Surat ul Mursilaat

Surah: 77

Verse: 41

سورة المرسلات

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۴۱﴾

Indeed, the righteous will be among shades and springs

بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں اور بہتے چشموں میں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Final Abode for Those Who have Taqwa Allah informs إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَلٍ وَعُيُونٍ Verily, those who had Taqwa, shall be amidst shades and springs. Allah informs that His servants who have Taqwa and worship Him by performing the obligations and abandoning the forbidden things, will be in gardens and springs on the Day of Judgement. This means they will be in the opposite condition of the wretched people, who will be in shades of Al-Yahmum, which is purtrid, black smoke. Allah says, وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ

دنیا اور آخرت کے فائدوں کا موازنہ : اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے ۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے ، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں ۔ گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے ۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں ۔ قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں ، جسے جب جی چاہے کھائیں ، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے ، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے ، پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو ، ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں ۔ ہاں جھٹلانے والوں کی تو آج بڑی خرابی ہے ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو ، برت برتالو ، فائدے اٹھالو ، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے ۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے ۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں ، قیامت کو ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا ۔ اسی کی سخت خرابی ہو گی ۔ جیسے اور جگہ ارشد ہے آیت ( نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24؀ ) 31- لقمان:24 ) دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کیطرف بےبس کر دیں گے اور جگہ فرمان ہے ( قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69؀ ) 10- یونس:69 ) یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو ، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا ، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں ۔ ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گذار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی ۔ پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟ جیسے اور جگہ ہے ( فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ Č۝ ) 45- الجاثية:6 ) یعنی اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟ ابن ابی حاتم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں ( امنت باللہ وبما انزل ) کہنا چاہئے ۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا ۔ یہ حدیث سورہ قیامہ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے ، سورہ والمرسلات کی تفسیر ختم ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ انتیسویں پارے کی تفسیر بھی پوری ہوئی ۔ یہ محض اسی کا فضل و کرم اور لطف و رحم ہے ۔ فالحمد للہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] یہاں متقین کا لفظ مکذبین کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی آیات کی اور قیامت کے دن کی تصدیق کرتے تھے۔ اللہ سے اور قیامت کے دن کی سختیوں سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی سے ڈر کر ممکن حد تک اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے تھے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جنت کے ٹھنڈے اور پرسکون سایوں میں ہوں گے۔ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے وہاں وافر تعداد میں ہوں گے۔ کھانے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسب پسند پھل ملیں گے۔ وہ جتنا کچھ بھی کھا پی لیں گے اس سے انہیں کسی قسم کی کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم دنیا میں بجا لاتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد محض ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی کے لیے ہوگا ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائی کہ کوئی شخص بھی اپنے اعمال کی وجہ سے جنت نہیں جاسکتا بلکہ محض اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی کی بنا پر جنت میں جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان المتقین فی ظلل و عیون…: اب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دھوئیں کے سائے کے بجائے گھنے درختوں اور نجت کے مکانوں کے ٹھنڈے سایوں ، چشموں اور پانی پسند کے پھلوں میں عیشک ر رہے ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ پیو، اس عمل کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ ” ویل یومئذ للمکذبین “ جھٹلانے والوں کیلئے اس دن بڑی ہلاکت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ عیش و آرام میں ہوں گے جنہیں وہ تمام عمر مذاق کرتے رہے اور یہ خود ان کے سامنے آگ میں جل رہے ہوں۔ “ جنیاء “ جو کسی مشقت کے بغیر حاصل ہوجائے اور اسے کھانے کے بعد کسی قسم کی گرانی یا بدہضمی نہ ہو۔ (راغب ) دنیا کے پھل مشقت سے ملتے ہیں اور کبھی موافق ہوتے ہیں، کبھی ناموفاق جبکہ جنت کے پھل سب موافق ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ۝ ٤١ ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] . ويستعار الْعَيْنُ لمعان هي موجودة في الجارحة بنظرات مختلفة، واستعیر للثّقب في المزادة تشبيها بها في الهيئة، وفي سيلان الماء منها فاشتقّ منها : سقاء عَيِّنٌ ومُتَعَيِّنٌ: إذا سال منها الماء، وقولهم : عَيِّنْ قربتک «1» ، أي : صبّ فيها ما ينسدّ بسیلانه آثار خرزه، وقیل للمتجسّس : عَيْنٌ تشبيها بها في نظرها، وذلک کما تسمّى المرأة فرجا، والمرکوب ظهرا، فيقال : فلان يملك كذا فرجا وکذا ظهرا لمّا کان المقصود منهما العضوین، وقیل للذّهب : عَيْنٌ تشبيها بها في كونها أفضل الجواهر، كما أنّ هذه الجارحة أفضل الجوارح ومنه قيل : أَعْيَانُ القوم لأفاضلهم، وأَعْيَانُ الإخوة : لنبي أب وأمّ ، قال بعضهم : الْعَيْنُ إذا استعمل في معنی ذات الشیء فيقال : كلّ ماله عَيْنٌ ، فکاستعمال الرّقبة في المماليك، وتسمية النّساء بالفرج من حيث إنه هو المقصود