Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 1

سورة النازعات

وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾

By those [angels] who extract with violence

ڈوب کر سختی سے کھنچنے والوں کی قسم!

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Swearing by Five Characteristics that the Day of Judgement will occur Ibn Mas`ud, Ibn Abbas, Masruq, Sa`id bin Jubayr, Abu Salih, Abu Ad-Duha and As-Suddi all said, وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا By those who pull out, drowning. "These are the angels who remove the souls from the Children of Adam." Among them are those whose souls are removed by the angels with difficulty, as if he is being drowned during its removal. There are those people whose souls the angels remove with ease, as if they were unraveling him (i.e., his soul from him) due to their briskness. This is the meaning of Allah's statement, وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں ، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں ، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے ، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے ، بعض کہتے ہیں ، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں ، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں ، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے ، یعنی روح نکالنے والے فرشتے ، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے ۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں ، اسی طرح سابقات کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں ، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے ، عطا فرماتے ہیں مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں ، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے اس سے مراد بھی فرشتے ہیں ، جیسے حضرت علی وغیرہ کا قول ہے ، آسمان سے زین کی طرف اللہ عز و جل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں ، امام ابن جریر نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں ، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے ( یوم ترجف الارض والجبال ) جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ، دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے ( وحملت الارض والجبال فدکتا دکتہ واحدۃ ) اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے ، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ، مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کا پنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتوں کو لئے ہوئے آئے گی ، ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ نے فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا ۔ ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے لوگو اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے ، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لئے ہوئے چلی آ رہی ہے ، اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے ، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں ، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے ، حافرۃ کہتے ہیں قبروں کو بھی ، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد ، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی ، کفار قریش کا یہ مقولہ تھا ، حافرۃ کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے جحیم ، سقر ، جہنم ، ہاویہ ، حافرہ ، لظی ، حطمہ وغیرہ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس چیز کو یہ بڑی بھاری ، ان ہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنیٰ سی بات ہے ، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ، یعنی اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀ۧ ) 17- الإسراء:52 ) ، جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے اور جگہ فرمایا آیت ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀ ) 54- القمر:50 ) ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور جگہ ہے آیت ( وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 77؀ ) 16- النحل:77 ) امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ، یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی ، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے ، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے ، ساھرہ روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں ، ثوری کہتے ہیں مراد اس سے شام کی زمین ہے ، عثمان بن ابو العالیہ کا قول ہے مراد بیت المقدس کی زمین ہے ۔ وہب بن منبہ کہتے ہیں بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے ، قتادہ کہتے ہیں جہنم کو بھی ساھرہ کہتے ہیں ۔ لیکن یہ اقوال سب کے سب غریب ہیں ، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے ، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے اور جگہ ہے آیت ( يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48؁ ) 14- ابراھیم:48 ) ، یعنی جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی اور جگہ ہے لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ ہو گا ، نہ اونچی نیچی جگہ اور جگہ ہے ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ، غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 نَزْع کے معنی سختی سے کھنچنا، غَرْقًا ڈوب کر، یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] یعنی ان فرشتوں کی قسم جو موت کے وقت میت کے ایک ایک رگ و ریشہ میں ڈوب کر وہاں سے اس کی روح کو کھینچ لاتے ہیں۔ واضح رہے کہ نزع کا لغوی معنی کسی چیز کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

٢(والنزعت غرقاً…:” النزعت “ اور ” الشطت “ سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود (رض) سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب (رض) سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(وان العبد المومن اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحیء ملک الموت (علیہ السلام) حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الطیبہ ! اخرجی الی مغفرۃ من اللہ و رضوان قال فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من فی السفاء …و ان العبد الکافر اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحییٰ ملک الموت حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الخمیثۃ ! اخرجی الی سخط من اللہ و غضب قال فتفرق فی حسدہ فینتزعھا کما ینتزع السفود من الصوف المبول) (مسند احمد : ٣/٢٨٨، ٢٨٨، ح : ١٨٥٦١)” اور مومن آدمی جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے … تو ملک الموت (علیہ السلام) اس کے سپر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :” اے پاکیزہ جان ! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل آ۔ “ تو وہ اس طرح نکل آتی ہے ، جس طرح مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے…اور کافر جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔ … تو ملک الموت اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :” اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضی اور غصے کی طرف نکل آ۔ “ تو وہ جس میں بکھر جاتی ہے تو وہ اسے اس طرح سختی سے کھینچ کر نکالتا ہے جس طرح بھیگی ہوئی اون سے گرم سلاخ کھینچ کر نکالی جاتی ہے۔ “ مشکوۃ میں شیخ البانی (رح) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ” النزعت “ سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔ “ ” غرقاً “ ” ڈوب کر۔ “ یعنی ان فرشوتں کی قسم جو کفار کی جان ڈوب کر یعنی ان کے بدن کے ہر حصے میں پہنچ کر سختی سے کھینچ کر نکالتے ہیں، جب کہ وہ نکلنا نہیں چاتہی۔” النشطت “” نشط العقال “ (ن) رسی کی گرہ کھولنا۔ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر ناکلتے ہیں اور وہ خوشی سے اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑتی ہے۔ کافر اور ممون کا یہ فرق روح کی حالت میں ہے، بدن کی تکلفی الگ ہے، اس میں مسلمان اور کافر برابر ہیں۔ (خلاصہ موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَالنَّازِعَاتِ غَرْ‌قًا (I swear by those [ angels ] who pull out [ the souls of the infidels ] vigorously ...79:1). The word naziat is derived from naz& and it means &to draw vigorously&. The word gharqan is its corroborative because the word gharq is used here in the sense of ighraq and means &to exert oneself much or to the utmost extent in the thing&. The Arabic idiom has it اغرق النّازع فی القوس &He drew the bow with great vigour&. The Surah begins with an oath by certain characteristics of the angels to affirm that the Resurrection is a certainty. The subject of the oath, however, has been contextually deleted. The oath of the angels is probably apt on this occasion because they are all the time involved in the administration and running of the world. They are executing their duties loyally. On the Day of Judgment, all material causes will be severed. Unusual events will occur and the angels will be involved in them. Five characteristics of the angels are mentioned which are concerned with or related to the extraction of the soul at the time of death. The purport of the verses is to affirm that Resurrection is a certainty. It starts with human death. Every man&s death is his partial Day of Doom, and this has an important impact on his belief in Resurrection. The five qualities are as follows: The first quality of the angels: وَالنَّازِعَاتِ غَرْ‌قًا I swear by those (angels) who pull out (the souls of the infidels) vigorously. This refers to the angels of punishment who draw the souls of the infidels vigorously and harshly. The words &vigorously& refer to spiritual pain. The humans around the dying person may not be sensitive to the pain. Often it is noticed that the soul of an infidel apparently slips out easily, but this ease is perceived by humans around the dying man. The pain is felt by the soul of the dying person. Who can perceive it? We are aware of it only because Allah has informed us about it in this verse.

