْرُ : وثوب مع علوّ ، ويستعمل في الغضب، وفي الشراب، يقال : سَوْرَةُ الغضب، وسَوْرَةُ الشراب، وسِرْتُ إليك، وسَاوَرَنِي فلان، وفلان سَوَّارٌ: وثّاب . والْإِسْوَارُ من أساورة الفرس أكثر ما يستعمل في الرّماة، ويقال : هو فارسيّ معرّب . وسِوَارُ المرأة معرّب، وأصله دستوار وكيفما کان فقد استعملته العرب، واشتقّ منه : سَوَّرْتُ الجارية، وجارية مُسَوَّرَةٌ ومخلخلة، قال : فَلَوْلا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ [ الزخرف/ 53] ، وَحُلُّوا أَساوِرَ مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 21] ، واستعمال الْأَسْوِرَةِ في الذهب، وتخصیصها بقوله : «ألقي» ، واستعمال أَسَاوِرَ في الفضّة وتخصیصه بقوله : حُلُّوا «4» فائدة ذلک تختصّ بغیر هذا الکتاب . والسُّورَةُ : المنزلة الرفیعة، قال الشاعر : ألم تر أنّ اللہ أعطاک سُورَةً ... تری كلّ ملک دونها يتذبذب«1» وسُورُ المدینة : حائطها المشتمل عليها، وسُورَةُ القرآن تشبيها بها لکونه محاطا بها إحاطة السّور بالمدینة، أو لکونها منزلة کمنازل القمر، ومن قال : سؤرة «2» فمن أسأرت، أي : أبقیت منها بقيّة، كأنها قطعة مفردة من جملة القرآن وقوله : سُورَةٌ أَنْزَلْناها [ النور/ 1] ، أي : جملة من الأحكام والحکم، وقیل : أسأرت في القدح، أي : أبقیت فيه سؤرا، أي : بقيّة، قال الشاعر : لا بالحصور ولا فيها بِسَآرٍ «3» ويروی ( بِسَوَّارٍ ) ، من السَّوْرَةِ ، أي : الغضب . ( س و ر ) السور اس کے اصل معنی بلندی پر کودنے کے ہیں اور غصہ یا شراب کی شدت پر بھی سورة کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ سورة الغضب اور سورة الشراب ( شراب کی تیزی سورت الیک کے معنی ہیں میں تیری طرف چلا اور س اور نی فلان کے معنی ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے ہیں ۔ اور سورة بمعنی وثاب یعنی عربدہ گر کے ہیں اور الاسوات اسا ورۃ الفرس کا مفرد ہے جس کے معنی تیرا انداذ کے ہیں گیا ہے کہ یہ فارسی سے معرب ہے ۔ سوراۃ المرءۃ ( عورت کا بازو بند ) یہ بھی معرب ہے اور اصل میں دستور ہے ۔ بہر حال اس کی اصل جو بھی ہو اہل عرب اسے استعمال کرتے ہیں اور اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سورات المرءۃ میں نے عورت کو کنگن پہنائے اور جاریۃ مسورۃ ومخلقۃ اس لڑکی کو کہتے ہیں جس نے بازو بند اور پازیب پہن رکھی ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ [ الزخرف/ 53] سونے کے کنگن ۔۔۔۔۔ چاندی کے کنگن ۔۔۔۔۔ اور قرآن میں سونے کے ساتھ اسورۃ جمع لاکر پھر خاص کر القی کا صیغہ استعمال کرنا اور فضۃ سے قبل اساور کا لفظ لاکر اس کے متعلق حلوا کا صیغہ استعمال کرنے میں ایک خاص نکتہ ملحوظ ہے کس جس کی تفصیل دوسری کتاب میں بیان ہوگی ۔ السورۃ کے معنی بلند مرتبہ کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( الطویل ) ( 244 ) الم تر ان اللہ اعطا ک سورة تریٰ کل ملک دونھا یتذ بذب بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا مرتبہ بخشا ہے جس کے ورے ہر بادشاہ متذبذب نظر آتا ہے ۔ اور سورة المدینۃ کے معنی شہر پناہ کے ہیں اور سورة القرآن ( قرآن کی سورت ) یا تو سور المدینۃ سے ماخوذ ہے کیونکہ سورة بھی شہر پناہ کی طرح قرآن کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اس لئے انہیں سورة القرآن کہا جاتا ہے اور یا سورة بمعنی مرتبہ سے مشتق ہے ، اور سورة بھی مناز ل قمر کی طرح ایک منزلۃ ہے اس لئے اسے سورة کہا جاتا ہے اور یہ دونوں اشتقاق اس وقت ہوسکتے ہیں جب اس میں واؤ کو اص لی مانا جائے لیکن اگر اسے اصل میں سورة مہموز مانا جائے تو یہ اسارت سے مشتق ہوگا جس کے معنی کچھ باقی چھوڑ دینے کے ہیں اور سورة بھی چونکہ قرآن ن کا ایک ٹکڑا اور حصہ ہوتی ہے ۔ اس لئے اسے سورة کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ سُورَةٌ أَنْزَلْناها[ النور/ 1] یہ ایک ) سورة ہے جسے ہم نے نازل کیا میں سورة سے مراد احکام وحکم ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اسارت فی القدح سے مشتق ہے جس کے معنی پیالہ میں کچھ باقی چھوڑ نے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( البسیط ) ( 245 ) لا بالحصور ولا فیھا بسآ ر نہ تنگ دل اور بخیل ہے اور نہ عربدہ گر ۔ ایک روایت میں ولا بوار ہے ۔ جو شورۃ بمعنی شدت غضب سے مشتق ہے ۔ فض الفَضُّ : کسر الشیء والتّفریق بين بعضه وبعضه، كفَضِّ ختم الکتاب، وعنه استعیر : انْفَضَّ القومُ. قال اللہ تعالی: وَإِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها [ الجمعة/ 11] ، لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ [ آل عمران/ 159] ، والفِضَّةُ اختصّت بأدون المتعامل بها من الجواهر، ودرع فَضْفَاضَةٌ ، وفَضْفَاضٌ: واسعة . ( ف ض ض ) الفض کے معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں جیسے فض ختم الکتاب : خط کی مہر کو توڑ نا اسی سے انقض القوم کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی متفرق اور منتشر ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں : ۔ وَإِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها[ الجمعة/ 11] اور جب یہ لوگ سودابکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں ۔ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ [ آل عمران/ 159] تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھٹرے ہوتے ۔ والفِضَّةُچاندی یعنی وہ ادنی جو ہر جس کے ذریعہ لین دین کیا جاتا ہے ۔ درع فضفا ضۃ وفضفا ض فراخ زرہ ۔ سقی السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ : أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ( س ق ی ) السقی والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے ہیں تاکہ حسب منشا لے کر پی لے لہذا اسقاء ینسبت سقی کے زیادہ طبغ ہے کیونکہ اسقاء میں مایسقی منھ کے پیش کردینے کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ پینے والا جس قد ر چاہے اس سے نوش فرمانے مثلا اسقیتہ نھرا کے معنی یہ ہوں ۔ گے کر میں نے اسے پانی کی نہر پر لے جاکر کھڑا کردیا چناچہ قرآن میں سقی کے متعلق فرمایا : ۔ وسقاھم وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ۔ وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائیگا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال في صفة أهل النّار : لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ، وجمع الشَّرَابُ أَشْرِبَةٌ ، يقال : شَرِبْتُهُ شَرْباً وشُرْباً. قال عزّ وجلّ : فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي - إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ« وقال : فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] ، والشِّرْبُ : النّصيب منه قال تعالی: هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] ، وقال : كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] . والْمَشْرَبُ المصدر، واسم زمان الشّرب، ومکانه . قال تعالی: قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . والشَّرِيبُ : الْمُشَارِبُ والشَّرَابُ ، وسمّي الشّعر الذي علی الشّفة العلیا، والعرق الذي في باطن الحلق شاربا، وجمعه : شَوَارِبُ ، لتصوّرهما بصورة الشّاربین، قال الهذليّ في صفة عير : صخب الشّوارب لا يزال كأن وقوله تعالی: وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] ، قيل : هو من قولهم : أَشْرَبْتُ البعیر أي : شددت حبلا في عنقه، قال الشاعر : فأشربتها الأقران حتی وقصتها ... بقرح وقد ألقین کلّ جنین فكأنّما شدّ في قلوبهم العجل لشغفهم، وقال بعضهم : معناه : أُشْرِبَ في قلوبهم حبّ العجل، وذلک أنّ من عادتهم إذا أرادوا العبارة عن مخامرة حبّ ، أو بغض، استعاروا له اسم الشّراب، إذ هو أبلغ إنجاع في البدن ولذلک قال الشاعر : تغلغل حيث لم يبلغ شَرَابٌ ... ولا حزن ولم يبلغ سرورولو قيل : حبّ العجل لم يكن له المبالغة، [ فإنّ في ذکر العجل تنبيها أنّ لفرط شغفهم به صارت صورة العجل في قلوبهم لا تنمحي ] وفي مثل : أَشْرَبْتَنِي ما لم أشرب أي : ادّعيت عليّ ما لم أفعل . ( ش ر ب ) الشراب کے معنی پانی یا کسی اور مائع چیز کو نوش کرنے کے ہیں ۔ قرآن نے ہی جنت کے متعلق فرمایا : ۔ وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائیگا ۔ اور اہل دوزخ کے متعلق فرمایا : ۔ لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ۔ شراب کی جمع اشربۃ ہے اور شربتہ شربا وشربا کے معنی پینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي۔ إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ«4» جو شخص اس میں سے پانی پے لے گا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔ چناچہ انہوں نے اس سے پی لیا ۔ نیز فرمایا : ۔ فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] اور پیو گے بھی تو ایسے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔ الشراب پانی کا حصہ پینے کی باری ۔ قرآن میں ہے هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] یہ اونٹنی ہے ( ایک دن ) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین تمہاری باری كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہیئے ۔ المشرب مصدر ) پانی پینا ( ظرف زمان یا مکان ) پانی پینے کی جگہ یا زمانہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرکے پانی پی لیا ۔ الشراب تم پیالہ یا شراب کو کہتے ہیں اور مونچھ کے بالوں اور حلق کی اندرونی رگ کو شارب کہا جاتا ہے گویا ان کو پینے والا تصور کیا گیا ہے اس کی جمع شوارب آتی ہے ۔ ھزلی نے گورخر کے متعلق کہا ہے ( الکامل ) ( 257 ) صخب الشوارب لا یزال کانہ اس کی مونچھیں سخت گویا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] اور ان ( کے کفر کے سبب ) بچھڑا ( گویا ) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ اشربت البعیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے گلے میں رسی باندھنے کے ہیں شاعر نے کہا ہے ( 258 ) واشرب تھا الاقران حتیٰ وقص تھا بقرح وقد القین کل جنین میں نے انہیں باہم باندھ لیا حتیٰ کہ قرح ( منڈی ) میں لا ڈالا اس حال میں کہ انہوں نے حمل گرا دیئے تھے ۔ تو آیت کے معنی یہ ہیں کہ گویا بچھڑا ان کے دلوں پر باندھ دیا گیا ہے ۔ اور بعض نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں پلادی گئی ہے کیونکہ عربی محاورہ میں جب کسی کی محبت یا بغض دل کے اندر سرایت کر جائے تو اس کے لئے لفظ شراب کو بطور استعارہ بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ بدن میں نہایت تیزی سے سرایت کرتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الوافر ) ( 259 ) تغلغل حیث لم یبلغ شرابہ ولا حزن ولم یبلغ سرور اس کی محبت وہاں تک پہنچ گئی جہاں کہ نہ شراب اور نہ ہی حزن و سرور پہنچ سکتا ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں اس قدر زیادہ نہیں تھی تو ہم کہیں گے کیوں نہیں ؟ عجل کا لفظ بول کر ان کی فرط محبت پر تنبیہ کی ہے کہ بچھڑے کی صورت ان کے دلوں میں اس طرح نقش ہوگئی تھی کہ محو نہیں ہوسکتی تھی مثل مشہور ہے ۔ اشربتنی ما لم اشرب یعنی تونے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ۔ طهر والطَّهَارَةُ ضربان : طَهَارَةُ جسمٍ ، وطَهَارَةُ نفسٍ ، وحمل عليهما عامّة الآیات . يقال : طَهَّرْتُهُ فَطَهُرَ ، وتَطَهَّرَ ، وَاطَّهَّرَ فهو طَاهِرٌ ومُتَطَهِّرٌ. قال تعالی: وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] ، أي : استعملوا الماء، أو ما يقوم مقامه، قال : وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] ، ( ط ھ ر ) طھرت طہارت دو قسم پر ہے ۔ طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے کہا جاتا ہے : ۔ طھرتہ فطھروتطھر واطھر فھو طاھر ومتطھر میں نے اسے پاک کیا چناچہ وہ پاک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا[ المائدة/ 6] اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو نہاکر پاک ہوجایا کرو ۔ یعنی یا جو چیز اس کے قائم مقام ہو اس کے ذریعہ طہارت کرلیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ [ البقرة/ 222] اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١۔ ٢٢) اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان پر چاندی کے قباء ہوں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا کہ اس میں میل اور کھوٹ نہ ہوگا یہ جو کچھ مذکور ہوا تمہارا صلہ ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہوئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١{ عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌز } ” ان کے اوپر لباس ہوں گے باریک سبز ریشم کے اور گاڑھے ریشم کے “ { وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍج } ” اور انہیں کنگن پہنائے جائیں گے چاندی کے۔ “ { وَسَقٰٹہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا ۔ } ” اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ مشروب۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 This same theme has been expressed in Surah Al-Kahf: 31, thus: "They (the dwellers of Paradise) will wear coloured robes of silk and rich brocade and will be reclining upon raised thrones. ° On this basis, the opinion of the commentators who have expressed the view that this implies the sheets of cloth which will be hanging over their thrones or bedsteads or that this would be the dress of the boys who would be moving about serving them dces not seem to be correct. >24 In Surah Al-Kahf: 31, it has been said: "They will be adorned with bracelets of gold. This same theme has also occurred in Al-Hajj: 23 and Fatir 33 above. When all these verses are read together, three possibilities become obvious, (1) That sometimes they would 1 ike to wear bracelets of gold and sometimes bracelets of silver, both kinds of the ornaments being available for use as and when required; (2) that they will wear bracelets of both gold and silver at the same time, for the combination of the two enhances the personal charms of the wearer; (3) that whosoever desires will wear bracelets of gold and whosoever desires will wear bracelets of silver. As for the question, why will the men be adorned with the ornaments when these are usually worn by the women? The answer is that in the ancient times the custom was that the kings and their nobles used to adorn their hands and necks and the crowns of their heads with different kinds of ornaments. In Surah Az-Zukhruf it has been said that when the Prophet Moses arrived in the Pharaoh's court in his simple dress, with only a staff in hand, and told him that he was a Messenger sent by Allah, Lord of the worlds, the Pharaoh said to his courtiers: "What kind of a messenger is he, who has appeared before me in this state? If he was sent by the King of the universe, why were not bracelets of gold sent down on him, or a company of angels as attendants?" (v. 53) . 25 Two kinds of the wine have been mentioned above, first that to which water will be added from the fountain of camphor; second that to which water will be added from the fountain of ginger, After these, making mention of another wine, with the' remark that their Lord shall give them a pure wine to drink, gives the meaning that this will be some superior kind of wine, which they will be given to drink as a special favour from Allah.