منهنّ ، ويقال لمنبع الماء : عَيْنٌ تشبيها بها لما فيها من الماء، ومن عَيْنِ الماء اشتقّ : ماء مَعِينٌ. أي : ظاهر للعیون، وعَيِّنٌ أي : سائل . قال تعالی: عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ، يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] ، وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] ، فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] ، مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] ، وجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ [ الدخان/ 25- 26] . وعِنْتُ الرّجل : أصبت عَيْنَهُ ، نحو : رأسته وفأدته، وعِنْتُهُ : أصبته بعیني نحو سفته : أصبته بسیفي، وذلک أنه يجعل تارة من الجارحة المضروبة نحو : رأسته وفأدته، وتارة من الجارحة التي هي آلة في الضّرب فيجري مجری سفته ورمحته، وعلی نحوه في المعنيين قولهم : يديت، فإنه يقال : إذا أصبت يده، وإذا أصبته بيدك، وتقول : عِنْتُ البئر أثرت عَيْنَ مائها، قال :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] . وقیل : المیم فيه أصليّة، وإنما هو من : معنت «2» . وتستعار العَيْنُ للمیل في المیزان ويقال لبقر الوحش : أَعْيَنُ وعَيْنَاءُ لحسن عينه، وجمعها : عِينٌ ، وبها شبّه النّساء . قال تعالی: قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] ، وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] . ( ع ی ن ) العین اور عین کے معنی شخص اور کسی چیز کا محافظ کے بھی آتے ہیں اور فلان بعینی کے معنی ہیں ۔ فلاں میری حفاظت اور نگہبانی میں ہے جیسا کہ ھو بمر ا ئ منی ومسمع کا محاورہ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پر دریش پاؤ ۔ اور اسی سے عین اللہ علیک ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہداشت فرمائے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے نگہبان فرشتے مقرر کرے جو تمہاری حفاظت کریں اور اعین وعیون دونوں عین کی جمع ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، اور نہ ان کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ ۔ رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے آ نکھ کی ٹھنڈک عطا فرما ۔ اور استعارہ کے طور پر عین کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جو مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں ۔ مشکیزہ کے سوراخ کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ پھر اس سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ سقاء عین ومعین پانی کی مشک جس سے پانی ٹپکتا ہو عین قر بتک اپنی نئی مشک میں پانی ڈالواتا کہ تر ہو کر اس میں سلائی کے سوراخ بھر جائیں ، جاسوس کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے جس طرح کو عورت کو فرج اور سواری کو ظھر کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں سے مقصود یہی دو چیزیں ہوتی ہیں چناچنہ محاورہ ہے فلان یملک کذا فرجا وکذا ظھرا ( فلاں کے پاس اس قدر لونڈ یاں اور اتنی سواریاں ہیں ۔ (3) عین بمعنی سونا بھی آتا ہے کیونکہ جو جواہر میں افضل سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اعضاء میں آنکھ سب سے افضل ہوتی ہے اور ماں باپ دونوں کی طرف سے حقیقی بھائیوں کو اعیان الاخوۃ کہاجاتا ہے ۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ عین کا لفظ جب ذات شے کے معنی میں استعمال ہوجی سے کل مالہ عین تو یہ معنی مجاز ہی ہوگا جیسا کہ غلام کو رقبۃ ( گردن ) کہہ دیا جاتا ہے اور عورت کو فرج ( شرمگاہ ) کہہ دیتے ہیں کیونکہ عورت سے مقصود ہی یہی جگہ ہوتی ہے ۔ (5) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے جس کے معنی جاری پانی کے میں جو صاف طور پر چلتا ہوا دکھائی دے ۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں ۔ يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] دو چشمے ابل رہے ہیں ۔ وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] اور ان کیلئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا ۔ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] باغ اور چشموں میں ۔ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] باغ اور چشمے اور کھیتیاں ۔ عنت الرجل کے معنی ہیں میں نے اس کی آنکھ پر مارا جیسے راستہ کے معنی ہوتے ہیں میں نے اس کے سر پر مارا فادتہ میں نے اس کے دل پر مارا نیز عنتہ کے معنی ہیں میں نے اسے نظر بد لگادی جیسے سفتہ کے معنی ہیں میں نے اسے تلوار سے مارا یہ اس لئے کہ اہل عرب کبھی تو اس عضو سے فعل مشتق کرتے ہیں جس پر مارا جاتا ہے اور کبھی اس چیز سے جو مار نے کا آلہ ہوتی ہے جیسے سفتہ ورمحتہ چناچہ یدیتہ کا لفظ ان ہر دومعنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی میں نے اسے ہاتھ سے مارا یا اس کے ہاتھ پر مارا اور عنت البئر کے معنی ہیں کنواں کھودتے کھودتے اس کے چشمہ تک پہنچ گیا قرآن پاک میں ہے :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور ہوا پانی جاری تھا ۔ فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] تو ( سوائے خدا کے ) کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پال کا چشمہ بہالائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معین میں لفظ میم حروف اصلیہ سے ہے اور یہ معنت سے مشتق ہے جسکے معنی ہیں کسی چیز کا سہولت سے چلنا یا بہنا اور پر بھی بولا جاتا ہے اور وحشی گائے کو آنکھ کی خوب صورتی کہ وجہ سے اعین دعیناء کہاجاتا ہے اس کی جمع عین سے پھر گاواں وحشی کے ساتھ تشبیہ دے کر خوبصورت عورتوں کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں ( اور ) آنکھیں بڑی بڑی ۔ وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١۔ ٤٤) اب اہل ایمان کے مقام کا بیان ہے کہ کفر و شرک سے بچنے والے درختوں کے سایوں اور پاکیزہ چشموں کے پانی اور مختلف قسم کے مرغوب میووں میں ہوں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنے دنیاوی اعمال کے بدلہ میں خوب مزے سے بغیر کسی تکلیف کے خوف کے کھاؤ پیو ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب دوسرے رکوع کی دس آیات میں تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جا رہا ہے ۔ یہاں شروع میں اہل ایمان کا احوال بیان ہوا ہے اور آخر میں انتہائی اختصار کے ساتھ کفار کا ذکر آیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 As this world has been used here in contrast to the "deniers'; the righteous here implies the people who refrained from denying the Hereafter and accepted it and passed their life in the world with the belief that in 'the Hereafter they would have to render an account of their word and deed and their conduct and character.

سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :22 چونکہ یہ لفظ یہاں مکذبین ( جھٹلانے والوں ) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے متقیوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جھٹلانے سے پرہیز کیا اور اس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب دہی کرنی ہو گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١۔ ٥٠۔ متقیوں سے مطلب ان آیتوں میں یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک سے بچتے رہے کیونکہ متقیوں کا لفظ ان آیتوں میں ان مشرک لوگوں کے مقابلہ میں فرمایا ہے جن کا ذکر شروع سورة سے یہاں تک تھا یہ اوپر گزرچکا ہے کہ کلمہ گو گناہ گار اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا میں ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں جائیں گے لیکن پھر آخر ان کو جنت نصیب ہوگی اور یہی نعمتیں ان کو ملیں گی جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس لئے لفظ متقی کے جو معنی بیان کئے گئے ان میں سب جنتی شامل ہوسکتے ہیں۔ دوزخیوں کی چھائوں وہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ یہ جنتی لوگوں کی چھاؤں جنت کے عالی شان مکانوں اور میوہ کے نہایت سایہ دار درختوں کی ہوگی۔ علاوہ اس کے فقط درخت طوبیٰ کا سایہ جنت میں ایسا ہے جس کو سو برس تک میں بھی گھوڑے کا سوار طے نہیں کرسکتا۔ چناچہ صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایت میں اس کا ذکر ہے جنت کے چشموں میں نہ کبھی ہوا سے اڑ کر کوڑا پڑے ‘ نہ ان کی شراب ان کا پانی ‘ دودھ ‘ شہد کبھی بگڑے ‘ کتنی بڑی بات ہے کہ جنت کے میووں کے لئے کوئی فصل مقرر نہیں ہر وقت ہر طرح کا میوہ موجود ہے چناچہ فواکہ مما یشتھون کا یہی مطلب ہے دنیا کے کچھ میوے بعض لوگوں کو نقصان کرتے ہیں وہاں یہ بات بھی نہیں جو کھاؤسو رچے پچے۔ چناچہ ھنیئا کا یہی مطلب ہے۔ وہاں اہل دوزخ کے ذکر میں فرمایا تھا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ یہاں جنت کی طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمانے کے بعد ارشاد ہوگا۔ ہم یوں ہی بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو۔ لیکن جو ان نعمتوں کے منکر ہیں وہ ان سے محروم اور اپنے انکار کی خرابی بھگتیں گے اور دنیا میں اس طرح کے عقبیٰ کے منکروں کو جو کچھ خوش حالی ہے وہ تھوڑے دنوں کی ہے۔ کیونکہ نہ دنیا رہنے والی چیز ہے نہ اس کی خوشحالی ‘ آنکھ بند ہوتے ہی پھر طرح طرح کی خرابی ہے کیونکہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا خالص اس کے نام پر سر جھکانے کو یہ لوگ عار سمجھتے ہیں۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان میں ١ ؎ ہے کہ ثقیف ایک قبیلہ نے نماز سے انکار کرکے یہ کہا کہ کمر جھکانے کو ہم لوگ عار سمجھتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جس اپنی فصاحت و بلاغت کا بڑا دعویٰ تھا قرآن کی فصاحت و بلاغت نے وہ دعویٰ تو ان کا باقی نہیں رکھا جس سے یہ لوگ خوب سمجھ گئے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہے اس پر بھی ان لوگوں کا قرآن کے احکام کو نہ ماننا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ مسند ٢ ؎ امام احمد ترمذی اور ابو دائود وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص سورة والمرسلت پڑھے تو اس کے ختم پر امنا باللہ کہے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس فرمایا کرتے تھے کہ نماز میں امام اور مقتدی دونوں امنا باللہ کہہ سکتے ہیں۔ نیونا کے معنی جھکنا۔ ١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣٠٥ ج ٦۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الصلوٰۃ فی القراءۃ فیھا۔ الفصل اثانی ص ٨١۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص ٤٦١ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(77:41) فی ظلل وعیون : ظلال (سائے) سے مراد حقیقی معنی نہیں ہیں۔ کیونکہ جنت میں تو سورج ہی نہیں ہوگا۔ اس لئے سایہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مطلب یہاں جنت کے گنجان درختوں سے ہے۔ عیون سے مراد ایسے چشمے ہیں جو سدا جاری رہیں گے اور جن کا پانی کبھی خراب نہ ہوگا خواہ پانی ہو یا شہد ہو اور دودھ ہو۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ المتقین۔ اسم ان ، فی ظلل خبر، وعیون کا عطف ظلل پر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٤١ تا ٥٠۔ اسرار ومعارف۔ البتہ جنہوں نے اللہ سے اطاعت کا رشتہ قائم کیا ان کے لیے یہاں بھی سایہ ہوگا اور خوبصورت نہریں اور طرح طرح کے میوے کہ مزے سے کھاتے ہوں گے اور حکم ہوگا کہ عیش کرو کھاؤ پیو کہ تم نے دنیا میں اللہ کی اطاعت کی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ہم ایسے ہی انعام عطا کرتے ہیں مگر انکار کرنے والوں کے لیے صرف بربادی ہوگی بلکہ اے بدکارو ، دنیا میں چند روز مہلت سے موج کرلو آخر کار تمہارے نصیب میں بربادی ہی ہے یہاں بھی وہاں بھی۔ نظام اسلام۔ جب انہیں اللہ کے سامنے جھکنے کے لیے کہا جاتا ہے یعنی اللہ کا نظام قبول کرنے کا کہا جاتا ہے تو مان کر نہیں دیتے تو پھر ان کے لیے ماسوی تباہی کے کیا ہوگا۔ ختم نبوت۔ اور بھلا قرآن حکیم کی بلیغ الفاظ میں بات اور نبی اکرم کے مبارک انداز کے بعد کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اسے مانیں گے یعنی اب اس کے عبد اور کچھ نہ آئے گا نہ نبوت اور نہ کتاب کہ نبوت اپنے مرتبہ کمال کو پہنچ چکی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس دن اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کوئی چھوٹا اور بڑا مجرم رب ذوالجلال کے مقابلے میں کسی قسم کی چال نہیں چل سکے گا اس دن نتیجے کے اعتبار سے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔ جو لگ ایمان لائے اور اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے انہیں گھنے سایوں اور بہتے چشموں کی جنت میں ٹھہرایا جائے گا وہ جو چاہیں گے وہ پھل انہیں مہیا کیے جائیں گے۔ حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو ! ارشاد ہوگا کہ ہم نیک لوگوں کو اس طرح ہی جزا دیتے ہیں اور جن لوگوں نے قیامت کو جھٹلایا ان کے لیے تباہی ہوگی۔ ان آیات میں جنت کی تین نعمتوں سائے، بہتے چشمے اور پھلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا یہ معنٰی نہیں کہ جنت میں صرف یہی تین چیزیں ہوں گی۔ اس سے مراد جنت کی نعمتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے ورنہ جنت میں وہ کچھ ہوگا جس کا دنیا میں کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس میں وہی لوگ جائیں گے جو اللہ، اس کے رسول اور آخرت پر ایمان لائے اور ” اللہ “ سے ڈر کر زندگی بسر کرتے رہے۔ مسائل ١۔ متقی لوگ سایوں اور چشموں والی جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ ٢۔ جنتی لوگ جنت میں جو چاہیں گے وہ پائیں گے۔ ٣۔ جنتیوں کو حکم ہوگ کہ مزے سے کھاؤ اور پیو ! یہ ہماری طرف سے تمہارے نیک اعمال کا صلہ ہے۔ ٤۔ قیامت کو جھٹلانے والے بڑی تباہی میں مبتلا ہوں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ لوگ چھاﺅں میں ہوں گے ، اب یہ حقیقی چھاﺅں ہے ، یہ دھوئیں کی چھاﺅں نہیں ہے۔ جس کے تین شعبے ہیں۔ نہ ٹھنڈی ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے۔ یہ لوگ چشموں میں ہوں گے ، گلہ گھونٹنے والے دھوئیں میں نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