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان فرشتوں کی جو (کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو (مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں گویا ان کا) بند کھول دیتے ہیں اور جو (روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس طرح سرعت ہو سہولت سے چلتے ہیں جیسے گویا) تیرتے ہوئے چلتے ہیں پھر (جب روحوں کو لے کر پہنچتے ہیں تو ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے) تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں پھر (ن ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے) ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں (ان سب کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ) قیامت ضرور آوے گی جس روز ہلا دینے والی چیز ہلا ڈالے گی (مراد نفخہ اولیٰ ہے) جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آ جاوے گی (مراد نفخہ ثانیہ ہے) بہت سے دل اس روز دھڑک رہے ہوں گے ان کی آنکھیں (ارے ندامت کے) جھک رہی ہوں گی (مگر یہ لوگ قیامت کا انکار کر رہے ہیں اور) کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی حالت میں پھر واپس ہوں گے (پہلی حالت سے مراد حیات قبل الممات یعنی کیا بعد الموت پھر حیات ثانیہ ہوگی ؟ مقصود استبعاد ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے) کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجاویں گے پھر (حیات کی طرف) واپس ہوں گے (مقصود استصعاب ہے کہ یہ سخت دشوار ہے) کہنے لگے کہ (اگر ایسا ہوا تو) اس صورت میں یہ واپسی (ہمارے لئے) بڑے خسارہ کی ہوگی (کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان نہیں کیا، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ، یعنی ان کے عقیدہ پر ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا شیر ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جاوے گا مطلب یہ کہ وہاں شیر ویر کچھ بھی نہیں ہے۔ آگے استبعاد و استصعاب مذکور کا روہی کہ یہ لوگ جو قیامت کو بعید اور مشکل کہتے ہیں) تو (یہ سمجھ رکھیں کہ ہم کو کچھ مشکل نہیں بلکہ) وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے (آگے مکذبین کی تخویف اور تکذیب پر آپ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کیساتھ بیان کیا جاتا ہے، پس فرماے ت ہیں کہ) کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی طویٰ میں (یہ اس کا نام ہے) پکارا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی شرارت اختیار کی ہے سو اس سے (جا کر) کہو کہ کیا تجھ کو اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجاوے، اور (تیری درستی کی غرض سے) میں تجھ کو تیرے رب کی طرف (ذات وصفات کی) رہنمائی کروں تو تو (ذات وصفات کو سن کر اس سے) ڈرنے لگے اور اس ڈر سے درستی ہوجاوے، غرض یہ حکم سن کر موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس گئے اور جا کر پیغام ادا کیا) پھر (جب اس نے دلیل نبوت طلب کی تو) اس کو بڑی نشانی (نبوت کی) دکھلائی (مراد معجزہ عصا ہے یا براوہ جنس مجموعہ عصا وید بیضا ہے) تو اس (فرعون) نے (ان کو) جھٹلایا اور (ان کا) کہنا نہ مانا پھر ( موسیٰ (علیہ السلام) سے) جدا ہو کر (ان کے خلاف) کوشش کرنے لگا اور (لوگوں کو) جمع کیا پھر (ان کے سامنے با آواز بلند تقریر کی اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں (اعلیٰ قید واقعی کے طور پر کہا پس اصل مقصود انا ربکم ہے اور اعلی صفت مادحہ بڑھا دی اور احترازی نہیں جس سے غیر اعلیٰ دوسرے رب کا ثبوت ہو) سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ (دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی جلنا ہے) بیشک اس (واقعہ) میں ایسے شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو (اللہ تعالیٰ سے) ڈرے، (آگے قیامت کو بعید یا مشکل سمجھنے کا عقلی جواب ہے یعنی) بھلا تمہارا (دوسری بار) پیدا کرنا (فی نفسہ) زیادہ سخت ہے یا آسمان کا (اور فی نفسہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نسبت سے تو سب مساوی ہیں اور ظاہر ہے کہ آسمان ہی کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے، پھر جب اس کو پیدا کردیا تو تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے، آگے آسمان کے پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرماتے ہیں کہ) اللہ نے اس کو بنایا (اس طرح سے کہ) اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو درست بنایا (کہ کہیں اس میں شقوق و فطور، پھٹا ہوا یا جوڑ پیوند تو نہیں) اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا (رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان سے متعلق ہے) اور اس کے بعد زمین کو بچھایا (اور بچھا کر) اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو (اس پر) قائم کردیا تمہاے اور تمہارے مواشی کے فائدہ پہنچانے کے لئے (اصل استدلال خلق سماء سے تھا مگر زمین کا ذکر شاید اس لئے کردیا کہ اس کے احوال ہر وقت پیش نظر ہیں اور گو سماء کے برابر نہ سہی لیکن فی نفسہ انسان کی تخلیق سے زمین کی تخلیق بھی اشد ہے پس حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ جب ایسی ایسی چیزیں ہم نے بنادیں تو تمہارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے آگے بعث کے بعد جو واقعات مجازاة کے متعلق ہوں گے ان کی تفصیل ہے یعنی قیامت کا امکان اور صحت و وقع تو ثابت ہوگیا) سو جب وہ بڑا ہنگامہ آوے گا یعنی جس دن انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا اور دیکھنے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کی جاویگی تو (اس روز یہ حالت ہوگی کہ) جس شخص نے (حق سے) سرکشی کی ہوگی اور (آخرت کا منکر ہو کر اس پر) دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی سو دوزخ اس کا ٹھکانا ہوگا اور جو شخص (دنیا میں) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا (کہ قیامت اور آخرت اور حساب کتاب پر اس کا ایمان مکمل ہو) اور نفس کو (حرام) خواہش سے روکا (یعنی) اعتقاد صحیح کے ساتھ عمل صالح بھی کیا) ہوگا سو جنت اس کا ٹھکانا ہوگا (اور عمل صالح طریق جنت ہے موقوف علیہ نہیں، چونکہ افکار بقصد انکار قیامت کے اس کا وقت پوچھا کرتے تھے آگے اس کا جواب ہے یعنی) یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا (سو) اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق (کیونکہ بیان کا موقوف علیہ علم ہے اور قیامت کا معین وقت ہم نے کسی کو بتلایا نہیں بلکہ) اس (کے علم کی تعیین) کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے (اور) آپ تو صرف (اخبار اجمالی سے) ایسے شخص کے ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو (اور ڈر کر ایمان لانے والا ہو اور یہ لوگ جو جلدی مچا رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ) جس روز یہ اس کو دیکھیں گے تو (ان کو) ایسا معلوم ہوگا کہ گویا (دنیا میں) صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں (بس یعنی دنیا کی مدت طویلہ قصیر معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ عذاب بڑی جلدی آ گیا جس کی یہ استدعا کرتے ہیں حاصل یہ کہ جلد بازی کیوں کرتے ہو وقوع کے وقت اس کو یہی سمجھو گے کہ بڑی جلد ہوگیا جس دیر کو اب دیر سمجھ رہے ہو یہ دیر معلوم نہ ہوگی۔ ) معارف ومسائل وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا، نازعات، نزع سے مشتق ہے جس کے معنے کسی چیز کو کھینچ کر نکالنے کے آتے ہیں، اور غرقا اس تاکید ہے کیونکہ غرق اور اغراق کے معنے کسی کام میں پوری قوت شدت خرچ کرنے کے ہیں۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے اغرق النازع فی القوس یعنی کمان کھینچنے والے نے اس کے کھینچنے میں اپنی پوری قوت خرچ کردی اس سورة کے شروع میں ملائکہ کی چند صفات اور حالات بیان کرکے انکی قسم کھائی گئی ہے اور جواب قسم بدلالت حال حذف کردیا گیا، مراد اس سے قیامت اور حشر و نشر کا یقیناً واقع ہونا ہے۔ فرشتوں کی قسم شاید اس مناسبت سے کھائی گئی ہے کہ اگرچہ فرشتے اس وقت بھی تمام عالم کے نظم و نسق میں دخل رکھتے اور اپنی اپنی خدمت بجالاتے ہیں لیکن قیامت کے روز اسباب مادیہ کے سب رشتے ٹوٹ جائیں گے غیر معمولی حالات و واقعات پیش آویں گے، ان واقعات میں فرشتے ہی کام کریں گے۔ فرشتوں کی اس جگہ پانچ صفات وہ بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق انسان کی موت اور نزع روح سے ہے مقصد تو قیامت کا حق ہونا بیان کرنا ہے، شروع اس کا انسان کی موت سے کیا گیا کہ ہر انسان کی موت خود اسکے لئے ایک جزوی قیامت ہے اور قیامت کے اعتقاد میں اس کا بڑا دخل ہے۔ ان پانچ صفات میں سے پہلی صفت النّٰزِعٰتِ غَرْقًا، یعنی سختی کے ساتھ کھینچ کر نکالنے والے، مراد اس سے وہ عذاب کے فرشتے ہیں جو کافر کی روح سختی کے ساتھ نکالتے ہیں، مراد اس سختی سے روحانی سختی اور تکلیف ہے یہ ضروری نہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی اس سختی کا احساس ہو اسی لئے بسا اوقات یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کافر کی روح بظاہر آسانی سنے نکلتی ہے مگر یہ آسانی ہمارے دیکھنے میں ہے جو سختی اس کی روح پر ہو رہی ہے اس کو کون دیکھ سکتا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی خبر دینے سے معلوم ہوسکتی ہے۔ اس لئے اس جملے میں یہ خبر دے دی گئی ہے کہ کفار کی روح کو کھنچ کر سختی سے نکالا جاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۝ ١ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله : تَنْزِعُ النَّاسَ [ القمر/ 20] قيل : تقلع الناس من مقرّهم لشدَّة هبوبها . وقیل : تنزع أرواحهم من أبدانهم، والتَّنَازُعُ والمُنَازَعَةُ : المُجَاذَبَة، ويُعَبَّرُ بهما عن المخاصَمة والمُجادَلة، قال : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] ، فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] ، والنَّزْعُ عن الشیء : الكَفُّ عنه . والنُّزُوعُ : الاشتیاق الشّديد، وذلک هو المُعَبَّر عنه بإِمحَال النَّفْس مع الحبیب، ونَازَعَتْنِي نفسي إلى كذا، وأَنْزَعَ القومُ : نَزَعَتْ إِبِلُهم إلى مَوَاطِنِهِمْ. أي : حَنَّتْ ، ورجل أَنْزَعُ : زَالَ عنه شَعَرُ رَأْسِهِ كأنه نُزِعَ عنه ففارَقَ ، والنَّزْعَة : المَوْضِعُ من رأسِ الأَنْزَعِ ، ويقال : امرَأَةٌ زَعْرَاء، ولا يقال نَزْعَاء، وبئر نَزُوعٌ: قریبةُ القَعْرِ يُنْزَعُ منها بالید، وشرابٌ طَيِّبُ المَنْزَعَةِ. أي : المقطَع إذا شُرِبَ كما قال تعالی: خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] . ( ن زع ) نزع ( ن زع ) نزع اشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کمانکو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا ۔ نزع فلان کذا کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نازعات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی ۔ میں تنزع الناس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہو اپنی تیز کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بد نوں سے کھینچ لینا مراد ہے ۔ التنازع والمنازعۃ : باہم ایک دوسرے کو کھینچا اس سے مخاصمت اور مجا دلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے ۔ چناچہ ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ [ النساء/ 59] اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو رجوع کرو ۔ فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ [ طه/ 62] تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے لگے ۔ النزع عن الشئی کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور النزوع سخت اشتیاق کو کہتے ہیں ۔ وناز عتنی نفسی الیٰ کذا : نفس کا کسی طرف کھینچ کرلے جانا کس کا اشتیاق غالب آجانا ۔ انزع القوم اونٹوں کا پانے وطن کا مشتاق ہونا رجل انزع کے معنی سر کے بال بھڑ جانا کے ہیں ۔ اور نزعۃ سر کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں ۔ اور تانیث کے لئے نزعاء کی بجائے زعراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے بئر نزدع کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٤) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت۔ اور کہا گیا ہے کہ فالمدبرات امرا سے فرشتے مراد ہیں اور ان کے علاوہ جن چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ ان سے ستارے مراد ہیں اور روایت کیا گیا ہے کہ والنّٰزِعٰتِ غَرْقًا سے مراد غازیوں کی تیر کمانیں ہیں اور وّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا سے مراد ان کے تیر کے نشانے ہیں اور وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا سے مراد غازیوں کی کشتیاں ہیں اور فالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں اور فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا اس سے مراد غازیوں کے سپہ سالار ہیں یا یہ کہ وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا سے مراد چاند، سورج اور دن رات ہیں۔ شان نزول : قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ (الخ) سعید بن منصور نے محمد بن کعب سے روایت ہے کہ جس وقت ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَةِ یہ آیت نازل ہوئی تو کفار قریش بولے کہ اگر ہم مرنے کے بعد پھر زندہ کیے گئے تو ہم تو بڑے خسارہ میں رہیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا ۔ } ” قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں۔ “ نزع کے معنی سختی سے کھینچنے کے ہیں۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو انسان کے وجود کی گہرائی میں اتر کر بڑی سختی اور شدت سے اس کی جان کو کھینچ نکالتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: قرآنِ کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ’’قسم اُن کی جو سختی سے کھینچتے ہیں‘‘ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد رُوح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) رُوح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان رُوحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی اُن کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق اُن کا انتظام کرتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے اُن کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اﷲ تعالیٰ نے قیامت کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔ پیچھے گذر چکا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو اپنی بات کا یقین دلانے کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن عربی بلاغت کے قاعدے سے بات میں زور پیدا کرنے کے لئے قسمیں کھائی گئی ہیں اور عام طور سے جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے، وہ اُس دعوے پر گواہ ہوتی ہے جو بعد میں بیان ہورہا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس بات کے گواہ ہیں کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے رُوح قبض فرماتا ہے، اُسی طرح فرشتوں سے صور پھنکوا کر اُنہیں دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٥۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین ١ ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود ٢ ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور ناشطات کی پوری تفسیر ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرمانبردار لوگوں کی قبض روح کے وقت اچھی شکل کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں اے نیک روح اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مغفرت کی ہم تجھ کو خبر دیتے ہیں جلدی سے جسم چھوڑ دے۔ یہ خوشخبری سن کر وہ نیک روح جسم کو چھوڑ کر اس طرح آسانی سے نکل آتی ہے جس طرح مشک کا دھانہ کھول دینے سے مشک کا پانی نکل آتا ہے اسی طرح نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں اے بد روح جسم سے نکل ‘ خدا کے غضب سے تیرا سامنا پڑنے والا ہے۔ یہ خوفناک خبر سن کر وہ روح آدمی کے جسم میں جگہ جگہ چھپتی پھرتی ہے اور فرشتے اس کو گھسیٹتے ہیں آخر بڑی دشواری سے جسم کو چھوڑتی ہے۔ سابحات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ہر طرح کا حکم بجا لانے کے لئے آسمان سے زمین پر اس طرح جلدی سے اترتے ہیں جیسے کوئی پانی میں تیرتا ہے۔ سابقات سے وحی کے انبیاء تک پہنچانے میں سبقت اور چستی کرنے والے فرشتے اور مدبرات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو آسمان سے ہر ایک کام کی تدبیر اور انتظام کے لئے زمین پر اترتے ہیں۔ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣١٠ ج ٦۔ ) (٢ ؎ ابو داؤود باب فی السالۃ فی القبر و عذاب القبر۔ کتاب السنۃ ص ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:1) والنزعت غرقا : واؤ قسمیہ ہے : النزعت مقسم بہا ہے۔ غرقا اسم ہے لیکن بجائے مصدر کے مستعمل ہے یعنی مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جیسے قعدت جلوسا میں جلوسا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النزعت اسم فاعل جمع مؤنث النازعۃ واحد۔ نزع (باب ضرب) مصدر سے۔ کھینچنے والیاں۔ کھینچ کر نکلانے والیاں۔ نزع کھینچنا، نکالنا، جان نکالنا۔ منازعۃ (مفاعلۃ) باہم کشیدگی ۔ خصومت۔ تنازع (تفاعل) باہم خصومت کرنا۔ غرقا۔ ڈوبنا، گہرائی سے شدت کے ساتھ کھینچنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے گہرائی میں جاکر شدت کے ساتھ کھینچنے والیوں کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی وہ نکلنا نہیں چاہتیں تو انہیں زبردستی باہر گھسیٹتے ہیں۔ اس آیت میں ” نازعات “ (نکالنے والوں) سے مراد فرشتے ہیں۔ جمہور مفسرین کا اس پر اتفاق ہے اور اسی طرح اگلی آیات میں ” ناشطات “ سابحات، اور سابقات، سے بھی تمام مفسرین نے فرشتے مراد لئے ہیں مگر بعض نے ” نازعات “ سے مراد موت لی ہے جو جان کو بدن سے نکالتی ہے۔ بعض نے ستارے جو ایک افق سے دوسرے افق تک ڈوب کر جاتے ہیں، بعض نے کمانیں جو زور سے کھینچی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ سارا تیر پیکان تک ان کے اندر چلا جاتا ہے اور بعض نے تیر انداز مجاہدین جو کمان کو پورا کھینچتے ہیں۔ (قرطبی۔ رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة نازعات۔ آیات ١ تا ٢٦۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں جو حکم ہوتا ہے اس کی تکمیل کے لیے دوڑتے ہیں اور پھر ان سب امور کا انتظام کرتے ہیں۔ روح۔ مندرجہ بالا آیات کی مختلف تعبیرات کی گئی ہیں مگر یہ سب سے زیادہ مناسب ہے نیز روح کی بحث بھی ہے کہ عناصر اربع کے ملنے سے نفس پیدا ہوتا ہے جسے حکماء روح کہتے ہیں کہ مگر روح ایک لطیفہ ربانی ہے جس کی تجلی نفس کو منور کردیتی ہے جیسے شیشہ اگر سورج کے روبرو ہوتوخود سورج بن جاتا ہے اور بدن کی حیات نفس ہے خود نفس کی حیات روح ہے صاحب معارف القرآن بحوالہ تفسیر مظہری نقل فرماتے ہیں کہ اسی نفس کو بدن سے الگ کردینا موت ہے اور روح علیین میں چلی جاتی ہے جبکہ قبر میں یہی نفس ہوتا ہے عذاب وثواب اسی پر ہوتا ہے اور روح محسوس کرتی ہے۔ مگرفقیر کے نزدیک حق بات یہ ہے کہ روح سے نفس منور ضرور ہوتا ہے اس کے باوجود روح کا تعلق ہر ذرہ بدن سے بھی ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور موت پر جب اجزاء بدن بکھرجاتے ہیں تو یہ نفس بھی ختم ہوجاتا ہے اور روح کا تعلق ہر ذرہ بدن سے موجود رہتا ہے اس کا وہ رخ ختم کردیاجاتا ہے جو دنیا کی زندگی کا سبب تھا اور وہ ہر ذرہ بدن سے توڑا جاتا ہے کافر کا شدت سے مومن کا آرام سے قبر سے اصل روح کا تعلق رہتا ہے اور اپنے اخروی مقام سے بھی واللہ اعلم ثواب و عذاب اسی کے واسطے سے ہوتا ہے اس کا قرب باری سے محروم ہونابدن پر عذاب لاتا ہے اور معرفت باری میں غرق ہوناراحت وثواب نظام حیات پھر اس پابندی اور ضابطے کے مطابق موت یاقبض ارواح برزخ میں ان کا قیام اور حیثیت کا تعین اور اس کے مطابق وہاں برزک میں ان کے لیے اہتمام یہ سب بھی اس بات پر گواہ ہے کہ قیامت ضرور قائم ہوگی کہ جس روز پہلا نفخہ ہوگا جس سے ہر شے لرزاٹھے گی اور جاندار مرجائیں گے سمندر بھاپ بن جائیں گے پہاڑ غبار اور چاند سورج بےنور ہوکرجھڑ جائیں گے آسمان پھٹ جائیں گے اور پھر دوسرانفخہ ہوگا جسے ہر کوئی زندہ ہوجائے گا اور حشر قائم ہوگاتوکتنے دل اس روز ڈوب ڈوب رہے ہوں گے اور آنکھیں ندامت سے زمین میں گڑی ہوں گی اور کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تو دوبارہ واپس آنا پڑگیا کہ اب تو ہڈیاں بھی خاک ہوچکی تھیں پھر سب کچھ کیسے ہوگا اور ہم کیا منہ لے کر حشر میں حاضر ہوں کہ یہ تو ہمارے لیے بہت مشکل گھڑی آگئی مگر ان کے بس میں تو نہ ہوگا بلکہ ایک جھڑکی پہ ہر شے میدان حشر میں موجود ہوگی انہیں اگر اس سب سے انکار ہی ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات پر غور کیجئے کہ جب انہیں وادی طوی کی پاکیزہ فضا میں اللہ سے شرف ہم کلامی نصیب ہوایہ واقع تب پیش آیا جب آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر واپس مصر جانے لگے اور اپنے بیوی بچے غلام کچھ بکریاں ہمراہ تھیں کہ راستے میں رات ہوگئی ٹھنڈ بھی تھی آپ نے روشنی دیکھ کر سبکوبٹھایا ک ہمیں آگ لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تجلی باری ہے وہاں اللہ سے شرف ہم کلامی نصیب ہو کر حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جائیے کہ وہ حد سے بڑھ چکا ہے لہذا اسے دعوت دیجئے کہ کیا تو شرک وکفر اور بدی برائی کی تمام نجاستوں سے اپنادامن پاک کرنے کا خواہش مند ہے تو آئیں تجھے وہ طریقہ عطاکروں جو تجھے تیرے رب کی رضامندی کی طرف لے جائے اور تیراتعلق اللہ سے اتنامضبوط اور قریبی ہوجائے کہ بات بات پہ تجھے یاد آتا رہے کہ کہیں اس کی پسند کے خلاف نہ کربیٹھوں۔ فیض اور برکات شیخ۔ نبی سے امتی کو یہی فیض نصیب ہوتا ہے کہ عقیدے کی درستی کے ساتھ عبادت اور کارگاہ حیات میں عمل جسے نظام کہا جاتا ہے کہ ہر کام میں ہر قدم پر حضور کی کیفیت رہتی ہے اور یہی نعمت شیخ سے ملنی چاہیے ورنہ امور دنیاتوسب لوگوں کے اللہ کے نظام کے تابع پورے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ پھر انہوں نے اس کے سامنے اپنی نبوت کی صداقت کی دلیل کے طور پر معجزات پیش کیے لیکن اس نے ان کی بات نہ مانی اور بات نہ مان کر انہیں جھوٹا کہا اور الٹے پاؤں پھر اور مخالفت میں پوری طاقت لگادی لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا کہ میں تمہارا سب سے اعلی وارفع رب ہوں یعنی اگر کوئی اور رب ہے بھی تو مجھ سے کم ہوگا اس پر اللہ کی گرفت آئی تو دنیا وآخرت میں عذاب میں گرفتار ہوا کہ حکومت وسرداری وملک سب ضائع کرکے لشکر سمیت غرق ہوگیا اور ادھر پانی میں ڈوبے توبرزخ کی عذاب والی آگ میں جاپہنچے ، پھر حشر کو اصل عذاب جو شدید تر ہوگاجھیلیں گے لوگوں کو اگر دنیا کے مال واسباب اور طاقت نے گمراہی میں ڈال رکھا ہے تو اس واقع میں ان کے لیے عبرت کا سامان ہے ہاں یہ تب ہی مفید کہ عظمت الٰہی ان کی فکر میں آجائے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے نفس کو روکا۔ مرس۔ ٹھہرنا۔ کانھم۔ گویا کہ وہ۔ لم یلبثو۔ وہ نہ ٹھہریں گے۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسے بیشمار فرشتوں کو پیدا کیا ہے جو ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں جیسے ہی ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ مکمل اطاعت و فرمان برداری کے ساتھ اس پر عمل شروع کردیتے ہیں۔ زندگی، موت، قیامت، آخرت، جنت، جہنم، بارش، رزق، دنیا کی آبادکاری یا تباہی، قوموں کا عروج اور زوال غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں فرشتے وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب قوموں کے اخلاق اور عقیدوں میں زبردست بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو اللہ کا یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ وہ ان کے عقیدوں اور اخلاقی زندگی کو سنوارنے کے لیے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو بھیجتا تاکہ وہ ان کی اصلاح کرکے اور دنیا پرستی سے بچا کر آخرت کے راستے پر ڈال دیں اور انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھا دی جائے کہ زندگی نہایت مختصر اور ایک حد پر ختم ہوجانے والی ہے اس میں کسی چیز کو قرار نہیں ہے لیکن آخرت کی زندگی اور اس کی راحتیں یا عذاب کبی نہ ختم ہونے والی حقیقتیں ہیں۔ سعادت مند لوگ ان پیغمبروں کی باتوں پر ایمان لاکر عمل صالح اختیار کرتے ہیں اور ابدی جنت کے مستحق بن جاتے ہیں لیکن بد نصیب لوگ زندگی بھر یہی کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ بات تو ہماری عقل میں نہیں آتی کہ جب ہم مرجائیں گے اور ہماری ہڈیوں تک کا پتہ نہیں ہوگا تو پھر دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ اس طرح وہ پیغمبروں کی تعلیمات کو جھٹلانے اور ان سے ٹکرانے کی جسارت کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو اپنے ہاتھوں برباد کرلیتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ نے ان ہی باتوں کو فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ آخرت کی زندگی کو جھٹلاتے ہیں ان کا انجام نہایت عبرت ناک اور بھیانک ہوا کرتا ہے۔ اور جو لوگ قیامت اور موت کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں انہیں ہر طرح کی سعادتیں عطاکی جاتیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر گہرائیوں سے (کافروں کی) جان کھینچ نکالتے ہیں۔ یعنی جب اللہ کے مقرر فرشتے ان کافروں کی جان نکالنا چاہتے ہیں تو روح چھپنے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ زبردستی اس کی روح کو نکال لیتے ہیں تاکہ اس کو اس کے انجام تک پہنچا دیا جائے۔ (2) آہستگی اور نرمی سے (مومنوں کی جان کے ) بندھن کھول دینے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی اللہ کے فرشتے جب مومنوں کی جان نکالانا چاہتے ہیں تو اس قدرآہستگی اور نرمی سے نکالتے ہیں جیسے کسی بند چیز کے بندھن اور گرہ کو کھول دیا جاتا ہے اور اس طرح مومن کی روح کے بندھن کھولنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انسان کی جانکو قبض کرنے کے بعد اس کو تیزی سے آسمانوں کی طرف لے جانے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی وہ اس قدرتیزی سے اس روح کو آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں جیسے وہ فضاؤں میں تیر رہے ہیں۔ (4) وہ فرشتے جو روح کو لے کر ( اچھے یابرے ٹھکانے پر) پہنچانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کی قسم (5) اللہ کے احکامات کو (پوری کائنات پر) نافذ کرنے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی وہ فرشتے جو ہر وقت مستعد اور صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں تاکہ ادھر حکم ہوا اور ادھر وہ اس کی تعمیل کرنے کی سعادت حاصل کرلیں۔ ان پانچ فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ جیسے ہی صور میں پھونک ماری جائے گی جس کے لیے ایک فرشتہ اپنے منہ میں اس کو لیے کھڑا ہے کہ جیسے ہی حکم ہوگا اس صور میں پھونک ماردی جائے گی اس وقت وہ لرزا دینے والی قیامت واقع ہوجائے گی۔ قیامت کے اس ہولناک دن میں ان لوگوں کے دل دھڑک رہے ہوں گے اور ان کی نظریں شرمندگی سے نیچی ہوں گی جو زندگی بھر یہ کہتے رہے کہ جب ہماری ہڈیوں کو چورا ہوجائے گا تو ہم دوبارہ پہلی والی شکل و صورت کے ساتھ کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ اگر ایسا ہواتو ہم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک ل نہیں ہے۔ جب ایک زبردست دھماکا ہوگا تو ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے سب آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پھر ان ہی سے ایک ایسی سپاٹ اور ہموار زمین تیار ہوجائے گی جسمیں اولین و آخرین سارے کے سارے اچانک اس میدنا حشر میں پہنچ جائیں گے اور انہیں زندگی میں کئے گئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ فرمایا کہ اس پوری کائنات کا ایک لمحے میں تباہ و برباد ہوجانا یہ اس کی قدرت سے بعید نہیں ہے کیونکہ وہ بڑی سے بڑی طاقت کو لمحوں میں نیست و نابود کردیتا ہے جس طرح فرعون جس کو اپنی طاقت و قوت، حکومت و سلطنت اور اپنی قوم کی طاقت پر بڑا ناز تھا وہ لوگوں سے اپنے آپ کو سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ معبود قرار دیتا تھا۔ اس کو اور اس کی طاقت و قوت کو اللہ نے چند لمحوں میں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ نے وادی مقدس (وادی طویٰ ) میں پہنچ کر اللہ کو پکارا تو اللہ نے ان کے سرپر تاج نبوت رکھ کر حکم دیا کہ وہ اس فرعون کے پاس جائیں جو اپنی حدوں کو پار کرچکا ہے۔ اسے اس بات کو دعوت دیں کہ اگر وہ توبہ کرکے اللہ کا خوف اختیار کرلے تو اس کے تمام گناہوں کو معاف کرکے پاس صاف کردے گا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ نے فرمایا کہ میں اس کی تعلیم دینے اور تجھے ہدایت کے راستے پر لانے کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور انہوں نے اپنے معجزات بھی دکھائے تو فرعون غرورو تکبر سے پیٹھ پھیر کر چل دیا پھر اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی بات ماننے کی بجائے اپنے تمام لوگوں کو جمع کرکے ان سے کہا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی باتوں میں مت آنا۔ میں ہی تمہارا ” رب اعلیٰ “ ہوں۔ میرے علاوہ کوئی معبود اور رب اعلیٰ نہیں ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کی بات ماننے والے اپنے کفر وشرک پر اڑے رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ فرعون اور اس کے ماننے والوں کو سمجھاتے رہے لیکن فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں لگا رہا۔ آخر کرا للہ کا وہ فیصلہ آگیا جو اس نے نافرمانوں کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کو پانی میں غرق کرکے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی بات مان کر ان کی اطاعت اور اللہ پر ایمان کا اقرار کیا تھا ان کو نجات عطا کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت اور دوبارہ زندہ کئے جانے پر تعجب اور انکار کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا مشکل اور ناممکن کام تھا یا زمین و آسمان جیسی عظیم الشان چیزوں کو پیدا کرنا ؟ یعنی اللہ نے زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریاجیسی چیزوں کو بنایا ہے جو اپنے وجود اور طاقت و قوت میں بہت بڑے ہیں۔ ان سب چیزوں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اسی نے آسمانوں کو بلند اور اونچا، راتوں کو تاریک اور دن کو روشن بنایا ہے۔ اسی نے اس زمین کو اس طرح بنایا ہے کہ جب اس پر بارش برستی ہے تو اس سے انسانوں کے لیے راحت و آرام کی چیزیں اور رزق پید اہوتا ہے اور اسی سے تمام جان داروں کی غذائیں اور چارہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اسی نے پہاڑوں کو بنایا جس سے زمین میں ایک خاص تو ان قائم کیا گیا ۔ اگر یہ تو ازن نہ ہوتا تو انسان کا جینا محال ہوجاتا نہ اس سے غذائیں، ضروریات زندگی اور سیکڑوں چیزیں اور جانوروں کے لیے چارہ پیدا ہوتا نہ سہولتیں میسر آتیں۔ لیکن یہ تمام چیزیں اسی دنیا تک محدود ہیں اور اس وقت تک اپنی جگہ قائم ہیں جب تک وہ ہنگامہ خیز دن نہیں آجاتا جس میں اس دنیا کو ختم کردیاجائے گا اور پھر قیامت میں ہر شخص کو اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ یہ دن وہ ہوگا جب جہنم سب کے سامنے ہوگی۔ ہر وہ شخص جس نے دنیا میں اپنی حدود کو پھلانک کر اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا تھا اور اس کو آخرت کی نہ فکر تھی نہ اس کے آنے کا یقین تھا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور جس کو اس بات کا یقین تھا کہ اسے ایک دن اللہ کے پاس پہنچنا ہے اور اس نے ہر ناجائز خواہش کو ٹھکرادیا ہوگا اس کا ٹھکانا جنت ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر ان تمام سچائیوں کے باوجود انہیں قیامت کے آنے پر یقین نہیں ہے اور وہ یہی پوچھتے ہیں کہ ” آخر وہ قیامت کب آئے گی “ تو آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ مجھے اس بات کے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے میرا کام تو یہ ہے کہ میں ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچادوں کہ جو لوگ اللہ کا خوف رکھنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اس کی جلدی مچار رہے ہیں ان کو یہ بات بتادوں کہ جب وہ قیامت میں پہنچیں گے تو انہیں ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ ایک رات یا ایک صبح کے وقت کچھ دیر اس دنیا میں ٹھہرے تھے اور بس۔ یعنی ان جلدی مچانے والوں کو ایسا لگے گا جیسے وہ عذاب بہت جلد آگیا اور دنیا کی زندگی بہت جلد گزر گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے سورة النازعات کی تمام آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر و تشریح ملاحظہ فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔ صحابہ کرام (رض) اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی کے ساتھ روح نکالتے ہیں۔ 3 ۔ قسم ہے ان کی جو فضا میں بڑی تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔ 4 ۔ قسم ہے ان کی جو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 5 ۔ قسم ہے ان کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے نفاذ کی تدابیر کرتے ہیں۔ ان قسموں سے دو باتیں ثابت کی گئی ہیں۔ ہر شخص کے لیے موت برحق ہے اور موت کا وقت بڑا کٹھن اور مشکل ہوتا ہے البتہ نزع کے وقت مومن کی روح آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے اور برے شخص کی موت کا ہر لمحہ اس کے پہلے لمحے سے سخت ترین ہوتا ہے، جوں ہی عزرائیل مرنے والے کی روح جنت یا جہنم کے فرشتوں کے حوالے کرتا ہے تو وہ روح کو لے کر آسمان کی طرف اس تیزی کے ساتھ چڑھتے ہیں جیسے فضا میں کوئی چیز تیر رہی ہو، فرشتوں کو اوپر چڑھنے میں ذرہ بھر مشکل پیش نہیں آتی وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر اس طرح عمل کرتے ہیں جس طرح اس پر عمل کرنے کا حق ہے۔ ان ملائکہ سے مراد اگر صرف موت کے ملائکہ لیے جائیں تو اس کا معنٰی ہوگا کہ وہ موت کے وقت مرنے والے کی روخ قبض کرتے ہیں اگر مدبّرات سے تمام فرشتے لیے جائیں تو اس کا معنٰی یہ ہے کہ جس فرشتے کی جو ڈیوٹی لگائی گئی ہے وہ اس پر اسی طرح ہی عمل کرتا ہے جس طرح اس پر عمل کرنے کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جاتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار کفن ہوتا ہے فرشتے حد نگاہ تک مرنے والے سے دور بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا سامنا کر۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر جس تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو آتی ہے جس طرح زمین سے گندی لاش کی بدبو نکلتی ہے وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں، وہ فرشتوں کے جس گروہ کے قریب سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کا برے ناموں کے ساتھ ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں۔ آسمان کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت کی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل ہوجائے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا بناؤ اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں “ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے جو تم میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کو اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے اس پر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے حسب وعدہ ذلیل کیا جائے وہ پوچھتا ہے تو اتنی بری شکل والا کون ہے ؟ جو اتنی بری بات سنا رہا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں وہ کہے گا اے میرے رب کبھی قیامت نہ قائم کرنا۔ “ (مسند احمد : مسند البراء بن عازب، قال بیہقی ہذا حدیث کبیر صحیح الاسناد) مسائل ١۔ موت کے فرشتے انسان کی رگ رگ سے جان نکالتے ہیں۔ ٢۔ ملائکہ کو آسمان کی طرف جانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ٣۔ ملائکہ انسان کی روح قبض کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٤۔ نیک کی روح آسانی کے ساتھ اور برے کی روح بڑی تکلیف کے ساتھ نکالی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں ملائکہ کی ذمہ داریوں کا تذکرہ : ١۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی گواہی دیتے ہیں۔ ( النساء : ١٦٦) ٢۔ قرآن مجید میں ٤ فرشتوں کا نام آیا ہے۔ جبرائیل، میکائیل، ملک الموت اور مالک۔ (البقرۃ، ٩٨، السجدۃ : ١١ الزخرف : ٧٧) ٣۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (نبا : ٣٨) ٤۔ جبریل (علیہ السلام) مقرب ترین فرشتہ ہے۔ (النجم : ٨) ٥۔ جبریل (علیہ السلام) طاقتور فرشتہ ہے۔ (النّجم : ٥) ٦۔ جبریل (علیہ السلام) دیانت دار فرشتہ ہے۔ (الشعراء : ١٩٣) ٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر پر جبرائیل (علیہ السلام) نے قرآن اتارا ہے۔ (البقرۃ : ٩٧) ٨۔ جبرئیل کی تمام ملائکہ تابعداری کرتے ہیں اور جبرئیل امین فرشتہ ہے۔ (التکویر : ٢١) ٩۔ (اسرافیل) قیامت کے دن صور پھونکے گا۔ (الزمر : ٦٨) ١٠۔ جہنم کے کنٹرولر فرشتے کا نام مالک ہے۔ (الزخرف : ٧٧) ١١۔ قیامت کے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ (الحاقہ : ١٧) ١٢ فرشتے جنت پر معمور ہیں۔ (الزمر : ٧٣) ١٣۔ فرشتے جہنم پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ( الزمر ٧١) ١٤۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (البقرۃ : ٣٠) ١٥۔ ملائکہ لوگوں کے اعمال درج کرتے ہیں۔ ( انفطار : ١١) ١٦۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے نافرمانوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (ہود : ٧٧) ١٧۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں۔ ( آل عمران : ١٢٤، ١٢٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر (رض) کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ان آیات میں وقوع قیامت اور وقوع کے بعد والے احوال کا تذکرہ فرمایا ہے پہلے فرشتوں کی قسم کھائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ہلا دینے والی چیز ضرور واقع ہوگی (اس سے پہلی بار صور پھونکنا مراد ہے) ۔ جن فرشتوں کی قسم کھائی ہے ان میں پہلے ﴿ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ٠٠١﴾ فرمایا یعنی قسم ہے ان فرشتوں کی جو سختی سے ساتھ روح کھینچنے والے ہیں اس میں لفظ غرقًا مصدر ہے جو اغراقًا کے معنی میں ہے یعنی جسم کے ہر ہر حصہ سے فرشتے روح کو نکال لیتے ہیں اور اس میں مرنے والے کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، پھر فرمایا ﴿ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ٠٠٢﴾ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو بند کھول دیتے ہیں یعنی سہولت کے ساتھ روح نکالتے ہیں جیسے بند کھول دیا اور چیز آسانی سے نکل گئی۔ قال صاحب معالم التنزیل حلا رفیقا فتقبضھا کما ینشط العقال من ید البعیر ای یحل بالرفق۔ حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پوری طرح سختی سے کافروں کی جان نکالی جاتی ہے اور سہولت اور آسانی کے ساتھ اہل ایمان کی روح قبض ہوتی ہے (کسی وجہ سے موت کے وقت مومن کو زیادہ تکلیف ہو مثلاً یہ کہ اس کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنانا ہو تو یہ دوسری بات ہے : وانما قلنا ذلک لان عائشة (رض) قالت ما رایت احدا الوجع علیہ اشد من رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقالت فلا اکرہ شدة الموت بعد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ١٣٤ عن البخاری) حدیث شریف میں مومن اور کافر کی موت کا تذکرہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت ملک الموت (علیہ السلام) مومن کی روح کو قبض کرتے ہیں تو وہ ایسی آسانی سے نکل آتی ہے جیسے (پانی کا) بہتا ہوا قطرہ مشکیزہ سے باہر آجاتا ہے اور کافر کی موت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے جانے اور آخرت کا رخ کرنے کو ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے آسمان سے اتر کر اس کے پاس آتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں اور اس کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے پھر حضرت ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر کہتے ہیں اے خبیث جان اللہ کی ناراضگی کی طرف نكل، ملک الموت کا یہ فرمان سن کر روح اس کے جسم میں بھاگی پھرتی ہے لہٰذا ملک الموت اس کی روح کو جسم سے اس طرح نکالتے ہیں جیسے بوٹیاں بھوننے کی سیخ بھیگے ہوئے اون سے صاف کی جاتی ہے (یعنی کافر کی روح کو جسم سے زبردستی اس طرح نکالتے ہیں جیسے بھیگا ہوا اون کانٹے دار سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور اس کو زور سے کھینچا جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ١٤٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” وَالنّٰزِعَاتِ غَرْقًا “۔ یہ شواہد ہیں اور اخروی ثواب و عقاب کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں فرشتے قبض روح کے وقت مومنوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اور کافروں کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں ہوگا۔ ” غرقا “ النازعات کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ اور اس کے معنی ہیں سختی اور شدت کے ساتھ کھینچنا۔ یقال اغرق النازع فی القوس ای استوفی مدھا بقوۃ و شدۃ (مظہری) ۔ اغراق، سخت کشیدن کمان (صراح) ۔ اس سے کافروں کی روحیں قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں جو شدت کے ساتھ ان کی روحیں کھینچتے ہیں۔ ” نشط “ کے معنی ہیں آسانی اور نرمی سے نکالنا جس طرح ڈول آسانی کے ساتھ کنوئیں سے نکال لیا جاتا ہے اس سے مومنوں کی روحیں قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں۔ المراد الملائکۃ الذین یخرجون ارواح المؤمنین برفق من نشط الدلو اذا اخرج بلا کرہ الخ (مظہری) یا اس کے معنی ہیں شادمانی اور خوشی کے ” نشطا “ با شادمانی شدن (صراح) مطلب یہ ہوگا کہ وہ مومنوں کی روحیں نہایت خوشی اور شادمانی سے قبض کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) قسم ہے ان فرشتوں کی جو نہایت سختی سے کھینچنے والے ہیں۔