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :23 یہی مضمون سورہ کہف آیت 31 میں گزر چکا ہے کہ ویلبسون ثیابا خضرا من سندس و استبرق متکئین فیھا علی الارائک ۔ وہ ( اہل جنت ) باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے ، اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے ۔ اس بنا پر ان مفسرین کی رائے صحیح نہیں معلوم ہوتی جنہوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو ان کی مسندوں یا مسہریوں کے اوپر لٹکے ہوئے ہوں گے ، یا یہ ان لڑکوں کا لباس ہو گا جو ان کی خدمت میں دوڑے پھر رہے ہوں گے ۔ سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :24 سورہ کہف آیت 31 میں فرمایا گیا ہے یحلون فیھا من اساور من ذھب وہ وہاں سونے کے گنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے ۔ یہی مضمون سورہ حج آیت 23 ، اور سورہ فاطر آیت 33 میں بھی ارشاد ہوا ہے ۔ ان سب آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تین صورتیں ممکن محسوس ہوتی ہیں ۔ ایک یہ کہ کبھی وہ چاہیں گے تو سونے کے کنگن پہنیں گے اور کبھی چاہیں گے تو چاندی کے کنگن پہن لیں گے ۔ دونوں چیزیں ان کے حسب خواہش موجود ہوں گی ۔ دوسرے یہ کہ سونے اور چاندی کے کنگن وہ بیک وقت پہنیں گے ، کیونکہ دونوں کو ملا دینے سے حسن دو بالا ہو جاتا ہے ۔ تیسرے یہ کہ جس کا جی چاہیے گا سونے کے کنگن پہنے گا اور جو چاہے گا چاندی کے کنگن استعمال کرے گا ۔ رہا یہ سوال کہ زیور تو عورتیں پہنتی ہیں ، مردوں کو زیور پہنانے کا کیا موقع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں بادشاہوں اور رئیسوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہاتھوں اور گلے اور سر کے تاجوں میں طرح طرح کے زیورات استعمال کرتے تھے ، بلکہ ہمارے زمانے میں برطانوی ہند کے راجاؤں اور نوابوں تک میں یہ دستور رائج رہا ہے ۔ سورہ زخرف میں بیان ہوا ہے کہ حضرت موسی جب اپنے سادہ لباس میں بس ایک لاٹھی لیے ہوئے فرعون کے دربار میں پہنچے اور اس سے کہا کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ یہ اچھا سفیر ہے جو اس حالت میں میرے سامنے آیا ہے ، فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ۔ ( آیت 53 ) ۔ یعنی اگر یہ زمین و آسمان کے بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوتا تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا ملائکہ کا کوئی لشکر اس کی اردلی میں آتا ۔ سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :25 پہلے دو شرابوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ایک وہ جس میں آب چشمئہ کافور کی آمیزش ہو گی ۔ دوسری وہ جس میں آب چشمئہ زنجیل کی آمیزش ہو گی ۔ ان دونوں شرابوں کے بعد اب پھر ایک شراب کا ذکر کرنا اور یہ فرمانا کہ ان کا رب انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ کوئی اور بہترین نوعیت کی شراب ہو گی جو اللہ تعالی کی طرف سے فضل خاص کے طور پر انہیں پلائی جائے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:21) علیہم ثیاب سندس خضر واستیرق : علیہم ان کے اوپر کی پوشاک ۔ جو چیز اوپر ہے اور بالا ہو وہ عالی ہے۔ اوپر کی پوشاک میں بھی چونکہ یہ بات موجود ہے اس لئے وہ بھی عالی ہے اور یہاں اس لفظ سے یہی معنی مراد ہیں۔ عالی مضاف (بمعنی فوق) ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب مضاف الیہ۔ عالی منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ ای فوق) ہم کی ضمیر کا مرجع اہل جنت ہیں نہ کہ ان لڑکوں کے لئے ہے جو اہل جنت کی خدمت کے لئے دوڑے پھر رہے ہوں گے (تفہیم القرآن جلد ششم فٹ نوٹ نمبر 33 زیر آیت 21 ۔ سورة الدھر) ثیاب ثوب کی جمع ہے کپڑے۔ لباس سندس۔ باریک۔ ریشم ، باریک دیبا۔ خضر سبز، ہرے۔ اخضر، خضراء کی جمع (افعل فعلاء فضل کے وزن پر) استبرق ریشم کا زریں موٹا کپڑا۔ دیبا۔ ثیاب خضر مبتداء ۔ مؤخر۔ علیہم خبر مقدم ہے۔ ثیاب سندس مضاف مضاف الیہ۔ خضر صفت ہے ثیاب کی، واؤ عاطفہ، سندس مبتدا۔ مؤخر (علیہم خیر مقدم) ۔ ترجمہ ہوگا :۔ ان (اہل جنت) کے اوپر لباس ہوگا سبز باریک ریشم کا۔ اور ریشم کے زرین موٹے کپڑے کا وحلوا اساور من فضۃ۔ واؤ عاطفہ۔ حلوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب تحلیۃ (تفعیل) مصدر ۔ بمعنی زیور پہنانا۔ ان کو زیور پہنایا گیا۔ ان کو آراستہ کیا گیا۔ حلی زیور۔ (واحد) حلی، جمع۔ جیسے ثدی کی جمع ثدی ہے۔ (بمعنی پستان) ۔ حلوا ماضی بمعنی مستقبل ہے ان کو پہنائے جائیں گے۔ وہ پہنائے جائیں گے۔ اساور ۔ سوار کی جمع ، کنگن، پہنچیاں ، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔ من فضۃ میں من بیانیہ ہے۔ چاندی کی بنی ہوئی ۔ چاندی کی۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ آیت 1831 میں ہے یحلون فیہا من اساور من ذھب (ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے) ۔ صاحب تفہیم القرآن اس فرق کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :۔ سورة الکہف 31 میں فرمایا گیا ہے ویحلون فیہا من اساور من ذھب۔ اور یہی مضمون سورة الحج 22 آیت 23 اور سورة فاطر 3533) میں بھی ارشاد ہوا ہے ان سب آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تین صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ کبھی وہ چاہیں گے تو سونے کے کنگن پہنیں گے۔ اور کبھی چاہیں گے تو چاندی کے کنگن پہنچیں گے دونوں چیزیں ان کے حسب خواہش موجود ہوں گی۔ دوسرے یہ کہ سونے اور چاندی کے کنگن وہ بیک وقت پہنیں گے کیونکہ دونوں کو ملا دینے سے حسن دو بالا ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جس کا جی چاہے گا سونے کے کنگن پہنے گا اور جو چاہے گا چاندی کے کنگن استعمال کرے گا۔ (تفہیم القرآن جلد ششم سورة الدھر فٹ نوٹ نمبر 24) وسقھم ربھم شرا باطھررا۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے سقی ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب سقی (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی پلانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع اہل جنت ہے۔ ربھم مضاف مضاف الیہ ۔ شرابا طھورا موصوف صفت منصوب بوجہ مفعول فعل سقی۔ اور ان کا پروردگار ان کو شرابا طھورا پلائے گا۔ شرابا طھورا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ ان اقوال سے بہتر وہ قول ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہاں شراب کی ایک اور خاص قسم مراد ہے جو دونوں مذکورہ اقسام (متصف بہ مزاج کا غور و متصف بہ مزاج زنجیل) سے اعلیٰ ہے اسی کو شراب طہور فرمایا ہے کیونکہ اس کو پینے والا تمام حسی لذتوں کی طرف میلان اور غیر اللہ کی رغبت سے پاک ہوجاتا ہے صرف جمال ذات کا معائنہ کرتا ہے اور دیار الٰہی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ صدیقین کے درجہ کی انتہا ہے اور ابرار کے ثواب کا اختتام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 قدیم عرب میں سونے اور چاندی کے کنگن پہننا شاہی لباس کا جز تھا اس لئے فرمایا گیا کہ جنتی لوگوں کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دوسری آیات میں سونے کے کنگنوں کا بھی ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی آن بان ہر لحاظ سے شاہانہ ہوگی۔7 یعنی ایسی شراب جس میں کسی قسم کی نجاست اور بدبو نہ ہوگی جس کے پینے سے ہرگز سرگردانی نہ ہوگی بلکہ دل و دماغ کی تمام کدورتیں صاف ہوجائیں گی۔ اس لئے شاہ صاحب (رح) نے ” طھوراً “ کا ترجمہ کیا ہے ” جو دل کو دھو گئی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس سورت میں تین جگہ چاندی کے سامان کا ذکر آیا ہے اور دوسری آیات میں سونے کا، مگر دونوں میں تعارض نہیں، کیونکہ دونوں طرح کا سامان ہوگا، اور حکمت اس کی وہی تفنن طبائع و تنعمات کا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