متقیوں کے سایوں، چشموں اور میووں کا تذکرہ منکرین و مکذبین کا عذاب بیان فرمانے کے بعد متقیوں ( پرہیزگاروں) کے انعامات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا یقین جانو پرہیزگار لوگ سایوں میں ہوں گے۔ (یہ وہی سایہ ہے جس کا سورة ٴ دھر کی آیت ﴿وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا﴾ میں بیان فرمایا) اور چشموں میں ہوں گے (ان میں سے بعض چشموں کا ذکر سورة ٴ دھر میں گزر چکا ہے) اور یہ لوگ ایسے میووں میں ہوں گے جن کی انہیں اشتہاء ہوگی، من بھاتے میوے ہوں گے مرغوب ہوں گے، ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو مبارک طریقہ پر ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے، مبارک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کھائیں پئیں گے وہ جسموں کے لیے بھی مبارک ہوگا اور نفسوں کو بھی مرغوب ہوگا، وہاں کی ماکولات اور مشروبات طبیعت اور مزاج کے خلاف نہ ہوں گے اور ان سے جسم اور جان کو ذرا سی بھی تکلیف نہ پہنچے گی۔ ﴿ وَ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ ﴾ پھر مستقل قانون بیان فرمایا کہ ہم اچھے عمل کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ٠٠﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں مومنوں اور شرک سے بچنے والوں کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت میسر ہوگی وہ جنت میں ٹھنڈی چھاؤں کے مزے لیں گے۔ ہر نوع مشروب کے ابلتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور جس قسم کے میووں اور پھلوں کی خواہش کریں گے وہ حاضر کردئیے جائیں گے۔ حاصل یہ کہ ان کو جنت میں ہر قسم کی راحت اور ہر نعمت حاصل ہوگی۔ ” کلوا وشربوا “ اس سے پہلے یقال لہم محذوف ہے یا یہ حال بتاویل مقولا لہم (روح، مدارک) ۔ ان سے کہا جائیگا آج مزے سے کھاؤ پیو اور یہ تمہارے ان نیک عملوں کا صلہ ہے جو دنیا میں تم نے سر انجام دئیے۔ ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح انعام دیا کرتے ہیں لیکن جھٹلانے والوں کے لیے آج ویل اور عذاب کے سواکچھ نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) بلا شبہ وہ لوگ جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں کے سایے میں اور چشموں میں۔