Surat un Naba
Surah: 78
Verse: 9
سورة النبأ
وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾
And made your sleep [a means for] rest
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا ۔
وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾
And made your sleep [a means for] rest
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا ۔
And We have made your sleep as a thing for rest. meaning, a cessation of movement in order to attain rest from the frequent repetition and going about in search of livelihood during the day. A similar Ayah has been mentioned previously in Surah Al-Furqan. وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا
[٧] نیند کی حقیقت اور مقصد :۔ نیند بھی اللہ تعالیٰ کے معجزہ نما عجائب میں سے ہے۔ نیند کیا چیز ہے ؟ اس کی حقیقت آج تک انسان کے لیے ايک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جب انسان کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن محض کام چھوڑ دینے سے تھکاوٹ دور نہیں ہوتی جب تک نیند نہ آئے۔ نیند ایک اضطراری امر ہے جو تھکے ہوئے انسان کو لیٹنے پر مجبور کردیتی ہے پھر اس پر چھا جاتی ہے۔ کام کرتے کرتے انسان کے جسم سے جو خلیے جل کر تباہ ہوجاتے ہیں۔ نیند کی حالت میں ان کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انسان کی نیند اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک تلافی مافات ہو نہ جائے۔ پھر جب انسان کے جسم کی تعمیر و مرمت پوری ہوجاتی ہے تو انسان کی نیند کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ تازہ دم ہو کر از خود جاگ اٹھتا ہے۔
وجعلنا نومکم سباتاً…” سباتاً “ اور ” سبت “ باب ” نصر “ اور ” ضرب “ سے مصدر ہیں، راحت و سکون، قطع کرنا۔ اپنی نید کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکات قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے ؟ علاوہ ازیں تمہارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لئے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنادیا۔ روشنی راحت میں خلل اندازہو سکتی تھی، اس لئے ہم نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لے دن بنادیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس طرح تلاش کرتے ؟
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (and made your sleep a source of rest,...78:9). The word subat is derived from sabt which means to cut off. Sleep is something that cuts off the worries and tensions one may have, and thus gives him such a rest that cannot be attained from anything else. Therefore, some scholars translate the word subat as &rest&. Sleep Is a Great Gift After mentioning in verse [ 8] that Allah has created mankind in pairs, Allah Ta’ ala states in verse [ 9] that among the means of their comfort, He created sleep, which is a great divine gift. Sleep is a great source of relaxation for the entire creation - for rich as well as for poor, for learned people, as well as for the illiterate ones, for kings as well as for labourers. This gift is made available equally and simultaneously for all. Rather, experience shows that this gift is most readily available to the poor and labouring class, as compared to the affluent and the elite class. The latter class has all the means of comfort, they have comfortable homes, they have moderately warm and cold places, they have comfortable mattresses and pillows that are rarely available to the poor. But the gift of sleep is not dependent upon the mattresses, pillows, cottages and bungalows. It is purely a divine gift that is given directly by Allah. Often the poor, with no means of comfort and without bed or bedding, enjoy the best sleep in an open space. Sometimes, the affluent and the men of means suffer from insomnia and can only get sleep when they take sleeping pills. Often the pills do not work either. Not only that this great gift is given to all creatures - humans as well as animals - and it is given free of charge, without working for it. Allah has made it compulsory for everyone in a way that even if he wishes to keep awake because of load of work, sleep is imposed on him by Allah&s mercy, so that his tiredness is removed and he is refreshed to work further. This arrangement is a wonderful means of providing rest and peace for man.