علیھم ............................ طھورا سندس نہایت باریک ریشم کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشم کے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ سب زینت کیے ہوئے ہوں اور خوب عیش و عشرت کررہے ہوں ، ان کا رب ان کے لئے یہ انتظام فرمارہا ہوگا ، جو نہایت ہی کریم عطا کنندہ ہے۔ اور اس سے ان انتظامات کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے کہ یہ انتظام رب تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ اور ان بہترین انتظامات کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعزاز میں یہ کلمات بھی کہے جائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جب ادنیٰ درجہ کے جنتی کا اتنا بڑا رقبہ ہوگا تو مختلف درجات کے اعتبار سے دیگر حضرات کے رقبہ کے بارے میں غور کرلیا جائے۔ ﴿ عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ ﴾ (اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی ہوں گے) یہ ریشم وہاں کا ہوگا دنیا کا ریشم نہ سمجھ لیا جائے اور باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم عمدہ ہوں گے من بھاتے ہوں گے۔ ﴿ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ١ۚ﴾ (اور ان کو زیور کے طور پر چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے) سورة الکہف اور سورة الحج میں ہے کہ کنگن سونے کے ہوں گے اس میں کوئی منافات نہیں دونوں طرح کے کنگن ہوں گے کہیں سونے کے کنگن کا ذکر فرما دیا اور کہیں چاندی کا۔ اہل جنت کے کپڑے ہرے رنگ کے ہوں گے کیونکہ یہ رنگ نظروں کو زیادہ بھاتا ہے اور کوئی لفظ حصر پر دلالت کرنے والا بھی نہیں ہے جس سے سمجھا جائے کہ صرف سبز رنگ ہی کے کپڑے زیب تن کریں گے۔ آیت کریمہ ﴿وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ ﴾ سے ظاہر ہے کہ جو کچھ جی چاہے گا وہی ملے گا اگر دوسرے رنگ کے کپڑے پہننے چاہیں گے تو وہ بھی عطا کردیئے جائیں گے اور جس کا جو جی چاہے گا پہنے گا اہل جنت کو جو کنگن پہنائے جائیں گے ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنتیوں میں سے اگر کوئی شخص (دنیا کی طرف) جھانک لے جس سے اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو ختم کر دے جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٩٨) کنگن عورتوں کے ہاتھوں میں اچھے لگتے ہیں مردوں پر بھلا کیا سجیں گے ؟ فائدہ : کسی بھی لباس یا زیور کا سجنا اور شائستہ و آراستہ ہونا ہر جگہ کے عرف پر موقوف ہوتا ہے دنیا میں اگرچہ عموماً مرد کنگن نہیں پہنتے مگر جنت میں خواہش کر کے پہنیں گے اور سب ہی کو دیکھنے میں بھلے معلوم ہوں گے گھڑی کی چین ہی کو لیجئے طرح طرح کی بناوٹ اور چمک و زیبائش والی پہنی جاتی ہے اور مردوں کے ہاتھوں میں اچھی لگتی ہے بلکہ بعض قوموں میں تو بیاہ شادی کے موقعوں پر دولہا کو کنگن پہناتے ہیں اور برادری کے سب لوگ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں چونکہ رواج ہے اس لیے سب کی نظر بھی قبول کرتی ہے اور سب کے دل بھی اچھا سمجھتے ہیں اور اس رواج پر اس قدر اڑے ہوئے ہیں کہ شریعت کی ممانعت کا بھی خیال نہیں کرتے۔ ﴿ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا ٠٠٢١﴾ اور ان کا رب انہیں پاک کرنے والی شراب پلائے گا۔ اس سورت میں پہلی جگہ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ ﴾ فرمایا پھر دوسری جگہ ﴿ وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ ﴾ فرمایا جس میں ان کے مزید اعزاز کا ذکر ہے کہ خدام شراب لے کر آئیں گے۔ تیسری جگہ ﴿وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ ﴾ فرمایا اس میں پلانے کی نسبت رب جل شانہ کی طرف کی گئی ہے جس میں زیادہ اعزاز ہے۔ شرابا کو متصف کیا ہے طھورا سے۔ اس کا ترجمہ بعض حضرات نے بہت زیادہ پاکیزہ کیا ہے۔ فعول کو مبالغہ کا صیغہ لیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ بہت زیادہ پاکیزہ شراب ہوگی۔ قال المحلی مبالغة فی طھارتہ ونظافتہ بخلاف خمر الدنیا اور صاحب المعالم التنزیل نے حضرت ابو قلابہ اور حضرت ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ لا یصیر بولا نجسا ولکن یصیر رشحا فی ابدانھم کریح المسلک۔ یعنی اسے شراب طہور اس لیے فرمایا کہ وہ ناپاک پیشاب نہ بنے گی بلکہ مشک کی طرح پیسنہ ہو کر نکل جائے گی اول کھانا کھائیں گے پھر شراب طہور لائی جائے گی جب اسے پی لیں گے تو جو کچھ کھایا تھا وہ سب ان کے مسامات سے خوب تیز مشک سے بھی زیادہ خوشبو والا پسینہ بن کر نکل جائے گا جن سے ان کے پیٹ خالی ہوجائیں گی اور کھانے پینے کی خواہش پھر عود کر آئے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لفظ طھور مطھر کے معنی میں ہے یعنی پاک کرنے والی چیز اس کا حاصل بھی تقریباً وہی ہے جو حضرت ابو قلابہ (رض) نے فرمایا ہے کہ جو کچھ کھایا ہوگا یہ شراب اندر جا کر مشک کی طرح باہر آجائے گی جس کی وجہ سے پیٹ خالی ہوجائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” عالیہم “ عالی یہاں چونکہ فوق کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس لیے اعراب میں بھی اسی بناء پر (بنا بر ظرفیت) منصوب ہے اور یہ خبر مقدم ہے اور ثیاب سندس مع معطوفات مبتداء موخر ہے (کبیر) ۔ ” سندس “ باریک دیباج ” استبرق “ موٹا دیباج (مظہری) ۔ اہل جنت کے اوپر یعنی ان کے زیب تن باریک ریشم کا سبز لباس ہوگا اور جب چاہیں گے موٹے اور غف ریشم کا لباس زیب تن کریں گے اور ان کو ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنچائے جائیں گے اور ان کو شراب طہور پلایا جائے گا۔ شراب طہور ایک ایسا مشروب ہوگا جسے وہ کھانا تناول کرنے کے بعد پئیں گے تو تمام کھانا فورًا ہضم ہو کر کستور کا پسینہ بن جائیگا اور ان کی طبیعتیں بالکل ہلکی پھلکی ہوجائیں گی۔ (قرطبی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اہل جنت کا بالائی لباس باریک ریشم کے سبز رنگ کے ہوں گے اور دبیزریشم کے کپڑے بھی ہوں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو شراب طہور پلائے گا۔ سورة حج میں اور سو رہ کہف میں موتیوں کے زیور اور سونے کے کنگنوں کا ذکر بھی آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں اہل جنت کو پہنائی جائیں گی یا باری باری سے یہ چیزیں پہنائی جائیں گی کبھی یہ اور کبھی یہ۔ باریک ریشم کے سبز کپڑے شاید خلعت کی جگہ استعمال ہوں گے یا جیسا کہ ہمارے ہاں کا دستور ہے کہ نیچے کے لباس پر دوسرا لباس ہوتا ہے جیس اچکن یا چغہ یا کوٹ اسی طرح اہل جنت کا اندرونی اور باطنی لباس دبیزریشم کا نرم ہوگا جس کا رنگ سبز اور ہرا ہوگا۔ شراب طہور ایک خاص قسم ہے شراب کی جو باطنی اور ظاہری تمام کدورتوں سے پاک کردیگی شاید حظیرۃ القدس کے اجتماع میں یہ شراب عطا ہوگی اور وہ مجلس بڑی مبارک اور بڑی اعلیٰ ہوگی جس میں حضرت حق جل وعلاخود ساقی بن کر شراب طہور کے جام تقسیم فرما رہے ہوں گے یا شاید ہر قسم کی نعمتیں، کھانے اور ہر قسم کی شراب استعمال کرانے کے بعد یہ شراب طہور کے جام تقسیم کئے جائیں گے جس کا فوری اثر یہ ہوگا کہ ایک پسینہ آئے گا جس سے تمام کھانا ہضم ہوجائیگا اور بھوک لگ آئے گی اس کے پینے سے ہر قسم کا کینہ اور حسد وغیر دل سے نکل جائیگا اور باطن وظاہر ہر قسم کی گندگی سے پاک ہوجائیں گے اور کوئی بری صفت باقی نہ رہے گی اور اس شراب طہور کو پلاتے وقت ارشاد ہوگا۔