نیند بہت بڑی نعمت ہے : یہاں حق تعالیٰ نے انسان کو جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر فرمانے کے بعد اس کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجئے تو یہ ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار یہی ہے اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے عام ایسا فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت یکساں بیک وقت عطا ہوتی ہے، بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان، راحت کا مکان، ہوا اور سردی گرمی کے اعتدال کی جگہ، نرم گدے تکیے سب کچھ ہوتے ہیں جو غریبوں کو بہت کم ملتے ہیں مگر نیند کی نعمت ان گدوں تکیوں یا کوٹھی بنگلوں کی فضا کے تابع نہیں، وہ تو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو براہ راست اس کی طرف سے ملتی ہے بعض اوقات مفلس بےسامان کو بغیر کسی بستر تکئے کے کھلی زمین پر یہ نعمت فراوانی سے دے دیجاتی ہے اور بعض اوقات ساز و سامان والوں کو نہیں دی جاتی، ان کو خواب آور گولیاں کھا کر حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ گولیاں بھی کام نہیں کرتیں، پھر غور کرو کہ اس نعمت کو حق تعالیٰ نے جیسا ساری مخلوق انسان اور جانور کے لئے عام فرمایا ہے اور مفت بلا محنت سب کو یاد ہے اس سے بڑی نعمت یہ ہے کہ صرف مفت بلا محنت ہی نہیں بلکہ اپنی رحمت کاملہ سے اس نعمت کو جبری بنادیا ہے کہ انسان بعض اوقات کام کی کثرت سے مجبور بنادیا ہے کہا نسان بعض اوقات کام کی کثرت سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ رات بھر جاگتا ہی رہے مگر رحمت حق جل شانہ، اس پر جبراً نیند مسلط کر کے اس کو سلا دیتی ہے کہ دن بھر کا تکان دور ہوجائے اور اس کے قویٰ مزید کام کے لئے تیز ہوجائیں، آگے اسی نیند کی عظیم نعمت کا تکملہ یہ بیان فرمایا کہ وّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا ط یعنی رات کو ہم نے چھپانے کی چیز بنادیا، اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کو فطرة نیند اس وقت آتی ہے جب روشنی زیادہ نہ ہو، ہر طرف سکون ہو، شور شغب نہ ہو۔ حق تعالیٰ نے رات کو لباس یعنی اوڑھنے اور چھپانے کی چیز فرما کر اشارہ کردیا کہ قدرت نے تمہیں صرف نیند کی کیفیت ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ سارے عالم میں ایسے حالات پیدا کردیئے جو نیند کے لئے سازگار ہوں۔ اول رات کی تاریکی، دوسرے پورے عالم انسان اور جانور سب پر بیک وقت نیند کا مسلط ہونا کہ جب سبھی سو جائیں گے تو پورے عالم میں سکون ہوگا ورنہ دوسرے کاموں کی طرح اگر نیند کے اوقات بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہوا کرتے تو کسی کو بھی نیند کے وقت سکون میسر نہ آتا۔
وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُـبَاتًا ٩ ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ نوم النّوم : فسّر علی أوجه كلّها صحیح بنظرات مختلفة، قيل : هو استرخاء أعصاب الدّماغ برطوبات البخار الصاعد إليه، وقیل : هو أن يتوفّى اللہ النّفس من غير موت . قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] . وقیل : النّوم موت خفیف، والموت نوم ثقیل، ورجل نؤوم ونُوَمَة : كثير النّوم، والمَنَام : النّوم . قال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] ، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] والنُّوَمَة أيضا : خامل الذّكر، واستنام فلان إلى كذا : اطمأنّ إليه، والمنامة : الثّوب الذي ينام فيه، ونامت السّوق : کسدت، ونام الثّوب : أخلق، أو خلق معا، واستعمال النّوم فيهما علی التّشبيه . ( ن و م ) النوم ۔ اس کی تفسیر گئی ہے اور مختلف اعتبارات سے تمام وجوہ صحیح ہوسکتی ہیں ۔ بعض نے کہا نے کہ بخارات کی رطوبت سی اعصاب دماغ کے ڈھیلا ہونے کا نام نوم ہے ۔ اور بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا بغیر موت کے روح کو قبض کرلینے کا نام نوم ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں ان کی ( روحیں ) سوتے میں ( قبض کرلیتا ہے ) اور بعض نوم کو موت خفیف اور موت کو نوم ثقیل کہتے ہیں رجل نووم ونومۃ بہت زیادہ سونے والا اور منام بمعنی نوم آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] اور اسی کے نشانات ( اور تصرفات ) میں سے ہے تمہارا رات میں ۔۔۔ سونا ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] تمہارے لئے موجب آرام بنایا ۔ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ۔ نیز النومۃ کے معنی خامل لذکر یعني گم نام بھی آتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے ۔ استنام فلان الی ٰکذا ۔ کسی چیز سے اطمینان حاصل کرنا ۔ منامۃ ۔ لباس خواب ۔ نامت السوق کساد بازاری ہونا ۔ نام الثوب ( لازم ومتعدی ) کپڑے کا پرانا ہونا یا کرنا ۔ ان دونون معنی میں نام کا لفظ تشبیہ کے طور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔ سبت أصل السَّبْتُ : القطع، ومنه سبت السّير : قطعه، وسَبَتَ شعره : حلقه، وأنفه : اصطلمه، وقیل : سمّي يوم السَّبْت، لأنّ اللہ تعالیٰ ابتدأ بخلق السموات والأرض يوم الأحد، فخلقها في ستّة أيّام کما ذكره، فقطع عمله يوم السّبت فسمّي بذلک، وسَبَتَ فلان : صار في السّبت وقوله : يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] ، قيل : يوم قطعهم للعمل، وَيَوْمَ لا يَسْبِتُونَ [ الأعراف/ 163] ، قيل : معناه لا يقطعون العمل، وقیل : يوم لا يکونون في السّبت، وکلاهما إشارة إلى حالة واحدة، وقوله : إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] ، أي : ترک العمل فيه، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، أي : قطعا للعمل، وذلک إشارة إلى ما قال في صفة اللّيل : لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . ( س ب ت ) السبت کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اس نے تسمہ گو قطع کیا سینت شعرۃ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس کی کاٹ ڈالی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ہفتہ کے دن کو یوم السبت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق اتوار کے دن شروع کی تھی اور چھ دن میں تخلیق عالم فرماکر سینچر کے دن اسے ختم کردیا تھا اسی سے سبت فلان ہے جس کے معنی ہیں وہ ہفتہ کے دن میں داخل ہوا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] سنیچر کے دن ( مچھلیاں ) سینہ سیر ہوکر ان کے سامنے آجاتیں ۔ میں بعض نے یوم سبتھم سے ان کے کاروں بار کو چھوڑنے کا دن مراد لیا ہے اس اعتبار سے یوم لا یسبتون کے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز وہ کاروبار چھوڑ تے اور بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ روز سینچر نہ ہوتا ان ہر دو معنی کا مآل ایک ہی ہے اور آیت : ۔ إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] میں سبت سے مراد سینچر کے دن عمل کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سنیچر کے روز کام چھوڑنے کا حکم صرف لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] اس لئے دیا گیا تھا اور آیت : ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] اور نیند کو ( موجب ) راحت بنایا ۔ میں سبات کے معنی ہیں حرکت وعمل کو چھوڑ کر آرام کرنا اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشاریہ ہے جو کہ آیت : ۔ تاکہ تم رات میں راحت کرو لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت و سکون لے لئے بنایا ہے
7 The explanation of the wisdom for which Allah Almighty has placed a desire for sleep in man's nature in order to make him fit for work in the world, and which impels him to a few hours' sleep after every few hours of work, has been given in E.N. 33 of Surah Ar-Rum.
سورة النَّبَا حاشیہ نمبر :7 انسان کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے اللہ تعالی نے جس حکمت کے ساتھ اس کی فطرت میں نیند کا ایک ایسا داعیہ رکھ دیا ہے جو ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹے سونے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن ، جلد سوم ۔ الروم ، حاشیہ 33 میں کر چکے ہیں ۔
(78:9) وجعلنا نومکم سباتا : واؤ عاطفہ، جعلنا ماضی جمع متکلم جعل (باب فتح) مصدر۔ بمعنی بنانا، کرنا۔ پیدا کرنا۔ نومکم مضاف مضاف الیہ مل کر جعلنا کا مفعول اول : سباتا مفعول ثانی ہے۔ نوم آرام۔ راحت ، سکون۔ تکان کا رفع کرنا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ السبت کے اصل معنی ہیں قطع کرنا ۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اسم نے تسمیہ کو کاٹا۔ سبت شعرہ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی آیت وجعلنا نومکم سباتا میں سبات کے معنی ہیں حرکت و عمل کو چھوڑ کر آرام کرنا۔ اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت لتسکنوا فیہ (28:73) (تاکہ تم رات میں راحت کرو) میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت اور سکون کے لئے بنایا ہے۔ ابن الاعرابی نے آیت ہذا میں سبات کو بمعنی قطع کرنے کے لیا ہے گویا جب سو گیا تو لوگوں سے قطع ہوگیا۔ زجاج کہتے ہیں کہ سبات یہ ہے کہ حرکت سے منقطع ہوجائے اور روح بدن میں موجود ہو۔ پس معنی یہ ہیں کہ تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا۔ اور علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقم طراز ہیں :۔ اور ہم نے نیند کو تمہارے اعمال (بیداری) کو قطع کردینے والی چیز بنایا تاکہ تمہارے جسمانی اعضا کو سکون و آرام مل جائے۔
وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا ہے۔ حالت نوم کس طرح طاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان کس طرح تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ یہ تازگی اس کے جسم میں کس طرح سرایت کرجاتی ہے۔ کیونکہ جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو وہ نیند کی حالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ اور نیند کی حالت میں بھی اس کی قوت مدرکہ معطل ہوتی ہے۔ یہ ہے ہر زندہ چیز سے متعلق ایک کھلے راز کی بات جسے صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان زندہ مخلوقات کو پیدا کیا اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو سونے اور نیند پر موقوف کیا۔ کیونکہ ہر زندہ مخلوق ایک محدود وقت تک ہی نیند کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ، اور اگر اسے مجبوراً دیر تک مصنوعی طریقے سے بیدار رکھا جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند میں جسمانی اور اعصابی ضروریات کے علاوہ بھی کچھ راز ہیں۔ یہ روح کے لئے بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ روح کو بھی زندگی کی سخت کشمکش سے ہٹا کر اس کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔ یوں جس طرح ایک فوجی اسلحہ اتار کر قدرے سستاتا ہے اور امن و سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں اسے جانا پڑتا ہے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ نیند انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس طرح کھانا پینا ، اس کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات نیند کے نتیجے میں ایسی تبدیلی آتی ہے جو معجزات سے کم نہیں ہوتی۔ انسان روحانی تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے ، اعصاب چور چور ہوتے ہیں ، روح متزلزل ہوتی ہے ، اور دل پریشانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اونگھ سی طاری ہوتی ہے ، اور بعض اوقات یہ اونگھ چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فرد کے جسم اور روح پر تازگی طاری ہوجاتی ہے اور اس کی حالت میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور چند لمحات کے اندر انسان اپنے آپ کو تروتازہ بلکہ ایک نیا انسان محسوس کرتا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں تھکے ہارے مسلمانوں پر اللہ نے ایسی ہی اونگھ طاری کردی تھی جسے نعاس امنہ کہا گیا۔ اذ یغشیکم ............ امنة (11:8) ” اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ایک ایسی اونگھ نے ڈھانپ لیا ، سکون طاری کرنے کے لئے صرف اللہ کی طرف سے “۔ اور سورة آل عمران میں۔ ثم انزل ................................ منکم (154:3) ” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے “۔ اور بعض اوقات بعض دوسرے لوگوں پر بھی ایسے حالات طاری کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ” سبات “ یعنی زندگی کی سرگرمیوں اور عقل وروح کی تمام سرگرمیوں سے رک جانا ، ہر زندہ مخلوق کی ضرورت ہے ، اور دست قدرت اور خالق کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اور ایک ایسی نعمت ہے جو خالص اللہ کی داد دہش اور عطا اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم انسان کے عقل وادراک کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اے انسان ذرا اپنی ذاتی خواص پر بھی غور کرو ، اور جس دست قدرت نے یہ خواص رکھے ہیں اس پر بھی قدرے تامل اور تدبر کرو اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور ذات باری کی قدرتوں میں سے ایک اہم قدرت اور تدبیر یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کی حرکت کو بھی مخلوق کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ جس طرح انسان کے اندر نیند رکھ کر اسے سکون دیا گیا ہے کہ زندگی کی کشمکش کے بعد وہ قدرے سکون میں رے۔ تو کائنات کے اندر اللہ نے رات کا ماحول پیدا کرکے انسان کے لئے نیند اور سکون کا سازگار ماحول پیدا کردیا ہے۔ یوں اللہ کی مخلوق کے اندر باہم سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور یہ پوری دنیا زندہ مخلوقات کا ایک خاندان بن گئی۔ زندہ اشیاء کی یہ فیملی ان خصائص کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے ، جو اس کائنات کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں ، اور ان زندہ مخلوقات کی تمام اقسام کے اندر ایسی حرکت اور ایسی ضروریات رکھ دی گئی ہیں جو بعینہ اس پوری کائنات کے اندر رکھی گئی ہیں ، اور یہ تمام امور دست قدرت نے سرانجام دیئے ہیں اور یوں اس کائنات اور اس پوری زندہ مخلوق کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت پیدا کردی گئی ہے۔ اور ان آیات میں تیسرا رنگ یہ دکھایا گیا ہے ، دور کے آسمانوں اور بلندیوں کا قریب کی زمین کے ساتھ رابطہ ہے۔
پھر فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کی چیز بنا دیا ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت کرتے ہو جب تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو نیند کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہو کر پھر کام کرنے کے لائق ہوجاتے ہو۔ اس مضمون کو سباتاً سے تعبیر فرمایا۔ سبات قطع یعنی کاٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ نیند کئی اعتبار سے سبات ہے، جب کوئی شخص سو جاتا ہے تو اس کے اعضاء کی اختیاری حرکت اور مشغولیت ختم ہوجاتی ہے اور جو تھکان ہوگئی تھی وہ بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ رات کو آرام کے لیے اور دن کو طلب معاش کے لیے بنایا راتوں کو گھروں میں آرام کرنے کے بعد دن کو باہر نکلتے ہیں اپنی اپنی حاجات پوری کرتے ہیں دن کی روشنی میں رزق حاصل کرتے ہیں دن بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور رات بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اگر ہمیشہ دن ہی دن ہوتا یا رات ہی رات ہوتی تو بڑی مصیبت میں آجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر سات آسمان بھی بنائے ہیں جو اس کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتے ہیں نیز سراج وھاج (روشن چراغ) یعنی آفتاب بھی پیدا فرمایا جو خود روشن ہے اور اس دنیا کو روشن کرنے والا بھی ہے، روشنی کے سوا اس کے اور بھی بہت سے منافع ہیں جیسے پھلوں کا پکنا اور کھیتی کا تیار ہونا اور بقدر ضرورت حرارت حاصل ہونا بھی ہے اور نئی ایجادات اور نئے آلات کی وجہ سے تو سورج کے بہت سے فوائد سامنے آگئے ہیں۔